پیر، 25 مارچ، 2019

ردِّقادیانیت کورس (قسط۔۸)

Qadianiat Rebuttal Course- Part 8

خلاصۂ کلام :

کلام سابق سے یہ بات روز روشن سے زیادہ واضح ہوگئی کہ اصل بحث رفع و نزل کی ہے نہ کہ موت وحیات کی جس کو مرزائیوں نے اپنی چالاکی اور عیاری سے موضوع بحث بنا رکھا ہے ۔
٭وجہ اول
اس لئے کہ موت حیات رفع و نزول کو لازم ہے نہ کہ رفع و نزول موت وحیات کو ، لہذا اگر بحث کی جائے تو اس وقت تک تمام نہیں ہوگی جب تک حیاۃ کے بعد رفع کو ثابت نہ کیا جائے اور موت کے بعد عدم رفع ثابت نہ کیاجائے تو معلوم ہوا کہ اصل بحث رفع و نزول کی ہے ۔
٭وجہ دوم
اس لئے کہ رفع ونزول عیسائیوں کا عقیدہ ہے اگر یہ بھی مثل دوسرے عقائد کے غلط ہے تو قرآن و حدیث کو اس کی تردید کرنی چاہیے تھی حالانکہ قرآن وحدیث نے اس کی تردید نہیں کہ بلکہ ان کے اس عقیدہ کی تائیداو رتصدیق کی ہے جسے ہم بعون اﷲ قرآن وحدیث واجماع امت اور اقوال مراز سے ثابت کریں گے اگر قرآن وحدیث اس عقیدے کی تائید میں کچھ بھی نہ کہے تو بھی مرزا کے مسلمہ اصول کے مطابق یہ عقیدہ صحیح ثابت ہوجا تا ہے ۔

اثبات رفع و نزول باقوال مرزا از روئے قرآن مجید


  • حوالہ نمبر ۱

’’ اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانے میں آنے کی قرآن شریف میں پیشین گوئی موجود ہے ۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۷۵ روحانی خزائن ص۴۶۴ ج۳ )

  • حوالہ نمبر ۲

’’ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق ‘‘
(اﷲ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت او ردین حق دے کر بھیجا)
﴿پارہ ۱۰ توبہ ع ۵ آیت ۳۲ ،پارہ ۲۶فتح ع۴ آیت ۲۸،پارہ ۲۸ صف ع۱ آیت ۹﴾
یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طورپرحضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اورجب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا……حضرت مسیح کی پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم برحاشیہ طبع اول ص۴۹۸،۴۹۹ قدیم ، ص
۴۵۸ جدید ، روحانی خزائن ج۱ص ۵۹۳)

  • حوالہ نمبر۳

’’ عسی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا‘‘
﴿پ ۱۵ ع۱ آیت ۸﴾
یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح علیہ السلام کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف اوراحسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا میں اتریں گے اور تمام راہوں اورسڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کردیں گے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ ۴ ص۴۶۵ حاشیہ ص۴۵۹ روحانی خزائن ص۶۰۱،۶۰۲ ج۱)

مرزائی عذر

ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا نے براہین احمدیہ کے ان حوالوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے عقید ہ کو صراحتاً تسلیم کیا ہے لیکن یہ محض رسمی طورپر لکھ دیا گیا ہے جیسا کہ مرزا نے اعجاز احمدی ص۷ ج ۱۹ ،پر اعتراف کیا ہے (روحانی خزائن ص۱۱۳ ج۹ )
جواب نمبر ۱
یہ عقیدہ رسمی نہیں بن سکتا اس لئے کہ مرز ا نے اس کے ثابت کرنے میں آیات قرآنیہ پیش کی ہیں جن سے ثابت ہوتاہے کہ انہوں نے یہ عقیدہ رسمی طور پر نہیں لکھا بلکہ یہ قرآنی طور پر لکھا ہے ۔
جواب نمبر ۲
مرزا قادیانی نے جس کتاب میں یہ عقیدہ لکھا ہے وہ بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کی گئی ہے مؤلف اس وقت خدائے تعالیٰ کی طرف سے ملہم اور مامور تھا اور اس کتاب پر دس ہزار کا اشتہار بھی دیا گیا ہے ۔(تبلیغ رسالت مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۸ روحانی خزائن ص۲۴ تا ۵۲ ج۱،ملحقہ براہین احمدیہ وملحقہ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن ص۶۵۷ج۵ وسرمہ چشم آریہ جدید ص۳۱۹ ج۲ )
مجدد کی تعریف :
’’ جولوگ خدا کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخواں فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں خدا تعالیٰ انہیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جونبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور ان کی باتیں از قبیل جوشیدن ہوتی ہیں نہ محض از قبیل
کوشیدن اور وہ حال سے بولتے ہیں نہ مجرد قال سے اور خداتعالیٰ کے الہام کی تجلی ان کے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کیوقت روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں اور ان کی گفتار وکردار میں دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی کیونکہ وہ کلی مصفی کیے گئے اور باتمام وکمال کھینچے گئے ہیں ۔‘‘
(فتح اسلام حاشیہ روحانی خزائن ص۷ ج۳)
’’وہ مجدد خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے گا یعنی علوم لدنیہ اور آیات سماویہ کے ساتھ ‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۵۴ روحانی خزائن ج۳ص۱۷۹)
جواب نمبر ۳
یہ رسمی عقیدہ یا اجتہادی غلطی اس لئے بھی نہیں ہو سکتی کہ یہ کتاب بقول مرزا صاحب نبی اکرم ﷺ کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے اور اس کانام ’’ قطبی ‘‘ بتایا گیا ہے یعنی قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے ۔ (براہین احمدیہ قدیم ایڈیشن ص۲۴۸ ، ۲۴۹ روحانی خزائن ج۱ص۲۷۵) تو اگر اس کے اس عقیدہ کو رسمی عقیدہ یا اجتہادی غلطی کہہ کر غلط قرار دیا گیا تو یہ قطبی نہیں رہے گی اور اس کے دلائل مستحکم اور غیر متزلزل نہیں ہوں گے خصوصاً جب کہ نبی اکرم ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں آچکی او رآپ کی مبارک نظر سے گذرچکی تو آپ نے ایسی فاش غلطی جو مرزا صاحب کے نزدیک شرک عظیم ہے اس کو آپ نے کس طرح نظر انداز کر دیا۔
دیکھو مرزا کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ماننا شرک عظیم ہے :
’’ فمن سوء الا دب ان یقال ان عیسی مامات وان ھو الا شرک عظیم یاکل الحسنات ویخالف الحصات بل ھو توفی کمثل اخوانہ ومات کمثل اھل زمانہ وان عقیدۃ حیاتہ قد جاء ت فی المسلمین من الملۃ النصرانیہ۔‘‘
(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص۳۹ ، روحانی خزائن ص۶۶۰ ج ۲۲)
جواب نمبر ۴
یہ اجتہادی غلطی اس لیے بھی نہیں بن سکتی کہ مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے اس کتاب میں کوئی دعویٰ اور کوئی دلیل اپنے قیاس سے نہیں لکھی ۔
(براہین احمدیہ حصہ دوم ص۵۰،۵۱ ،روحانی خزائن ج۱ ص۸۸ حاشیہ والا۹۹)

اثبات رفع ونزول از روئے احادیث باقوال مرز ا


  • حوالہ نمبر ۱

’’ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کیا ہے جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے ……الخ۔‘‘
(ازالہ اوھام ۵۵۷ روحانی خزائن ج ۳ ص۴۰۰)
تواتر کی تعریف بھی مرزا صاحب کے زبانی سن لیجئے : ’’ تواتر ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کی رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے ۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۵۶ روحانی خزائن ج۳ص۳۹۹)

  • حوالہ نمبر ۲:

’’ اب پہلے ہم صفائی بیان کیلئے یہ لکھناچاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اس وجود عنصری کیساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے دوسرا مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر کسی زمانہ میں زمین پراتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے انہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں ۔‘‘
(توضیح المرام ص۴ ،روحانی خزائن ج۳ ص۵۲ )

  • حوالہ نمبر ۳:

’’ صحیح مسلم کی حدیث میں جویہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۶ روحانی خزائن ص۱۴۲ ج۳)
نوٹ﴾ یہ حدیث صحیح مسلم میں نہیں بلکہ سنن ابی داؤد ج ۲ کتاب الملاحم باب خروج الدجال میں مذکور ہے۔ قادیانیوں کیلئے چونکہ مرزا قادیانی کی تحریرات حجت ہیں اس لئے الزامی طور پر مذکورہ حوالہ لکھا جاتا ہے ۔

اثبات رفع و نزول مسیح از روئے اجماع امت

(۱) حیاۃ المسیح بجسمہ الی الیوم ونزولہ من السماء بجسمہ العنصری مما اجمع علیہ الامۃ وتواتر بہ الا حادیث۔
(تفیسرالبحر المحیط ج۲ ص۲۷۳)
(۲) والاجماع علی انہ حی فی السماء ینزل ویقتل الدجال ویؤید الدین (تفیسر جامع البیان تحت آیت انی متوفیک)
(۳) الاجماع علی انہ رفع ببدنہ حیا قالہ الحافظ ابن حجر فی تلخیص الجبیر
(۴) فتح الباری میں بھی ذکر ادریس میں حضرت مسیح کے نزول پر اجماع منقول ہے ۔
(۵) تفسیر ابن کثیر میں تواتر نزول کی صراحت کی گئی ہے ۔
مرزائیوں کی شہادت کہ رفع و نزول عیسیٰ پر تمام مفسرین کا اجماع ہے حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب تلخیص الجبیر کے صفحہ ۳۱۹ ،۳۲۰ پر عام مفسرین کا اجماع نقل کیا ہے ۔ (عسل مصفیٰ ص ۱۶۴)
مرزائیوں کے نزدیک بھی حافظ ابن حجر عسقلانی آٹھویں صدی کے مجدد ہیں ، یہ مجددین کی اس فہرست میں داخل ہیں جوکہ عسل مصفی کے صفحہ ۱۶۲ ق،۱۱۷ سے شروع ہوتی ہے اور کتاب ہذا مرزا کی مصدقہ ہے ۔

٭ایک اہم اصول

مرزائیوں کے ساتھ بحث کرنے سے پہلے یہ طے کرلیناچاہیے کہ فریقین اگر آیات قرآنی کی تفسیر وتشریح اپنی مرضی ورائے سے کریں گے توبحث کا کوئی فائد ہ نہ ہوگا، تم اپنے معنی بیان کرو گے اور ہم اپنا حلفی بیان کریں گے اور بحث کا حاصل کچھ نہ نکلے گا ،اسلئے مناسب ہے کہ تیرہ صدیوں میں سے چند ایسے مفسرین ومجددین کا انتخاب کرلیں جن کی بات ہر دو فریق تسلیم کریں ۔
چودھویں صدی کے مفسرین ومجددین کی بات بے شک نہ مانو، تیرہ صدیوں میں سے ایک مفسر ومجدد کا انتخاب کرلو جس کا بیان کیاہوا معنی اور تفسیر معتبر اور قول آخر مانی جائے گی اور مجددین میں سے ان مجددین کا انتخاب کرتے ہیں جو فریقین کے نزدیک مسلم ہیں اور مرزائیوں کے مسلم مجددین کی فہرست کتاب’’ عسل مصفی‘‘ میں موجود ہے. واضح ہو کہ یہ کتاب عسل مصفی وہ کتاب ہے جومرزا صاحب کے ایک مرید مرزا خدا بخش نے لکھی او رہر روز جو لکھی جاتی وہ باقاعدہ مرز اصاحب کو سنائی جاتی اگر کبھی وہ اتفاقاً مرزا صاحب کو نہ سناتا تو مرزا صاحب بڑے اہتمام کے ساتھ اس کے متعلق استفسار کرتے کہ آج تم نے مجھے اس کتاب کا مسودہ کیوں نہیں سنایا غرضیکہ یہ پوری کتاب مرز اغلام احمد قادیانی نے پورے اہتمام کے ساتھ سنی گویا یہ مرزا صاحب کی مصدقہ کتاب ہے اور اس کے اندر جو مجددین کی فہرست ہے وہ مرزا غلام احمد کے نزدیک بھی مسلم مجددین ہیں اب ہم کتاب عسل مصفی سے وہ فہرست نقل کرتے ہیں ۔
( عسل مصفی مصنفہ مرزاخدا بخش ص۱۱۷ ج۱)
پہلی صدی میں اصحاب ذیل مجدد تسلیم کئے گئے ہیں
(۱) عمر بن عبدالعزیز (۲) سالم (۳) قاسم (۴) مکحول
علاوہ ان کے اور بھی اس صدی کے مجدد مانے گئے ہیں چونکہ جو مجدد جامع صفات حسنی ہوتا ہے وہ سب کا سردار اور فی الحقیقت وہی مجدد فی نفسہ ماناجاتا ہے اور باقی اس کی ذیل سمجھے جاتے ہیں جیسے انبیاء بنی اسرائیل میں ایک نبی بڑا ہوتا تھاتو دوسرے اس کے تابع ہو کر کاروائی کرتے تھے چنانچہ صدی اول کے مجدد متصف بجمیع صفات حسنی حضرت عمر بن عبدالعزیز تھے ۔(نجم الثاقب ج۲ ص۹ ،وقرۃ العیون ومجالس الابرار)
دوسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں
(۱) امام محمد ادریس ابو عبداﷲ شافعی (۲) احمد بن محمد بن حنبل شیبانی (۳) یحیٰ بن عون غطفانی (۴) اشہب بن عبدالعزیز بن داؤد قیس (۵) ابو عمرو مالکی مصری (۶) خلیفہ مامون رشید بن ہارون (۷) قاضی حسن بن زیاد حنفی (۸) جنیدبن محمد بغدادی صوفی (۹) سہل بن ابی سہل بن ریحلہ الشافعی (۱۰) بقول امام شعرانی حارث بن اسعد محاسبی ابو عبداﷲ صوفی بغدادی (۱۱) او ربقول قاضی القضاۃ علامہ عینی احمد بن خالد الخلال ابو جعفر حنبلی بغدادی ۔ (نجم الثاقب ج۲ ص۱۴ ،قرۃ العیون ومجالس الابرار)
تیسری صدی کے مجددین
(۱) قاضی احمد بن شریح بغدادی شافعی (۲) ابو الحسن اشعری متکلم شافعی (۳) ابو جعفر طحاوی ازدی حنفی (۴) احمد بن شعیب(۵) ابو عبدالرحمن نسائی (۶)خلیفہ مقتدر باﷲ عباسی (۷) حضرت شبلی صوفی(۸) عبیداﷲ بن حسین (۹) ابو الحسن کرخی وصوفی حنفی
(۱۰) امام بقی بن مخلد قرطبی مجدد اندلس اہل حدیث ۔
چوتھی صدی کے مجددین
(۱) اما م ابوبکر باقلانی (۲) خلیفہ قادر باﷲ عباسی (۳) ابوحامداسفرانی (۴) حافظ ابو نعیم (۵) ابو بکر خوارزمی حنفی (۶) بقول شاہ ولی اﷲ ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ المعروف بالحاکم نیشاپوری (۷) اما م بیہقی (۸) حضرت ابو طالب ولی اﷲ صاحب قوت القلوب جوطبقہ صوفیاء سے ہیں (۹) حافظ احمد بن علی بن ثابت خطیب بغداد (۱۰) ابو اسحاق شیرازی (۱۱) ابراہیم بن علی بن یوسف فقیہ المحدث
پانچویں صدی کے مجدد اصحاب
(۱) محمد بن محمد ابو حامد امام غزالی (۲) بقول عینی و کرمانی حضرت راعونی حنفی (۳) خلیفہ مستظہر بالدین مقتدی باﷲ عباسی (۴) عبداﷲ محمد بن محمد انصاری ابو اسماعیل ہروی (۵) ابو طاہر سلفی (۶) محمدبن احمد ابوبکر شمس الدین سرخسی فقیہ حنفی
چھٹی صدی کے مجددین
(۱) محمد بن عبداﷲ فخرالدین رازی (۲) علی بن محمد (۳) عزالدین بن کثیر (۴) امام رافعی شافعی صاحب زبدہ شرح شفا(۵) یحیٰ بن حبش بن میرک حضرت شہاب الدین سہروردی شہید امام طریقت (۶) یحیٰ بن اشرف بن حسن محی الدین لوذی (۷) حافظ عبدالرحمن ابن جوزی
ساتویں صدی کے مجدد اصحاب
(۱) احمد بن عبدالحلیم نقی الدین ابن تیمیہ حنبلی (۲) تقی الدین ابن دقیق العید (۳) شاہ شرف الدین مخدوم بہائی سندی (۴) حضرت معین الدین چشتی (۵) حافظ ابن القیم جوزی شمس الدین محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد بن القیم الجوزی ورعی دمشقی حنبلی (۶) عبداﷲ بن اسعد بن علی بن سلیمان بن خلاج ابو محمد عفیف الدین یافعی شافعی (۷) قاضی بدرالدین محمد بن عبداﷲ الشبلی حنفی دمشقی
آٹھویں صدی کے مجددین
(۱) حافظ علی بن حجر عسقلانی شافعی (۲) حافظ زین الدین عراقی شافعی (۳) صالح بن عمر بن ارسلان قاضی بلقینی (۴) علامہ ناصر الدین شازلی بن سنت میلی
نویں صدی کے مجدد اصحاب
(۱) عبدالرحمن کمال الدین شافعی معروف بہ امام جلال الدین سیوطی (۲) محمد بن عبدالرحمن سخاوی شافعی (۳) سید محمد جونپوری مہدی اور بقول بعض دسویں صدی کے مجدد ہیں ۔
دسویں صدی کے مجدد اصحاب یہ ہیں
(۱) ملا علی قاری (۲) محمد طاہر فتنی گجراتی ، محی الدین محی السنہ (۳) حضرت علی بن حسام الدین معروف بہ علی متقی ہندی مکی
گیارہویں صدی کے مجددین
(۱) عالم گیر بادشاہ غازی اورنگ زیب (۲) حضرت آدم بنوی صوفی (۳) شیخ احمد بن عبدالاحد بن زین العابدین فاروقی سرہندی معروف بامام ربانی مجدد الف ثانی
بارہویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں
(۱) محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان نجدی (۲) مرز امظہر جان جاناں دہلوی (۳) سید عبدالقادر بن احمد بن عبدالقادر حسنی کوکیانی (۴) حضرت احمد شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی (۵) اما م شوکانی (۶) علامہ سیدمحمد بن اسما عیل امیر یمن (۷) محمد حیات بن ملازیہ سندھی مدنی
تیرھویں صدی کے مجددین
(۱) سید احمد بریلوی (۲) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (۳) مولوی محمد اسماعیل شہید دہلوی (۴) بعض کے نزدیک شاہ رفیع الدین صاحب بھی مجدد ہیں (۵) بعض نے شاہ عبدالقادر کو مجدد تسلیم کیا ہے ، ہم اس کا انکا ر نہیں کرسکتے کہ بعض ممالک میں بعض بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجدد مانا گیا ہو اور ہمیں اطلاع نہ ملی ہو۔
نوٹ﴾مرز اخدا بخش کی اس دی گئی فہرست میں تیرہ صدیوں کے مجددین کی تعداد اکیاسی بنتی ہے۔

مرزائی سوال

مرزائی عموماً سوال کرتے ہیں کہ چودہویں صدی کامجدد کون ہے واضح ہو کہ ان کے نزدیک آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی ہی چودہویں صدی کا مجدد ہے ۔
جواب:
ہم جواب میں چودھویں صدی کے مجددین کے ضمن میں یہ نام پیش کرتے ہیں :
(۱) حضرت مولا نا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند(۲) حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (۳) مفسر قرآن حضرت مولانا حسین علی (۴) شیخ العرب والعجم حضرت مولانا حسین احمد مدنی (۵) حضرت مولا نا محمد الیاس کاندھلوی بانی تبلیغ جماعت (۶) سید المحدثین حضرت مولانا سید علامہ انور شاہ کشمیری (۷) شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری (۸) حضرت شاہ عبدالقادر رائپوری (۹) حضرت خلیفہ غلام محمد، دین پورشریف
(جاری ہے...) 
٭٭٭
     

منگل، 19 مارچ، 2019

بے اعتبار مرزا قادیانی - احتشام انجم شامی

Unreliability of Mirza Qadiani 

قارئین کرام ! مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت کی حقیقت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ تاہم پھر بھی ہم کچھ عرض کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی حیثیت ان کی اپنی تحریروں کی رو سے کیا ہے۔ٍ

جھوٹے شخص پر مرزا قادیانی کے فتوے

مرزا صاحب لکھتے ہیں
۱:جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔
[روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۵۷]
۲:وہ کنجر اور ولد الزنا کہلاتے ہیں جوبھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔
[روحانی خزائن جلد ۲ ص ۳۸۶]
۳:جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔
[روحانی خزائن جلد۲۲ ص ۲۱۵]

جھوٹے کی بات کی حیثیت

مزید لکھتے ہیں:
جب ایک بات میں کوئی جھوٹاثابت ہو جائے تو پھر دوسری بات میں اس پر اعتبار نہیں رہتا۔
[روحانی خزائن جلد ۲۳ ص ۲۳۱]
اب آتے ہیں ان کے دجل کی طرف۔

مرزا قادیانی کا دعوی:

۱: وہ مسیح موعود جس کے آنے کا قران کریم میں وعدہ کیا گیا ہے وہ عاجز ہی ہے۔
[روحانی خزائن جلد ۳ ص ۴۶۸]

۲:اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے
[خزائن جلد ۱ ص ۵۹۴]

۳: اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔
[خزائن جلد ۱۹ ص ۳]

تبصرہ:

 مرزا قادیانی کا یہ دعوی کر نا کہ ان کو حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام سے معاذ اللہ ہر پہلو میں مشابہت حا صل ہے کو انہی کی تحریروں کی روشنی میں دیکھتے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
بغیر والد کے پیدا ہونا
۱: حضرت عیسی ابن مریم بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔
[خزائن جلد ۳ ص ۶۱]
جبکہ مرزا صاحب، جنہیں ہر لحاظ سے ابن مریم سے مشابہت کا دعوی تھا وہ لکھتے ہیں
میں جس کا نام غلام احمداور باپ کا نام غلام مرتضی۔
[کشف الغطا ص ۲]

اولاد میں مشابہت کی نفی
۱: حضرت عیسی علیہ السلام کی کوئی آل نہیں تھی۔
[خزائن جلد ۱۵ ص۳۶۳ حاشیہ]
جبکہ مرزا صاحب کی اولاد تھی جو بالکل واضح بات ہے۔

مسمریزم اور مرزا قادیانی 
خزائن میں ایک جگہ درج ہے:
یہ جو میں نے مسمزیزی طریق کا عمل الترب نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے۔[خزائن جلد ۳ ص ۲۵۹]
جبکہ مرزا صاحب اس عمل کو مکروہ  اور قابل نفرت سمجھتے تھے۔
[بحوالہ خزائن جلد ۳ ص ۲۵۸]

جب قابل نفرت سمجھتے تھے تو ظاہر ہے خود کیوں اس پر عمل کیا جائے گا؟

مذہب کے پھیلنے میں مماثلت کی نفی
ایک جگہ لکھتے ہیں:
ناکامی اور نا مرادی جو مذہب کے پھیلانے میں کسی کو ہو سکتی ہے۔عیسی علیہ السلام سب سے اول نمبر پر ہیں ۔ [خزائن جلد ۲۱ ص ۵۸]
جبکہ اپنے بارے میں خود لکھتے ہیں
لاکوں انسانوں نے مجھے قبول کر لیااور یہ ملک ہماری جماعت سے بھر گیا۔
[خزائن جلد۲۱ ص ۹۵،۹۶]

ان سب حوالوں سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ مرزا صاحب کا یہ کہنا پرلے درجے کا جھوٹ ہے کہ انہیں حضرت عیسی علیہ السلام سے معاذاللہ کلی مشابہت حاصل تھی کیونکہ ہم نے چند حوالے انہی کی تحریروں سے دے دیے ہیں۔ 
چونکہ مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا لہذا انہی کے فتوے کے مطابق ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں ہے ۔ اپنی ہی تحریروں کے آئینے میں:

  • ان کے نسب میں شک ہے
  • یہ ولد الزنا بھی ہوئے
  • گوہ کھانے والے بھی ثابت ہوئے
  •  بلکہ مرتد بھی اپنے ہی تحریروں سے ثابت ہوئے۔

قادیانی جماعت کو پیغام:

ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جو بندہ اپنے تحریروں کی رو سے ایسا مرتد ولد الزنا جھوٹا ثابت ہو اسے نبی مان کر اپنی آخرت برباد کرنے سے اچھا ہے کہ کلمہ پڑھیں اور حضور ﷺ کو آخری نبی مان کر مرزا قادیانی پر چار حرف بھیج کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں!
٭٭٭
     

ملحد کی سائنس اور انسانیت سے بغاوت - سید عکاشہ

When atheism goes against science and morality
الحاد کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہے کہ وہ کئی معاملات میں ایسی گلیوں میں جا نکلتا ہے جس کے آخر میں دیوار راستہ روکے کھڑی ہوتی ہے۔ ایک مختصر اور جامع تحریر جو ملحدین کی اس عادت کا منصفانہ جائزہ لیتی ہے۔
(مدیر)
الحاد دو ۲ امور کو اپنا بنیادی ہتھیار بناتا ہے اور ان دونوں کے سبب مذہب کی تنقیح کرتا ہے اور حامیانِ مذہب پر جرح کرتا ہے۔ ایک چیز تو سائنس ہے جبکہ دوسری چیز انسانیت ہے۔ اس تحریر میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان دونوں سے الحاد کا کوئی تعلق نہیں۔

 سائنس سے بغاوت

ابتداء سائنس سے کرتے ہیں۔ ایک اصولی بات سمجھ لینا لازم ہے کہ ہر ترکیب اپنی ابتداء میں دو چیزوں کے مربوط ہوجانے کی محتاج ہے:
    ۱۔ ایک سبب کا وجود رکھنا
    ۲۔ اس سبب کا اپنی ترکیب سے تعلق بنانا
اس کے بعد ہی ترکیب وجود میں آتی ہے۔ قدرت کا یہ بنیادی دستور ہے اور یہ ایک (self-evident)  سچ ہے جس کے انکار کی استطاعت کی جرأت وہ نہیں کرسکتا۔
میں کمپیوٹر کے کی بورڈ کا استعمال کر رہا ہوں تب ہی وہ الفاظ میں منتقل ہو کر ٹائپ ہورہے ہیں، اس معاملہ میں بھی دو چیزیں ہیں:
    ۱۔ ایک میرے ہاتھ کی فعلیت کا کی بورڈ پر وجود رکھنا
    ۲۔ اس وجود کا اپنی ترکیب سے تعلق بنانا
یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی چیز اس کے بغیر وجود رکھ لے۔
ریاضی میں کہا جاتا ہے کہ ایک سیب میں لوں اور کچھ دیر بعد اس میں ایک سیب کا اضافہ کردوں تو دو سیب بن جاتے ہیں۔ اس میں بھی اس قانون کی پاسداری ہے۔ ایک سیب میں ایک سیب جوڑ دینے سے چار یا پانچ سیب نہیں بنتے بلکہ دو ہی بنتے ہیں کیونکہ وہ ایک سیب کی انفرادیت (distinction) دوسرے سیب کی انفرادیت سے جب ربط بناتی ہے تو جو ترکیب وجود میں آتی ہے وہ دو سیب ہی بناتی ہے۔
سائنس بھی اسی دستور کا پابند ہے۔ کسی دوائی سے بیمار کو شفا ملتی ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ شاید یہ سب خود بخود ہوجاتا ہو۔ بلکہ دوائی کے اجزاء کا انسانی جسم سے ربط بنانا لازم سمجھا جاتا ہے اور اس کی بنیاد یہی (self-evident) سچّائی ہے جو اشیاء کی ترکیب کو زیرِ بحث اس کے سبب سے ربط کی بنیاد پر تسلیم کرتی ہے۔
کسی کے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ شاید دوائی اور شفاء کا کوئی تعلق نہ ہو کیونکہ وہ اس سچائی میں یقین رکھتے ہیں۔ 
خدا کا وجود ایک حقیقت ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ از خود (self-evident) سچّائی ہے اور ایک وجہ یہ کہ یہ قانونِ ربط اس کے وجود کو لازم کرتا ہے۔ جب ہر چیز کا ترکیب پانا، اس کے سبب کے وجود اور ربط کا پابند ہے، تو یہ کائنات جو اپنی تمام صفات کے لحاظ سے محدود ہے کیونکر اس اصول سے بغاوت کریگی؟ 
سائنس، ریاضی، فلسفہ، طب وغیرہ کی بنیاد جس اصول پر ہے، وہ اصول یہ لازم کرتا ہے کہ وجودِ خدا بھی ہونا چاہیئے۔ مگر یہاں آکر ملحد کی فکر متغیر ہوجاتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ نہیں! ایسا نہیں ہے، اس معاملہ میں ایسا نہیں ہوا۔ لارنس کراس جیسے کہتے ہیں کہ شاید یہ کائنات بغیر کسی شے کے یعنی nothing سے وجود میں آگئی ہو۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہمیشہ سے ہے۔ بعض کائنات اور خدا میں فرق سمجھے بغیر یہ منطق لڑاتے ہیں کہ جب خدا بغیر کسی کے بنائے بن سکتا ہے تو یہ کائنات کیوں نہیں؟ الغرض جس سائنس کا رونا وہ روتے ہیں، اسی سے بغاوت کرجاتے ہیں۔

 انسانیت سے بغاوت

اب انسانیت کے متعلق الحاد کے نظریہ کی وضاحت بھی ہم ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم اکثر کہتے ہیں:
اگر خدا نہیں ہے، تو ہمارے پاس بھلائی اور اچھائی کے جانب راغب ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
یہ دلیل بہت سے لوگوں نے دی ہے اور اس پر ملحد یہ اعتراض کیا کرتے ہیں:
"تم لوگ کتنے خود غرض ہو؟ صرف جزا و سزا کے لیے اچھے بنتے ہو؟ تم لوگوں میں انسانیت ہی نہیں ہے"
در اصل یہ سب انہوں نے اپنے بڑے مولوی صاحب رچارڈ ڈاکنز سے طریقہ اخذ کیا ہے اور وہی ہر مذہبی پر تھوپ دیتے ہیں۔ 
ہم کب کہتے ہیں کہ جزا و سزا کے لیے ہی انسان اچھا بنتا ہے؟ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اگر خدا کا وجود نہیں تو بھلائی اور برائی جیسے نظریات کا کوئی حقیقی وجود بھی ثابت نہیں ہوسکتا۔
کیسے؟
کوئی بھی چیز کیوں بری ہے یا کیوں بھلی ہے؟
ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس لیے بری ہے کہ انسانیت کے خلاف ہے وغیرہ وغیرہ؟
مگر سوال پھر پیدا ہوتا ہے:
ہمیں انسانیت پر کیوں چلنا ہے؟ 
وہ کہے گا کہ قومیں ایسے ہی بن سکتی ہیں ورنہ انسان دنیا سے ختم ہوجائیں گے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے:
انسانوں کے دنیا سے ختم ہوجانے کی ہم کیوں فکر کریں؟
وہ اس مقام پر اگر ملحد ہے تو آ کر عام طور پر یہی کہہ دے گا کہ تم لوگ کتنے بیشرم بے حیاء ہو تم انسانوں کی فکر نہیں کرتے، انسانیت نہیں تم میں وغیرہ وغیرہ مگر منطقی لحاظ سے مزید کچھ ثابت نہیں کر پائے گا۔ سوالات کا سلسلہ تو کسی طور ختم نہیں ہوگا۔ 
اس کا حل کیسے نکلے؟ ہم پر فرض ہے یعنی ہماری ڈیوٹی ہے کہ ہم اچھے بنیں (اس بات کو اخلاقیات کے حوالے سے کانٹ نے بھی ذکر کیا ہے)، مگر کیوں؟ ایک مذہبی کے پاس سادہ اور بہت ہی آسانی سے سمجھ میں آنے والا جواب ہے کہ خدا نے ہمیں اسی لیے پیدا کیا ہے۔ خدا کی خلقت اسی لیے ہوئی ہے اور ہمارا مقصد یہی ہے مگر اس موقع پر ایک ملحد کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔
بعض ملحد فلسفیوں نے الجھا کر اس مسئلہ کو بھی ثابت کرنے کی کوشش کی مگر کئی فلسفی ملحدین مثلاََ جے-ایل میکی ( .L Mackie) نے تو اعتراف بھی کرلیا ہے کہ اخلاقیات کا کوئی فی نفسہ (objective) وجود نہیں۔ ایسے میں دنیا والوں کو کیسے قائل کیا جائے گا اور کیا مستقبل میں اخلاقی زوال پیدا ہونے کا امکان نہیں ہوگا؟ نہلسٹ (nihilists یعنی وہ جو اخلاقیات اور مذہب سب کے منکر ہیں) کو ہی دیکھ لیں۔ وہ اخلاقیات کو نہیں مانتے، جبکہ absurdists اپنی مرضی کے اخلاقیات بنانے کے قائل ہیں۔ اب کیا کیا جائے گا؟
٭٭٭
     

ڈیڑھ لاکھ افراد کو مسلمان کرنے والے نو مسلم کولن چیک سے ایک گفتگو

A conversation with the man behind 150000+ converts, Colin Check

انٹرنیشنل چرچ کے  جنرل سکریٹری کا عالم اسلام کے  خلاف امریکہ و یورپ کی خوف ناک سازشوں کا انکشاف
  سوال   :افریقی ممالک میں خصوصاً اور اسلامی ممالک میں عموماً یوروپی این جی اوزکا کیا کر دار ہے ؟
  جواب  :وہ سب این جی اوز حقیقت میں چرچ کے  زیر انتظام چلتی ہیں اور چرچ کے  مفاد میں انسانی خدمت کے  موٹو سے  کام کرتی ہیں اور ان کا اصل مقصد مسلمانوں کو عیسائی بنانا یا کم از کم ان کو دین سے  دور کرنا ہوتا ہے  اور ان مذموم مقاصد کے  حصول کے  لئے  ان کے  پاس لا محدود وسائل اور متعدد ذرائع ہوتے  ہیں۔
انٹرنیشنل چرچ کی این جی اوز کا شمار کسی فرد واحد کے  بس کی بات نہیں لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عالمی سطح پر عیسائیت کے  مفاد کے  لئے  کام کرنے  والی ہزاروں این جی اوز ہیں، صرف سوڈان میں پانچ سو سے  زائد ایسی این جی اوز فعال ہیں جو مسلمانوں کو مرتد بنانے  میں سرگرم رہتی ہیں۔
  سوال  :مذکورہ عیسائی این جی اوز اپنے  مقاصد کیسے  حاصل کرتی ہیں ؟
  جواب  :چرچ کے  لئے  کام کرنے  والی یا عیسائیت کے  نام پر مسلمانوں کو مرتد بنانے  اور ان کے  ایمان پر ڈاکہ ڈالنے  والی یورپی این جی اوز بلا سوچے  سمجھے  اور بغیر منصوبہ بندی کے  کوئی کام نہیں کر تیں، بلکہ وہ انتہائی باریک بینی سے  پایۂ تکمیل تک پہونچی ہوئی سروے  اور تحقیقی رپورٹوں کی روشنی میں پوری پلاننگ سے  کام کرتی ہیں وہ جس ملک میں کام کرنا چاہتی ہیں اس کے  متعلق ساری معلومات حاصل کرتی ہیں اس ملک کے  اندرونی اور بیرونی نقشہ جات اور سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور دیگر اہم جماعتوں کے  بارے  میں مکمل معلومات اور ان کی کمزوریوں اور دکھتی رگوں پر ماہرنبض شناس کی طرح ان کے  ہاتھ ہوتے  ہیں، وہ جب جہاں اور جیسے  چاہیں، اپنے  مقاصد حاصل کرتے  ہیں انہیں یہ معلومات بھی دی جاتی ہیں کہ ہدف ملک کو، اموال، اغذیہ، تعلیم اور صحت و کھیل وغیرہ میں کن اشیاء اور کتنی مقدار کی ضرورت ہے۔
ہر شخص کو مرتد بنانے  کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے  مثلاً ایک لادینی شخص کو عیسائیت کے  نام پر حلقہ ارتداد میں انتہائی آسانی کے  ساتھ داخل کیا جاتا ہے  اس کی ترغیبات کے  مطابق اسے  شراب، شباب اور اموال مہیا کر دیئے  جاتے  ہیں جس سے  وہ ان کے  شکنجہ میں آتا جاتا ہے، بالآخر وہ اپنا شکنجۂ اسیری خوب کس دیتے  ہیں، البتہ ایک دیندار شخص کے  لئے  عیسائی مبلغین کے  سامنے  دوآپشن ہوتے  ہیں، وہ مرتد ہو جائے  یا اس کا ایمان کمزور ہو جائے  اور وہ زیادہ گناہوں میں مبتلا ہو جائے، نیز مسلمانوں کو گمراہ یا مرتد کرنے  کے  لئے  عیسائی مبلغین بتدریج ترغیب و تحریص سے  کام لیتے  ہیں۔
  سوال  :ایک مسلمان شخص کو آپ اس کے  دین سے  کیسے  دور کرتے  تھے ؟
  جواب  :اگر ہمارا ٹارگیٹ ایک دیندار شخص ہوتا تو ہم اس کی خواہشات کی طرف دیکھتے، مثلاً شہرت، تعلیمی منصب، صنف نازک وغیرہ تو ہم میں سے  کوئی ایک مبلغ اس سے  اچانک ملاقات کرتا ہے  اور دوران گفتگو اس کے  میلان کی طرف توجہ کرتا ہے، پھر اس کی حسب خواہش مطلوبہ اشیاء و افر مقدار میں فراہم کرتا ہے  بلکہ ہمارا مبلغ اس پر حاوی ہو جاتا ہے  اور وہ اس پر بھروسہ کرنے  لگتا ہے  پھر بتدریج اسے  عیسائیت کی طرف مائل کر لیتا ہے  یا اسلام سے  اسے  دور کر دیتا ہے۔
  سوال  :اگر آپ اپنے  مقاصد میں کامیاب نہیں ہوتے  تھے  تو پھر کیا کرتے  تھے  ؟
  جواب  :جب ہمیں کسی ملک میں اپنے  مقاصد کے  حصول میں ناکامی ہوتی ہے  تو ہم اپنے  طریقے  تبدیل کر لیتے  ہیں مثلاً ہم وہاں کی حکومتوں پر اپنی حکومتوں کے  ذریعہ دباؤڈلواتے  ہیں کیونکہ ممالک یورپ اور چرچ کی تعلیمات کو رواج نہ دیتے  تھے، یا ہم وہاں کی عوام کے  لئے  پیش کردہ خدمات سے  ہاتھ کھینچ لیتے، چونکہ بیشتر مسلمان حکمراں ہماری امداد اور خدمات کے  بغیر جینا محال سمجھتے  ہیں، اس لئے  یہ آخری طریقہ آزمایا جاتا ہے  کہ مذکورہ ممالک پر سیاسی واقتصادی پابندی عائد کرواتے  ہیں، اور وہاں داخلی طور پر فتنہ و فساد اور تخریبی کا روائیاں شروع کر دیتے  ہیں۔
  سوال  :کیا آپ چرچ کے  ذرائع آمدنی کے  متعلق کچھ تفاصیل نذرقارئین کریں گے ؟
  جواب  :یورپی ممالک میں ایک عام قانون ہے  کہ ہر ملازم کی تنخواہ سے  5%فیصد چرچ فنڈ کے  نام پر لازمی طور پر کاٹ لیا جائے  گا۔نیز اکثر اسلامی اور افریقی ممالک میں یورپی سرمایہ کاری در اصل چرچ کی طرف سے  ہوتی ہے  اور ان سب کا منافع چرچ کے  مقاصد پر ہی خرچ ہوتا ہے۔اسی کے  بل بوتے  پر چرچ عیسائیت کی تبلیغ سرانجام دیتا ہے، مثلاً مصری چرچ دس ہزار سے  زائد جنوبی سوڈانی طلبہ کو اسکا لرشپ دیتا ہے  اور ان کی تعلیم و تربیت کی بھر پور نگہداشت کی جاتی ہے  تا کہ وہ تعلیم سے  فارغ ہو کر عیسائیت کے  مبلغ اور بائبل کے  علماء و فقہاء بن سکیں۔
  سوال  :آپ چرچ کی طرف سے  متعدد اہم عہدوں پر فائز رہے  تو آپ ان عہدوں کے  ساتھ کیا سلوک کرتے  تھے ؟
  جواب  :یورپی چرچ کی تنظیمیں ان پر اموال کی بارش کرتیں اور بے  حد و حساب اموال مہیا کرتیں بلکہ ہمارے  عیش و آرام کا یہاں تک خیال رکھا جاتا کہ قیمتی گاڑیاں، خوبصورت عورتیں اور شراب وغیرہ بھی فراہم کی جاتی تا کہ ہم خود بھی مستفید ہوں اور ان لوگوں کو ان کے  ذریعہ ان کے  دین سے  برگشتہ بھی کریں ہمیں عمدہ اور مہنگی رہائشیں ملتیں اور تمام ممالک میں سفر کی سہولت مہیا کی جاتی تا ہم ان سب اشیاء نے  مجھے  کبھی بھی ذہنی سکون نہ پہونچایا، میں محسوس کرتا کہ ہمارے  کرتوت، میری فطرت اور مزاج کے  بالکل خلاف ہیں جس کے  نتیجہ میں میں نہایت رنج والم محسوس کرتا۔
  سوال  :آپ نے  عیش و عشرت کے  سائبان کیسے  ترک کرنا گوارا کئے  اور اسلام کیوں کر قبول کیا اور کیا آپ اس سے  مطمئن ہیں ؟
  جواب  :الحمد للہ میں چرچ سے  ملنے  والی تمام مراعات چھوڑ چکا ہوں، میں ایسا محسوس کرتا ہوں گویا میں نئے  سرے  سے  پیدا ہوا ہوں نفسیاتی طور پر میں نہایت پر سکون ہوں  ۲۰۰۲ء میں میں نے  اسلام قبول کیا، اگر چہ میں اب تنگ دستی کا شکار ہوں، میں نے  ایم اے  کے  مرحلہ تعلیم میں تقابل ادیان کی تحقیق کر کے  اسلام قبول کیا اور درج ذیل نتائج حاصل کئے :
۱)قرآن کے  شروع میں مولف کا نام نہیں ہے، جیسا کہ انا جیل اربعہ کا حال ہے  دلیل یہ ہے  کہ قرآن انسانی کا وش نہیں بلکہ الہامی کتاب ہے۔
۲) قرآن اللہ کا کلام اس لئے  بھی ہے  کہ آدم علیہ السلام سے  لے  کر محمد  ﷺ تک متعدد انبیائے  کرام کی سیرت و کر دار کو اس میں بیان کر دیا گیا ہے۔
۳)سیرت محمد ﷺ سے  تاکید اً یہ ثابت ہوتا ہے  اسلام ہی دین واحد اور عند اللہ مقبول ہے۔
۴)اسلامی تعلیمات کے  عین مطابق تمام انبیاء کرام کی دعوت فقط اسلام تھی، ہر نبی اور رسول کی نبوت و رسالت محدود مدت اور محدود اقوام کے  لئے  ہوتی تھی جب کہ محمد ﷺ کی دعوت و رسالت قیامت تک آنے  والے  سب انسانوں اور جنوں کے  لئے  ہے۔
۵)سابقہ الہامی کتب میں کلام اللہ اور کلام الناس کے  درمیان کوئی حد فاصل نہیں، مثلاً اناجیل میں ہم سب یہی پڑھ سکتے  ہیں کہ یوحنانے  یوں کہا اور بترس نے  یوں کہا، یا فلاں نے  یوں کہا وغیرہ وغیرہ۔
۶)اسلام میں کلام اللہ نہایت واضح ہے  اور رسول اللہ ﷺ کے  اقوال و افعال سنن بھی واضح ہیں، بلکہ (قرآن میں )سیرت محمد  ﷺ محدود مقدار میں ہے  یہ اس بات کی دلیل ہے  کہ اللہ نے  اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔
۷) اسلام عدل و انصاف اور سب لوگوں کے  لئے  مساوات کا دین ہے  اور اس میں اپنے  پیرو کا روں کے  لئے  تمام عقائد و نظریات نہایت واضح طور پر پیش کئے  گئے  ہیں۔
۸)اسلام کے  بر عکس عیسائیت میں ایسی متعدد اشیاء ہیں میں جن کی وجہ سے  وقتاً فو قتاً خجالت محسوس کرتا تھا کیوں کہ ان میں تعصب اور نسل پرستی نمایاں ہے  چوں کہ میں سیاہ فام ہوں اس لئے  مجھے  اکثر شرمندہ ہونا پڑتا تھا، کالے  عیسائیوں کی علیحدہ عبادت ہوتی ہے  اور گورے  عیسائی الگ عبادت کرتے  ہیں، امریکی چر چوں میں کسی کا لے  عیسائی کو جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ گوروں کے  چرچ میں پاؤں بھی دھر سکے  مثلاً امریکی وزیر خارجہ کولن پاول بھی ہر گز ہرگز یہ جرات نہیں کر سکتا کہ وہ گوروں کے  چرچ میں داخل ہو اور ان سے  ہم کلام ہو۔
لیکن اسلام میں اس طرح کا کوئی امتیاز نہیں جب کوئی بھی مسلمان نماز کے  لئے  پہلی صف میں پہونچ جائے  وہ وہیں نماز پڑھ سکتا ہے  اور شاہ وگدا سب کے  سب اللہ کے  روبرو ہوتے  ہیں اسلام میں یہ بھی عین ممکن ہے  کہ سیاہ فام امام ہو اور گورے  اس کے  مقتدی ہوں یا گورا امام ہو اور دیگر سب لوگ اس کے  مقتدی ہوں اس میں قطعا ًکوئی فرق نہیں۔
  سوال  :آپ کے  قبول اسلام کی خبر چرچ نے  کیسے  ہضم کی ؟
  جواب  :چرچ میں بھونچال آ گیا انہوں نے  مجھے  مرتد کرنے  کے  لئے  تمام ہتھکنڈے  استعمال کئے  میرے  پاس کئی قسم کے  وفود آئے  اور سوڈان کے  اندر اور باہر سے  کبار مسیحی پادری میرے  پاس آتے  رہے  اور ترغیب و تحریص سے  لے  کر مکمل بائیکاٹ کی دھمکیاں بھی مجھے  دی جاتی رہیں اور بیحد و حساب لالچ، مکر و فریب دے  کر آزمایا جاتا رہا، تا ہم اسلام کو میں نے  پوری تحقیق کے  بعد گلے  لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے  جس کے  لئے  میرا سینہ منور کیا تھا میں اس اسلام پر مزید طاقت ور اور مضبوط ہوتا گیا اور مسیحی زعماء کی کوشش مجھے  راہ حق سے  ہٹا نے  میں ناکام ہو گئی۔جب چرچ مجھ سے  بالکل مایوس ہو گیا تو مجھے  جسمانی طور پر نقصان پہونچا نے  سے  ڈرایا گیا اور اپنے  بعض ایجنٹوں کے  ذریعہ مجھے  اغواکے  بعد قتل کرنے  کی کوشش کی گئی اگر چہ وہ کامیاب نہیں ہوئی تاہم میں اپنے  ساتھیوں کے  بغیر یورپی ممالک کا سفر نہیں کرتا علاوہ ازیں میرا چوں کہ ایک مقام ہے  اس وجہ سے  بھی میرے  مخالفین اپنے  ناپاک ارادوں میں ناکام رہتے  ہیں ایک بار مجھ پر قاتلانہ حملہ ہو ا لیکن میں اللہ کے  فضل سے  محفوظ رہا تب بھی قبیلہ والوں نے  میرا دفاع کیا۔
جب سے  میں نے  اسلام قبول کیا میرا یقین ہے  کہ میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوں، نیز مجھے  اسلام لانے  کے  بعد یقین ہو گیا کہ موت عین حق ہے  لہٰذا اس سے  ڈرنے  کی قطعاً ضرورت نہیں، نیز مجھے  یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جو اسلام کا دفاع کرتے  ہوئے  مرجاتے  ہیں وہ شہید کہلاتے  ہیں اور اللہ کے  یہاں ان کے  لئے  اجر عظیم ہے، اس کے  برعکس یہودی اور عیسائی جینے  کے  شدید آرزومند ہیں۔
  سوال  :اسلام لانے  کے  بعد آپ نے  اپنے  مستقبل کے  بارے  میں کیا لائحہ عمل تیار کیا ہے  ؟
  جواب  :میں نے  کچھ کتابیں لکھی ہیں، مثلاً میں کیوں مسلمان ہوا؟(۲)اسلام کی وسعت (۳)موجودہ عیسائی خرافات، میں نے  اپنے  آپ کو غیر مسلموں تک اسلام کی دعوت پہونچانے  کے  لئے  وقف کر دیا اور سوڈان میں جس تنظیم کا سربراہ ہوں یعنی سوڈان کی تعمیر و ترقی کے  لئے  اسلامی سرمایہ کاری کی تنظیم، اس میں پوری تند ہی و فعال کا رکن کی حیثیت سے  مگن ہوں۔
  سوال  :آپ کی تصنیف ’میں کیوں مسلمان ہو ا ‘کا مرکزی تصور کیا ہے  ؟
  جواب  :میں نے  اس میں اسلام اور دیگر مذاہب کا موازنہ پیش کیا ہے  اور اسلام کے  علاوہ دیگر ادیان میں موجود نقائص و عیوب واضح کئے  ہیں اور اسلام کے  مضبوط ثبوت جمع کر دئیے  ہیں در حقیقت اسلام میں تقسیم میراث کے  سسٹم نے  مجھے  مبہوت کر دیا ہے  چونکہ یہودیت میں بھی میراث کا تذکرہ ہے  لیکن لوگ اس پر راضی نہیں کیونکہ یہ طریقہ عادلانہ نہیں بلکہ ظالمانہ ہے  جبکہ عیسائیت میں نظام میراث کا وجود سرے  سے  ہی نہیں۔
اسلام نے  نظام میراث کو باریک بینی اور عدالت پر مبنی بنایا ہے  جس کی کوئی پہلے  نظیر نہیں ملتی، حتی کہ میں نے  اپنے  قبیلہ ’’دنکا‘‘میں اسلام کا نظام میراث نافذ کیا تو بیشتر جھگڑے  خود بخود ختم ہو گئے، حالانکہ بنیادی طور پر یہ قبیلہ مسیحی ہے۔
نیز میں نے  اپنی اس کتاب میں زندگی کے  تمام پہلووں پر اسلام کی مکمل رہنمائی کو بھی شامل کیا ہے۔میں نے  یہ واضح کیا ہے  کہ جو شخص اسلام قبول کر لیتا ہے  اور قولاً و فعلاً وہ اسلام پر کاربند ہو جاتا ہے  تو اسلام اسے  کس قدر نفسیاتی اور روحانی بلندی عطا فرماتا ہے  وہ اپنے  اسلام پر فخر محسوس کرتا ہے۔لیکن دیگر ادیان کی تعلیمات رسوم و رواج میں تضادات بے  شمار ہیں، یہ ادیان اس شخص کی ثقافت کو تبدیل نہیں کرتے  جو انہیں قبول کر لیتا ہے  پھر وہ یہ ادیان قبول کر کے  بھی اپنی ہوس گیری کو اسی طرح پوراکرتا ہے۔جس طرح وہ چاہتا ہے  ان لو گوں کے  کسی شخص کے  کر دار میں ناموں کے  علاوہ ادیان کا کوئی کر دار نہیں۔
  سوال  :آپ کے  اسلام لانے  کے  بعد آپ کے  ہاتھ پر کتنے  لوگ مسلمان ہو چکے  ہیں ؟
  جواب  :اللہ کے  فضل سے  اب تک میرے  ہاتھ ڈیڑھ لاکھ افراد مسلمان ہو چکے  ہیں اور الحمد للہ جنوبی سوڈان کے  چرچوں کے  ڈھائی ہزار اہم عہدہ دار بھی نو مسلموں میں شامل ہیں یہ لوگ کو ہ نوبہ اور صوبہ انجمنا سے  تعلق رکھتے  ہیں۔
  سوال  :اتنی بڑی تعداد کو آ پ نے  اسلام کی طرف کیسے  مائل کیا ؟
 جواب  :کسی غیر مسلم کو اسلام کا قائل کرنا نہایت آسان ہے  کیونکہ یہ لوگ خالی الذہن ہوتے  ہیں اسی حقیقت کو سامنے  رکھ کر میں نے  سب کے  لئے  واضح کر دیا کہ اسلام ہی ایک ایسا دین ہے  جس میں کسی قسم کا کوئی شرک نہیں اور اللہ کا پسندیدہ دین یہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے  فرمایا:’’بیشک اللہ کے  یہاں دین صرف اسلام ہے ‘‘(سورہ  آل عمران :۱۹)
اسلام سب انسانیت سے  مخاطب ہوتا ہے  یہی ایک ایسا دین ہے  جو زندگی کے  تمام شعبہ جات کی ہر مشکل دور کرتا ہے  میں نے  ہر بڑے  نو مسلم مسیحی کی طرف خط بھی لکھا ہے  ا س میں خاص طور پر یہ واضح کیا ہے  کہ :  (۱)بے  شک اللہ تعالیٰ ایک ہے  اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تین کا ایک یا ایک میں تین نہیں۔  (۲) عیسیٰ ابن مریم دیگر انسانوں کی طرح انسان ہیں اور اللہ کے  رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے  ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا وہ نہ تو الہ ہیں اور نہ ہی اللہ کے  بیٹے  ہیں اور بے  شک عیسیٰ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے  اور آپ کی رسالت عام نہیں، اور عیسیٰ کو اللہ نے  لوگوں کے  کفارہ کے  لئے  نہیں بھیجا اور پھر عیسیٰ کو اس لئے  اللہ نے  نہیں بلایا کہ وہ اپنے  باپ کے  دائیں طرف بٹھائے۔
  سوال  :کیا آپ کو مسلمانوں کی موجودہ حالت زار نے  اسلام لانے  سے  روکا نہیں ؟  
  جواب  :جب میں نے  اسلام قبول کر لیا تو مسلمانوں کی حالتِ زار دیکھ کر انتہائی رنج و الم میں مبتلا ہو گیا کہ مسلمانوں کے  قبول و فعل میں تضاد ہے  اور مسلمان اسلام کو اپنے  اوپر لاگو نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ نے  قرآن مجید میں ذاتی و اجتماعی زندگی کے  لئے  دو رہنما اصول قرآن کریم اور حدیث نبوی مقرر کر دئے  ہیں لیکن کتنے  افسوس کی بات ہے  کہ مسلمان عملی طور پر دونوں رہنما ذرائع سے  فیصلے  نہیں کرپاتے  جب کہ اسلامی ممالک کے  حکمراں اسلامی نہج کو اہمیت نہیں دیتے، گویا مسلمانوں کی کمزوری کے  دو بنیادی سبب ہیں، ذاتی طور پر اپنے  دین سے  دوری اور حکومتی سطح پر دین کے  ساتھ بے  رغبتی۔اگر اسلامی ممالک کے  عوام اپنے  دین کی تعلیمات پر عمل کریں اور عملی طور پر اسے  اہمیت دیں اور حکمراں اپنی سیاست اور تمام شعبوں میں اسلام کو رہنمابنا لیں تو مسلمانوں کو ماضی کی کھو ئی عظمت اور شان و شوکت واپس مل سکتی ہے۔
٭٭٭


     

اتوار، 17 مارچ، 2019

مثبت تنقید اور امام ابو حنیفہؒ - شیخ سید احمد رضا بجنوری



صحت مند مباحثوں کی بجائے دشنام طرازیوں اور ذاتی الزام تراشیوں کو علمی کارنامہ سمجھنے والوں کے لیے سر بکف کا نیا سلسلہ۔ امید ہے اس سے نتیجہ بخش مناظروں کو فروغ ملے گا۔ (مدیر)

تنقید کے متعلق اسلاف کا رویہ

یہاں خاص طور سے یہ بات نوٹ کر کے آگے بڑھیے کہ حافظ ابن البر ، امت کے چند گنے چنے نہایت اونچے درجہ کے محققین میں سے ہیں اور ان کے قول کو اکثر حرفِ آخر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے مگر جب ایک بات کا خالص تحقیقی زاویۂ نگاہ سے بے لاگ فیصلہ کرنا ہوا تو اتنی عظیم القدر شخصیت بھی اس سے مانع نہیں ہو سکی ۔ حافظ نے جانب مخالف کو قوی کہا تو حا فظ عینی نے اور بھی تر یاد و صراحت کے ساتھ ان کے قول کو مخدوش ہی فرما دیا۔ یہ تھا قد یم اور صحیح  طرزِ تحقیق۔ 
 اور آج اگر کسی بڑے شخص کی کسی تحقیق کے بارے میں کوئی خامی بتلا دی جائے تو کہہ دیا جائے گا  کہہ یہ ان کی عظمت کا قائل نہیں۔  حالانکہ انبیاء علیہ السلام کے سوا کسی کے لیے عصمت نہیں اور سب سے غلطی ہوتی ہے بڑے بڑوں سے ہوئی ہے۔ ان کے دنیوی فضائل اور اخروی مراتب عالیہ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر ان کی تحقیق کوقرآن و سنت کی کسوٹی پر ضرور کسا جائے گا۔ اور اپنا ہو یا کسی لحاظ سے غیر، اس کی رائے کو تنقید سے بالاتر نہیں کہا جائے گا ۔ 
حضرت امام ابو حنیفہ کو خادمان علوم نبوت وقوانین شریعت میں سب سے اول،  اعلی اور اعظم مرتبہ مقام حاصل ہے۔ موجودہ حدیثی ذخیروں میں سب سے پہلا مدون مرتب احادیث احکام کا ذخیره ان ہی کی ذات اقدس سے منسوب ”مسانید الامامؒ“ کی صورت میں ہے جن کی اسانید تمام موجودہ کتب حد یث  کی اسانید سے زیاده عالی مرتبت ہیں اور ان کی مجلس تدوین فقہ کی بارہ لاکھ سے زیاد و مسائل اسی وقت سے اب تک (کہ بار وسوسال زیادہ گذر چکے ہیں) دائروسائر ہیں۔ بعد کے بڑےبڑے محدثین وفقہاء نے ان پر دل کھول کر تنقید یں بھی کیں اور اس سلسلہ میں جتنا کام حق و انصاف ، تحقیق واعتدال سے ہوا اس سے امت کو بڑے فوائد حاصل ہوئے۔  محققین علما ء حنفیہ نے ہمیشہ  تنقید پرٹھنڈے دل سے غور وفکر کیا اور آج بھی اسی فکر و ذہن سے سوچتےہیں۔

اکابر دیوبند اور حضرت انور شاہ کشمیریؒ

 قریبی دور میں ہمارے اکابر دیوبند کا بھی یہی طریق رہا ہے اور خصوصیت سے ہمارے حضرت شاہ صاحب نے پورے تیسسال تک تمام فقہی و کلامی  ذخیروں پر گہری نظر فرما کر ہی معلوم کرنے کی سعی فرمائی کہ حنفی مسلک میں واقعی خامیاں اور کمزوریاں کیا کیا ہیں؟ اور آخر میں یہ فیصلہ علی وجہ  بصیرت فرما گئے کہ قرآن و حدیث اور آثارِ صحابہؓ و تابعینؒ  کی روشنی میں بجز ایک دو مسائل کے فقہِ حنفی کے تمام مسائل نہایت مضبوط و عام ہیں اور آپ کا یہ قطعی فیصلہ تھا کہ استنباطِ مسائل کے وقت حدیث سے فقہ کی جانب آنا چاہیے، فقہ سے حدیث کی طرف نہیں۔ یعنی  سب سے خالی الذہن ہوکر شارع علیہ السلام کی مراد تعین کی جائے اور اس کی رو سے فقہی احکام کی تشخیص عمل میں آ جائے ۔ یہ نہیں کہ پہلے اپنی فکر و ذہن کی قالب میں مسائل ڈھال کر ان ہی کو حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش ہو، اسی زریں اصول کے تحت آپ تمام اجتهادی مسائل کا جائزہ لیتے تھے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔

ماخوذ از: انوار الباری، شیخ سید احمد رضا بجنوری، مجموعۂ افادات:انور شاہ کشمیریؒ۔ جلد ۵، ص ۲۶۳۔ تاریخ اشاعت ربیع الثانی ۱۴۲۵ھ

     

الاحادیث المنتخبہ - 10


'سربکف' کے پہلے شمارے سے اس سلسلے کے تحت وہ احادیث لائی جارہی ہیں جو عموماً قارئین کو یاد ہوتی ہیں، نیز  وہ احادیث  بھی جو تبلیغی جماعت والے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے احادیث کی ترویج    درست طریقے پر ہو گی، اور من گھڑت قصے کہانیوں کو بطور حدیث پیش کرنے کی فاش غلطی کا سدباب ہوگا انشاءاللہ۔ احادیث بمع حوالہ درج  کی جاتی ہیں،تاکہ بوقتِ ضرورت کام آسکیں۔(مدیر)


فعلیکم بسنتی -  فتنوں کے دور میں سنت رسول ﷺ سے چمٹے رہنے ہی میں سلامتی ہے 


فقال العرباض " صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم ثم اقبل علينا فوعظنا موعظة بليغة ذرفت منها العيون ووجلت منها القلوب فقال قائل:‏‏‏‏ يا رسول الله كان هذه موعظة مودع فماذا تعهد إلينا؟ فقال:‏‏‏‏اوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن عبدا حبشيا فإنه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثات الامور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة ".
(سنن ابی داود ،حدیث نمبر: ۴۶۰۷ )

جناب عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“

تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/العلم ۱۶ (۲۶۷۶)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ۶ (۴۳، ۴۴)، (تحفة الأشراف: ۹۸۹۰)

تشبہ بالکفار

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.

 ”جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔“

 (سنن ابو داوٴد، کتاب اللباس، رقم الحدیث: ۴۰۳۱)
     

جمعہ، 15 مارچ، 2019

اعجازِ قرآن - مفتی شفیع عثمانیؒ

Inimitability of the Qur'an

وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ وَادۡعُوۡا شُهَدَآءَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏  ﴿2:23﴾
فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَلَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوۡا النَّارَ الَّتِىۡ وَقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ  ۖۚ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿2:24﴾

اور اگر تم شک میں ہو اس کلام سے جو اتارا ہم نے اپنے بندے پر تو لے آؤ ایک سورت اس جیسی اور بلاؤ ان کو جو تمہارا مددگار ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔ اگر تم اس کی مثال نہ لاسکے اور ہرگز نہ لاسکو گے تو پھر اس جہنم کی آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو منکروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

وجوہ اعجاز قرآنی :

پہلی بات کہ قرآن کو معجزہ کیوں کہا گیا ؟ اور وہ کیا وجوہ ہیں جن کے سبب ساری دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے اس پر قدیم وجدید علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں اور ہر مفسر نے اپنے اپنے طرز میں اس مضمون کو بیان کیا ہے میں اختصار کے ساتھ چند ضروری چیزیں عرض کرتا ہوں۔

پہلی وجہ:

اس جگہ سب سے پہلے غور کرنے کی چیز یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب کل علوم کی جامع کتاب، کس جگہ، کس ماحول میں، اور کس پر نازل ہوئی اور کیا وہاں کچھ ایسے علمی سامان موجود تھے جن کے ذریعہ دائرہ اسباب میں ایسی جامع بےنظیر کتاب تیار ہوسکے، جو علوم اوّلین و آخرین کی جامع اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کے متعلق بہترین ہدایت پیش کرسکے جس میں انسان کی جسمانی اور روحانی تربیت کا مکمل نظام ہو اور تدبیر منزل سے لے کر سیاست ممالک تک ہر نظام کے بہترین اصول ہوں۔
جس سرزمین اور جس ذات پر یہ کتاب مقدس نازل ہوئی اس کی جغرافیائی کیفیت اور تاریخی حالت معلوم کرنے کے لئے آپ کو ایک ریگستانی خشک اور گرم علاقہ سے سابقہ پڑے گا جس کو بطحاء مکہ کہتے ہیں اور جو نہ زرعی ملک ہے نہ صنعتی نہ اس ملک کی آب وہوا ہی کچھ خوشگوار ہے جس کے لئے باہر کے آدمی وہاں پہنچنے کی رغبت کریں نہ راستے ہی کچھ ہموار ہیں جن سے وہاں تک پہنچنا آسان ہو اکثر دنیا سے کٹا ہوا ایک جزیرہ نما ہے جہاں خشک پہاڑوں اور گرم ریگ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور دور تک نہ کہیں بستی نظر آتی ہے نہ کوئی کھیت نہ درخت، اس پورے خطہ ملک میں کچھ بڑے شہر بھی نہیں چھوٹے چھوٹے گاؤں اور ان میں اونٹ بکریاں پال کر اپنی زندگی گذارنے والے انسان بستے ہیں اس کے چھوٹے دیہات کا تو دیکھنا کیا جو برائے نام چند شہر کہلاتے ہیں ان میں بھی کسی قسم کے علم وتعلیم کا کوئی چرچا نہیں نہ وہاں کوئی اسکول اور کالج ہے نہ کوئی بڑی یونیورسٹی یا دارالعلوم، وہاں کے باشندوں کو اللہ تعالیٰ نے محض قدرتی اور پیدائشی طور پر فصاحت و بلاغت کا ایک فن ضرور دے دیا ہے جس میں وہ ساری دنیا سے فائق اور ممتاز ہیں وہ نثر اور نظم میں ایسے قادر الکلام ہیں کہ جب بولتے ہیں تو رعد کی طرح کڑکتے اور بادل کی طرح برستے ہیں ان کی ادنٰی ادنٰی چھوکریاں ایسے فصیح وبلیغ شعر کہتی ہیں کہ دنیا کے ادیب حیران رہ جائیں۔
لیکن یہ سب کچھ ان کا فطری فن ہے جو کسی مکتب یا مدرسہ میں حاصل نہیں کیا جاتا، غرض نہ وہاں تعلیم و تعلم کا کوئی سامان ہے نہ وہاں کے رہنے والوں کو ان چیزوں سے کوئی لگاؤ یا دل بستگی ہے ان میں کچھ لوگ شہری زندگی بسر کرنے والے ہیں تو وہ تجارت پیشہ ہیں مختلف اجناس مال کی درآمد برآمد ان کا مشغلہ ہے۔
اس ملک کے قدیم شہر مکہ کے ایک شریف گھرانہ میں وہ ذات مقدّس پیدا ہوتی ہے جو مہبط وحی ہے جس پر قرآن اترا ہے اب اس ذات مقدّس کا حال سنئے :
ولادت سے پہلے ہی والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا پیدا ہونے سے پہلے یتیم ہوگئے ابھی سات سال کی عمر بھی نہ تھی کہ والدہ کی بھی وفات ہوگئی آغوش مادر کا گہوارہ بھی نصیب نہ رہا شریف آباء و اجداد کی فیاضی اور بےمثل سخاوت نے اپنے گھر میں کوئی اندوختہ نہ چھوڑا تھا جس سے یتیم کی پرورش اور آئندہ زندگی کا سامان ہوسکے نہایت عسرت کی زندگی پھر ماں باپ کا سایہ سر پر نہیں، ان حالات میں آپ نے پرورش پائی اور عمر کا ابتدائی حصہ گذارا جو تعلیم و تعلم کا اصلی وقت ہے، اس وقت اگر مکہ میں کوئی دارالعلوم یا اسکول وکالج بھی ہوتا تو بھی آپ کے لئے اس سے استفادہ مشکل تھا مگر معلوم ہوچکا کہ وہاں سرے سے یہ علمی مشغلہ اور اس سے دلچسپی ہی کسی کو نہ تھی اسی لئے یہ پوری قوم عرب امیین کہلاتے تھے قرآن کریم نے بھی ان کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا تھا کہ آپ ہر قسم کی تعلیم و تعلم سے بیخبر رہے وہاں کوئی بڑا عالم بھی ایسا نہ تھا جس کی صحبت میں رہ کر یہ علوم حاصل کئے جاسکیں جن کا قرآن حامل ہے پھر قدرت کو تو ایک فوق العادۃ معجزہ دکھلانا تھا، آپ کے لئے خصوصی طور پر ایسے سامان ہوئے معمولی نوشت وخواند جو ہر جگہ کے لوگ کسی نہ کسی طرح سیکھ ہی لیتے ہیں آپ نے وہ بھی نہ سیکھی بالکل امی محض رہے کہ اپنا نام تک بھی نہ لکھ سکتے تھے عرب کا مخصوص فن شعر و سخن تھا جس کے لئے خاص خاص اجتماعات کئے جاتے اور مشاعرے منعقد ہوتے اور اس میں ہر شخص مسابقت کی کوشش کرتا تھا آپ کو حق تعالیٰ نے ایسی فطرت عطا فرمائی تھی کہ ان چیزوں سے بھی دلچسپی نہ لی نہ کبھی کوئی شعر یا قصیدہ لکھا نہ کسی ایسی مجلس میں شریک ہوئے۔
ہاں امی محض ہونے کہ ساتھ بچپن سے ہی آپ کی شرافت نفس، اخلاق فاضلہ، فہم، و فراست کے غیر معمولی آثار، دیانت و امانت کے اعلیٰ ترین شاہکار آپ کی ذات مقدس میں ہر وقت مشاہدہ کئے جاتے تھے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ عرب کے بڑے بڑے مغرور ومتکبّر سردار آپ کی تعظیم کرتے تھے اور سارے مکہ میں آپ کو امین کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
یہ امی محض چالیس سال تک مکہ میں اپنی برادری کے سامنے رہتے ہیں کسی دوسرے ملک کا سفر بھی نہیں کرتے جس سے یہ خیال پیدا ہوسکے کہ وہاں جاکر علوم حاصل کئے ہوں گے صرف ملک شام کے دو تجارتی سفر ہوئے وہ بھی گنے چنے چند کے لئے جس میں اس کا امکان نہیں۔ 
اس امی محض ذات مقدس کی زندگی کے چالیس سال مکہ میں اپنی برادری میں اس طرح گذرے کہ نہ کبھی کسی کتاب یا قلم کو ہاتھ لگایا نہ کسی مکتب میں گئے نہ کسی مجلس میں کوئی نظم وقصیدہ ہی پڑھا ٹھیک چالیس سال کے بعد ان کی زبان مبارک پر وہ کلام آنے لگا جس کا نام قرآن ہے جو اپنی لفظی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اور معنوی علوم وفنون کے لحاظ سے محیّر العقول کلام ہے اگر صرف اتنا ہی ہوتا تو بھی اس کے معجزہ ہونے میں کسی انصاف پسند کو کیا شبہ رہ سکتا ہے مگر یہاں یہی نہیں بلکہ اس نے ساری دنیا کو تحدد کی (چیلنج) دیا کہ کسی کو اس کے کلام الہی ہونے میں شبہ ہو تو اس کا مثل بنا لائے۔
اب ایک طرف قرآن کی یہ تحدی اور چیلنج اور دوسری طرف ساری دنیا کی مخالف طاقتیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کو شکست دینے کے لئے اپنی مال، جان، اولاد، آبرو، سب گنوانے کو تیار ہیں مگر اتنا کام کرنے کے لئے کوئی جرأت نہیں کرتا کہ قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت کی مثال بنا لائے فرض کرلیجئے کہ یہ کتاب بےمثال و بےنظیر بھی نہ ہوتی جب بھی ایک امیّ محض کی زبان سے اس کا ظہور اعجاز قرآن اور وجوہ اعجاز کی تفصیل میں جائے بغیر بھی قرآن کریم کے معجزہ ہونے کے لئے کم نہیں جس کو ہر عالم و جاہل سمجھ سکتا ہے۔

اعجاز قرآن کی دوسری وجہ :

اب اعجاز قرآن کی دوسری وجہ دیکھئے یہ آپ کو معلوم ہے کہ قرآن اور اس کے احکام دنیا کے لئے آئے لیکن اس کے بلا واسطہ اور پہلے مخاطب عرب تھے جن کو اور کوئی علم وفن آتا تھا یا نہیں مگر فصاحت و بلاغت ان کا فطری ہنر اور پیدائشی وصف تھا جس میں وہ اقوام دنیا سے ممتاز سمجھے جاتے تھے قرآن ان کو مخاطب کرکے چیلنج کرتا ہے کہ اگر تمہیں میرے کلام الہی ہونے میں کوئی شبہ ہے تو میرے ایک سورت کی مثال بنا کر دکھلا دو اگر قرآن کی یہ تحدی (چیلنج) صرف اپنے حسن معنوی یعنی حکیمانہ اصول اور علمی معارف و اسرار ہی کی حد تک ہوتی جو قوم امیین کے لئے اس کی نظیر پیش کرنے سے عذر معقول ہوتا لیکن قرآن نے صرف حسن معنوی ہی کے متعلق تحدی نہیں کی بلکہ لفظی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی پوری دنیا کو چیلنج دیا ہے اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے اقوام عالم میں سب سے زیادہ مستحق عرب ہی تھے اگر فی الواقع یہ کلام قدرت بشر سے باہر کسی مافوق قدرت کا کلام نہیں تھا تو بلغاء عرب کے لئے کیا مشکل تھا کہ ایک امی شخص کے کلام کی مثال بلکہ اس سے بہتر کلام فوراً پیش کردیتے اور ایک دو آدمی یہ کام نہ کرسکتے تو قرآن نے ان کو یہ سہولت بھی دی تھی کہ ساری قوم مل کر بنا لائے مگر قرآن کے اس بلند بانگ دعوے اور پھر طرح طرح سے غیرت دلانے پر بھی عرب کی غیّورقوم پوری کی پوری خاموش ہے چند سطریں بھی مقابلہ پر نہیں پیش کرتی۔
عرب کے سرداروں نے قرآن اور اسلام کے مٹانے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغلوب کرنے میں جس طرح اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا وہ کسی لکھے پڑھے آدمی سے مخفی نہیں شروع میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے گنے چنے رفقاء کو طرح طرح کی ایذائیں دے کر چاہا کہ وہ کلمہ اسلام کو چھوڑ دیں مگر جب دیکھا کہ یہاں وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے تو خوشامد کا پہلو اختیار کیا عرب کا سردار عتبہ ابن ربیعہ قوم کا نمائندہ بن کر آپ کے پاس حاضر ہوا اور عرب کی پوری دولت و حکومت اور بہت حسن و جمال کی لڑکیوں کی پیشکش اس کام کے لئے کی کہ آپ اسلام کی تبلیغ چھوڑ دیں آپ نے اس کے جواب میں قرآن کی چند آیتیں سنا دینے پر اکتفا فرمایا جب یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہوئی تو جنگ و مقابلہ کے لئے تیار ہو کر قبل از ہجرت اور بعد از ہجرت جو قریش عرب نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے مقابلہ میں سر دھڑ کی بازی لگائی جان مال اولاد سب کچھ اس مقابلہ میں خرچ کرنے کے لئے تیار ہوئے یہ سب کچھ کیا مگر یہ کسی سے نہ ہوسکا کہ قرآن کے چیلنج کو قبول کرتا اور چند سطریں مقابلہ پر پیش کردیتا کیا ان حالات میں سارے عرب کے مقابلہ سے سکوت اور عجز اس کی کھلی ہوئی شہادت نہیں کہ یہ انسان کا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کے کام یا کلام کی نظیر انسان کیا ساری مخلوق کی قدرت سے باہر ہے۔
پھر صرف اتنا ہی نہیں کہ عرب نے اس کے مقابلہ سے سکوت کیا بلکہ اپنی خاص مجلسوں میں سب نے اس کے بےمثال ہونے کا اعتراف کیا اور جو ان میں سے منصف مزاج تھے انہوں نے اس بنی عبد مناف کی ضد کی وجہ سے اسلام قبول کرنے سے باوجود اعتراف کے محروم رہے قریش عرب کی تاریخ ان واقعات پر شاہد ہے میں اس میں سے چند واقعات اس جگہ بیان کرتا ہوں جس سے اندازہ ہوسکے کہ پورے عرب نے اس کلام کے بےمثل، بےنظیر ہونے کو تسلیم کیا اور اس کی مثال پیش کرنے کو اپنی رسوائی کے خیال سے چھوڑ دیا جس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کا چرچا مکہ سے باہر حجاز کے دوسرے مقامات میں ہونے لگا اور حج کا موسم آیا تو قریش مکہ کو اس کی فکر ہوئی کہ اب اطراف عرب سے حجاج آئیں گے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ کلام سنیں گے تو فریفتہ ہوجائیں گے اور غالب خیال یہ ہے کہ مسلمان ہوجائیں گے اس کے انسداد کی تدبیر سوچنے کے لئے قریش نے ایک اجلاس منعقد کیا اس اجلاس میں عرب کے بڑے بڑے سردار موجود تھے ان میں ولید بن مغیرہ عمر میں سب سے بڑے اور عقل میں ممتاز سمجھے جاتے تھے سب نے ولید بن مغیرہ کو یہ مشکل پیش کی کہ اب اطراف ملک سے لوگ آئیں گے اور ہم سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق پوچھیں گے تو ہم کیا کہیں ؟ ہمیں آپ کوئی ایسی بات بتلائیے کہ ہم سب وہ بات کہہ دیں ایسا نہ ہو کہ خود ہمارے بیانات میں اختلاف ہوجائے ولید بن مغیرہ نے کہا کہ تم ہی کہو کیا کہنا چاہئے؟
لوگوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں ہم سب یہ کہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاذ اللہ مجنون ہیں، ان کا کلام مجونانہ بڑ ہے، ولید بن مغیرہ نے کہا کہ تم ایسا ہرگز نہ کہنا کیونکہ یہ لوگ جب ان کے پاس جائیں گے اور ان سے ملاقات و گفتگو کریں گے، اور ان کو فصیح وبلیغ عاقل انسان پائیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ اچھا ہم ان کو یہ کہیں کہ وہ شاعر ہیں ولید نے اس سے بھی منع کیا اور کہا کہ جب لوگ ان کا کلام سنیں گے وہ تو شعر و شاعری کے ماہر ہیں انھیں پتا چل جائے گا کہ یہ شعر نہیں اور نہ آپ شاعر ہیں نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ سب لوگ تمہیں جھوٹا سمجھیں گے پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ تو پھر ہم ان کو کاہن قرار دیں، جو شیاطین وجنات سے سن کر غیب کی خبریں دیا کرتے ہیں ولید نے کہا یہ بھی غلط ہے کیونکہ جب لوگ ان کا کلام سنیں گے تو پتہ چل جائے گا کہ یہ کلام کسی کاہن کا نہیں ہے وہ پھر بھی تمہیں جھوٹا سمجھیں گے اس کے بعد قرآن کے بارے میں جو ولید بن مغیرہ کا اثرات تھے ان کو ان الفاظ میں بیان کیا:
خدا کی قسم ! تم میں کوئی آدمی شعر و شاعری اور اشعار عرب سے میرے برابر واقف نہیں، خدا کی قسم ! اس کلام میں خاص حلاوت ہے، اور ایک خاص رونق ہے جو میں نے کسی شاعر یا فصیح وبلیغ کے کلام میں نہیں پاتا۔
پھر ان کی قوم نے دریافت کیا کہ آپ ہی بتلائیے پھر ہم کیا کریں ؟ اور ان کے بارے میں لوگوں سے کیا کہیں ؟ ولید نے کہا میں غور کرنے کے بعد کچھ جواب دوں گا پھر بہت سوچنے کے بعد کہا کہ اگر کچھ کہنا ہی ہے تو تم ان کو ساحر کہو کہ اپنے جادو سے باپ بیٹے اور میاں بیوی میں تفرقہ ڈال دیتے ہیں۔
قوم اس پر مطمئن اور متفق ہوگئی اور سب سے یہی کہنا شروع کیا مگر خدا کا چراغ کہیں پھونکوں سے بجُھنے والا تھا ؟ اطراف عرب کے لوگ آئے قرآن سنا اور بہت سے مسلمان ہوگئے اور اطراف عرب میں اسلام پھیل گیا، (خصائص کبٰری)
اسی طرح ایک قرشی سردار نضر بن حارث نے ایک مرتبہ اپنی قوم کو خطاب کرکے کہا:
اے قوم قریش، آج تم ایک مصیبت میں گرفتار ہو کہ اس سے پہلے کبھی ایسی مصیبت سے سابقہ نہیں پڑا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری قوم کے ایک نوجوان تھے اور تم سب ان کے عادات و اخلاق کے گرویدہ اور اپنی قوم میں ان کو سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ امانت دار جانتے اور کہتے تھے اب جب کہ ان کے سر میں سفید بال آنے لگے اور انہوں نے ایک بےمثال کلام اللہ کی طرف سے پیش کیا تو تم ان کو جادوگر کہنے لگے خدا کی قسم وہ جادوگر نہیں ہم نے جادوگروں کو دیکھا اور برتا ہے ان کے کلام سنے ہیں اور طریقوں کو سمجھا ہے وہ بالکل اس سے مختلف ہیں۔
اور کبھی تم ان کو کاہن کہنے لگے، خدا کی قسم ! وہ کاہن بھی نہیں ہم نے بہت سے کاہنوں کو دیکھا اور ان کے کلام سنے ہیں ان کو ان کے کلام سے کوئی مناسبت نہیں۔
اور کبھی تم ان کو شاعر کہنے لگے خدا کی قسم ! وہ شاعر بھی نہیں ہم نے خود شعر شاعری کے تمام فنون کو سیکھا سمجھا ہے اور بڑے بڑے شعراء کے کلام ہمیں یاد ہیں ان کے کلام سے اس کو کوئی مناسبت نہیں پھر کبھی تم ان کو مجنون بتاتے ہو خدا کی قسم ! وہ مجنون بھی نہیں، ہم نے بہت سے مجنونوں کو دیکھا بھالا ان کی بکواس سنی ہے ان کے مختلف اور مختلط کلام سنے ہیں یہاں یہ کچھ نہیں اے میری قوم تم انصاف کے ساتھ ان کے معاملہ میں غور کرو یہ سرسری ٹلا دینے کی چیز نہیں۔ (خصائص کبرٰی ص ١١٤: ج ١)
حضرت ابوذر صحابی فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کا رسول ہے، میں نے پوچھا کہ وہاں کے لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ؟ بھائی نے کہا کہ کوئی ان کو شاعر کہتا ہے کوئی کاہن بتلاتا ہے کوئی جادوگر کہتا ہے، میرا بھائی انیس خود بڑا شاعر اور کہانت وغیرہ سے واقف آدمی تھا اس نے مجھ سے کہا کہ جہاں تک میں نے غور کیا لوگوں کی یہ سب باتیں غلط ہیں ان کا کلام نہ شعر ہے نہ کہانت ہے نہ مجنونانہ کلمات ہیں بلکہ مجھے وہ کلام صادق نظر آتا ہے۔
ابوذر فرماتے ہیں کہ بھائی سے یہ کلمات سن کر میں نے مکہ کا سفر کیا اور مسجد حرام میں آکر پڑگیا تیس روز میں نے اس طرح گذارے کہ سوائے زمزم کے پانی کے میرے پیٹ میں کچھ نہیں گیا اس تمام عرصہ میں نہ مجھے بھوک کی تکلیف معلوم ہوئی نہ کوئی ضعف محسوس کیا۔ (خصائص کبرٰی ص ١١٦: ج ١)
واپس گئے تو لوگوں سے کہا کہ میں نے روم اور فارس کے فصحاء وبلغاء کے کلام بہت سنے ہیں، اور کاہنوں کے کلمات اور حمیر کے مقالات بہت سنے ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کی مثال میں نے آج تک نہیں سنی تم سب میری بات مانو۔ اور آپ کا اتباع کرو، چناچہ فتح مکہ کے سال میں ان کی پوری قوم کے تقریباً ایک ہزار آدمی مکہ پہنچ کر مسلمان ہوگئے۔ (خصائص کبرٰی ص ١١٦: ج ١)
اسلام اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے دشمن ابوجہل اور اخنس بن شریق وغیرہ بھی لوگوں سے چھپ کر قرآن سنا کرتے اور اس کے عجیب و غریب بےمثل وبے نظیر اثرات سے متاثر ہوتے تھے مگر جب قوم کے کچھ لوگوں نے ان کو کہا کہ جب تم اس کلام کو ایسا بےنظیر پاتے ہو تو اس کو قبول کیوں نہیں کرتے ؟ تو ابوجہل کا جواب یہ تھا کہ تمہیں معلوم ہے کہ بنی عبد مناف میں اور ہمارے قبیلہ میں ہمیشہ سے رقابت اور معاصرانہ مقابہ چلتا رہتا ہے وہ جس کام میں آگے بڑہنا چاہتے ہیں ہم بھی اس کا جواب دیتے ہیں اب جبکہ ہم اور وہ دونوں برابر حیثیت کے مالک ہیں تو اب وہ یہ کہنے لگے کہ ہم میں ایک نبی پیدا ہوا ہے جس پر آسمان سے وحی آتی ہے اب ہم اس میں کیسے ان کا مقابلہ کریں میں تو کبھی اس کا اقرار نہ کروں گا (خصائص)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کے اس دعوے اور چیلنج پر صرف یہی نہیں کہ پورے عرب نے ہار مان لی اور سکوت کیا بلکہ اس کی مثل وبے نظیر ہونے اور اپنے عجز کا کھلے طور پر اعتراف بھی کیا ہے اگر یہ کسی انسان کا کلام ہوتا تو اس کی کوئی وجہ نہ تھی کہ سارا عرب بلکہ ساری دنیا اس کا مثل لانے سے عاجز ہوجاتی۔
قرآن اور پیغمبر قرآن کے مقابلہ میں جان، ومال، اولاد وآبرو سب کچھ قربان کرنے کے لئے تو وہ تیار ہوگئے مگر اس کے لئے کوئی آگے نہ بڑھا کہ قرآن کے چیلنج کو قبول کر کے دو سطریں اس کے مقابلہ میں پیش کردیتا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اپنے جاہلانہ اعمال و افعال کے باوجود منصف مزاج تھے جھوٹ کے پاس نہ جاتے تھے جب انہوں نے قرآن کو سن کر یہ سمجھ لیا کہ جب در حقیقت اس کلام کی مثل ہم نہیں لا سکتے تو محض دھاندلی اور کٹھ حجتی کے طور پر کوئی کلام پیش کرنا اپنے لئے عار سمجھا کیونکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ہم نے کوئی چیز پیش بھی کردی تو پورے عرب کے فصحاء وبلغاء اس امتحانی مقابلہ میں ہمیں فیل کردیں گے اور خواہ مخواہ رسوائی ہوگی اسی لئے پوری قوم نے سکونت اختیار کیا اور جو زیادہ منصف مزاج تھے انہوں نے صاف طور پر اقرار و تسلیم بھی کیا جاسکے کچھ وقائع پہلے بیان ہوچکے ہیں، اسی سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ عرب کے سردار اسعد بن زراہ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حضرت عباس کے سامنے اقرار کیا کہ :
ہم نے خواہ مخواہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرکے اپنے رشتے ناتے توڑے اور تعلقات خراب کئے میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ وہ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ہرگز جھوٹے نہیں اور جو کلام وہ لائے ہیں بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔ (خصائص ص ١١٦ ج ١)
قبیلہ بنی سلیم کا ایک شخص مسمّٰی بن نسیبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے قرآن سنا اور چند سوالات کئے جن کا جواب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا فرمایا تو یہ اسی وقت مسلمان ہوگئے اور پھر اپنی قوم میں واپس گئے تو لوگوں سے کہا :
میں نے روم وفارس فصحاء وبلغاء کے کلام سنے ہیں بہت سے کاہنوں کے کلمات سننے کا تجربہ ہوا ہے حمیر کے مقالات سنتا رہا ہوں مگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کی مثل میں نے آج تک کہیں نہیں سنا تم سب میری بات مانو اور ان کا اتباع کرو، انھیں کی تحریک و تلقین پر ان کی قوم کے ایک ہزار آدمی فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوگئے۔ (خصائص ص ١١٦ ج ١)
یہ اقرار و تسلیم صرف ایسے ہی لوگوں سے منقول نہیں جو آپ کے معاملات سے یکسو اور غیرجانبدار تھے بلکہ وہ لوگ جو ہر وقت ہر طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں لگے ہوئے تھے قرآن کے متعلق ان کا بھی یہی حال تھا مگر اپنی ضد اور حسد کی وجہ سے اس کا اظہار لوگوں پر نہ کرتے تھے۔
علامہ سیوطی نے خصائص کبرٰی میں بحوالہ بیہقی نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل اور ابوسفیان اور اخنس بن شریق رات کو اپنے اپنے گھروں سے نکلے کہ چھپ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن سنیں ان میں ہر ایک علیحدہ علیحدہ نکلا ایک کی دوسرے کو خبر نہ تھی اور علیحدہ علیحدہ گوشوں میں چھپ کر قرآن سننے لگے تو اس میں ایسے محو ہوئے کہ ساری رات گذر گئی جب صبح ہوئی تو سب واپس ہوئے اتفاقا راستہ میں مل گئے اور ہر ایک نے دوسرے کا قصّہ سنا تو سب آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ تم نے یہ بری حرکت کی اور کسی نے یہ بھی کہا کہ آئندہ کوئی ایسا نہ کرے کیونکہ اگر عرب کے عوام کو اس کی خبر ہوگی تو وہ سب مسلمان ہوجائیں گے۔
یہ کہہ سن کر سب اپنے اپنے گھر چلے گئے اگلی رات آئی تو پھر ان میں سے ہر ایک کے دل میں یہی ٹیس اٹھی کہ قرآن سنیں اور پھر اسی طرح چھپ چھپ کر ہر ایک نے قرآن سنا یہاں تک کہ رات گذر گئی اور صبح ہوتے ہی یہ لوگ واپس ہوئے تو پھر آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور اس کے ترک پر سب نے اتفاق کیا مگر تیسری رات آئی تو پھر قرآن کی لذت وحلاوت نے انھیں چلنے اور سننے پر مجبور کردیا پھر پہنچنے اور رات بھر قرآن سن کر لوٹنے لگے تو پھر راستہ میں اجتماع ہوگیا تو اب سب نے کہا کہ آؤ آپس میں معاہدہ کرلیں کہ آئندہ ہم ہرگز ایسا نہ کریں گے، چناچہ اس معاہدہ کی تکمیل کی گئی اور سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے صبح کو اخنس بن شریق نے اپنی لاٹھی اٹھائی اور پہلے ابوسفیان کے پاس پہنچا کہ بتلاؤ اس کلام کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس نے دبے دبے لفظوں میں قرآن کی حقانیت کا اعتراف کیا تو اخنس نے کہا کہ بخدا میری بھی یہی رائے ہے اس کے بعد وہ ابوجہل کے پاس پہنچا اور اس سے بھی یہی سوال کیا کہ تم نے محمد کے کلام کو کیسا پایا؟
ابوجہل نے کہا کہ صاف بات یہ ہے کہ ہمارے خاندان اور بنو عبد مناف کے خاندان میں ہمیشہ سے چشمک چلی آتی ہے قوم کی سیادت و قیادت میں وہ جس محاذ پر آگے بڑہنا چاہتے ہیں ہم ان کا مقابلہ کرتے ہیں انہوں نے سخاوت و بخشش کے ذریعہ قوم پر اپنا اثر جمانا چاہا تو ہم نے ان سے بڑھ کر یہ کام کر دکھایا انہوں نے لوگوں کی ذمہ داریاں اپنے سر لے لیں تو ہم اس میدان میں بھی ان سے پیچھے نہیں رہے یہاں تک کہ پورا عرب جانتا ہے کہ ہم دونوں خاندان برابر حیثیت کے مالک ہیں۔
ان حالات میں ان کے خاندان سے یہ آواز اٹھی کہ ہمارے میں ایک نبی پیدا ہوا ہے جس پر آسمان سے وحی آتی ہے اب ظاہر ہے کہ اس کا مقابلہ ہم کیسے کریں اس لئے ہم نے تو یہ طے کرلیا ہے کہ ہم زور اور طاقت سے ان کا مقابلہ کریں گے اور ہرگز ان پر ایمان نہ لائیں گے۔ (خصائص ص ١١٥ ج ١)
یہ ہے قرآن کا وہ کھلا ہوا معجزہ جس کا دشمنوں کو بھی اعتراف کرنا پڑا ہے یہ تمام واقعات علامہ جلال الدین سیوطی نے (خصائص کبرٰی) میں نقل کئے ہیں۔

تیسری وجہ :

تیسری وجہ اعجاز قرآنی کی یہ کہ اس میں غیب کی اور آئندہ پیش آنے والے واقعات کی بہت سی خبریں ہیں جو قرآن نے دیں اور ہوبہو اسی طرح واقعات پیش آئے جس طرح قرآن نے خبر دی تھی مثلا قرآن نے خبر دی کہ روم وفارس کے مقابلہ میں ابتداءً اہل فارس غالب آئیں گے اور رومی مغلوب ہوں گے لیکن ساتھ ہی یہ خبر دی کہ دس سال گذرنے نہ پائیں گے کہ پھر رومی اہل فارس پر غالب آجائیں گے۔ مکہ کے سرداروں نے قرآن کی اس خبر پر حضرت صدیق اکبر سے ہار جیت کی شرط کرلی اور پھر ٹھیک قرآن کی خبر کے مطابق رومی غالب آگئے تو سب کو اپنی ہار ماننا پڑی اور ہارنے والے پر جو مال دینے کی شرط کی تھی وہ مال ان کو دینا پڑا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مال کو قبول نہیں فرمایا کیونکہ وہ ایک قسم کا جوا تھا اسی طرح اور بہت سے واقعات اور خبریں ہیں جو امور غیبیہ کے متعلق قرآن میں دی گئیں اور ان کی سچائی بالکل روز روشن کی طرح واضح ہوگئی۔

چوتھی وجہ :

چوتھی وجہ اعجاز قرآنی کی یہ ہے کہ اس میں پچھلی امتوں اور ان کی شرائع اور تاریخی حالات کا ایسا صاف تذکرہ ہے کہ اس زمانہ کے بڑے بڑے علماء یہود ونصارٰی جو پچھلی کتابوں کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان میں بھی اتنی معلومات نہ تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو کبھی نہ کسی مکتب میں قدم رکھا نہ کسی عالم کی صحبت اٹھائی نہ کسی کتاب کو ہاتھی لگایا پھر یہ ابتداء دنیا سے آپ کے زمانہ تک تمام اقوام عالم کے تاریخی حالات اور نہایت صحیح اور سچے سوانح اور ان کی شریعتوں کی تفصیلات کا بیان ظاہر ہے کہ بجز اس کے نہیں ہوسکتا کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ ہی کا ہو اور اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کو یہ خبریں دی ہوں۔

پانچویں وجہ : 

یہ ہے کہ اس کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے کسی بشر سے عادۃً ممکن نہیں مثلا ارشاد قرآنی ہے :
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا 
جب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں۔(١٢٢: ٣)
اور یہ ارشاد کہ :
يَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ 
وہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔(٥٨: ٨)
یہ سب باتیں ایسی ہیں جن کو انہوں نے کسی سے ظاہر نہیں کیا قرآن کریم نے ہی ان کا انکشاف کیا ہے۔

چھٹی وجہ : 

چھٹی وجہ اعجاز قرانی کی وہ آیات ہیں جن میں قرآن نے کسی قوم یا فرد کے متعلق یہ پیشنگوئی کی کہ وہ فلاں کام نہ کرسکیں گے اور پھر وہ لوگ باوجود ظاہری قدرت کے اس کام کو نہ کرسکے جیسے یہود کے متعلق قرآن نے اعلان کیا کہ اگر وہ فی الواقع اپنے آپ کو اللہ کے دوست اور ولی سمجھتے ہیں توا نھیں اللہ کے پاس جانے سے محبت ہونا چاہئے وہ ذرا موت کی تمنا کرکے دکھائیں اور پھر ارشاد فرمایا :
وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا 
وہ ہرگز موت کی تمنا نہ کرسکیں گے۔(٩٥: ٢)
موت کی تمنا کرنا کسی کے لئے مشکل نہ تھا خصوصا ان لوگوں کے لئے جو قرآن کو جھٹلاتے تھے، قرآن کے ارشاد کی وجہ سے ان کی تمنائے موت میں خوف وہراس کی کوئی وجہ نہ تھی یہود کے لئے تو مسلمانوں کو شکست دینے کا یہ موقع بڑا غنیمت تھا کہ فوراً تمنائے موت کا ہر مجلس ومحفل میں اعلان کرتے۔
مگر یہود ہوں یا مشرکین زبان سے کتنا ہی قرآن کو جھٹلائیں ان کے دل جانتے تھے کہ قرآن سچا ہے اس کی کوئی بات غلط نہیں ہوسکتی اگر موت کی تمنا ہم اس وقت کریں گے تو فوراً مرجائیں گے، اس لئے قرآن کے اس کھلے ہوئے چیلنج کے باوجود کسی یہودی کی ہمت نہ ہوئی کہ ایک مرتبہ زبان سے تمنائے موت کا اظہار کردے،

ساتویں وجہ :

وہ خاص کیفیت ہے جو قرآن کے سننے سے ہر خاص وعام اور مومن و کافر پر طاری ہوتی ہے جیسے حضرت جبیر بن مطعم (رض) کو اسلام لانے سے پہلے پیش آیا کہ اتفاقا انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز مغرب میں سورة طور پڑہتے ہوئے سنا جب آپ آخری آیات پر پہنچنے تو جبیر کہتے ہیں کہ میرا دل گویا اڑنے لگا اور یہ سب سے پہلا دن تھا کہ میرے دل میں اسلام نے اثر کیا وہ آیات یہ ہیں:

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ
کیا وہ بن گئے ہیں آپ ہی آپ یا وہی ہیں بنانے والے یا انہوں نے بنائے ہیں آسمان اور زمین کوئی نہیں پر یقین نہیں کرتے کیا ان کے پاس خزانے تیرے رب کے یا وہی داروغہ ہیں۔(٣٧: ٣٥: ٥٢:) 

آٹھویں وجہ : 

یہ ہے کہ اس کو بار بار پڑھنے اور سننے سے کوئی اُکتاتا نہیں بلکہ جتنا زیادہ پڑھا جاتا ہے اس کا شوق اور بڑہتا ہے دنیا کی کوئی بہتر سے بہتر اور مرغوب کتاب لے لیجئے اس کو دو چار مرتبہ پڑھا جائے تو انسان کی طیبعت اکتا جاتی ہے پھر نہ پڑھنے کو جی چاہتا ہے نہ سننے کو یہ صرف قرآن کا خاصہ ہے کہ جتنا کوئی اس کو زیادہ پڑہتا ہے اتنا ہی اس کو شوق ورغبت بڑہتا جاتا ہے یہ بھی قرآن کے کلام الہی ہونے کا ہی اثر ہے۔

نویں وجہ :

یہ ہے کہ قرآن نے اعلان کیا ہے کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے وہ قیامت تک بغیر کسی ادنیٰ تغیر و ترمیم کے باقی رہے گا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کو اس طرح پورا فرمایا کہ جب سے قرآن کریم نازل ہوا ہے چودہ سو برس کے قریب ہونے کو آئے ہیں ہر قرن ہر زمانے میں لاکھوں انسان ایسے رہے ہیں اور رہیں گے جن کے سینوں میں پورا قرآن اس طرح محفوظ رہا کہ ایک زیر وزبر کی غلطی کا امکان نہیں ہر زمانے میں مرد، عورت، بچے، بوڑھے اس کے حافظ ملتے ہیں بڑے سے بڑا عالم اگر کہیں ایک زیر وزبر کی غلطی کرجائے تو ذرا ذرا سے بچے وہیں غلطی پکڑ لیں گے، دنیا کا کوئی مذہب اپنی کتاب کے متعلق اس کی مثال تو کیا اس کا دسواں حصہ بھی پیش نہیں کرسکتا بہت سے مذاہب کی کتابوں میں تو آج پتہ چلانا بھی مشکل ہوگیا ہے کہ اس کی اصل کس زبان میں آئی تھی اور اس کے کتنے اجزاء تھے۔
کتاب کی صورت میں بھی ہر قرن ہر زمانے میں جتنی اشاعت قرآن کی ہوئی شاید دنیا کی کسی کتاب کو یہ بات نصیب نہیں حالانکہ تاریخ شاید ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کی تعداد دنیا میں بہ نسبت منکرین اور کافروں کے بہت کم رہی اور ذرائع نشر و اشاعت بھی جتنے غیر مسلموں کو حاصل رہے ہیں مسلمانوں کو اس کا کوئی معتدبہ نصیب نہ تھا مگر ان باتوں کے باوجود کسی قوم کسی مذہب کی کوئی کتاب دنیا میں اتنی شائع نہیں ہوئی جتنا قرآن شائع ہوا۔
پھر قرآن کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے صرف کتابوں اور صحیفوں پر موقوف نہیں رکھا جن کے جل جانے اور محو ہوجانے کا امکان ہو بلکہ اپنے بندوں کے سینوں میں بھی محفوظ کردیا اگر آج ساری دنیا کے قرآن (معاذ اللہ) نابود کردئیے جائیں تو اللہ کی یہ کتاب پھر بھی اسی طرح محفوظ رہے گی چند حافظ مل کر بیٹھ جائیں تو چند گھنٹوں میں پھر ساری کی ساری لکھی جاسکتی ہے یہ بےنظیر حفاظت بھی صرف قرآن ہی کا خاصہ اور اس کے کلام الہی ہونے کا نمایاں ثبوت ہے کہ جس طرح اللہ کی ذات ہمیشہ باقی رہنے والی ہے اس پر کسی مخلوق کا تصرف نہیں چل سکتا اسی طرح اس کا کلام بھی ہمیشہ تمام مخلوقات کی دستبردار اور تصرفات سے بالاتر ہو کر ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گا قرآن کی یہ پیشینگوئی چودہ سو برس تک مشاہدہ میں آچکی ہے اور تاقیامت انشاء اللہ تعالیٰ آتی رہے گی اس کھلے معجزے کے بعد قرآن کے کلام الہی ہونے میں کیا کسی کو شک وشبہ کی گنجائش رہ سکتی ہے،

دسویں وجہ :

وہ علوم و معارف ہیں جن کا احاطہ نہ آج تک کسی کتاب نے کیا ہے نہ آئندہ امکان ہی کہ اتنے مختصر حجم اور محدود کلمات میں اتنے علوم وفنون جمع کئے جاسکیں جو تمام کائنات کی دائمی ضروریات کو حاوی اور انسان کی زندگی کے ہر شعبہ اور ہر حال سے متعلق پورا مرتب اور بہت رین نظام پیش کرسکے شخصی پھر عائلی زندگی سے لے کر قبائلی اور شہری زندگی تک اور پھر عمرانیات واجتماعیات اور سیاست ممالک کے ہر پہلو پر حاوی نظام پیش کردے.
پھر صرف نظری اور علمی طور پر نظام پیش کرنا ہی نہیں عملی طور پر اس کا رواج پانا اور تمام نظامہائے دنیا پر غالب آکر قوموں کے مزاج، اخلاق، اعمال، معاشرت اور تمدن میں وہ انقلاب عظیم پیدا کرنا جس کی نظیر نہ قرون اولیٰ میں مل سکتی ہے نہ قرون مابعد میں یہ حیرت انگیز انقلاب کیا کسی انسان کی قدرت اس کی حکمت عملی کا نتیجہ ہوسکتا ہے ؟ خصوصاً جبکہ وہ انسان بھی امی اور اس کی قوم بھی امی ہو۔

مخدرات سرا پر دہائے قرآنی
چہ دلبرند کہ دل می برند پنہانی

یہی وہ محیر العقول تاثیرات ہیں کہ جن کی وجہ سے قرآن کو کلام الہی ماننے پر ہر وہ شخص مجبور ہے جس کی عقل و بصیرت کو تعصب وعناد نے بالکل ہی برباد نہ کردیا ہو۔
٭٭٭