بدھ، 13 فروری، 2019

ہاں! جمہوری نظام اسلام کے خلاف ہے؛ لیکن..........

”سربکف “مجلہ۵(مارچ، اپریل ۲۰۱۶)
مولانا آفتاب اظہر صدیقی 


اگر ہم دنیا کے جمہوری نظام کا موازنہ اسلامی نظام سے کریں تو دونوں کے درمیان آسمان و زمین کا فرق نظر آتا ہے، اسلامی نطام وہ ہے جو انسان کی روحانی فطرت کے مطابق ہو اور جس میں حدودِ انسانیت سے تجاوز ممنوع ہو جبکہ جمہوری نظام وہ ہے جو انسانی فطرت کو نفسانی آزادیاں فراہم کرکے شیطانی راہوں پر گامزن کردے.
جمہوری نظام کی بنیاد 
۱.وولٹائر
۲. مون ٹیسکیو 
۳. روسو نامی 
تین دہریوں کے افکار کی تشہیر و مقبولیت کا نتیجہ ہے، انہوں نے دنیا کے سامنے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہر آدمی خود مختار ہے، وہ کسی کی ماتحتی میں رہنے کے لئے نہیں پیدا ہوا اور اسے اپنے اعتبار سے ہر طرح کی آزادی حاصل ہونی چاہئے نہ وہ کسی حکومتی نظام کا پابند ہے اور نہ کسی مذہب کا؛ بلکہ مذہب ہر کسی کا ذاتی معاملہ ہے لہذا ایسی سلطنت قائم ہونی چاہئے جو ہر انسان کو ہر طرح سے آزاد اور خود مختار زندگی بسر کرنے کا حق فراہم کرے اور اس کے کسی داخلی یا خارجی، دنیوی و مذہبی معاملات میں دخل نہ دے سکے اور یہ سلطنتی نظام عوام ہی کے ذریعے تشکیل دیا جائے، چونکہ یہ نظریہ بظاہر حیاتِ انسانی کے لئے اطمینان بخش تھا اس لئے بڑی تیزی کے ساتھ دنیا نے جمہوری نظام کو قبول کرلیا اور اس کے نفاذ کے لئے عملی میدان میں اتر کر سعی کرنے لگے؛ ساری دنیا کا بہت جلد جمہوریت پسند ہونا اس لئے تھا کہ اس سے پہلے مطلق العنان حکومتوں اور بادشاہی نظام نے دنیا میں جبر و تشدد اور ظلم و ستم کا ماحول برپا کردیا تھا، رعایا کے حقوق پامال کئے جارہے تھے، ان پر طرح طرح کے ظالمانہ قوانین نافذ کئے گئے، ان کی آزاد زندگیوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تھا اور لوگ ایسی محکومانہ زندگی گزار رہے تھے جس میں ذلت آمیز مظلومیت کے سوا کچھ نہیں رہ گیا تھا. 
ان ظالمانہ حکومتوں کا مذہبی تعلق مغربی کلیسائی مذہب سے ہوا کر تا تھا اور جہاں مسلم بادشاہوں کی حکومتیں تھیں وہاں بھی وہ اسلامی دستور اور قرآنی تعلیمات سے ہٹ کر خود مختار قوانین جاری کرنے لگے تھے؛ لیکن جس کے خلاف عوام میں جمہوری افکار نے جنم لیا وہ یورپ میں چرچ کی ظالمانہ حکومت تھی، کسی کو کلیسا کے بنائے ہوئے اصول سے قطعا اختلاف کا حق نہ تھا، اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر ظلم و تشدد جاری کیا جاتا اور بہت سی دفعہ زندہ جلادیا جاتا تھا؛لیکن آہستہ آہستہ کلیسائی نظام کے خلاف لوگوں میں جذبہ بڑھتا گیا اور رفتہ رفتہ چرچ کے خلاف نفرت کی فضا پیدا ہوتی گئی اور دھیرے دھیرے چرچ کا اقتدار کم ہوگیا؛ چنانچہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مختلف مفکرین پیدا ہوئے جنہوں نے چرچ کے بنائے ہوئے غیر فطری نظام سے بغاوت کرکے لوگوں میں نئے افکار کی اشاعت کی اور بالآخر مغربی دنیا میں جمہوریت غالب آئی جن مفکرین و فلاسفہ کو آزاد خیال جمہوریت کا بانی سمجھا جاتا ہے وہ یہی تین دہریے ہیں وولٹائر، مون ٹیسکیو اور روسو. بہر حال آج خشکی کے اکثر حصوں پر جو جمہوری نظام قائم ہے وہ اگرچہ بظاہر درست اور عقل کے عین موافق معلوم ہوتا ہے؛ لیکن حقیقت میں یہ نظام جہاں خدا سے غافل بلکہ اس کا باغی بناتا ہے وہیں انسانی اخلاق کو بد سے بد تر کرتا ہے اور پاکیزہ ماحول کے لئے بڑا خطرہ ہے اس لئے کہ جمہوریت کا مطلب ہے ہر طرح کی کھلی آزادی جس کے نتیجے میں انسان بے حیائی اور برائی کی حدیں پار کردیتا ہے؛ آج مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی کی بلا، شادی سے قبل جنسی تعلقات، ایڈز جیسی خطرناک بیماری، زناکاری کی بہتات اور غیر ثابت النسب افراد کی اکثریت اسی جمہوری نظام اور خیالی آزادی کی پیداوار ہے، جمہوریت کی خراب کاریاں صرف انسانی معاشرے تک محدود نہیں بلکہ معاشی زندگی کو بھی اس سے بڑا نقصان ہوا ہے کہ جہاں جہاں جمہوری نظام قائم ہے غربت و افلاس اور حق تلفی کی صدائیں بھی سب سے زیادہ وہیں سے بلند ہوتی ہیں. 
اس لئے کہ عوام کی اکثریت جن چند افراد کو تختۂ حکومت سونپ دیتی ہے تخت نشیں ہونے کے بعد وہی لوگ عوام کے حقوق پامال کرتے ہیں اور کمزوروں کے حقوق ہڑپ کر جاتے ہیں. جہاں تک بات ہندوستان کے جمہوری نظام کی ہے تو اتنی بات ضرور ہے کہ یہاں بھی ہر آدمی کو "جمہوریت" کے مفہوم و مقصد کے مطابق چین کی پُرسکون زندگی میسر نہیں، چوری، ڈکیتی، رشوت، کالا بازاری، فحاشی، زناکاری اور غنڈہ گردی کے علاوہ ہر طرف غربت و افلاس اور حق تلفی وناانصافی کا رونا ہے؛ تاہم یہاں اب تک جمہوریت کے مغرب جیسے بہت برے نتائج ظاہر نہیں ہوئے، جمہوریت میں جہاں یہ بات داخل ہے کہ یہ کسی مذہب کی پابند نہیں وہیں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی کے مذہبی معاملات میں اس کا کوئی دخل نہیں، کسی سے اس کے مذھبی حقوق ضبط نہیں کئے جاسکتے اور نہ ہی کسی کو اس کے عقائد و اعمال کے اظہار و اقرار سے روکا جا سکتا ہے، یہ بات ہر اقلیت پذیر فرقے کے لئے بہت اہم اور اطمینان بخش ہے.
”یہ بات روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے کہ ہم اپنے تمام حقوق سے بڑھ کر مذہبی حقوق کو اہمیت دیتے ہیں اس لئے جب تک ہمارے مذہبی امور میں کوئی مانع پیش نہ آئے ہم اس جمہوری نظام کے پابند ہیں اور اپنے وطن سے محبت و وفا ہمارے ایمان کا حصہ ہے“
ظاہر ہے کہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے اس وقت تک کسی بھی نظامِ حکومت کے خلاف نہیں جاسکتے جب تک انہیں ان کے مذہبی اختیارات مکمل طور پر حاصل ہوں، ہم مسلمان بھی یہاں اقلیت میں ہیں اور یہ بات روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے کہ ہم اپنے تمام حقوق سے بڑھ کر مذہبی حقوق کو اہمیت دیتے ہیں اس لئے جب تک ہمارے مذہبی امور میں کوئی مانع پیش نہ آئے ہم اس جمہوری نظام کے پابند ہیں اور اپنے وطن سے محبت و وفا ہمارے ایمان کا حصہ ہے؛ لیکن یہ بات بھی صاف ہے کہ جس طرح ملک کی محبت میں اس کی سالمیت اور بقا کے لئے ہم کسی طرح کی قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹتے اسی طرح اپنے ایمان و اسلام اور عقائد کے تحفظ کی خاطر ہم ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں کیوں کہ ہمیں اپنے ایمان سے بڑھ کر دنیا کی کوئی شےعزیز نہیں۔
از قلم: مولانا آفتاب اظہر صدیقی 
مقیم: جامعہ عربیہ مدرسۃ المؤمنین، منگلور (اتراکھنڈ)
٭٭٭

     

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں