پیر، 11 مارچ، 2019

بچوں کو قریب کیجیے!

محمد فیصل شہزاد ﷾ ( کراچی، پاکستان)

عربی کے چند کلمات ایک جگہ پڑھے تو ان کی جامعیت نے حیران کر دیا۔ چار کلمات پر مشتمل یہ نہایت قیمتی نصیحتیں گویا والدین کے بچوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی کلید ہیں… ذرا ملاحظہ فرمائیں:
اقتربوا من ابناکم… وشاوروھم… وحاوروھم…واکسبوھم… قبل ان تخسروھم…!
ترجمہ: تم اپنے بچوں کے قریب رہا کرو …ان سے مشورے کیا کرو… تبادلۂ خیال کیا کرو… ان کے دل جیت لو… قبل اس کے کہ تم انہیں ہمیشہ کے لیے کھو دو…!
والدین کی سب سے اول اور بڑی ذمے داری، بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت ہوتی ہے۔ بچپن اور لڑکپن کا زمانہ بے شعوری و بے خیالی کا دور ہوتا ہے۔ اس وقت بچے بڑوں کے رحم و کرم کے محتاج ہوتے ہیں۔ بچے انہی کو اپنا محسن سمجھتے ہیں جو انہیں اپنے قریب رکھتے ہیں، ان سے پیار کرتے ہیں۔ بہترین تربیت جو قربت و انسیت سے ممکن ہے، ڈانٹ ڈپٹ اور مار دھاڑ سے ہرگز ویسی ممکن ہی نہیں۔
سیرت النبی میں بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کے حسنِ سلوک کا جائزہ لیں تو آپ بہترین مربی اور بچوں پر رحم کرنے والے نظر آئیں گے۔ آپ ﷺ نے بچوں کے ساتھ نرمی، محبت، عاطفت، ملاطفت کا درس نہ صرف اپنی تعلیمات ہی کے ذریعہ دیا، بلکہ اپنے عمل سے بھی اس کا ثبوت پیش فرمایا۔
آپﷺ نے بچوں کے بچپنے کا ہر لحاظ سے خیال رکھا۔ اپنی تمام تر رفعت شان کے باوجود ان کے ساتھ کھیلے بھی اور کبھی ان پر سختی نہیں فرمائی۔ اپنے پیارے نواسوں سے آپﷺ کی محبت و شفقت کے کئی واقعات ہم سنتے پڑھتے رہتے ہیں کہ کیسے وہ عین نماز کی حالت میں بھی لاڈ سے آپ ﷺ پر سوار ہو جاتے تھے اور آپﷺ ناراض تو کیا ہوتے، ان کے لیے سجدے کو طویل فرما لیتے۔
ایک بار آپ حضرت حسن کو چوم رہے تھے۔ ایک دیہاتی نے اعتراض کرتے ہوئے گویا حیرت کا اظہار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
”اگر اللہ نے تیرے دل سے رحمت کو نکال دیا تو میں کیا کر سکتا ہوں!“
ایک بار ایک اور ایسے ہی موقعے پر جب ایک صحابی نے حیرت کا اظہار کیا تو فرمایا کہ جو شخص رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
مسلمان تو مسلمان ،حضور نے تو کفار کے بچوں کے ساتھ بھی نرمی کی تلقین فرمائی۔ ایک یہودی کا لڑکا آپ علیہ السلام کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ وہ ایک دفعہ بیمار ہو گیا۔ آپﷺ نے از خود تشریف لا کر اس کی عیادت فرمائی۔ اس بچے کے سرہانے بیٹھے، پھر اس بچے سے فرمایا: ”اسلام قبول کرو۔ “
اس بچے نے اپنے والد پر نظر ڈالی۔ والد نے بھی کہا: ”ابوالقاسم (ﷺ)کی اطاعت کرو۔“
 لہٰذا وہ بچہ مسلمان ہو گیا۔ آپﷺ یہ کہتے ہوئے نکلے:
"تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے ہیں جس نے اس کو آگ سے بچا لیا۔"
آج اس اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ہم اپنے سلوک کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ کفار اور غیر کے بچے تو الگ، ہم اپنے بچوں، اپنے خون کے ساتھ کیسا بیگانے کا سا سلوک کرتے ہیں؟
باپ کی درشت مزاجی کی وجہ سے بچہ پڑوسی انکل کے زیادہ قریب، باپ سے دور ہوتا ہے…بات بات پہ مارنا، چلانا، برا بھلا کہنا بچوں کو نہ صرف ڈھیٹ بنا دیتا ہے بلکہ ان کو ماں باپ سے دور بھی کر دیتا ہے… پھر ہوتا یہ ہے کہ بچے اس جذباتی خلا کو باہر والوں سے پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں… باہر پھرتے سفاک درندے ایسے ہی معصوموں کا شکار کرنے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں… سو وہ انہیں جھوٹی محبت کے جال میں پھانس کر ان کا جذباتی و جنسی استحصال تک کر بیٹھتے ہیں۔
گھر میں خود بچے سے متعلق امور میں بھی اس سے کوئی مشورہ نہیں ہوتا، نہ اس سے رائے لی جاتی ہے اور نہ اس کی پسند ناپسند کا خیال رکھا جاتا ہے… ہر وقت، ہر بات میں بس اپنی مرضی چلائی بلکہ باقاعدہ ٹھونسی جاتی ہے… آہستہ آہستہ والدین اور بچوں کے درمیان ایک ایسی اجنبیت کی دیوار کھڑی ہونے لگتی ہے کہ پھر بچہ کسی جذباتی کشمکش کا شکار ہو جائے، اس کے ساتھ کچھ غلط ہونے لگے تو وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی بات والدین سے شیئر نہیں کر پاتا… اور یوں یہ صورت حال کبھی خدانخواستہ ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔
یاد رکھیے …انگلی پکڑ کر چلانے والے ہاتھ جب ہاتھ چھوڑ دیں تو پھر جانے کون کون انگلیاں پکڑتا ہے اور کس کس سمت لے جاتا ہے۔ اپنے احساسات کو جھنجھوڑیے، اپنی غفلت کو دور کیجیے۔ مستقبل کے ان ہونہار نونہالوں کو اپنے سے قریب کیجیے، ان سے مشورے کیجیے، انہیں اہمیت کا احساس دلائیے، گاہے ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا کیجیے اور ان کے دل جیت لیجیے… قبل اس کے کہ انہیں ہمیشہ کے لیے کھو دیا جائے…!
اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے اور اچھے والدین بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
٭٭٭

     

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں