‏رد بریلویت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏رد بریلویت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 11 مارچ، 2019

ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت کا جائزہ (چوتھی اور آخری قسط)

مولانامفتی نجیب اللہ عمر ﷾(کراچی، پاکستان)

(۲۱)  ’’اٰخرالنبین‘‘کو ’’آخر الانبیاء ‘‘سے بدل دیا
احمد رضا خان ایک روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’شب معراج رب العزۃ جل جلالہ نے حضور اقدسﷺ سے ارشاد فرمایا :اغم علیک ان جعلتک آخر الانبیائ‘‘ ترجمہ احمد رضا:کیا تمہیں اس بات کا غم ہوا کہ میں نے تمھیں سب سے پچھلا نبی کیا عرض کی نہیں ۔ارشاد فرمایا کہ تمھاری امت کو اس بات غم ہوا کہ میںنے انہیں سب سے پچھلی امت کیا۔عرض کی نہیں اے رب میرے ۔ارشاد فرمایا: میں نے انہیں اس لئے سب سے پچھلی امت کیا کہ سب امتوں کو ان کے سامنے رْسوا کروں اور انھیں کسی کے سامنے رُسوانہ کروں‘‘ ۔ (ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۸۶نوری کتب خانہ لاہور)
اصل حدیث کے الفاظ:
الخصائص الکُبْریٰ ،باب کلامہ للہ عزوجل عند سدرۃ المنتھی جلد ۲ ص  ۳۳۱
’’ھل غمک ان جعلْتک اٰخِرالنبیِّیْن‘‘
حدیث کے نقل میں غلطیاں:
(۱) اس حدیث میں احمد رضا خان ’’ھَلْ‘‘کو ’’أَ‘‘سے تبدیل کردیا۔
(۲) اور ’’غمک‘‘کو ’’غم علیک‘‘سے بدل دیا
(۳)  اور’’آخر النبیین‘‘کو ’’آخر الانبیائ‘‘سے تبدیل کر دیا۔
(۲۲)  ’’ولا صورۃ‘‘کو ’’اوتصاویر‘‘سے بدل دیا:
عرض :کُتّے کا رواں تو ناپاک نہیں۔ ارشاد: صحیح یہ ہے کہ کتے کا صرف لعاب نجس ہے لیکن بلا ضرورت پالنا نہ چاہیے کہ رحمت کا فرشۃ نہیں آتا۔ حدیث صحیح ہے کہ جبریل کل کسی وقت حاضری کا وعدہ کر کے چلے گئے دوسرے دن انتظار رہا مگر وعدہ میں دیر ہوئی اور جبریل حاضر نہ ہوئے سرکار باہر تشریف لائے ملا حظہ فرمایاکہ جبریل ؑ در دولت پر حاضر ہیں ۔فرمایا کیوں ۔ عرض کیا ’’انالاند خل بیتاًفیہ کلب او تصاویر‘‘ رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں آتے جسمیں کتا ہو یا تصویر ہو اندر تشریف لائے سب طرف تلاش کیا کچھ نہ تھا۔پلنگ کے نیچے ایک کتے کا پلّا نکلا اسے نکالا تو حاضر ہوئے ۔ (ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۹۲نوری کتب خانہ لاہور) حدیث کے اصل الفاظ:
’’انا لاندخل بیتافیہ کلب ولاصورۃ‘‘
(سنن ابی داؤد  ص  ۲۱۹  ج  ۲  کتاب اللباس ،باب فی الصور  حدیث  ۴۱۵۷)
غلطی کی نشاندہی:
احمد رضا نے اس حدیث میں ’’ولا صورۃ ‘‘واحد کو تصویر کی جمع ’’اَوْ تصاویر‘‘سے بدل دیا۔
(۲۳)  ’’اِنْ یَکُ‘‘کو ’’انْ یَکْنُ‘‘ کردیا:
عرض :بعض علی گڑھی کو سید صاحب کہتے ہیں۔
ارشاد:وہ تو ایک خبیث مرتد تھا۔حدیث میں ارشاد فرمایا:
’’لا تقولوا للمنافق سیداً فانہ ان یکن سید کم فقداسخطتم ربکم ‘‘
ترجمہ احمد رضا :منافق کو سید نہ کہو کہ اگر وہ تمہارا سید ہواتو یقینا تم نے اپنے رب کو غضب دلایا‘‘۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۹۳نوری کتب خانہ لاہور)
اصل حدیث کے الفاظ:
’’قال رسول اﷲﷺ لاتقولوا للمنافق سیداً فانہ ان یک سید کم فقدا اسخطتم ربکم عزوجل‘‘۔
(سنن ابی داؤد  ص ۳۳۸  جلد  ۲  کتاب الادب  باب لایقول المملوک ربّی وربّتی حدیث  ۴۹۷۷)
غلطی کی نشاندہی:
احمد رضا خان نے اس حدیث میں لفظ’’اِنْ یَکُ‘‘کو ’’ان یکن ‘‘سے تبدیل کر دیا۔
(۲۴)  ’’التابعۃ ‘‘کو ’’متتابعۃ ‘‘سے تبدیل کر دیا:
احمد رضا خان اپنے نسب کو دوسرے کی طرف منسوب کرنے کی وعید ان لفظوں میں سناتے ہیں :
تیسری حدیث میں فرمایا’’فعلیہ لعنۃ اللہ متتابعۃ الیٰ یوم القیامۃ ‘‘
ترجمہ احمد رضا:اس پر اللہ کی پے در پے قیامت تک لعنت ہے‘‘۔۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۹۵نوری کتب خانہ لاہور)
اصل حدیث کے الفاظ:
حلانکہ اس حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’فعلیہ لعنۃ اللہ التابعۃ الیٰ یوم القیامۃ ‘‘(عن جریر عن ابن عباس)
(کنز العمال ،کتاب الدعوی ،باب دعویٰ النسب ولحاق الولد  حدیث  ۱۵۳۱۹ ج  ۶  ص  ۷۹)
غلطی کی نشاندہی:
اس جگہ احمد رضا خان نے لفظ ’’التابعۃ‘‘کو ’’متتابعۃ‘‘سے تبدیل کر دیا۔
(۲۵)  لفظِ اللہ کو حذف کر دیا اور۔۔۔
حدیث میں ارشاد ہوا :کوئی شخص بغیر اللہ کی رحمت کے اپنے اعمال  سے جنت میں نہیں جاسکتا صحابہ نے عرض کی ’’ولا انت یا رسول اللہ ‘‘آپ بھی نہیں یا رسول اللہ ۔ارشاد فرمایا ’’ولا انا الاان یتغمدنی رحمتہ‘‘اور میں جب تک میرا رب رحمت نہ فرمائے’’۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۹۶نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
اس حدیث کا یہ جملہ اصل حدیث میں اسطرح ہے:
’’ولا انا الاان یتغمدنی اللہ برحمۃٍ‘‘
(بخاری  ص  ۹۵۷ جلد ۲کتاب الرفاق باب القصرد المداومۃ  حدیث  ۶۴۶۳)
غلطیوں کی نشاندہی:
اس حدیث میں احمد رضا نے لفظ ’’اللہ ‘‘کو حذف کردیا اور ’’برحمۃ‘‘کو ’’رحمتہ ‘‘سے تبدیل کر دیا۔
(۲۶) ’’تُبْصِرْ‘‘ کو ’’تَریٰ‘‘سے اور’’تَنْسیٰ‘‘کو’’ لَاتَریٰ‘‘سے بدل دیا:
عرض:زید نے ایک شخص کو پوشیدگی میں گناہ کرتے دیکھا اب یہ اس کے پیچھے اقتداء کر سکتا ہے یا نہیں۔
ارشاد: کر سکتا ہے اپنے کو دیکھے اگر اس نے کبھی گناہ نہ کیا ہو تو نہ پڑھے حدیث میں ہے ’’تری القذاۃ فی عین اخیک و لا تری الجذع فی عینیک‘‘
(ہاں فاسق معلن کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ ہے)
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ سوم صفحہ۳۰۱نوری کتب خانہ لاہور)
اصل حدیث کو الفاظ:
جبکہ اس حدیث کے الفاظ اس طرح وارد ہیں:
’’تبصر القذاۃ فی عین اخیک و تنسی الجذع فی عینک ‘‘
(المقاصد الحسنہ حرف التاء المثناۃ حدیث  ۳۱۴  ص  ۱۵۸  دار الکتب العلمیہ بیروت)
حدیث کے نقل میں غلطیاں:
(۱)احمد رضا نے پہلے جملے ’’تبصرہ ‘‘کو ’’تری‘‘سے بدل دیا۔
(۲) اور آگے لفظ’’لاتریٰ‘‘کو لفظ’’تنسیٰ‘‘سے تبدیل کر دیا۔
(۲۷)  حدیث میں کمی اور تبدیلی کی ایک اور غلطی:
حدیث میں ارشاد ہوا:
’’اذا ظھرت الفتن اوقال البدع ولم یظھر العالم علمہ فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین لا یقبل اللہ منہ صرفاً ولا عدلاً‘‘
ترجمہ احمد رضا:   جب فتنے یا بد مذھبیاں ظاہر ہوں اور عالم اپنا علم ظاہر نہ کرے تو اس پہ اللہ اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت اللہ نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ چہارم صفحہ۳۰۶نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
حالانکہ اس حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
’’اذاظھرت الفتن  او  قال البدع فلیظھرالعالم علمہ ومن لم یفعل ذلک فعلیہ لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اللہ صرفاً ولا عدلاً‘‘۔
(الجامع لاخلاق الراوی وآداب  ص  ۳۰۸  باب اذا ظھرت الفتن  حدیث  ۱۳۶۶)
نقل حدیث میں غلطیاں:
(۱)اس حدیث میں جملہ ’’فلیظھر ‘‘(امر غائب)کو احمد رضا نے ’’ولم یظھر ‘‘(فعل مضارع نفی جحد بلم)سے تبدیل کر دیا۔
(۲) اور اگلے جملے ’’ومن لم یفعل ذالک ‘‘کو بالکل غائب کر دیا۔
(۳)  اور ترجمہ بھی ان الفاظ کا کر دیا جو احمد رضا نے نقل کئے ہیں ۔لھٰذا اس غلطی کو کسی اور کی جانب منسوب کرنا ایک حقیقت کا انکار کرنا ہوگا۔
(۲۸)  الفاظِ حدیث میں تبدیلی اور حذف:
عرض :زمزم شریف بھی تین سانسوں میں پینا چاہئے۔
ارشاد:ہاں ہر چیز کا یہی حکم ہے حدیث میں ارشاد ہوا:
’’مصوہ مصاً ولا تعبوہ عباً فان منہ الکباد‘‘
ترجمہ احمد رضا:چوس چوس کر پیو غٹ غٹ کر کے بڑے بڑے گھونٹ نہ لگاؤ۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ چہارم صفحہ۳۰۸نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
اس حدیث کے اصل الفاظ ا سطرح ہیں:
’’فاشر بوامصاً ولا تشربوا عباًفان العب یورث الکباد‘‘
(الجامع الصغیر حدیث  ۷۱۰  ج  ۱  ص  ۴۹)
غلطیوں کی نشاندھی:
(۱) احمد رضا نے ’’فاشربوہ‘‘کے لفظ کو ’’مصوہ‘‘سے بدل دیا۔
(۲) اور ’’ولا تشربوا ‘‘کو ’’ولا تعبوہ‘‘سے بدل دیا۔
(۳) ’’فان العبَّ یورث الکباد‘‘کو خان صاحب نے ’’فان منہ الکباد‘‘سے تبدیل کردیا۔
(۲۹)  لفظ بدلنے کی خصلت:
احمد رضا ایک حدیث یوں نقل کرتے ہیں:
حدیث میں ارشاد ہوا:’’لیل تھامّۃ لا حرولابرد ولا خوف ولا ساٰمۃ ‘‘
ترجمہ احمد رضا:مدینہ کی رات میں نہ گرمی ہے نہ سردی نہ خوف نہ ملال‘‘۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ چہارم صفحہ۳۰۹نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
اس حدیث کے اصل الفاظ اس طرح ہیں:
’’لیل تھامۃ لا حرولا مخافۃ ولا سامۃ‘‘
(مجمع الزوائد ،کتاب النکاح ،باب عشرہ النساء حدیث  ۲۶۸۷  ج  ۴  ص  ۵۸۰)
غلطی کی نشاندھی:
اس حدیث میں لفظ ’’مخافۃ ‘‘کو ’’خوف ‘‘سے بدل دیا۔
(۳۰)  حدیث کے نقل میں بے شمار غلطیاں
احمد رضا لکھتے ہیں:
جو اپنے نفس پراعتماد کرے  اس نے بڑے کذاب پر اعتماد کیا ۔  حدیث میں ہے ’’القلوب فی اصبعی الرحمٰن یصرفھا کیف یشاء ‘‘
ترجمہ احمد رضا :انسان کے دل رحمٰن کے دست قدرت کی دو انگلیوں میں ہیں پھیرتا ہے ان کو جس طرف چاہتا ہے۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ چہارم صفحہ۳۲۳نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
جبکہ حدیث کے اصل الفاظ اس طرح ہیں :
’’ان القلوب بین اصبعین من اصابع اللہ یقلبھا کیف یشائ‘‘
(جامع الترمذی ،ابواب القدر، باب ماجاء ان القلوب بین اصعی الرحمٰن،  ج  ۲  ص  ۴۸۱)
حدیث کے نقل کرنے میں غلطیاں:
(۱)اس حدیث میں احمد رضا ’’اِنَّ‘‘(حرف مشبہ بالفعل )کو حذف کردیا ۔
(۲)لفظ ’’بین ‘‘کو ’’فی ‘‘سے بدل دیا۔
(۳)اور لفظ ’’اصبعین‘‘کو ’’اصبعی‘‘سے بدل دیا۔
(۴)اور ’’من اصابع اللہ‘‘کو ’’اصبعی الرحمن ‘‘سے بدل دیا۔
(۵)اور ’’یقلبھا‘‘کو ’’یصرفھا‘‘سے تبدیل کر دیا۔
(۶)اور حدیث کا ترجمہ بھی اسی طرح کیا ہے جس طرح الفاظ نقل کئے ہیں ۔لھذا اس غلطی کو ناشر یا مرتب کی طرف منسوب نہیں کر سکتے۔
(۳۱) حدیث کے الفاظ اپنی طرف سے بنادیئے
عرض :حضور گیند کھیلنا کیسا ہے۔
ارشاد:عبث ہے اگرچہ صاحب ھدایہ نے ہر عبث کو حرام لکھا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ عبث باطل ہے۔حدیث میں ہے:
’’کل لھو المؤمن باطل الا فی ثلاث ‘‘
ترجمہ احمد رضا :مسلمان کا ہر لھو باطل ہے مگر تین باتوں میں اول گھوڑا پھیرنا، دوسرا تیر اندازی، تیسرا اپنی عورت سے ملاعبت یہ ان تینوں میں داخل نہیں اسلئے باطل ہے۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت، حصہ چہارم، صفحہ۳۳۸،نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
حالانکہ اس حدیث کے الفاظ ہیں:
’’کل مایلھو بہ الرجل المسلم باطل الارمیۃ بقوس وتادیبہ فرسہ وملاعبتہ اھلہ فانھن من الحق‘‘
(جامع الترمذی  ص  ۴۲۶  ج  ۱ ، ابواب فضائل الجھاد ،باب ماجاء فی فعل الرمی)
(۳۲)  ’’کفرۃ الجنّ‘‘کو ’’مرّدۃ الجن‘‘سے بدل دیا:
احمد رضا خان لکھتے ہیں:
’’میں نے بندر کو قیام کرتے دیکھا۔میں اپنے پُرانے مکان میں جس میں میرے منجھلے بھائی مرحوم رہا کرتے تھے مجلس میلاد پڑھ رہا تھا ایک بندر سامنے دیوار پر چپکا مؤدب بیٹھا سن رہا تھا جب قیام کا وقت آیا مؤدب کھڑا ہوگیا پھر جب بیٹھے وہ بھی بیٹھ گیا ۔وہ بندر تھا وھابی نہ تھا۔حدیث میں ہے۔ ’’مامن شئی الاویعلم انی رسول اللہ الامردۃ الجن والانس‘‘ ترجمہ احمد رضا:کوئی شئے ایسی نہیں جو مجھے اللہ کا رسول نہ جانتی ہو سوائے سرکش جن اور آدمیوں کے‘‘۔ (ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ چہارم ،صفحہ۳۸۰،نوری کتب خانہ لاہور) جبکہ اس حدیث کے اصل الفاظ اس طرح ہیں :
’’مامن شئی الایعلم انی رسول اللہ الاکفرۃ الجنّ والانسِ‘‘
(المعجم الکبیر حدیث نمبر۶۷۲  ج ۲۲  ص  ۲۶۲)
غلطیوں کی نشاندھی:
(۱) اس حدیث میں لفظ ’’کفرۃ‘‘کو ’’مَرَدَّۃ‘‘سے بدل دیا۔
(۲)  اور ترجمہ بھی انھیں لفظوں کا کیا جو احمد رضا نے نقل کئے ہیں۔
(۳۳)  حدیث کاپورا جملہ بدل دیا
’’سید عالم ﷺ فرماتے ہیں: جو بلا اجرت سات برس محض اللہ کی رضا کیلئے اذان دے ۔’’وجبت لہ الجنۃ ‘‘
ترجمہ احمد رضا :اسکے لئے جنت واجب ہوگئی‘‘۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ چہارم صفحہ۳۶۲نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
’’من اذن محتسبا سبع سنین کتب لہ براء ۃ من النار‘‘
(سنن ابن ماجہ ،کتاب الاذان ،باب فضل الاذان، حدیث نمبر۷۲۷ ،ج ۱ ،ص  ۴۰۲  قدیمی کتب خانہ)
غلطیوں کی نشاندھی:
(۱)احمد رضا نے ’’کتب لہ براء اۃ من النار ‘‘کو ’’وجبت لہ الجنۃ ‘‘سے تبدیل کر دیا۔
(۲)اور ترجمہ اسی جملے کا کیا ہے جس کو احمد رضا نے نقل کیا ہے۔
(۳۴)  حدیث میں لفظ’’وادرک نبوّتی‘‘کا اضافہ
عرض :یہ حدیث ہے:
’’لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین ما وسعھا الااتباعی‘‘
ارشاد:یہ قادیانی ملعونوں کا حدیث پر افتراء اور زیادت ہے حدیث میں اتنا ہے۔
’’لو کان موسیٰ حیّاً وادرک نبوتی ماوسعہ الااتباعی‘‘
ترجمہ احمد رضا:اگر موسیٰ زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو انھیں کچھ گنجائش نہ ہوتی سوائے میری اطاعت کے۔‘‘
افتراء بھی کیا اور کال نہ کٹا۔الخ
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ چہارم، صفحہ۳۶۳،نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
دراصل اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
’’لو کان موسیٰ حیاً ماوسعہ الااتباعی‘‘
(شعب الایمان للبیھقی ،باب فی الایمان بالقرآن، حدیث نمبر ۱۷۷ ،ج ۱ ،ص  ۲۰۰)
غلطیوں کی نشاندھی:
(۱)اس حدیث میں احمد رضا نے ’’وادرک نبوتی‘‘کا اضافہ کردیا۔
(۲)اور ترجمہ بھی اس اضافی جملے کا لکھ دیا جبکہ یہ اصل حدیث میں موجود نہیں ہے۔
(۳۵)  الفاظ حدیث میں مختلف تبدیلیاں
احمد رضا خان نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کا واقعہ یوں نقل کیا ہے:
’’جب آپ کو گو پھن میں بٹھا کر پھینکا ۔آپ آگ کی محاذات پر آئے جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے عرض کی :الک حاجۃ؟ابراھیم کوئی حاجت ہے۔فرمایا :امامنک فلا،ہے تو مگر تم سے نہیں ،عرض کی تو جس سے ہے اسی سے کہئے ۔فرمایا:علمہ بحالی کفا نی عن سوالی ۔وہ خود جانتا ہے عرض کی ضرورت نہیں۔‘‘ (ملفوظات اعلٰی حضرت، حصہ چہارم، صفحہ۳۸۲،نوری کتب خانہ لاہور) اصل واقعہ کے الفاظ:
اس واقعہ کے اصل الفاظ اسطرح ہیں:
’’ان ابراھیم حین قیدوہ لیلقوہ فی النار قال لاالہٰ الا انت سبحانک رب العالمین لک الحمد ولک الملک لا شریک لک قال ثمہ رموابہ فی المنجنیق من مضرب شاسع فاستقبلہ جبریل فقال:یا ابراھیم الک حاجۃ؟ قال اماالیک فلا ،فقال جبریل فاسأل ربکفقال حسبی من سؤالی علمہ بحالی‘‘ (فی تفسیر ابن کثیر ،ص۲۴۵ ج ،۳  قدیمی کتب خانہ، قرطبی الانبیاء تحت الآیۃ ۶۹ ص ۲۶۵  ج ۱۱ مکتبہ رشید کوئٹہ ) غلطیوں کی نشاندھی:
’’حضرت ابراھیم علیہ السلام نے حضرت جبریل ؑ کو یہ جواب دیا ’’اماالیک فلا‘‘ان کے الفاظ کو احمد رضا نے ’’امامنک فلا‘‘لکھا ہے۔‘‘
اور جملہ ’’علمہ بحالی کفا نی عن سوالی ‘‘کو احمد رضا نے ’’حسبی من سؤالی علمہ بحالی‘‘کے الفاظ سے نقل کیا ۔(یہ جملہ ابن کثیر میں نہیں ہے)
(۳۶)  حدیث کی خود ساختہ ترتیب
حدیث میں ہے ایک شخص نے دربار اقدس میں ڈکار لی۔فرمایا:
’’کف عنا حشیائک فان المول الناس جوعاً یوم القیٰمۃ شبعاً فی الدنیا‘‘
ترجمہ احمد رضا:ہم سے اپنی ڈکار دور رکھ کہ دنیا میں جو زیادہ مدت تک پیٹ بھرے تھے وہ قیامت کے دن زیادہ مدت تک بھوکے رھیں گے۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ دوم، صفحہ۲۱۹،نوری کتب خانہ لاہور)
اصل حدیث کے الفاظ:
اصل حدیث ان الفاظ کے ساتھ نہیں ہے بلک اصل حدیث میں مختلف الفاظ وارد ہیں:
(۱)’’لاتفعل یا ابا جحیفۃ ان اطول الناس جو عاً یوم القیامۃ اطولھم شبعاً فی الدنیا‘‘۔
(کنز العمال ص  ۸۷  ج  ۳  ادارہ تالیف اشرفیہ ملتان حدیث  ۶۲۱۶  )
(۲)حدیث ۶۲۱۷ کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’اکفف من جشائک فان اکثر الناس فی الدنیا شبعاً اکثر ھم فی الآخرۃ جوعاً‘‘۔(عن ابی جحیفہ)
(۳)  حدیث ۶۲۱۸ کے الفاظ یوں ہیں :
’’یا ابا جحیفہ اقصر من جشائک فان المول الناس جوعاً یوم القیامۃ اکثرھم شبعاً فی الدنیا۔‘‘
(۴)حدیث ۶۲۱۹  کے الفاظ اس طرح مذکور ہیں:
’’یاھذا اکفف من  جشائک  فان اکثر  الناس  فی الدنیا شبعاً اکثر ھم الآخرۃ جوعاً‘‘
(کنز العمال ،کتاب الاخلاق قسم الاقوال ص  ۸۷  ج  ۳  ادارہ تالیفات اشرفیہ )
’’انا امۃ امیۃً لا نکتب ولا نحسب اشھر ھٰکذا وھکذا وھکذا فان غم علیکم فعدواثلثین‘‘
ترجمہ احمد رضا :ہم امت امیۃ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں ۔مہینہ ۲۹ کا ہے یا ۳۰ کا تو اگر تمہیں شبہ پڑجائے تو ۳۰ کی گنتی پوری کرلو۔
حدیث میں غلطیاں:
اس جگہ احمد رضا خان نے دو حدیثوں کو جمع کر دیا ہے۔
کسی ایک حدیث میں یہ جملے نہیں ہیں۔
(۱)  ’’انا اُمَّۃ امیّۃً ‘‘سے ’’وَھٰکذا‘‘تک ایک حدیث کے الفاظ ہیں ۔
(ابوداؤ  ص  ۳۳۷ج  ۱  کتاب الصیام ، باب الشھریکون تحا وعشرین  حدیث  ۲۳۱۹)
حدیث کے دوسرے جملے (فان غم علیکم فعدواثلثین)کے الفاظ کسی حدیث کی کتاب میں وارد نہیں ہیں۔
حدیث میں مختلف الفاظ آئے ہیں لیکن احمد رضا کے نقل کردہ الفاظ خود ساختہ ہیں۔
(۱)’’فان غم علیکم فاتمواثلاثین۔‘‘
(نسائی کتاب الصوم ،باب اکمال شعبان  ص  ۳۰۱ ج  ۱ )
(۲) ’’فان غم علیکم الشھر فعدواثلاثین۔‘‘
(مشکوٰۃ  ۱۷۴  ج  ۱)
اس جگہ تو احمد رضا نے دو حدیثوں کوخواہ مخواہ جمع کر دیا
(۲)  اور دوسری غلطی یہ کی کہ حدیث کے الفاظ احمد رضا نے خود ساختہ نقل کر دیئے ۔
(۳۷)حدیث میں اپنی طرف سے ’’فاخبروہ ‘ ‘ کا اضافی کر دیا
عرض:داڑھی چڑھانا کیسا ہے؟
ارشاد:حدیث میں ہے:من عقد لحیۃ فاخبروہ ان محمدﷺمنہ برئی۔
 ترجمہ:جو شخص داڑھی باندھے یسے خبر دیدو کی محمدﷺ اس سے بیزار ہیں‘‘۔
(ملفوظات صفحہ ۲۱۲ حصہ دوم نوری کتب خانی لاہور)
احمد رضا خان سے یہی سوال و جوابات حصہ سوئم میں بھی مذکور ہے ۔وہاں احمد رضاخان نے اس طرح جواب دیاہے:
ارشاد:نسائی شریف میں ہے :’’من عقد لحیۃ فاخبروہ ان محمدﷺ برئی منہ۔‘‘الخ
(ملفوظات صفحہ ۲۶۱ حصہ سوئم نوری کتب خانی لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
جبکہ نسائی شریف میں یہ روایت ان لفظوں کے ساتھ منقول ہے :
’’من عقد لحیۃ ان محمدﷺمنہ برئی۔‘‘
(نسائی شریف کتاب الزینتہ باب عقد الحیتہ ص۱۳۶ ج۸ دارالکتب العلمیہ بیروت)
غلطیاں:
(۱)حصہ دوئم و سوئم کے دونوں حوالوں میں احمد رضا نے حدیث میں فاخبرہ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔
(۲)اور ترجمہ میں بھی یہ اضافت موجود ہے۔
(۳)اور حصہ سوئم میں ’’منہ برئی‘‘کو’’ برئی منہ‘‘ سے تبدیل کر دیا۔
(۳۸)تبدیلی اور اضافہ کا ایک اور نمونہ
احمد رضا سود سے متعلق روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
دوسری صحیح حدیث میں ہے۔رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں:
’’الربوٰ ثلاثۃو سبعون جوباً  ایسرھنّ ان یقع الرجل علی امّہ‘‘
سود۷۳ گناہ کے برابر ہے۔جن میں سب سے ہلکا یہ کے آدمی اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے‘‘۔
(ملفوظات صفحہ ۲۱۲ و۲۱۳ حصہ دوم نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
حلانکہ حدیث کے اصل الفاظ اس طرح ہیں:
’’الربوٰ ثلاثۃو سبعون باًباً  ایسرھا ان ینکح الرجل امّہ۔‘‘
(عن ابن مسعود)
(کنزالعمال کتا ب البیوع قسم القول حدیث ص ۹۷۵ج۴دار الکتب العلمیہ بیروت۔ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)
غلطیوں کی نشاندہی:
(۱)اس روایت میں احمد رضا نے’’باًباً ‘‘ کے لفظ کو’’جوباً ‘‘سے
(۲)’’ایسرھا‘‘ کو ’’‘ایسرھنّ‘سے
(۳)اور’’ینکح‘‘ کو ’’یقع‘‘ سے تبدیل کر دیا۔
(۴)اور آخر میں علیٰ کے لفظ کا اضافہ بھی کر دیا۔
(۵)اور ترجمہ بھی اپنی نقل کردہ حدیث کا کیا۔احمد رضا کے نقل کردہ الفاظ حدیث کنزالعمال کے کسی جلد کے کسی صفحے پر نہیں ہیں۔
(۳۹)لفظ کلھماکا اضافہ 
’’صحیح حدیث فرمایا:
الراشی والمرتشی کلھما فی النار
ترجمہ:رشوت لینے والا اور دینے والا دنوں جہنمی ہیں‘‘۔
(ملفوظات صفحہ ۵۶ حصہ اول سن اشاعت ۲۰۰۰نوری کتب خانہ لاہور)
اصل الفاظ یوں ہیں:
’’الراشی والمرتشی فی النار‘‘
ترجمہ:رشوت لینے والا اور دینے والا دنوں جہنمی ہیں۔
(مجمع الزوئد کتاب الاحکام باب فی الرشاء حدیث۷۰۲۷ ج۴ ص۳۵۹ دارالفکر بیروت)
(۴۰)غلظ حدیث لکھنے کا ایک اور ثبوت
’’شب معراج حضور اقدس ﷺ نے ملاحظہ فرمایا کہ کوئی ژخص رب عزوجل کے حضور بلند آواز میں ہم کلام کر رہا ہے ۔ارشاد فرمایا :اے جبریل یہ کون شخص ہیں۔عرض کی موسیٰ ہیں ۔فرمایا:کیا اپنے رب پر تیزی کرتے ہیں۔عرض کیا :قدعرف ربہ حدتہ انکا رب جانتا ہے انکا مزاج تیز ہے‘‘۔ (ملفوظات صفحہ۹ ۲۲ حصہ سوئم نوری کتب خانہ لاہور) حدیث کے اصل الفاظ:
جبکہ اصل الفاظ یہ ہیں:
’’ان اﷲقدعرف لہ حدتہ‘‘
(عمدۃالقاری کتاب مناقب الانصار باب المعراج ج۱۱ ص۶۰۵)
غلطیاں:
اس حدیث میں احمد رضا نے لفظ ان اﷲکو بالکل حذف کر دیا اور اس کی جگہ لفظ ربہ  کا اضافہ کر دیا۔اور لفظ  لہ کو بھی گیارھویں کا حلوہ سمجھ کر کھا گئے۔
(۴۱)حدیث کے الفاظ میں تبدیلی اور کمی
عرض :حضور یہ صحیح ہے کہ عالم کی زیارت کا ثواب ہے۔
ارشاد:ہا ں صحیح حدیث میں وارد ہوا :’’النظر الیٰ وجہ العالم عبادۃ النظر الیٰ الکعبہ عبادۃ النظر الیٰ المصحف عبادۃ‘‘ 
ترجمہ:عالم کے چہرہ کو دیکھنا عبادت ہے ،کعبہ معظمہ کو دیکھنا عبادت ہے،قرآن عظیم کو دیکھنا عبادت ہے‘‘۔
(ملفوظات صفحہ۲۹۳ حصہ سوئم نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ
’’من العبادۃالنظر الیٰ الکعبہ والنظر الیٰ المصحف والنظر الیٰ وجہ العالم۔‘‘
(کنزالعمال کتاب المواعظ جلد۱۵ ص۳۷۱ حدیث۴۳۴۸۶)
حدیث نقل کرنے میں غلطیاں
۱)اس حدیث میں احمد رضا نے لفظ من العبادۃ کو ختم کر دیا ۔
۲)اور لفظ عبادۃ کوجملے کے بعد زیادہ کر دیا۔
۳)اور النظر الیٰ وجہ العالم جو اصل حدیث میں سب سے آخر میں تھا سب سے پہلے ذکر کر دیا۔
۴)النظر الیٰ المصحف کا لفظ جوحدیث کے درمیان میں تھا اسے بالکل آخر میں کر دیا۔
۵)اور اسی طرح لفظ النظر الیٰ الکعبہ کے بالکل شروع میں جسے احمد رضا نے درمیان میں کر دیا۔
۶)اور ترجمہ بھی اسی ترتیب پر کیا جس ترتیب پر الفاظ حدیث نقل کئے ہیں۔
(۴۲)ایک جھوٹی حدیث کے غلط الفاظ
’’مؤلف  :   اعلیٰحضرت قبلہ کی حدت مزاج کا تذکرہ تھا ۔ایک صاحب نے ذکر کیا  ایک تو مزاج گرم اس پر علم کی گرمی اس پر ارشاد فرمایا : حدیث میں ہے’’ ان  الحدۃ  تعتری  قراء  امتی  لعزۃ  القرآن  فی اجوافھم قراء محاورۃ ‘‘ حدیث میں علماء کو کہتے ہیں۔یعنی میری امت کے علماء کو گرمی پیش آئے گی۔قرآن کی عزت کے سبب جوان کے دلوں میں ہے‘‘۔
(ملفوظات صفحہ۳۳۱حصہ چہارم نوری کتب خانہ) 
جملے کے الفاظ
’’ ان الحدۃ تعتری قراء امتی لعزۃ القرآن فی اجوافھم قراء محاورۃ ‘‘۔
(المعجم الکبیر للطبرانی حرف الحاء حدیث۱۱۴۷۱ ج۱۱ ص۱۰۰)
اس جگہ احمد رضا نے جہاں ایک جھوٹی حدیث سے استدلال کیا دوسری طرف اس کے الفاظ بھی غلط نقل کئے ہیں۔اس حدیث کی سند میں ابو البختری وھب بن وھب ہے جو کذاب (جھوٹا) اور وضاع (جھوٹی حدیثیں گھڑ نے والا )ہے۔
علامہ ذھبی فرماتے ہیں:’’ھذہ احادیث مکذوبتہ علیٰ رسول اﷲﷺ‘‘ 
(میزان الاعتدال ص۳۵۴ج۴)
یہ وہ حدیث ہیں جو آپ ﷺ پر جھوٹ باندھی گئی ہیں آپ نے نہیں کہی۔ (مطالعہ بریلویت ج۲ ص۸۹)
٭٭٭

     

بریلوی عقیدہ ”علمِ غیب“ (دوسری اور آخری قسط)

احتشام انجم ﷾( پنجاب، پاکستان)٭

عقیدہ علم غیب کے متعلق مزید حوالہ جات  
اب ہم ان کے عقیدہ سے ان کے کتابوں سے کچھ تناقضات پیش کریں گے۔
٭:احمد رضا صاحب لکھتے ہیں:
’’وہ صفت جو غیر انسان کے لئے ہو سکتی ہے انسان کے لئے کمال نہیں۔اور جو غیر مسلم کے لئے ہو سکتی ہو مسلم کے لئے کمال نہیں‘‘
            (ملفوظات ص ۳۰۸، ۳۰۹)
جبکہ  مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں:
’’شیطان کو بھی آئندہ غیب کی باتوں کا علم دیا گیا ہے‘‘
                                              (نور العرفان )
ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’رب نے شیطان کو بھی علم غیب دیا کہ اس نے آئندہ کے متعلق جو خبر دی آج ویسا ہی دیکھا جا رہا ہے‘‘  
                         (نور العرفان )
اب ایک وصف غیر انسان کے لئے مان رہے ہیں تو خان صاحب کے اصول سے یہ نبی  ﷺ کے لئے کمال ہی نہیں۔
٭مفتی احمد یار صاحب لکھتے ہیں :
’’تیسرے یہ کہ غیب کی نسبت اپنی طرف کرنے کو ناپسند فرمایا‘‘     
(جاء الحق ص۱۲۲)
آگے لکھتے ہیں :
’’شارحین نے کہا  ہے کہ حضور  ﷺ کا اسکو منع فرمانا اس لئے ہے کہ اس میں علم غیب کی نسبت حضور کی طرف ہے لہذا آپکو ناپسند آئی‘‘
                     (ایضاً)
یعنی اس عقیدہ کی بنیاد پر انہوں نے حضور  ﷺ کی ناپسند کو پسند بنایا ہے۔
جبکہ بریلوی مولوی حسن علی رضوی کی مصدقہ کتاب سگریٹ نوشی کے مضمرات کے صفحہ۵ پر ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول  ﷺ کی ناپسندیدہ چیزوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔وہ رسول  ﷺ کو ایذا دیتے ہیں۔جس پر ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔
اورمفتی حنیف قریشی لکھتے ہیں ؛
’’اگر کوئی اہل ایمان دانستہ اذیت رسول کا ارتکاب کرتا ہے تو مسلمان نہیں رہتا کافر ہو جاتا ہے۔‘‘
                               ( غازی ممتاز حسین قادری ص ۲۰۱)
لیجئے حضور  ﷺ کی ناپسند کو پسند بنا کر بریلو ی کافر ہو گئے۔
٭مفتی فیض احمد اویسی لکھتے ہیں:
’’نبی  ﷺ کے لئے علم غیب کا لفظ نہیں استعمال کرنا چاہئے۔آج تک کسی عالم یا مفسر نے حضور  ﷺ کے لئے علم غیب کا استعمال نہیں کیا۔اس لئے کہاعالم الغیب اللہ کے اسماء میں سے ہے۔لہذا یہ  صفت مخلوق پر استعمال کرنے سے شرک فی الاسماء ہو گا اس لئے حضور  وﷺکے لئے علم غیب ثابت کرنا شرک ہے‘‘          
                                  (غایۃ المامول فی علم الرسول ص۳۴۸)
لیجئے آج کے سارے بریلوی مشرک ہوئے۔یہ فتوی ہمارا نہیں ان کے اپنے مفتی کا ہے۔ابذاتی مان کر مشرک ہوں یا عطائی ان کی اپنی مرضی۔
*…*…*
 اب آتے ہیں کہ رضاخانیوں کے نزدیک نبی  ﷺ کو عالم الغیب کہہ سکتے ہیں یا نہیں۔آپکو یہ جان کر مزید حیرت ہو گی کہ اس مسئلہ پر بھی ان کا تضاد ہے۔
٭ہم اب وہ مولوی پیش کرتے ہیں جو نبی  ﷺ کے لئے عالم الغیب کا لفظ استعمال کرتے ہیں
۱:مولوی نظام الدین ملتانی لکھتے ہیں:
’’آپکی ذات و صفات کا اول سے عالم الغیب ہوناثابت ہوا یا نہیں‘‘
                                  (کشف المغیبات مصدقہ پیر جماعت علی شاہ ص ۲۳)
۲:مولوی عبد الحامد قادری بدایونی لکھتے ہیں:
’’محدثین اورمتقدمین کے نزدیک حضور  ﷺ عالم الغیب تھے‘‘
                                         (تصحیح العقائد ص۴۹)
۳:حافظ محمد حسن صاحب لکھتے ہیں :
’’پھر بھی ہمارا دعوی ثابت ہوا کہ آپ عالم الغیب تھے‘‘
                                             (العقائد الصحیحہ فی تردید الوہابیہ ص۴۵)
۴:آئینہ اہل سنت کتاب میں بھی مولوی ابو کلیم صدیق فانی صاحب پیر مہر علی شاہ صاحب کے حوالے سے  نبی  ﷺ کو عالم الغیب تسلیم کرتے ہیں۔
یہ تو تھے وہ حضرات جو نبی  ﷺ کو عالم الغیب مان رہے تھے۔
٭اب ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھاتے ہیں۔
۱:مفتی اختر رضا بریلوی صاحب لکھتے ہیں؛
’’بے شک عالم الغیب کا استعمال غیر اللہ کے لئے روا نہیں۔‘‘
                                        (انوار رضا ص ۱۳۵)
٭یہاں اختر رضا صاحب نے نبی کو غیر اللہ کہا ہے جبکہ عمر اچھروی صاحب لکھتے ہیں کہ ان آیت قرانیہ میں اللہ تعالی نے اپنے اور اپنے رسولوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے والوں اور رسولوں کو غیراللہ کہنے والوں کے واسطے فتوی کفر ارشاد فرمایا۔   
(مقیاس حنفیت  ص۴۳)
اب یہ فتوی اختر رضاصاحب پر جا لگا۔
۲:ایک جگہ ازہری صاحب لکھتے ہیں:
’’رہا آپ کا ہماری نسبت یہ کہنا کہ حضور  ﷺ عالم اغیب ہیں بالکل افتراء ہے۔عالم غیب مثل رحمن و قیوم وقدوس وغیرہ اسماء خاصہ بزات باری میں سے ہے۔اس کا اطلاق غیر خدا کے لئے ہم اہل سنت کے نزدیک حرام و نا جا ئز ہے‘‘
                                         (انوار رضا  ص ۱۳۴)
۳:مولوی شفیع اوکاڑوی لکھتے ہیں:
’’ہم بھی تسلیم کرتے ہیں مخلوق کو عالم الغیب کہنا جائز نہیں‘‘
                                             (تعارف علماء دیوبند ص۵۹)
۴:مولوی احمد رضا صاحب لکھتے ہیں:
’’لہذا مخلوق کو عالم الغیب کہنا مکرہ‘‘
                                  (الامن و العلی )
۵: مولوی جہانگیر صاحب لکھتے ہیں:
’’ جبکہ عالم الغیب کا استعمال حضور  ﷺ پر کسی اہل سنت و جماعت بریلو ی کے اکابر عالم نے نہیں کیا۔‘‘
                                (مناظرہ اہل سنت بریلوی ص۴۳۷)
اب یہ جملہ فتوی جات ان حضرات پر ضا لگے جو نبی  ﷺکو عالم الغیب کہہ رہے تھے۔اور یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ اس کا اس بات پر بھی شدید اختلاف ہے۔
*…*…*
  رضاخانی دلائل کے مختصر جوابات  
 ٭بریلوی کہتے ہیں کہ قران میں ہے کہ 
تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ
اور
وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ
اس سے ثابت ہے کہ قران میں ہر چیز کا روشن بیان ہے اور حضور  ﷺ قران کو جانتے تھے لہذا ان کو بھی ماکان و مایکون کا علم ملنا اس آیت سے ثابت ہے۔
جواب نمبر ۱:اس آیت سے ان کا استدلال درست نہیں کہ یہ آیت قطعی الدلالۃ نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ کل ہمیشہ عموم کے لئے ہی نہیں خصوص کے لئے بھی آتا ہے۔
جواب نمبر ۲:اگر واقعی قران میں ہر ہر شی کا بیان تفصیلی ہے تو فقہا کو اجتہاد کی کیا ضرورت پیش آئی؟
جواب نمبر ۳:اسی قران کریم میں ہے لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ٭ یعنی بعض انبیاء کے قصے ہم نے آپ کو نہیں بیان کئے۔
لفظ کل عموم کے لئے نص قطعی نہیں ہے بلکہ خصوص کے لئے بھی آتا ہے۔
ہم اس پر بھی چند دلائل عرض کرتے ہیں۔
۱:قران میں ہی ’علی کل جبل‘ بھی آیا ہے لیکن اس سے مراد چن پہاڑ ہیں نہ کہ کل۔
۲:ملکہ بلقیس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ
وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ٭
 یعنی اور ہر ایک چیز اس کو عطا کی گئی تھی۔ جبکہ اس کو سب کچھ ملا ہو گا مگر نبوت اور ملک سلیمان تو ہرگز نہیں ملا۔اور اسے داڑھی بھی یقینا نہیں ملی تھی ۔
تو یہاں بھی کل خصوص کے لئے آیا ہے نہ کہ عموم کے لئے۔
اور ملا جیون ؒفرماتے ہیں:
’’وکلمۃ کل یحتمل الخصوص‘‘
یعنی کلمہ کل خصوص کا احتمال رکھتا ہے۔
اور جب یہاں احتمال آگیا تو استدلال کیوں کر صحیح ہو گا؟؟
٭بریلوی کہتے ہیں  و علم آدم الاسمآء کلھا  کہ جب آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھا دیے تو نبی  ﷺ کو ان سے بھی زیادہ علم غیب ہونا چاہئے کہ آپ  ﷺ تو اما م الانبیاء ہیں۔٭
جواب نمبر ۱:انہوں نے قیاس سے کام لیا ہے اور عقائد میں قیاس نہیں چلتا۔
 جواب نمبر۲:دلیل قطعی الدلالۃ نہیں ہے کیوں کہ ناموں کی بات ہے نہ کہ ہر ہر ذرے کا علم۔
جواب نمبر ۳:اگر آدم علیہ السلام کو ہر ہر چیز کا علم غیب حاصل ہو گیا تھا تو ابلیس نے آپ کو دھوکہ دے کر نکلوایا اور قسم کھا کر ان کو پھسلایا۔
جواب نمبر ۴:یہاں بھی لفظ کل ہے جو کہ احتمال رکھتا ہے۔
  لہذا یہ آیت ان کی دلیل نہیں بن سکتی۔
٭بریلوی کہتے ہیں کہ فلا یظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول  یعنی اللہ اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے تو اس آیت سے بھی نبی  ﷺ کو علم غیب کلی ملنا ثابت ہے۔
٭جواب٭
جواب نمبر ۱:یہ آیت مکی ہے اگر اس سے علم غیب مکمل مل گیا تو پھر قران اس کے بعد بھی کیوں نازل ہوتا رہا۔
جواب نمبر ۲:اس سے پہلے والی آیت میں آپ کے لئے علم قیامت کی نفی موجود ہے ۔جو کے آپ کے ما کان ومایکون کے عقیدے کا رد کر رہی ہے تو آپ کا مدعیٰ کیسے ثابت ہوا؟
جواب نمبر ۳: اس میں اظہار الغیب  کے الفاظ ہیں کے اظہار الغیب ہمارا عقیدہ ہے آ کو علم غیب پر دلیل دینی ہے ۔پھر ہم علم غیب اور اظہار الغیب میں فرق بھی پیچھے بتا آئے ہیں۔
اس میں بھی غیب کی بعض باتوں کا ذکر ہے نہ کے کل۔
٭بریلوی کہتے ہیں کہ وما ھو علی الغیب بضنین  یعنی نبی  ﷺ غیب بتانے میں بخیل نہیں۔تو اس سے پتا لگا کہ ان کے پاس علم غیب ہے تو ہی بتاتے ہیں۔
٭جواب٭
جواب نمبر ۱: یہ سورۃ مکی ہے ( دیکھئے  روح المعانی) اگر اس سے علم غیب مکمل مل گیا تو پھر قران اس کے بعد بھی کیوں نازل ہوتا رہا۔
جواب نمبر ۲:قطعی الدلالۃ نہیں ہے۔
جواب نمبر ۳:بعض مفسروں نے ھو سے مراد قران لیا ہے دیکھئے تفسیر عزیزی و حقانی۔تو یہ آیت قطعی الدلالۃ نہ رہی۔ابن کثیر کہتے ہیں اللہ نے نبی  ﷺپر قران اتارا آپ اس قران کے سنانے میں بخل نہیں کرتے۔
جواب نمبر ۴:بضنین اور بظنین دو قراتیں ہیں دونوں متواتر ہیں(دیکھئے ابن کثیر)۔اس لئے یہ قطعی الدلالۃ نہ رہی۔
٭بریلوی کہتے ہیں کہ
وماکان اللہ لیطلعکم علی الغیب و لکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء
 یعنی اور اللہ کی شان یہ نہیں کی اے عام لوگو تم کو غیب پر مطلع کرے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں جس کو چاہے۔
نبی  ﷺ کو علم غیب   اس سے ثابت ہے۔
٭جواب٭
جواب نمبر ۱:یہ غزوۂ احد میں نازل ہوئی۔۳ ہجری میں پیش آیا۔ اگر اس سے علم غیب مکمل مل گیا تو پھر قران اس کے بعد بھی کیوں نازل ہوتا رہا۔
جواب نمبر ۲:اس میں بھی اطلاع الغیب کا لفظ ہے جبکہ آپ کو علم غیب ثابت کرنا ہے اور ہم پیچھے بتا آئے ہیں کہ علم غیب اور اطلاع الغیب میں فرق ہے۔
جواب نمبر ۳:اس سے مراد بھی بعض غیب پر مطلع ہونا ہے جبکہ آپ کا عقیدہ کلی اس سے ثابت نہیں ہوتا۔(دیکھئے تفسیر مظہری ، معالم التنزیل و غیرہ)
٭ بریلوی کہتے ہیں کہ  وعلمک ما لم تکن تعلم یعنی تم کو سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے۔ اس آیت سے بھی نبی  ﷺ کے لئے علم غیب کا اثبات ہوتا ہے۔اور تفسیر معالم التنزیل اور خازن وغیرہ میں اس آیت کی تفسیر میں علم غیب کے لفظ آئے ہیں۔لہذا آپ  ﷺ کے لئے علم غیب ثابت ہوا۔
٭جواب٭
جواب نمبر ۱:اس میں لفظ ما ہے جو قطعی نہیں احتمال رکھتا ہے۔ان کو کلی علم غیب کے لئے قطعی ثبوت پیش کرنا تھا۔
جواب نمبر ۲:یہ آیت اوائل ۴ ہجری میں نازل ہوئی۔ اگر اس سے علم غیب مکمل مل گیا تو پھر قران اس کے بعد بھی کیوں نازل ہوتا رہا۔
جواب نمبر ۲:قران میں ہی ہے  و علم الانسان مالم یعلم یعنی اللہ نے انسان کو وہ باتیں سکھائیں جو وہ نہیں جانتا تھا۔ لیجئے اب تمام انسانوں کو ہی علم غیب حاصل ہونا ماننا پڑے گا رضاخانی منطق سے۔
جواب نمبر ۳:بعضوں نے اس سے مراد علم غیب لیا ہے لیکن قیل کے ساتھ جو ضعف کی طرف اشارہ ہے۔
جواب نمبر ۴:پھر اگر بعض حضرات نے یہاں علم غیب مراد لیا بھی ہو تو وہ حضرات بریلوی اصول سے کافر ہیں۔کہ
خان صاحب بریلوی لکھتے ہیں:
’’علم جب کہ مطلق بولا جائے۔خصوصاََ جب کہ غیب کی طرف مضاف ہواس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے‘‘
                       (ملفوظات حصہ سوم ص۲۵۵)
تو ان کے اعلی حضرت کی روسے وہ مفسر جنہوں نے علم غیب مراد لیا ہے تو وہ ذاتی ہے۔اور جو کسی کے لئے ذاتی علم مانے اس کے متعلق خانصاحب کیا فرماتے ہیں:
’’کوئی شخص کسی مخلوق کے لئے ذرہ بھی علم ذاتی مانے یقینا کافر ہے‘‘
                                                     (ملفوظات ص ۲۵۶)
لیجیے  اب وہ مفسر جن کو انہوں نے دلیل بنایا وہ تو ان کے نزدیک کافر ہو گئے۔اب یہ صورت ہے کہ یا تو ان کو کافر کہیں یا ان کی اس بات کی تاویل کریں۔تو اس کی تاویل دیوبندیوں پر لازم نہیں بریلوی حضرات کو بھی اس کی تاویل کرنا ہو گی۔تو ماننا پرے گا کہ یہاں علم غیب لغوی طور پر مراد ہے ورنہ رضاخانی اگر یہ تاویل مراد نہ لیں تو ان مفسروں پر فتوی کفر ارشاد فرمائیں۔
اس پرایک حوالہ بریلوی  مولوی کا پیش کرتے ہیں
مولوی پیر محمد چشتی صاحب لکھتے ہیں؛ 
’’جہاں جہاں ذوات قدسیہ انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کے لئے علم غیب کا ثبوت آیا ہے وہ علم غیب کے لغوی مفہوم پر محمول ہیں ‘‘               
 (اصول تکفیر  ص ۳۶۰)
لیجئے یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ ان مفسروں نے جہاں علم غیب کا لفظ استعمال کیا وہ لغوی طور پر استعمال
کیا۔ جبکہ ان کو شرعی طور پر ثابت کرنا ہے جو ان کا ثابت کرنا ممکن نہیں۔
نوٹ:یہ اصول ہر جگہ استعمال کیا جائے گا۔
٭بریلوی کہتے ہیں کہ  خلق الانسان ۔علمہ البیان سے بھی نبی  ﷺ کو ما کان ومایکون کا علم غیب حاصل ہے۔
٭جواب٭
جواب نمبر ۱:یہ آیت مکی ہے۔ اگر اس سے علم غیب مکمل مل گیا تو پھر قران اس کے بعد بھی کیوں نازل ہوتا رہا۔
جواب نمبر ۲:کئی حضرات نے جنس انسان مراد لئے ہیں نہ کہ نبی  ﷺ۔جیسے جلالین وغیرہ۔تو یہ قطعی الدلالۃ نہ ہوئی۔لہذا آپ کو مفید نہیں۔
جواب نمبر ۳:اگر یہاں ما کان و مایکون یہ مراد ہو تو بھی اس سے جمیع علم لینا مراد نہیں اور یہ آپ کو مفید نہیں،آپ  ﷺ نے ما کاناومایکون کی بے شمار خبریں دی ہیں۔
جواب نمبر ۴:مولانا کرم الدین دبیر جن کو شرف قادری صاحب نے اپنی کتاب میں اپنا اکابر مانا ہے ۔وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
’’علم ماکان و ما یکون خاصہ ذات باری تعالی ہے۔‘‘
                                      (آفتاب ہدایت ص۱۸۵)
لیجئے ان کے گھر سے بات صاف ہو گئی۔
٭٭٭

٭ مصنف موصوف کی اس تحریر کی پہلی قسط  پچھلے شمارے میں ان کے قلمی نام ”شمشیرِ دیوبند“ سے چھپی تھی۔ ان کا اصل نام احتشام الدین ہے۔ قارئین نوٹ فرمالیں۔ (مدیر)
٭ سورہ ۴، النساء:۱۶۴، سورہ غافر:۷۸ (مدیر)
٭ سورہ ۲۷، النمل:۲۳(مدیر)
٭ چیزوں کے نام پتہ ہونے سے ہر شے کے کلی علم کا کیا تعلق ہے؟  نیز عَلَّمَ کا لفظ بتا رہا ہے کہ وہ علم بھی حضرت آدم کی ذاتی شان نہیں تھی، بلکہ در حقیقت انہیں اللہ نے سکھایا تھا جس کی وجہ سے انہیں فرشتوں پر فضیلت حاصل ہوئی۔ بالکل یہی بات ہم اہلِ سنت والجماعت بھی کہتے ہیں کہ نبی پاکﷺ کو تمام انسانوں پر بلاشبہ فضیلت حاصل ہے لیکن آپﷺ  کا علم بھی اللہ کا عطا کردہ تھا۔ یعنی عالم الغیب ہونا صرف اللہ ہی کی صفت قرار پائی جو عین قرآن کے مطابق ہے۔(مدیر)

     

بریلوی عقیدہ ”علمِ غیب“ (قسط۔۱)

شمشیرِ دیوبند

{ عقیدہ علم غیب پر رضاخانی خانہ جنگی }
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!!
محترم قارئین!جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ رضا خانی آئے دن ہم پر تبراہ کرتے ہیں کہ جی یہ وہابی نبی کا علم غیب نہیں مانتے۔اور طرح طرح کے فتوے لگاتے نہیں تھکتے مگر آپ اس کتاب میں دیکھیں گے کہ بے چارے رضاخانی خود اس عقیدہ میں پریشان ہیں اور بے چارے اپنے عقیدہ پر ہی متفق نہیں ہیں۔
اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے آپ یہ حوالہ ضرور پڑھیں کہ انہوں نے یہ عقیدہ کہاں سے لیا؟؟؟
یہ عقیدے جو ان حضرات میں موجودہ رائج ہیں یہ شیعہ سے لئے گئے ہیں اس بات کا اقرار تو خود ان کو بھی ہے۔
۱:رضاخانی اشرف العلماء کا بیٹا مولوی غلام نصیر الدین سیالوی اپنی کتاب میں لکھتا ہے؛
’’ علم غیب ،حاضر و ناظر ،مختار کل،استمداد وغیرہ یہ تمام عقائد شیعہ کے اندر موجود ہیں‘‘
                                (عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ،جلد ۱ ص۴۱)
تو آپ حضرات نے دیکھا کہ اس بات کا ان کو بھی اقرار ہے کہ ان کے یہ عقائد اہل تشیع حضرات والے ہیں۔
ہمارا دعوی یہ ہے کہ نبی ﷺ کو بذریعہ انباء الغیب،اطلاع الغیب اور اخبار الغیب مخلوقات میں سے سب سے زیادہ علم عطا کیا گیا مگر اس کو علم غیب نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ علم غیب وہ ہوتا ہے جو ذاتی ہو اور بغیر کسی ذریعہ کے حاصل ہو ۔لہذا علم غیب خاصۂ خداوندی ہے۔
اس پر چند دلائل ملاحظہ فرمائیں۔
۱:شرح العقائد میں ہے:
’’وبالجملۃ العلم امر تفردبہ االہ تعالیٰ لا سبیل الیہ للعباد‘‘
                                                            (شرح العقائد ص۲۰۴)
ترجمہ:خلاصہ کلام یہ ہے کہ علم غیب  ایک ایسا امر ہے کہ اللہ تعالی ہی اس سے متفرد ہے ۔بندوہ کو اس کے حصول کا کوئی طریقہ نہیں۔
۲:شاہ ولی اللہ ؒاپنی کتاب تفہیمات الہیہ میں رقمطراز ہیں:
’’الوجدان الصریح یحکم بان العبد عبد وان ترقی و الرب رب وان تنزل وان العبد قط لا یتصف بالوجوب او بالصفات اللازمۃ للوجوب و لا یعلم الغیب الا ان ینطبع شیٔ فی لوح صدرہ و لیس ذلک علما بالغیب انما ذلک الذی یکون من ذاتہ و الا فالانبیاء ولاولیاء یعلمون لا محالۃ بعض ما یغیب عن العامۃ‘‘
ترجمہ کا خلاصہ:
وجدان صریح بتلاتا ہے کہ بندہ کتنی ہی روحانی ترقی کیوں نہ کر لے بندہ ہی رہتا ہے اور رب اپنے بندوں کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہو جائے وہ رب ہی رہے گا۔بندہ واجب الوجوب کی صفات لازمہ سے کبھی متصف نہیں ہو سکتاعلم غیب وہ جانتا ہے جو از خود ہو کسی دوسرے کے بتانے سے نہ ہو۔ورنہ انبیاء اور اولیاء یقینا ایسی بہت سی باتیں جانتے ہیں جو دوسرے لوگوں کی علم کی رسائی تک نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جو انبیاء اور اولیاء کے دل کی تختی پر لکھ دیا جاتا ہے یہ علم غیب نہیں ہے اس لیے کہ علم غیب ذاتی ہوتا ہے۔
     (تفہیمات الہیہ جلد ۱ ص۱۸۳،۱۸۴)
اس عبارت سے یہ واضح ہوا کہ علم غیب وہ جانتا ہے جو از خود ہو کسی کے بتلانے سے نہ ہو۔اور یہی علم غیب ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انبیاء کو جو علم دیا گیا وہ علم غیب نہیں ۔
۳:علامہ شامی ؒ لکھتے ہیں:
’’لان علم الانبیاء والاولیاء انما ھو باعلام من اللہ تعالیٰ لھم و علمنا بذالک انما ھو باعلامھم لناوھذا غیر علم اللہ تعالیٰ الذی تفرد بہ و ھو صفات من صفاتہ القدیمۃ الازلیۃ الدائمۃ الابدیۃ المنزھۃ التغیر و السمات الحدوث والنقص والمشارکۃ والانقسام
بل ھو علم واحد علم بہ جمیع المعلومات کلیاتہاوجزئیاتہاما کان منھا وما یکون لیس بضروری ولا کسبی ولا حادث بخلا ف علم سائر الخلق۔واذاتقرر ذالک فعلم اللہ تعالیٰ المذکور ھوالذی یمدح بہ و اخبر فی الآیتین المذکورتین بانہ لا یشارکہ فیہ احد فلا یعلم الغیب الا ھووما سواہ ان علموا جزئیات منہ فھو باعلامہ و اطلاعہ لھم۔وح لا یطلق انھم یعلمون الغیب اذا لا صفتلھم یقتدرون بھا علی الاستقلال بعلمہ وایضاھم  ما علمو وانما علموا۔‘‘
ترجمہ کا خلاصہ:
بے شک انبیاء اور اولیاء کا علم انہیں خدا تعا لی کے بتلانے سے ہوتا ہے اور ہمیں جوعلم ہوتا ہے وہ انبیاء اور اولیاء کے بتلانے سے ہوتا ہے اور یہ علم اس علم خداوندی سے مختلف ہے جسکے ساتھ صرف ذات باری تعالی متصف ہے۔خداتعالی کا علم ان صفات قدیمہ ،ازلیہ،دائمہ،ابدیہ میں سے ایک صفت ہے جوتغیر اور علامات حدوث سے منزہ ہے اور کسی کی شرکت اور نقص انقسام سے بھی پاک ہے۔وہ علم واحد ہے جس سے خدا تعالی تمام معلومات کلیہ و جزئیہ،ماضیہ و مستقبلہ کو جانا ہے۔نہ وہ بدیہی ہے ،نہ حادث بر خلاف تمام مخلوق کے علم کے کہ وہ بدیہی اور حادث ہے۔جب یہ بات ثابت ہو گئی تو خدا تعالی کا علم مذکور جس کے ساتھ وہ لائق ستائش ہے اور جسکی مذکودہ دو آیتوں میں خبر دی گئی ہے ایسا ہے کہ کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں اور علم غیب صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے خداتعالی کے علاوہ اگر بعض حضرات نے غیبی باتیں جانیں تو وہ خدا تعالی کے بتلانے سے جانیں اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ علم غیب رکھتے ہیں کیوں کہ یہ ان کی کوئی ایسی صفت نہیں جس سے وہ مستقل طور پر کسی چیز کو جان لیں اور یہ بات بھی ہے کہ انہوں نے اس خود نہیں جانا۔
                                   (رسائل ابن عابدین جلد ۲ ص۳۱۳)
آپ نے دیکھا  علامہ شامی ؒ لکھتے ہیں کہ علم غیب وہ ہوتا ہے جو کلیات و جزئیات کو حاوی ہو اور یہ خاصہ باری تعالی ہے اس کے علاوہ علامہ شامیؒ نے یہ بھی فرما دیا کہ علم غیب اللہ ہی جانتا ہے اس کے علاوہ جو بعض حضرات نے غیبی باتیں جانیں وہ علم غیب نہیں۔اس کی دو وجوہات ہیں ایک یہ کہ ان کی کوئی ایسی صفت نہیں جس سے مستقل ہر ہر چیز کو جان لیں اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اس خود نہیں جانا بلکہ خدا کے بتلا نے سے جانا۔تو یہ بات واضح ہو گئی اللہ تعالی جو علم عطا کرے وہ علم غیب میں داخل نہیں۔
۴:علامہ نسفی ؒ لکھتے ہیں:
الغیب:ھو ماما یقم علیہ دلیل اطلع علیہ مخلوق۔
یعنی  وہ جس کے ثبوت پر کوئی دلیل قائم نہ ہو اور نہ اسکی اطلاع مخلوق کو ہو۔
                                                             (تفسیر مدارک)
۵:مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں:
مدارک کی اس توجیہ سے معلوم ہوا کہان کی اصطلاح میں جو علم عطائی ہو وہ غیب ہی نہیں کہا جا سکتا۔غیب صرف ذاتی کو کہتے ہیں۔
۶: احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں :
’’علم جب کہ مطلق بولا جائے۔خصوصاََ جب کہ غیب کی طرف مضاف ہواس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے‘‘     
                 (ملفوظات حصہ سوم ص۲۵۵)
یعنی علم کی اضافت جب بھی غیب کی جانب ہو گی اس سے مراد ذاتی ہی ہو گا۔
یعنی جب بھی لفظ علم غیب بولا جائے گا تو اس سے مراد ذاتی ہو گا۔
۷: پیر مہر علی شاہ صاحب لکھتے ہیں:
’’پہلے غیب کے معنی بتائے جاتے ہیں غیب نام ہے اس چیز کا جو حواس ظاہرہ و باطنہ کے ادراک اور علم بدیہی و استدلالی سے غائب ہواور یہ علم حق سبحانہ کے ساتھ مختص ہے۔جو کہ ان آیات میں مراد ہے۔پس اگر اس علم غیب کا مدعی ہو اپنے نفس کے لئے یا کسی غیر کے اس قسم کے دعوی کی تصدیق کرے توو ہ کافر ہے مگر جو خبر پیغمبر ﷺ دیتے ہیں وہ یا تو بذریعہ وحی حاصل ہوتی ہے۔یا اللہ تعالی اس کا علم ضروری نبی ﷺ کے اندر پیدا فرما دیتے ہیں یا نبی ﷺ کی حس پر حوادث کا انکشاف فرما دیتے ہیں۔تو یہ علم غیب میں داخل نہیں‘‘
                           (اعلاء کلمۃ اللہ ص ۱۱۴)
یعنی جو علم بذریعہ وحی حاصل ہو وہ غیب نہیں۔
تو آپ حضرات نے دیکھا کہ علم غیب خاصہ خدا کا ہے۔
خواجہ شمس الدین سیالوی کے ملفوظات کا مجموعہ میں یہ بات موجود ہے کہ ایمان کے احکام سات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ:
 علم غیب کو خاصہ خداوندی سمجھنا   
                                         (  مراۃ العاشقین ص  ۴۷)  
۹:غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں
’’اللہ کے غیر کے لئے علم غیب کا اطلاق کرنا اس لئے جائز نہیں ہے کیوں کہ اس سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ علم کا تعلق ابتداء سے ہے تو یہ قران مجید کے خلاف ہو جائے گا۔لیکن جب اس کو مقید کیا جائے اور یوں کیا جائے کہ اس کو اللہ تعالی نے غیب کی خبر دی یا اس کو غیب پر مطلع فرمایا ہے پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘
                                        (نعمۃ الباری جلد ۱ ص۲۷۳)
        { رضا خانیوں کے اپنے عقیدے پر متضاد دعوے}
رضاخانی اس عقیدہ پر بھی متفق نہیں کچھ اس عقیدہ کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں کچھ نہیں۔اسی چیز کو ہم بیان کرتے ہیں اور اس پر ان کی کتابوں کے حوالے پیش کرتے ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں ان کے نزدیک یہ عقیدہ قطعی ہے یا ظنی؟؟
دعوی نمبر ۱:
’’اللہ تعالی نے نبی کریم  ﷺ کے علم غیب کے منکر کو کافر فرمایا ہے‘‘
                                           (فہارس فتاوی رضویہ   ص۸۷۴)
۲:مولوی عمر اچھروی لکھتے ہیں :
’’آپکی ذات سے علم غیب کی نفی کرتے ہیں وہ در حقیقت آپ کے محمد ہونے کے قائل نہیں ‘‘
                                                        (مقیاس حنفیت ص ۳۱۲)
۳:بریلوی جماعت کے مستند عالم عطا محمد چشتی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نبی کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ اس کو فلاں چیزکا علم نہیں تو یہ عقیدہ اس امر کو مستلزم ہے کہ اس نبی کی توحید مکمل نہیں۔چہ جائیکہ افضل الانبیاء صلوۃٰ اللہ علیہ کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ ان کو فلاں چیز کا علم نہیں‘‘        
(ذکر عطاء فی حیات استاذ العلماء ص۹۱)
لو جی! ان صاحب کے عقیدہ سے یہ لازم آرہا ہے کہ نبی  ﷺ کی توحید ہی ان کے نزدیک نا قص ہے۔اور نبی کی توحید ناقص ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی خود کفر ہے۔
اسی طرح مولوی عمر اچھروی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نے با لفرض نبی  ﷺکو کچھ وقت کی لئے معاذاللہ اس خبر سے بے علم سمجھاتو اس اعتقاد کی بنیاد پروہ اتنی دیر منکر نبوت رہے گا‘‘            
            (مقیاس حنفیت ص۲۹۹)
تو ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کے نزدیک ان کا یہ عقیدہ قطعی ہے۔
جبکہ
بریلوی جید عالم محمود احمد رضوی علم غیب کے عقیدہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’یہ ہمارا قول مختار ہے اور نہ ضروریات سے ہے اور نہ ضروریات مذہب سے،بلکہ باب فضائل سے ہے اور جو لوگ حضور  ﷺ سے بغض وعنادکی بنا پر اس تفصیل سے حضور  ﷺکے لئے ما کان ومایکون کا اثبات نہیں کرتے ہم انکو کافر وگمراہ تو درکنار فاسق بھی نہیں کہتے‘‘
                                            (بصیرت حصہ اول ص ۲۶۶)
پیر سائیں غلام رسول قاسمی لکھتے ہیں:
’’ظنیات محتملہ:یہ نظریات ایسی ظنی  دلیل سے ثابت ہوتے ہیں جو محظ راجح ہو اور جانب خلاف کے لئے گنجائش موجود ہو مثلاََ محبوب کریم  ﷺ کوعالم ماکان و مایکون سمجھنا‘‘
                                                 ( القوائد فی العقائد ص ۴) 
ان کے نزدیک یہ عقیدہ ظنی ہے۔ہم پھر بریلوی حضرات سے پوچھیں گے کہ سچا کون ہے؟؟؟
              {   عقیدہ علم غیب پر مختلف دعوے   }
جیسا کہ پیچھے بتایا جا چکا کہ بیچارے رضاخانی اس مسئلہ پر بہت پریشان ہیں۔اور کسی ایک بات پر متفق ہی نہیں ۔اور ہم یہ بات بلا دلیل نہیں کہہ رہے بلکہ ہم اس پر دلائل رکھتے ہیں۔
اس حوالے سے بھی ہم کچھ آپکو دکھا دیتے ہیں۔
دعوی نمبر۱: بریلوی مولوی عبد الرشید صا حب لکھتے ہیں :
’’اللہ تعالی نے اپنے نبی محترم  ﷺ کو روز اول سے روز آ خر تک تمام علوم غیبیہ سکھائے‘‘
                                                   ( رشد الایمان   ص ۱۰۱)
احمد رضا صاحب لکھتے ہیں:
’’حضور  ﷺ کو روز اول سے روز آخر تک کے تمام گزشتہ و آئندہ کے واقعات کا علم ہے‘‘
                                                (الدولۃ المکیہ ص ۶۱)
مزید آگے لکھتے ہیں : 
’’مگر ہم اس بات کا اصرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضور  ﷺ کو جب یہ فرمایا کہ عنقریب ہم آپ کو وہ سکھا دیں گے جو آپکے علم میں نہیں تھا۔یہ سکھانا واقعی بذریعہ قران پاک تھا۔اور قران پاک بیک وقت نازل نہیں ہوا ۔بلکہ تیئس سالوںمیں نازل ہوتا رہا۔‘‘
                                                ( الدولۃ المکیہ ص ۷۱)
یہ ہے خان صاحب کا دعوی!!اب یہ دعوی کس قدر صحیح ہے؟؟آئیے دیکھتے ہیں۔
خا ن صاحب کے مطابق  پہلے آپ کو علم نہ تھا پھر اللہ پاک نے آپکو سند دی کہ ہم آپکو عنقریب سکھا دیں گے۔
اس بات پر ہم اپنی طرف سے فتوی نہیں لگاتے ہم بریلوی ہی پیش کرتے ہیں جو خود خان صاحب پر حملہ کر دے گا۔
بریلوی جماعت کے مستند عالم عطا محمد چشتی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نبی کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ اس کو فلاں چیزکا علم نہیںتو یہ عقیدہ اس امر کو مستلزم ہے کہ اس نبی کی توحید مکمل نہیں۔چہ جائیکہ اٖفضل الانبیاء صلوۃٰ اللہ علیہ کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ ان کو فلاں چیز کا علم نہیں‘‘
(ذکر عطاء فی حیات استاذ العلماء ص۹۱)
لو جی خان صاحب کے عقیدہ سے یہ لازم آرہا ہے کہ نبی  ﷺ کی توحید ہی ان کے نزدیک نا قص ہے۔اور نبی کی توحید ناقص ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی خود کفر ہے۔
اسی طرح مولوی عمر اچھروی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نے با لفرض نبی  ﷺکو کچھ وقت کی لئے معاذاللہ اس خبر سے بے علم سمجھاتو اس اعتقاد کی بنیاد پروہ اتنی دیر منکر نبوت رہے گا‘‘
  (مقیاس حنفیت ص۲۹۹)
لو خا ن صاحب منکر نبوت بھی ہوئے۔
دعوی نمبر ۲:خان صاحب پہلے عقیدہ میں مزیدغلو کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے لکھتے ہیں:
              ’’چنانچہ نبی  ﷺ کو قیامت اور آخرت کے کثیر علوم عطا فرمائے۔حشر ونشر، حساب و کتاب اور ثواب و عتاب کے تمام درجات کا علم دیا گیا۔لوگ جنت و دوذخ میں اپنے اپنے مقام پر پہنچیں گے۔ان مقامات کے بعد کے علوم بھی اللہ تعالی نے اپنے حبیب مکرم  ﷺ کو عطا فرمائے‘‘
                                                         (الدولۃ المکیہ)
مولوی عمر اچھروی صاحب لکھتے ہیں:
’’لہذا نبی  ﷺ کے لئے تمام عالمین کاعلم غیب عطائی الدوام ماننا یعنی از ابتدائے آفرینش حضور ﷺ کو تا قیامت اور قیامت کے بعد تک بھی اور جنت و دوزح وغیرھم کا تمام علم غیب بلکہ اس سے بھی ذیادہ جس کو اللہ تعالی جانتے ہیں اور مخلوق کی عقلوں سے بالاتر ہے آ پ کی شان نبوت کو حاصل ہے‘‘
               (مقیاس الحنفیت ص۲۹۹)
لیں جی جنت و دوذخ میں جانے اور اس کے بعد کے علوم بھی نبی  ﷺ کو عطا فرمائے۔
جبکہ ان ہی کے ہم مسلک مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں:
’’جس کے لئے علم کی نفی کی گئی ہو وہ واقع ہو اور قیامت تک کا ہو ورنہ کل صفات الہیہ اور بعد قیامت کے کل واقعات کے علم کا ہم بھی دعوی نہیں کرتے‘‘    
(جاء الحق ص ۴۴)
لیجئے یہ صاحب تو قیامت کے بعد کے واقعات کا علم نہیں مانتے۔جبکہ خان صاحب مانتے ہیں ۔ہم پوچھتے ہیں دونوں میں سے کون سچا ہے؟؟
پھر یہ بات بھی لطف سے خالی نہیں کہ جو احمد رضا خان کا ہم عقیدہ نہ ہو اسے وہ کافر جانتے ہیں یہ درست ہے     (الصوارم الہندیہ)
لہذا مفتی احمد یار کافر ہوئے!
دعوی نمبر ۳:مزید آگے بڑھتے ہوئے خان صاحب لکھتے ہیں :
’’لوح محفوظ کا سارا علم ہمارے نبی پاک صاحب لولاک ﷺ کے بے پناہ علوم کے سمندروں کا ایک قطرہ ہے‘‘                                      
(الدولۃ المکیہ  ص ۴۷)
خان صاحب کے دعوے تو بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔جب لوح محفوظ کا علم آپکے علم کا  ایک قطرہ ہے پھر نہ جانے آپ  ﷺ کے علوم کس قدر ہوں گے؟؟؟
دعوی نمبر ۴:احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں :
’’آپ تمام علوم کلی او رجزئی سے واقف تھے۔اور آپ نے ان تمام علوم کا احاطہ فرمایا جو ارض و سماوات کے متعلق ہیں‘‘                    
(الدولۃ المکیہ ص۷۹)
یہاں پر خان صاحب نے نبی ﷺ کے لئے علوم کلی کا دعوی کر دیا
اسی طرح مولوی عبد الرشید صاحب بھی  اپنی کتاب میں ایک سرخی قائم کرتے ہیں؛’’سرکار کے لئے کلی علم کا ثبوت‘‘        
(رشد الایمان ص ۱۰۳)
ایک جگہ لکھتے ہیں ؛
’’اس سے حضور  ﷺ کا علم غیب کلی ثابت ہو‘‘         
(رشد الایمان  ص ۹۷)
یہی بات مفتی فیض احمد اویسی نے اپنی کتاب علم المناظرہ میں لکھی ہے۔
اب اس دعوی پر بریلوی فتاوی جات پڑھیں کہ کیسے یہ عقیدہ رکھ کے یہ حضرات مشرک بنتے ہیں۔
۱:مفتی احمد یار لکھتے ہیں :
’’کلی اختیارات اور مکمل علم غیب پر خدائی دارومدار ہے‘‘
                                      (مواعظ نعیمیہ حصہ ۲ ص۲۶۵)
ایک اور صاحب لکھتے ہیں : 
’’علم غیب کلی کی چابیاں اللہ تعالی کے ساتھ مختص ہیں ‘‘
                                                  ( عقائد و نظریات ص ۸۷)
اسی طرح فتاوی مہریہ میں ہے:
’’رسل کرام سب غیوب پر مطلع نہیں ہوتے تاکہ خصوصیت الہی برقرار رہے‘‘ 
                                       (فتاوی مہریہ  ص ۸)
اب ہم یہ بتانا چاہیں گے کہ بریلوی محظ عوام کو دھوکہ دینے کے لئے کہتے ہیں کہ ہم تو نبی  ﷺ کو عطائی علم غیب مانتے ہیں (ہم پیچھے بتا آئے ہیں کہ عطائی علم غیب ہوتا ہی نہیں۔ از مصنف) حالانکہ یہ حضرات نبی  ﷺ کے لئے اللہ تعالی کا علم خاص مانتے ہیں جو معاذاللہ ذاتی ہے ۔اب ہم ان کا اصل عقیدہ بیان کرتے ہیں جو رضاخانی حضرات شیعوں کی طرح تقیہ کر کے چھپاتے ہیں۔
دعوی نمبر ۵:مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں:
’’خدا کا علم غیب حضور  ﷺکے قبضہ میں دے دیا گیا‘‘
                                                             (شان حبیب الرحمٰن ص ۲۰۶)
ہم بریلوی حضرات سے پوچھیں گے کہ خدا کا علم غیب ذاتی ہوتا ہے یا عطائی؟یقیناذاتی ہوتا ہے۔
تو یہ مفتی کہہ ریا ہے کہ خدا کا علم غیب نبی  ﷺ کے قبضہ میں دے دیاگیا۔تو یہ نبی  ﷺ کو بھی  ذاتی علم غیب مانتے ہیں۔معاذاللہ!!
یہی مفتی اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں:
’’اس آیت اور ان تفاسیر سے یہ معلوم ہوا کہ خدائے قدوس کا خاص علم غیب حتی کہ قیامت کا علم بھی حضور  ﷺ کو عطا کیا گیاان کیا شیٔ ہے جو علم مصطفے  ﷺ سی باقی رہ گئی‘‘
                                                       (جاء الحق ص ۶۰)
یہاں بھی خداتعالی کا خاص علم (جو کہ ذاتی ہے)نبی  ﷺ کے لئے مان رہا ہے۔
اسی طرح مولوی عمر اچھروی صاحب لکھتے ہیں:
’’غیب کی ضمیر کا مرجع الغیب ہے اور الغیب میں ا ل جنس کا ہے۔اگر اللہ رب العزت الغیب کی نسبت اپنی طرف کر کے اپنے تمام غیب کے عالم ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور ثابت ہے تو اس کی طرف ضمیر راجعہ کا منسوب نبی  ﷺ فلا یظہر علی غیبہ سے کیسے بے خبر ہو سکتے ہیں۔کیوں کہ ضمیر کا مرجع کل غیب ہے۔جب عطا کنندہ نبی کو اپنا کل غیب عطا کر کے سراہے تو اس کے انکار کرنے والے کو کیسے مومن سمجھا جا سکتا ہے‘‘
                                              (مقیاس ِحنفیت ص ۳۲۳)
یہاں بھی مولوی عمر اچھروی صاحب مان رہے ہیں کہ اللہ نے اپنا کل غیب(ذاتی) نبی  ﷺ کو عطا کیا ہے۔معاذااللہ!
اسی عقیدہ کی تائید فاضل بریلوی بھی کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں  ہو  بھلا 
جب خدا ہی نہ چھپا تم پہ کروڑوں درود
                                            (حدائق بخشش ص ۲۰۹)
یعنی جب آ پ ﷺ سے خدا ہی نہ چھپا تو پھر اور کیا چیز ہے جو آپ  کے علم سے پوشیدہ ہو۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
تیرے  تو  وصف  عیب  تناہی  ہیں  بر ی
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے
                                                   (حدائق بخشش ص ۱۳۲)
یعنی جو جو نبی  ﷺ کی صفات کو متناہی مانے وہ آپ  ﷺ کو عیب لگاتا ہے۔اور علم بھی ایک صفت ہے تو جو اس علم کو متناہی مانے وہ بھی آپ  ﷺ کو عیب لگاتا ہے ۔اور نبی  ﷺ کو عیب لگانے والا یقینا کافر ہے۔!!
یہ تو تھے وہ حوالہ جات جو در حقیقت ر ضاخانیت کے اصل عقیدہ تھے ۔جو ان لوگوں نے آج تک چھپا کر رکھے تھے۔
 علم غیب ذاتی کا عقیدہ رکھنے والے پر فتوی بھی ان کے گھر سے ہی ملاحظہ ہو۔
خان صاحب بریلوی لکھتے ہیں:
’’کوئی شخص کسی مخلوق کے لئے ذرہ بھی علم ذاتی مانے یقینا کافر ہے‘‘
                                                     (ملفوظات ص ۲۵۶)
لیجیے رضا کا خنجر رضویت کے حلق کے پار ہو گیا۔
اور یہ سارے بریلوی کفر کے گھاٹ اتر گئے۔دن رات علماء حق پر زبان دراذی کرنا آسان ہے۔فتوی بازی کرنا آسان ہے مگر۔۔۔ علما کی کرامت دیکھو آج رضویت خود نہ بچ سکی!!
اب آتے ہیں کہ ان کے عقیدہ کے مطابق نبی  ﷺ کو علم غیب کب ملا؟؟ آپ یہ جان کر ضرور حیران ہوں گے کہ جس عقیدہ کی بنیاد پر یہ علماء دیوبند کو گستاخ کہتے نہیں تھکتے۔ایسے عقیدہ کی وجہ سے خود ان پر فتاوی جات ان کے اپنے مولویوں کے ہیں اس سے یہ خود نہ بچ سکے۔بلکہ عقیدہ جیسے مسئلہ پر بھی متفق نہ ہو سکے۔
اب ہم آتے ہیں کہ ان کے نزدیک علم غیب کب عطا ہوا۔
دعوی نمبر ۱:
مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں :
’’حقیقت یہ ہے کہ حضور  ﷺ اول ہی سے قرآن کے عارف تھے مگر قرانی احکام نزول سے قبل جاری نہ فرمائے‘‘
        (جاء الحق)
دعوی نمبر۲:
مولوی نعیم الدین مرادآبادی لکھتے ہیں:
’’آنحضرت  ﷺ نے فرمایا کہ شب معراج میرے حلق میں ایک قطرہ ٹپکایا گیا۔اس کے فیضان سے مجھے ما کان و ما یکون کا علم حاصل ہو گیا‘‘          
(الکلمۃ العلیا ص ۴۳)
ان کی نزدیک نبی  ﷺ کو معراج سے قبل علم غیب نہ تھا۔جبکہ
بریلوی جماعت کے مستند عالم عطا محمد چشتی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نبی کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ اس کو فلاں چیزکا علم نہیںتو یہ عقیدہ اس امر کو مستلزم ہے کہ اس نبی کی توحید مکمل نہیں۔چہ جائیکہ اٖفضل الانبیاء صلوۃٰ اللہ علیہ کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ ان کو فلاں چیز کا علم نہیں‘‘         
   (ذکر عطاء فی حیات استاذ العلماء ص۹۱)
لو جی ان صاحب کے عقیدہ سے یہ لازم آرہا ہے کہ نبی  ﷺ کی توحید ہی ان کے نزدیک نا قص ہے۔اور نبی کی توحید ناقص ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی خود کفر ہے۔
اسی طرح مولوی عمر اچھروی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نے با لفرض نبی  ﷺکو کچھ وقت کی لئے معاذاللہ اس خبر سے بے علم سمجھاتو اس اعتقاد کی بنیاد پروہ اتنی دیر منکر نبوت رہے گا‘‘  
                      (مقیاس حنفیت ص۲۹۹)
لیجیے لگ گیا فتوی ان پر بھی۔
دعوی نمبر ۳:
مولوی احمد رضا صاحب لکھتے ہیں :
’’جب قران مکمل ہو گیا حضور  ﷺ کے علوم کی تکمیل ہو گئی‘‘
                                           ( الدولۃ المکیہ ص ۸۴)
یہی بات پرو فیسر محمد عرفان قادری اپنی کتاب’ نبوت ہر آن ہر لحظہ ‘  میں صفحہ ۳۶ پر لکھتے ہیں 
ان کے نزدیک بھی قران کی تکمیل سے پہلے آپ  ﷺ کو کلی علم غیب نہیں تھا تو ان پر بھی ما قبل والے  دو فتوے لگ گئے۔
ہم پھر رضاخانی حضرات سے پوچھیں گے کہ بتائیں کون سچ کہہ رہا ہے؟؟
دعوی نمبر ۴:
مولوی صالح صاحب لکھتے ہیں:
’’لوح محفوظ آ پ کے روبرو لکھی گئی اور آ پکو شکم مادر میں ہی علم غیب تھا‘‘
                                                  (علم غیب رسول  ص۳۴)
ما قبل والے فتوے ان پر بھی لگیں گے کیوں کے یہ شکم مادر سے پہلے علم غیب نبی  ﷺ کو نہیں مانتے۔
اس لئے ان کے مطابق نبی  ﷺ کا عقیدہ توحید ناقص ہے اور مولوی عمر اچھروی کے مطابق یہ منکر نبوت بھی ہوئے۔معاذ اللہ!
(جاری۔۔۔)
٭٭٭

     

ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت کا جائزہ (قسط۔۳)

مولانامفتی نجیب اللہ عمر ﷾(کراچی، پاکستان)

۱۵)  حدیث میں تبدیلی کا قصور
عرض :علاج کرنا سنت ہے یا نہ کرنا؟
ارشاد:دونوں سنت ہیں۔یہ بھی ارشاد ہوا ہے
 ’’تداء وا عباد اﷲ فان الذی،  انزل الداء انزل الدواء لکل دائٍ‘‘
ترجمہ احمد رضا:علاج کرو اے اﷲ کے بندوں کہ جس نے مرض انارا ہے اس نے ہر مرض کی دوا بھی اتاری ہے۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۵۴نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
اس حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں:
’’تداو وعباداﷲ لایضع وائً اِلاَّ وَضَعَ لَہُ دوائً‘‘(عن اسامۃ بن شریک)
(کنز العمال ،کتاب الطبّ:الباب الاول فی الطبّ حدیث ۲۸۰۷۲  حدیث ۲۸۰۸۹ ج  ۱۰ ص ۴۳ دارالکتب العلمیہ بیروت)
حدیث کے لکھنے میں غلطیاں:
(۱)  اس حدیث میں احمد رضا خان نے اپنے سوء حافظہ یا عادت ِ تحریفانہ کی بنیاد پر ’’فان اﷲ ‘‘کے بجائے ’’فان الذی‘‘لکھ دیا۔
(۲) اور حدیث کے اگلے جملے کو اپنی طرف سے بدل دیا اصل الفاظ یوں تھے
’’لایضع داء اِلاّوضع لہُ دوائً‘‘
لیکن احمد رضا نے یہ الفاظ بدل کر اسطرح لکھ دیئے:
’’انزل الداء انزل الدواء لکل دائٍ‘‘
(۳) اور ترجمہ بھی اسی طرح کیا ہے جسطرح کے الفاظ نقل کیے ہیں جو اس بات کی گواہی ہے کہ اسمیں احمد رضا کے سواء کسی کا قصور نہیں۔
۱۶)  تبدیلی الفاظِ حدیث کی ایک نئی مثال
صدیق ؓوفاروق  ؓکے وصال کو تیرہ سو برس۱۳۰۰سے زائد ہوئے ۔اسوقت تک تبرّے سے انھیں نجات نہیں یہ کیوں۔اسلئے کہ غاشیہ اٹھایا حق کا اپنے کندھوں پر اور دور مٹایا اھل باطل کا 
’’رحم اﷲ عمر ترکہ الحق مالہ من صدیق‘‘ ۔
اللہ رحمت کرے عمر پر کہ حق گوئی نے اسے ایسا کر دیا کہ اسکا کوئی دوست نہ رہا۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۶۰،۲۶۱نوری کتب خانہ لاہور)
روایت کے اصل الفاظ:
اس حدیث میں عربی جملہ کے الفاظ اصل میں اسطرح ہیں :
’’رحم اللہ عمر ترکہ الحق لیس لہ من صدیق‘‘
(التمھید لابن عبداللہ  ج  ۵  ص  ۱۲۲ مکتبہ )
غلطی کی نشاندھی :
(۱)اس حدیث میں احمد رضا نے ’’لَیْسَ‘‘کو ’’ما‘‘سے بدل دیا اور یہ بھی احمد رضا کی قوت حافظہ کی بہترین دلیل ہے۔
۱۷)  تبدیلی اور بڑھانے کا جرم
بعض صحابہ ء کرام ؓ نے جو نئے مسلمان ہوئے تھے نماز میں حضور اقدس ﷺ پر سبقت کی بعد نماز کو حضور نے ارشاد فرمایا۔
’’اترون ان قبلتی امامی انی اری من خلفی کما اری من امامی ‘‘
ترجمہ احمد رضا:کیا تم دیکھتے ہو کہ میرا منہ قبلہ کو ہے ۔میں ایسا ہی اپنے پیچھے دیکھتا ہوں جیسا آگے۔
(ملفوظات اعلی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۶۸نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
اس حدیث سے الفاظ اس طرح ہیں:
’’ھل ترون قبلتی ھا ھنا أنی اریٰ من خلفی کما اریٰ من امامی ‘‘
(المعجم الاوسط ،حدیث ۴۹۶۶ ج  ۳  ص  ۴۰۸  دار الکتب العلمیہ بیروت)
حدیث سے نقل کی غلطیاں :
(۱) اس حدیث میں احمد رضا نے ’’ھل‘‘کو ’’اَ‘‘سے
(۲) اور ’’ھاھنا‘‘کو ’’امامی‘‘سے تبدیل کر دیا۔
(۳) اور پھر اپنی طرف ’’شبلتی‘‘سے پہلے ’’انّ مشہ بالفعل ‘‘بڑھا دیا اور یہ سب احمد رضا کی ذہانت اور حافظہ کی کارستانی ہے یا پھر ذوق ِتحریف کا نمونہ ہے۔
۱۸)الفاظ حدیث میں بے ترتیبی
’’چھپا کر دینا محتاجوں کو اعلیٰ وافضل ہے۔حدیث میں ارشاد فرمایا:
’’صدقہ السرّ تدفع میتۃ السوء وتطفئے غضب الربّ‘‘
ترجمہ احمد رضا:چھپا کر صدقہ دینا بُری موت سے بچاتا ہے اور رب العزت جل جلالہ کو غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے۔
(ملفوظات اعلی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۷۴نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ :
اس مذکورہ بالا حدیث کے اصل لفظ یوں ہیں:
’’صدقہ السرّ تطفئی غضب الرب وتدفع میتۃ السوء ‘‘
(المعجم الکبیر حدیث  ۱۰۱۸  جلد ۱۹  ص ۴۲۱)
(صحیح ابن حبان،کتاب الزکاۃ باب صدقۃ التطوع  حدیث  ۳۲۹۸ ج  ۵  ص  ۱۳۱)
احمد رضا نے اس حدیث کی ترتیب بدل دی ہے اور ’’تطفی غضب الرَّب ‘‘(جو کہ مقدم تھا)اسے مؤخر کردیا اور 
’’تدفع میتۃ السوء ‘‘(جو کہ مؤخر تھا )اسے مقدم کردیا ۔
اور ترجمہ بھی اسی غلط ترتیب کے مطابق کیا ہے جو کہ احمد رضا کی کندذھنی کی زندہ مثال ہے۔
۱۹)  حدیث میں اضافہ کرنے کی غلطی
(پھر فرمایا)زندگی میں اپنے واسطے صدقہ کرنا بعد موت کے صدقہ سے افضل ہے۔حدیث میں ارشاد فرمایا:
’’افضل الصدقۃ ان تصدق  وانت  صحیح شحیح  ولا تمھل حتی اذا بلغت الحلقوم قلت لفلان کذاولفلان کذا الاو قد کان لفلان تامل الغنی وتخشی الفقر‘‘
ترجمہ احمد رضا:افضل صدقہ یہ ہے کہ تو صدقہ کرے اس حال میں کہ تو تندرست ہو اور مال پر حریص ۔خواہشمندی سے دولت کی تمنّا رکھتا ہو اور محتاجی سے ڈرتا ہو یہ نہ ہو کہ جب دم گلے میں اٹکے اس وقت کہے کہ فلاں کو اتنا فلاں کو اتنا کہ اب تو فلاں کیلئے ہو ہی چکا ۔
(ملفوظات اعلی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۷۴نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
جبکہ حدیث کے الفاظ اصل میں ایسے ہیں:
’’قال رجل للنبی ﷺ ای الصدقۃ افضل قال ان تصدّق وانت صحیح حریص تامل الغنی وتخشی الفقر ولاتمھل حتی  اذا بلغت الحلقوم قلت لفلانٍ کذا ولفلانٍ کذا وقد کان لفلانٍ‘‘
(بخاری ص  ۳۸۴  جلد  اول ، کتاب الوصایا ،باب الصدقۃ عند الموت ۔قدیمی کتب خانہ)
نقلِ حدیث میں غلطیاں :
(۱) بانیٔ بریلویت احمد رضا نے اس حدیث کی ابتداء میں ’’افضل الصدقہ‘‘کو جواباً بڑھا دیا ہے۔
(۲) اور لفظ ’’حرَیْص‘‘ہٹا کر اپنی طرف سے لفظ ’’شحیح ‘‘زائد کردیا۔
(۳) اور لفظ ’’تامل الغنی وتخشی الفقر‘‘جو کہ ’’حریص‘‘کے بعد تھا اسے احمد رضا نے حدیث سے بالکل آخر میں کردیا۔
(۴) اور ’’وقد کان لفلان ‘‘کو خان صاحب نے ’’الّاوقد کان لفلان‘‘سے بدل دیا۔
۲۰)  ’’خیر ھم‘‘کے بجائے ’’آخر ھم‘‘لکھ دیا اور اضافہ کردیا
عرض :حضور وسط کے معنٰی  افضل کے بھی آتے ہیں جیسے ’’وجعلنکم امۃ وسطاً‘‘
ارشاد:ہاں وسط کیلئے افضلیت لازم ہے آیت کے معنٰی یہ ہیں ’’ہم نے تم کو بہتریں امت بنایا۔
حدیث میں ارشاد ہوا۔
’’انتم تتمون سبعین اُمّۃ من قبلکم وانتم آخر ھم‘‘
ترجمہ احمد رضا:تم سے پہلے ۶۹ امتیں گزریں اور تم سب سے پچھلے ہو۔
(ملفوظات اعلٰی حضرت حصہ سوم صفحہ۲۸۶نوری کتب خانہ لاہور)
حدیث کے اصل الفاظ:
حالانکہ حدیث کے الفاظ اس طرح وارد ہیں:
’’انتم تتمون سبعین اُمّۃ انتم خیر ھا‘‘
(مستدرک علیٰ الصحیحین ،کتاب معرفۃ الصحابہ باب ذکر فضائل ھذہ الامۃ  ج ۴  ص  ۹۴  
مکتبہ دارالمعرفۃ بیروت  دارلکتب العمیہ بیروت ۶۹۸۷)
نقل حدیث میں غلطیاں:
(۱)اس حدیث میں احمد رضا نے لفظ ’’خیرھا ‘‘کو بدل کر ’’آخرھم‘‘لکھ دیا جو خان صاحب کے قوت حافظہ کا نمونہ ہے۔
(۲) اور ’’من قبلکم‘‘کا جملہ بھی اپنی طرف سے بڑھا دیا ۔
(۳)  اور’’واؤ‘‘کا اضافہ بھی اپنی جانب سے کردیا۔
(۴)  اور احمد رضاکی یہ سب غلطیاں انکے ترجمہ میں بھی نمایاں ہیں اسلئے ان غلطیوں کو کاتب یا مرتب یا ناشر کی طرف منسوب کرنا حقیقت کے ساتھ کھلا ظلم ہو گا۔
(جاری ہے۔۔۔)
٭٭٭