‏تصوف و سلوک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تصوف و سلوک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 11 مارچ، 2019

ہم زندگی کیسے گذاریں؟

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے ہمیں اسلام عطا فرمایا

اللہ تعالیٰ کاشکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلمان پیدا کیا، مسلمان گھروں میں پیدا کیااور ایمان نصیب فرمایااور شریف گھرانوں میں ہم نے آنکھیں کھولیں اور پھر اللہ تعالیٰ  کااور زیادہ فضل ہے کہ دین دار گھرانوں میں ہماری پرورش ہوئی اور پھر یہ احسان عظیم فرمایا کہ مردوں سے اللہ تعالیٰ نے تبلیغی کام شروع کرایااور اس کی برکت گھروں تک پہنچی او راب تو اللہ کے فضل وکرم سے گھروں میں ہماری مائیں اور بہنیں تبلیغی کام کرنے لگی ہیں ۔ اس کی برکت سے ہم اچھابرا سمجھنے لگے، حرام وحلال، نیک وبد، جائز وناجائز، اللہ کس چیز سے راضی یاناراض ہوتا ہے، اس کی کچھ سوجھ بوجھ ہونے لگی اور اس کی پوچھ گچھ بھی شروع ہوئی کہ زندگی کی کون سی چیزیں اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہیں اور کون کون سی چیزیں ایسی ہیں جو اللہ کوناپسند ہیں، معاشرت کیسی ہونی چاہیے؟ گھروں میں رہنا سہنا کیسا ہونا چاہیے؟ لباس اور کپڑے کس طرح کے ہونے چاہئیں کہ شریعت کے مطابق ہوں اور کون سے شریعت کے خلاف ہیں؟ ان باتوں کااب گھروں میں تذکرہ ہونے لگا ہے۔
مغربی تہذیب کااصول " کھاؤ پیو، مست رہو"
آپ سب اس ملک میں ہیں، یہاں بہت دنوں سے یاسیکڑوں برس سے خدا کاخوف، شرم وحیا، لحاظ اور تہذیب نہیں رہی، یہاں صرف ایک ہی کام رہا کھاؤ پیواور مست رہو، چناں چہ انگریزوں میں کہاوت ہے ” کھاؤ، پیو، مست رہو، مگن رہو“ یہ مگن رہنا ان کے یہاں زندگی کااصول ہے، جس میں آدمی مگن رہے اور مست ر ہے موت کبھی بھول کر بھی یاد نہ آئے کہ ہمیں مرنا ہے، ہمیں خدا کے سامنے جانا ہے، یہاں جو مزے اڑائے ہیں، گلچھرے اڑائے ہیں ان کاجواب دینا ہے، یہاں جو موج اڑائی ہے اس کا پائی پائی کاحساب دینا ہے۔
یہاں زندگی کااصول یہ ہے کہ آدمی موت کوبھولا رہے، آخرت کوبھولا رہے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑے رہے اور صرف عمدہ سے عمدہ کھانا، اچھی سے اچھی صحت بنانا، جوانی کامزہ اڑانا اور دولت کے مزے اڑانا یاد رکھے، یہ یہاں کی زندگی کااصول بن گیا ہے۔
لیکن خدا کے فضل وکرم سے ہمارا جس مذہب سے تعلق ہے اور جس ملک سے تعلق ہے اور جن لوگوں سے تعلق ہے، ان کی زندگی کااصول یہ نہیں ہے۔ ان کوتو یہ بتایاگیا ہے کہ دنیاتو کافر کی جنت اور مسلمانوں کاجیل خانہ ہے، جیل خانہ میں آدمی موج نہیں اڑاتا، جیل خانہ میں آدمی آزاد نہیں ہوتا کہ گھومنے پر آیاتو گھومتا چلا گیا، جو دل میں بات آئی، جو من میں چاہت ہوئی بس وہ کر گزرا، کوئی روک ٹوک نہیں، کوئی پابندی نہیں، جیل خانہ میں گھومنے پھرنے کی جگہ بھی نپی تلی ۔ کھانے کاحساب بھی نپاتلا، کھانے کوجی کچھ چاہتا ہے مل کچھ رہا ہے، پسند کچھ ہے اورکھِلایا کچھ جارہا ہے، کبھی پہننے کوجی چاہا، کبھی سیر کاجی چاہا، ہوا خوری کاجی چاہا، مگر یہ تو چہار دیواری ہے، یہ تو جیل کی کوٹھری ہے اور کافر کے لیے کیا ہے؟ بس ایک بہت بڑا پارک، ایک بہت بڑاباغ، ایک بہت بڑا چمن، چاہے لوٹے پوٹے، چاہے گھومے، چاہے ننگا پھرے، چاہے چہکے، چاہے بیل کی طرح چلے، کھائے پئے، کوئی بولنے والا نہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، تو ” دنیا کافر کی جنت اور مومن کاجیل خانہ ہے ۔“
دنیامیں اس طرح رہوجیسے کہ تم پردیس میں ہو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کن فی الدنیا کأنک غریب او عابر سبیل۔“
(دنیامیں اس طرح رہوجیسا کہ تم پردیس میں ہویا کہ راستہ چلتے مسافر۔)
 جو مسافر ہوتا ہے اس کاجی نہیں لگتا، وہ کسی جگہ اپنا گھر نہیں بناتا، کسی اسٹیشن پرٹھہر نہیں جاتا، دیکھتا سب کچھ ہے، گزرتا سب جگہ سے ہے، لیکن اپنے وطن کونہیں بھولتا اور نہ اپنی منزل کوبھولتا ہے، کہاں سے چلے تھے اور کہاں جانا ہے اور جہاں جانا ہے وہاں سے کام کرکے فوراً آنا ہے، جیسے چڑیاں دن بھر اڑتی رہتی ہیں، جیسے کبوتر اور میناہوں، جو دن بھر اڑتی رہتی ہیں اور دن بھر جگہ جگہ سے دانہ چگتی جاتی ہیں، لیکن اپنے آشیانہ، اپنے گھونسلہ کوبھولتی نہیں کہ کہیں اور پہنچ جائیں، شام ہوئی تو سیدھے اپنے گھر واپس آتی ہیں، کسی شاخ پر وہی تنکوں اور پتیوں کابنا ہوا گھونسلہ، دن بھر چاہے کسی امیر کے محل پر جاکر، کسی اونچی سے اونچی کوٹھی پر جاکر اپنا چارہ تلاش کرے، شام ہوئی تو اپنا گھر یاد آیا، بال بچے یاد آئے، اڑکروہیں پہنچیں، یہی مؤمن کاحال ہے کہ دنیامیں سارا دن گھومتا پھرتا رہے، کام کاج کرے، دکان پر بیٹھے، دس دس گھنٹے یوٹی دے، لیکن اس کواصلی بستی نہیں بھولتی، اس کوقبر کا کونا نہیں بھولتا، وہاں سیکڑوں ہزاروں برس سونا ہے، اس کوآخرت نہیں بھولتی، بس شام ہوئی، یعنی جیسے ہی دنیا کا کام ختم ہوا، اپنے اصلی وطن کی راہ لی۔

مسلمان کواپنا اصلی وطن نہیں بھولنا چاہیے

مسلمان کی زندگی ایسی ہی ہونی چاہیے، ہمارے لیے ہندوستان، فرانس، جرمنی اور بڑے سے بڑے ملک امریکا، کینی اسب برابر ہیں، ہم کہیں بھی ہوں اپنا وطن نہیں بھولنا چاہیے، چاہے وہ محل ہو یاجھونپڑا، لیکن دل ہمارا خدا کے پاس رہنا چاہیے، ہمارا جسم کہیں بھی ہو، ہم کواصل جگہ کبھی نہیں بھولنی چاہیے، جہاں ہم کومدتوں رہنا ہے، وہ قبر کا کونا ہے، جہاں اندھیرا ہے، قبرستان جو جنگل میں ہے، شہر کی آبادی سے دور، جہاں نہ شہر کے بچوں کی آواز پہنچ سکتی ہے، نہ بڑوں کی، وہاں تو آدمی ہے اور اس کاعمل، جو نمازیں ٹوٹی پھوٹی پڑھیں، جو کلمہ پڑھا، درود شریف پڑھا، وہ وہاں کام دے گا، اسی سے وہاں دل لگے گا، وہی وہاں کاتکیہ، وہی وہاں کابچھونا، وہی وہاں کی روشنی، وہی وہاں کا چراغ، وہاں کی گنجائش اور وسعت، ورنہ وہ کونا جہاں آدمی کروٹ بھی نہ لے سکے، وہاں جو کچھ کام آئے گا، وہ نور ایمان کام آئے گا، اللہ کانام کام آئے گا، زندگی میں اللہ کے ساتھ جو تعلق پیدا کیا ہے وہ کام آئے گا، نماز میں اگر یہاں دل لگا ہے تو وہاں بھی دل خوش ہوگا، اگر کلمہ، نماز اور ایمان کی باتوں میں دل نہیں لگا ہے اور طبیعت ہمیشہ اچاٹ رہی اور وہی کپڑوں میں، زیور میں، کھانے پینے میں، کوٹھی میں، موٹر میں اگر وہ پھنسا رہاتو وہاں وحشت ہوگی، وہاں ان میں سے کوئی چیز موجودہ نہ ہوگی، یہ چیزیں تو کیا ہوں گی، باپ مدد کرنے کے لیے، ماں بھی دلاسہ دینے کے لیے، بیٹی بھی خدمت کرنے کے لیے، بیٹے بھی سلوک کرنے کے لیے وہاں موجود نہ ہوں گے، وہاں وہی ایک نام اللہ کا، اللہ کانام کام آئے گا اور ایمان کانور کام آئے گا، نماز روزہ کانور کام آئے گا، قرآن کی روشنی کام آئے گی اور جو اللہ کاذکر کیابس وہی کام آئے گا۔
حدیث میں ہے کہ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگی یادوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔” وہاں جو کام آنے والی چیزیں ہیں، وہ خود کچھ نہیں، یہیں کے اچھے عمل باغ بن جائیں گے، انہی اچھے اعمال سے جنت کی ہوائیں آئیں گی، حدیث میں آتا ہے کہ قبر کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے، وہاں ان کو پہلے سے جنت کی ہواؤں کے جھونکے آنے لگتے ہیں، خوشبوئیں آنے لگتی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی ہمارا ٹھکانا ہے اور حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ مرنے کے وقت اور مرنے کے بعد اس کا ٹھکانا اس کودکھا یاجائے گا کہ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے یاجنت اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ اگر کسی کے اچھے عمل ہیں، ایمان سلامت لے کر گیا ہے تو اس سے کہاجاتا ہے”نم کنومۃ العروس“ ”سوجا جیسے دلہن سوتی ہے“۔

قبر کی فکر ہی اصل فکر ہے

اس گھر کی فکر کرنی چاہیے اور جو چیزیں وہاں کام آنے والی ہیں، ان کی فکر کرنی چاہیے، یہاں کے سامان کاحال یہ ہے کہ بچپن کاسامان جوانی میں کام نہیں آتا، جوانی کاسامان بڑھاپے میں کام نہیں آتا، بچپن میں جو کپڑے تھے جوانی میں پہنے نہیں جاتے او رجوانی میں جو کپڑے ہیں وہ بڑھاپے میں پہننا مناسب نہیں، یہ تو جوانی کے شوق تھے، بڑھاپے کا کپڑااور ہوتا ہے اور اب تو دو مہینے کے کپڑے اس زمانہ میں کام نہیں آتے، یہاں یورپ پر ایسی مصیبت آئی ہے اور اس کی بدولت ساری دنیا پر، یہاں مہینے دو مہینے میں فیشن بدلتے ہیں، پہلے فیشن کے مطابق جو کپڑے بنالیے، اب جب فیشن بدل گیاتو بالکل پرانے اور دقیانویسی معلوم ہونے لگتے ہیں اور ان کو پہن کر شادیوں میں جانا معیوب سمجھاجاتا ہے، ایسی بے مروت، آنکھ چرانے والی او رمنھ موڑنے والی اور جلدی سے جلدی بدل جانے والی تہذیب! اس پرا گر دل لگائے تو اس سے زیادہ بے عقل کون ہوگا؟!

حضرت ابراہیم علیہ السلام کاواقعہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ستارہ دیکھاتو کہا کہ یہ تو بڑا چمک دار ہے، کچھ عجب نہیں کہ دنیا کا پیدا کرنے والا ہو ۔ اب جو ستارہ غروب ہوا اور وب گیاتو انہوں نے کہا کہ یہ تو کچھ نہیں، اس کا کوئی بھروسہ نہیں ۔ پھر جاند دیکھاتو کہاسبحان اللہ، چاند کا کیا کہنا، کیسی روشنی، ساری دنیاروشن، ساری دنیامیں چاندنی پھیلی ہوئی ہے، انہوں نے کہا، شاید یہی خالق ہو۔ پھر وہ غروب ہوا تو کہنے لگے یہ بھی کچھ نہیں، اس کابھی کچھ زور نہیں، اس کابھی بھروسہ نہیں۔ پھر جب سورج نکلا اور انہوں نے اس کی چمک دیکھی اور دن ہوا تو کہنے لگے واہ واہ، اس سے بڑھ کر تو کوئی روشن نہیں، ستارہ بھی اس کے سامنے ماند اور چاند بھی اس کے سامنے شرمندہ، بس یہ سورج ہی سورج ہے، پھر جب سورج بھی وبنے لگا، تو کہنے لگے، ” لا أحب الآفلین“ میں ایسے منھ چھپانے والوں اور ایسے بے مروتوں اور ایسے آنکھ بند کرنے والوں سے اپنا دل نہیں لگا سکتا، جس کے ساتھ دل لگایاجائے وہ ” حی قیوم“ ہمیشہ رہنے والی ذات ہو، ہمیشہ ساتھ دینے والی ذات ہو۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کادیا ہوا سبق یاد رکھنا چاہیے

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے، جو ہمارے آپ کے مورث اور پیغمبر ہیں اور سب سے آخر میں آنے والے پیغمبر کے دادا بھی ہیں، انہوں نے یہ سبق دیا کہ جو بے مروت ہو، جو آنکھیں پھیرنے والا ہو، اس سے دل نہیں لگاناچاہیے، جوانی بھی ایسی ہی دولت ہے اور طاقت، زندگی یہ سب منھ چھپانے والے، بچھڑ جانے والے اور بے وفا اور بے مروت، طوطا چشم، ان سے دل لگائے تو اس سے بڑھ کر کوئی حماقت نہیں، اگر کسی نے یہ سمجھا کہ جوانی میں جوانی کے کام کرنے چاہئیں او رکچھ لحاظ نہ کرنا چاہیے، تو جب بڑھاپاآئے گا اور یہ رنگ روپ، یہ شکل وصورت باقی نہیں رہے گی، اس وقت معلوم ہوگا کہ ہم نے اس بے وفا جوانی کی وجہ سے اس رحمان ورحیم خداکی نافرمانی کی، خدا کی رحمت کبھی ساتھ نہیں چھوڑتی، وہ ہمیشہ کام آتی ہے، وہ اندھیرے میں، اجالے میں، امیری میں، غریبی میں، جوانی وبڑھاپے میں، وطن وپردیس میں ہر جگہ اور ہمیشہ ساتھ دینے والی ہے ”اللہ معکم“ اللہ تمہارے ساتھ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم تین ہوتے ہوتو، چوتھاخدا ہوتا ہے، چار ہوتے ہوتو پانچواں خدا ہوتا ہے، تھوڑے ہوتے ہو یابہت ہوتے ہو، بازار میں ہوتے ہو یاگھر میں ہوتے ہو ہم ساتھ ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ  ہر جگہ موجود ہے، ہر ایک کودیکھنے والا ہے، ہر ایک کی مدد کرنے والا ہے ۔ ﴿ واذا سألک عبادی عنی فانی قریب﴾ جب میرے بندے میرے متعلق پوچھتے ہیں کہ خدا کہاں ہے؟ تو کہہ دو کہ میں قریب ہوں۔ وہ ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہے، تو ایسے خدا، ایسے مالک ومہربان، ایسے شفیق ورحیم، ایسے کریم، ناصر ومعین، ایسے مدد کرنے والے، ایسے رحم کھانے والے، ایسے سہارا دینے والے خدا کاساتھ دیاجائے، یابے وفا جوانی کا، بے وفا حسن وجمال کا، یابے وفا ساتھیوں اور بے وفا رفیقوں کا، یاباتیں بنانے والی سہیلیوں اور بہنوں کا، یاایسے فیشن کاجو صبح ہے تو شام کواس کا ٹھکانہ نہیں، شام ہے تو صبح اس کا ٹھکانا نہیں، اس کاساتھ دے کر اللہ کی نافرمانی کرے، اس سے بڑھ کر کون سی حماقت اور بے عقلی ہوسکتی ہے؟ اس خدا کا کیوں ساتھ نہ دیں جو ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، یہاں بھی کام آئے اور قبر میں بھی؟ اسی کی ہی دست گیری کام آئے گی اور حشر میں وہی ہے اور کوئی ہے ہی نہیں، اس خدا سے تعلق پیدا کرنا چاہیے، اس سے انس پیدا کرنا چاہیے، اس سے ایسی جان پہچان پیدا کر لینی چاہیے، اس پر ایسا بھروسہ ہونا چاہیے، ایسا اس کے ساتھ تعلق ہونا چاہیے کہ آدمی کو ہر وقت ایک ڈھارس رہے، ہر وقت حوصلہ رہے، ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے، ہمارا کوئی کیابگاڑ سکتا ہے، ہماری دولت کو کوئی اگر لے لے تو ہمارا ایمان تو کسی نے نہیں لیا ۔ اگر ہماری جوانی ختم ہوگئی ایمان تو ختم نہیں ہوا، خدا کاساتھ تو نہیں چھوٹا، اگر دولت نے منھ چھپالیااور بے وفائی کی، اگر شوہر نے بھی بے وفائی کی تو کوئی رنج نہیں، ہمارا خدا تو ہمارے ساتھ ہے، اگر خدا ہمارے ساتھ ہے تو سب کچھ ہمارے ساتھ ہے۔

جس نے بادشاہ کولیااس کوسب ملا

ایک قصہ ہے کہ ایک بادشاہ نے بہت موج میں آکر رعیت سے کہا کہ آج جو جس چیز پر ہاتھ رکھ دے گا، وہ چیز اس کی ہوجائے گی، بس کیا پوچھنا، بن آئی لوگوں کی، وہاں جو امرا وزرا، غلام، باندیاں اور خواص موجود تھے، جس کوجو چیز پسند آئی، اس نے اس پر ہاتھ رکھ دیا، کسی نے بادشاہ کے تاج پر ہاتھ رکھا، کسی نے تخت پر ہاتھ رکھا، کسی نے فانوس پر، غرض کہ جو جس پر ہاتھ رکھتا گیا، وہ چیز اس کی ہوتی گئی، ایک غلام کھڑا ہوا تھا، اس نے کچھ نہ کہا، بت بنا کھڑارہا، بادشاہ کی نظر جب اس پر پڑی تو اس نے کہا، کیاتم کو یقین نہیں آیا، دیکھتے نہیں کہ جس نے جس چیز پر ہاتھ رکھ دیاوہ اس کامالک ہوگیا، اس نے جواب دیا کیاواقعی ایسی بات ہے، بادشاہ نے کہا کہ اللہ کے بندے کیاتو دیکھ نہیں رہا ہے، کیاقسم کھانے، تحریر لکھنے کی ضرورت ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو ہیں بے وقوف، مجھے اللہ نے عقل وسمجھ دی ہے، کسی نے تاج لیا، کسی نے تخت، کسی نے موتی لیاتو ہیرا نہیں ملا، کسی نے ہیرا لیاتو موتی نہیں ملا، کسی نے گھوڑالیاتو پالکی سے محروم رہا، پالکی لے لی تو گھوڑانہیں آیا، یہ کہہ کر اس نے بادشاہ پر ہاتھ رکھ دیا کہ میں نے تو اس کولیا، جس نے بادشاد کولیا، اس کوتخت بھی ملا، تاج بھی، گھوڑابھی ملا، طاؤس بھی، گھر بھی ملا، گھر کاسامان بھی، اس کوعزت بھی ملی اور طاقت بھی۔
یہی ہماری مثال ہونی چاہیے، آج ایسے افراد ہر جانب ملیں گے جو فیشن پر جان دینے والے، کپڑوں، موٹروں کے شوقین، جوانی اور دولت پر فدا ہونے والے ہوں گے، لیکن مسلمان عورتوں کوتو صرف اللہ کاطالب ہونا چاہیے اللہ کی محبت حاصل کرنے کی کوششکرنی چاہیے کہ اللہ کی نظر عنایت اس کی طرف ہوجائے، پھر سب کچھ اس کا ہے۔

بی بی مرغی پال لو

خاندان مجددی کے ایک بزرگ شاہ محمد یعقوب صاحب مجدد کہانیوں اور قصوں میں بڑی اونچی اونچی باتیں سمجھایا کرتے تھے، انہوں نے ایک قصہ سنایا۔
”بھوپال میں بیگمات کادور تھا، ایک بیگم بہت پریشان تھیں، ایک پیر صاحب کے پاس آئیں، کہنے لگیں، پیر صاحب! میں بہت پریشان ہوں، میرے شوہر مجھے پوچھتے نہیں، پہلے تو بہت خیال کرتے تھے، لیکن اب ان کادل مجھ سے بھر گیا ہے، مجھے سخت تکلیف ہے، اولاد بھی میرا خیال نہیں کرتی، شوہر کی نگاہ کیا پھری، ساری دنیا کی نگاہیں پھر گئیں، سر کار میرے لیے دعا کریں ۔ انہوں نے پوری رام کہانی سنی اور کہنے لگے، بی بی! مرغی پال لو، اب وہ بڑی پریشان، کہ پیر صاحب کو کیا ہوگیا؟ کل تک تو خوب سنتے تھے، اب اونچاسننے لگے ۔ ذرا زور سے پکار کر کہاحضرت صاحب میرے لیے دعا کیجیے میں بہت پریشان ہوں۔ پیر صاحب نے آہستہ سے کہابی بی! میں کہہ رہا ہوں مرغی پال لو۔ اب وہ پریشان کہ آج پیر صاحب کو کیا ہوگیا ہے، میں تو ان سے دعا کے لیے کہتی ہوں اور پیر صاحب مرغی پالنے کو کہتے ہیں؟ پھرعرض کیا کہ حضرت میں سمجھی نہیں، آپ ذرا اچھی طرح سمجھادیں، تو پیر صاحب نے فرمایابی بی صاحبہ! ایک قصہ ہے، قصہ سے بات خوب سمجھ میں آجائے گی، دو گھر قریب قریب تھے، ایک امیر گھر تھا، کھاتا پیتا اور ایک ذرا غریب گھر تھا، بیچ میں ایک دیوار تھی، اس دیوار میں ایک کھڑکی تھی، تو جب اس غریب گھرمیں کوئی مہمان آتا تو غریب گھر والی پڑوس کے گھر منھ ال کر کہتی کہ مہمان ناوقت آگئے ہیں، کچھ انتظام ممکن نہیں ہے، ایک ان ادے تو کام چل جائے۔ ایک بار ہوا، دو بار ہوا اور جب بار بار یہ واقعہ پیش آیاتو جل کر کہنے لگی کہ بی بی ہمسائی! ایک مرغی پال لو، قصہ ختم ہوجائے گا، فرصت ہوجائے گی۔ تو بیگم صاحبہ میں تم سے وہی کہتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ تعلق قائم کر لو، اللہ سے دعا کرنا، مانگنا سیکھ لو، سب مشکلیں آسان ہوجائیں گی۔“

سب کاموں کی کنجی اللہ سے تعلق

وہی میں آپ سب سے کہتا ہوں، اللہ کو یاد کرنا، اللہ سے مانگنا، اللہ کوراضی رکھنا سیکھ لیجیے، سب کام بن جائیں گے، دنیا کی جتنی چیزیں ہیں، سب بے وفا، بے مروت، طوطا چشم ہیں، جوانی ہے صحت خراب، قصہ ختم۔ صحت ٹھیک تو کاروبار فیل تو سب بے کار، اگر خدا کومحبوب رکھے تو جوانی بھی ہے صحت بھی ہے اور سب کچھ ہے ۔
ساری مشکلوں، مصیبتوں کاعلاج ایک اللہ کاتعلق پیدا کرنا ہے، وہی سب کچھ کرتا ہے، اللہ کی نیک بندیوں کے حالات پڑھو کہ انہوں نے کسی چیز میں دل نہیں لگایا، نہ جوانی میں، صحت میں، نہ طاقت اور حسن وجمال میں، انہوں نے صرف اللہ کے ساتھ تعلق پیدا کیا، اللہ کانام لینا، راتوں کواٹھنا، توبہ استغفار کرنا، درود شریف پڑھنا، تلاوت قرآن کرنا، اسلامی عقائد پر بچوں کی پرورش کرنا، توحید کے بیج ان کے دل میں بونا، گناہ کی نفرت پیدا کرنا، اللہ کانام سکھانا، اسلامی آداب واخلاق کی تعلیم دینا یہ ان کے مشغلے رہے، نتیجہ یہ کہ گھر کاماحول اسلامی، دل خوش، اللہ راضی تو سب راضی، اگر اللہ ناراض تو سب ناراض ہیں۔
﴿ ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولیا﴾ ۔ (سورہ احزاب رکوع: 4)
(اورجاہلیت قدیم کے مطابق اپنے کودکھاتی مت پھرو۔)
تمہارا دل گھروں میں لگنا چاہیے، سینما گھروں میں نہیں، محفلوں اور بازاروں میں نہیں، تمہاری جگہ، تمہاری سلطنت تمہارا گھر ہے، غریب ہو یاامیر باہر نکلو گی تو تم وہ نہ رہوگی جو گھر میں ہو، گھر میں تمہارا حکم چلے گا، اولاد تمہاری خدمت کرے گی، گھر سکون واطمینان کی جگہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لیے جو پسند کیاوہی تم کواپنے لیے پسند کرنا چاہیے، وہی ہمارے لیے نمونہ ہے، اسلام سے پہلے کازمانہ جو جاہلیت کازمانہ تھااس کی طرح بناؤ سنگار نہ کرو، نماز پڑھو، زکواۃ دو، نماز کے لیے جگہ مقرر کرو، جگہ پاک وصاف ہو کہ وہاں تسبیح پڑھ سکو، دینی کتابوں کامطالعہ کر سکو، اپنے بچوں کودین کی باتیں سکھاسکو، جو وقت بچے اس میں شوہر کی خدمت کرو۔
حضرت مولانا الیاس صاحب ، مولانا یوسف اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریارحمۃ اللہ علیہم کی ماؤں کے قصے پڑھیے، وہ کیسی عابدہ، زاہدہ تھیں، ان کی راتیں کیسے گزرتی تھیں، دن کیسے گزرتے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کوایسے فرزند عطا فرمائے، جن کے نور سے سارا عالم منور ہے۔
اب جو اولاد ماں کی گود میں پلتی ہیں، ظاہر ہے کہ وہ کیسی ہوں گی، جیسی گودویسی اولاد، جب وہ زبان سے اللہ کانام نہ لیں گی، تلاوت نہ کریں گی، تو کیااثر ہوگا؟ ٭
٭٭٭

٭ ماخوذ از ماہنامہ الفاروق، کراچی، جلد ۲۵ شمارہ ۴
     

علم و فضل کے ساتھ تواضع و للہیت(قسط۔ ۳)

مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

۱۰- حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب مدظلہم فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی ایک تصنیف کے سلسلہ میں ابوالحسن کذاب کے حالات کی ضرورت تھی۔ مجھے ان کی تاریخ نہ ملی۔ چنانچہ میں حسب معمول حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے درِ دولت پر پہنچ گیا۔ اس وقت مرضِ وفات اپنی آخری حد پر پہنچ چکا تھا اور دو تین ہفتے بعد وصال ہونے والا تھا۔ کمزور بے حد ہو چکے تھے۔ابتدائی گفتگو کے بعد میں نے آنے کی غرض بتائی تو انھوں نے فرمایا کہ ادب اور تاریخ کی کتابوں میں فلاں فلاں مواقع کا مطالعہ کر لیجیے اور تقریباً آٹھ دس کتابوں کے نام لے دیے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت! مجھے تو کتابوں کے اتنے اسماء یاد بھی نہ رہیں گے۔ نیز انتظامی مہمات کے بکھیڑوں میں اتنی فرصت بھی نہیں کہ چند جزوی مثالوں کے لیے اتنا طویل و عریض مطالعہ کروں ۔ بس آپ ہی اس شخص کی دروغ گوئی کے متعلقہ واقعات کی دوچار مثالیں بیان فرما دیں، میں اُنہی کو آپ کے حوالہ سے جزوِ کتاب بنا دوں گا۔ اس پر مسکرا کر ابوالحسن کذاب کی تاریخ، اُس کے سن ولادت سے سن وار بیان فرمانی شروع کر دی جس میں اس کے جھوٹ کے عجیب و غریب واقعات بیان فرماتے رہے۔ آخر میں سن وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شخص مرتے مرتے بھی جھوٹ بول گیا پھر اُس جھوٹ کی تفصیل بیان فرمائی۔
حیرانی یہ تھی کہ یہ بیان اس طرز سے ہو رہا تھا کہ گویا حضرت ممدوح نے آج کی شب میں مستقلاً اسی کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے جو اس بسط سے سن وار واقعات بیان فرما رہے ہیں چنانچہ میں نے تعجب آمیز لہجے میں عرض کیا کہ ’’حضرت! شاید کسی قریبی زمانے ہی میں اس کی تاریخ دیکھنے کی نوبت آئی ہو گی؟‘‘ سادگی سے فرمایا ’’جی نہیں ! آج سے تقریباً چالیس سال کا عرصہ ہوتا ہے جب میں مصر گیا ہوا تھا۔ خدیوی کتب خانہ میں مطالعہ کے لیے پہنچا تو اتفاقاً اسی ابوالحسن کذاب کا ترجمہ سامنے آ گیا اور اس کا مطالعہ دیر تک جاری رہا، بس اسی وقت جو باتیں کتاب میں دیکھیں حافظہ میں محفوظ ہو گئیں اور آج آپ کے سوال پر مستحضر ہو گئیں جن کا میں نے اس وقت تذکرہ کیا‘‘۔
*…*…*
۱۱- یہی حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب مدظلہم فرماتے ہیں کہ تحریک خلافت کے دور میں جب امارتِ شرعیہ (عوام کی طرف سے قاضی مقرر کرنے) کامسئلہ چھڑا تو مولوی سبحان اللہ خاں صاحب گورکھپوری نے اپنے بعض نقاطِ نظر کی تائید میں بعض سلف کی عبارت پیش کی جو ان کے نقطۂ نظر کی تو مؤید تھی مگر مسلک جمہور کے خلاف تھی۔ یہ عبارت وہ لے کر خود دیوبند تشریف لائے اور مجمع علماء میں اُسے پیش کیا۔ تمام اکابر دارالعلوم حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے کمرے میں جمع تھے۔ حیرانی یہ تھی کہ نہ اس عبارت کو ردّ ہی کرسکتے تھے کہ وہ سلف میں سے ایک بڑی شخصیت کی عبارت تھی اور نہ اُسے قبول ہی کرسکتے تھے کہ مسلک جمہور کے صراحتاً خلاف تھی۔ یہ عبارت اتنی واضح اور صاف تھی کہ اُسے کسی تاویل و توجیہ سے بھی مسلک جمہور کے مطابق نہیں کیا جا سکتا تھا۔
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ استنجا کے لیے تشریف لے گئے تھے وضو کر کے واپس ہوئے تو اکابر نے عبارت اور مسلک کے تعارض کا تذکرہ کیا اور یہ کہ ان دونوں باتوں میں تطبیق بن نہیں پڑتی۔ حضرت ممدوح رحمۃ اللہ علیہ حسب عادت ’’حسبنا اللہ‘‘ کہتے ہوئے بیٹھ گئے اور عبارت کو ذرا غور سے دیکھ کر فرمایا کہ اس عبارت میں جعل اور تصرف کیا گیا ہے۔اُسی وقت کتب خانہ سے کتاب منگائی گئی۔ دیکھا تو واقعی اصل عبارت میں سے پوری ایک سطر درمیان سے حذف ہوئی تھی۔ جونہی اس سطر کو عبارت میں شامل کیا گیا عبارت کا مطلب مسلک جمہور کے موافق ہو گیا اور سب کا تحیر رفع ہو گیا۔
*…*…*
۱۲- حضرت مولانا محمد یوسف بنوری مدظلہم فرماتے ہیں کہ طلاق کے ایک مسئلہ میں کشمیر کے علماء میں اختلاف ہو گیا۔ فریقین نے حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو حکم بنایا۔ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں کے دلائل غور سے سنے۔ اُن میں سے ایک فریق اپنے موقف پر فتاویٰ عمّادیہ کی ایک عبارت سے استدلال کر رہا تھا۔ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’میں نے دارالعلوم کے کتب خانے میں فتاویٰ عمادیہ کے ایک صحیح قلمی نسخہ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس میں یہ عبارت ہرگز نہیں ہے لہٰذا یا تو ان کا نسخہ غلط ہے یا یہ لوگ کوئی مغالطہ انگیزی کر رہے ہیں ۔‘‘
ایسے علم و فضل اور ایسے حافظہ کا شخص اگر بلند بانگ دعوے کرنے لگے تو کسی درجہ میں اس کو حق پہنچ سکتا ہے، لیکن حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اُس قافلۂ رُشد و ہدایت کے فرد تھے جس نے مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ کی حدیث کا عملی پیکر بن کر دکھایا تھا۔ چنانچہ اسی واقعہ میں جب انھوں نے حضرت مولانا بنوری مدظلہم کو اپنا فیصلہ لکھنے کا حکم دیا تو انھوں نے حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نام کے ساتھ ’’الحبر البحر‘‘ (عالم متبحر) کے دو تعظیمی لفظ لکھ دیے۔ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا تو قلم ہاتھ سے لے کر زبردستی خود یہ الفاظ مٹائے اور غصہ کے لہجہ میں مولانا بنوری سے فرمایا:
’’آپ کو صرف مولانا محمد انور شاہ لکھنے کی اجازت ہے‘‘۔
پھر ایسا شخص جو ہمہ وقت کتابوں ہی میں مستغرق رہتا ہو، اُس کا یہ جملہ ادب و تعظیم کتب کے کس مقام کی نشان دہی کرتا ہے کہ:
’’میں مطالعہ میں کتاب کو اپنا تابع کبھی نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ خود کتاب کے تابع ہو کر مطالعہ کرتا ہوں ۔‘‘
چنانچہ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب مدظلہم فرماتے ہیں :
’’سفر و حضر میں ہم لوگوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ لیٹ کر مطالعہ کر رہے ہوں یا کتاب پر کہنی ٹیک کر مطالعہ میں مشغول ہوں، بلکہ کتاب کو سامنے رکھ کر مؤدّب انداز میں بیٹھتے، گویا کسی شیخ کے آگے بیٹھے ہوئے استفادہ کر رہے ہوں۔‘‘
اور یہ بھی فرمایا کہ:
’’میں نے ہوش سنبھالنے کے بعد سے اب تک دینیات کی کسی کتاب کا مطالعہ بے وضو نہیں کیا۔‘‘
*…*…*
۱۳- دارالعلوم کی تاریخ میں یہ جملہ بہت معروف ہے کہ دارالعلوم کی ابتداء دو ایسے بزرگوں سے ہوئی جن دونوں کا نام محمود تھا اور دونوں قصبۂ دیوبند کے باشندے تھے۔ ان میں شاگرد تو وہ محمود تھے جو شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے معروف ہوئے اور استاد حضرت ملا محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ راقم الحروف کے جد امجد حضرت مولانا محمد یٰسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ملا محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ سنن ابن ماجہ پر جو حاشیہ حضرت شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے چھپا ہوا ہے اس کا بڑا حصہ حضرت شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے لکھوایا ہے۔ ان کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ طلباء نے اس پر تعجب کا اظہار کیا۔ وجہ یہ تھی کہ علم کے دعوے اور نام و نمود کی خواہشات سے اللہ تعالیٰ نے اس فرشتۂ خصلت بزرگ کو ایساپاک رکھا تھا کہ عام آدمی کو یہ پہچاننا بھی مشکل تھا کہ یہ کوئی بڑے عالم ہیں ۔
اپنا گھریلو سوداسلف اور گوشت ترکاری خود بازار سے خرید کر لاتے اور گھر میں عام آدمیوں کی طرح زندگی گزارتے تھے مگر علوم کے استحضار اور حفظ کا عالم یہ تھا کہ راقم کے جدِّ امجد حضرت مولانا محمد یٰسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ایک بڑی کتاب (جو غالباً منطق یا اصولِ فقہ کی کتاب تھی) اتفاقاً درس سے رہ گئی تھی، انھیں یہ فکر تھی کہ دورۂ حدیث شروع ہونے سے پہلے یہ کتاب پوری ہو جائے چنانچہ انھوں نے مُلاّ محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے درخواست کی۔ ملا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اوقاتِ مدرسہ کے علاوہ بھی میرے تمام اوقات اسباق سے بھرے ہوئے ہیں، صرف ایک وقت ہے کہ جب میں گھر کا گوشت ترکاری لینے کے لیے بازار جاتا ہوں، یہ وقت خالی گزرتا ہے، تم ساتھ ہو جاؤ تو اس وقفے میں سبق پڑھا دوں گا۔ احقر کے دادا حضرت مولانا محمد یٰسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ کتاب بڑی اور مشکل تھی جس کو دوسرے علماء غور و مطالعہ کے بعد بھی مشکل سے پڑھا سکتے تھے۔ مگر مُلاّ محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کچھ راستہ میں کچھ قصاب کی دوکان پر یہ تمام کتاب ہمیں اس طرح پڑھا دی کہ کوئی مشکل ہی نظر نہ آئی۔
*…*…*
۱۴- حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے علم و فضل کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانا ہے، حضرت رحمۃ اللہ علیہ طالب علمی کے زمانے ہی سے اپنی قوتِ استعداد، ذہانت و فطانت اور علم و عمل میں مصروف تھے لیکن جب ۱۳۰۰ھ میں آپ دارالعلوم سے فارغ التحصیل ہوئے، اور دستاربندی کے لیے دیوبند میں بہت بڑا اور شاندار جلسہ منعقد کرنے کی تجویز ہوئی تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے ہم سبقوں کو لے کر حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا کہ ’’حضرت! ہم نے سنا ہے کہ ہم لوگوں کی دستاربندی کی جائے گی اور سند فراغ دی جائے گی۔ حالانکہ ہم اس قابل ہرگز نہیں لہٰذا اس تجویز کو منسوخ فرما دیا جائے ورنہ اگر ایسا کیا گیا تو مدرسہ کی بڑی بدنامی ہو گی کہ ایسے نالائقوں کو سند دی گئی۔‘‘ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو یہ سن کر جوش آ گیا اور فرمایا کہ تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے، یہاں چونکہ تمہارے اساتذہ موجود ہیں اس لیے ان کے سامنے تمہیں اپنی ہستی کچھ نہیں آتی اور ایساہی ہونا چاہیے، باہر جاؤ گے تب تمہیں اپنی قدر معلوم ہو گی، جہاں جاؤ گے بس تم ہی تم ہو گے۔
٭٭٭

     

علم و فضل کے ساتھ تواضع و للہیت(قسط۔ ۲)

مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

حضرت علی  کا واقعہ مشہور ہے کہ کسی یہودی نے ان کے سامنے آنحضرت ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی کر دی تھی تو وہ اس پر چڑھ دوڑے اور اُسے زمین پر گرا کر اس کے سینے پر سوار ہو گئے۔ یہودی نے جو اپنے آپ کو بے بس پایا تو کھسیانا ہو کر اُس نے حضرت علی  کے روئے مبارک پر تھوک دیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ حضرت علی   اُس کو چھوڑ کر فوراً الگ ہو گئے اور پوچھنے پر بتایا کہ میں پہلے آنحضرت ﷺ کی محبت کی بناء پر اس یہودی سے اُلجھا تھا۔ اگر تھوکنے کے بعد کوئی اور کارروائی کرتا تو یہ اپنے نفس کی مدافعت ہوتی۔
حضرت شیخ الہند ﷫نے اپنے اس عمل سے حضرت علی  کی یہ سنت تازہ فرما دی۔ مطلب یہی تھا کہ اب تک تو تقریر نیک نیتی سے خالص اللہ کے لیے ہو رہی تھی لیکن یہ خیال آنے کے بعد اپنا علم جتانے کے لیے ہوتی، اس لیے اسے روک دیا۔
*…*…*
٭۵- مدرسہ معینیہ اجمیر کے معروف عالم حضرت مولانا محمد معین الدین صاحب معقولات کے مسلّم عالم تھے۔ انھوں نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب قدس سرہ کی شہرت سن رکھی تھی، ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوا تو ایک مرتبہ دیوبند تشریف لائے اور حضرت شیخ الہند ﷫کے مکان پر پہنچ گئے۔ گرمی کا موسم تھا۔ وہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو صرف بنیان اور تہبند پہنے ہوئے تھے۔ مولانا معین الدین صاحب ﷫نے اُن سے اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ ’’مجھے حضرت مولانا محمود حسن صاحب ﷫سے ملنا ہے‘‘ وہ صاحب بڑے تپاک سے مولانا اجمیری ﷫کو اندر لے گئے، آرام سے بٹھایا اور کہا کہ ’’ابھی ملاقات ہو جاتی ہے‘‘ مولانا اجمیری ﷫منتظر رہے، اتنے میں وہ شربت لے آئے اور مولانا کو پلایا۔ اس کے بعد مولانا اجمیری نے کہا کہ ’’حضرت مولانا محمود حسن صاحب کو اطلاع دیجیے‘‘ اُن صاحب نے فرمایا ’’آپ بے فکر رہیں اور آرام سے تشریف رکھیں ‘‘ تھوڑی دیر بعد وہ صاحب کھانا لے آئے اور کھانے پر اصرار کیا، مولانا اجمیری ﷫نے کہا کہ ’’میں مولانا محمود حسن صاحب سے ملنے آیا ہوں، آپ اُنھیں اطلاع کر دیجیے‘‘۔ ان صاحب نے فرمایا ’’اُنھیں اطلاع ہو گئی ہے آپ کھانا تناول فرمائیں ابھی ملاقات ہو جاتی ہے‘‘ مولانا اجمیری ﷫نے کھانا کھا لیا تو اُن صاحب نے اُنھیں پنکھا جھلنا شروع کر دیا۔ جب دیر گزر گئی تو مولانا اجمیری ﷫برہم ہو گئے اور فرمایا کہ آپ میرا وقت ضائع کر رہے ہیں، میں مولانا سے ملنے آیا تھا اور اتنی دیر ہو چکی ہے، ابھی تک آپ نے اُن سے ملاقات نہیں کرائی۔ اس پر وہ صاحب بولے کہ:
’’دراصل بات یہ ہے کہ یہاں مولانا تو کوئی نہیں ۔ البتہ محمود خاکسار ہی کا نام ہے۔‘‘
مولانا معین الدین صاحب یہ سن کر ہکا بکا رہ گئے اور پتہ چل گیا کہ حضرت شیخ الہند ﷫کیا چیز ہیں ؟
*…*…*
٭۶- امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری ﷫ علم و فضل میں یکتائے روزگار تھے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ﷫ نے اپنی ایک مجلس میں نقل کیا کہ ایک عیسائی فیلسوف نے لکھا ہے کہ ’’اسلام کی حقانیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ غزالی ﷫ جیسا محقق اور مدقق اسلام کو حق سمجھتا ہے۔‘‘ یہ واقعہ بیان کر کے حکیم الامت ﷫ نے فرمایا: ’’میں کہتا ہوں کہ میرے زمانہ میں مولانا انور شاہ صاحب کا وجود اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے کہ ایسا محقق اور مدقق عالم اسلام کو حق سمجھتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘
انہی حضرت شاہ صاحب ﷫ کا واقعہ حضرت مولانا محمد انوری صاحب ﷫ بیان فرماتے ہیں کہ مقدمہ بھاولپور کے موقع پر جب حضرت شاہ صاحب ﷫ نے قادیانیوں کے کفر پر بے نظیر تقریر فرمائی اور اس میں یہ بھی فرمایا کہ ’’جو چیز دین میں تواتر سے ثابت ہو اُس کا منکر کافر ہے‘‘ تو قادیانیوں کے گواہ نے اس پر اعتراض کیا:
’’آپ کو چاہیے کہ امام رازی ﷫ پر کفر کا فتویٰ دیں کیونکہ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں علامہ بحرالعلوم ﷫ نے لکھا ہے کہ امام رازی ﷫ نے متواتر معنوی انکار کیا ہے۔‘‘
اس وقت بڑے بڑے علماء کا مجمع تھا، سب کو پریشانی ہوئی کہ فواتح الرحموت اس وقت پاس نہیں ہے، اس اعتراض کا جواب کس طرح دیا جائے؟ مولانا محمد انوری ﷫ جو اس واقعے کے وقت موجود تھے، فرماتے ہیں :
’’ہمارے پاس اتفاق سے وہ کتاب نہ تھی۔ مولانا عبد اللطیف صاحب ناظم مظاہر العلوم سہارنپور اور مولانا مرتضی حسن صاحب ﷫ حیران تھے کہ کیا جواب دیں گے؟‘‘
لیکن اسی حیرانی کے عالم میں حضرت شاہ صاحب ﷫ کی آواز گونجی:
 ’’جج صاحب! لکھیے، میں نے بتیس سال ہوئے، یہ کتاب دیکھی تھی، اب ہمارے پاس یہ کتاب نہیں ہے۔ امام رازی ﷫ دراصل یہ فرماتے ہیں کہ حدیث ”لا تجتمع امتی علی الضلالۃ “تواتر معنوی کے رُتبے کو نہیں پہنچی، لہٰذا انھوں نے اس حدیث کے متواتر معنوی ہونے کا انکار فرمایا ہے، نہ کہ تواتر معنوی کے حجت ہونے کا۔ ان صاحب نے حوالہ پیش کرنے میں دھوکے سے کام لیا ہے۔ ان کو کہو کہ عبارت پڑھیں ۔ ورنہ میں ان سے کتاب لے کر عبارت پڑھتا ہوں ۔‘‘
چنانچہ قادیانی شاہد نے عبارت پڑھی۔ واقعی اس کا مفہوم وہی تھا جو حضرت شاہ صاحب ﷫ نے بیان فرمایا۔ مجمع پر سکتہ طاری ہو گیا اور حضرت شاہ صاحب ﷫ نے فرمایا:
’’جج صاحب! یہ صاحب ہمیں مُفحم (لاجواب) کرنا چاہتے ہیں ۔ میں چونکہ طالب علم ہوں، میں نے دوچار کتابیں دیکھ رکھی ہیں، میں ان شاء اللہ مُفحم نہیں ہونے کا۔‘‘
ایک طرف علم و فضل اور قوت حافظہ کا یہ محیرالعقول کارنامہ دیکھیے کہ بتیس سال پہلے دیکھی ہوئی کتاب کا ایک جزوی حوالہ کتنی جز رسی کے ساتھ یاد رہا، دوسری طرف اس موقع پر کوئی اور ہوتا تو نہ جانے کتنے بلند بانگ دعوے کرتا، لیکن خط کشیدہ جملہ ملاحظہ فرمائیے کہ وہ تواضع کے کس مقام کی غمازی کر رہا ہے؟ اور یہ محض لفظ ہی نہیں ہیں، وہ واقعتاً اپنے تمام کمالات کے با وصف اپنے آپ کو ایک معمولی طالب علم سمجھتے تھے اور اس دعائے نبوی کے مظہر تھے کہ اللّٰہم اجعلنی فی عینی صغیرا وفی أعین النّاس کبیرا.
 حضرت مولانا محمد انوری ﷫ ہی راوی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت شاہ صاحب ﷫ کشمیر تشریف لے جا رہے تھے، بس کے انتظار میں سیالکوٹ اڈّے پر تشریف فرما تھے، ایک پادری آیا اور کہنے لگا کہ آپ کے چہرے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ مسلمانوں کے بڑے عالم دین ہیں ۔ فرمایا ’’نہیں ! میں طالب علم ہوں ‘‘ اس نے کہا ’’آ پ کو اسلام کے متعلق علم ہے؟‘‘ فرمایا ’’کچھ کچھ‘‘ پھر اُن کی صلیب کے متعلق فرمایا کہ ’’تم غلط سمجھے ہو۔ اس کی یہ شکل نہیں ہے۔‘‘ پھر نبی کریم ﷺ کی نبوت پر چالیس دلائل دیے۔ دس قرآن سے دس تورات سے، دس انجیل سے اور دس عقلی۔ وہ پادری آپ کی تقریر سن کر کہنے لگا کہ اگر مجھے اپنے مفادات کا خیال نہ ہوتا تو میں مسلمان ہو جاتا، نیز یہ کہ مجھے خود اپنے مذہب کی بہت سی باتیں آپ سے معلوم ہوئیں ۔
*…*…*
٭۷- احقر کے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مد ظلہم نے بار بار یہ واقعہ بیان فرمایا کہ جب میں دارالعلوم دیوبند میں ملاّ حسن پڑھاتا تھا تو ایک روز اس کی عبارت پر کچھ شبہ ہوا جو حل نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ حضرت شاہ صاحب ﷫ سے اس کے بارے میں استفسار کرنا چاہیے۔ چنانچہ میں کتاب لے کران کی تلاش میں نکلا، وہ اپنی جگہ پر نہیں تھے اور جب وہ اپنی جگہ پرنہ ہوں تو ان کا کتب خانہ میں ہونا متعین تھا۔ میں کتب خانہ میں پہنچا تو وہ کتب خانے کی بالائی گیلری میں بیٹھے مطالعہ میں مشغول تھے۔ میں ابھی نیچے ہی تھا کہ انھوں نے مجھے دیکھ لیا اور اوپر ہی سے میرے آنے کی وجہ پوچھی۔ میں نے عرض کیا کہ ’’ملا حسن کے ایک مقام پر کچھ اشکال ہے وہ سمجھنا تھا۔‘‘ وہیں بیٹھے بیٹھے فرمایا ’’عبارت پڑھیے‘‘ میں نے عبارت پڑھنی شروع کی تو بیچ ہی میں روک کر فرمایا: ’’اچھا ! یہاں آپ کو یہ شبہ ہوا ہو گا‘‘ اور پھر بعینہ وہی اشکال دُہرا دیا جو میرے دل میں تھا۔ میں نے تصدیق کی کہ واقعی یہی شبہ ہے، اس پر انھوں نے اس کے جواب میں وہیں سے ایسی تقریر فرمائی کہ تمام اشکال کافور ہو گئے۔
اب ظاہر ہے کہ حضرت شاہ صاحب ﷫ عرصہ دراز سے حدیث کی تدریس میں مصروف تھے اور منطق کی کتابوں سے واسطہ تقریباً ختم ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود یہ حافظہ اور یہ استحضار کرشمۂ قدرت نہیں تو اور کیا ہے؟
*…*…*
٭۸- احقر نے اپنے والد ماجد سے بھی سنا ہے اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری مد ظلہم سے بھی کہ حضرت شاہ صاحب ﷫ نے ۱۳۲۱ھ میں علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ کی مشہور شرح ہدایہ ’’فتح القدیر‘‘ اور اس کے تکملہ کا مطالعہ بیس سے کچھ زائد ایام میں کیا تھا اور کتاب الحج تک اس کی تلخیص لکھی تھی اور انھوں نے صاحب ہدایہ پر جو اعتراضات کیے ہیں اُن کا جواب بھی لکھا تھا۔ اس کے بعد مدت العمر ’’فتح القدیر‘‘ کی مراجعت کی ضرورت نہیں پڑی اور کسی تازہ مطالعہ کے بغیر اس کی نہ صرف باتوں بلکہ طویل عبارتوں تک کا حوالہ سبق میں دیا کرتے تھے۔ حضرت مولانا بنوری مد ظلہم فرماتے ہیں کہ انھوں نے ۱۳۴۷ھ میں ہم سے یہ واقعہ بیان کیا اور فرمایا:
’’چھبیس سال ہوئے پھر مراجعت کی ضرورت نہیں پڑی اور جو مضمون اس کا بیان کروں گا، اگر مراجعت کرو گے تفاوت کم پاؤ گے۔‘‘
*…*…*
٭۹- حضرت مولانا محمد منظور نعمانی صاحب مد ظلم حضرت شاہ صاحب ﷫ کے شاگرد ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ درس سے فراغت کے بعد میں جب بھی حضرت شاہ صاحب ﷫ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو پہلے سے لکھے ہوئے متعدد سوالات کے جواب اُن سے معلوم کیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ کی حاضری میں ترمذی شریف کی ایک عبارت کا حوالہ میں نے دیا اور عرض کیا کہ اس عبارت میں یہ اشکال ہے، بہت غور کیا لیکن حل نہیں ہو سکا۔ فرمایا ’’مولوی صاحب! آپ کو یاد نہیں رہا، مجھے خوب یاد ہے کہ جس سال آپ دورہ میں تھے اس موقع پر میں نے بتایا تھا کہ یہاں ترمذی کے اکثر نسخوں میں ایک غلطی واقع ہو گئی ہے لیکن لوگ سرسری طور پر گزر جاتے ہیں اور انھیں پتہ نہیں چلتا، ورنہ یہ اشکال سب کو پیش آنا چاہیے‘‘ پھر فرمایا کہ ’’صحیح عبارت اس طرح ہے‘‘ مولانا نعمانی مد ظلہم لکھتے ہیں :
’’اللہ اکبر! یہ بات بھی یاد رہتی تھی کہ فلاں سال اس موقع پر سبق میں یہ بات فرمائی تھی‘‘۔
(جاری ہے۔۔۔)
٭٭٭

     

بچوں کو قریب کیجیے!

محمد فیصل شہزاد ﷾ ( کراچی، پاکستان)

عربی کے چند کلمات ایک جگہ پڑھے تو ان کی جامعیت نے حیران کر دیا۔ چار کلمات پر مشتمل یہ نہایت قیمتی نصیحتیں گویا والدین کے بچوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی کلید ہیں… ذرا ملاحظہ فرمائیں:
اقتربوا من ابناکم… وشاوروھم… وحاوروھم…واکسبوھم… قبل ان تخسروھم…!
ترجمہ: تم اپنے بچوں کے قریب رہا کرو …ان سے مشورے کیا کرو… تبادلۂ خیال کیا کرو… ان کے دل جیت لو… قبل اس کے کہ تم انہیں ہمیشہ کے لیے کھو دو…!
والدین کی سب سے اول اور بڑی ذمے داری، بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت ہوتی ہے۔ بچپن اور لڑکپن کا زمانہ بے شعوری و بے خیالی کا دور ہوتا ہے۔ اس وقت بچے بڑوں کے رحم و کرم کے محتاج ہوتے ہیں۔ بچے انہی کو اپنا محسن سمجھتے ہیں جو انہیں اپنے قریب رکھتے ہیں، ان سے پیار کرتے ہیں۔ بہترین تربیت جو قربت و انسیت سے ممکن ہے، ڈانٹ ڈپٹ اور مار دھاڑ سے ہرگز ویسی ممکن ہی نہیں۔
سیرت النبی میں بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کے حسنِ سلوک کا جائزہ لیں تو آپ بہترین مربی اور بچوں پر رحم کرنے والے نظر آئیں گے۔ آپ ﷺ نے بچوں کے ساتھ نرمی، محبت، عاطفت، ملاطفت کا درس نہ صرف اپنی تعلیمات ہی کے ذریعہ دیا، بلکہ اپنے عمل سے بھی اس کا ثبوت پیش فرمایا۔
آپﷺ نے بچوں کے بچپنے کا ہر لحاظ سے خیال رکھا۔ اپنی تمام تر رفعت شان کے باوجود ان کے ساتھ کھیلے بھی اور کبھی ان پر سختی نہیں فرمائی۔ اپنے پیارے نواسوں سے آپﷺ کی محبت و شفقت کے کئی واقعات ہم سنتے پڑھتے رہتے ہیں کہ کیسے وہ عین نماز کی حالت میں بھی لاڈ سے آپ ﷺ پر سوار ہو جاتے تھے اور آپﷺ ناراض تو کیا ہوتے، ان کے لیے سجدے کو طویل فرما لیتے۔
ایک بار آپ حضرت حسن کو چوم رہے تھے۔ ایک دیہاتی نے اعتراض کرتے ہوئے گویا حیرت کا اظہار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
”اگر اللہ نے تیرے دل سے رحمت کو نکال دیا تو میں کیا کر سکتا ہوں!“
ایک بار ایک اور ایسے ہی موقعے پر جب ایک صحابی نے حیرت کا اظہار کیا تو فرمایا کہ جو شخص رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
مسلمان تو مسلمان ،حضور نے تو کفار کے بچوں کے ساتھ بھی نرمی کی تلقین فرمائی۔ ایک یہودی کا لڑکا آپ علیہ السلام کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ وہ ایک دفعہ بیمار ہو گیا۔ آپﷺ نے از خود تشریف لا کر اس کی عیادت فرمائی۔ اس بچے کے سرہانے بیٹھے، پھر اس بچے سے فرمایا: ”اسلام قبول کرو۔ “
اس بچے نے اپنے والد پر نظر ڈالی۔ والد نے بھی کہا: ”ابوالقاسم (ﷺ)کی اطاعت کرو۔“
 لہٰذا وہ بچہ مسلمان ہو گیا۔ آپﷺ یہ کہتے ہوئے نکلے:
"تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے ہیں جس نے اس کو آگ سے بچا لیا۔"
آج اس اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ہم اپنے سلوک کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ کفار اور غیر کے بچے تو الگ، ہم اپنے بچوں، اپنے خون کے ساتھ کیسا بیگانے کا سا سلوک کرتے ہیں؟
باپ کی درشت مزاجی کی وجہ سے بچہ پڑوسی انکل کے زیادہ قریب، باپ سے دور ہوتا ہے…بات بات پہ مارنا، چلانا، برا بھلا کہنا بچوں کو نہ صرف ڈھیٹ بنا دیتا ہے بلکہ ان کو ماں باپ سے دور بھی کر دیتا ہے… پھر ہوتا یہ ہے کہ بچے اس جذباتی خلا کو باہر والوں سے پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں… باہر پھرتے سفاک درندے ایسے ہی معصوموں کا شکار کرنے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں… سو وہ انہیں جھوٹی محبت کے جال میں پھانس کر ان کا جذباتی و جنسی استحصال تک کر بیٹھتے ہیں۔
گھر میں خود بچے سے متعلق امور میں بھی اس سے کوئی مشورہ نہیں ہوتا، نہ اس سے رائے لی جاتی ہے اور نہ اس کی پسند ناپسند کا خیال رکھا جاتا ہے… ہر وقت، ہر بات میں بس اپنی مرضی چلائی بلکہ باقاعدہ ٹھونسی جاتی ہے… آہستہ آہستہ والدین اور بچوں کے درمیان ایک ایسی اجنبیت کی دیوار کھڑی ہونے لگتی ہے کہ پھر بچہ کسی جذباتی کشمکش کا شکار ہو جائے، اس کے ساتھ کچھ غلط ہونے لگے تو وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی بات والدین سے شیئر نہیں کر پاتا… اور یوں یہ صورت حال کبھی خدانخواستہ ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔
یاد رکھیے …انگلی پکڑ کر چلانے والے ہاتھ جب ہاتھ چھوڑ دیں تو پھر جانے کون کون انگلیاں پکڑتا ہے اور کس کس سمت لے جاتا ہے۔ اپنے احساسات کو جھنجھوڑیے، اپنی غفلت کو دور کیجیے۔ مستقبل کے ان ہونہار نونہالوں کو اپنے سے قریب کیجیے، ان سے مشورے کیجیے، انہیں اہمیت کا احساس دلائیے، گاہے ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا کیجیے اور ان کے دل جیت لیجیے… قبل اس کے کہ انہیں ہمیشہ کے لیے کھو دیا جائے…!
اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے اور اچھے والدین بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
٭٭٭

     

اماں جی

ملک خداداد خان
انتخاب: جاوید خان صافی﷾(پشاور، پاکستان)

ریٹائرڈ  ایئر وائس مارشل ملک خداداد خان صاحب کی ایک نہایت ہی عمدہ اور دل کو چھُو لینے والی تحریر ۔
ہمیں اماں جی اس وقت زہر لگتیں  جب وہ سردیوں میں زبردستی ہمارا سر دھوتیں۔
لکس ، کیپری ، ریکسونا کس نے دیکھے تھے ..... کھجور مارکہ صابن سے کپڑے بھی دھلتے تھے اور سر بھی۔آنکھوں میں صابن کانٹے کی طرح چبھتا ... اور کان اماں کی ڈانٹ سے لال ہو جاتے !!!
ہماری ذرا سی شرارت  پر اماں آگ بگولہ ہو جاتیں... اور کپڑے دھونے والا ڈنڈا اٹھا لیتیں جسے ہم "ڈمنی" کہتے تھے ... لیکن مارا کبھی نہیں- کبھی عین وقت پر دادی جان نے بچا لیا ... کبھی بابا نے اور کبھی ہم ہی بھاگ لئے  ...
گاؤں کی رونقوں سے دور عین فصلوں کے بیچ ہمارا ڈیرہ تھا - ڈیرے سے پگڈنڈی پکڑ کر گاؤں جانا اماں کا سب سے بڑا شاپنگ ٹور ہوا کرتا تھا ... اور اس ٹور سے محروم رہ جانا ہماری سب سے بڑی بدنصیبی !!
اگر کبھی اماں اکیلے گاؤں چلی جاتیں تو واپسی پر ہمیں مرنڈے سے بہلانے کی کوشش کرتیں .... ہم پہلے تو ننھے ہاتھوں سے اماں جی کو مارتے .... ان کا دوپٹا کھینچتے ... پھر ان کی گود میں سر رکھ کر منہ پھاڑ پھاڑ کر روتے۔
کبھی اماں گاؤں ساتھ لے جاتیں تو ہم اچھلتے کودتے خوشی خوشی ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے ..... شام گئے جب گاؤں سے واپسی ہوتی تو ہم بہت روتے.....ہمیں گاؤں اچھا لگتا تھا " ماں ہم گاؤں میں کب رہیں گے " میرے سوال پر اماں وہی گھسا پٹا جواب دیتیں ...." جب تو بڑا ہوگا ... نوکری کرے گا ... بہت سے پیسے آئیں گے ... تیری شادی ہوگی ..." وغیرہ وغیرہ ... یوں ہم ماں بیٹا باتیں کرتے کرتے تاریک ڈیرے پر آن پہنچتے ...
 مجھے یاد ہے گاؤں میں بابا مظفر کے ہاں شادی کا جشن تھا۔ وہاں جلنے بجھنے والی بتیاں بھی لگی تھیں اور پٹاخے بھی پھوٹ رہے تھے۔ میں نے ماں کی بہت منّت کی کہ رات ادھر ہی ٹھہر جائیں لیکن وہ نہیں مانی۔ جب میں ماں جی کے پیچھے روتا روتا گاؤں سے واپس آرہا تھا تو نیت میں فتور آگیا اور چپکے سے واپس گاؤں لوٹ گیا.....
شام کا وقت تھا .... 
ماں کو بہت دیر بعد میری گمشدگی کا اندازہ ہوا۔ وہ پاگلوں کی طرح رات کے اندھیرے میں کھیتوں کھلیانوں میں آوازیں لگاتی پھری ۔ اور ڈیرے سے لیکر گاؤں تک ہر کنویں میں لالٹین لٹکا کر جھانکتی رہی ۔ 
رات گئے جب میں  شادی والے گھر سے بازیاب ہوا تو وہ شیرنی کی طرح مجھ  پر حملہ آور ہوئیں۔ اس رات اگر گاؤں کی عورتیں مجھے نہ بچاتیں تو اماں مجھے مار ہی ڈالتی۔
ایک بار ابو جی اپنے پیر صاحب کو ملنے سرگودھا گئے ہوئے تھے۔ میں اس وقت چھ سات سال کا تھا۔ مجھے شدید بخار ہو گیا۔ اماں جی نے مجھے لوئی میں لپیٹ کر کندھے پر اٹھایا اور کھیتوں کھلیانوں سے گزرتی تین کلو میٹر دور گاؤں کے اڈے پر ڈاکٹر کو دکھانے لے گئیں۔ واپسی پر ایک کھالے کو پھلانگتے ہوئے وہ کھلیان میں گر گئیں ... لیکن مجھے بچا لیا ... انہیں شاید گھٹنے پر چوٹ آئ ی... ان کے مونہہ سے میرے لئے ”حسبی اللہ“ نکلا ... اور اپنے سسرال کے لئے کچھ ناروا الفاظ ... یہ واقعہ میری زندگی کی سب سے پرانی یادداشتوں میں سے ایک ہے .... 
یقیناً وہ بڑی ہمت والی خاتون تھیں۔ اور آخری سانس تک محنت مشقت کی چکی پیستی رہیں ...
پھر جانے کب میں بڑا ہو گیا اور اماں سے بہت دور چلا گیا...
سال بھر بعد جب گھر آتا.....تو ماں گلے لگا کر خوب روتی لیکن میں سب کے سامنے ہنستا رہتا۔ پھر رات کو جب سب سو جاتے تو چپکے سے ماں کے ساتھ جا کر لیٹ جاتا اور اس کی چادر میں منہ چھپا کر خوب روتا۔ 
ماں کھیت میں چارہ کاٹتی اور بہت بھاری پنڈ سر پر اٹھا کر ٹوکے کے سامنے آن پھینکتی۔ کبھی کبھی خود ہی ٹوکے میں چارہ ڈالتی اور خود ہی ٹوکہ چلاتی ۔ جب میں گھر ہوتا تو مقدور بھر ان کا ہاتھ بٹاتا۔ جب میں ٹوکہ چلاتے چلاتے تھک جاتا تو وہ سرگوشی میں پوچھتیں ... " بات کروں تمہاری فلاں گھر میں ....؟؟ " 
وہ جانتی تھی کہ میں پیدائشی عاشق ہوں اور ایسی باتوں سے میری بیٹری فل چارج ہو جاتی ہے۔
پھر ہم نے گاؤں میں گھر بنا لیا ... اور ماں نے اپنی پسند سے میری شادی کر دی۔ 
میں فیملی لے کر شہر چلا آیا اور ماں نے گاؤں میں اپنی الگ دنیا بسا لی۔
وہ میرے پہلے بیٹے کی پیدائش پر شہر بھی آئیں .... میں نے انہیں سمندر کی سیر بھی کرائی...کلفٹن کے ساحل پر چائے پیتے ہوئے انہوں نے کہا " اس سمندر سے تو ہمارے ڈیرے کا چھپڑ  زیادہ خوبصورت لگتا ہے...."
ماں بیمار ہوئی تو میں چھٹی پر ہی تھا... انہیں کئی دن تک باسکو پان  کھلا کر سمجھتا رہا کہ معمولی پیٹ کا  درد ہے ... جلد افاقہ ہو جائے گا ... پھر درد بڑھا تو شہر کے بڑے ہسپتال لے گیا جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ جگر کا کینسر آخری اسٹیج پر ہے ......
خون کی فوری ضرورت محسوس ہوئی تو میں خود بلڈ بینک بیڈ پر جا لیٹا .... ماں کو پتا چلا تو اس نے دکھ سے دیکھ کر اتنا کہا..." کیوں دیا خون...خرید لاتا کہیں سے...پاگل کہیں کا "
میں بمشکل اتنا کہ سکا .... " اماں خون کی چند بوندوں سے تو وہ قرض بھی ادا نہیں ہو سکتا ...  جو آپ مجھے اٹھا کر گاؤں ڈاکٹر کے پاس لیکر گئیں تھیں ... اور واپسی پر کھالا پھلانگتے ہوئے گر گئی تھیں .... "
وہ کھلکھلا کر ہنسیں تو میں نے کہا "اماں مجھے معاف کر دینا ... میں تیری خدمت نہ کر سکا "
میرا خیال ہے کہ میں نے شاید ہی اپنی ماں کی خدمت کی ہو گی ... وقت ہی نہیں ملا ... لیکن وہ بہت فراخ دل تھیں .... بستر مرگ پر جب بار بار میں اپنی کوتاہیوں کی ان سے معافی طلب کر رہا تھا تو کہنے لگیں " میں راضی ہوں بیٹا ... کاہے کو بار بار معافی مانگتا ہے ! "
ماں نے میرے سامنے دم توڑا .... لیکن میں رویا نہیں ... دوسرے دن سر بھاری ہونے لگا تو قبرستان چلا گیا اور قبر پر بیٹھ کر منہ پھاڑ کر رویا۔
مائے نی میں کنوں آکھاں 
درد وچھوڑے دا حال نی 
ماں سے بچھڑے مدت ہوگئی...اب تو یقین بھی نہیں آتا کہ ماں کبھی اس دنیا میں تھی بھی کہ نہیں....!
آج بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے پٹھانوں اور سوڈانیوں کے ہاتھوں فٹ بال بنتا بنتا  جانے کیسے دیوار کعبہ سے جا ٹکرایا...
یوں لگا جیسے مدتوں بعد پھر ایک بار ماں کی گود میں پہنچ گیا ہوں .... وہی سکون جو ماں کی گود میں آتا تھا ... وہی اپنائیت ... وہی محبت ... جس میں خوف کا عنصر بھی شامل تھا ....  اس بار منہ پھاڑ کر نہیں .... دھاڑیں مار مار کر رویا !!
ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ربِ کعبہ ..... اور ہم سدا کے شرارتی بچے !!!
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا…٭
٭٭٭

     

سب سے عظیم نیکی .... تقویٰ اور اسکے10 انعامات

عبد الرحمٰن صدیقی ﷾ (فیض آباد، یو پی، الہند)

اللہ پاک نے قرآن مجید میں بار بار تقویٰ اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور گناہ کو چھوڑ دو اور آجکل 
کی حکومتیں بھی کہتی ہیں کہ” کچھ دو اور کچھ لو “کی بنیاد پر کام چلاؤ.... اللہ پاک نے ہم سے گناہ چھڑوا کر کیا دیا.... لہٰذا تقویٰ پر اللہ کے دینی و اخروی انعامات دیکھئے....

پہلا انعام : ہر کام میں آسانی

اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ اگر تم تقویٰ سے رہو گے تو ہم تمہارے سب کام آسان کر دیں گے...
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا (سورہ ۶۵، الطلاق:۴)
ہم اپنے حکم سے اس کے سب کام آسان کر دیں گے... کیوں صاحب! یہ نعمت نہیں ہے کہ انسان کے سب کام آسان ہو جائیں؟

دوسرا انعام : مصائب سے چھٹکارا

وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا(سورہ ۶۵، الطلاق:۲)
اس کو اللہ تعالیٰ مصیبت سے جلد نکال دیں گے ۔ اس کو مصائب سے خروج اور ایگزٹ (Exit) جلد ملے گا۔

تیسرا انعام : بے حساب رزق

وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ(سورہ ۶۵، الطلاق:۳)
اللہ ایسے راستے سے اسکو روزی دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوگا۔ تقویٰ بے خسارہ کی تجارت ہے، یہ اللہ پاک سے تجارت ہے، بے خسارہ کی ہے اور سود بھی نہیں۔ تقویٰ میں نفع ہی نفع ہے اس میں کبھی خسارہ نہیں ہے، تمہارے رب کی طرف سے کبھی وعدہ خلافی نہیں ہوتی۔ اگر وعدہ پورا ہونے میں کبھی تاخیر نظر آئے تو سمجھ لو کہ تم نے کہیں نالائقی کی ہے، تمہارے تقویٰ میں کمی آ گئی ہے۔ نگاہ چشمی کی حفاظت بھی فرض ہے اور نگاہ قلبی کی حفاظت بھی فرض ہے یعنی دل کی نگاہ کو بھی بچاؤ، گندے اور شہوانی خیالات بھی دل میں مت لاؤ۔

چوتھا انعام : نورِ فارق

اللہ تعالیٰ ایک نورِ فارق بھی عطا کرتے ہیں، جس میں بُرائی بھلائی کی تمیز رہتی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا(پ ۹، سورہ ۸، الانفال:۲۹)

پانچواں انعام : نورِ سکینہ

جو شخص تقویٰ میں رہتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو نورِ سکینہ عطا کرتے ہیں۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا ولی ہے تو اللہ تعالیٰ  اسکی حفاظت فرمائیں گے اور گناہ سے بچا لیں گے۔  اس کے دل میں ایسی بےچینی آئے گی اور گناہ میں اس کو ایسی موت نظر آئے گی کہ وہ گناہ اور تقویٰ دونوں کا توازن بنا لے گا اور کہے گا کہ نہیں بھائی تقویٰ ہی میں فائدہ ہے اور گناہ میں تو بہت مصیبت نظر آ رہی ہے۔

چھٹا انعام : پُر لطف زندگی

فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً(سورہ ۱۶، النحل:۹۷)
 اگر تم اعمال صالحہ کرو گے تو ہم تم کو ضرور با لطف زندگی عطا کریں گے۔ اللہ کی فرمانبرداری پر اللہ کا وعدہ ہے کہ ہم تم کو با لطف زندگی دیں گے۔ ہماری نالائقی کی وجہ سے اللہ نے یہ اہتمام فرمایا کہ ظالمو تم نفس کی بد معاشیوں کے چکر میں ہو لہٰذا ہم یہ آیت لام تاکید بانون ثقیلہ نازل کر رہے ہیں تاکہ تمہیں اطمینان ہو جاوے کہ واقعی اللہ پُر لطف اور مزےدار زندگی دے گا ورنہ بغیر کسی اضافی تاکید کے بھی اللہ تعالیٰ کا کلام انتہائی موکد ہے۔ آہ یہ ہماری نالائقی، کہ جس  کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اتنا اہتمام فرمایا۔٭

ساتواں انعام : عزت و اکرام

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ(سورہ ۴۹، الحجرات:۱۳)
معزز وہی لوگ ہیں جو تقویٰ سے رہتے ہیں۔  ایک اعلیٰ خاندان والا اگر خدانخواستہ بدمعاش ہے،  شرابی ہے، زنا کرتا ہے اور ایک جولاہا تقویٰ سے رہتا ہے بتاؤ کون افضل ہے؟ ایک کالے رنگ والا ہے لیکن اللہ کا ولی ہے اور ایک سفید گوری چمڑی والا انگریز ہے،  چاہے مسلمان بھی ہو لیکن شراب اور زنا نہیں چھوڑتا تو وہ کالا حبشی اللہ کا ولی ہے... اس کے پیر دھو کر پی لے.. چمڑی سے کچھ نہیں ہوتا...

آٹھواں انعام : اللہ کی ولایت کا تاج

یہ سب سے بڑا انعام ہے.. اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو ہم تمہاری غلامی کے سر پر اپنی دوستی کا تاج رکھ دیں گے یعنی تم کو ولی بنا لیں گے.. .
إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلاَّ الْمُتَّقُونَ(سورہ ۸، الانفال:۳۴)
 اللہ کا ولی بن کر مرنا فائدہ مند ہے یا گنہگار اور فاسق ہو کر مرنا؟  اور متقی ہو کر پھر کچھ دن جیو بھی تاکہ اللہ کی ولایت اور دوستی کا صحیح مزہ دنیا سے لے کر جاؤ...

نواں انعام : گناہوں کا کفّارہ

تقویٰ کا ایک انعام سیئات اور بُرے اعمال کا کفارہ ہے...
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ(سورہ ۸، الانفال:۲۹)
یعنی جو خطائیں اور لغزشیں اس سے سرزد ہوتی ہیں دنیا میں اُنکا کفارہ اور بدل کر دیا جاتا ہے یعنی اس کو ایسے اعمال صالحہ کی توفیق ہو جاتی ہے جو اُس کی سب لغزشوں پر غالب آ جاتے ہیں...

دسواں انعام : آخرت میں مغفرت

وَيَغْفِرْ لَكُمْ(حوالۂ سابق)
تقویٰ کے انعامات میں سے ایک انعام آخرت میں مغفرت اور سب گناہوں، خطاؤں کی معافی ہے...

     

جمعرات، 14 فروری، 2019

علم و فضل کے ساتھ تواضع و للہیت

”سربکف “مجلہ۶(مئی، جون ۲۰۱۶)
مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

اگر صرف وسعت مطالعہ، قوتِ استعداد اور کثرتِ معلومات کا نام علم ہو تو یہ صفت آج بھی ایسی کمیاب نہیں لیکن اکابر دیوبند کی خصوصیت یہ ہے کہ علم و فضل کے سمندر سینے میں جذب کر لینے کے باوجود اُن کی تواضع، فنائیت اور للہیت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ یہ محاورہ زبان زدِ عام ہے کہ ’’پھلوں سے لدی ہوئی شاخ ہمیشہ جھکتی ہے‘‘ لیکن ہمارے زمانے میں اس محاورے کا عملی مظاہرہ جتنا اکابر دیوبند کی زندگی میں نظر آتا ہے اور کہیں نہیں ملتا۔ چند واقعات ملاحظہ فرمائیے:
٭۱- بانیِ دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم بحر نا پیدا کنار تھے۔ اُن کی تصانیف آبِ حیات، تقریر دلپذیر، قاسم العلوم اور مباحثہ شاہجہاں پور وغیرہ سے اُن کے مقامِ بلند کا کچھ اندازہ ہوتا ہے اور ان میں سے بعض تصانیف تو ایسی ہیں کہ اچھے اچھے علماء کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ حد یہ ہے کہ ان کے ہم عصر بزرگ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ جملہ دارالعلوم میں معروف تھا کہ ’’میں نے آبِ حیات کا چھ مرتبہ مطالعہ کیا ہے، اب وہ کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے۔‘‘
اور حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’اب بھی مولانا (نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ) کی تحریریں میری سمجھ میں نہیں آتیں اور زیادہ غور و خوض کی مشقت مجھ سے برداشت ہوتی نہیں، اس لیے مستفید ہونے سے محروم رہتا ہوں اور اپنے دل کو یوں سمجھالیتاہوں کہ ضروریات کا علم حاصل کرنے کے لیے اور سہل سہل کتابیں موجود ہیں پھر کیوں مشقت اٹھائی جائے‘‘۔
ایسے وسیع و عمیق علم کے بعد، بالخصوص جب کہ اس پر عقلیات کا غلبہ ہو، عموماً علم و فضل کا زبردست پندار پیدا ہو جایا کرتا ہے لیکن حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا حال یہ تھا کہ خود فرماتے ہیں :
’’جس طرح صوفیوں میں بدنام ہوں اسی طرح مولویت کا دھبہ بھی مجھ پر لگا ہوا ہے، اس لیے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے، اگر یہ مولویت کی قید نہ ہوتی تو قاسم کی خاک کا بھی پتہ نہ چلتا۔‘‘
چنانچہ اُن کی بے نفسی کا عالم یہ تھا کہ بقول مولانا احمد حسن صاحب امروہوی رحمۃ اللہ علیہ:
’’حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ جس طالب علم کے اندر تکبر دیکھتے تھے اُس سے کبھی کبھی جوتے اُٹھوایا کرتے تھے اور جس کے اندر تواضع دیکھتے تھے اُس کے جوتے خود اُٹھا لیا کرتے تھے‘‘۔
٭۲- یہی حال حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا تھا۔ انھیں اُنکے تفقّہ کے مقامِ بلند کی بناء پر حضرت مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’ابوحنیفۂ عصر‘‘ کا لقب دیا تھا اور وہ اپنے عہد میں اسی لقب سے معروف تھے۔ حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ جیسے بلند پایہ محقق جو علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کو ’’فقیہ النفس‘‘ کا مرتبہ دینے کے لیے تیار نہ تھے، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو ’’فقیہ النفس‘‘ فرمایا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ واقعہ سناتے ہیں کہ:
’’حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ حدیث کا سبق پڑھا رہے تھے کہ بارش آ گئی۔ سب طلبہ کتابیں لے لے کر اندر کو بھاگے مگر مولانا رحمۃ اللہ علیہ سب طلباء کی جوتیاں جمع کر رہے تھے کہ اُٹھا کر لے چلیں ۔ لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو کٹ گئے‘‘
٭۳- شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب قدس سرہ کے علم و فضل کا کیا ٹھکانا؟ لیکن حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ راوی ہیں کہ ’’ایک مرتبہ مراد آباد تشریف لے گئے تو وہا ں کے لوگوں نے وعظ کہنے کے لیے اصرار کیا۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے عذر فرمایا کہ مجھے عادت نہیں ہے مگر لوگ نہ مانے تو اصرار پر وعظ کے لیے کھڑے ہو گئے اور حدیث ’’فقیہ واحد أشدّ علی الشیطٰن من ألف عابد‘‘ پڑھی اور اس کا ترجمہ یہ کیا کہ:
’’ایک عالم شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے۔‘‘
مجمع میں ایک مشہور عالم موجود تھے۔ انھوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ: ’’یہ ترجمہ غلط ہے اور جس کو ترجمہ بھی صحیح کرنا نہ آوے اس کو وعظ کہنا جائز نہیں ۔‘‘
حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا جوابی ردِّ عمل معلوم کرنے سے پہلے ہمیں چاہیے کہ ذرا دیر گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ اگر اُن کی جگہ ہم ہوتے تو کیا کرتے؟ ترجمہ صحیح تھا اور اُن صاحب کا اندازِ بیان توہین آمیز ہی نہیں، اشتعال انگیز بھی تھا۔ لیکن اس شیخ وقت کا طرزِ عمل سنیے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر:
’’مولانا فوراً بیٹھ گئے اور فرمایا کہ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ مجھے وعظ کی لیاقت نہیں ہے مگر ان لوگوں نے نہیں مانا۔ خیر اب میرے پاس عذر کی دلیل بھی ہو گئی، یعنی آپ کی شہادت۔‘‘
چنانچہ وعظ تو پہلے ہی مرحلے پر ختم فرما دیا، اس کے بعد اُن عالم صاحب سے بطرزِ استفادہ پوچھا کہ ’’غلطی کیا ہے؟ تاکہ آئندہ بچوں ‘‘ انھوں نے فرمایا کہ أشدّ کا ترجمہ أثقل (زیادہ بھاری) نہیں بلکہ أضرّ (زیادہ نقصان دہ) کا آتا ہے۔‘‘ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے برجستہ فرمایا کہ ’’حدیث وحی میں ہے ، یاتینی مثل صلصلۃ الجرس وہو أشدّ علیّ‘‘ (کبھی مجھ پر وحی گھنٹیوں کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے) کیا یہاں بھی أضرّ (زیادہ نقصان دہ) کے معنی ہیں ؟ اس پر وہ صاحب دم بخود رہ گئے۔
٭۴- حکیم الامّت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ جب کانپور میں مدرس تھے، انھوں نے مدرسہ کے جلسہ کے موقع پر اپنے استاذ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کو بھی مدعو کیا، کانپور میں بعض اہل علم معقولات کی مہارت میں معروف تھے اور کچھ بدعات کی طرف بھی مائل تھے۔ادھر علمائے دیوبند کی زیادہ توجہ چونکہ خالص دینی علوم کی طرف رہتی تھی٭ اس لیے یہ حضرات یوں سمجھتے تھے کہ علمائے دیوبند کو معقولات میں کوئی درک نہیں ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اُس وقت نوجوان تھے اور اُن کے دل میں حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کو مدعو کرنے کا ایک داعیہ یہ بھی تھا کہ یہاں حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر ہو گی تو کانپور کے ان علماء کو پتہ چلے گا کہ علمائے دیوبند کا علمی مقام کیا ہے؟ اور وہ منقولات و معقولات دونوں میں کیسی کامل دستگاہ رکھتے ہیں ۔ چنانچہ جلسہ منعقد ہوا اور حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر شروع ہوئی، حسن اتفاق سے تقریر کے دوران کوئی معقولی مسئلہ زیر بحث آ گیا۔ اس وقت تک وہ علماء جن کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر سنانا چاہتے تھے، جلسہ میں نہیں آ ئے تھے۔ جب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر شباب پر پہنچی اور اُس معقولی مسئلہ کا انتہائی فاضلانہ بیان ہونے لگا تو وہ علماء تشریف لے آئے جن کا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو انتظار تھا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اس موقع پر بہت مسرور ہوئے کہ اب ان حضرات کو شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے علمی مقام کا اندازہ ہو گا۔ لیکن ہوا یہ کہ جونہی حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے اُن علماء کو دیکھا۔ تقریر کو مختصر کر کے فوراً ختم کر دیا اور بیٹھ گئے۔ حضرت مولانا فخرالحسن صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ موجود تھے، انھوں نے یہ دیکھا تو تعجب سے پوچھا کہ:
’’حضرت! اب تو تقریر کا اصل وقت آیا تھا، آپ بیٹھ کیوں گئے؟‘‘
شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا: ’’ہاں ! دراصل یہی خیال مجھے بھی آ گیا تھا۔‘‘٭
(جاری ہے۔۔۔)
٭٭٭


     

بدھ، 13 فروری، 2019

حسن پرست قاتل بن گیا

”سربکف “مجلہ۵(مارچ، اپریل ۲۰۱۶)
ڈاکٹر شاہد محمود ﷾

حسنِ فانی پر اگر تو جائے گا
یہ منقّش سانپ ہے ڈس جائے گا
”میں اس حسینہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔ ۔ ۔!
میں خدائی فیصلے کو ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ ۔ ۔ !
چاہے کچھ بھی ھو ، میں اس کو بیوی بنا کے رہوں گا۔ ۔ !“

”اس سے تمہاری شادی نہیں ہو سکتی ...
یہ تو تمہارے ساتھ پیدا ھوئی تھی...
اس کا شوہر ہابیل ھے ، تم نہیں ... “
حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کو سمجھایا۔
”اور اگر پھر بھی تم اس فیصلے کو ماننے کے لئے تیار نہیں تو پھر دونوں قربانی کرو ، جس کی قربانی اللہ تعالی قبول فرمالے ، وہی اس کا شوہر ہو گا ۔!
٭٭

”میں تمہیں قتل کر دوں گا ...“
”تم مجھے اس لیے قتل کرو گے کہ تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی ؟؟؟
قربانی تو اللہ تعالی قبول فرماتے ہیں اور اس کی قبول فرماتے ہیں جو تقوٰی والا ھو ...
تم اگر مجھے مارنے کے لیے ہاتھ اُٹھاؤ گے بھی تو پھر بھی میں تمہیں مارنے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں اُٹھاؤں گا ...
میں اپنے ہاتھ تمہارے خون سے رنگین نہیں کروں گا کیوں کہ میں اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں... “

پھر اس کے نفس نے اس کو اس سطح تک پہنچا دیا کہ اس نے ھابیل کو قتل کر دیا ...
اور پھر اس کو ندامت نے آن گھیرا ...
اور وہ ناکام ھونے والوں میں سے بن گیا ...
حسن پرستی ...اور اس کی بڑھی ہوئی شکل ھوس کا منطقی انجام ...

اللہ تعالی کی بغاوت ، نافرمانی اور ناراضگی...
والدین کی نافرمانی ... اور والد بھی وہ کہ جدِانبیاء ہو ...
والدین کی آہ و بکا کا ذریعہ ...
بھائی جو کہ بازو تھا ، اس کا قتل ...
پریشانی ، ناکامی ، خسارہ اور ...
پاگل ہو کر حسرتناک موت ... !
اور ایسے گناہ کا بانی بن گیا جو اس سے پہلے سرزد نہ ہوا تھا ، اسی بنا پر ہر قتل کے گناہ میں حصہ دار بن گیا ... 
اور یہ حسن پرستی ہی حسد ،کینہ اور دشمنی کا ذریعہ بنی ...اور...
جو بھی اس راستے پر چلے گا ، اسی انجام سے دوچار ہو گا ...

یہ ایسا مرض ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا کا بیٹا ہونا ۔ ۔
اور ان کی صحبت ... بھی کارگر ثابت نہ ہوسکی...
بلکہ نفس اور خواہش کے پیچھے چل کر بھائی کے قتل پر آمادہ ہو گیا ...

آج کے اس دور میں بھی حسن پرستی اور حصول ِزن کے اس قابیلی جذبے ، سوچ اور فکر نے... 
کتنے گھر اجاڑ ڈالے ...!
کتنی ماؤں کی گود خالی کر دی ...!
کتنے بھائیوں کو آپس میں دشمن بنا دیا ... !
اور کتنے ہی نوجوانوں کو خودکشی ، جیلوں اور پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا ... !

حسنِ فانی پر اگر تو جائے گا 
یہ منقّش سانپ ہے ڈس جائے گا 

٭٭٭


     

خود پسندی

”سربکف “مجلہ۵(مارچ، اپریل ۲۰۱۶)
مولانا فضل الرحمٰن ندوی ﷾

اللہ نے ہر انسان کو سوچنے سمجھنے کی الگ الگ صلاحیتیں عطا کی ہیں، جہاں ایک انسان کسی واقعہ پر غور و فکر کے بعد ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے تو دوسرا کوئی اور نتیجہ نکالتا ہے، چونکہ دنیا میں انسانوں کے سوچنے سمجھنے کے ڈھنگ جدا جدا ہیں سو کسی واقعہ پر ایک شخص کے ذریعہ پیش کیا گیا تجزیہ بہت سے ایسے لوگوں کے حلق سے نیچے نہیں اترتا جو اس سے مختلف ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس بنیاد پر کسی نظریہ کو اختیار یا رد کر رہے ہیں. ظاہر ہے ہمارا کسی نظریہ کو اختیار کرنا ہمارے علم و تجربے اور مخصوص حالات سے متاثر ہوکر ہوتا ہے، لہذا اس خوش فہمی میں رہنا کہ ہم نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے صرف وہی درست ہے ایک بالکل نامناسب رویہ ہے.
ہمیں اللہ نے نماز کی بیش بہا دولت سے نوازا ہے اور نماز میں سورہ فاتحہ کی قرات ہر رکعت میں ضروری قرار دی ہے، افکار و خیالات کی اس دنیا میں رہتے ہوئے جب ہم دن میں پانچ مرتبہ اس آیت کریمہ پر پہونچتے ہیں تو بے ساختہ قلب سے یہ آواز نکلتی ہے کہ اے میرے خدا افکار و نظریات کے اس جنگل میں ہمارے لئے مشکل ہے کہ ہم صحیح فکر تک رسائی حاصل کرسکیں تیری عنایات حاصل نہ ہوئیں تو یقینا ہم خسارے میں رہیں گے، اے میرے پروردگار دلائل کے بہتات نے ہمیں عاجز کر رکھا ہے، کبھی کوئی نظریہ صحیح معلوم ہوتا ہے تو کبھی کوئی دلیل اپنے آگے جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے یا خدا ہمیں سیدھا راستہ دکھا نفس کی پیروی سے محفوظ رکھ. اس اندھی عقیدت سے بچا جو بغیر دلیل اور ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر ہو
یاد رکھیں! صحیح فکر اختیار کرنا صرف اور صرف  توفیق الہی سے ہی ممکن ہے. علم کا غرور نقصان کا باعث ہوتا ہے، ہمیں اس سے پناہ مانگنا چاہئیے. 
اللہ ہم سب کو غرور، خود پسندی اور تعصب سے محفوظ رکھے۔آمین۔
٭٭٭

     

منگل، 12 فروری، 2019

عذاب الٰہی سے کیسے بچا جائے

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
مفتی آرومند سعد
موجودہ دور میں اپنے ماحول کو بغور دیکھا جائے تو حضور اکرم ﷺ کے ارشادات روز روشن کی طرح سامنے آ جاتے ہیں۔ آقا علیہ السلام نے آخری زمانے کا جو نقشہ آج سے صدیوں پہلے بیان کیا تھا آج ہو بہو وہی باتیں عملی طور پر سامنے آ رہی ہیں۔ من جملہ ان پیشن گوئیوں کے ایک پیشن گوئی فتنوں کی بہتات اور عذاب الہی کا نازل ہونا ہے ۔ چنانچہ آج کا معاشرہ بدامنی ، فساد، قتل و غارت ، مال و جان کے عدم تحفظ سمیت کئی فتنوں میں مبتلا ہے ۔ 
ان حالات میں ایک مسلمان کا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ کیا شریعت نے ہمیں اس دور کے لئے کچھ راہنمائی فراہم کی ہے ؟۔ کیا عذاب الہی سے بچنے کا کوئی ذریعہ ہے جس کو اختیار کر کے غضب خداوند کو ٹھنڈا کیا جا سکے ؟۔ زیر نظر مضمون بھی دراصل اسی طرح کے ایک سوال کا جواب ہے ، کہ عذاب الہی سے کیسے بچا جا سکتا ہے ۔ 
ہم ذیل میں مختصراً عذاب الہی سے بچنے کے ذرائع کا ذکر کرتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ مجھے اور پورے عالم کے مسلمانوں کو اس پر عمل کی توفیق مل جائے اور اللہ تبارک و تعالی ہمیں دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فر ما دے ۔ آمین۔ 
گناہوں سے کنا رہ کشی: 
سب سے اہم اور مقدم طریقہ اللہ تعالی کے عذاب سے بچنے کا یہ ہے کہ انسان گناہوں سے دور رہے اور اپنے دل کو گناہوں کے زنگ سے آلودہ نہ کرے ۔ کیونکہ عذاب نازل ہونے کی بنیادی سبب انسانی اعمال ہیں۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : 
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ 
] سورۃ ۴۲، الشوری: 30[
ترجمہ: اور تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمھارے اپنے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کی بدولت ہوتی ہے اور بہت سی باتوں سے تو اللہ در گزر ہی کر دیتا ہے ۔ 
صحیح بخاری شریف میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : 
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ - رضى الله عنهن أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا قَالَتْ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخُبْثُ
] صحیح البخاری ـ حسب ترقیم فتح الباری -4 / 168[
ترجمہ: حضرت فاطمہ بنت جحش ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ گھبرائے ہوئے اندر داخل ہوئے آپ ﷺ لا الہ الا للہ کہ رہے تھے اور فرما رہے تھے عرب کے لیے ہلاکت ہو اس شر سے جو قریب آ چکا ہے ۔ آج یاجوج ماجوج کے دیوار اس مقدار میں کھول دیا گیا ہے ۔ پھر شہادت کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنایا۔ حضرت زینب بنت جحش فرماتی ہیں میں عرض کیا اے اللہ کے رسول !کیا ہم ہلاک ہونگے حالانکہ ہم میں نیک لوگ ہونگے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں جب گناہ زیادہ ہونگے ۔ 
اس روایت کا آخری جملہ موجودہ حالات کی ترجمانی کر رہا ہے ، آج نیک لوگ بکثرت موجود ہیں اور امت مسلمہ کے لئے دعاؤں میں مصروف ہیں لیکن معاشرے میں گناہوں کی کثرت نے عذاب الہی کا دروازہ کھول رکھا ہے ۔ اس لئے عذاب الہی سے بچنے کے لئے گناہوں سے بچنا از حد ضروری ہے ۔ 
احادیث مبارکہ میں گناہوں کے ساتھ ان کی وجہ سے آنے والے عذابوں کا ذکر ملتا ہے ، جیسا کہ زنا کے عام ہونے سے موت کا عام ہونا، ناپ تول میں کمی سے قحط سالی کا مسلط کیا جانا، ناانصافی کی وجہ سے قتل و غارت گری کا عام ہونا۔ وغیرہ وغیرہ الغرض عذاب سے بچنے کے لئے گناہوں سے بچنا انتہائی ضروری اور لا بدی ہے ۔ 
اعمال صالحہ اور تقوی اختیار کرنا: 
عذاب الہی سے بچنے کے دوسرا راستہ اعمال صالحہ اور تقوی اختیار کرنا ہے ۔ قرآن مجید میں عذاب الہی کا ایک سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ اعمال صالحہ اور تقوی ترک کر دیں ان پر عذاب الہی نازل ہوتا ہے ۔ 
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ وَلَكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ (96) أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ
] سورۃ ۷،الاعراف: 97[
ترجمہ: اور اگر ان بستیوں میں رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تو (پیغمبروں کی)تکذیب کی تو ہم نے بھی ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔ 
اس آیت کریمہ سے یہ بات بخوبی واضح ہو گئی ہے کہ ایمان اور تقوی اللہ کے نعمتوں کا ذریعہ بنتی ہے اور پیغمبروں کو جھٹلانا عذاب کا ذریعہ بنتی ہے ۔ 
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر: 
احادیث مبارکہ کا ذخیرہ مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ جب معاشرے میں برائیاں عام ہو جائے اور اس کو روکنے کی کوشش نہ کی جائے تو ایسا عذاب نازل ہوتا ہے کہ جس سے میں ہر خاص و عام مبتلا ہو جاتا ہے ۔ پھر نیک اور راست باز لوگوں کی دعائیں اور فریاد کام نہیں آتی۔ چنانچہ آقا علیہ السلام کا ارشاد مبارک ہے ۔ 
حدثنا قتيبة حدثنا عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو و عبد الله الأنصاري عن حذيفة عن اليمان : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال والذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليوشكن الله أن يبعث عليكم عقابا منه ثم تدعونه فلا يستجاب لكم
] سنن الترمذي - شاكر + ألباني - 4 / 468[
ترجمہ: حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور بضرور تم نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو ورنہ اللہ تعالی تمھارے اوپر عذاب مسلط کر دے گا پھر تم دعا مانگو گے تو دعا قبول نہ ہو گی۔ 
آج کل عذاب الہی کے نزول کے کئی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ترک کرنا بھی ہے ۔ اول تو کوئی گناہ کرنے والے کو روکنے کی کوشش نہیں کرتا اور جو روکنے کی کوشش کرے تو اسے مولوی، دقیانوسی پتہ نہیں کن کن القابات سے نوازا جاتا ہے ۔ آقا علیہ السلام نے اس کی بہت کی خوبصورت مثال دے کر سمجھایا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کتنا اہم فریضہ ہے ۔ آپ علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ اگر ایک کشتی میں کچھ لوگ اوپر ہوں اور کچھ نیچے ہوں ، نیچے رہنے والے بار بار پانی لینے اوپر جانے سے تنگ آ جائیں اور آپس میں مشورہ کریں کہ بار بار اوپر جا کر ہم ان کو بھی تنگ کر رہے ہیں اور خود بھی مصیبت میں ہے لہذا یہیں پر سوراخ کر لیتے ہیں سمندر کا پانی ہمیں مل جائے گا اوپر جانے کی ضرورت نہ رہے گی۔ اب اگر اوپر رہنے والے ان کو کشتی میں سوراخ کرنے دیں تو دونوں فریق ڈوب جائیں گے ۔ حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔ 
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَثَلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلاَهَا فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّونَ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلاَهَا فَتَأَذَّوْا بِهِ فَأَخَذَ فَأْسًا فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا مَا لَكَ قَالَ تَأَذَّيْتُمْ بِي ، وَلاَ بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ ، وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ
] صحيح البخاري ـ حسب ترقيم فتح الباري - 3 / 237[
اس روایت کے پیش نظر اگر ہم نے عذاب الہی سے بچنا ہے تو جس طرح خود نیکی کرتے ہیں اسی طرح دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرنی ہو گی ، جس طرح ہم خود برائی سے بچتے ہیں اوروں کا ہاتھ بھی روکنا ہو گا ورنہ پھر قہر الہی سے بچنا ناممکن ہے ۔ 
گناہوں پر ندامت اور سچے دل سے توبہ: 
عذاب سے بچنے کے ایک ایسا راستہ جس کی منزل یقینی طور پر رحمت خداوندی ہے وہ توبہ و استغفار ہے ۔ توبہ اللہ تعالی کو ایک ایسا محبوب عمل ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے اور بندوں کے اوپر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ قرآن و حدیث میں ان واقعات کو بیان کیا گیا ہے جن میں توبہ و استغفار کرنے والوں سے عذاب الہی کو دور کر گیا ہے ۔ مثلاً
فَلَوْلاَ كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلاَّ قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ آمَنُواْ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الخِزْيِ فِي الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ (98)
اس آیت کریمہ میں یونس علیہ السلام کی قوم کا تذکرہ ہے جن پر اللہ کا عذاب یقینی طور پر آنے والا تھا لیکن انہوں نے اللہ کی طرف توجہ کی اور توبہ کر کے اللہ کو راضی کر لیا تو ان سے عذاب ختم ہو گیا۔ 
اسی طرح سورت نوح ؑ میں بھی توبہ کو عذاب الہی کے ختم ہونے اور رحمتوں کے نزول کا سبب بتایا گیا ہے :
 فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا (12)
قرآن و حدیث کے بے شمار نصوص اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ توبہ سے بڑے سے بڑا عذاب ٹل سکتا ہے ۔ یہ مختصر سی تحریر ان کی متحمل نہیں ان شاء اللہ کبھی موقع ملا تو ان کو تفصیل سے بیان کر دیا جائے گا۔ 
صدقات سے عذاب کو ختم کرنا: 
احادیث مبارکہ میں عذاب الہی کو ختم کرنے اور اللہ تعالی کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے جن اعمال کا ذکر ملتا ہے ان میں سے ایک صدقات بھی ہیں۔ 
حدثنا عقبة بن مكرم العمي البصري حدثنا عبد الله بن عيسى الخزاز البصري عن يونس بن عبيد عن الحسن عن أنس بن مالك : قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الصدقة لتطفئ غضب الرب
] سنن الترمذي - شاكر + ألباني - 3 / 52[
ترجمہ: حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ اللہ کے غصہ کو بجھا دیتا ہے ۔ 
اس طرح کا مضمون کئی احادیث میں وارد ہوا ہے جس میں صدقات کو بلاؤں کو ٹالنے والا کہا گیا ہے او ر ان کے عذاب ٹلنے کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ اس لئے عذاب الہی سے بچنے کے صدقات کا بھی اہتمام کرنا چاہئے ۔ 
جہاد فی سبیل اللہ پر عذاب سے نجات کا وعدہ: 
قرآن و حدیث کے نصوص سے جہاں ہمیں دوسرے اعمال عذاب سے نجات کا ذریعہ معلوم ہوتے ہیں وہیں پر جہاد فی سبیل اللہ پر بھی اللہ کی طرف سے وعدہ ہے کہ یہ عذاب سے نجات دلائے گا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے ۔ 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (10) تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (11)
ترجمہ: اے ایمان والوں کیا میں تمھیں ایک ایسی تجارت نہ دکھا دوں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچائے گی۔ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرو یہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ 
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اللہ کے عذاب سے بچانے والا عمل ہے (جہاد کے لئے شرائط و احکام ہیں ان کو علماء سے معلوم کیا جائے )
گناہوں سے دل میں نفرت کی جائے : 
عذاب الہی سے بچنے کے لئے ایک اور اکسیر نسخہ یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی کو دل سے برا جانے اور کم از کم اس سے نفرت ضرور کرے ۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا : 
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلاَهُمَا عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ - وَهَذَا حَدِيثُ أَبِى بَكْرٍ - قَالَ أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلاَةِ مَرْوَانُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ الصَّلاَةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ. فَقَالَ قَدْ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ. فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ 
] صحیح مسلم ـ مشكول وموافق للمطبوع - 1 / 50[
ترجمہ: جب تم کسی برائی کو دیکھو تو اس کو ہاتھ سے روکو(اگر فساد کا خطرہ نہ ہو مثلاً ارباب حکومت یہ کام کرے تو کوئی فساد نہ ہو گا اگر عام آدمی کرے تو قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے بلکہ گناہ کو روکنے کی ممکنہ کوشش کرے اگر ہاتھ سے روکنے میں فساد کا اندیشہ ہو یا حکومتی رٹ کے خلاف کچھ ہو تو )اگر ہاتھ سے نہ روک سکے تو زبان سے روکے اور اگر زبان سے بھی نہ روک سکے (مثلاً اگر اس کو منع کیا تو جان یا مال کو خطرہ ہو وغیرہ تو)دل سے اس کو برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے آخری درجہ ہے ۔ 
بنی اسرائیل پر عام عذاب آنے کی ایک وجہ بھی یہ تھی کہ وہ گناہ کرنے کے باوجود ایسے لوگوں سے اپنے تعلقات قائم رکھتے اور ان سے اس گناہ کی وجہ سے قطع تعلق نہ کرتے ۔ صحیح مسلم میں واقعہ ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہے ۔ 
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ عَلِىِّ بْنِ بَذِيمَةَ عَنْ أَبِى عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَى بَنِى إِسْرَائِيلَ كَانَ الرَّجُلُ يَلْقَى الرَّجُلَ فَيَقُولُ يَا هَذَا اتَّقِ اللَّهِ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لَكَ ثُمَّ يَلْقَاهُ مِنَ الْغَدِ فَلاَ يَمْنَعُهُ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَقَعِيدَهُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ ضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ ». ثُمَّ قَالَ (لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِى إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ) إِلَى قَوْلِهِ (فَاسِقُونَ) ثُمَّ قَالَ « كَلاَّ وَاللَّهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدَىِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ قَصْرًا 
] سنن أبي داود ـ محقق وبتعليق الألباني - 4 / 213[
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں پہلا نقصان یہ داخل ہوا کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا اور اس کو گناہ کرتے ہوئے دیکھتا تو اس کو اس گناہ سے منع کرتا کہ یہ تیرے لئے حلال نہیں جب کل دوبارہ اس سے ملتا (اور وہ شخص اسی طرح اس گناہ میں مصروف رہتا)تو وہ بدستور اس خورد نوش میں شریک ہوتا (یعنی اس گناہ کی وجہ سے اس کے دلی محبت میں کمی نہ آتی)تو اللہ نے کے دلوں کو ایک جیسا کر دیا (جس کی وجہ سے سب پر عام عذاب نازل ہوا)۔ پھر آقا علیہ السلام نے پھر قرآن کی آیت لعن الذین کفرو تلاوت کی پھر فرمایا ہر گز نہیں تم ضرور بالضرور نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے منع کرو گے اور ظالم کے ہاتھ کو پکڑو گے اور اسے حق کے قبول کرنے پر مجبور کرنا ہو گا۔ 
ایک جگہ ایک روایت دیکھی تھی اب حوالہ ذہن میں نہیں رہا کہ ایک بستی پر عذاب نازل ہونے والا تھا فرشتے نے اللہ تعالی سے پوچھا کہ اس تو فلاں بندہ بھی ہے جس نے کبھی نافرمانی نہیں کی۔ تو اللہ نے اس پر بھی عذاب نازل کرنے کا حکم دیا کہ اس کے دل میں ایک دفعہ بھی یہ درد نہیں جاگا کہ اللہ کے احکامات کی نافرمانی ہو رہی ہے ۔ 
الغرض برائیوں کو دل سے برا جاننا اور ان سے نفرت کرنا اور اس کے روکنے کی مقدور بھر کوشش کرنا عذاب الہی سے بچنے کے ضروری ہے ۔ 
قرآن و حدیث کے ان فرمودات کو سامنے رکھ کر زندگی گزاری جائے تو امید ہے کہ اللہ کے عذاب سے نجات ملے گی اور دنیا اور آخرت میں کامیابی نصیب ہو گی۔ 
٭٭٭
 

     

حُسنِ ادب اور اُس کی اہمیت (دوسری اور آخری قسط).

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
 حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی ﷫

(٣) سفیان بن عینیہ اور فضل بن عیاض دونوںبزرگ حسین جعفی کے شاگرد تھے ان میں سے ایک نے حسین کا ہاتھ دوسرے نے پائوں چوما۔ (آداب شرعیہ ٢/٢٧٢)
(٤) امام احمد نے دائود بن عمر کی رکاب تھامی تھی ۔ 
(٥) خلف احمر کا بیان ہے کہ امام احمد میرے پاس ابو عوانہ کی مرویات سننے کے لیے آئے میں نے بہت کوشش کی کہ ان کو بلند جگہ پر بیٹھائوں مگر انھوںنے فرمایا کہ میں توآپ کے سامنے ہی (شاگردوں کی جگہ پر ) بیٹھوں گا ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم جس سے علم حاصل کریں اس کے لیے تواضع کریں ۔ (آداب شرعیہ ٢/ ٢٥)
(٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کسی صحابی کے پاس حدیث کا پتہ چلتا تو میں خود اُن کے دروازہ پر حاضر ہوتا تھا وہ اگر سوئے ہوتے تو میںباہر ہی اپنی چادر سر تلے رکھ کر پڑجاتا اور دھول پھانکتا رہتا جب وہ برآمد ہوتے اور فرماتے کیسے تشریف لائے آپ نے آدمی بھیج کر بلوا کیوں نہیں لیا تو میں کہتا میں ہی اس کا حقدار ہوں کہ حاضری دوں ۔ (آداب شرعیہ ٢/٢٧)
(٧) حضرت ابراہیم نخعی نے حماد بن ابی سلیمان (استاذ امام ابوحنیفہ ) کو ایک دن بازار گوشت لانے کے لیے بھیجا راستہ میں اتفاق سے ان کے والد مل گئے جوسواری پرچلے آرہے تھے ۔ حماد کے ہاتھ میں زنبیل دیکھ کر انھوںنے ان کو بہت ڈانٹا ا ور زنبیل چھین کر پھینک دی لیکن جب نخعی کے انتقال کے بعد طالبین حدیث حماد کے دروازہ پر حاضر ہوئے اور دستک دی تو حماد کے والد ہی ہاتھ میں شمع لے کر آئے طلبہ نے کہا ہم آپ کے پاس نہیں آئے بلکہ آپ کے صاحبزادے کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ، وہ اُلٹے پائوں اندر واپس آئے او رحماد سے کہا بیٹا تم اورلوگوں کے پاس جائو، میں سمجھ گیا، زنبیل ہی نے تم کو یہاں تک پہنچایا ۔( مقدمة نصب الرایہ ٣٤)
(٨) حماد بن سلیمان کی ہمشیرہ عاتکہ کہتی ہیں کہ امام ابوحنیفہ ہمارے گھر کی روئی دُھنتے تھے ہمارا دودھ اور ترکاری خریدتے تھے، اور اسی طرح کے اوربہت سے کام کرتے تھے اس واقعہ کو نقل کرکے علامہ کوثری فرماتے ہیں کہ طالب علمی میں اسلاف اس طرح خدمت گزاری کرتے تھے اور اسی سے انہوں نے علم کی برکت پائی۔(تقدمہ ٣٤)
(٩) خلال نے روایت کی ہے کہ امام احمد ایک بار حضرت وکیع کی خدمت میں آئے اس وقت ان کے پاس علمائے کوفہ کی ایک جماعت حاضرتھی ۔ امام احمد ادباً وتواضعاً وکیع کے سامنے بیٹھ گئے ،لوگوں نے کہا کہ شیخ تو آپ کی بہت عزت کرتے ہیں،امام احمد نے فرمایا کہ وہ میری عزت کرتے ہیں تو مجھ کو بھی توان کی تعظیم واحترام لازم ہے ۔ (آداب ٢/٤)
(١٠) امام ابو عبید فرماتے ہیں کہ میں کبھی کسی محدث کے دروازہ پرحاضر ہواتو اطلاع بھجواکر داخلہ کی اجازت نہیںمنگائی بلکہ بیٹھا انتظار کرتا رہا تاآنکہ وہ خود برآمدہوئے۔ میں نے ہمیشہ قرآن پاک کی اس آیت سے جوادب مستفاد ہے اس پر نظر رکھی ولو انھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیرالھم یعنی کاش وہ لوگ صبر کرتے تاآنکہ آپ باہر نکلتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ (آداب ِشرعیہ ٢/٤)
(١١) صاحب ِھدایہ فرماتے ہیں کہ بخارا کے ایک بہت بڑے امام اپنے حلقۂ درس میں درس دے رہے تھے مگر اثناء درس میں کبھی کبھی کھڑے ہوجاتے تھے جب اسکا سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ میرے استاذ کا لڑکا گلی میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے کھیلتے کھیلتے وہ کبھی مسجد کے دروازے کے پاس بھی چلا آتا ہے تو میں اُس کیلیے بقصدِ تعظیم کھڑا ہوجاتا ہوں ۔ (تعلیم المتعلم/٧)
(١٢) قاضی فخرالدین ارسابندی مرو میں رئیس الائمہ تھے ،بادشاہ وقت بھی ان کا بے حد احترام کرتے تھے وہ فرماتے تھے کہ میں نے یہ منصب صرف استاذ کی خدمت کے طفیل میں پایا ہے علاوہ اور خدمتوں کے تیس برس تک میں اپنے اُستادقاضی ابو زید دبوسی کا کھانا پکایا کرتا تھا اور کبھی اس میں سے کھاتانہ تھا۔
(١٣) خلیفہ ہارون رشید نے اپنے لڑکے کو علم وادب کی تعلیم کے لیے امام اصمعی کے سپرد کردیا تھا ،ایک دن اتفاقاً ہارون وہاں جاپہنچے دیکھا کہ اصمعی اپنے پائوں دھورہے ہیں اور شہزادہ پائوں پر پانی ڈال رہا ہے،ہارون نے بڑی برہمی سے فرمایا کہ میں نے تواس کو آپ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ اس کو ادب سکھائیں گے ،آپ نے شہزادوں کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی گرائے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پیر دھوئے۔
اُستاذ کے ساتھ عقیدت :
(١٤) حضرت مرزاجان ِجاناں نے علم حدیث کی سند حضرت حاجی محمد افضل صاحب سے حاصل کی تھی، مرزا صاحب کا بیان ہے کہ تحصیل علم سے فراغت پانے کے بعد حضرت حاجی صاحب نے اپنی کلاہ جو پندرہ برس تک آپ کے عمامہ کے نیچے رہ چکی تھی مجھے عنایت فرمائی ۔میں نے رات کے وقت گرم پانی میں وہ ٹوپی بھگو دی ، صبح کے وقت وہ پانی املتاس کے شربت سے بھی زیادہ سیاہ ہوگیا تھا میں اس کو پی گیا، اس پانی کی برکت سے میرا دماغ ایسا روشن اور ذہن ایسا رسا ہوگیا کہ کوئی مشکل کتاب مشکل نہ رہی۔ (مقامات ِمظہری ٢٩) 
بات چیت میں تمیز اورادب کی تعلیم :
(١٥) سلطان نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ ہمارے پیر حضر ت فرید گنج شکر رحمہ اللہ کے پاس ''عَوَارِفُ الْمَعَارِفْ'' کا جو نسخہ تھا اُس کا خط باریک تھا اور غلط بھی بہت تھا ۔شیخ جب اُس کو سامنے رکھ کر بیان فرماتے تو جگہ جگہ کچھ غور کرنا اور رُکنا پڑتا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ شیخ کے بھائی نجیب الدین متوکل کے پاس عوارف کا بہت عمدہ وصحیح نسخہ موجود ہے لہٰذا میں نے اس کو شیخ سے کہا ،شیخ کو یہ بات گراں گزری ،چند دفعہ فرمایا کہ جی ہاں اس فقیر کو غلط نسخہ کی تصحیح کی لیاقت نہیں ہے ۔پہلے تو میں نہیں سمجھا لیکن جب میری سمجھ میں آیا کہ میری نسبت یہ فرمارہے ہیں تو میں کھڑا ہوگیااوراپنے سر سے ٹوپی اُتارکر اپنا سرشیخ کے قدموں میں ڈال دیا اور عرض کیا کہ معاذاللہ میری یہ غرض نہیں تھی بلکہ میں نے وہ نسخہ دیکھا تھا یاد آگیا ،آپ سے عرض کیا لیکن میری معذرت کچھ مؤثر نہیں ہوئی ۔شیخ کے بشرہ سے ناخوشی کا اثر بالکل پہلے جیسا ظاہر ہوتاتھا، میں سخت حیرانی وپریشانی کی حالت میں مجلس سے باہر آیا ، اُس دن جو غم مجھ کو تھا وہ کسی کونہ ہو، جی چاہتا تھا کہ کنویں میںگرکے جان دے دُوں، میرے اس اضطراب کی خبر شیخ کے صاحبزادہ مولانا شہاب الدین کو ہوئی ،وہ مجھ سے بہت محبت فرماتے تھے انھوں نے میرا حال بہت اچھے انداز میں شیخ سے بیان کیا اُس وقت شیخ خوش ہوئے اور مجھ کو بُلا کر بڑی شفقت ومہربانی کا اظہار فرمایا اور ارشاد کیا کہ:''یہ سب میں نے تمہاری حالت کے کمال کے لیے کیاتھا کہ پیر مشاطۂ مرید ہے ''۔اس کے بعد شیخ نے اپنی خاص پوشاک سے مجھ کو سرفراز فرمایا ۔ (اخبار الاخیار / ٦٩)
(١٦) امام احمد کے پاس حضرت عبداللہ بن مبارک کے مولی (آزاد کردہ غلام )آئے،توامام نے ان کی طرف تکیہ بڑھادیا اور ان کی بڑی عزت کی ،امام کا معمول تھا کہ کوئی قابلِ عزت آدمی آتا تو اپنا تکیہ (یا مسند ) اُس کی طرف بڑھا دیتے تھے ۔ایک بار ابوہمام آپ کے پاس سواری پر آئے تو امام نے رکاب تھام لی (آداب شرعیہ ١/٤٧٠) 
(١٧) ایک بار حضرت وکیع ، امام سفیان ثوری کے لیے تعظیماً کھڑے ہوئے توانھوںنے اعتراض کیا، حضرت وکیع نے فرمایا کہ آپ ہی نے یہ حدیث نبوی مجھے سنائی ہے ''ان من اجلال اللّٰہ اجلال ذی الشیبة المسلم'' امام سفیان خاموش ہو گئے اور وکیع کا ہاتھ پکڑ کر اُن کو اپنے پہلو میں بٹھا لیا ۔( الاداب الشرعیہ١/٤٦٨)
(١٨) محدث کبیر امام ابوزرعہ نہ کسی کے لیے کھڑے ہوتے نہ کسی کو اپنے مسند پر بٹھاتے تھے مگر محدث ابن وارہ کے لیے یہ دونوں کام کرتے تھے ۔ (الاداب الشرعیہ١/٤٦٨)
(١٩) سلیمان بن عبدالملک امیرا لمؤمنین جب حج کو گئے تو اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر عطاء ابن ابی رباح کی خدمت میں مسائل پوچھنے کے لیے حاضر ہوئے۔ حضرت عطاء اُس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، سلیمان بیٹھے انتظار کرتے رہے ،جب عطاء فارغ ہوئے تو انھوں نے سلیمان کی طرف رُخ بھی نہیں کیا۔ سلیمان اسی طرح مناسک ِحج پوچھتے رہے جب پوچھ چکے تو اپنے بیٹوں سے کہا اُٹھو چلو، پھر کہا بیٹو! علم حاصل کرنے میں سستی نہ کرو، میں اس حبشی غلام کے سا منے اپنے ذلیل ہونے کو نہیں بھول سکتا۔ (صفوة الصفوة ٢/١١٩)
(٢٠) سعیدبن مسلم کہتے ہیں کہ جلالت وعظمت میں علم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ ابن داب انساب و اخبار کے حافظ تھے اور خلیفہ ہادی کے ندیم، مگر اس کے ساتھ یا اس کے سامنے کھانا نہیں کھاتے تھے۔ سبب پوچھا گیا تو کہا کہ میں ایسی جگہ کھانا نہیں کھاتا جہاں ہاتھ نہ دھوسکوں۔ خلفاء وملوک کے سامنے ہاتھ دھونا دربار کے آداب کے خلاف تھا۔ہادی کو معلوم ہوا تو اُس نے ان کو اپنے سامنے ہاتھ دھونے کی اجازت دی ،چنانچہ اور سب لوگ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد باہر جا کر ہاتھ دھوتے تھے اور ابن داب ہادی کے سامنے ہاتھ دھویا کرتے تھے۔(معجم الادباء ١٦/١٥٥)
(٢١) حاکم خراسان عبداللہ بن طاہر کے صاحبزادے طاہر اپنے باپ کی زندگی میں حج کو آئے تو اسحاق بن ابراہیم نے اپنے گھر پر علمائے مکہ کو مدعو کیا تاکہ طاہر اِن سے مل لے اور اِن سے کچھ پڑھے ۔ اس دعوت کو اور سب لوگوں نے تو قبول کیا اور ہر قسم کے اہلِ علم شریک مجلس ہوئے مگر ابوعبید رحمة اللہ علیہ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ''العلم یقصد'' یعنی علم کے پاس خود آناچاہیے ۔اسحاق اس جواب پرخفاہوگیااور عبداللہ بن طاہر کی طرف سے ابوعبید کو دوہزار درہم ماہانہ وظیفہ ملتا تھا اُس کو بند کردیا ،اور ابو عبید کے جواب کی اطلاع ابن طاہرکے پاس بھیج دی۔ ابن طاہر کو جب یہ اطلاع پہنچی تو اس نے اسحاق کولکھ بھیجا کہ ابوعبید نے بالکل سچی بات کہی ہے اور آج سے میںان کا وظیفہ دوچند کرتا ہوں ،تم اس پر عمل کرو اور اُن کا بقایا ادا کرو۔ (معجم الادباء ١٦/٢٦١)
تذکرة السامع کی ایک فصل کا خلاصہ :
قاضی القضاة امام بدرالدین بن جماعة نے تعلیم وتعلم کے آداب اور اُستادوشاگرد کے باہمی برتائو کے باب میں ایک نہایت جامع اورنفیس کتاب لکھی ہے ۔اس کے تیسرے باب کی دوسری فصل کا عنوان یہ ہے الفصل الثانی فی آداب مع شیخہ وقدوتہ وما یجب علیہ من عظیم حرمتہ ۔ (دوسری فصل استاذومقتداکے ساتھ ادب،اوراس احترام عظیم کے بیان میں جو شاگردپرواجب ہے) یہاں پر ہم اسی فصل کے مضامین کاخلاصہ پیش کرنا چاہتے ہیں :
(١) لازم ہے کہ شاگرد اپنے جملہ اُمور میں اپنے اُستاد کا مطیع ومنقادرہے ، اس کی رائے وتدبیر سے باہر نہ ہو، جس طرح بیمار حکیم حاذق کے ہاتھ میں ہوتا ہے اسی طرح اپنے کو اس کے ہاتھ میں دیدے ،جس بات کا قصد کرے اس میں مشورہ کرے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے، اس کے احترام میں مبالغہ اور اس کی خدمت کو قرب ِخداوندی کا موجب جانے اور یقین کرے کہ استاد کے سامنے ذلیل ہونا عزت ہے ،اس کے لیے جھکنا فخر ہے اوراس کے لیے تواضع سربلندی۔امام شافعی کو کسی نے ملامت کی کہ علماء کے لیے اس قدر کیوں تواضع کرتے ہیں؟تو فرمایا :
اھین لھم نفسی فھم یکرمونھا
ولن تکرم النفس التی لا تھینھا
یعنی میں اپنے کواُن کے آگے ذلیل کرتا ہوں تووہ میری عزت افزائی کرتے ہیں اور جس نفس کو تو ذلیل نہ کرے اُس کی عزت نہیں ہو سکتی۔
حضرت ابن عباس نے باوجود اپنی بزرگی ومرتبہ کے (کہ خاندان نبوت میں سے تھے اور رسول خدا ۖکے چچا زاد بھائی ) حضرت زید بن ثابت انصاری کی رکاب اپنے ہاتھ سے تھامی اور فرمایا کہ ہم کو اپنے علماء کے ساتھ ایسا ہی برتائو کرنے کا حکم ملا ہے۔ حضرت امام احمد (باوجود اپنی دینی وعلمی عظمت وامامت کے)جب خلف احمر لغوی کی مجلس میں جاتے تو فرماتے کہ میں آپ کے سامنے ہی بیٹھوں گا (یعنی شاگردوں کی طرح بیٹھوں گا،برابر نہیں بیٹھ سکتا)ہم کو یہی حکم ہے کہ جس سے علم سیکھیں اس کے لیے تواضع کریں۔
(٢) اپنے اُستاذ کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھے اوراُس کے کمال کاپختہ اعتقاد رکھے۔ سلف میں بعض حضرات یہ دعا کرتے تھے کہ خدا وندا !میرے اُستاذ کا عیب مجھ پر ظاہر نہ ہو کہ اس سے بے اعتقادی پیدا ہو کر میرے پاس سے اس کے علم کی برکت جاتی رہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں امام مالک کے سامنے ورق بھی بہت آہستہ اُلٹتا تھا کہ اس کی آواز اُن کو سنائی نہ دے۔ امام ربیع فرماتے ہیں کہ امام شافعی کی نظر کے سامنے مجھ کو کبھی پانی پینے کی جرأت نہ ہوئی۔
خلیفہ مہدی کا کوئی لڑکا قاضی شریک کے پاس آیا اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔پھر اُس نے ایک حدیث پوچھی ، شریک نے کچھ توجہ نہیں کی ، اُس نے پھر پوچھا، انھوںنے پھر توجہ نہیں کی ، تب اُس نے کہا آپ خلفاء کی اولاد (شہزادوں ) کی بے حرمتی کرتے ہیں ۔شریک نے فرمایا کہ ہاں مگر علم اللہ کے نزدیک اِس سے کہیں برتر ہے کہ میں اس کو برباد کروں۔
اپنے استاذکو دور سے نہ پکارے، اور یا سیدی، یا اُستاذی اور ایھا العالم ، ایھا الحافظ کہہ کے پکارے ،عربی میں جمع کا صیغہ ماتقولون اور مارأیکم اختیار کرے ۔اس کی غیبوبت میں بھی تعظیمی القاب کے ساتھ اُس کا ذکر کرے، تنہا نام نہ لے۔
(٣) اُس کا حق پہچانے اور کبھی اس کا احسان نہ بھولے ،امام شعبہ کا ارشاد ہے کہ میں ایک حدیث بھی کسی سے سن لیتا ہوں تو اُس کی زندگی بھر کے لیے اُس کا غلام بن جاتاہوں ۔ تعظیم اُستاد میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اُس کی غیبت کرے تو تم تردید کرو، اوراستاد کی حمایت کرو اور اگر یہ نہ کرسکو تو اس مجلس سے اُٹھ جائو وینبغی ان ید عولہ مدة حیاتہ ویرعی ذریتہ واقاربہ واولادہ بعد وفاتہ ویتعمد زیارة قبرہ والاستغفار لہ والصدقة عنہ ویسلک فی السمت والھدی مسلکھم ویراعی فی العلم والدین عادتہ ویقتدی بحرکاتہ وسکناتہ فی عاداتہ وعباداتہ یعنی شاگرد کو چاہیے کہ استاد کی زندگی بھر استاد کے لیے دعا کرے اورمرنے کے بعد اُس کی اولاد اوررشتہ داروں اور اُس کے دوستوں کا لحاظ کرے اور بالقصد اُس کی قبر کی زیارت، اُس کے لیے استغفاراور اُس کی طرف سے صدقہ کرے اوراس کے چال ڈھال کی پیروی کرے،علم ودین میں اُس کی عادات کا لحاظ ،اور خواہ عبادت ہو یا عادت ہرایک میںاس کے حرکات وسکنات کی اقتداکرے۔
جس طرح سے امام ابودائود امام احمد کے ، اور وہ وکیع کے ، اور وہ سفیان کے اوروہ منصور کے ، اور وہ ابراہیم نخعی کے اور وہ علقمہ کے ،اور وہ حضرت ابن مسعود کے،اوروہ رسول ِخدا ۖ کے مشابہ تھے، نشست وبرخاست میں رفتاروگفتار میں۔
(٤) اُستاد سے سخت مزاجی یا بد خلقی بھی صادر ہوتو صبر کرے ،اور ا س کی وجہ سے اُس کے پاس آنے جانے میں یا عقیدت میں فرق نہ پڑنے پائے ۔ لازم ہے کہ اس کے فعل کی کوئی عمدہ تاویل کرے اوراس سختی وبدمزاجی کے موقع پر اپنے ہی کو قصوروار قراردے اور معذرت میں سبقت کرے اور اپنی حرکت سے توبہ واستغفار کرنا ظاہر کرے،اسی میں شاگرد کی دنیا وآخرت کانفع ہے۔ امام معانی بن عمران نے فرمایا کہ جو عالم پر خفا ہوتا ہے اُس کی مثال اُس شخص کی ہے جو جامع مسجد کے کھمبوں پر خفاہو۔
ابن عینیہ سے کسی نے کہا کہ یہ طالب علم لوگ اتنی دُور دُور سے آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ اِن پرخفا ہوتے ہیں کہیں وہ آپ کو چھوڑ کر چل نہ دیں۔ابن عینیہ نے کہا وہ تمہارے ہی جیسے احمق ہوں گے اگر میری بدخلقی کی وجہ سے اپنے نفع کی چیز چھوڑدیں۔
امام ابو یوسف نے فرمایاکہ انسان پر عالم کی مدارات واجب ہے یعنی اُس کی تندی وسختی کو اپنی نرمی سے دفع کرنا۔ 
(٥) اُستاد کوئی اچھی بات بتائے یا کسی بری بات پر تنبیہ کرے تو اُس کی شکر گزاری ضروری ہے اورجب وہ کوئی نکتہ بتائے توتمہیں اگر پہلے سے وہ معلوم ہے جب بھی یہ ظاہر نہ کرو کہ یہ تو مجھ کو پہلے سے معلوم ہے ۔
(٦) اُستاد کے دروازہ پر ا دب کے ساتھ آہستہ دستک دے۔ پہلے ناخنوں سے دستک دے، نہ کام چلے تو انگلیوں سے، ہاں اگر دُور رہتا ہو تو بقدرِضرورت دستک کی آواز بڑھا سکتا ہے ۔اُستاد کے پاس گیا اوروہاں کچھ لوگ اُس سے بات کررہے ہوں اور اُس کو دیکھ کر خاموش ہوگئے تو یہ جلدی سے اُٹھ کرچلاآئے الایہ کہ اُستادخود مزید ٹھہرنے کے لیے کہے ۔اُستاد سورہا ہے تو اُس کو جگائے نہیں بلکہ انتظار کرے۔ حضرت ابن عباس حضرت زید کے دروازہ پر بیٹھے اُن کا انتظار کرتے رہتے تھے، لوگ کہتے کہ جگادیا جائے تو فرماتے کہ نہیں ،حالانکہ کبھی کبھی دیر تک انتظار کرنے کی وجہ سے دھوپ کی تکلیف برداشت کرنا پڑتی۔
(٧) اُستاد کے سامنے نہایت ادب سے بیٹھے جس سے تواضع وخضوع اورسکون وخشوع مترشح ہوتا ہو ، اورہمہ تن اُس کی طرف متوجہ ہو، بلاضرورت دائیں بائیں اُوپر نیچے نہ دیکھے ،کوئی شورسن کر مضطرب نہ ہو جائے، اُستاد کے پاس بیٹھا ہواآستین نہ چڑھائے ،ہاتھ پیر سے نہ کھیلے، ڈاڑھی اورمنہ پر ہاتھ نہ رکھے ،ناک نہ کریدے،دانتوں پر ناخن سے نہ مارے، زمین پر ہاتھ نہ ٹیکے، اس پر لکیر نہ بنائے، انگلی نہ چٹخائے، گھنڈی یا بٹن سے نہ کھیلے، اُس کے سامنے کسی چیز سے ٹیک نہ لگائے، کسی چیز پر ہاتھ ٹیک کے نہ بیٹھے ، ہاتھ پر ٹیک لگائے پیچھے کو جھکا ہوا نہ رہے، اُس کی طرف پیٹھ یا پہلو نہ کرے، زیادہ بات نہ کرے، بے ضرورت کھنکھارے نہیں ، نہ تھوکے ، نہ بلغم نکالے، چھینکے تو منہ چھپا کے بہت آہستہ سے۔
طلبہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں :
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حقوق ِعالم کے باب میں جو نصیحتیں کی ہیں اُن میں ایک یہ ہے کہ عالم کو کوئی کام پیش آئے تو تم اُس کا کام کرنے کے لیے سب سے آگے بڑھو، اُس کی مجلس میں آہستہ آہستہ بات کرو، خدا کے واسطے اس کی توقیر کرو، اُس سے لغزش ہو جائے تو اُس کی معذرت قبول کرو۔
دوسرے بزرگوں نے فرمایا کہ اُستاد کے پہلو میں نہ بیٹھو ، وہ کہے تب بھی نہ بیٹھو مگر جب جانو کہ نہ بیٹھنے سے اُس کو صدمہ ہوگا تب مضائقہ نہیں ہے۔
(٨) اُس کے ساتھ بڑے ادب سے گفتگو کرے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ اس سے لِمَ ؟ (کیوں) نہ کہے، اسی طرح لَا نُسَلِّمُ (ہم نہیں مانتے )یا مَنْ نَقَلَ ھٰذٰا (اس کو کس نے نقل کیا ہے) یا اَیْنَ مَوْضِعُہ (یہ کہاں لکھا ہے) یہ الفاظ نہ بولے۔
بعض سلف نے فرمایا کہ جو اپنے استاد سے لِمَ (یعنی یہ کیوں؟ ) کہے وہ کبھی فلاح نہ پائے گا، اُستاد سے بات کرنے میںاِس کا خیال رکھے کہ اس طرح کے الفاظ نہ آنے پائیں سمجھا؟ ہے نا؟ وغیرہ۔
(٩) جو بات تم کو معلوم ہے اُس کو بھی اُستاد کی زبان سے اس طرح سنو جیسے تمہیں معلوم نہ تھی اور اس کی طلب تھی اوراس پر خوشی کا اظہار کرو بلکہ اگر اس کو شروع کرنے کے بعد تم سے پوچھے کہ تم کو معلوم ہے تو یوں جواب دو کہ میں حضرت کی زبان سے اس کو سننا چاہتا ہوں یا جناب جو بات فرمادیں گے وہ زیادہ صحیح ہوگی وغیرہ وغیرہ ۔
(١٠) اُستاد کو کوئی خط ،درخواست یا استفتاء وغیرہ تہ کیا ہوا نہ دے کہ اس کو کھولنے کی زحمت ہو، اسی طرح کتاب دے تو اُلٹی نہ دے ،کوئی خاص مقام دکھانا ہوتو وہ مقام نکال کردے اور جگہ بتادے۔ اُستاد کوئی چیز دیتا ہو تو اس طرح نہ لے کہ خود اُستاد کو ہاتھ بڑھانا یا کھسکنا پڑے ۔اسی طرح کوئی چیز اس سے لینے کے لیے کھسک کرنہ جائے بلکہ کھڑے ہوکراور اپنے پیر یا ہاتھ وغیرہ سے اُستاد کے کپڑوں کو نہ دبائے ، قلم دے تو روشنائی میں ڈبو کر ، دوات سامنے رکھے تو کھول کر ، اُستاد کے سامنے خود مصلیٰ پر نہ بیٹھے ،اُستاد مجلس سے کھڑا ہوتو فوراً اُس کا جوتا پیش کرے یا سیدھا کرے، یا کسی اعانت کا محتاج ہوتو اُس اعانت کے لیے شاگردوں کو مبادرت کرنی چاہیے۔
(١١) اُستاد کے ساتھ رات کو آگے اوردن کو پیچھے چلے، مگر جب کہ اس کے خلاف میں کوئی دوسری مصلحت ہو تو خلاف میں مضائقہ نہیں۔ نامعلوم مقامات میںجیسے کیچڑ کی جگہ ، ناپدان ، نالی وغیرہ کے پاس خود آگے بڑھ جائے۔ آگے چلے تو ہر تھوڑی دیر کے بعد مڑ کر اُستاد کو دیکھ لے، اُستاد کی رائے غلط بھی ہوتو یہ نہ کہے کہ غلط ہے یا یہ رائے ٹھیک نہیں ہے بلکہ اِس طرح کہے کہ مجھ کویوں کرنے میں مصلحت معلوم ہوتی ہے ۔ (تذکرة السامع والمتکلم از ٨٧ تا ١١٢)
الآداب الشرعیہ ٢/١٧٩ میں ابن الجوزی کے حوالہ سے چند آداب مذکور ہیں۔از انجملہ یہ کہ جب محدث کوئی ایسی حدیث بیان کرے جس کو سامع طالب علم پہلے سے جانتا ہے تو اُس کو اس میںمداخلت نہ کرنی چاہیے ۔ حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ کبھی کبھی بعض نوجوان مجھ سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں اور میں اُس کو اِس طرح سنتاہوں جیسے وہ میرے کان میں نہیں پڑی ہے حالانکہ میںاس کو اس نوجوان کی پیدائش سے پہلے سن چکاہوں۔ ابن وہب بھی اپنی عادت یہی بیان کرتے تھے۔ حضرت عطائ کی مجلس میں ایک شخص نے ایک حدیث بیان کرنی شروع کی، ایک دوسرا شخص بیچ میں دخل دینے لگا توانھوں نے فرمایا مَا ھٰذِہِ الْاَخْلَاقْ مَا ھٰذِہِ الْاَخْلَاقْ میں تو بعض آدمیوں کی زبانی ایک حدیث سنتاہوں اور اس کوبیان کرنے والے سے زیادہ جانتا ہوں پھر بھی اس طرح سنتا ہوں جیسے مجھے کچھ نہیں معلوم۔(صفة الصفوة ٢/١٢١)
خالد بن صفوان نے کہا جب تمہارے سامنے کوئی آدمی تمہاری سنی ہوئی حدیث یا جانی ہوئی خبر بیان کرے تو یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ میں اِس کوجانتا ہوں اس میں شرکت نہ کرومثلاً بیچ بیچ میں بول نہ پڑو کہ ایساکرناخفیف حرکت اور بے ادبی ہے ۔ 
ازانجملہ یہ ہے کہ جب طالب علم کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو صبر کرے تا آنکہ اُستاد کی بات ختم ہو ،اُس کے بعد ادب اور نرمی سے پوچھے، درمیان میں اُن کی بات نہ کاٹے ۔ایک حکیم نے اپنے لڑکے کو نصیحت کی حُسنِ کلام کی طرح حُسنِ استماع بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اور حسنِ استماع یہ ہے کہ متکلم کو اپنی بات پوری کرنے کی مہلت دو،اور اپنا منہ اور نگاہ اُس کی طرف متوجہ رکھو اور کوئی بات تمھیں معلوم بھی ہو تو دخل مت دو خاموشی سے سنو۔
از انجملہ یہ ہے کہ دوسرے سے کوئی مسئلہ یا بات پوچھی جارہی ہوتو تم مجیب نہ بن جائو ۔ حکیم لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اِیَّاکَ اِذَسُئِلَ غَیْرُکَ اَنْ تَکُوْنَ الْمُجِیْبُ خبر دار! دوسرے سے سوال ہوتو تم مجیب نہ بنو۔ ابن ِبطہ کہتے ہیں میں ابو عمر زاہد کی مجلس میں تھا ،کسی نے اُن سے ایک مسئلہ پوچھا ، میں نے پیش قدمی کرکے جواب دے دیا، تو ابو عمر نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آپ فضولیات کے ماہر معلوم ہوتے ہیں ، یہ سن کر میں بہت شرمندہ ہوا۔
اسی کتاب الآداب الشرعیہ میں ہے کہ ابو عبیدفرماتے تھے علم کا شکریہ بھی ہے کہ تم جب کسی سے علمی مذاکرہ کرو، اوراُس مذاکرہ سے تم کو نئی معلومات حاصل ہوں تو بعد میںجب کبھی ان معلومات کا ذکر آجائے تو تم کو صاف صاف کہنا چاہیے کہ مجھے ان کی نسبت کچھ معلوم نہ تھا،تا آنکہ فلاں سے مذاکرہ ہوتو اُس نے مجھے یہ بتایا،ایسا کروگے تو علم کا شکریہ ادا ہوگااِس طرح بیان نہ کرو کہ گویا تم اپنی طرف سے یہ تحقیق بیان کررہے ہو۔ (٢/١٧٩) 
اسی کتاب میں امام شافعی سے منقول ہے کہ اس علم کو کوئی حکومت اور عزتِ نفس سے حاصل کرکے فلاح نہ پائے گا ،ہاں جواِس کو ذلت نفس اور عسرت برداشت کرکے اور علم کی خدمت اور تواضع کرکے حاصل کرے وہ فلاح پائے گا ۔ (الآداب الشرعیہ ٢/٢٧)
اصمعی سے منقول ہے کہ جو آدمی شاگردی کی ذلت تھوڑی دیر برداشت نہ کرے وہ جہالت کی ذلت میں عمر بھر گرفتار رہے گا۔ ابن المعتز نے کہا کہ جو طالب متواضع ہوگا اُسی کو زیادہ علم حاصل ہوگا ،جس طرح پست جگہ میں زیادہ پانی اکٹھا ہوتا ہے ۔حضرت زین العابدین مسجد میںآتے تو انبوہ میںگھس کر زید بن اسلم (حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام )کے حلقہ میں جا بیٹھتے، کسی نے ٹوکا تو فرمایا کہ علم کی شان یہی ہے اُس کے پاس آیا جائے اورطلب کیا جائے جہاں کہیں بھی ہو ۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ایک دن امام اعمش کسی طالب علم پر غضبناک ہو گئے ،دوسرے طالب علم نے کہا مجھ پر اِس طرح خفا ہوتے تو میںان کے پاس بھی نہ آتا ، یہ سن کر امام اعمش نے فرمایا کہ تمہاری طرح وہ بھی احمق ہے کہ میری کج خلقی کی وجہ سے اپنے نفع کی چیز چھوڑبیٹھے۔(الآداب الشرعیہ٢/٢٨۔٢٩)
علامہ ابن الجوزی نے فرمایا کہ اپنے سے زیادہ عمر یا علم والے کی موجودگی میں تحدیث ِنعمت نہ کرے ۔امام شعبی جب ابراہیم نخعی کے ساتھ ہوتے تھے تو ابراہیم کلام نہیں فرماتے تھے ۔امام سفیان ثوری نے ابن عینیہ سے ایک بار فرمایا کہ آپ حدیث کیوں نہیںسناتے یعنی روایت حدیث کا مشغلہ کیوں نہیں اختیار فرماتے ؟ تو انھوں نے کہا کہ آپ جب تک زندہ ہیں اُ س وقت تک تو یہ نہ کروں گا۔ حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ میں عہدنبوی میں لڑکا تھا جوسنتا تھا محفوظ ہوجاتا تھایعنی معلومات کی کمی نہیں ہے مگر میں خاموش رہتا ہوں کہ مجھ سے معمر صحابہ موجود ہیں، ابن ہبیرہ نے کہا کہ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ نوعمروں کے لیے شیوخ کی توقیر متعین ہے۔(الآداب الشرعیہ ٢/١٤٧)
ابن معین نے فرمایا کہ جو شخص ایسے شہر میںحدیث بیان کرے( حلقۂ تحدیث قائم کرے)جہاں اس سے بہتر محدث موجود ہووہ احمق ہے، انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ جس شہر میں علی بن مسہر جیسا محدث موجود ہو وہاں میں محدث بنوں تو میں اِس لائق ہوں کہ میری ڈاڑھی مونڈ دی جائے۔ (الآداب الشرعیہ ٢/٧٠)
بہت اختصار کے ساتھ چند متفرق باتوں کو یکجا کرکے میں نے یہاں پیش کیاہے اگر استیعاب کا ارادہ کیا جائے تو بہت طوالت ہوجائے گی ۔وفی ھذا القدر کفایة۔( بشکریہ ماہنامہ ندائے شاہی ،انڈیا)٭