پیر، 11 مارچ، 2019

بکھرے موتی

مزمل اختر ﷾ (کامٹی، الہند)

حضرت مولانا سعد صاحب دامت برکاتہم

1) مولانا یوسف صاحب فرمایا کرتے تھے، ” اسباب پر نگاہ کر کے، اللہ سے امید رکھنا، کفر کا راستہ ہے۔ “
2) بیٹھ کر بات کا سننا کسی تبدیلی کا ذریعہ بنے، ورنہ تقریریں اور بیان یہ دعوت کا مزاج ہی نہیں ہے ۔
3) دعوت کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام کی نسبت پر جمع ہو نا اور اسلام کی نسبت پر بکھرنا۔
4) میرا دل چاہتا ہے اگر تین دن لگانے والا بھی اس کام کے ساتھ ہو تو اس کام کے ساتھ اس کا یقین یہ ہو کہ تربیت کا، توجہ کا، ہدایت کا، اور اللہ کی ذات کے ساتھ تعلق کے پیدا کرنے کا یہی راستہ ہے ۔
(یہ بات ملحوظ رہے اس سے مراد تبلیغی جماعت نہیں بلکہ دعوت و تبلیغ کے اعمال مراد ہیں جسے مولانا سعد صاحب دامت برکاتہم اعمالِ دعوت کہتے ہیں اور اسی کی طرف انھوں نے اشارہ کیا ہے ) 
5)  حضرت فرماتے تھے اس کام کے ساتھ مناسبت کی علامت یہ ہے کہ جس دن کوئی دعوت کا عمل چھوٹ جائے اس دن اس کو اپنی عبادت میں ایسا  ضعف اور ایسی کمزوری محسوس ہو جس طرح غذا نہ ملنے کی وجہ سے جسمانی کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ 
6) حضرت فرماتے تھے *جب مومن کا ایمان کمزور ہو آتا ہے تو نفاق کی علامتیں اسکے لیے خوبیاں بن جاتی ہیں کہ جھوٹ بول کر خوش ہو، وعدہ خلافی کرنے والوں کو عقلمند کہا جاوے، اور خیانت کرنے والے کو چست و چالاک کہا جاوے حالانکہ یہ سب نفاق کی علامتیں ہیں ۔ 
7) علامہ اقبال نے کہا  ہے نا ، مومن کی پہچان یہ ہے کہ اسکے اندر آفاق گم ہے، اور کافر کی پہچان یہ ہے کہ وہ آفاق میں گم ہے ۔ ٭
8)  اپنے عمل کو غیر اللہ سے چھپانا اخلاص ہے ۔
9) یوں آتا ہے احادیث میں کہ  جو راستوں کو تنگ کرے گا اسکو اسکے دین کی محنت کا اجر نہیں ملے گا۔
10) ہماری بات کے پہنچنے کاتو سب سے آسان راستہ دوسروں کو راحت پہچانا ہے ۔
11) ہم امت کے ہر فرد کو دعوت پر اس لئے لانا چاہتے ہیں تاکہ یہ اپنی دین کی دعوت سے اپنے دین پر قائم رہے ، کیونکہ دین پر استقامت، دین کی دعوت سے باقی رہتی ہے۔
12) جب امت دعوت الی اللہ چھوڑ دے گی تو........ سب سے پہلی جو مسلمانوں میں کمزوری پیدا ہو گی وہ یہ کہ اپنے دین کو ہلکا سمجھے گی اور اپنے دین کو دنیا کے بدلے میں بیچ دے گی۔
13) دعوت الی اللہ امت کا اجتماعی فریضہ ہے۔
14) دوسروں کی اصلاح کے لیے دعوت دینا فرض کفایہ ہے۔
15) حضرت فرماتے تھے یقین کے بننے کا راستہ دعوت ہی ہے... اسکے علاوہ یقین کے بننے کا کوئی راستہ نہیں۔
16) ایمان اتنا سیکھنا فرض عین ہے، جو مومن کو حرام سے روک دے۔
 17) یوں فرماتے تھے مولانا یوسف صاحب کہ جس بات کرنے والے کے سامنے چھ نمبر کی حقیقت نہیں ہو گی صرف چھ نمبر کا علم ہوگا، تو اس علم کی وجہ سے دوسرے کے اصلاح کی نیت ہو جائے گی، اپنی اصلاح کی نیت نہ رہے گی، جس کی وجہ سے خود اس کی اپنی دعوت سے اس کا یقین نہ بنے گا اور دوسروں پر اس کی دعوت کا اثر بھی نہ ہو گا۔
18) دعوت اپنے یقین کی تبدیلی کے لیے ہیں ۔ 
1)ایک ایمان کا مفہوم ہے. . . . . . .  ایمان کا مفہوم :- اسکی پہنچ دماغ تک ہے ۔
2) ایک ایمان کے حروف ہیں. . . . . .  ایمان کے حروف :- اسکی پہنچ کتاب تک ہے ۔
3) ایک ایمان کا بول ہے. . . . . . . . . . ایمان کے بول :- اسکی پہنچ زبان تک ہے۔
4) ایک ایمان کی آواز ہے. . . . . . . . . ایمان کی آواز :- اسکی پہنچ کانوں تک ہے ۔
5) ایک ایمان کا اخلاص ہے. . . . . .  ایمان کا اخلاص :- اسکی پہنچ دل تک ہے۔
19) یہ ایمان کی حقیقت آئے گی...
ظاہر کے خلاف بولنے سے ...
ظاہر کے خلاف سوچنے سے ...
ظاہر کے خلاف سننے سے. .  اور ...
ظاہر کے خلاف چلنے سے ...
جب تک میرے دوستو! امت کے اندر یہ باتیں عام نہ ہوں گی اس وقت تک خدا کی قسم ایمان کی حقیقت کے ملنے کی ابتداء بھی نہ ہو گی۔
٭٭٭

٭بحوالہ کلیاتِ اقبال ص۵۵۷(مدیر)
 کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے 
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق!

     

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں