منگل، 12 فروری، 2019

ہندو مذاہب میں بت پرستی کی ممانعت

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
امبریس اسلام
یوں تو ہندو مت میں کئی خداؤں کو مانے جانے کا بھی تصور زیادہ ہے جسے پینتھیزم pantheismکہا جاتا ہے جس میں اللہ کی بنائی دنیاؤی چیزوں کو خدا مانا جاتا ہے ۔لیکن ہندو مذاہب کے تعلیم یا فتہ طبقات بت پرستی کو نہیں مانتے ۔ویسے بھی ہندو مذہبی کتابیں بھی دیوی دیوتاؤں کی کثرت پر اعتقاد رکھنے والوں کو اندھا ر اور تو ہم و خرافات میں گرفتار بتایا گیا ہے ۔کثیر دیوتاؤں کے بائیکاٹ کا حکم بھی صریح اور کھلے طور پر دیا گیا ہے ۔
۱)ویدوں میں بت پرستی کی ممانعت 
* دیو یرا سیتی یہہ رشی (رگ وید ۔1-12-14)
* ترجمہ :۔سینکڑوں دیوتاؤں کا بہشکارکرو ۔
ؒ ؒ * ترجمہ۔ائے قادر مطلق عظیم الشان پروردگار ہم اپنی جہالت سے گمراہ ہوتے ہیں ۔ہمارے اوپر مہربانی کیجئے۔ (رگ وید ۔منڈل۷سوکت۸۹منتر۳)
* ترجمہ۔اسی سے آسمان میں مضبوطی اور زمین میں استحکام ہے اس کی وجہ سے روشنیوں کی بادشاہت ہے اور آسمان محراب (کی شکل)میں ٹکا ہوا ہے ۔فضا کے پیمانے بھی اسی کے لئے ہیں(اسے چھوڑ کر )ہم کس خدا کی حمد کرتے ہیں اور نذر انے چڑھاتے ہیں؟(رگ وید ۔منڈل۱۰سوکت۱۲۱منتر۶)
*ترجمہ۔وہ تمام جاندار اور بے جان دنیا کا بڑی شان و شوکت کے ساتھ اکیلا حکمراں ہے وہی تمام انسانوں اور جانوروں کا رب ہے (اسے چھوڑ کر ہم کس خدا کی حمد کرتے ہیں اور نذرانے چڑھاتے ہیں۔(رگ وید ۔منڈل۲سوکت۱۲۱منتر۳)
*ترجمہ۔اس زمین و آسمان کو جس نے تخلیق دی اور جس نے آسمان پر پانی تیار کیا ہے اس میں ایک چمکتے ہوئے سورج کو قائم کیا اس کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے ۔(رگ وید ۔منڈل۲سوکت۱۲۱منتر۳)
* اندھا تم پر وشنتی اسم بھوتی مُپاستے ۔
(اس شلوک میں بت پرستی کو سخت ممانعت کی گئی ہے ۔جس شلوک کا ذکر وید اور قرآن صفحہ ۳۵ میں کیا گیا ہے ۔)
’’جو لوگ باطل وجود والے دیوی دیوتاؤں کی عبادت کرتے ہیں وہ (جہالت کے )کردینے والے گہرے اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں ۔ (یجروید ۔9-40)
*نہ تستے پرتما اتستی ۔ (یجروید ادھیائے 3-32)
*ترجمہ :اس کا کوئی آکار کوئی تصویر نہیں وہ نرا کار ہے ۔اسے کوئی اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا ۔
(شدھ ہندو کون ‘پنڈت ہردیال جی )(یجر وید 3-32)
*ترجمہ ۔اوپر ‘اطراف میں درمیان میں کہیں کسی نے اس (خدا)کا احاطہ نہیں کیا۔۔۔اس کی کوئی شبیہ(یا صورت)نہیں ہے۔۔۔ اس کی شان عظیم ہے ۔ (یجروید ۔ادھیائے ۳۲منتر۲)
*ترجمہ۔وہ ہی ہر چیز کا نگہبان ہے اور وہ جسم سے پاک ہے۔ (یجروید ادھیائے ۴۰منتر۸)
*ترجمہ۔خدا نے حق و باطل کی کیفیت کو سمجھا کر حق کو باطل سے جدا کردیا کہ ائے لوگوں حق پر ایمان لاؤ اور باطل پر ایمان مت لاؤ۔ (یجروید ادھیائے ۱۹منتر۷۷)
مذکورہ بالا ۔یہی شلوک سویتا سواتر اپنشد ادھائے۴شلوک ۱۹ ۔۲۰ میں بھی ذکر آتا ہے ۔
* خدا وند بغیر کسی جسم کا ہے اور پاک و خالص ہے ۔ (یجر وید ادھیائے ۔8-40)
* ایکم ست وپرابہووادانتے۔
* سچائی صرف ایک ہے ‘سادھو ‘سنت اور مہاپروش ایشور کو (خدا کو )کئی ناموں سے اگنی ،یم اور ماترشون صفات سے پکارتے ہیں ۔ (رگ وید کتاب نمبر ۱۔46-164)
اسی کے ساتھ ساتھ (رگ وید ادھیائے 7-15/سام وید ادھیائے 53-18)کے شلوک بھی عقیدہ توحید اور بت پرستی کی ممانعت کی تعلیم دیئے ہیں ۔
* ترجمہ ۔چانداور یہ سبھی سیارے اسی کی حمد کرتے رہتے ہیں۔ (اتھرویدکانڈ۱۳سوکت ۴منتر۲۸)
* ترجمہ ۔اس نے سورج کو روشن کیا رات کو بنایا ۔آسمان کو بنایا ‘ہوا کو بنایا جہتوں کو تخلیق دی ‘زمین ‘اگنی پانی کو اسی نے تخلیق دی اور وہ خود ہی سے ہے اسے کسی نے پیدا نہیں کیا۔ (اتھر وا وید انڈ۔۱۳۔سوکت۔۴۔منترا ۲۹ تا ۳۷)
* ترجمہ ۔ائے گروہ علماء ائے میرے لوگوں بے کار چکر میں مت پڑو ۔پرماتما کو چھوڑ کر اور کسی کی استتی (تسبیح)
نہ کرو تم سب مل کر اس عظمت والے پرمیشور کی ہی بار بار تسبیح کرو۔(پنڈت دیودت‘اتھرویدکانڈ۰ ۲سوکت ۸۵منتر۱)
* ترجمہ ۔وہ پرمیشور نہ دوسرا ہے نہ تیسرا اور نہ چوتھا ہی اسے کہاجاسکتاہے وہ پانچواں چھٹا اور ساتواں بھی نہیں ہے۔آٹھواں نواں اور دسواں بھی نہیں وہ ’’اکیلا ہے‘‘وہ ان سب کو الگ الگ دیکھتا ہے جو سانس لیتے ہیں یا نہیں لیتے‘تمام طاقتیں اسی کی ہیں وہ بڑی طاقت والا ہے جس کے قبضہ قدرت میں پوری کائنات ہے وہ ایک ہے اس کی طرح کا کوئی دوسرانہیں اور یقینی طور پر وہ ایک ہی ہے ۔ (اتھرویدکانڈ۱۳سوکت۴منتر۱۶۔تا ۱۸)
۲)اپنشد میں بت پرستی کی ممانعت 
*نہ چسے کسیج جینتا نہ کدی یا 
اس ایشور کا کوئی پالن ہار نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ماں باپ ہیں ۔
(شویتا سواتر اپیشد ادھیائے ۶۔شلوک ۹)
*نہ تسیے پرآتمااستی
اس خدا کا کوئی عکس نہیں ہے کوئی اس جیسا نہیں ہے جو عظمت والا ہے ۔
(شویتا سواتر اپنشد ادھیائے ۔19-4)
* ترجمہ ۔میرے صفات کو نہ جاننے والے بے وقوف لوگ مجھے جسم والا سمجھ کر میری بے عزتی کرتے ہیں۔ (گیتا۔ادھیائے۹شلوک۱۱)
* ترجمہ ۔اپنی غیر ظہور پذیر شکل میں تمام کائنات میں سرائیت کئے ہوئے سبھی جاندار مجھ میں سیہیں لیکن میں ان میں رہتا نہیں۔ (گیتا۔ادھیائے۹شلوک۱۱)
مندرجہ بالا شلوک کے مطلب کو قرآن اس طرح واضح کرتا ہے ۔
لم یکن لہ کفوا احد(سورہ اخلاص آیت۴)
اور کوئی اسکا ہمسر نہیں ہے ۔
لیس کمثلہ شئی وھوالسمیع البصیر (سورہ شورہ آیت11)
 کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہہ نہیں ہے وہ سب کچھ دیکھنے سننے والا ہے ۔
مطلب ۔ایشور صرف ایک ہی ایک کے سوا دوسرا نہیں ہے ۔(شدھ ہندو کون سے ماخوذ )
(شویتا سواتراپنشد ۳شلوک ۱اور ۲)
شدھ ہندو کون ،اس کتاب کے مصنف پنڈت ہردیال جی اوپنشد کا حوالہ دیتے ہوئے ۔ایک خدا کی تعریف بیان کرتے ہیں ۔
مطلب ۔اس جیوتی سو روپ دوے پرش کی کوئی مورت نہیں ہے ۔وہ اندر باہر پوتر اور کاریہ برہم سے اونچا ہے ۔
(ہندی اقتباس )
۳)بھگوت گیتا میں بت پرستی کی ممانعت ۔
*جن کی فہم مادی خواہشاتنے سلب کر لی ہے ۔انہوں نے دیوتاؤں (اوتاروں)کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور پھر مرضی کے مطابق پوجا کے اصول بنالئے ہیں ۔ (بھگوت گیتا باب ۷شلوک ۸)
اس شلوک میں بھگوت گیتا کہہ رہی ہے کہ مادہ پرست لوگ اصل خدا کو چھوڑ کر ینم دیوتاؤں کی عبادت شروع کر دیتے ہیں ۔واضح ہوکہ بھگوت گیتا ہندوؤں میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔
*ترجمہ ۔جو لوگ دوسرے دیوتاؤں کے بھگت ہیں اور پوری عقیدت سے انکی پوجا کرتے ہیں تو وہ بہت ہی غلط راستے پر ہیں ۔اور غلط طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔ (بھگوت گیتا ادھیائے ۹۔شلوک ۲۳)
اس شلوک میں بھی صاف طور پر دیگر دیوتاؤں کی پرستش کی ممانعت کی گئی ہے ۔
*۱۔ ترجمہ ۔لیکن جو لوگ اپنی اندریوں کو قابومیں کرکے اور سب کو یکساں سمجھ کر اس غیر ظاہر کی پوری طرح سے پوجا کرتے ہیں جو اندریوں کی پہنچ سے پرے ‘ہر جگہ موجود ‘ناقابل تصور ‘نہ بدلنے والا ‘ثابت قدم اور غیر ساکن ہے ‘یعنی پرم ستیہ کا غیر شخصی تصور وہ سب انسانوں کی بھلائی میں مشغول رہ کر آخر کار میرے ایسے تصور کو پالیتے ہیں ۔ (بھگوت گیتا ادھیائے ۱۲۔شلوک ۳۔۴)
*۲۔ ترجمہ ۔اور میں ہی اس نراکار (غیر شخصی )برہم کی بنیاد ہوں ‘جو امر ‘اویناشی اور دائمی ہے جو پرم ستیہ کی فطری حالت ہے ۔ (بھگوت گیتا ادھیائے ۱۴۔شلوک ۲۷)
*۳۔ ترجمہ ۔جن کی عقل مادی خواہشات میں الجھ گئی اور پھنس گئی ہیں وہی دیگر دیوتاؤں کی شرن لینے جاتے ہیں اور اپنی اپنی فطرت کے مطابق پوجا بھی کرنے لگتے ہیں ۔(بھگوت گیتا ادھیائے ۷۔شلوک ۲۰)
مولناشمس نوید عثمانی کی ایک کتاب(اگر اب بھی نہ جاگے تو !) میں اپنے تفسیر بھگوت گیتا صفحہ ۳۲۶سے ایک شلوک درج کیا ہے ۔
(ترجمہ ۔صرف ایک سب سے طاقتور خدا کو اپنا مالک مانتے ہوئے خود غرضی اور گھمنڈ چھوڑ کر خلوص اور جذبہ اور سچے پیار کے ساتھ لگاتار تفکر کرنا ایسی عبادت ہے جو بدکاری سے پاک ہے ۔)(تفسیر گیتا صفحہ ۳۲۶کلیان گور کھپور )
*۴۔ترجمہ:۔میرے صفات کو نہ جاننے والے بے وقوف لوگ مجھے جسم والا سمجھ کر میری بے عزتی کرتے ہیں۔٭
 (گیتا ۔ادھیائے ۹،شلوک ۱۱)
*۵۔ترجمہ :۔اپنی غیر ظہور پذیر شکل میں تمام کائنات میں سرائت کیے ہوئے سبھی جاندار مجھ میں ہیں لیکن میں ان میں رہتا نہیں۔ (گیتا ۔ادھیائے ۹،شلوک ۴)
٭٭٭
ردِّ  فرق باطلہ اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ
اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو، اور (اگر بحث کی نوبت آئے تو) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ (سورہ ۱۶،النحل:۱۲۵)
 بھائی سراج الدین سےایک ملاقات
سراج الدین / راکیش کمار


احمد اوّاہ: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکا تہ 
سراج الدین :وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکا تہ 
س: سراج الدین بھائی آپ آج کل کہاں رہ ر ہے میراور کیا کرر ہے ہیں ؟
ج:میں آج کل میوات میں رہ رہاہوں ، میں پتھروالوں کے یہاں منیم گیری کررہاہوں ۔
س:سنا ہے وہاں اپنے مکا ن بھی بنالیااور آپ کی شادی بھی ہوگئی ہے ؟
ج:الحمدللہ وہاں پر اللہ نے سرچھپا نے میرے کے لئے ایک گھردے دیا ہے ، اگرچہ وہ قرض سے بنا ہے اور ابھی پوری طرح مکمل بھی نہیں ہوا ہے مگرپھربھی اپناہوگیا ہے اور قرض بھی اللہ تعالی نے کا فی اداکرادیا ہے ، اور الحمدللہ شادی بھی حضرت نے گورکھپورکی ایک مہاجراللہ والی سے کرادی تھی ، جناب محمدزماں خاں کے یہاں سے نکا ح ہوااور زماں خاں صاحب اور ان کے گھروالوں نے اپنی بیٹی کی طرح ان کو رخصت کیا ، واقعی دعوت کے لئے اس طرح ہر قربانی کے لئے تیار رہنے والے میں نے بہت کم لوگوں کو دیکھا ہے،  آدھی رات کو خودجناب زماں خان اور ان سے زیادہ ان کی اہلیہ محترمہ اور ان کے سب بچے ہر طرح تیار، ہمارے حضرت کو کچھ لوگ تو ایسے ملے ہیں اگرچندسوگھرا نے ایسے مل جائیں تو پورے ملک میں انقلاب آجائے ۔
س:وہاں میوات میں تم جماعت کے کا م سے جڑے ہوئے ہواور وہاں کا م پر بھی جاتے ہو، تو صافہ وافہ باندھ کراس حلیہ میں رہتے ہوکیا ؟
ج:الحمدللہ ، وہاں مجھے لوگ کا م کا ذمہ دارساتھی سمجھتے ہیں ، اور میرے اللہ کا کرم ہے اپنے حضرت کی جو تیوں کی صدقہ میں میں نے صرف علاقہ کا ہی نہیں بلکہ میں پورے عالم میں دعوت کے کا م کا اپنے کو ذمہ دارسمجھتاہوں ، الحمدللہ میں اپنی اصل ذمہ داری اور کا م دعوت سمجھتاہوں ، جماعت کا کا م ہویاکسی غیرمسلم بھائی تک دعوت یاان کے مسائل کے لئے آدھی رات کو میرے پاس کو ئی بھی آئے ، تو میں ا سے سب سے پہلے پوراکر نے کی کو شش کرتاہوں ، اور الحمدللہ میں جہاں رہتاہوں اسی اسلامی حلیہ اور سنت کے یونیفارم میں رہتاہوں ، یہ بھی ہے کہ لوگ اس طرح صافے وغیرہ میں دیکھ کرہر جگہ مجھے عالم سمجھتے ہیں اور بارباراجنبی لوگ مجھے مولاناکہتے ہیں ، میں مولانانہیں ہوں ، میں دینی لحاظ سے ایک جاہل آدمی ہوں ، یہ کہتے ہوئے بہت شرم آ نے لگی ہے ، کب تلک لوگوں کو منع کرتارہوں گا، میں نے بہت دعاکی ہے اور ارادہ بھی کرلیا ہے کہ بارباریہ کہنے کے بجائے کہ میں عالم نہیں ہوں یہ بہتر ہے کہ میں پڑھ کرعالم بن جاؤں ، میں نے حضرت سے بارباردرخواست بھی کی کہ میں کا م وغیرہ چھوڑکرکسی مدرسہ میں داخلہ لیکرایک عالم دین بن جاؤں ، مجھے بہت شرم آتی ہے جب لوگ مجھے اس حلیہ میں دیکھ کرمولاناکہتے ہیں اور مجھے منع کرناپڑتا ہے ، حضرت نے فرمایاکہ اب تم کا روبار کے ساتھ ہی پڑھ کرعالم دین بنو، الحمدللہ میں نے ابتدائی  کتابیں پڑھناشروع کردی ہیں ۔
 کب تلک لوگوں کو منع کرتارہوں گا، میں نے بہت دعاکی ہے اور ارادہ بھی کرلیا ہے کہ بارباریہ کہنے کے بجائے کہ میں عالم نہیں ہوں،  یہ بہتر ہے کہ میں پڑھ کرعالم بن جاؤں!
س:آپ اپناخاندانی تعارف اور قبول اسلام کا حال بتائیے ؟
ج:میراپر انانام راکیش کمارتھا، میں بھرت پورضلع کے ایک قصبہ میں ۱۹۷۹ ءمیں پیداہوا، میرے پتاجی اون کا کا روبارکرتے تھے ، میراایک بڑابھائی اور ایک چھوٹابھائی اور دوبہنیں ہیں ، جو شادی شدہ دہلی میں ہیں ، میں جس علاقہ کا رہنے والاہوں وہاں پر ایک بڑی تعدادملکا نہ راجپوتو ں کی ایسی ہے جہاں پوری پوری بستیاں شدھی سنگھٹن کی تحریک سے ہندوبن گئی تھیں ۔
س:وہ لوگ ۱۹۴۷ ءمیں پاکستان بننے کے وقت مرتدہوئے یابعدمیں ؟
ج:وہ لوگ ۱۹۲۹ ء کے آس پاس ہندوہوگئے تھے ، اصل بات یہ ہے مولانااحمدصاحب ، اللہ تعالی ہمارے حضرت کی لمبی عمرکرے ، مجھے تو روزروز کے تجربہ سے حضرت کی یہ بات بالکل دل میں جمتی جارہی ہے کہ مسلمانون کو یہ سمجھا نے کی ضرورت ہے کہ ان کے مسائل کا حل خصوصاًان کو دین پر باقی رکھنے اور ان کو مرتدہو نے سے روکنے کے لئے یہ بات ہر گزہر گزکا فی نہیں کہ وہ مسلمان رہیں بلکہ یہ مسئلہ صرف اور صرف جب حل ہوسکتا ہے جب مسلمانوں کو اس بات کے لئے باشعورکیا جائے کہ وہ داعی ہیں اور دوسروں کو دعوت دیناان کی ذمہ داری ہے ۔اس چھوٹی سی اسلامی زندگی میں میراتجربہ ہے کہ اتنے آ نے والے مہاجرمسلمانوں کو میں پہلے دن سے اس بات پر لگاتاہوں کہ آپ کو دوسرے لوگوں پر کا م کرنا ہے ، جب تک آپ ساری انسانیت کی فکرنہیں کریں گے ، اس وقت تک آپ نبی رحمت ﷺ کے امتی کہلا نے کے حقدارنہیں ، اللہ کا شکر ہے میں نے اب تک ۳۹ ؍ان لوگوں کو کلمہ پڑھوایا ہے جن کو میں نے شروع سے دعوت دی ہے اور ازخودان کو اسلام کے بارے میں نہ دلچسپی تھی نہ معلومات تھیں ، یہ سب کے سب دعوت کا کام  کرر ہے ہیں ، الحمدللہ ان کی تربیت کے لئے اور ان کو اسلام پر باقی رکھنے کے لئے مجھے کچھ زیادہ کو شش نہیں کرنی پڑی ، اس لئے مسلمانوں کے لئے اور ان کی نئی نسلوں کے لئے ارتداد کے مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ ان میں دعوتی شعوربیدارہو، آج کل یہ گھرواپسی کا معاملہ جس نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو بے چین کررکھا ہے ، اگریہ مسلمان اپنے کو داعی سمجھتے تو لوگ کسی حال میں بھی ہمارے پاس دھرم پر یورتن کی کو شش کے لئے آ نے کی ہمت نہ کرتے ۔
س:تو ہاں آپ اپنے اسلام قبول کر نے کے بارے میں بتار ہے تھے ؟
ج:جی تو میں یہ بتارہاتھاکہ میں جس علاقہ میں پیداہوا، بڑاہوااور وہاں کے سینئرسیکنڈری اسکو ل سے انٹرکیا اور پھربی اے کے جس کالج میں پڑھ رہاتھا، وہاں پر مجھ جیسے دھارمک پر یوار کے ایک انسان کے لئے اسلام میں آنابالکل ادبھت اور عجیب سی بات ہے ، مگرمردوں کو زندہ کر نے والے رب کے لئے تو یہ کا م بالکل آسان ہے ، میراایک ہندودوست راج کمارتھاجس سے میری دانت کا ٹی دوستی تھی ، وہ کچھ عیبوں میں پھنساہواتھا، گھروالوں سے اس کے ساتھ رہنے کے سلسلے میں اَ ن بن ہوتی رہتی تھی ، وہ اس دوستی سے چڑھتے تھے ، مگروہ سارے عیبوں کے باوجو دمجھ سے سچی دوستی رکھتاتھا، ایک بارمیرے پتاجی نے مجھے بی اے میں پڑھ نے کے دوران اس کے ساتھ رہنے کے لئے بہت برابھلاکہااور گالیاں سنائیں مگرمیری سمجھ میں نہیں آیا۔ایک دن میں گھرآیارات کو بارہ بجے تھے ، پتاجی غصہ میں بھرے ہوئے ، سوئے نہیں تھے اور میراچانٹوں اور گھوسوں سے سواگت کیا اور صاف صاف کہہ دیااس کے ساتھ رہتے ہوئے ہمارے گھر کے دروازہ میں گھسنے کی اجازت نہیں ، میری بھی جو انی تھی ، میں رات ہی کو گھر سے نکل گیا، بس اڈہ گیا، رات کو ہی سامنے علی گڑھ کی ایک بس کھڑی ہوئی تھی اس میں بیٹھ گیا، علی گڑھ کے راستے میں ایک گاؤں میں پہنچ کربس خراب ہوگئی ، صبح تک اسی گاؤں میں وقت گزارا، سامنے ایک میواتی مسلمان کا گھرتھا، انہوں نے دیکھاکہ مسافرسردی میں سسک ر ہے ہیں تو گھر سے گرم گرم چائے ، ابلے انڈے اور بسکٹ لے کرآئے اور ساری بس کے مسافروں کو پلائی ، مجھے گھر کے باہر اس طرح ان کی خاطر نے بہت متأثرکیا اور میں نے ان میں سے ایک صاحب سے بات کی اور بتایاکہ میں گھرچھوڑکرآیاہوں ، وہ دوسرے قصبہ املاس کے رہنے والے تھے ، اس گاؤں میں اپنی بہن سے ملنے آئے تھے ، انہوں نے پہلے تو مجھے سمجھایاکہ ماں باپ کی ڈانٹ تو محبت کی ہوتی ہے ، تم واپس چلے جاؤ، مگرجب میں نے اپنازندگی بھرگھرنہ لوٹنے کا فیصلہ ان سے بتایاتو انھوں نے اپنے گھرچلنے کے لئے کہااور بتایاکہ ہمارے یہاں جے سی بی چلتی ہیں ، ہم تمہیں وہ چلاناسکھادیں گے ، اس کے ڈرائیور کو دس ہزارروپئے تک مل جاتے ہیں، میں نے سوچاکہ نہ جا نے کہاں ٹھکا نہ ملے ، میں ان کے ساتھ املاس چلاگیاسچی بات یہ ہے کہ میرے  رحمٰن رب کو مجھے ایمان دیناتھا، وہ کسی طرح مجھے اسلام کے قریب کرتے گئے ، میں ان کے ساتھ ان کے گھرجاکرجے سی بی مشین چلاناسیکھنے لگا، ہم لوگ سوہنا کے علاقہ میں جے سی بی چلاناسیکھ ر ہے تھے ، وہاں کھانابھی خودبناتے تھے ، ایک روزشہزادبھائی جو مجھے ڈرائیورنگ سکھار ہے تھے انہوں نے مجھے کھانابنا نے کو کہا، کچھ مہمان آر ہے تھے ، میں نے چارآدمیوں کے لئے کھیر، سبزی اور روٹی بنائی ، چارپانچ مہمان اور آگئے ، میں نے شہزادبھائی سے کہاکہ کھاناتو چارآدمیوں کا بنایا ہے یہ پانچ اور آگئے ، وہ بولے بسم اللہ پڑھ کرکھانانکا لنا، برکت ہوجائے گی ، میں نے کہاکہ بسم اللہ سے کیا جادوہوجائے گا؟میں اور چاول جلدی بنالیتاہوں ، انھوں نے کہاکہ تو بسم اللہ پڑھ ، مالک کے نام سے سب کھالیں گے ، میں نے کھانانکا لااور جب بھی کھا نے میں چمچہ ڈالتابسم اللہ کہتارہا، دومہمان کھاناکھاتے ہوئے اور آگئے ، شہزادبھائی نے ان کو بھی کھا نے پر بٹھالیا، اتنے لوگوں نے کھاناکھایااور خوب کھایااور روٹی ، سبزی اور کھیر بچ گئی ، میں بہت تعجب میں تھا، شہزادبھائی نے کہاکہ بسم اللہ میں کیا جادو ہے ، انھوں نے بتایاکہ بسم اللہ کا مطلب ہے ، جب مالک کے نام سے کو ئی کا م کیا جاتا ہے تو اس میں برکت ہوتی ہے ، میرے دل میں بسم اللہ کا اعتمادجم گیااور اللہ کی ذات سے بھی مجھے ایک خاص تعلق سالگنے لگا۔
ایک بات بچپن سے ہی میرے ساتھ باربارہوتی تھی ، میں سوتاتھاتو خواب میں دیکھتاتھاجگمگاتے ستارے ہیں ، روشنی ہے اور نورانی مکا نات ہیں ، میرادل کہتاتھاکہ تو تو اس دنیاکا آدمی ہے اور دوسرے سنسارمیں رہتا ہے ، یہ خواب میں مجھے بارباردکھتے تھے ۔
مولانازلفی بٹلہ  ہاؤس جامع مسجد کے امام اور ان کے ایک رشتہ دارہمارے شہزادبھائی کے گھرآئے ، انھوں نے مجھے ہر کا م کرتے وقت بسم اللہ کہتے سناتو وہ مجھے سمجھا نے لگے ، وہ حضرت سے مریدتھے اور مجھے مسلمان ہو نے کو کہا، میں نے صاف صاف منع کردیا، انہوں نے جاتے وقت مجھے ہندی میں کلمہ لکھ کردیاکہ تم اس کو پڑھتے رہنا، اور اپنے پر س میں حفاظت سے رکھنا، پھرکبھی جب مسلمان ہونے  کو دل چا ہے اس وقت اس کو پڑھ لینا، مجھے اچھانہیں لگا، ان کے جاتے ہی میں نے اس پر چے کو پھینک دیا، اگلے روزصبح کو میں نے دیکھاکہ وہ پر چہ اسی جگہ پر پڑاہوا ہے ، میرے دل نے کہا، راکیش یہ اس اللہ کا نام ہے جس کے نام کی بسم اللہ کا چمتکا رتو دیکھ چکا ہے ، میں نے محبت سے اس پر چہ کو اٹھایااور بہت ہی آستھا اور محبت سے ا سے کئی بارپڑھا، مولانااحمدمیں اس اپنی حالت کو زبان سے بیان نہیں کرسکتاکہ اس محبت سے کلمہ پڑھ نے سے میرے اندرکی حالت کیا ہوگئی ، جیسے کسی اندھیری کا ل کو ٹھری کو روشنی سے جگمگ جگمگ کردیاہو، میں محلّہ کے امام صاحب کے پاس گیااور میں نے مسلمان ہو نے کو کہاکہ اس کے لئے مجھے کیا کرناپڑے گا؟امام صاحب نے کہاکلمہ پڑھناپڑے گا، میں نے کہاکلمہ پڑھ لیا ہے ، انھوں نے میرانام سراج الدین رکھ دیا، میں امام صاحب کے پاس زیادہ رہنے لگا، ہر نمازمیں آدھے گھنٹے پہلے ان کے پاس چلاجاتااور پانچوں وقت نمازپڑھتا، نمازمجھے آتی نہیں تھی مگربڑی عقیدت سے ، جیسے جیسے جماعت میں لوگ کرتے دیکھادیکھی کرتارہتا، یہ مجھے بہت اچھالگتا، ایک نماز کے بعددوسری نمازکا انتظارلگارہتا، شہزادبھائی کے والد نے مجھے چارمہینے کے لئے جماعت میں بھیج دیا، ایک چلہ میراایٹہ ، جلیسر، دوسرامرادنگرمیں میراوقت لگا، ایک چلہ بنگلورمیں لگا، وہاں ایک ساتھی جماعت سے بھاگ گئے تھے ، امیرصاحب بہت پر یشان تھے ، میں نے کہاآپ فکرنہ کریں میں اپنے اللہ سے دعاکرتاہوں ، میں نے دورکعت پڑھ کراللہ سے دعاکی ، وہ ساتھی ٹرین میں بیٹھ گیاتھا، ٹرین چلی اور تھوڑی دورجاکررک گئی ، دوساتھی تلاش کر نے گئے تھے ، وہ گاڑی میں چڑھے اور ان کو تلاش کر کے لے آئے ، ایک مہینہ بعدوہ پھرمیسور سے بھاگ گیا، امیرصاحب نے کہاسراج بھائی اب ہم اپنے لوگ نہیں بھیجیں گے ، تم اپنے اللہ میاں سے تلاش کرواکرمنگواؤ، میں نے دورکعت پڑھ کراللہ سے دعاکی ، میرے اللہ صبح فجر سے پہلے ہماراساتھی ہمارے پاس بھجو ادو، میں نے امیرصاحب سے کہاکہ صبح فجر سے پہلے انشاءاللہ ہمارے اللہ ا سے بھجو ادیں گے ، فجر سے آدھاگھنٹہ پہلے وہ ساتھی بنگلورپہنچ کرواپس آئے ، معلوم کر نے پر اس نے بتایاکہ مجھے معلوم نہیں کہ میں کیسے آیا، مجھے تو ایسالگاکہ کو ئی گرفتارکر کے مجھے میسورجماعت میں واپس چھوڑگیا، اب میں چارمہینہ سے پہلے ہر گزہر گزنہیں بھاگوں گا، یہ تو ۲۰۱۱ ء کے چارمہینوں کی بات ہے ، ۲۰۱۳ ءمیں ، میں بہارکی میں جماعت میں تھا، ایک جو ان ساتھی کو ٹایفائڈہوگیااور اس میں اس کو ہارٹ اٹیک ہوگیا، بڑے ڈاکٹر کو دکھایا، ڈاکٹر نے جواب دے دیاکہ پٹنہ بڑے ہسپتال میں داخل کر کے دیکھ لو، جماعت کے ساتھی سب رور ہے تھے ، میں نے سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھ کردورکعت نفل کے بعددعاکی ، میرے اللہ آپ اس کو مر نے کے بعددوبارہ زندہ ضرورکریں گے ، اس وقت یہ آپ کے نبی ﷺ کے دین کے کا م کا نہیں ہوگا، اب اگرآپ اس کو زندہ کردیں گے تو یہ آپ کے دین کا کا م کرے گا، بہت دل سے دعاکی ، پٹنہ لے جار ہے تھے ، اس کو پیشاب کی ضرورت ہوئی ، اس کو پیشاب کرایاگیااور وہ کھڑاہوگیا، اس نے پوچھاکہ کہاں جار ہے ہیں ؟امیرصاحب نے بتایاکہ پٹنہ اسپتال میں داخل کر نے ، اس نے کہا، مجھے کہیں لے جا نے کی ضرورت نہیں ، میں ٹھیک ہوں ِ چلوجماعت میں واپس چلو، الحمدللہ اب وہ بالکل ٹھیک ہوگیا، سچے یقین کے ساتھ اس کو یادکیا جائے تو وہ ضرورسنتے ہیں اور اس طرح یقین بھی بنتا ہے ، یہ میرازندگی کا باربارکا تجربہ ہے ۔
س:جماعت میں چارمہی نے لگاکراپنے کیا کیا ؟
ج:مولاناسراج صاحب کے ساتھ پھلت آیا، اور ایک سال تک قرآن شریف ، اردودینیات وغیرہ پڑھا، الحمدللہ پھرمیری شادی ہوگئی ، اور میوات میں بھی ایک اسکو ل میں پڑھایا، بعدمیں بدرپوراور اسٹون کریشروالوں کے یہاں منیم گیری کرتارہا۔
س:اور کو ئی خاص بات اپنی زندگی کی بتائیے ؟
ج:مجھے بڑی حسرت تھی کہ اللہ کے پیارے نبی ﷺکی خواب میں زیارت ہو، میں بہت دعاکرتاتھا، ایک رات کو خواب دیکھاکہ اسکو ل کے کھوئے ہوئے ایک بچے کو ہم تلاش کرر ہے ہیں ، تلاش کرتے کرتے ہم ایک مسجدمیں پہنچے ، وہاں ایک بہت خوبصورت نورانی شکل کے مہمان آئے ، جماعت تیارتھی ، میں نے ان سے نمازپڑھا نے کو کہا، انہوں نے نمازپڑھائی اور چلے گئے ، میں نے لوگوں سے معلوم کیا ، یہ میاں صاحب کو ن تھے ؟سب نے کہاکہ ہمارے پیارے نبی ﷺتھے ، میں نے لوگوں سے کہا، تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟میں تو کتنے دنوں سے ان کی زیارت کو تڑپ رہاہوں ، لوگوں نے کہاکہ زیارت ہوتو گئی ، نمازبھی پڑھ لی ، میری آنکھ کھل گئی ، میں بہت خوش تھا۔
 ایک بات یہ بھی دل میں بیٹھ گئی ہے جو میری چھوٹی سی اسلامی زندگی سے تجربہ میں آئی کہ دل چا ہے نہ چا ہے ، شریعت اور سنت کو پوری طرح مان کرہی آدمی اللہ سے جڑسکتا ہے ، اسلام لا نے کے بعدمیں جب دیکھتاہوں کہ بہت سے بھائی کچھ خاندانی مسلمانوں کی طرح ہیں ، جن کو دیکھ کرپہچاننابھی مشکل ہوتا ہے کہ مسلمان میریاہندو، اس حال میں اللہ سے تعلق نہیں ہوسکتا، دل چاہے نہ چا ہے ظاہر وباطن ہر طرح سے اللہ کے نبی کی سنت پھرعمل کرناچاہئے ، میں نے دولفظ یادکئے ہیں اور اپنے ہر بھائی کو یادکراتاہوں ۔
” میرے اللہ میں آپ سے راضی ہوں... آپ مجھ سے راضی ہوجائیے“
 اسلام لا نے کے بعدشک کی گنجائش نہیں ، چا ہے حکم سمجھ میں آئے یانہ آئے ، بس ماننا ہے اور پوری طرح ماننا ہے ، اسلام لانے کے بعدبہت سے لوگوں نے مجھ پر کو شش کی کہ میں اسلام سے پھرجاؤں ، مگرمیں نے ان کو بہت جم کردعوت دی ، میں نے کہااسلام کی حقانیت پر میرایقین پکا ہے ، جو میرے اللہ نے مجھے خوددیا ہے ، ایک آرایس ایس کے پر چارک مجھے ہفتو ں تک سمجھاتے رہے ، مسلمان ایسے ہوتے ہیں ، پاکستان میں کیا ہورہا ہے ۔میں نے ایک دن ان سے کہاکہ کسی کے پیٹ میں دردہورہاہواور آپ ساری دنیا کے ترک (دلائل ) سے یہ ثابت کر نے کی کو شش کریں بلکہ عقل کے مطابق ثابت کردیں کہ تیرے پیٹ میں دردنہیں ہورہا ہے ، تو کیا اس آدمی کو آپ کی بات پر ذرابھی یقین آے گاکہ آپ سچ کہتے ہیں ۔بس اسلام کی حقانیت اور مکتی اور موکش کا واحدراستہ ہو نے پر مجھے اپنے پیٹ کے درد سے زیادہ یقین ہے ، پھرمیں نے کہاآپ اگرحق پسندہیں اور سچائی پسندہیں تو آپ کو میری بات پر یقین کرناچاہئے کہ میرے پیٹ میں دردہورہا ہے ، پھرمیں ان سے ملتارہا، ایک مہینہ میں اللہ کا شکر ہے انھوں نے خودکلمہ پڑھااور اب خاندان میں کا م کرر ہے ہیں ۔
س:آپ نے اپنے گھروالوں پر کا م نہیں کیا ؟
ج:اصل میں نے قسم کھائی تھی کہ گھرواپس نہیں جاؤں گا، اس لئے گھرجا نے کی نہیں سوچتاتھا، مگرحضرت نے مجھے سمجھایاکہ جس طرح اچھی نذراور قسم کو پوراکرناضروری ہے ، اسی طرح کسی غلط بات کی قسم پر جمنابھی برا ہے ، والدین اور گھروالوں کا حق ہے اور وہ قسم آپ کی کفرکی حالت کی تھی ، پھرقسم کا کفارہ بھی ہے ، مگرگھروالوں کو دوزخ سے بچا نے کی فکرکرنابھی ضروری ہے ، ایک بارمیں ایک حافظ صاحب کو اپنے گھرلے کرگیا، مگروہ حافظ صاحب دعوتی ذہن نہیں رکھتے تھے ، وہ ڈرکرگھرپہنچ نے سے پہلے ہی مجھے واپس لے آئے ، اب انشاءاللہ حضرت سے وعدہ کیا ہے ، جلدی گھروالوں کی فکرکروں گا، اپنے اللہ سے دعاتو خوب کررہاہوں ۔
س: کو ئی پیغام ارمغان پڑھ نے والوں کیلئے دیناچاہیں گے ؟
ج:ہمارے نبی کریم ﷺ نے کسی جاہلی عرب شاعرکی اس بات کی تعریف کی ہے کہ اس نے کیسی سچی بات کہی ، جس کا مفہوم یہ تھا:
”ہوشیار!اللہ کے علاوہ جن چیزوں کا ذکراور اہمیت دی جاتی ہے وہ سب باطل ہیں ۔ “ 
سچی بات یہ ہے کہ یہ ایمان ہی ہے یہی ساری کا ئنات اور ہر انسان کی سب سے بڑی ضرورت اور مسائل کا حل ہے ، کہ جو کچھ ہوتا ہے اسی کی مرضی سے ہوتا ہے ، اور اس کی مرضی اور منشا کے خلاف کسی سے کچھ بھی نہیں ہوسکتاتو پھرہوش مندی یہ ہے کہ صرف اسی سے جڑیں ، اور اس پر یقین رکھیں اس کو راضی کریں اور سب کو اس کی راہ پر لا نے کی کو شش کریں ۔
س:جزاکم اللہ فی امان اللہ السلام علیکم 
ج:آپ کا بھی شکریہ ۔وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ٭
آؤ پاکستانیو جشن منائیں
عرفان بلوچ
 کفریہ ریاست کے جاں باز محافظوں نے سات  گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعدتھانے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ۔
ڈزز  ڈزز  ڈز ز۔۔ ۔۔۔آہا ۔۔۔ ہوائی فائرنگ ۔۔۔ خوشی میں ۔۔۔ ناچو ۔۔۔ گاؤ ۔۔۔ جشن مناؤ ۔۔۔
واہ بھئی آج تو اخبار بھرا ہوا ہے تمہارے جاں بازوں کی دلیری اور مہارت کے قصوں سے ۔۔۔ کہا جا رہا ہے کہ آپریشن کامیاب  ۲۰ یرغمالی اہلکاروں کو چھڑوا لیا گیا ۔۔۔۔دہشت گرد اتنے عقل سے پیدل تھے کہ  موت سامنے دیکھ کر بھی یرغمال بنائے گئے۔۔۔ بیس اہلکاروں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے ۔۔۔۔ نہ نہ پاگل نہ تھے ۔۔۔۔ وہ تو طاغوت کے سپاہیوں سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔ لڑنے تھوڑا ہی آئے تھے ۔۔۔۔  
اور سنو!!!   ۔۔۔۔ دہشت گرد اپنا منصوبہ بتا کر آئے تھے ۔۔۔ ڈی آئی جی  کو ۔۔۔ سرکار ہم فلاں فلاں ساتھیوں کو چھڑوانے کے لیے حملہ کر رہے ہیں۔۔۔۔ہو سکتا ہے اخباریوں  کے نزدیک گھاس چرے ہوئے ہوں ۔۔۔۔میں سوچتا ہی رہ گیا کہ   کیا ان میں سے ایک نے زیادہ گھاس کھا لی تھی آتے ساتھ ہی مین گیٹ بھی بند کر دیا ۔۔۔یا پھر وہ طارق بن زیاد رحمہ اللہ کا واقعہ نیا نیا پڑھ کر آیا ہوگا ۔۔۔۔بہت جذباتی ہو رہا تھا بے چارہ ۔۔۔۔ یا پھر ۔۔۔۔ اسے پلان نہیں بتایا تھا امیر صاحب نے صرف ڈی آئی جی کو بتایا تھا ۔۔۔
لو جی اور سنو ۔۔۔۔اور اڑاؤ مضحکہ دجالی نشریات کا ۔۔۔۔ جب کارروائی شروع ہوئی تو تھانے کے اندر پہلے سے” ۲۲ “اہلکار موجود تھے ، پھر کہتے ہیں ،” ۱۰ “اہلکار شہید ہوگئے ، پھر کہتے ہیں ۴ زخمی حالت میں پائے گئے ، پھر یہ ۲۰ یرغمالی اہلکار کہاں سے ٹپک پڑے  ۔۔۔ دیکھنا یار بارش تو نہیں ہو رہی تھی آسمان سے اہلکاروں کی تھانے میں ۔۔۔۔
آہاں!!! ۔۔۔۔ یاد آیا ۔۔۔  ایک  اور لطیفہ بھی سنا ۔۔۔ ایک درجن دہشت گرد اندر داخل ہوئے تھے کارروائی کے لیے (اخباری خبر) ۔۔۔ پانچ حملہ آور مارے گئے (اخباری خبر )۔۔۔۔ بقیہ سات کے بھاگنے کی خبر کسی نے جاری نہیں کی ۔۔۔ کیوں جی اس میں سبکی کا ڈر ہے ۔۔۔لگا دو یار ۔۔۔ ذلالت اور ڈھٹائی میں فرق ہوتا ہے ۔۔۔
ویسے یہ سپاہیوں میں اتنی عسکری مہارت کس نے اتنی کوٹ کوٹ کر بھری ہے  ؟؟؟؟
دجالی میڈیا سے جھانکتی حقیقتیں ایک مجاہد کی نظر سے 
ہمارا محتاط اندازہ ہے کہ مجاہدین کی تعداد تین سے پانچ کے درمیان تھی۔
حملہ آور مجاہدین کی تعداد بڑھاکر پیش کرنے کا جدید فلسفہ عسکریات میں اس وقت کام آتا ہے جب ناپاک سیکیورٹی اداروں کی نام نہاد مہارت کا سکہ ذلت اور رسوائی کے بدنما دھبوں سے اپنی حیثیت کھو نے لگتا ہے  ۔۔۔  کبھی کہا جاتا ہے سینکڑوں جنگجوؤں کا  فوج کی بے سروساماں چوکیوں پر حملہ ۔۔۔۔مزید ہنسی اس وقت آتی ہے جب وہ حملہ ناکام ہوتا ہے ۔۔۔
ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد دس سے اٹھارہ کے درمیان ہے ۔ جن میں ایس ایچ او اور تفتیشی افسر نمایاں ہیں۔
اللہ اکبر ۔۔۔
مجاہدین کی کامیابی یہ ہے کہ ہاتھ ایک بھی نہیں لگا ۔۔۔ تین ہوں یا پانچ سب نے شہادت کو گلے لگا لیا
سچ ہے ۔۔۔
واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لایعلمون
اللہ پاک ساتھیوں کی شہادت اپنی بارگاہ عالی میں قبول فرمالیں ۔۔۔ آمین!
یہ تحریر طنز و مزاح میں لکھنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔ کوئی ساتھی آزردہ خاطر نہ ہو
غزوۂ ہند میں شریک آپ کا شرارتی مجاہد بھائی

     

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں