‏سربکف4 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏سربکف4 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 12 فروری، 2019

نظربد کی حقیقت اور علاج

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
قاری معاذ شاہد
نظر بد ایک حقیقی چیز ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
نظربد  انسان کی آنکھ کے وصف کا نام ہے جس میں اس شخص کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظر بد برحق ہے اگر کوئی چیز تقدیر پر غالب آتی تو وہ نظر ہوتی ،نظر کی وجہ سے جوان۔اونٹ ہنڈیا میں پک جاتا ہے ۔
اس میں تین چیزیں ہیں :
 1 ۔ کئی بار تو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ نظر لگی ہے تو اسکے لئے احتیاط کرنی چاہئے
 2 ۔ کئی بار یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ نظر لگی ہے مگر کس کی لگی یہ علم نہیں ہوتا
 3 ۔ اور کبھی تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فلاں کی لگی ہے 
۱)     احتیاطی تدابیر   :
1 ۔ایسا شخص جس کے بارے میں علم ہو اسکی نظر لگ جاتی ہے اس سے کنارہ کشی اختیار کی جائے  
2 ۔ صبح وشام کی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے 
3 ۔ کسی کی تعریف کریں تو اللہ کا نام ساتھ ضرور لیں ماشاءاللہ وغیرہ  
آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو معوذتین پڑھ کر نظر کیلئے دم کیا کرتے تھے۔
بچہ کے گلے میں یہ تعویذ لکھ کر ڈالیں :
اعوذ بکلمات اللہِ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ ومن کل عین لآمۃ 
۲)    نظر لگی کا علم ہوتو:
سورۃ قلم کی آخری آیت 
وان یکاد الذین کفرو  الخ  پڑھ کر دم کریں۔
معوذتین پڑھ کر دم کریں۔
وضو کروائیں  ۔
       یہ دعا پڑھ کر دم کریں
بسم الله ، حبس حابس ، وحجر يابس ، وشهاب قابس ، رددت عين العائن عليه ،” فَارْجِعْ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُور * ثُمَّ ارْجِعْ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ “
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو جبریل امین ان الفاظ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرتے تھے۔
      بسم اللہِ یبریک ومن کل داء یشفیک ومن شر حاسد اذا حسد وشر کل ذی عین 
 3 ) اگر علم ہو کہ فلاں کی نظر لگی ہے تو :
    
اس شخص کو ایک برتن میں وضو کروائیں جس کی نظر لگی ہے اور اس پانی کو نظر زدہ کے سر پر بہائیں  یہ طریقہ حدیث میں موجود ہے ۔
٭٭٭

     

شاہِ ملت: مولانا انظر شاہ قاسمی

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
عاقب انجم عثمانی
مودی حکومت باضابطہ طور پر انگریز کے نقش قدم پر عمل کر رہی ہے.. انگریز نے حق گوئی بیان کرنے والوں پر وارنٹ نکالے: آج انکے روحانی فرزندوں پر یہ ستم مودی حکومت ڈھا رہی ہے۔
ہمارے اکابرین نے تب بھی انکو "لا" کہکر شکست دی تھی اور آج بھی ہم "لا" کہکر مودی حکومت کو چیلینج کرتے ہے...
ہمارے اکابرین کا نام روشن ہوگیا ساری دنیا گواہی دیتی ہے،  تو ان کے نقش پر چلنے والے بھی بلندی پائے گا...
کوئی ٹیپو سلطان بنکر نظر آتا ہے،  کوئی ضامن شہید بنتا ہوا دکھائی دیتا ہے،  کوئی حسین احمد نظر آتا ہے جو سیاست کے امام بنتے ہیں،  کوئی عبید اللہ سندھی نظر آتا ہے جو امامِ انقلاب بنتا دکھائی دیتا ہے،  کوئی محمود الحسن نظر آتا ہے جنکو شیخ الھند کہا گیا،  کوئی اشرف علی نظر آئے جو مجدد ملت لقب پا گئے،  کوئی انور شاہ میدان میں آتے تو بیہقئ وقت کہلائے........ یہ فہرست بھی "لاتعداد" ہے...
ان مجاہدین آزادئ  ہند کے وارثین آج کے دور میں بھی انکا نقش تھامے ہوئے ہمارے سامنے حق کو بیان کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں...
کبھی مفتی عبد القیوم گجراتی نظر آتے ہیں،  کبھی مولانا عبد القوی نظر آتے ہیں،  کبھی انظر شاہ قاسمی نظر آتے ہیں،  کبھی مولانا عبد الرحمن فاضل دار العلوم دیوبند نظر آتے ہیں....

مفتی عبد القیوم گجراتی نے مودی حکومت کو ہندوستان کے باشندوں کا دشمن ثابت کردیا، ”  گیارہ سال سلاخوں کے پیچھے“٭ منظرِ عام پر آچکی ہے، مودی حکومت کا مکروہ چہرہ آپکے سامنے بےباکی سے رکھا ہے....
وہ دن دور نہیں جب شاہِ ملت سید انظر شاہ قاسمی اور خطیب ملت مولانا عبد الرحمن، مودی حکومت کو ننگا کرکے،  مودی حکومت کی ہندوستان دشمنی منظرِ عام و خاص پر لائیں گے....
امت پر جب ملک کے غداروں نے انگلی اٹھائی
انظر تو نے ملک پرستی انکو ہے سمجھائی
کیا ہے تونے ملک کے غداروں کو خبر دار
سوئی امت کو تو اکیلے کرتا ہے بیدار
از قلم
عاقب انجم عثمانی 
بارہویں جماعت طالب علم (نان میڈکل)
کشمیر،  الہند
٭٭٭

     

عقلمند مسافر

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
ڈاکٹر شاہد محمود
 سمندر پُر سکون تھا . . . جہاز کی دونوں منزلیں پر بھرپور زندگی کارفرما تھی . . . قہقہے . رونقیں . خوش گپیاں . چہل پہل . سلام دعا . . . . مطلع صاف تھا . ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی . . . کئی لوگ عرشے پر واقع کینٹین میں چائے . کافی اور مشروبات سے دل بہلا رہے تھے . . . . 
”خواتین و حضرات .. . متوجہ ہوں . !“
 کپتان کی پریشان اور بھرّائی ہوئی آواز جہاز میں گونجنے لگی . . . 
”ایک بڑے طوفان کی اطلاع دی جاتی ہے . . سب لوگ ایمرجنسی کے لئے تیاری کر لیں . . .“
 جہاز پر یکدم سنّاٹا چھا گیا . . . . اور پھر پورے جہاز پر ہلچل. . .سسکیاں . .آہ و بکا... نااُمّیدی کے سائے . . . . 
”خواتین و حضرات !! طوفان میں گِھرے . ایک ڈوبتے جہاز نے اپنے بچاؤ کی تدابیر کی اطلاع کی ہے . ... ابھی فوراً سب لوگ لائف جیکٹس پہن لیں . . اور جہاز سے اُتر کر لائف بوٹس میں سوار ہو جائیں . . . جہاز کا عملہ آپ کی رھنمائی کرے گا . . . یہ آخری اعلان ہے . . . اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو . . . خدا حافظ . . ..!“
” یہ سب جھوٹ ہے . غلط ہے . میں نہیں مانتا !!“ ایک مسافر زور سے دھاڑا . . .
” تمہارا دماغ چل گیا ہے . . .جلدی کرو . . .نکلو ....... “اس کے دوست نے گزارش کی . . . 
”میں نہیں جاؤں گا . . . . مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا . . . دیکھو تو سمندر کتنا پُر سکون ہے . . . اور اس کپتان کا شائد دماغ کام نہیں کر رہا !“
” ارے وہ اس لائن کا ماہر ہے . ہمیں تو نہیں دکھائی دے رہا لیکن اسے سب نظر آ رہا ہے . . .. دماغ اس کا نہیں تمہارا چل گیا ہے . .... مان لو تو بچ جاؤ گے ورنہ مارے جاؤ گے . ... چلو چلو جلدی کرو !“
” میں کوئی بے وقوف ہوں ؟اتنا پڑھا لکھا ھوں ۔ مجھے مت سمجھاؤ . . . جانا ہے تو جاؤ . مجھے مجبور نہ کرو . . !“
 وہ اکیلا ہی جہاز میں گھوم رہا تھا . قیمتی چیزیں اکٹھی کر رہا تھا . . . . وہ بہت خوش تھا . . . ذرا عرشے پر واک کرتا ہوں . . دور دور تک مطلع صاف تھا . . سمندر بھی بالکل خاموش تھا . . . دور دھندلکے میں اسے کوئی اُٹھتی ہوئی چیز نظر آنا شروع ہوئی. . . ....!!! 
”یہ کیا ھو سکتا ہے ؟“ وہ سوچ میں پڑ گیا ...!! منظر صاف ھوا تو اس کی چیخ نکل گئی . . . وہ تو ایک بڑی طوفانی لہر تھی . . . وہ چلّاتا ھوا عرشے پر دوڑنے لگا . . . مگر اب دیر ہو چکی تھی . .بچاؤ کے راستے مسدود ہو چکے تھے . . . ہائے میں کیا کروں ؟ کہاں جاؤں ؟ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا . . . !!! ...اسے اپنے دوست کی باتیں یاد آ رہی تھیں . اسکی منتیں ۔ مگر موقع اس کے ہاتھ سے نکل چکا تھا .وہ یہ بازی ہار چکا تھا . .. . !!! اور جب وہ طوفانی لہر اس جہاز سے ٹکرائی اور جہاز کو ایسا جھٹکا لگا کہ وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور ایک بے جان پتھر کی طرح اڑتا ھوا . . . سمندر میں جا گرا اور اس کی آخری چیخ پانی کے طوفانی شور میں دب گئی . . ..!!!
.... . . ... ... . . . ....... ......... ............
 کہاں
 ہے جنّت  ؟.. . .مجھے دکھاؤ !! قبر کے عذاب مجھے نظر نہیں آتے. . .!! اللہ تعالی کو کس نے دیکھا . ؟؟؟ میں نے دنیاوی علوم میں اتنی دسترس حاصل کر لی مگر ان دینی مغیبات کا کچھ پتہ نہ چل سکا ۔ اگر یہ سچ ہوتی تو مشاہدہ میں بھی نہ آ جاتی !!! یہ ایسے ہی سنی سنائی باتیں ہیں . بے بنیاد ہیں !!! مگر یہ نہ جانا کہ سب سچوں کے سچے . آخرت کی لائن کے ماہر . . . . آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم . . ایک خبر دے رہے ہیں . . . آخرت کے اعتبار سے وہ بینا اور آنکھوں والے ہیں . . . . . . . سب دنیا والے آخرت کے اعتبار سے اندھے ہیں . . نابینا کی خیر اور زندگی بینا کی ماننے میں ہے . ورنہ نامعلوم کس کھائی یا گڑھے میں جا گرے . . . اور اگر اپنے مشاہدات اور تجربات کے پیچھے چلتے رہے تو انجام اس بے وقوف مسافر جیسا ہی ہوگا . . .....!!! مگر اس وقت سوائے پچھتاوے کے اور کوئی کام نہ ہو گا . جو بے سود ہو گا . . . .!!! 
جیسی کرنی ویسی بھرنی نہ مانے تو کر کے دیکھ 
جنت بھی ہے دوزخ بھی ہے  نہ مانے تو مر کے دیکھ 
٭٭٭

     

عذاب الٰہی سے کیسے بچا جائے

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
مفتی آرومند سعد
موجودہ دور میں اپنے ماحول کو بغور دیکھا جائے تو حضور اکرم ﷺ کے ارشادات روز روشن کی طرح سامنے آ جاتے ہیں۔ آقا علیہ السلام نے آخری زمانے کا جو نقشہ آج سے صدیوں پہلے بیان کیا تھا آج ہو بہو وہی باتیں عملی طور پر سامنے آ رہی ہیں۔ من جملہ ان پیشن گوئیوں کے ایک پیشن گوئی فتنوں کی بہتات اور عذاب الہی کا نازل ہونا ہے ۔ چنانچہ آج کا معاشرہ بدامنی ، فساد، قتل و غارت ، مال و جان کے عدم تحفظ سمیت کئی فتنوں میں مبتلا ہے ۔ 
ان حالات میں ایک مسلمان کا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ کیا شریعت نے ہمیں اس دور کے لئے کچھ راہنمائی فراہم کی ہے ؟۔ کیا عذاب الہی سے بچنے کا کوئی ذریعہ ہے جس کو اختیار کر کے غضب خداوند کو ٹھنڈا کیا جا سکے ؟۔ زیر نظر مضمون بھی دراصل اسی طرح کے ایک سوال کا جواب ہے ، کہ عذاب الہی سے کیسے بچا جا سکتا ہے ۔ 
ہم ذیل میں مختصراً عذاب الہی سے بچنے کے ذرائع کا ذکر کرتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ مجھے اور پورے عالم کے مسلمانوں کو اس پر عمل کی توفیق مل جائے اور اللہ تبارک و تعالی ہمیں دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فر ما دے ۔ آمین۔ 
گناہوں سے کنا رہ کشی: 
سب سے اہم اور مقدم طریقہ اللہ تعالی کے عذاب سے بچنے کا یہ ہے کہ انسان گناہوں سے دور رہے اور اپنے دل کو گناہوں کے زنگ سے آلودہ نہ کرے ۔ کیونکہ عذاب نازل ہونے کی بنیادی سبب انسانی اعمال ہیں۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : 
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ 
] سورۃ ۴۲، الشوری: 30[
ترجمہ: اور تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمھارے اپنے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کی بدولت ہوتی ہے اور بہت سی باتوں سے تو اللہ در گزر ہی کر دیتا ہے ۔ 
صحیح بخاری شریف میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : 
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ - رضى الله عنهن أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا قَالَتْ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخُبْثُ
] صحیح البخاری ـ حسب ترقیم فتح الباری -4 / 168[
ترجمہ: حضرت فاطمہ بنت جحش ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ گھبرائے ہوئے اندر داخل ہوئے آپ ﷺ لا الہ الا للہ کہ رہے تھے اور فرما رہے تھے عرب کے لیے ہلاکت ہو اس شر سے جو قریب آ چکا ہے ۔ آج یاجوج ماجوج کے دیوار اس مقدار میں کھول دیا گیا ہے ۔ پھر شہادت کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنایا۔ حضرت زینب بنت جحش فرماتی ہیں میں عرض کیا اے اللہ کے رسول !کیا ہم ہلاک ہونگے حالانکہ ہم میں نیک لوگ ہونگے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں جب گناہ زیادہ ہونگے ۔ 
اس روایت کا آخری جملہ موجودہ حالات کی ترجمانی کر رہا ہے ، آج نیک لوگ بکثرت موجود ہیں اور امت مسلمہ کے لئے دعاؤں میں مصروف ہیں لیکن معاشرے میں گناہوں کی کثرت نے عذاب الہی کا دروازہ کھول رکھا ہے ۔ اس لئے عذاب الہی سے بچنے کے لئے گناہوں سے بچنا از حد ضروری ہے ۔ 
احادیث مبارکہ میں گناہوں کے ساتھ ان کی وجہ سے آنے والے عذابوں کا ذکر ملتا ہے ، جیسا کہ زنا کے عام ہونے سے موت کا عام ہونا، ناپ تول میں کمی سے قحط سالی کا مسلط کیا جانا، ناانصافی کی وجہ سے قتل و غارت گری کا عام ہونا۔ وغیرہ وغیرہ الغرض عذاب سے بچنے کے لئے گناہوں سے بچنا انتہائی ضروری اور لا بدی ہے ۔ 
اعمال صالحہ اور تقوی اختیار کرنا: 
عذاب الہی سے بچنے کے دوسرا راستہ اعمال صالحہ اور تقوی اختیار کرنا ہے ۔ قرآن مجید میں عذاب الہی کا ایک سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ اعمال صالحہ اور تقوی ترک کر دیں ان پر عذاب الہی نازل ہوتا ہے ۔ 
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ وَلَكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ (96) أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ
] سورۃ ۷،الاعراف: 97[
ترجمہ: اور اگر ان بستیوں میں رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تو (پیغمبروں کی)تکذیب کی تو ہم نے بھی ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔ 
اس آیت کریمہ سے یہ بات بخوبی واضح ہو گئی ہے کہ ایمان اور تقوی اللہ کے نعمتوں کا ذریعہ بنتی ہے اور پیغمبروں کو جھٹلانا عذاب کا ذریعہ بنتی ہے ۔ 
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر: 
احادیث مبارکہ کا ذخیرہ مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ جب معاشرے میں برائیاں عام ہو جائے اور اس کو روکنے کی کوشش نہ کی جائے تو ایسا عذاب نازل ہوتا ہے کہ جس سے میں ہر خاص و عام مبتلا ہو جاتا ہے ۔ پھر نیک اور راست باز لوگوں کی دعائیں اور فریاد کام نہیں آتی۔ چنانچہ آقا علیہ السلام کا ارشاد مبارک ہے ۔ 
حدثنا قتيبة حدثنا عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو و عبد الله الأنصاري عن حذيفة عن اليمان : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال والذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليوشكن الله أن يبعث عليكم عقابا منه ثم تدعونه فلا يستجاب لكم
] سنن الترمذي - شاكر + ألباني - 4 / 468[
ترجمہ: حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور بضرور تم نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو ورنہ اللہ تعالی تمھارے اوپر عذاب مسلط کر دے گا پھر تم دعا مانگو گے تو دعا قبول نہ ہو گی۔ 
آج کل عذاب الہی کے نزول کے کئی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ترک کرنا بھی ہے ۔ اول تو کوئی گناہ کرنے والے کو روکنے کی کوشش نہیں کرتا اور جو روکنے کی کوشش کرے تو اسے مولوی، دقیانوسی پتہ نہیں کن کن القابات سے نوازا جاتا ہے ۔ آقا علیہ السلام نے اس کی بہت کی خوبصورت مثال دے کر سمجھایا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کتنا اہم فریضہ ہے ۔ آپ علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ اگر ایک کشتی میں کچھ لوگ اوپر ہوں اور کچھ نیچے ہوں ، نیچے رہنے والے بار بار پانی لینے اوپر جانے سے تنگ آ جائیں اور آپس میں مشورہ کریں کہ بار بار اوپر جا کر ہم ان کو بھی تنگ کر رہے ہیں اور خود بھی مصیبت میں ہے لہذا یہیں پر سوراخ کر لیتے ہیں سمندر کا پانی ہمیں مل جائے گا اوپر جانے کی ضرورت نہ رہے گی۔ اب اگر اوپر رہنے والے ان کو کشتی میں سوراخ کرنے دیں تو دونوں فریق ڈوب جائیں گے ۔ حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔ 
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَثَلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلاَهَا فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّونَ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلاَهَا فَتَأَذَّوْا بِهِ فَأَخَذَ فَأْسًا فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا مَا لَكَ قَالَ تَأَذَّيْتُمْ بِي ، وَلاَ بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ ، وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ
] صحيح البخاري ـ حسب ترقيم فتح الباري - 3 / 237[
اس روایت کے پیش نظر اگر ہم نے عذاب الہی سے بچنا ہے تو جس طرح خود نیکی کرتے ہیں اسی طرح دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرنی ہو گی ، جس طرح ہم خود برائی سے بچتے ہیں اوروں کا ہاتھ بھی روکنا ہو گا ورنہ پھر قہر الہی سے بچنا ناممکن ہے ۔ 
گناہوں پر ندامت اور سچے دل سے توبہ: 
عذاب سے بچنے کے ایک ایسا راستہ جس کی منزل یقینی طور پر رحمت خداوندی ہے وہ توبہ و استغفار ہے ۔ توبہ اللہ تعالی کو ایک ایسا محبوب عمل ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے اور بندوں کے اوپر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ قرآن و حدیث میں ان واقعات کو بیان کیا گیا ہے جن میں توبہ و استغفار کرنے والوں سے عذاب الہی کو دور کر گیا ہے ۔ مثلاً
فَلَوْلاَ كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلاَّ قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ آمَنُواْ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الخِزْيِ فِي الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ (98)
اس آیت کریمہ میں یونس علیہ السلام کی قوم کا تذکرہ ہے جن پر اللہ کا عذاب یقینی طور پر آنے والا تھا لیکن انہوں نے اللہ کی طرف توجہ کی اور توبہ کر کے اللہ کو راضی کر لیا تو ان سے عذاب ختم ہو گیا۔ 
اسی طرح سورت نوح ؑ میں بھی توبہ کو عذاب الہی کے ختم ہونے اور رحمتوں کے نزول کا سبب بتایا گیا ہے :
 فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا (12)
قرآن و حدیث کے بے شمار نصوص اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ توبہ سے بڑے سے بڑا عذاب ٹل سکتا ہے ۔ یہ مختصر سی تحریر ان کی متحمل نہیں ان شاء اللہ کبھی موقع ملا تو ان کو تفصیل سے بیان کر دیا جائے گا۔ 
صدقات سے عذاب کو ختم کرنا: 
احادیث مبارکہ میں عذاب الہی کو ختم کرنے اور اللہ تعالی کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے جن اعمال کا ذکر ملتا ہے ان میں سے ایک صدقات بھی ہیں۔ 
حدثنا عقبة بن مكرم العمي البصري حدثنا عبد الله بن عيسى الخزاز البصري عن يونس بن عبيد عن الحسن عن أنس بن مالك : قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الصدقة لتطفئ غضب الرب
] سنن الترمذي - شاكر + ألباني - 3 / 52[
ترجمہ: حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ اللہ کے غصہ کو بجھا دیتا ہے ۔ 
اس طرح کا مضمون کئی احادیث میں وارد ہوا ہے جس میں صدقات کو بلاؤں کو ٹالنے والا کہا گیا ہے او ر ان کے عذاب ٹلنے کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ اس لئے عذاب الہی سے بچنے کے صدقات کا بھی اہتمام کرنا چاہئے ۔ 
جہاد فی سبیل اللہ پر عذاب سے نجات کا وعدہ: 
قرآن و حدیث کے نصوص سے جہاں ہمیں دوسرے اعمال عذاب سے نجات کا ذریعہ معلوم ہوتے ہیں وہیں پر جہاد فی سبیل اللہ پر بھی اللہ کی طرف سے وعدہ ہے کہ یہ عذاب سے نجات دلائے گا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے ۔ 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (10) تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (11)
ترجمہ: اے ایمان والوں کیا میں تمھیں ایک ایسی تجارت نہ دکھا دوں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچائے گی۔ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرو یہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ 
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اللہ کے عذاب سے بچانے والا عمل ہے (جہاد کے لئے شرائط و احکام ہیں ان کو علماء سے معلوم کیا جائے )
گناہوں سے دل میں نفرت کی جائے : 
عذاب الہی سے بچنے کے لئے ایک اور اکسیر نسخہ یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی کو دل سے برا جانے اور کم از کم اس سے نفرت ضرور کرے ۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا : 
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلاَهُمَا عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ - وَهَذَا حَدِيثُ أَبِى بَكْرٍ - قَالَ أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلاَةِ مَرْوَانُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ الصَّلاَةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ. فَقَالَ قَدْ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ. فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ 
] صحیح مسلم ـ مشكول وموافق للمطبوع - 1 / 50[
ترجمہ: جب تم کسی برائی کو دیکھو تو اس کو ہاتھ سے روکو(اگر فساد کا خطرہ نہ ہو مثلاً ارباب حکومت یہ کام کرے تو کوئی فساد نہ ہو گا اگر عام آدمی کرے تو قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے بلکہ گناہ کو روکنے کی ممکنہ کوشش کرے اگر ہاتھ سے روکنے میں فساد کا اندیشہ ہو یا حکومتی رٹ کے خلاف کچھ ہو تو )اگر ہاتھ سے نہ روک سکے تو زبان سے روکے اور اگر زبان سے بھی نہ روک سکے (مثلاً اگر اس کو منع کیا تو جان یا مال کو خطرہ ہو وغیرہ تو)دل سے اس کو برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے آخری درجہ ہے ۔ 
بنی اسرائیل پر عام عذاب آنے کی ایک وجہ بھی یہ تھی کہ وہ گناہ کرنے کے باوجود ایسے لوگوں سے اپنے تعلقات قائم رکھتے اور ان سے اس گناہ کی وجہ سے قطع تعلق نہ کرتے ۔ صحیح مسلم میں واقعہ ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہے ۔ 
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ عَلِىِّ بْنِ بَذِيمَةَ عَنْ أَبِى عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَى بَنِى إِسْرَائِيلَ كَانَ الرَّجُلُ يَلْقَى الرَّجُلَ فَيَقُولُ يَا هَذَا اتَّقِ اللَّهِ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لَكَ ثُمَّ يَلْقَاهُ مِنَ الْغَدِ فَلاَ يَمْنَعُهُ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَقَعِيدَهُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ ضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ ». ثُمَّ قَالَ (لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِى إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ) إِلَى قَوْلِهِ (فَاسِقُونَ) ثُمَّ قَالَ « كَلاَّ وَاللَّهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدَىِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ قَصْرًا 
] سنن أبي داود ـ محقق وبتعليق الألباني - 4 / 213[
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں پہلا نقصان یہ داخل ہوا کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا اور اس کو گناہ کرتے ہوئے دیکھتا تو اس کو اس گناہ سے منع کرتا کہ یہ تیرے لئے حلال نہیں جب کل دوبارہ اس سے ملتا (اور وہ شخص اسی طرح اس گناہ میں مصروف رہتا)تو وہ بدستور اس خورد نوش میں شریک ہوتا (یعنی اس گناہ کی وجہ سے اس کے دلی محبت میں کمی نہ آتی)تو اللہ نے کے دلوں کو ایک جیسا کر دیا (جس کی وجہ سے سب پر عام عذاب نازل ہوا)۔ پھر آقا علیہ السلام نے پھر قرآن کی آیت لعن الذین کفرو تلاوت کی پھر فرمایا ہر گز نہیں تم ضرور بالضرور نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے منع کرو گے اور ظالم کے ہاتھ کو پکڑو گے اور اسے حق کے قبول کرنے پر مجبور کرنا ہو گا۔ 
ایک جگہ ایک روایت دیکھی تھی اب حوالہ ذہن میں نہیں رہا کہ ایک بستی پر عذاب نازل ہونے والا تھا فرشتے نے اللہ تعالی سے پوچھا کہ اس تو فلاں بندہ بھی ہے جس نے کبھی نافرمانی نہیں کی۔ تو اللہ نے اس پر بھی عذاب نازل کرنے کا حکم دیا کہ اس کے دل میں ایک دفعہ بھی یہ درد نہیں جاگا کہ اللہ کے احکامات کی نافرمانی ہو رہی ہے ۔ 
الغرض برائیوں کو دل سے برا جاننا اور ان سے نفرت کرنا اور اس کے روکنے کی مقدور بھر کوشش کرنا عذاب الہی سے بچنے کے ضروری ہے ۔ 
قرآن و حدیث کے ان فرمودات کو سامنے رکھ کر زندگی گزاری جائے تو امید ہے کہ اللہ کے عذاب سے نجات ملے گی اور دنیا اور آخرت میں کامیابی نصیب ہو گی۔ 
٭٭٭
 

     

حُسنِ ادب اور اُس کی اہمیت (دوسری اور آخری قسط).

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
 حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی ﷫

(٣) سفیان بن عینیہ اور فضل بن عیاض دونوںبزرگ حسین جعفی کے شاگرد تھے ان میں سے ایک نے حسین کا ہاتھ دوسرے نے پائوں چوما۔ (آداب شرعیہ ٢/٢٧٢)
(٤) امام احمد نے دائود بن عمر کی رکاب تھامی تھی ۔ 
(٥) خلف احمر کا بیان ہے کہ امام احمد میرے پاس ابو عوانہ کی مرویات سننے کے لیے آئے میں نے بہت کوشش کی کہ ان کو بلند جگہ پر بیٹھائوں مگر انھوںنے فرمایا کہ میں توآپ کے سامنے ہی (شاگردوں کی جگہ پر ) بیٹھوں گا ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم جس سے علم حاصل کریں اس کے لیے تواضع کریں ۔ (آداب شرعیہ ٢/ ٢٥)
(٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کسی صحابی کے پاس حدیث کا پتہ چلتا تو میں خود اُن کے دروازہ پر حاضر ہوتا تھا وہ اگر سوئے ہوتے تو میںباہر ہی اپنی چادر سر تلے رکھ کر پڑجاتا اور دھول پھانکتا رہتا جب وہ برآمد ہوتے اور فرماتے کیسے تشریف لائے آپ نے آدمی بھیج کر بلوا کیوں نہیں لیا تو میں کہتا میں ہی اس کا حقدار ہوں کہ حاضری دوں ۔ (آداب شرعیہ ٢/٢٧)
(٧) حضرت ابراہیم نخعی نے حماد بن ابی سلیمان (استاذ امام ابوحنیفہ ) کو ایک دن بازار گوشت لانے کے لیے بھیجا راستہ میں اتفاق سے ان کے والد مل گئے جوسواری پرچلے آرہے تھے ۔ حماد کے ہاتھ میں زنبیل دیکھ کر انھوںنے ان کو بہت ڈانٹا ا ور زنبیل چھین کر پھینک دی لیکن جب نخعی کے انتقال کے بعد طالبین حدیث حماد کے دروازہ پر حاضر ہوئے اور دستک دی تو حماد کے والد ہی ہاتھ میں شمع لے کر آئے طلبہ نے کہا ہم آپ کے پاس نہیں آئے بلکہ آپ کے صاحبزادے کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ، وہ اُلٹے پائوں اندر واپس آئے او رحماد سے کہا بیٹا تم اورلوگوں کے پاس جائو، میں سمجھ گیا، زنبیل ہی نے تم کو یہاں تک پہنچایا ۔( مقدمة نصب الرایہ ٣٤)
(٨) حماد بن سلیمان کی ہمشیرہ عاتکہ کہتی ہیں کہ امام ابوحنیفہ ہمارے گھر کی روئی دُھنتے تھے ہمارا دودھ اور ترکاری خریدتے تھے، اور اسی طرح کے اوربہت سے کام کرتے تھے اس واقعہ کو نقل کرکے علامہ کوثری فرماتے ہیں کہ طالب علمی میں اسلاف اس طرح خدمت گزاری کرتے تھے اور اسی سے انہوں نے علم کی برکت پائی۔(تقدمہ ٣٤)
(٩) خلال نے روایت کی ہے کہ امام احمد ایک بار حضرت وکیع کی خدمت میں آئے اس وقت ان کے پاس علمائے کوفہ کی ایک جماعت حاضرتھی ۔ امام احمد ادباً وتواضعاً وکیع کے سامنے بیٹھ گئے ،لوگوں نے کہا کہ شیخ تو آپ کی بہت عزت کرتے ہیں،امام احمد نے فرمایا کہ وہ میری عزت کرتے ہیں تو مجھ کو بھی توان کی تعظیم واحترام لازم ہے ۔ (آداب ٢/٤)
(١٠) امام ابو عبید فرماتے ہیں کہ میں کبھی کسی محدث کے دروازہ پرحاضر ہواتو اطلاع بھجواکر داخلہ کی اجازت نہیںمنگائی بلکہ بیٹھا انتظار کرتا رہا تاآنکہ وہ خود برآمدہوئے۔ میں نے ہمیشہ قرآن پاک کی اس آیت سے جوادب مستفاد ہے اس پر نظر رکھی ولو انھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیرالھم یعنی کاش وہ لوگ صبر کرتے تاآنکہ آپ باہر نکلتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ (آداب ِشرعیہ ٢/٤)
(١١) صاحب ِھدایہ فرماتے ہیں کہ بخارا کے ایک بہت بڑے امام اپنے حلقۂ درس میں درس دے رہے تھے مگر اثناء درس میں کبھی کبھی کھڑے ہوجاتے تھے جب اسکا سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ میرے استاذ کا لڑکا گلی میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے کھیلتے کھیلتے وہ کبھی مسجد کے دروازے کے پاس بھی چلا آتا ہے تو میں اُس کیلیے بقصدِ تعظیم کھڑا ہوجاتا ہوں ۔ (تعلیم المتعلم/٧)
(١٢) قاضی فخرالدین ارسابندی مرو میں رئیس الائمہ تھے ،بادشاہ وقت بھی ان کا بے حد احترام کرتے تھے وہ فرماتے تھے کہ میں نے یہ منصب صرف استاذ کی خدمت کے طفیل میں پایا ہے علاوہ اور خدمتوں کے تیس برس تک میں اپنے اُستادقاضی ابو زید دبوسی کا کھانا پکایا کرتا تھا اور کبھی اس میں سے کھاتانہ تھا۔
(١٣) خلیفہ ہارون رشید نے اپنے لڑکے کو علم وادب کی تعلیم کے لیے امام اصمعی کے سپرد کردیا تھا ،ایک دن اتفاقاً ہارون وہاں جاپہنچے دیکھا کہ اصمعی اپنے پائوں دھورہے ہیں اور شہزادہ پائوں پر پانی ڈال رہا ہے،ہارون نے بڑی برہمی سے فرمایا کہ میں نے تواس کو آپ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ اس کو ادب سکھائیں گے ،آپ نے شہزادوں کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی گرائے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پیر دھوئے۔
اُستاذ کے ساتھ عقیدت :
(١٤) حضرت مرزاجان ِجاناں نے علم حدیث کی سند حضرت حاجی محمد افضل صاحب سے حاصل کی تھی، مرزا صاحب کا بیان ہے کہ تحصیل علم سے فراغت پانے کے بعد حضرت حاجی صاحب نے اپنی کلاہ جو پندرہ برس تک آپ کے عمامہ کے نیچے رہ چکی تھی مجھے عنایت فرمائی ۔میں نے رات کے وقت گرم پانی میں وہ ٹوپی بھگو دی ، صبح کے وقت وہ پانی املتاس کے شربت سے بھی زیادہ سیاہ ہوگیا تھا میں اس کو پی گیا، اس پانی کی برکت سے میرا دماغ ایسا روشن اور ذہن ایسا رسا ہوگیا کہ کوئی مشکل کتاب مشکل نہ رہی۔ (مقامات ِمظہری ٢٩) 
بات چیت میں تمیز اورادب کی تعلیم :
(١٥) سلطان نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ ہمارے پیر حضر ت فرید گنج شکر رحمہ اللہ کے پاس ''عَوَارِفُ الْمَعَارِفْ'' کا جو نسخہ تھا اُس کا خط باریک تھا اور غلط بھی بہت تھا ۔شیخ جب اُس کو سامنے رکھ کر بیان فرماتے تو جگہ جگہ کچھ غور کرنا اور رُکنا پڑتا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ شیخ کے بھائی نجیب الدین متوکل کے پاس عوارف کا بہت عمدہ وصحیح نسخہ موجود ہے لہٰذا میں نے اس کو شیخ سے کہا ،شیخ کو یہ بات گراں گزری ،چند دفعہ فرمایا کہ جی ہاں اس فقیر کو غلط نسخہ کی تصحیح کی لیاقت نہیں ہے ۔پہلے تو میں نہیں سمجھا لیکن جب میری سمجھ میں آیا کہ میری نسبت یہ فرمارہے ہیں تو میں کھڑا ہوگیااوراپنے سر سے ٹوپی اُتارکر اپنا سرشیخ کے قدموں میں ڈال دیا اور عرض کیا کہ معاذاللہ میری یہ غرض نہیں تھی بلکہ میں نے وہ نسخہ دیکھا تھا یاد آگیا ،آپ سے عرض کیا لیکن میری معذرت کچھ مؤثر نہیں ہوئی ۔شیخ کے بشرہ سے ناخوشی کا اثر بالکل پہلے جیسا ظاہر ہوتاتھا، میں سخت حیرانی وپریشانی کی حالت میں مجلس سے باہر آیا ، اُس دن جو غم مجھ کو تھا وہ کسی کونہ ہو، جی چاہتا تھا کہ کنویں میںگرکے جان دے دُوں، میرے اس اضطراب کی خبر شیخ کے صاحبزادہ مولانا شہاب الدین کو ہوئی ،وہ مجھ سے بہت محبت فرماتے تھے انھوں نے میرا حال بہت اچھے انداز میں شیخ سے بیان کیا اُس وقت شیخ خوش ہوئے اور مجھ کو بُلا کر بڑی شفقت ومہربانی کا اظہار فرمایا اور ارشاد کیا کہ:''یہ سب میں نے تمہاری حالت کے کمال کے لیے کیاتھا کہ پیر مشاطۂ مرید ہے ''۔اس کے بعد شیخ نے اپنی خاص پوشاک سے مجھ کو سرفراز فرمایا ۔ (اخبار الاخیار / ٦٩)
(١٦) امام احمد کے پاس حضرت عبداللہ بن مبارک کے مولی (آزاد کردہ غلام )آئے،توامام نے ان کی طرف تکیہ بڑھادیا اور ان کی بڑی عزت کی ،امام کا معمول تھا کہ کوئی قابلِ عزت آدمی آتا تو اپنا تکیہ (یا مسند ) اُس کی طرف بڑھا دیتے تھے ۔ایک بار ابوہمام آپ کے پاس سواری پر آئے تو امام نے رکاب تھام لی (آداب شرعیہ ١/٤٧٠) 
(١٧) ایک بار حضرت وکیع ، امام سفیان ثوری کے لیے تعظیماً کھڑے ہوئے توانھوںنے اعتراض کیا، حضرت وکیع نے فرمایا کہ آپ ہی نے یہ حدیث نبوی مجھے سنائی ہے ''ان من اجلال اللّٰہ اجلال ذی الشیبة المسلم'' امام سفیان خاموش ہو گئے اور وکیع کا ہاتھ پکڑ کر اُن کو اپنے پہلو میں بٹھا لیا ۔( الاداب الشرعیہ١/٤٦٨)
(١٨) محدث کبیر امام ابوزرعہ نہ کسی کے لیے کھڑے ہوتے نہ کسی کو اپنے مسند پر بٹھاتے تھے مگر محدث ابن وارہ کے لیے یہ دونوں کام کرتے تھے ۔ (الاداب الشرعیہ١/٤٦٨)
(١٩) سلیمان بن عبدالملک امیرا لمؤمنین جب حج کو گئے تو اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر عطاء ابن ابی رباح کی خدمت میں مسائل پوچھنے کے لیے حاضر ہوئے۔ حضرت عطاء اُس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، سلیمان بیٹھے انتظار کرتے رہے ،جب عطاء فارغ ہوئے تو انھوں نے سلیمان کی طرف رُخ بھی نہیں کیا۔ سلیمان اسی طرح مناسک ِحج پوچھتے رہے جب پوچھ چکے تو اپنے بیٹوں سے کہا اُٹھو چلو، پھر کہا بیٹو! علم حاصل کرنے میں سستی نہ کرو، میں اس حبشی غلام کے سا منے اپنے ذلیل ہونے کو نہیں بھول سکتا۔ (صفوة الصفوة ٢/١١٩)
(٢٠) سعیدبن مسلم کہتے ہیں کہ جلالت وعظمت میں علم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ ابن داب انساب و اخبار کے حافظ تھے اور خلیفہ ہادی کے ندیم، مگر اس کے ساتھ یا اس کے سامنے کھانا نہیں کھاتے تھے۔ سبب پوچھا گیا تو کہا کہ میں ایسی جگہ کھانا نہیں کھاتا جہاں ہاتھ نہ دھوسکوں۔ خلفاء وملوک کے سامنے ہاتھ دھونا دربار کے آداب کے خلاف تھا۔ہادی کو معلوم ہوا تو اُس نے ان کو اپنے سامنے ہاتھ دھونے کی اجازت دی ،چنانچہ اور سب لوگ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد باہر جا کر ہاتھ دھوتے تھے اور ابن داب ہادی کے سامنے ہاتھ دھویا کرتے تھے۔(معجم الادباء ١٦/١٥٥)
(٢١) حاکم خراسان عبداللہ بن طاہر کے صاحبزادے طاہر اپنے باپ کی زندگی میں حج کو آئے تو اسحاق بن ابراہیم نے اپنے گھر پر علمائے مکہ کو مدعو کیا تاکہ طاہر اِن سے مل لے اور اِن سے کچھ پڑھے ۔ اس دعوت کو اور سب لوگوں نے تو قبول کیا اور ہر قسم کے اہلِ علم شریک مجلس ہوئے مگر ابوعبید رحمة اللہ علیہ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ''العلم یقصد'' یعنی علم کے پاس خود آناچاہیے ۔اسحاق اس جواب پرخفاہوگیااور عبداللہ بن طاہر کی طرف سے ابوعبید کو دوہزار درہم ماہانہ وظیفہ ملتا تھا اُس کو بند کردیا ،اور ابو عبید کے جواب کی اطلاع ابن طاہرکے پاس بھیج دی۔ ابن طاہر کو جب یہ اطلاع پہنچی تو اس نے اسحاق کولکھ بھیجا کہ ابوعبید نے بالکل سچی بات کہی ہے اور آج سے میںان کا وظیفہ دوچند کرتا ہوں ،تم اس پر عمل کرو اور اُن کا بقایا ادا کرو۔ (معجم الادباء ١٦/٢٦١)
تذکرة السامع کی ایک فصل کا خلاصہ :
قاضی القضاة امام بدرالدین بن جماعة نے تعلیم وتعلم کے آداب اور اُستادوشاگرد کے باہمی برتائو کے باب میں ایک نہایت جامع اورنفیس کتاب لکھی ہے ۔اس کے تیسرے باب کی دوسری فصل کا عنوان یہ ہے الفصل الثانی فی آداب مع شیخہ وقدوتہ وما یجب علیہ من عظیم حرمتہ ۔ (دوسری فصل استاذومقتداکے ساتھ ادب،اوراس احترام عظیم کے بیان میں جو شاگردپرواجب ہے) یہاں پر ہم اسی فصل کے مضامین کاخلاصہ پیش کرنا چاہتے ہیں :
(١) لازم ہے کہ شاگرد اپنے جملہ اُمور میں اپنے اُستاد کا مطیع ومنقادرہے ، اس کی رائے وتدبیر سے باہر نہ ہو، جس طرح بیمار حکیم حاذق کے ہاتھ میں ہوتا ہے اسی طرح اپنے کو اس کے ہاتھ میں دیدے ،جس بات کا قصد کرے اس میں مشورہ کرے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے، اس کے احترام میں مبالغہ اور اس کی خدمت کو قرب ِخداوندی کا موجب جانے اور یقین کرے کہ استاد کے سامنے ذلیل ہونا عزت ہے ،اس کے لیے جھکنا فخر ہے اوراس کے لیے تواضع سربلندی۔امام شافعی کو کسی نے ملامت کی کہ علماء کے لیے اس قدر کیوں تواضع کرتے ہیں؟تو فرمایا :
اھین لھم نفسی فھم یکرمونھا
ولن تکرم النفس التی لا تھینھا
یعنی میں اپنے کواُن کے آگے ذلیل کرتا ہوں تووہ میری عزت افزائی کرتے ہیں اور جس نفس کو تو ذلیل نہ کرے اُس کی عزت نہیں ہو سکتی۔
حضرت ابن عباس نے باوجود اپنی بزرگی ومرتبہ کے (کہ خاندان نبوت میں سے تھے اور رسول خدا ۖکے چچا زاد بھائی ) حضرت زید بن ثابت انصاری کی رکاب اپنے ہاتھ سے تھامی اور فرمایا کہ ہم کو اپنے علماء کے ساتھ ایسا ہی برتائو کرنے کا حکم ملا ہے۔ حضرت امام احمد (باوجود اپنی دینی وعلمی عظمت وامامت کے)جب خلف احمر لغوی کی مجلس میں جاتے تو فرماتے کہ میں آپ کے سامنے ہی بیٹھوں گا (یعنی شاگردوں کی طرح بیٹھوں گا،برابر نہیں بیٹھ سکتا)ہم کو یہی حکم ہے کہ جس سے علم سیکھیں اس کے لیے تواضع کریں۔
(٢) اپنے اُستاذ کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھے اوراُس کے کمال کاپختہ اعتقاد رکھے۔ سلف میں بعض حضرات یہ دعا کرتے تھے کہ خدا وندا !میرے اُستاذ کا عیب مجھ پر ظاہر نہ ہو کہ اس سے بے اعتقادی پیدا ہو کر میرے پاس سے اس کے علم کی برکت جاتی رہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں امام مالک کے سامنے ورق بھی بہت آہستہ اُلٹتا تھا کہ اس کی آواز اُن کو سنائی نہ دے۔ امام ربیع فرماتے ہیں کہ امام شافعی کی نظر کے سامنے مجھ کو کبھی پانی پینے کی جرأت نہ ہوئی۔
خلیفہ مہدی کا کوئی لڑکا قاضی شریک کے پاس آیا اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔پھر اُس نے ایک حدیث پوچھی ، شریک نے کچھ توجہ نہیں کی ، اُس نے پھر پوچھا، انھوںنے پھر توجہ نہیں کی ، تب اُس نے کہا آپ خلفاء کی اولاد (شہزادوں ) کی بے حرمتی کرتے ہیں ۔شریک نے فرمایا کہ ہاں مگر علم اللہ کے نزدیک اِس سے کہیں برتر ہے کہ میں اس کو برباد کروں۔
اپنے استاذکو دور سے نہ پکارے، اور یا سیدی، یا اُستاذی اور ایھا العالم ، ایھا الحافظ کہہ کے پکارے ،عربی میں جمع کا صیغہ ماتقولون اور مارأیکم اختیار کرے ۔اس کی غیبوبت میں بھی تعظیمی القاب کے ساتھ اُس کا ذکر کرے، تنہا نام نہ لے۔
(٣) اُس کا حق پہچانے اور کبھی اس کا احسان نہ بھولے ،امام شعبہ کا ارشاد ہے کہ میں ایک حدیث بھی کسی سے سن لیتا ہوں تو اُس کی زندگی بھر کے لیے اُس کا غلام بن جاتاہوں ۔ تعظیم اُستاد میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اُس کی غیبت کرے تو تم تردید کرو، اوراستاد کی حمایت کرو اور اگر یہ نہ کرسکو تو اس مجلس سے اُٹھ جائو وینبغی ان ید عولہ مدة حیاتہ ویرعی ذریتہ واقاربہ واولادہ بعد وفاتہ ویتعمد زیارة قبرہ والاستغفار لہ والصدقة عنہ ویسلک فی السمت والھدی مسلکھم ویراعی فی العلم والدین عادتہ ویقتدی بحرکاتہ وسکناتہ فی عاداتہ وعباداتہ یعنی شاگرد کو چاہیے کہ استاد کی زندگی بھر استاد کے لیے دعا کرے اورمرنے کے بعد اُس کی اولاد اوررشتہ داروں اور اُس کے دوستوں کا لحاظ کرے اور بالقصد اُس کی قبر کی زیارت، اُس کے لیے استغفاراور اُس کی طرف سے صدقہ کرے اوراس کے چال ڈھال کی پیروی کرے،علم ودین میں اُس کی عادات کا لحاظ ،اور خواہ عبادت ہو یا عادت ہرایک میںاس کے حرکات وسکنات کی اقتداکرے۔
جس طرح سے امام ابودائود امام احمد کے ، اور وہ وکیع کے ، اور وہ سفیان کے اوروہ منصور کے ، اور وہ ابراہیم نخعی کے اور وہ علقمہ کے ،اور وہ حضرت ابن مسعود کے،اوروہ رسول ِخدا ۖ کے مشابہ تھے، نشست وبرخاست میں رفتاروگفتار میں۔
(٤) اُستاد سے سخت مزاجی یا بد خلقی بھی صادر ہوتو صبر کرے ،اور ا س کی وجہ سے اُس کے پاس آنے جانے میں یا عقیدت میں فرق نہ پڑنے پائے ۔ لازم ہے کہ اس کے فعل کی کوئی عمدہ تاویل کرے اوراس سختی وبدمزاجی کے موقع پر اپنے ہی کو قصوروار قراردے اور معذرت میں سبقت کرے اور اپنی حرکت سے توبہ واستغفار کرنا ظاہر کرے،اسی میں شاگرد کی دنیا وآخرت کانفع ہے۔ امام معانی بن عمران نے فرمایا کہ جو عالم پر خفا ہوتا ہے اُس کی مثال اُس شخص کی ہے جو جامع مسجد کے کھمبوں پر خفاہو۔
ابن عینیہ سے کسی نے کہا کہ یہ طالب علم لوگ اتنی دُور دُور سے آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ اِن پرخفا ہوتے ہیں کہیں وہ آپ کو چھوڑ کر چل نہ دیں۔ابن عینیہ نے کہا وہ تمہارے ہی جیسے احمق ہوں گے اگر میری بدخلقی کی وجہ سے اپنے نفع کی چیز چھوڑدیں۔
امام ابو یوسف نے فرمایاکہ انسان پر عالم کی مدارات واجب ہے یعنی اُس کی تندی وسختی کو اپنی نرمی سے دفع کرنا۔ 
(٥) اُستاد کوئی اچھی بات بتائے یا کسی بری بات پر تنبیہ کرے تو اُس کی شکر گزاری ضروری ہے اورجب وہ کوئی نکتہ بتائے توتمہیں اگر پہلے سے وہ معلوم ہے جب بھی یہ ظاہر نہ کرو کہ یہ تو مجھ کو پہلے سے معلوم ہے ۔
(٦) اُستاد کے دروازہ پر ا دب کے ساتھ آہستہ دستک دے۔ پہلے ناخنوں سے دستک دے، نہ کام چلے تو انگلیوں سے، ہاں اگر دُور رہتا ہو تو بقدرِضرورت دستک کی آواز بڑھا سکتا ہے ۔اُستاد کے پاس گیا اوروہاں کچھ لوگ اُس سے بات کررہے ہوں اور اُس کو دیکھ کر خاموش ہوگئے تو یہ جلدی سے اُٹھ کرچلاآئے الایہ کہ اُستادخود مزید ٹھہرنے کے لیے کہے ۔اُستاد سورہا ہے تو اُس کو جگائے نہیں بلکہ انتظار کرے۔ حضرت ابن عباس حضرت زید کے دروازہ پر بیٹھے اُن کا انتظار کرتے رہتے تھے، لوگ کہتے کہ جگادیا جائے تو فرماتے کہ نہیں ،حالانکہ کبھی کبھی دیر تک انتظار کرنے کی وجہ سے دھوپ کی تکلیف برداشت کرنا پڑتی۔
(٧) اُستاد کے سامنے نہایت ادب سے بیٹھے جس سے تواضع وخضوع اورسکون وخشوع مترشح ہوتا ہو ، اورہمہ تن اُس کی طرف متوجہ ہو، بلاضرورت دائیں بائیں اُوپر نیچے نہ دیکھے ،کوئی شورسن کر مضطرب نہ ہو جائے، اُستاد کے پاس بیٹھا ہواآستین نہ چڑھائے ،ہاتھ پیر سے نہ کھیلے، ڈاڑھی اورمنہ پر ہاتھ نہ رکھے ،ناک نہ کریدے،دانتوں پر ناخن سے نہ مارے، زمین پر ہاتھ نہ ٹیکے، اس پر لکیر نہ بنائے، انگلی نہ چٹخائے، گھنڈی یا بٹن سے نہ کھیلے، اُس کے سامنے کسی چیز سے ٹیک نہ لگائے، کسی چیز پر ہاتھ ٹیک کے نہ بیٹھے ، ہاتھ پر ٹیک لگائے پیچھے کو جھکا ہوا نہ رہے، اُس کی طرف پیٹھ یا پہلو نہ کرے، زیادہ بات نہ کرے، بے ضرورت کھنکھارے نہیں ، نہ تھوکے ، نہ بلغم نکالے، چھینکے تو منہ چھپا کے بہت آہستہ سے۔
طلبہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں :
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حقوق ِعالم کے باب میں جو نصیحتیں کی ہیں اُن میں ایک یہ ہے کہ عالم کو کوئی کام پیش آئے تو تم اُس کا کام کرنے کے لیے سب سے آگے بڑھو، اُس کی مجلس میں آہستہ آہستہ بات کرو، خدا کے واسطے اس کی توقیر کرو، اُس سے لغزش ہو جائے تو اُس کی معذرت قبول کرو۔
دوسرے بزرگوں نے فرمایا کہ اُستاد کے پہلو میں نہ بیٹھو ، وہ کہے تب بھی نہ بیٹھو مگر جب جانو کہ نہ بیٹھنے سے اُس کو صدمہ ہوگا تب مضائقہ نہیں ہے۔
(٨) اُس کے ساتھ بڑے ادب سے گفتگو کرے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ اس سے لِمَ ؟ (کیوں) نہ کہے، اسی طرح لَا نُسَلِّمُ (ہم نہیں مانتے )یا مَنْ نَقَلَ ھٰذٰا (اس کو کس نے نقل کیا ہے) یا اَیْنَ مَوْضِعُہ (یہ کہاں لکھا ہے) یہ الفاظ نہ بولے۔
بعض سلف نے فرمایا کہ جو اپنے استاد سے لِمَ (یعنی یہ کیوں؟ ) کہے وہ کبھی فلاح نہ پائے گا، اُستاد سے بات کرنے میںاِس کا خیال رکھے کہ اس طرح کے الفاظ نہ آنے پائیں سمجھا؟ ہے نا؟ وغیرہ۔
(٩) جو بات تم کو معلوم ہے اُس کو بھی اُستاد کی زبان سے اس طرح سنو جیسے تمہیں معلوم نہ تھی اور اس کی طلب تھی اوراس پر خوشی کا اظہار کرو بلکہ اگر اس کو شروع کرنے کے بعد تم سے پوچھے کہ تم کو معلوم ہے تو یوں جواب دو کہ میں حضرت کی زبان سے اس کو سننا چاہتا ہوں یا جناب جو بات فرمادیں گے وہ زیادہ صحیح ہوگی وغیرہ وغیرہ ۔
(١٠) اُستاد کو کوئی خط ،درخواست یا استفتاء وغیرہ تہ کیا ہوا نہ دے کہ اس کو کھولنے کی زحمت ہو، اسی طرح کتاب دے تو اُلٹی نہ دے ،کوئی خاص مقام دکھانا ہوتو وہ مقام نکال کردے اور جگہ بتادے۔ اُستاد کوئی چیز دیتا ہو تو اس طرح نہ لے کہ خود اُستاد کو ہاتھ بڑھانا یا کھسکنا پڑے ۔اسی طرح کوئی چیز اس سے لینے کے لیے کھسک کرنہ جائے بلکہ کھڑے ہوکراور اپنے پیر یا ہاتھ وغیرہ سے اُستاد کے کپڑوں کو نہ دبائے ، قلم دے تو روشنائی میں ڈبو کر ، دوات سامنے رکھے تو کھول کر ، اُستاد کے سامنے خود مصلیٰ پر نہ بیٹھے ،اُستاد مجلس سے کھڑا ہوتو فوراً اُس کا جوتا پیش کرے یا سیدھا کرے، یا کسی اعانت کا محتاج ہوتو اُس اعانت کے لیے شاگردوں کو مبادرت کرنی چاہیے۔
(١١) اُستاد کے ساتھ رات کو آگے اوردن کو پیچھے چلے، مگر جب کہ اس کے خلاف میں کوئی دوسری مصلحت ہو تو خلاف میں مضائقہ نہیں۔ نامعلوم مقامات میںجیسے کیچڑ کی جگہ ، ناپدان ، نالی وغیرہ کے پاس خود آگے بڑھ جائے۔ آگے چلے تو ہر تھوڑی دیر کے بعد مڑ کر اُستاد کو دیکھ لے، اُستاد کی رائے غلط بھی ہوتو یہ نہ کہے کہ غلط ہے یا یہ رائے ٹھیک نہیں ہے بلکہ اِس طرح کہے کہ مجھ کویوں کرنے میں مصلحت معلوم ہوتی ہے ۔ (تذکرة السامع والمتکلم از ٨٧ تا ١١٢)
الآداب الشرعیہ ٢/١٧٩ میں ابن الجوزی کے حوالہ سے چند آداب مذکور ہیں۔از انجملہ یہ کہ جب محدث کوئی ایسی حدیث بیان کرے جس کو سامع طالب علم پہلے سے جانتا ہے تو اُس کو اس میںمداخلت نہ کرنی چاہیے ۔ حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ کبھی کبھی بعض نوجوان مجھ سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں اور میں اُس کو اِس طرح سنتاہوں جیسے وہ میرے کان میں نہیں پڑی ہے حالانکہ میںاس کو اس نوجوان کی پیدائش سے پہلے سن چکاہوں۔ ابن وہب بھی اپنی عادت یہی بیان کرتے تھے۔ حضرت عطائ کی مجلس میں ایک شخص نے ایک حدیث بیان کرنی شروع کی، ایک دوسرا شخص بیچ میں دخل دینے لگا توانھوں نے فرمایا مَا ھٰذِہِ الْاَخْلَاقْ مَا ھٰذِہِ الْاَخْلَاقْ میں تو بعض آدمیوں کی زبانی ایک حدیث سنتاہوں اور اس کوبیان کرنے والے سے زیادہ جانتا ہوں پھر بھی اس طرح سنتا ہوں جیسے مجھے کچھ نہیں معلوم۔(صفة الصفوة ٢/١٢١)
خالد بن صفوان نے کہا جب تمہارے سامنے کوئی آدمی تمہاری سنی ہوئی حدیث یا جانی ہوئی خبر بیان کرے تو یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ میں اِس کوجانتا ہوں اس میں شرکت نہ کرومثلاً بیچ بیچ میں بول نہ پڑو کہ ایساکرناخفیف حرکت اور بے ادبی ہے ۔ 
ازانجملہ یہ ہے کہ جب طالب علم کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو صبر کرے تا آنکہ اُستاد کی بات ختم ہو ،اُس کے بعد ادب اور نرمی سے پوچھے، درمیان میں اُن کی بات نہ کاٹے ۔ایک حکیم نے اپنے لڑکے کو نصیحت کی حُسنِ کلام کی طرح حُسنِ استماع بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اور حسنِ استماع یہ ہے کہ متکلم کو اپنی بات پوری کرنے کی مہلت دو،اور اپنا منہ اور نگاہ اُس کی طرف متوجہ رکھو اور کوئی بات تمھیں معلوم بھی ہو تو دخل مت دو خاموشی سے سنو۔
از انجملہ یہ ہے کہ دوسرے سے کوئی مسئلہ یا بات پوچھی جارہی ہوتو تم مجیب نہ بن جائو ۔ حکیم لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اِیَّاکَ اِذَسُئِلَ غَیْرُکَ اَنْ تَکُوْنَ الْمُجِیْبُ خبر دار! دوسرے سے سوال ہوتو تم مجیب نہ بنو۔ ابن ِبطہ کہتے ہیں میں ابو عمر زاہد کی مجلس میں تھا ،کسی نے اُن سے ایک مسئلہ پوچھا ، میں نے پیش قدمی کرکے جواب دے دیا، تو ابو عمر نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آپ فضولیات کے ماہر معلوم ہوتے ہیں ، یہ سن کر میں بہت شرمندہ ہوا۔
اسی کتاب الآداب الشرعیہ میں ہے کہ ابو عبیدفرماتے تھے علم کا شکریہ بھی ہے کہ تم جب کسی سے علمی مذاکرہ کرو، اوراُس مذاکرہ سے تم کو نئی معلومات حاصل ہوں تو بعد میںجب کبھی ان معلومات کا ذکر آجائے تو تم کو صاف صاف کہنا چاہیے کہ مجھے ان کی نسبت کچھ معلوم نہ تھا،تا آنکہ فلاں سے مذاکرہ ہوتو اُس نے مجھے یہ بتایا،ایسا کروگے تو علم کا شکریہ ادا ہوگااِس طرح بیان نہ کرو کہ گویا تم اپنی طرف سے یہ تحقیق بیان کررہے ہو۔ (٢/١٧٩) 
اسی کتاب میں امام شافعی سے منقول ہے کہ اس علم کو کوئی حکومت اور عزتِ نفس سے حاصل کرکے فلاح نہ پائے گا ،ہاں جواِس کو ذلت نفس اور عسرت برداشت کرکے اور علم کی خدمت اور تواضع کرکے حاصل کرے وہ فلاح پائے گا ۔ (الآداب الشرعیہ ٢/٢٧)
اصمعی سے منقول ہے کہ جو آدمی شاگردی کی ذلت تھوڑی دیر برداشت نہ کرے وہ جہالت کی ذلت میں عمر بھر گرفتار رہے گا۔ ابن المعتز نے کہا کہ جو طالب متواضع ہوگا اُسی کو زیادہ علم حاصل ہوگا ،جس طرح پست جگہ میں زیادہ پانی اکٹھا ہوتا ہے ۔حضرت زین العابدین مسجد میںآتے تو انبوہ میںگھس کر زید بن اسلم (حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام )کے حلقہ میں جا بیٹھتے، کسی نے ٹوکا تو فرمایا کہ علم کی شان یہی ہے اُس کے پاس آیا جائے اورطلب کیا جائے جہاں کہیں بھی ہو ۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ایک دن امام اعمش کسی طالب علم پر غضبناک ہو گئے ،دوسرے طالب علم نے کہا مجھ پر اِس طرح خفا ہوتے تو میںان کے پاس بھی نہ آتا ، یہ سن کر امام اعمش نے فرمایا کہ تمہاری طرح وہ بھی احمق ہے کہ میری کج خلقی کی وجہ سے اپنے نفع کی چیز چھوڑبیٹھے۔(الآداب الشرعیہ٢/٢٨۔٢٩)
علامہ ابن الجوزی نے فرمایا کہ اپنے سے زیادہ عمر یا علم والے کی موجودگی میں تحدیث ِنعمت نہ کرے ۔امام شعبی جب ابراہیم نخعی کے ساتھ ہوتے تھے تو ابراہیم کلام نہیں فرماتے تھے ۔امام سفیان ثوری نے ابن عینیہ سے ایک بار فرمایا کہ آپ حدیث کیوں نہیںسناتے یعنی روایت حدیث کا مشغلہ کیوں نہیں اختیار فرماتے ؟ تو انھوں نے کہا کہ آپ جب تک زندہ ہیں اُ س وقت تک تو یہ نہ کروں گا۔ حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ میں عہدنبوی میں لڑکا تھا جوسنتا تھا محفوظ ہوجاتا تھایعنی معلومات کی کمی نہیں ہے مگر میں خاموش رہتا ہوں کہ مجھ سے معمر صحابہ موجود ہیں، ابن ہبیرہ نے کہا کہ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ نوعمروں کے لیے شیوخ کی توقیر متعین ہے۔(الآداب الشرعیہ ٢/١٤٧)
ابن معین نے فرمایا کہ جو شخص ایسے شہر میںحدیث بیان کرے( حلقۂ تحدیث قائم کرے)جہاں اس سے بہتر محدث موجود ہووہ احمق ہے، انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ جس شہر میں علی بن مسہر جیسا محدث موجود ہو وہاں میں محدث بنوں تو میں اِس لائق ہوں کہ میری ڈاڑھی مونڈ دی جائے۔ (الآداب الشرعیہ ٢/٧٠)
بہت اختصار کے ساتھ چند متفرق باتوں کو یکجا کرکے میں نے یہاں پیش کیاہے اگر استیعاب کا ارادہ کیا جائے تو بہت طوالت ہوجائے گی ۔وفی ھذا القدر کفایة۔( بشکریہ ماہنامہ ندائے شاہی ،انڈیا)٭

     

نظر تلوار بن جائے، نفس جھنکار ہو جائے

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
جگرؔ مراد آبادی

یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
 جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے
  وہی مے خوار ہے جو اس طرح مے خوار ہو جائے
کہ شیشہ توڑ دے اور بے پیے سرشار ہو جائے
ہر اک بے کار سی ہستی بروئے کار ہو جائے
  جنوں کی روح خوابیدہ اگر بیدار ہو جائے
سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی
  مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے  
معاذ اللہ اس کی واردات غم معاذ اللہ
  چمن جس کا وطن ہو اور چمن بے زار ہو جائے
یہی ہے زندگی تو زندگی سے خودکشی اچھی
 کہ انساں عالم انسانیت پر بار ہو جائے
اک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھرتھرا اٹھے
نظر تلوار بن جائے نفس جھنکار ہو جائے
یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہ
سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے
 

     

سانحۂ پشاور

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
سید اسد معروف، پشاور ،  پاکستان


گو دستِ گل چیں کو کاٹنے سے گلاب واپس نہ آ سکیں گے

مگر کچھ ایسے ہی فیصلوں سے ہم اپنا گلشن بچا سکیں گے

کسے خبر تھی کہ یہ قیامت بھی ٹوٹ پڑنی تھی اس نگر پہ

کسے خبر تھی کہ ننھی لاشوں کا بوجھ کندھے اٹھا سکیں گے

شعور کی سانس رک گئی تھی، دماغ ماؤف ہو گیا تھا

ہمیں تو یہ بھی گماں نہیں تھا، یہاں سے آگے بھی جاسکیں گے

ہمارے بچوں کو ہم سے بچھڑے گزر گیا ایک سال لیکن

جو ظلم پچھلے برس ہوا تھا ، نہ زندگی بھر بھلا سکیں گے

مِرے وطن کے محافظوں نے کئی کا انصاف کر دیا ہے

جو بچ گئے ہیں گرفت سے وہ زیادہ آگے نہ جا سکیں گے

     

جاری ہے زباں پر صفت ِ شاہِ امم

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
عبدالرشید طلحہ نعماؔنی
’’نعت ‘‘ ادب کی جملہ اصناف میں سب سے محترم ومکرم ،محبوب وپاکیزہ اور تقدس مآب وعمدہ صنف ِ سخن ہے، جو اپنی ابتدائے آفرینش ہی سے سرور دوعالم ﷺکی مدح وتعریف اور ثناء وتوصیف کے اظہار وابلاغ کا اہم وسیلہ سمجھی جاتی ہے، یو ں تو نعت کی ابتداء روز میثاق النبیین ہی سے ہوگئی تھی لیکن باضابطہ اس مقدس صنف کا آغاز بعثت رسول ﷺکے بعد ہوا، تاریخ اسلام میں تین نعت گو اصحاب ِ رسول حضرت حسان بن ثابت ؓ ،حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور حضرت کعب بن زہیر ؓ  ’’شعرائے رسول الثقلین ‘‘ کے مہتم بالشان لقب سے یا د کئے جاتے ہیں ، ان حضرات کے علاوہ دوسرے صحابہ کرامؓ نے بھی مدحت ِ سرکار ﷺکے خوب صورت گل بوٹے کھلائے جن کی خوشبو مشام ِ جان وایمان کو معطر کررہی ہیں اور کرتی رہے گی۔
غالباً’’نعت‘‘ ہی وہ واحد صنف سخن ہے جس کے آغاز کا زمانہ بہت آسانی ،وثوق اور وضاحت کے ساتھ متعین کیا جاسکتا ہے جس کی بے شمار فضیلتوں میں سے ایک اہم فضیلت یہ بھی ہے کہ آج تک کی محفوظ انسانی تاریخ میں بلکہ اظہار خیال کے سب سے بڑے ذرائع کو ملاکر کسی بھی فرد واحد کی مدح میں اس انداز ومقدار میں نہیں لکھا اور بولا گیا جتنا ہمارے رسول عربی فداہ ابی و امی ﷺکی شان میں لکھا اوربولاگیا ہے کہ ان کی تعریف دنیا کی تقریباً ہر اس زبان میں کی گئی ہے جس کے بولنے والوں میں مسلمان شامل ہیں اور اس صنف کو یہ اختصاص بھی حاصل ہے کہ بہت سے غیر مسلم شاعروں نے بھی نعت کی شکل میں آپ ﷺسے عقیدت اور محبت کا والہانہ اظہار کیا ہے، عقیدت اور محبت کے اعتبار سے توان بے شمار نعت گو شعراء کی درجہ بندی اس لیے مناسب نہیں کہ یہ دلوں کا معاملہ ہے جس کافیصلہ دماغ یا اعدادوشمار یا کسی اور پیمانے سے کیا ہی نہیں جاسکتا، البتہ طرز نگارش ،پیرایۂ اظہار ،مضمون آفرینی ،جذبات کی شدت اورفنی مہارت وغیرہ ایسے شعبے ہیں جن کی بنیاد پر ہر دور میں کچھ مداحان ِ رسول اایک خاص پہچان کے مالک بن گئے ہیں ۔
تیرہویں صدی عیسوی میں ایک شاعر شرف الدین محمد بن سعید البوصیری پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی شاعری میں مدح نبوی ﷺکے بہت اعلی نمونے پیش کئے ،1255ء میں وہ حج بیت اللہ اور روضۂ نبوی ﷺکی زیارت سے مشرف ہوئے اورواپس آکر انہوں نے جو نعتیہ نظمیں کہیں، ان میں ان کا قصیدہ بردہ نعت کی پوری تاریخ میں امتیازی مقام رکھتاہے ،شاعر بوصیری کے بعد بھی عربی زبان میں نعتیں کہی جاتی رہیں اور یہ نعتیں کہنے والوں میں صوفی ابن الفارض (1235ء)مورخ ابن خلدون (1406ء)اور شاہ ولی اللہ دہلوی (1760ء )جیسے کچھ مشہور نام ہیں، لیکن مدح نبوی ﷺمیں بہت خوبصورت اضافہ چار پانچ صدیوں کے بعد مصر کے شاعر دربار احمد شوقی نے کیا جو علامہ اقبال کے ہم عصر تھے۔
نعت کی یہ روایت عرب سے چل کر پہلے ایران اور پھر ہندوستان میں پہنچی ،ایران میں نعت کے موضوع پر بڑے بڑے باکمال شاعروں نے فارسی میں نظمیں  کہیں،ان شعراء میں سنائی، خاقانی، نظامی، گنجوی، خواجہ فریدالدین عطار، مولانا جلال الدین رومی، شیخ سعدی شیرازی اور جامی جیسے بڑے بڑے نام شامل ہیں،بالخصوص ماضی قریب میں علماء دیوبندنے سرکاردوعالم ﷺکی شان ِ اقدس میں جو گلہائے عقیدت پیش کئے وہ تو تاریخ کا ایک روشن باب اور بلند مینارہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،اردو زبان میں نعت نگاری کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود اردو شاعری پرانی ہے،چناں چہ اس کے ابتدائی نمونے اردو شاعری کے اوئل زمانے میں بھی دکھائے دیتے ہیں۔
اس صنف کو مسلسل اور باقاعدہ طور پر ذریعہ اظہار بنانے والے نامور مرحوم شاعروں میں محسن کاکوری ،مولانا حالی، امیر مینائی، علامہ اقبال ، حفیظ جالندھری، مولانامحمد علی جوہر اور جگر مرادآدی وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
محسن کاکوروی(متوفی ۱۹۰۵؁ء):محسن کاکوروی کا شمار ان سعادت مند ،نیک بخت اور خوش قسمت شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تمام تر شاعرانہ صلاحیتیں اور بصیرتیں نعتیہ ادب کے فروغ وارتقاء کے لیے وقف کردیں، فطری اعتبار سے آپ نیک متقی ،پرہیز گاراور پاکیزہ طبیعت کے حامل تھے، دل عشق رسول ﷺسے مجلّٰی ومحلّٰی تھا، اسی لیے ان کے قلم سے نکلا ہوا ہر شعر کیف ومستی اور سوز وگداز میں ڈوباہوا نظر آتا ہے، محسن نے زیادہ تر نعتیہ کلام قصیدے کے انداز میں قلم بند کیے، آپ کے یہاں دیگر شعراء کی طرح خیالات کی بے راہ روی نہیں ملتی، آپ نے محض سولہ سال کی عمر میں ایک شان دار نعتیہ قصیدہ لکھا جو خیالات کی پاکیزگی ،جذبات کی صداقت ،ندرت بیان اور تعظیم ومحبت کے حددو میں قائم رہنے کی وجہ سے ایک شاہ کا ر قصیدہ سمجھا جاتا ہے ، محسن کاکوروی کا قصیدہ’’سراپائے رسول‘‘ بھی کا فی مقبولیت رکھتا ہے، محسن نے قصائد کے علاوہ کئی مذہبی مثنویاں بھی لکھیں ان کے شعری سرمایہ کی تفصیل یہ ہے:
قصائد: ۱)گلدستۂ رحمت،۲)ابیات نعت،۳)مدیح خیر المرسلین،۴)نظم دل افروز،۵)انیس آخرت
مثنویات: ۱)صبح تجلی(۲)چراغ کعبہ(۳)شفاعت ونجات(۴)فغان محسن(۵)نگارستان الفت
محسن کی شعری کائنات ،فکری پاکیزگی ،بلند نگاہی ،ندرت بیان اور نادر تشبیہات واستعارات ،اور عمدہ ترکیب سازی کی وجہ سے ایک خصوصی اور انفرادی اہمیت کی حامل ہے،لیکن انھیں شہرت اپنے قصیدۂ لامیہ (سمت کاشی سے چلاجانب متھرا بادل )کی وجہ سے ملی۔
’’صبح تجلی‘‘ میں رسول اکرم ﷺ کی ولادت پاک کا ذکر جمیل بہت ہی حسین اور خوب صورت شاعرانہ انداز میں اس طرح کیا ہے:
بیضاوی صبح  کا بیاں ہے
تفسیر کتاب آسماں ہے
سبزہ ہے کنارِ آب جو پر
یا خضر ہے مستعد وضو پر
محسن کی ابتدائی شاعری دیکھ کر انداز ہو تا ہے کہ اگر وہ زلف ورخسار،گل وبلبل اور جیب وگریباں کی شاعری کرتے تب بھی ان کا شمار اپنے دور کے اساتذہ ٔفن میں ہوتا مگر ان کے طالع بیدار نے انہیں محفل  اقدس میں پہونچادیا اور نعتیہ شاعری میں انہیں وہ منفرد مقام حاصل ہوا کہ وہ شعراء کی صف اول ہی میں نہیں بلکہ صدر نشین پر آکر زبان حال سے گویا ہوئے 

جگہ خالی کرو مداح آتا ہے محمد کا 

محمد علی جوہر (متوفی ۱۹۳۱؁ ء):دست قدرت نے مولانا محمد علی جوہر کو قیادت وسیادت ،خوداعتمادی وخودداری اور مجاہدانہ کردار وحوصلہ مندانہ عزم واستقلال جیسے بیش بہا کمالات کے ساتھ ساتھ شاعری کی نعمت عظمی سے بھی سرفراز فرمایا ، ان کی شاعری میں مرکزیت ؛ جذبہ عشق ہی کے ذریعہ پیدا ہوئی ، یہ عشق وطن کا ،ملت اسلامیہ کا ، اور آزادی ٔ ہند کا عشق ہے ۔۔۔۔غیر مشروط اور ہر طرح کے تحفظات سے مبرا ۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ مشاہدہ ٔ حق کی وہ گفتگو ہے جو بادہ وساغر کی پیرایۂ رنگین میں بیان ہوئی اور اس میں سرشاری اور سرمستی کی والہانہ اور بے تابانہ کیفیت ہے ، یوں تو اس میں جیب وداماں کی شکایت بھی ہے اور زلف پریشاں اور ابرومژگاں کی حکایت بھی؛ لیکن وحشی کو جس ناقہ لیلی کی تلاش ہے اس کا راز غزل کو پوری فضا کو نظرمیں رکھنے سے کھلتا ہے ان غزلوں میں اکثر وبیشتر اشعار لخت لخت نہیں بلکہ ان میں ایک مسلسل کیفیت ہے ، نہ صرف روانی ، تسلسل، بہاؤاور جذباتی ترفع کی بلکہ اس معنیاتی فضاء کی بھی جس کی شیرازہ بندی مولانا کے تصور ملی اور جذبہ حریت سے ہوئی ہے ، ان غزلوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے ان کی مجموعی فضا اور قومی وسیاسی محرکات کونظر میں رکھنا بہت ضروری ہے ، یہ قومی عاشقانہ کیفیت اتنی عام ہے کہ محمد علی جوہر کی غزلوں کو کہیں سے بھی دیکھئے ان میں حدیث قوم ووطن کو سردلبراں کے پیرایے میں بیان کرنے کا یہی دلنواز اورلطیف انداز ملے گا، ان سب کے ساتھ ساتھ جوہر کی نعتیہ شاعری بھی ایک امتیازی شان رکھتی ہے ، ان کی نعت خوانی کے منفرد انداز کی ا س طرح تعریف وستائش کی گئی کہ جو ہر کی نعتیہ شاعری جملہ نعتیہ شاعروں کے لیے ایک ماڈل اور معیار کے مترادف بن گئی ،مولانا نادریابادیؒ اس سلسلے میں یوںرقم طراز ہیں: 
’’نعت گو شعراء اردو میں کثرت سے ہوچکے ہیں اور بعض کو شہرت عام ،سند امتیاز بھی دے چکی ہے، مثلاً محسن کاکوروی ، آسی غازیپوری لیکن ان حضرات نے عموما مناقب کے صرف خارجہ پہلوؤں پر قناعت کی ہے، او ران کو بھی کثرت تکرار نے کسی قدر بے لطف بنادیا ہے، رخ انور کی تابانی ، گیسوئے اقدس کی سیاہی ،ابروئے مبارک کی کجی وغیرہ گنتی کے چند بندھے ہوئے مضامین ہیں کہ انہی کوالٹ پھیر کر یہ حضرات ہمیشہ باندھتے رہتے ہیں٭ ، جوہر کی شاعری چوں کہ رسمی اور تقلید ی نہیں ، اس لیے انہوں نے اس باب میں بھی اپنے لیے نئی راہ کا انتخاب کیا یعنی بجائے خارجیت کے داخلیت کو اپناموضوع بنایا اور بجائے آثار وشمائل کی نقاشی کے جذبات وواردات کی ترجمانی کی، محمد علی کا اصل موضوع حسن کی رعنائی ، جمال کی زیبائی نہیں بلکہ وہ دل کی چوٹ ،عشق کی تڑپ ،جذبات کے سوز کو سامنے رکھ دیتے ہیں اور یہی ان کے کلام کی تاثیر کا راز ہے:   ؎
ہر آن تسلی ہے ہر لحظہ تشفی ہے ہر وقت ہے دلجوئی ہر دم ہیں مداراتیں
معراج کی سی حاصل سجدوں میں ہے کیفیت اک فاسق و فاجر میں اور ایسی کراماتیں
بے مایہ سہی لیکن شاید وہ بلا بھیجیں، بھیجی ہیں درودوں کی کچھ ہم نے بھی سوغاتیں
(مکتوب سلیمانی جلداول ص:۱۸۶)
علامہ اقبال (متوفی ۱۹۳۸؁ء):شاعر مشرق علامہ اقبال جہاں ایک معروف مصنف ،مشہور سیاست داں اور عظیم صوفی تھے وہیں ایک متصلب موحد،متفکر رہنما او ر سچے عاشق رسول بھی تھے۔  اقبال کو حضورﷺسے جو والہانہ عشق ومحبت تھی اس کا اظہار اردو اور فارسی کی متعدد نظموں سے ہوتا ہے ۔ اقبال کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں مدح رسولﷺ کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا ، اقبال کی طبیعت میں سوزوگداز اورحب رسول اس قدر کوٹ کوٹ کر بھراہوا تھا کہ جب کبھی آپ کے سامنے ذکر رسول ہوتا تو آپ بے کل وبے تاب ہوجاتے اور دیرتک روتے رہتے ،’’روزگار فقیر‘‘ میں سید وحید الدین لکھتے ہیں :
’’ اقبال کی شاعری کا خلاصہ: جوہر اور لب لباب عشق رسول اور اطاعت رسول ہے، ان کے قلب وجگر کو عشق رسول نے گداز کررکھا تھا،زندگی کے آخری زمانے میں یہ کیفیت اس انتہاء کو پہنچ گئی تھی کہ بہ وقت ذکرِ رسول ہچکی بندھ جاتی،آواز بھرا جاتی اور و ہ کئی کئی منٹ سکوت اختیار کرلیتے ؛تاکہ اپنے جذبات پر قابو پاسکیں۔“
یہ عشق نبوی کا ہی فیض تھا کہ یورپ میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے باوجود اقبال ،دین محمدی سے منحرف نہ ہوئے اور نہ ان کے مشرقی اقداروافکار میں ذرہ برابر تبدیلی واقع ہوئی ؛ اس لئے جب وہ وہاں سے لوٹے تو اسی طرح عشق رسول سے سرشار تھے اور زبان حال سے کہہ رہے تھے:   ؎
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے مری آنکھ کا خاک مدینہ ونجف٭
اردو زبان میں بھی اقبال کے کئی ایک اشعار وہ ہیں جنہیں رسول اکرم ا کی مدح سرائی اورثناء خوانی کا شرف حاصل ہے مثلاً :         ؎
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں 
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں 
٭
قوت عشق سے ہرپست کو بالاکردے 
دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے 
٭
ہونہ ہو یہ پھول توبلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہوتوپھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہوتم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے 
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے 
٭
وہ دانائے سبل ختم الرسل ،مولائے کل جس نے 
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادئی سینا 

نگاہ ِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰس وہی طہٰ
خلاصہ یہ کہ عشق رسول اقبال کی رگ رگ میں سرایت تھا، جہاں بھی ہوتے مدح رسول سے خود کو قوت وتوانائی بخشتے ۔
محترم حکیم احمد شجاع جو علامہ اقبال کی خدمت میں اکثر حاضر ہوا کرتے تھے ، انھوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جس سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اقبال حضور علیہ السلام کی ذات اقدس سے کس درجے والہانہ محبت اور بے پناہ عشق رکھتے تھے ، یہ واقعہ دیکھنے اورپڑھنے میں بہت مختصر ہے مگر حقیقت میں عشق ومحبت کا دفتر بے پایاں ہے۔
ایک روز حکیم صاحب موصوف علامہ کے مکان پر پہنچے تو علامہ کو بہت زیادہ فکر مند، مغموم اور بے چین پایا، حکیم صاحب نے گھبراکر دریافت کیا خیریت تو ہے ؟ آپ آج خلاف معمول بہت زیادہ مضطرب اور پریشان نظر آتے ہیں، علامہ نے خاص انداز میں نظریں اوپر اٹھائیں اور غم انگیز لہجے میں فرمایا:
” احمد شجاع یہ سوچ کر میں اکثر مضطرب اور پریشان ہوجاتا ہوں کہ کہیں میری عمر رسول اللہ کی عمر سے زیادہ نہ ہوجائے ۔“
واضح رہے کہ علامہ مرحوم کی تاریخ پیدائش ۹ ؍نومبر ۱۸۷۷ء ہے اس حساب سے ۱۹۳۸ء میں انتقال کے وقت اس عاشق رسول کی عمر رسول اکرم کے سن مبارک سے دوسال کم تھی یعنی ۶۱ تھی گویا اللہ تعالیٰ نے علامہ کی اس تمنا اور دعا کو قبول فرمالیا۔
رسول اللہ ﷺسے علامہ اقبالؒ کی بے انتہاوارفتگی اور بے پایاں عشق کا احساس ان کے صاف وشفاف کلام کے ہر پیرایہ سے جھلکتا نظر آتا ہے، ان کا ایک قطعہ تو ایسے کمال عشق کا مظہر ہے کہ جس کی مثال خال خال ہی مل سکتی ہے ، بہ روز ِ محشر نبی کریم ا کا مقام عظمت اور اپنی کم مائیگی وانکساری شاید اس سے بہتر الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا :
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہای من پذیر
ور حسابم را توبینی ناگزیر
از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر
الغرض علامہ اقبالؒ جس عشق وسرمستی کی بات کرتے ہیں یہ سرشاری اور سرمستی آفتاب مصطفوی کے انوار وتجلیات کی ایک کرن ہے جب تک اس کا سوز انسان میں ہے اسی وقت تک اسے حقیقی زندگی میسر ہے، یہی وہ قوت ہے جس سے یقین وایمان میں پختگی آتی ہے ، افکار واقدار کا تحفظ ہوتا ہے اور ایک مومن ، اتباع وانقیاد کی صفت سے آراستہ وپیراستہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبالؒ کی زندگی اور ان کی شاعری محبت رسول کے جذبے سے مملؤ ومعمور ہے ،ذات محمدی تک رسائی کو ہی وہ سراپا دین وایمان قراردیتے ہیں ، اس کے علاوہ سب کچھ ان کی نظروں میں بولہبی اور بے دینی ہے :
بہ مصطفی بہ رساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ اونہ رسیدی تمام بولہبی است
جگر مرادآبادی:(متوفی ۱۹۶۰ء):بیسویں صدی کے نصف اول میں غزل کی زلفیں سنوار کر ’’رئیس المتغزلین ‘‘ او ر’’شہنشاہ غزل ‘‘ کا خطاب پانے والے اردو کے معروف شاعر جگر مرادآبادی بھی ان نیک بخت، خوش قسمت اور قابل قدر شعراء میں ایک ہیں؛ جنہوں نے اردو غزل کی تمام صالح روایات کو جذب کرکے انہیں ایک لطیف تبسم، حسین آہنگ اور دلکش رمز عطا کیا خاص کر سرکاردوعالم ا کی تعریف وتوصیف میں جگر نے جو کچھ کہا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جگر مرادآبادی ، ایک پاکیزہ شخصیت ، ایک حساس دل اورایک دردمندنگاہ رکھتے تھے ، اردو زبان کے مشہور ادیب اور مفکر رشید احمد صدیقی مرحوم بیان کرتے ہیں کہ حالت خمار میں بھی جگر کے منہ سے کوئی ناشائستہ بات اور قابل گرفت جملہ نہ نکلتا ،وہ شراب کے نشے میں بڑے رکھ رکھاؤ کے قائل تھے، جب نشہ زیادہ گہرا ہوجاتا تو چپ چاپ ایک طرف ہوجاتے اور کسی سے کلام نہ کرتے، ایسے حال میں کوئی دین یا علماء دین کے خلاف کوئی بات کرتا تو حال سے بے حال ہوجاتے اور بدمستی کا پورا زور اس پر صرف کردیتے، اس طرح کے بہت سے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جگر صاحب میں حب دین کا جذبہ بہت غالب تھا، ان کی دین دوستی کی شہادت علامہ سید سلیمان ندوی جیسے بلندپایہ محقق نے دی ہے۔
قیام پاکستان سے پہلے کا واقعہ ہے کہ اجمیر میں نعتیہ مشاعرہ تھا، فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر مرادآبادی کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ، وہ کھلے رند تھے اور نعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی ، اگر فہرست میں ان جیسے بڑ ے شاعر کانام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہو؟ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیدا ہوگیا ،کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔
آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہنے فیصلہ کیا کہ جگر صاحب کو مدعو کیا جانا چاہئے ، یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگر صاحب کی عظمت کا اس سے بڑا اعتراف نہیں ہوسکتا تھا ،جگر کو مدعوکیا گیا تو وہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے ’’میں رند ،سیہ کار،بدبخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔ اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب کو تیار کیسے کیا جائے، ان کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا، نعتیہ شاعرحمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے ،بالآخر اصغر گونڈوی نے ان کے حکماً شرکت کو کہا تو وہ خاموش ہوگئے اور بات مان لی سرہانے بوتل رکھی تھی ، اسے کہیں چھپادیا، دوستوں سے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے ، دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، مجھے نعت لکھنی ہے شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اترا تو کس زبان سے اپنے آقا علیہ السلام کی مدح لکھوں گا، یہ موقع ملا ہے تومجھے اسے کھونا نہیں چاہئے ، شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو، شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شاید مجھ پر اس کملی والے کا کرم ہوجائے٭ ، شاید خدا کو مجھ پر ترس آجائے ۔۔۔۔ایک دن گزرا، دودن گزرگئے، وہ سخت اذیت میں تھے، نعت کا مضمون سوچتے تھے، اور غزل کہنے لگتے تھے ، سوچتے رہے لکھتے رہے ، کاٹتے رہے ، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخرایک دن نعت کا مطلع تیارہوگیا، پھر ایک شعر ہوا پھر توجیسے بارش انوار ہوگئی، نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا ،مشاعرے کے لیے ا س طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں، کونین کی دولت ان کے پاس ہو، جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہی تک پہنچنا ہو، انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا، ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہر کے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے ، لوگ بپھرے ہوئے تھے، اندیشہ تھا کہ جگر صاحب کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھا کہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہو کر نعرے بازی نہ کریں، ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا، وہ کئی دن پہلے اجمیر پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرہ والے دن آئیں گے، جگر اپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں کو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرارہے تھے آخر مشاعرے کی رات آگئی ، جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچادیاگیا’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادآبادی‘‘ اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا۔۔۔۔آپ لوگ اپنی نفرت کا نشانہ کسے بنارہے ہیں؟ مجھے یا خدانخواستہ اس نعت کو جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘ مجمع کو جیسے سانپ سونگھ گیا، بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ۔۔۔
اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہ
ہاں! کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ
  جو جہاں تھا ساکت ہوگیا، یہ معلوم ہوتا تھا جیسے ان کی زبان سے شعرا دا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے ، نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی ، خواہش پناہ تھی ، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی، وہ خود رورہے تھے اور سب کورلارہے تھے ،دل نرم ہوگئے ، اختلاف ختم ہوگئے ، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیوں کر ہری رہتی؟ یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں تھی ، اس سے کہلوائی گئی تھی مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی ، اس نعت کے چند اشعار یوں ہیں:
دامان نظر تنگ وفراوانی جلوہ
ائے طلعت حق طلعت سلطان مدینہ
ائے خاک مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت سلطان مدینہ
اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروف عبادت
دیکھوں میں درِ دولت سلطان مدینہ
اک ننگ غم عشق بھی ہے منتظر دید
صدقے ترے ائے صورت سلطان مدینہ
کونین کا غم یاد ِ خدا اور شفاعت
دولت ہے یہی دولت سلطان مدینہ
کچھ ہم کو نہیں کام جگراور کسی سے
کافی ہے بس ایک نسبت سلطان مدینہ
٭٭٭

     

مروّجہ میلاد

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
مولانا یوسف لدھیانوی شہید

سوال… ہمارے ہاں یہ مسئلہ زیر بحث ہے کہ مروّجہ میلاد کیوں ناجائز ہے، حالانکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکار مقدس ہوتا ہے، پھر حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے رسالہ ہفت مسئلہ میں اس کو جائز فرمایا ہے، جب کہ دیگر اکابر دیوبند مروّجہ میلاد کو بدعات اور مفاسد کی بنا پر اس کو بدعت کہتے ہیں، اس سلسلہ میں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب سے بھی رجوع کیا گیا، مگر ان کے جواب سے بھی تشفی نہیں ہوئی۔ 
آنجناب سے اس مسئلے کی تنقیح کی درخواست ہے کہ صحیح صورتحال کیا ہے؟ 
جواب… محترمان و مکرمان بندہ! زیدت مکارہم، السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ۔ 
نامہ کرم موصول ہوا، یہ ناکارہ ازحد مصروف ہے، اور جس موضوع پر لکھنے کی اپنے فرمائش کی ہے اس پر صدیوں سے خامہ فرسائی ہورہی ہے، جدید فتنوں کو چھوڑ کر ایسے فرسودہ مسائل پر اپنی صلاحیتیں صرف کرنے سے دریغ ہے، اس لئے اس پر لکھنے کے لئے طبیعت کسی طرح آمادہ نہیں، خصوصاً جب یہ دیکھتا ہوں کہ حضرت مخدوم مولانا محمد سرفراز خان صاحب مدظلہ العالی(جن کے علم و فضل اور صلاح و تقویٰ کی زکوٰة بھی اس ناکارہ کو مل جاتی تو بڑا غنی ہوجاتا) کی تحریر بھی شافی نہیں سمجھی گئی تو اس ناکارہ و ہیچ میرز کے بے ربط الفاظ سے کیا تسلی ہوگی؟ لیکن آپ حضرات کی فرمائش کا ٹالنا بھی مشکل، ناچار دوچار حروف لکھ رہا ہوں، اگر مفید ہوں تو مقام شکر،”ورنہ کالائے بد بریش خاوند۔“ 
مسئلے کی وضاحت کے لئے چند امور ملحوظ رکھئے! 
اوّل:… اس میں تو نہ کوئی شک و شبہ ہے نہ اختلاف کی گنجائش کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکار مقدس اعلیٰ ترین مندوبات میں سے ہے، اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ ”میلاد“ کے نام سے جو محفلیں سجائی جاتی ہیں ان میں بہت سی باتیں ایسی ایجاد کرلی گئی ہیں جو حدود شرع سے متجاوز ہیں، یعنی مروجہ میلاد دو چیزوں کا مجموعہ ہے، ایک مستحب و مندوب، یعنی تذکار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم دوم وہ خلاف شرع خرافات جو اس کے ساتھ چسپاں کردی گئی ہیں اور جن کے بغیر میلاد کو میلاد ہی نہیں سمجھا جاتا، گویا ان کو ”لازمہٴ میلاد“کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ 
دوم:… جو چیز اپنی اصل کے اعتبار سے مباح یا مندوب ہو، مگر عام طور سے اس کے ساتھ قبیح عوارض چسپاں کرلئے جاتے ہوں، اس کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے؟ اس میں ذوق کا اختلاف ایک فطری چیز ہے، جس کی نظر نفس مندوب پر ہوگی اس کا ذوق یہ فیصلہ کرے گا کہ ان عوارض سے توبے شک احتراز کرنا چاہئے، مگر نفس مندوب کو کیوں چھوڑا جائے، بخلاف اس کے جس کی نظر عوام کے جذبات و رجحانات پر ہوگی اس کا فتویٰ یہ ہوگا کہ خواص تو ان عوارض سے بلاشبہ احتراز کریں گے، لیکن عوام کو ان عوارض سے روکنا کسی طرح ممکن نہیں، اس لئے عوام کو اس سیلاب سے بچانے کی یہی صورت ہے کہ ان کے سامنے بند باندھ دیا جائے، یہ دونوں ذوق اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں، اور ان کے درمیان حقیقی اختلاف نہیں، کیونکہ جو لوگ جواز کے قائل ہیں وہ نفس مندوب کے قائل ہیں، خلاف شرع عوارض کے جواز کے وہ بھی قائل نہیں، اور جو عدم جواز کے قائل ہیں وہ بھی نفس مندوب کو ناجائز نہیں کہتے، البتہ خلاف شرع عوارض کی وجہ سے ناجائز کہتے ہیں۔ 
سوم:… اس ذوقی اختلاف کے رونما ہونے کے بعد لوگوں کے تین فریق ہوجاتے ہیں، ایک فریق تو ان بزرگوں کے قول و فعل کو سند بنا کر اپنی بدعات کے جواز پر استدلال کرتا ہے، دُوسرا فریق خود ان بزرگوں کو مبتدع قرار دے کر ان پر طعن و ملامت کرتا ہے، اور تیسرا فریق کتاب و سنت اور ائمہ مجتہدین کے ارشادات کو سند اور حجت سمجھتا ہے، اور ان کے بزرگوں کے قول و فعل کی ایسی توجیہ کرتا ہے کہ ان پر طعن و ملامت کی گنجائش نہ رہے، اور اگر بالفرض کوئی توجیہ سمجھ میں نہ آئے تب بھی یہ سمجھ کر کہ یہ بزرگ معصوم نہیں ہیں ان پر زبان طعن دراز کرنے کو جائز نہیں سمجھتا، پہلے دونوں مسلک افراط و تفریط کے ہیں اور تیسرا مسلک اعتدال کا ہے۔
ان امور کے بعد گزارش ہے کہ حضرت حاجی صاحب نوراللہ مرقدہ کے فعل سے اہل بدعت کا استدلال قطعاً غلط ہے، کیونکہ ہماری گفتگو ”میلاد“ کے ان طریقوں میں ہے جن کا تماشا دن رات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ اس میلاد کو تو حضرت حاجی صاحبؒ بھی جائز نہیں کہتے، اور جس کو حاجی صاحبؒ جائز کہتے ہیں وہ اہل بدعت کے ہاں پایا نہیں جاتا، اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ ”مسیح موعود“  کا آنا مسلمان ہمیشہ مانتے آئے ہیں،اور میں ”مسیح موعود“ ہوں لہٰذا قرآن و حدیث کی ساری پیشگوئیاں میرے حق میں ہیں، پس اگر مرزا قادیانی، قرآن و حدیث والا ”مسیح موعود“ نہیں، اور اس کا قرآن و حدیث کو اپنی ذات پر چسپاں کرنا غلط ہے تو ٹھیک اسی طرح اہل بدعت کے ہاں بھی حضرت حاجی صاحبؒ والا ”میلاد“ نہیں، اس لئے حضرتؒ کے قول و فعل کو اپنے ”میلاد“ پر چسپاں کرنا محض مغالطہ ہے۔ 
بہرحال صحیح اور اعتدال کا مسلک وہی ہے جو حضرات اکابر دیوبند نے اختیار کیا کہ نہ ہم مروجہ میلاد کو صحیح کہتے ہیں اور نہ ان اکابر کو مبتدع کہتے ہیں یہ تو مسئلے کی مختصر وضاحت تھی، آپ کے بارے میں میری مخلصانہ نصیحت یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو دین کی سربلندی اور اپنی اصلاح پر صرف کریں، تاکہ ہم آخرت میں خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخ رو ہوں، موجودہ دور میں حق طلبی کا جذبہ بہت کم رہ گیا ہے۔ جس شخص نے کوئی غلط بات ذہن میں بٹھالی ہے ہزار دلائل سے اسے سمجھاؤ اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں، بس آدمی کا مذاق یہ ہونا چاہئے کہ ایک بار حق کی وضاحت کرکے اپنے کام میں لگے، کوئی مانتا ہے یا نہیں مانتا؟ اس فکر میں نہ پڑے۔ 
حافظ و ظیفہٴ تو دُعا گفتن است و بس 
دربند آں مباش کہ نہ شنید یا شنید٭
 

     

احمد رضا خان کی تعریف میں علمائے دیوبند کی طرف منسوب جعلی حوالوں کی تحقیق

”سربکف “مجلہ۴  (جنوری ، فروری ۲۰۱۶)
 مولانا ساجد خان نقشبندی ﷾

ابن ماسٹر شفیع اوکاڑوی علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کے حوالہ جات پر ایک نظر:
”مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کچھ عرصہ ستلج کائن ملز سے ملحقہ ہائی سکول میں معلوم اسلامیات کی حیثیت سے کام کرتے رہے ۔۔۔ مولوی صاحب آپ کو کیا تنخواہ ملتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نوے روپے آپ نے فرمایا صرف نوے روپے ؟ آپ کی تنخواہ چار سو روپیہ ہونی چاہئے مولانا یہ سن کر خوش تو ہوئے لیکن گہری سوچ میں ڈوب گئے کہ یہ تو بڑی بات ہے تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب ؒ نے دریافت کیا کہ کبھی کراچی بھی گئے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں حضور کراچی جانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا آپ نے فرمایا کہ برخوردار کراچی جانا چاہئے کچھ دنوں کے بعد بعض دوستوں کی دعوت پر بعزم کراچی روانہ ہو گئے وہاں پر ان کو ایک ماہ تک رکنا پڑا اور کئی تقریبات میں شمولیت کی بالآخر میمن مسجد کے خطیب منتخب ہو گئے اور ان کی ماہوار تنخواہ حضرت صاحب ؒ کے ارشاد عالیہ کے مطابق چار سو روپیہ مقرر ہوئی ‘‘۔
 ( معدن کرم ،ص247،غیر تحریف شدہ ایڈیشن کرمانوالہ بک شاپ)

اگر رضاخانی حضرات ماسٹر امین اوکاڑوی کہہ سکتے ہیں تو اس حوالے کی روسے ہمارا ماسٹر شفیع اوکاڑوی کہنے پر بھی ان کو ناراض نہیں ہونا چاہئے ویسے غور فرمائیں جب تک ماسٹر شفیع صاحب معمولی نعت خواں تھے تو نوے روپے ماہوار اور جیسے ہی علمائے اہل سنت کے خلاف خطیب و مصنف بن کر محاذ کھولا تو چار سو روپے ماہوار اس صورت حال میں کسی پیٹ پرست مولوی کا دماغ خراب ہے جواس اختلاف کو ختم کرنے کا تصور بھی دل میں لائے ۔ان شفیع اوکاڑوی صاحب کو آج کل ان کے فرزند مولانا کوکب نورانی صاحب پریس و میڈیا کے زور پر ’’مجدد مسلک اہل سنت ‘‘ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں بیٹے کی طرف سے باپ کو دئے گئے اس لقب کا جو آپریشن بریلوی مفتی اعظم مفتی اقتدار خان نعیمی ابن مفتی احمد یار گجراتی نے ’’حرمت سیاہ خضاب ،ص6,7مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات ‘‘ پر کیا ہے وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔بہرحال مولانا کوکب نورانی نے عنوان دیا :
اعلی حضرت بریلوی کے بارے میں علمائے دیوبند کے تاثرات (فہرست )
”اعلی حضرت ۔۔۔کی دینی استقامت ،عشق رسول ( ﷺ) فقہی مرتبہ اور علمی عظمت و کمال کیلئے ذرا علمائے دیوبند ہی کی رائے ملاحظہ کیجئے ‘‘۔ 
( سفید و سیاہ ،ص112،ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
پھر اس عنوان کے بعد دوسرے نمبر پر حوالہ ابو الاعلی مودودی صاحب کا دیا اور انہیں علمائے دیوبند کے کھاتے میں ڈال دیا اگر یہی حرکت کوئی سنی مسلمان عالم دین کرتا تو رضا خانیوں کی طرف سے لعن طعن کی صرف صغیر صرف کبیر شروع ہو جاتی مگر یہاں چونکہ معاملہ اپنا ہے اس لئے لکڑ ہضم پتھر ہضم۔
خان صاحب کی توثیق پر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ:
مولانا کوکب نورانی صاحب نے جناب نواب احمد رضا خان صاحب کے بارے میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا قول پیش کیا کہ احمد رضا خان صاحب عاشق رسولﷺ تھے اس نے اگر ہماری تکفیر کی تو عشق رسالت کی بناء پر کی کسی اور غرض سے نہیں کی۔
(سفید و سیاہ ملخصا ،ص112)
اس کے ثبوت کیلئے حوالہ مولوی اوکاڑوی نے مولانا کوثر نیازی مودودی آف پیپلز پارٹی اور چٹان لاہور 23اپریل 1962کا دیا چٹان کا یہ حوالہ عبد الحکیم اختر شاہ جہاں پوری نے اعلی حضرت کا فقہی مقام ،ص110پر بھی نقل کیا ۔
اس قسم کے بناوٹی حکایات پر علامہ خالد محمود صاحب مدظلہ العالی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اب آپ غور فرمائیں مولانا کوثر نیازی کے اس بیان میں کیا ذرہ صداقت ہو سکتی ہے ؟ مولانا تھانوی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ مولانا احمد رضا خان نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس کے تین مختلف مقامات سے عبارت لیکر ایک کفریہ عبارت بنائی اور اس پر کفر کے فتوے حاصل کئے کیا یہ بددیانتی بھی مولانا احمد رضا خان صاحب نے عشق رسول کے جذبے میں کی تھی ؟ پھر حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوری نے جب المہند میں بات کھول دی اور اس پر حضرت مولانا تھانوی نے بھی دستخط فرما دئے تو اب کون کہہ سکتا ہے کہ مولانا تھانوی کی مولانا احمد رضا خان کے اس دجل و فریب پر نظر نہ تھی ۔ سو ایسی حکایات جو ان حضرات کے نام سے لوگوں نے بنا رکھی ہیں ہر گز لائق اعتبار نہیں جو حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کے نام سے وضع کی گئی ہوں یا شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے نام سے ،ان میں ذرا بھی صداقت نہیں ہے مولانا احمد رضا خان نے علمائے دیوبند کے بارے میں جو حرکت شنیعہ کی وہ بددیانتی پر مبنی تھی اور علمائے دیوبند بھی اس میں کسی خوش فہمی میں نہ تھے ‘‘۔
(مطالعہ بریلویت ،ج5،ص84)
احمد رضاخان صاحب کے عقائد باطل تھے مولانا تھانوی ؒ:
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’پچھلے دنوں ایک خط احمد رضا خان صاحب کے مرید کا آیا تھا جس میں لکھا تھا کہ میں پچیس سال سے مولوی احمد رضا خان صاحب سے مرید تھا اب ان عقائد باطلہ سے توبہ کرتا ہوں اور حضر ت سے بیعت کی درخواست کرتا ہوں میں نے جواب لکھ دیا کہ تعجیل مناسب نہیں ٭‘‘۔
 ( ملفوظات حکیم الامت ،ج7،ص13)
اس ارشاد میں حضرت تھانوی ؒ نے تسلیم فرمایا کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کے عقائد باطلہ تھے عقائد حقہ نہ تھے ورنہ آپ اس شخص کو لکھ بھیجتے کہ خدا کا خوف کرو احمد رضا خان جیسے عاشق رسول ﷺ کے عقائد کو باطل کہتے ہو آپ کا اس پر نکیر نہ کرنا اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ احمد رضا خان باطل عقائد کا حامل تھا ۔باقی یہ جو کہا کہ تعجیل مناسب نہیں یہ اس لئے تھا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ حضرت کو مریدوں ہی کی طلب اور پیاس رہتی ہے گویا آپ اسی انتظار میں بیٹھے ہیں ۔اس لئے کہا کہ پہلے استقامت دکھاؤ اس کے بعد بیعت کر لوں گا۔
بریلوی اور حضرت تھانوی ؒ:
حضرت حکیم الامت ؒ نے ایک دفعہ فرمایا کہ :
’’یہ اہل بدعت اکثر بد فہم ہوتے ہیں بوجہ ظلمت بدعت کے ۔۔۔علوم و حقائق سے کورے ہوتے ہیں ۔۔۔ویسے ہی لغویات ہانکتے رہتے ہیں جس کے سر نہ پیر ۔۔۔مثلاً حضور اکرم ﷺ کو علم غیب محیط ہے اور یہ کہ حضور کا مماثل پیدا کرنے کی اللہ تعالی کو قدرت نہیں ۔۔۔اس قسم کے ان کے عقائد ہیں اور اب تو اکثر بدعتی شریر بلکہ فاسق فاجر ہیں ‘‘۔
(ملفوظات ،ج7،ص23)
اور یہ عقائد مولانا احمد رضا خان بریلوی کے بھی ہیں تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تو مولانا احمد رضا خان بریلوی کو علم سے کورا لغویات ہانکنے والا ،فاسق و فاجر شخص ہے ۔
حضرت تھانوی ؒ کی طرف سے خان صاحب کے اشعار پر فتوی:
حکیم الامت حضرت تھانوی ؒ کے سامنے خان صاحب کے یہ اشعار پیش ہوئے :
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
کیونکہ محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
( حدائق بخشش ،ج1،ص1،مدینہ پبلشنگ کراچی )
حضرت تھانو ی ؒ نے ان اشعار پر یہ فتوی دیا :
’’ اس صورت میں اس شعر کا بنانے والا مشرک اور خارج از اسلام سمجھے جانے کے قابل ہے ۔دوسرے شعر میں لفظ مالک خدا کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس صورت میں شعر کا مطلب صاف لفظوں میں یہ ہوا کہ حضرت شیخ محبوب الٰہی ہیں اور محبوب و محب میں کوئی فرق نہیں ہوتا لہذا حضرت شیخ بھی معاذ اللہ خدا ہوئے اور میں تو خواہ کچھ ہی خدا ہی کہوں گا اس اصرار علی الشرک کی وجہ سے بھی اسی فتوے کے مستوجب ہیں جو شعر اول کے متعلق دیا جا چکا ہے اور کسی تاویل سے یہ حکم بدل نہیں سکتا اس لئے کہ یہ الفاظ بالکل صاف ہیں‘‘ ۔
( امداد الفتاوی ،ج6،ص76,77،مطبوعہ دارالعلوم کراچی )
کیا اس واضح فتوے کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت تھانوی ؒ نے احمد رضا خان کو عاشق رسول ﷺ تسلیم کیا ؟ حضرت ہے کہ حضرت تھانوی ؒ کے تیس جلدوں پر مشتمل ملفوظات بتیس جلدوں پر خطبات ہزار سے زائد تصنیفات میں تو کہیں بھی ایسی کوئی بات نہیں ملتی مگر ان کی وفات کے بعد نامعلوم مریدوں کے خطوط بریلویوں کو موصول ہونا شروع ہو جاتے ہیں کہ حضرت تھانوی ؒ مولانا احمد رضا خان صاحب کو معاذ اللہ عاشق رسول ﷺ مانتے ہیں۔
مولانا کوثر نیازی آف پیپلز پارٹی کی حقیقت:
یہ جعلی حکایات بنانے والے مولانا کوثر نیازی بریلوی کے بارے میں راقم الحروف سے محقق اہل سنت حضرت مفتی نجیب اللہ صاحب عمر مدظلہ العالی نے بیان فرمایا کہ حکیم محمود احمد برکاتی صاحب مرحوم سے جب ایک نشست میں کوثر نیازی صاحب کا تذکرہ چل پڑا تو واللہ تاللہ باللہ حکیم صاحب (جن کا تعلق خیر آبادی سلسلے سے ہے ) نے مجھ سے بیان فرمایا کہ وزارت کے دوران کوثر نیازی نے کراچی میں ایک کمرے کا مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا جہاں شراب کباب اور مجرے کا دور چلتا اور زنا ہوتا ۔العیاذباللہ مولاناکوثر نیازی کٹر بریلوی رضاخانی تھے
اس قسم کے حوالوں کی بنیاد پر رضاخانی عوام کو یہ دھوکا دیتے ہیں کہ مولوی کوثر نیازی دیوبندی تھا حالانکہ اس اصول کے تحت نیازی کا کٹر رضاخانی اور بریلوی ہونا ثابت ہوتا ہے اور حقیقت بھی یہی تھی رضاخانی نیازی کو اپنے مجلسوں میں بطور مہمان خصوصی بلایا کرتے تھے ادارہ تحقیقات امام احمد رضاکے ایک اجلاس میں وہ یوں خطاب کرتے ہیں:
’’مولانا کوثر نیازی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کا آغاز اس جملے سے کیا کہ عاشق رسول وہی شخص ہو سکتا ہے جو ناموس رسالت پر مر مٹنا جانتا ہو ۔انہوں نے کہا کہ امام احمد رضا ایک سچے عاشق رسول تھے ۔ان کا سرمایہ حیات عشق رسول تھا اور وہ زندگی بھر لوگوں کو حب رسول کا سبق دیتے رہے۔ مولانا کوثر نیازی نے کہا کہ امام خمینی کا فتوی شاتم رسول رشدی پر کل کی بات ہے لیکن امام احمد رضا نے اب سے ۸۰ ،۷۰ سال قبل گستاخانِ رسول پر جو فتوی دیا تھا وہ ہم سب کیلئے قابل مطالعہ ہے۔ مولانا کوثر نیازی نے برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ اعلی حضرت شاہ احمد رضا خاں کی تصانیف جوں جوں میرے مطالعہ میں آ رہی ہیں توں توں ان کی عظمت و بزرگی ،جلالت علمی ،بحر ذکاوت ،دانائی تقوی کا احسان بڑھتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ کے سلسلہ میں امام احمد رضا مقتداء ہیں اور علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح مقتدی ہیں ۔انہوں نے اعلی حضرت کے مشہور زمانہ سلام مصطفی جان رحمت پر لاکھوں سلام کو اردو زبان کا قصیدہ بردہ شریف قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ سلام آفاقی ہے ۔جس کی نظری نہیں ملتی۔ مولانا نے مزید کہا کہ امام احمد رضا پر جو شدت کا بہتان لگایا جاتا ہے اور جس کی دہائی دی جاتی ہے وہ ان کا عشق رسول ہے ‘‘۔
(تاریخ و کارکردگی ادارہ تحقیقات امام احمد رضا ۔ص۷۰۔۷۱۔ از ڈاکٹر مجید اللہ قادری بریلوی ۔مطبوعہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ۲۰۰۵)
سید سلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب حوالہ:
مولانا کوکب اوکاڑوی سید سلیمان ندوی کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اس احقر نے جناب مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی مرحوم کی چند کتابیں دیکھیں تو میری آنکھیں خیرہ ہو کر رہ گئیں حیران تھا کہ یہ واقعی مولانا بریلوی صاحب مرحوم کی ہیں جن کے متعلق کل تک یہ سنا تھا کہ وہ صرف اہل بدعت کے ترجمان ہیں اور صرف چند فروعی مسائل تک محدود ہیں مگر آج پتہ چلا کہ نہیں ہرگز نہیں یہ اہل بدعت کے نقیب نہیں بلکہ یہ تو عالم اسلام کے اسکالر اور شاہ کار نظر آتے ہیں جس قدر مولانا ( احمد رضا ) مرحوم کی تحریروں میں گہرائی پائی جاتی ہے اس قدر گہرائی تو میرے استاد مکرم جناب مولانا شبلی نعمانی صاحب اور حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی اور مولانا محمد الحسن صاحب دیوبندی اور حضرت مولانا شیخ التفسیر علامہ شبیر احمد عثمانی کی کتابوں کے اندر بھی نہیں جس قدر مولانا بریلوی کی تحریروں میں ہے۔(ماہنامہ ندوہ اگست ،ص17،اگست 1913بحوالہ سفید و سیاہ ،ص112,113)
یہی حوالہ معارف رضا میں بحوالہ طمانچہ ص35میں بھی دیا گیا اور وہاں حوالہ میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمۃ ‘‘۔ 
(معارف رضا ،ص253شمارہ یازدہم 1991 ؁ء)
مگر اوکاڑوی نے پنے ہاتھ کا کرتب دکھا کر ’’علیہ الرحمۃ ‘‘ کو ایسے غائب کیا کہ اب دور بین لگانے پر بھی آپ کو نظر نہیں آئے گا ۔ اس تحریف کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1943 ؁ء میں ہوئی 1913کے ندوہ رسالہ میں اگر ان کی وفات کے 30سال قبل ہی رسالے میں ان کے ساتھ ’’علیہ الرحمۃ‘‘ لکھنا ہی اس کے جھوٹ کا پول کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ پھر اس ندوہ رسالے میں احمد رضا خان صاحب کو ’’مرحوم ‘‘ لکھا گیا ہے حالانکہ خان صاحب کا انتقال 1921میں ہوا وفات سے 8سال قبل ہی ان کو مرحوم لکھ دینا اس حوالے کا میڈ اِن بریلوی ہونے کی چغلی کھا رہا ہے ۔پھر اگر خان صاحب کی کتب اتنی ہی اعلی پائے کی تھیں کہ ندوی مرحوم ان جلیل القدر علمائے دیوبند (علامہ تھانوی ،شیخ الہند و علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ) پر ترجیح دے رہے ہیں تو ندوی مرحوم کی کسی ایک کتاب کا حوالہ دیں جس میں ندوی ؒ نے خان صاحب کی ان تحقیقات کا حوالہ دیا ہو یا ان سے استفادے کا کہا ہے ۔جھوٹ بولنے کیلئے بھی سلیقہ چاہئے یہ حوالہ بالکل جعلی اور من گھڑت ہے۔
یہ جعلی حوالہ عبد الوہاب قادری کی صاعقۃ الرضا،ص158پر بھی دیا گیا ہے۔
(جاری ہے۔۔۔)
٭٭٭