پیر، 11 مارچ، 2019

بریلوی عقیدہ ”علمِ غیب“ (قسط۔۱)

شمشیرِ دیوبند

{ عقیدہ علم غیب پر رضاخانی خانہ جنگی }
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!!
محترم قارئین!جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ رضا خانی آئے دن ہم پر تبراہ کرتے ہیں کہ جی یہ وہابی نبی کا علم غیب نہیں مانتے۔اور طرح طرح کے فتوے لگاتے نہیں تھکتے مگر آپ اس کتاب میں دیکھیں گے کہ بے چارے رضاخانی خود اس عقیدہ میں پریشان ہیں اور بے چارے اپنے عقیدہ پر ہی متفق نہیں ہیں۔
اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے آپ یہ حوالہ ضرور پڑھیں کہ انہوں نے یہ عقیدہ کہاں سے لیا؟؟؟
یہ عقیدے جو ان حضرات میں موجودہ رائج ہیں یہ شیعہ سے لئے گئے ہیں اس بات کا اقرار تو خود ان کو بھی ہے۔
۱:رضاخانی اشرف العلماء کا بیٹا مولوی غلام نصیر الدین سیالوی اپنی کتاب میں لکھتا ہے؛
’’ علم غیب ،حاضر و ناظر ،مختار کل،استمداد وغیرہ یہ تمام عقائد شیعہ کے اندر موجود ہیں‘‘
                                (عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ،جلد ۱ ص۴۱)
تو آپ حضرات نے دیکھا کہ اس بات کا ان کو بھی اقرار ہے کہ ان کے یہ عقائد اہل تشیع حضرات والے ہیں۔
ہمارا دعوی یہ ہے کہ نبی ﷺ کو بذریعہ انباء الغیب،اطلاع الغیب اور اخبار الغیب مخلوقات میں سے سب سے زیادہ علم عطا کیا گیا مگر اس کو علم غیب نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ علم غیب وہ ہوتا ہے جو ذاتی ہو اور بغیر کسی ذریعہ کے حاصل ہو ۔لہذا علم غیب خاصۂ خداوندی ہے۔
اس پر چند دلائل ملاحظہ فرمائیں۔
۱:شرح العقائد میں ہے:
’’وبالجملۃ العلم امر تفردبہ االہ تعالیٰ لا سبیل الیہ للعباد‘‘
                                                            (شرح العقائد ص۲۰۴)
ترجمہ:خلاصہ کلام یہ ہے کہ علم غیب  ایک ایسا امر ہے کہ اللہ تعالی ہی اس سے متفرد ہے ۔بندوہ کو اس کے حصول کا کوئی طریقہ نہیں۔
۲:شاہ ولی اللہ ؒاپنی کتاب تفہیمات الہیہ میں رقمطراز ہیں:
’’الوجدان الصریح یحکم بان العبد عبد وان ترقی و الرب رب وان تنزل وان العبد قط لا یتصف بالوجوب او بالصفات اللازمۃ للوجوب و لا یعلم الغیب الا ان ینطبع شیٔ فی لوح صدرہ و لیس ذلک علما بالغیب انما ذلک الذی یکون من ذاتہ و الا فالانبیاء ولاولیاء یعلمون لا محالۃ بعض ما یغیب عن العامۃ‘‘
ترجمہ کا خلاصہ:
وجدان صریح بتلاتا ہے کہ بندہ کتنی ہی روحانی ترقی کیوں نہ کر لے بندہ ہی رہتا ہے اور رب اپنے بندوں کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہو جائے وہ رب ہی رہے گا۔بندہ واجب الوجوب کی صفات لازمہ سے کبھی متصف نہیں ہو سکتاعلم غیب وہ جانتا ہے جو از خود ہو کسی دوسرے کے بتانے سے نہ ہو۔ورنہ انبیاء اور اولیاء یقینا ایسی بہت سی باتیں جانتے ہیں جو دوسرے لوگوں کی علم کی رسائی تک نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جو انبیاء اور اولیاء کے دل کی تختی پر لکھ دیا جاتا ہے یہ علم غیب نہیں ہے اس لیے کہ علم غیب ذاتی ہوتا ہے۔
     (تفہیمات الہیہ جلد ۱ ص۱۸۳،۱۸۴)
اس عبارت سے یہ واضح ہوا کہ علم غیب وہ جانتا ہے جو از خود ہو کسی کے بتلانے سے نہ ہو۔اور یہی علم غیب ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انبیاء کو جو علم دیا گیا وہ علم غیب نہیں ۔
۳:علامہ شامی ؒ لکھتے ہیں:
’’لان علم الانبیاء والاولیاء انما ھو باعلام من اللہ تعالیٰ لھم و علمنا بذالک انما ھو باعلامھم لناوھذا غیر علم اللہ تعالیٰ الذی تفرد بہ و ھو صفات من صفاتہ القدیمۃ الازلیۃ الدائمۃ الابدیۃ المنزھۃ التغیر و السمات الحدوث والنقص والمشارکۃ والانقسام
بل ھو علم واحد علم بہ جمیع المعلومات کلیاتہاوجزئیاتہاما کان منھا وما یکون لیس بضروری ولا کسبی ولا حادث بخلا ف علم سائر الخلق۔واذاتقرر ذالک فعلم اللہ تعالیٰ المذکور ھوالذی یمدح بہ و اخبر فی الآیتین المذکورتین بانہ لا یشارکہ فیہ احد فلا یعلم الغیب الا ھووما سواہ ان علموا جزئیات منہ فھو باعلامہ و اطلاعہ لھم۔وح لا یطلق انھم یعلمون الغیب اذا لا صفتلھم یقتدرون بھا علی الاستقلال بعلمہ وایضاھم  ما علمو وانما علموا۔‘‘
ترجمہ کا خلاصہ:
بے شک انبیاء اور اولیاء کا علم انہیں خدا تعا لی کے بتلانے سے ہوتا ہے اور ہمیں جوعلم ہوتا ہے وہ انبیاء اور اولیاء کے بتلانے سے ہوتا ہے اور یہ علم اس علم خداوندی سے مختلف ہے جسکے ساتھ صرف ذات باری تعالی متصف ہے۔خداتعالی کا علم ان صفات قدیمہ ،ازلیہ،دائمہ،ابدیہ میں سے ایک صفت ہے جوتغیر اور علامات حدوث سے منزہ ہے اور کسی کی شرکت اور نقص انقسام سے بھی پاک ہے۔وہ علم واحد ہے جس سے خدا تعالی تمام معلومات کلیہ و جزئیہ،ماضیہ و مستقبلہ کو جانا ہے۔نہ وہ بدیہی ہے ،نہ حادث بر خلاف تمام مخلوق کے علم کے کہ وہ بدیہی اور حادث ہے۔جب یہ بات ثابت ہو گئی تو خدا تعالی کا علم مذکور جس کے ساتھ وہ لائق ستائش ہے اور جسکی مذکودہ دو آیتوں میں خبر دی گئی ہے ایسا ہے کہ کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں اور علم غیب صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے خداتعالی کے علاوہ اگر بعض حضرات نے غیبی باتیں جانیں تو وہ خدا تعالی کے بتلانے سے جانیں اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ علم غیب رکھتے ہیں کیوں کہ یہ ان کی کوئی ایسی صفت نہیں جس سے وہ مستقل طور پر کسی چیز کو جان لیں اور یہ بات بھی ہے کہ انہوں نے اس خود نہیں جانا۔
                                   (رسائل ابن عابدین جلد ۲ ص۳۱۳)
آپ نے دیکھا  علامہ شامی ؒ لکھتے ہیں کہ علم غیب وہ ہوتا ہے جو کلیات و جزئیات کو حاوی ہو اور یہ خاصہ باری تعالی ہے اس کے علاوہ علامہ شامیؒ نے یہ بھی فرما دیا کہ علم غیب اللہ ہی جانتا ہے اس کے علاوہ جو بعض حضرات نے غیبی باتیں جانیں وہ علم غیب نہیں۔اس کی دو وجوہات ہیں ایک یہ کہ ان کی کوئی ایسی صفت نہیں جس سے مستقل ہر ہر چیز کو جان لیں اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اس خود نہیں جانا بلکہ خدا کے بتلا نے سے جانا۔تو یہ بات واضح ہو گئی اللہ تعالی جو علم عطا کرے وہ علم غیب میں داخل نہیں۔
۴:علامہ نسفی ؒ لکھتے ہیں:
الغیب:ھو ماما یقم علیہ دلیل اطلع علیہ مخلوق۔
یعنی  وہ جس کے ثبوت پر کوئی دلیل قائم نہ ہو اور نہ اسکی اطلاع مخلوق کو ہو۔
                                                             (تفسیر مدارک)
۵:مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں:
مدارک کی اس توجیہ سے معلوم ہوا کہان کی اصطلاح میں جو علم عطائی ہو وہ غیب ہی نہیں کہا جا سکتا۔غیب صرف ذاتی کو کہتے ہیں۔
۶: احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں :
’’علم جب کہ مطلق بولا جائے۔خصوصاََ جب کہ غیب کی طرف مضاف ہواس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے‘‘     
                 (ملفوظات حصہ سوم ص۲۵۵)
یعنی علم کی اضافت جب بھی غیب کی جانب ہو گی اس سے مراد ذاتی ہی ہو گا۔
یعنی جب بھی لفظ علم غیب بولا جائے گا تو اس سے مراد ذاتی ہو گا۔
۷: پیر مہر علی شاہ صاحب لکھتے ہیں:
’’پہلے غیب کے معنی بتائے جاتے ہیں غیب نام ہے اس چیز کا جو حواس ظاہرہ و باطنہ کے ادراک اور علم بدیہی و استدلالی سے غائب ہواور یہ علم حق سبحانہ کے ساتھ مختص ہے۔جو کہ ان آیات میں مراد ہے۔پس اگر اس علم غیب کا مدعی ہو اپنے نفس کے لئے یا کسی غیر کے اس قسم کے دعوی کی تصدیق کرے توو ہ کافر ہے مگر جو خبر پیغمبر ﷺ دیتے ہیں وہ یا تو بذریعہ وحی حاصل ہوتی ہے۔یا اللہ تعالی اس کا علم ضروری نبی ﷺ کے اندر پیدا فرما دیتے ہیں یا نبی ﷺ کی حس پر حوادث کا انکشاف فرما دیتے ہیں۔تو یہ علم غیب میں داخل نہیں‘‘
                           (اعلاء کلمۃ اللہ ص ۱۱۴)
یعنی جو علم بذریعہ وحی حاصل ہو وہ غیب نہیں۔
تو آپ حضرات نے دیکھا کہ علم غیب خاصہ خدا کا ہے۔
خواجہ شمس الدین سیالوی کے ملفوظات کا مجموعہ میں یہ بات موجود ہے کہ ایمان کے احکام سات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ:
 علم غیب کو خاصہ خداوندی سمجھنا   
                                         (  مراۃ العاشقین ص  ۴۷)  
۹:غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں
’’اللہ کے غیر کے لئے علم غیب کا اطلاق کرنا اس لئے جائز نہیں ہے کیوں کہ اس سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ علم کا تعلق ابتداء سے ہے تو یہ قران مجید کے خلاف ہو جائے گا۔لیکن جب اس کو مقید کیا جائے اور یوں کیا جائے کہ اس کو اللہ تعالی نے غیب کی خبر دی یا اس کو غیب پر مطلع فرمایا ہے پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘
                                        (نعمۃ الباری جلد ۱ ص۲۷۳)
        { رضا خانیوں کے اپنے عقیدے پر متضاد دعوے}
رضاخانی اس عقیدہ پر بھی متفق نہیں کچھ اس عقیدہ کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں کچھ نہیں۔اسی چیز کو ہم بیان کرتے ہیں اور اس پر ان کی کتابوں کے حوالے پیش کرتے ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں ان کے نزدیک یہ عقیدہ قطعی ہے یا ظنی؟؟
دعوی نمبر ۱:
’’اللہ تعالی نے نبی کریم  ﷺ کے علم غیب کے منکر کو کافر فرمایا ہے‘‘
                                           (فہارس فتاوی رضویہ   ص۸۷۴)
۲:مولوی عمر اچھروی لکھتے ہیں :
’’آپکی ذات سے علم غیب کی نفی کرتے ہیں وہ در حقیقت آپ کے محمد ہونے کے قائل نہیں ‘‘
                                                        (مقیاس حنفیت ص ۳۱۲)
۳:بریلوی جماعت کے مستند عالم عطا محمد چشتی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نبی کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ اس کو فلاں چیزکا علم نہیں تو یہ عقیدہ اس امر کو مستلزم ہے کہ اس نبی کی توحید مکمل نہیں۔چہ جائیکہ افضل الانبیاء صلوۃٰ اللہ علیہ کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ ان کو فلاں چیز کا علم نہیں‘‘        
(ذکر عطاء فی حیات استاذ العلماء ص۹۱)
لو جی! ان صاحب کے عقیدہ سے یہ لازم آرہا ہے کہ نبی  ﷺ کی توحید ہی ان کے نزدیک نا قص ہے۔اور نبی کی توحید ناقص ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی خود کفر ہے۔
اسی طرح مولوی عمر اچھروی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نے با لفرض نبی  ﷺکو کچھ وقت کی لئے معاذاللہ اس خبر سے بے علم سمجھاتو اس اعتقاد کی بنیاد پروہ اتنی دیر منکر نبوت رہے گا‘‘            
            (مقیاس حنفیت ص۲۹۹)
تو ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کے نزدیک ان کا یہ عقیدہ قطعی ہے۔
جبکہ
بریلوی جید عالم محمود احمد رضوی علم غیب کے عقیدہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’یہ ہمارا قول مختار ہے اور نہ ضروریات سے ہے اور نہ ضروریات مذہب سے،بلکہ باب فضائل سے ہے اور جو لوگ حضور  ﷺ سے بغض وعنادکی بنا پر اس تفصیل سے حضور  ﷺکے لئے ما کان ومایکون کا اثبات نہیں کرتے ہم انکو کافر وگمراہ تو درکنار فاسق بھی نہیں کہتے‘‘
                                            (بصیرت حصہ اول ص ۲۶۶)
پیر سائیں غلام رسول قاسمی لکھتے ہیں:
’’ظنیات محتملہ:یہ نظریات ایسی ظنی  دلیل سے ثابت ہوتے ہیں جو محظ راجح ہو اور جانب خلاف کے لئے گنجائش موجود ہو مثلاََ محبوب کریم  ﷺ کوعالم ماکان و مایکون سمجھنا‘‘
                                                 ( القوائد فی العقائد ص ۴) 
ان کے نزدیک یہ عقیدہ ظنی ہے۔ہم پھر بریلوی حضرات سے پوچھیں گے کہ سچا کون ہے؟؟؟
              {   عقیدہ علم غیب پر مختلف دعوے   }
جیسا کہ پیچھے بتایا جا چکا کہ بیچارے رضاخانی اس مسئلہ پر بہت پریشان ہیں۔اور کسی ایک بات پر متفق ہی نہیں ۔اور ہم یہ بات بلا دلیل نہیں کہہ رہے بلکہ ہم اس پر دلائل رکھتے ہیں۔
اس حوالے سے بھی ہم کچھ آپکو دکھا دیتے ہیں۔
دعوی نمبر۱: بریلوی مولوی عبد الرشید صا حب لکھتے ہیں :
’’اللہ تعالی نے اپنے نبی محترم  ﷺ کو روز اول سے روز آ خر تک تمام علوم غیبیہ سکھائے‘‘
                                                   ( رشد الایمان   ص ۱۰۱)
احمد رضا صاحب لکھتے ہیں:
’’حضور  ﷺ کو روز اول سے روز آخر تک کے تمام گزشتہ و آئندہ کے واقعات کا علم ہے‘‘
                                                (الدولۃ المکیہ ص ۶۱)
مزید آگے لکھتے ہیں : 
’’مگر ہم اس بات کا اصرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضور  ﷺ کو جب یہ فرمایا کہ عنقریب ہم آپ کو وہ سکھا دیں گے جو آپکے علم میں نہیں تھا۔یہ سکھانا واقعی بذریعہ قران پاک تھا۔اور قران پاک بیک وقت نازل نہیں ہوا ۔بلکہ تیئس سالوںمیں نازل ہوتا رہا۔‘‘
                                                ( الدولۃ المکیہ ص ۷۱)
یہ ہے خان صاحب کا دعوی!!اب یہ دعوی کس قدر صحیح ہے؟؟آئیے دیکھتے ہیں۔
خا ن صاحب کے مطابق  پہلے آپ کو علم نہ تھا پھر اللہ پاک نے آپکو سند دی کہ ہم آپکو عنقریب سکھا دیں گے۔
اس بات پر ہم اپنی طرف سے فتوی نہیں لگاتے ہم بریلوی ہی پیش کرتے ہیں جو خود خان صاحب پر حملہ کر دے گا۔
بریلوی جماعت کے مستند عالم عطا محمد چشتی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نبی کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ اس کو فلاں چیزکا علم نہیںتو یہ عقیدہ اس امر کو مستلزم ہے کہ اس نبی کی توحید مکمل نہیں۔چہ جائیکہ اٖفضل الانبیاء صلوۃٰ اللہ علیہ کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ ان کو فلاں چیز کا علم نہیں‘‘
(ذکر عطاء فی حیات استاذ العلماء ص۹۱)
لو جی خان صاحب کے عقیدہ سے یہ لازم آرہا ہے کہ نبی  ﷺ کی توحید ہی ان کے نزدیک نا قص ہے۔اور نبی کی توحید ناقص ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی خود کفر ہے۔
اسی طرح مولوی عمر اچھروی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نے با لفرض نبی  ﷺکو کچھ وقت کی لئے معاذاللہ اس خبر سے بے علم سمجھاتو اس اعتقاد کی بنیاد پروہ اتنی دیر منکر نبوت رہے گا‘‘
  (مقیاس حنفیت ص۲۹۹)
لو خا ن صاحب منکر نبوت بھی ہوئے۔
دعوی نمبر ۲:خان صاحب پہلے عقیدہ میں مزیدغلو کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے لکھتے ہیں:
              ’’چنانچہ نبی  ﷺ کو قیامت اور آخرت کے کثیر علوم عطا فرمائے۔حشر ونشر، حساب و کتاب اور ثواب و عتاب کے تمام درجات کا علم دیا گیا۔لوگ جنت و دوذخ میں اپنے اپنے مقام پر پہنچیں گے۔ان مقامات کے بعد کے علوم بھی اللہ تعالی نے اپنے حبیب مکرم  ﷺ کو عطا فرمائے‘‘
                                                         (الدولۃ المکیہ)
مولوی عمر اچھروی صاحب لکھتے ہیں:
’’لہذا نبی  ﷺ کے لئے تمام عالمین کاعلم غیب عطائی الدوام ماننا یعنی از ابتدائے آفرینش حضور ﷺ کو تا قیامت اور قیامت کے بعد تک بھی اور جنت و دوزح وغیرھم کا تمام علم غیب بلکہ اس سے بھی ذیادہ جس کو اللہ تعالی جانتے ہیں اور مخلوق کی عقلوں سے بالاتر ہے آ پ کی شان نبوت کو حاصل ہے‘‘
               (مقیاس الحنفیت ص۲۹۹)
لیں جی جنت و دوذخ میں جانے اور اس کے بعد کے علوم بھی نبی  ﷺ کو عطا فرمائے۔
جبکہ ان ہی کے ہم مسلک مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں:
’’جس کے لئے علم کی نفی کی گئی ہو وہ واقع ہو اور قیامت تک کا ہو ورنہ کل صفات الہیہ اور بعد قیامت کے کل واقعات کے علم کا ہم بھی دعوی نہیں کرتے‘‘    
(جاء الحق ص ۴۴)
لیجئے یہ صاحب تو قیامت کے بعد کے واقعات کا علم نہیں مانتے۔جبکہ خان صاحب مانتے ہیں ۔ہم پوچھتے ہیں دونوں میں سے کون سچا ہے؟؟
پھر یہ بات بھی لطف سے خالی نہیں کہ جو احمد رضا خان کا ہم عقیدہ نہ ہو اسے وہ کافر جانتے ہیں یہ درست ہے     (الصوارم الہندیہ)
لہذا مفتی احمد یار کافر ہوئے!
دعوی نمبر ۳:مزید آگے بڑھتے ہوئے خان صاحب لکھتے ہیں :
’’لوح محفوظ کا سارا علم ہمارے نبی پاک صاحب لولاک ﷺ کے بے پناہ علوم کے سمندروں کا ایک قطرہ ہے‘‘                                      
(الدولۃ المکیہ  ص ۴۷)
خان صاحب کے دعوے تو بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔جب لوح محفوظ کا علم آپکے علم کا  ایک قطرہ ہے پھر نہ جانے آپ  ﷺ کے علوم کس قدر ہوں گے؟؟؟
دعوی نمبر ۴:احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں :
’’آپ تمام علوم کلی او رجزئی سے واقف تھے۔اور آپ نے ان تمام علوم کا احاطہ فرمایا جو ارض و سماوات کے متعلق ہیں‘‘                    
(الدولۃ المکیہ ص۷۹)
یہاں پر خان صاحب نے نبی ﷺ کے لئے علوم کلی کا دعوی کر دیا
اسی طرح مولوی عبد الرشید صاحب بھی  اپنی کتاب میں ایک سرخی قائم کرتے ہیں؛’’سرکار کے لئے کلی علم کا ثبوت‘‘        
(رشد الایمان ص ۱۰۳)
ایک جگہ لکھتے ہیں ؛
’’اس سے حضور  ﷺ کا علم غیب کلی ثابت ہو‘‘         
(رشد الایمان  ص ۹۷)
یہی بات مفتی فیض احمد اویسی نے اپنی کتاب علم المناظرہ میں لکھی ہے۔
اب اس دعوی پر بریلوی فتاوی جات پڑھیں کہ کیسے یہ عقیدہ رکھ کے یہ حضرات مشرک بنتے ہیں۔
۱:مفتی احمد یار لکھتے ہیں :
’’کلی اختیارات اور مکمل علم غیب پر خدائی دارومدار ہے‘‘
                                      (مواعظ نعیمیہ حصہ ۲ ص۲۶۵)
ایک اور صاحب لکھتے ہیں : 
’’علم غیب کلی کی چابیاں اللہ تعالی کے ساتھ مختص ہیں ‘‘
                                                  ( عقائد و نظریات ص ۸۷)
اسی طرح فتاوی مہریہ میں ہے:
’’رسل کرام سب غیوب پر مطلع نہیں ہوتے تاکہ خصوصیت الہی برقرار رہے‘‘ 
                                       (فتاوی مہریہ  ص ۸)
اب ہم یہ بتانا چاہیں گے کہ بریلوی محظ عوام کو دھوکہ دینے کے لئے کہتے ہیں کہ ہم تو نبی  ﷺ کو عطائی علم غیب مانتے ہیں (ہم پیچھے بتا آئے ہیں کہ عطائی علم غیب ہوتا ہی نہیں۔ از مصنف) حالانکہ یہ حضرات نبی  ﷺ کے لئے اللہ تعالی کا علم خاص مانتے ہیں جو معاذاللہ ذاتی ہے ۔اب ہم ان کا اصل عقیدہ بیان کرتے ہیں جو رضاخانی حضرات شیعوں کی طرح تقیہ کر کے چھپاتے ہیں۔
دعوی نمبر ۵:مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں:
’’خدا کا علم غیب حضور  ﷺکے قبضہ میں دے دیا گیا‘‘
                                                             (شان حبیب الرحمٰن ص ۲۰۶)
ہم بریلوی حضرات سے پوچھیں گے کہ خدا کا علم غیب ذاتی ہوتا ہے یا عطائی؟یقیناذاتی ہوتا ہے۔
تو یہ مفتی کہہ ریا ہے کہ خدا کا علم غیب نبی  ﷺ کے قبضہ میں دے دیاگیا۔تو یہ نبی  ﷺ کو بھی  ذاتی علم غیب مانتے ہیں۔معاذاللہ!!
یہی مفتی اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں:
’’اس آیت اور ان تفاسیر سے یہ معلوم ہوا کہ خدائے قدوس کا خاص علم غیب حتی کہ قیامت کا علم بھی حضور  ﷺ کو عطا کیا گیاان کیا شیٔ ہے جو علم مصطفے  ﷺ سی باقی رہ گئی‘‘
                                                       (جاء الحق ص ۶۰)
یہاں بھی خداتعالی کا خاص علم (جو کہ ذاتی ہے)نبی  ﷺ کے لئے مان رہا ہے۔
اسی طرح مولوی عمر اچھروی صاحب لکھتے ہیں:
’’غیب کی ضمیر کا مرجع الغیب ہے اور الغیب میں ا ل جنس کا ہے۔اگر اللہ رب العزت الغیب کی نسبت اپنی طرف کر کے اپنے تمام غیب کے عالم ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور ثابت ہے تو اس کی طرف ضمیر راجعہ کا منسوب نبی  ﷺ فلا یظہر علی غیبہ سے کیسے بے خبر ہو سکتے ہیں۔کیوں کہ ضمیر کا مرجع کل غیب ہے۔جب عطا کنندہ نبی کو اپنا کل غیب عطا کر کے سراہے تو اس کے انکار کرنے والے کو کیسے مومن سمجھا جا سکتا ہے‘‘
                                              (مقیاس ِحنفیت ص ۳۲۳)
یہاں بھی مولوی عمر اچھروی صاحب مان رہے ہیں کہ اللہ نے اپنا کل غیب(ذاتی) نبی  ﷺ کو عطا کیا ہے۔معاذااللہ!
اسی عقیدہ کی تائید فاضل بریلوی بھی کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں  ہو  بھلا 
جب خدا ہی نہ چھپا تم پہ کروڑوں درود
                                            (حدائق بخشش ص ۲۰۹)
یعنی جب آ پ ﷺ سے خدا ہی نہ چھپا تو پھر اور کیا چیز ہے جو آپ  کے علم سے پوشیدہ ہو۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
تیرے  تو  وصف  عیب  تناہی  ہیں  بر ی
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے
                                                   (حدائق بخشش ص ۱۳۲)
یعنی جو جو نبی  ﷺ کی صفات کو متناہی مانے وہ آپ  ﷺ کو عیب لگاتا ہے۔اور علم بھی ایک صفت ہے تو جو اس علم کو متناہی مانے وہ بھی آپ  ﷺ کو عیب لگاتا ہے ۔اور نبی  ﷺ کو عیب لگانے والا یقینا کافر ہے۔!!
یہ تو تھے وہ حوالہ جات جو در حقیقت ر ضاخانیت کے اصل عقیدہ تھے ۔جو ان لوگوں نے آج تک چھپا کر رکھے تھے۔
 علم غیب ذاتی کا عقیدہ رکھنے والے پر فتوی بھی ان کے گھر سے ہی ملاحظہ ہو۔
خان صاحب بریلوی لکھتے ہیں:
’’کوئی شخص کسی مخلوق کے لئے ذرہ بھی علم ذاتی مانے یقینا کافر ہے‘‘
                                                     (ملفوظات ص ۲۵۶)
لیجیے رضا کا خنجر رضویت کے حلق کے پار ہو گیا۔
اور یہ سارے بریلوی کفر کے گھاٹ اتر گئے۔دن رات علماء حق پر زبان دراذی کرنا آسان ہے۔فتوی بازی کرنا آسان ہے مگر۔۔۔ علما کی کرامت دیکھو آج رضویت خود نہ بچ سکی!!
اب آتے ہیں کہ ان کے عقیدہ کے مطابق نبی  ﷺ کو علم غیب کب ملا؟؟ آپ یہ جان کر ضرور حیران ہوں گے کہ جس عقیدہ کی بنیاد پر یہ علماء دیوبند کو گستاخ کہتے نہیں تھکتے۔ایسے عقیدہ کی وجہ سے خود ان پر فتاوی جات ان کے اپنے مولویوں کے ہیں اس سے یہ خود نہ بچ سکے۔بلکہ عقیدہ جیسے مسئلہ پر بھی متفق نہ ہو سکے۔
اب ہم آتے ہیں کہ ان کے نزدیک علم غیب کب عطا ہوا۔
دعوی نمبر ۱:
مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں :
’’حقیقت یہ ہے کہ حضور  ﷺ اول ہی سے قرآن کے عارف تھے مگر قرانی احکام نزول سے قبل جاری نہ فرمائے‘‘
        (جاء الحق)
دعوی نمبر۲:
مولوی نعیم الدین مرادآبادی لکھتے ہیں:
’’آنحضرت  ﷺ نے فرمایا کہ شب معراج میرے حلق میں ایک قطرہ ٹپکایا گیا۔اس کے فیضان سے مجھے ما کان و ما یکون کا علم حاصل ہو گیا‘‘          
(الکلمۃ العلیا ص ۴۳)
ان کی نزدیک نبی  ﷺ کو معراج سے قبل علم غیب نہ تھا۔جبکہ
بریلوی جماعت کے مستند عالم عطا محمد چشتی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نبی کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ اس کو فلاں چیزکا علم نہیںتو یہ عقیدہ اس امر کو مستلزم ہے کہ اس نبی کی توحید مکمل نہیں۔چہ جائیکہ اٖفضل الانبیاء صلوۃٰ اللہ علیہ کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ ان کو فلاں چیز کا علم نہیں‘‘         
   (ذکر عطاء فی حیات استاذ العلماء ص۹۱)
لو جی ان صاحب کے عقیدہ سے یہ لازم آرہا ہے کہ نبی  ﷺ کی توحید ہی ان کے نزدیک نا قص ہے۔اور نبی کی توحید ناقص ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی خود کفر ہے۔
اسی طرح مولوی عمر اچھروی لکھتے ہیں:
’’اگر کسی نے با لفرض نبی  ﷺکو کچھ وقت کی لئے معاذاللہ اس خبر سے بے علم سمجھاتو اس اعتقاد کی بنیاد پروہ اتنی دیر منکر نبوت رہے گا‘‘  
                      (مقیاس حنفیت ص۲۹۹)
لیجیے لگ گیا فتوی ان پر بھی۔
دعوی نمبر ۳:
مولوی احمد رضا صاحب لکھتے ہیں :
’’جب قران مکمل ہو گیا حضور  ﷺ کے علوم کی تکمیل ہو گئی‘‘
                                           ( الدولۃ المکیہ ص ۸۴)
یہی بات پرو فیسر محمد عرفان قادری اپنی کتاب’ نبوت ہر آن ہر لحظہ ‘  میں صفحہ ۳۶ پر لکھتے ہیں 
ان کے نزدیک بھی قران کی تکمیل سے پہلے آپ  ﷺ کو کلی علم غیب نہیں تھا تو ان پر بھی ما قبل والے  دو فتوے لگ گئے۔
ہم پھر رضاخانی حضرات سے پوچھیں گے کہ بتائیں کون سچ کہہ رہا ہے؟؟
دعوی نمبر ۴:
مولوی صالح صاحب لکھتے ہیں:
’’لوح محفوظ آ پ کے روبرو لکھی گئی اور آ پکو شکم مادر میں ہی علم غیب تھا‘‘
                                                  (علم غیب رسول  ص۳۴)
ما قبل والے فتوے ان پر بھی لگیں گے کیوں کے یہ شکم مادر سے پہلے علم غیب نبی  ﷺ کو نہیں مانتے۔
اس لئے ان کے مطابق نبی  ﷺ کا عقیدہ توحید ناقص ہے اور مولوی عمر اچھروی کے مطابق یہ منکر نبوت بھی ہوئے۔معاذ اللہ!
(جاری۔۔۔)
٭٭٭

     

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں