پیر، 11 مارچ، 2019

بریلوی عقیدہ مختارِ کل

شمشیرِ دیوبند

بریلوی دعوے : 
مولوی احمد رضا خان لکھتے ہیں:
’’حضور ﷺ ہر قسم کی حاجت روائی فرما سکتے ہیں دنیا و آخرت کی سب مرادیں حضور ﷺ کے اختیار میں ہیں۔‘‘      
     (برکات الامداد ص۸)
ایک جگہ لکھتے ہیں؛
’’احکام شریعت حضور سید عالم ﷺ کے سپرد ہیں ۔جو بات چاہیں نا جائز فرما دیں ۔جس چیز یا جس شخص کو جس حکم سے چاہیں مستثنیٰ فرما دیں‘‘
                           (الامن والعلی ص ۱۳۱)
ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’رسول کے حکم دینے سے کام فرض ہو جاتا ہے اگرچہ فی نفسہ خدا کا فرض نہ تھا ایک مباح و جائز امر تھا‘‘ 
(الامن والعلی ص ۱۳۰)
مولوی امجد علی لکھتے ہیں؛
’’حضور اقدس اللہ عزوجل کے نائب ہیں تمام جہان حضور کے تحت تصرف کر دیا گیا ہے جو چاہیں کریں جو چاہیں دیں جس سے جو چاہیں واپس لیں۔ تمام جہان میں ان کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں۔ تمام زمین انکی ملک ہے تمام جنت انکی جاگیر ہے ملکوت السموٰت و الارض حضور کے زیر فرمان جنت و نار کی کنجیاں دست اقدس میں دے دی گئیں۔ رزق و خیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں۔ احکام تشریعہ حضور کے قبضہ میں کر دئیے گئے کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لئے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں‘‘
( بہار شریعت)
مولوی احمد رضا صاحب لکھتے ہیں:
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
                 (حدائق بخشش حصہ اول ص ۲)
ایک جگہ لکھتے ہیں:
احد سے احمد اور احمد سے  تجھ کو
کن اور سب کن مکن حاصل ہے یا غوث
                 (حدائق بخشش حصہ ۲ ص ۹)
یہ تو حضرت جیلانیؒ کے اختیار بھی احمد رضا نے واضح کر دئیے۔ 
مفتی احمد یار نعیمی کہتے ہیں:
’’حضور ﷺ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ جس کے لئے چاہیں اس کی زندگی ہی میں توبہ کا دروازہ بند کر دیں کہ وہ توبہ کرے اور قبول نہ ہو اور جس کے لئے چاہیں بعد موت بھی توبہ کا دروازہ کھول دیں اور اس کو زندہ فرما کر مسلمان کر دیں۔ ‘‘
                       (سلطنت مصطفی ص۴۷)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’اس طرح اپنے مقبول انسانوں کے سپرد بھی عالم کا انتظام کیا اور ان کو اختیارات خصوصی عطا فرمائے‘‘
(جاء الحق ص ۲۰۵)
ایک اور صاحب لکھتے ہیں:
’’رسول اللہ کو پوری خدائی طاقت دی گئی ہے۔  جب ہی تو خد کی طرح مختار کل ہیں اور نائب کل‘‘
                             (شرح استمداد ص ۶)
مفتی احمد یار لکھتے ہیں:
’’خدا جس کو پکڑے چھڑائے محمد،         محمد جس کو پکڑے نہیں چھوٹ سکتا‘‘
                             (رسائل نعیمیہ ص ۱۶۴)
آپ حضرات نے رضا خانیوں کے دعوے تو پڑھ لئے اب اس کے خلاف دعوے بھی دیکھیں۔ 
مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں :
’’کلی اختیارات اور مکمل علم غیب پر خدائی دارومدار ہے‘‘
                        (مواعظ نعیمیہ ص ۲۷۳)
لیجئے یہ مفتی صاحب کا فتوی سب مولویوں پر لگ گیا جن کے دعوے آپ پڑھ چکے ہیں۔ اور سب لوگ مختار کل کا عقیدہ رکھ کے مشرک ہوئے۔؏
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
خواجہ غلام فرید صاحب جن کو بریلوی اپنا اکابر تسلیم کرتے ہیں ان سے کسی نے بارش کی دعا کے لئے عرض کیا تو فرمایا 
’’میں تو بہت چاہتا ہوں لیکن سب چیز خدا کے اختیارمیں ہے‘‘
                       (مقابیس المجالس ۸۰۸)
اسی طرح پیر مہر علی صاحب فرماتے ہیں؛
’’نہ حصولِ خیر کسی کے ہاتھ میں ہے اور نہ دفعِ ضرر کسی کے اختیار میں جو کچھ بھی ہے خداوند تعالی کے ہاتھ میں‘‘
(مہر منیر )
مفتی اقتدار نعیمی لکھتے ہیں:
’’تقدیر مبرم انبیاء کی دعا خصوصیہ سے بھی نہیں ٹلتی‘‘
                       (تفسیر نعیمی جلد ۱۶ص۲۷۳)
مولوی عبد المالک لکھتے ہیں:
’’اے محمد یہ ضروری نہیں کہ جس کو تم دوست رکھو وہ ہدایت پر آ جائے بلکہ یہ امر خدا کے اختیار میں ہے جسکو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے‘‘
                   (شرح کبیر ص ۱۰۳)
مولوی ابو الحسنات قادری لکھتے ہیں:
’’آدم علیہ السلام نے فرمایا حکم الہی کے خلاف نہ ہو گا۔ مجھے ترمیم کا کوئی اختیار نہیں۔ ‘‘
     (اوراق غم ص۷)
پیر نصیر الدین نصیر صاحب گولڑوی لکھتے ہیں:
’’اللہ کا غیر دینے پر قادر ہے نہ روکنے پر دفع ضرر پر قادر ہے نہ تحصیل نفع پر۔ کیوں کہ وہ خود امنی جانوں کے لئے کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں۔ ‘‘
                (اعانت و استعانت کی شرعی حیثیت ص۹۴)
مولانا کرم الدین دبیر صاحب جن کو بریلوی اپنا اکابر مانتے ہیں وہ لکھتے ہیں:
’’یہ مسلم امر ہے کہ موت و حیات خدا کے اختیار میں ہے کسی انسان کو اس کا اختیار نہیں دیا گیا۔ لیکن یہ شیعہ کا اعتقاد ہے کہ آئمہ اہلبیت کو موت و حیات پر کلی اختیار تھا‘‘
                       (آفتاب ہدایت۱۶۹)
تو آپ نے دیکھا کہ بریلوی حضرات لوگوں کو شیعہ بنانے پر تلے ہیں۔ 
 شیخ جیلانی ؒشیعہ کے فرقہ مفوضہ کا عقیدہ یوں لکھا ہے کہ جو مفوضہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے تدبیر خلق کا مسئلہ آئمہ کے سپرد کر دیا ہے       (غنیہ الطالبین جلد۱ ص۱۸۲ قدیم)
مولوی محمد صادق نقشبندی لکھتے ہیں:
’’سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ حضور حضرت رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوئے اور انکی آنکھوں میں آنسو تھے اور یہ کہتے تھے کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ نے اپنے چچا کو باہر پھینکا اور چچا کے بیٹے کو اندر بلایا تو آپ نے فرمایا چچا میں مامور ہوں مجھے اس امر کا اختیار نہیں۔“
(تاریخ مدینہ ص۱۱۴)
احمد رضا کے ابا لکھتے ہیں:
’’آپ نے چاہا کہ ابو طالب کی بخشش کے واسطے دعا کریں حکم آیا پیغمبر اور مسلمانوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے اگرچہ وہ ان کے رشتے دار ہوں دعا کریں استغفار کریں۔ اے عزیز وہ حاکم ہے محکوم نہیں، غالب ہے مغلوب نہیں۔ مالک ہے تابعدار نہیں۔ اگر تیری دعا قبول نہ فرماوے۔ تجھے نا خوشی اور غصے یا شکایت اور شکوے کی مجال کب ہے۔ جب خاصوں کے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جب چاہتے ہیں عطا کرتے ہیں جب چاہتے ہیں منع فرما دیتے ہیں تو تو کس شمار میں ہے کہ اپنی بات کا اصرار کرتا ہے۔ ‘‘
(الکلام الاضح ص۳۰۸)
مفتی احمد یار لکھتے ہیں :
’’آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں پہاڑ کو سونا بنانے یا خلق اشیاء پر قدرت نہیں رکھتا‘‘
                       (مواعظ نعیمیہ حصہ ۲)
مفتی مظہر اللہ لکھتے ہیں :
’’تم کو عذاب الہی سے ڈرایا جاتا ہے تو ڈھیٹ بن کر اس عذاب کی جلدی کرتے ہو وہ عذاب میرے اختیار میں نہیں وہ اللہ کے اختیار میں ہے‘‘
                    ( تفسیرمظہر القرآن جلد ۱ ص۳۸۵)
 علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں:
’’مجھے اس عذاب کے نازل کرنے یا اس کو مقدم اور مؤخر کرنے پر قدرت نہیں ہے اور اگر بالفرض یہ  معاملہ میرے اختیار میں ہوتا وہ میں تمہارے مطالبہ عذاب کو لا چکا ہوتا‘‘
                      (تبیان القرآن ص ۴۹۵ جلد ۳)
آپ نے دیکھ لیا یہ بریلوی حضرات نبی ﷺ کو تمام اختیار کا مالک نہیں مان رہے ۔ 
علامہ سعیدی لکھتے ہیں:
’’دوسری قسم وہ ہے جو نبی کا فعل نہ ہو۔ لیکن اس کا کسی وجہ سے نبی سے تعلق ہو۔ حضور ﷺ پر کلام الہی کا نزول یا پتھر کا حضرت موسی علیہ السلام کے کپڑے لے بھاگنا یہ معجزے ہیں۔ لیکن ان کے اظہار میں حضور ﷺ یا حضرت موسی علیہ السلام کے اختیارکا کوئی دخل نہ تھا‘‘
                    (مقالات سعیدی)
احمد رضا صاحب لکھتے ہیں:
’’اور اگر تم انکی ہدایت کی حرص کروتو بے شک اللہ ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کرے‘‘
(کنزالایمان النحل، نمبر ۳۷)
ایک جگہ یوں لکھا:
’’بے شک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کر دو۔ ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے‘‘
                          (کنزالایمان القصص، نمبر ۵۶)
جس ترجمہ پر ناز تھا اسی نے مسلک کی نیا ڈبو دی۔ 
بریلوی مفتی ٖفیض احمد اویسی لکھتے ہیں:
’’آپ کی لاعلمی اور عدم اختیار ثابت کرنا جاہلوں یا نبوت کے گستاخوں کا کام ہے۔ ‘‘
                    (لا علمی میں علم ص ۱۵)
 لیجیے ان منکروں پو گستاخ رسول کا فتوی لگ گیا۔ اور جو تمام اختیار مانتے ہیں ان پر مشرک اور شیعہ ہونے کے فتوے ہیں۔ 
مفتی امین صاحب فیصل آبادی لکھتے ہیں:
’’اللہ کے پیارے حبیب ﷺ کی ذات ستودہ صفات میں عیب تلاش کرنا ہو گا کہ نبی کو فلاں چیز کا علم نہیں فلاں چیز کا اختیار نہیں‘‘
                       (دو جہاں کی نعمتیں ص۳۹)
ان کے مطابق جو یہ کہے کہ نبی ﷺ کو فلاں چیز کا اختیار نہیں وہ نبی کو عیب لگاتا ہے اور نبی کو عیب لگانا کفر ہے ۔ تو ان کے فتوے سے وہ سب کافر ہوئے جن کے حوالے پیش ہوئے۔ 
آپ نے دیکھا کہ یہ بدعتی عقیدے جیسے مسئلہ پر متفق نہیں۔ کوئی ایران کی تو کوئی توران کی بات کرتا ہے۔ 

عقیدہ مختار کل پر عقلی دلائل:
۱:اگر نبی ﷺ مختار کل ہیں تو اپنے چچا کو باوجود خواہش کے ہدایت کیوں نہ دے سکے۔ 
۲:توبہ کا دروازہ کھولنا آپ ﷺ کے ہاتھ میں ہے تو کیا آپ نے کیا ابو طالب پر توبہ کا دروازہ بند کیا ہوا تھا جو وہ اسلام نہ لا سکے؟
۳:کیا نبی ﷺ کو تبلیغ رسالت چھوڑنے کا اختیار تھا؟
۴:کیا مختار کل کسی کے آگے جواب دہ ہوتا ہے؟
۵: اگر آپ ﷺ مختار کل ہیں تو مشرکوں کے لئے دعائے بخشش کیوں نہ کر سکے؟
۶:اگر نبی مختار کل تھے تو نبی ﷺ عذاب نازل کیوں نہ کر سکے؟ جب کہ
مفتی مظہر اللہ شاہ لکھتے ہیں :
’’تم کو عذاب الہی سے ڈرایا جاتا ہے تو ڈھیٹ بن کر اس عذاب کی جلدی کرتے ہو وہ عذاب میرے اختیار میں نہیں وہ اللہ کے اختیار میں ہے‘‘
                    ( تفسیر مظہر القرآن جلد ۱ ص۳۸۵)
اگر مختار کل تھے تو عذاب نازل کرنے کا اختیار نہ ہونے کا کیا مطلب؟؟
۷:مختار کل کو بھی کیا مدد اور نصرت کی ضرورت ہوتی ہے؟
۸:کیا حضور ﷺ کو حلال و حرام کرنے کا پورا اختیار حاصل تھا؟؟اگر آپ کہیں ہاں علامہ عینی ؒ صاف فرماتے ہیں 
انالتحلیل و تحریم من عند اللہ لا مدخل لبشرِ فیہ
 کہ تحلیل و تحریم میں کسی بشر کو دخل نہیں۔ 
(عمدۃ القاری جلد ۱۲ ص۷۴۵)
اب یا تو علامہ عینی کافر ہیں یا آپ سچے ہیں۔ 
٭٭٭ 

     

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں