پیر، 11 مارچ، 2019

علم اور جہل

✍ مولانا ادریس کاندھلوی﷫

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ
کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟
 (ترجمہ جالندھری- سورہ ۳۹،الزمر: ۹)

      دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ علم اور جہل برابر نہیں اور عالم وجاہل کا درجہ یکساں نہیں ہوسکتا اسی طرح یہ بھی ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ ایمان وکفر اور مومن و کافر برابر نہیں ہوسکتے۔ مگر افسوس کہ ان حقائق کو اکثر لوگ نہ سوچتے ہیں اور نہ اس سے عبرت وسبق حاصل کرتے ہیں ان چیزوں سے تو صرف وہی لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں اور جب یہ واضح اور ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ لوگ صرف وہی ہیں جن کا شیوہ اللہ کی بندگی اور فکر آخرت ہی ہے تو آپ فرما دیجئے میرے بندوں کو میری طرف سے میرا یہ پیغام اے میرے وہ بندو ! جو ایمان لائے ڈرو تم اپنے رب سے اب اس طرح کا ڈر جو اس ذات بابرکت کا حق تقوی ادا کرنے والا ہے اور اس خوف وخشیت سے تم عبادت پر دوام وپابندی اختیار کئے رکھو اور یہ سمجھ لو جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کے کام کئے واسطے بہترین بدلہ ہے آخرت میں تو یہ بدلہ ضرور ملنا ہی ہے دنیا میں بھی موجب رحمت وبرکت ہے خواہ ظاہرہ ہو یا باطنہ۔
 اور اگر جس سرزمین میں تم رہتے ہو وہاں طاعت وبندگی سے موانع ہیں تو ہجرت کرکے دوسری جگہ جا سکتے ہو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے طاعت و نیکی میں استقلال واستقامت اختیار کرو کیونکہ صبر واستقامت اختیار کرنے والوں کو اجر بےحساب دیا جاتا ہے اور ہر عمل اخلاص ہی سے بارگاہ خداوندی میں قابل اعتبار ہے تو آپ ﷺ یہ بھی کہہ دیجئے کہ مجھ کو تو اللہ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کرو ں اس طرح کہ اسی کے لئے عبادت وبندگی کو خالص کرنے والا ہوجاؤں جس میں شرک کا ادنی شائبہ بھی نہ ہو اور مجھ کو یہ بھی حکم ہو اہے کہ میں طاعت کرنے والوں میں سب سے پہلا اطاعت کرنے والا ہوں تاکہ دنیا میں خدا کا ہر مطیع وفرمانبردار بندہ میری اطاعت وفرما نبرداری ہی کو اپنے واسطے اسوہ اور نمونہ بنائے۔

 اور ظاہر ہے کہ اطاعت وبندگی خشیت خداوندی کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ کوئی نڈر غلام اپنے آقا کا کبھی فرمانبردار نہیں ہوسکتا اس لیے یہ بات بھی کہہ دیجئے میں تو ڈرتا ہوں اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں ایک بڑے دن کے عذاب سے۔ آپ اگر ان تمام باتوں کے بعد بھی ان نافرمانوں میں اللہ کی طرف رجوع کا کوئی ارادہ محسوس نہ کریں تو پھر کہہ دیجئے میں تو اللہ کی عبادت اسی طرح کرتا رہوں گا اس لئے اپنی بندگی خالص کرتے ہوئے اب تم جس کی چاہو عبادت کرلو اس کو چھوڑ کر تمہیں خود اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اس حقیقت کے پیش نظر آپ ﷺاتمام حجت کے طور پر کہہ دیں پورا خسارہ اور نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو اپنی جانوں اور اپنے اہل وعیال کو جو ان کے نقش قدم پر چلے ہلاکت اور خسارہ میں ڈالنے والے ہیں قیامت کے روز یا د رکھو یہی صریح خسارہ ہے کہ نہ انسان کو خود نجات نصیب ہوئی اور نہ اہل و عیال اور متعلقین کو راحت دیکھنا نصیب ہوئی تو اس سے بڑھ کر اور کون ساخسارہ یا تباہی ہوسکتی ہے ان لوگوں کے واسطے تو ان کے اوپر سے سائبان ہوں گے آگ کے شعلوں کے اور ان کے نیچے سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے اور یہ اوپر اور نیچے کے شعلے اس طرح ہوں گے جیسے سمندر کی موجوں کے اندر غرق انسان کے اوپر بھی موجیں اور نیچے بھی طوفانی تھپیڑے یہی تو ہے وہ عذاب جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے سو اے میرے بندو مجھ سے ڈرو اور میرے احکام کی اطاعت میں لگ جاؤ ورنہ تو نافرمانوں کے لئے جو عذاب اللہ نے تیار کر رکھا ہے اس سے کوئی نہیں بچ سکتا ۔

      اور جو لوگ شیطان سے بچتے ہیں اس بات میں کہ اس کی پرستش کریں اور اس کے کہنے پر چلیں اور انہوں نے نفس و شیطان سے منہ موڑ کر خالصتاً اپنی زندگی کا رخ اللہ کی طرف کر رکھا ہے تو آپ میرے ان بندوں کو خوش خبری سنا دیجئے جو اللہ کی بات کی طرف کان لگاتے ہیں تو جہ سے سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی ہیں وہ جن کو اللہ نے ہدایت دی اور یہی ہیں وہ جو عقل والے تو ایسے ایمان واخلاص اور توجہ سے اللہ کی باتیں سننے اور ماننے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کو حق تعالیٰ کی رضا وخوشنودی اور جنت میں ہر طرح کے انعام واعزاز کی بشارت سنا دیجئے ۔

      آیت مبارکہ ’’ امن ھو قانت ‘‘۔ کا مضمون جس میں مطیعین کی تعریف اور ان پر انعامات خداوندی کا ذکر فرمایا گیا بعینہ وہی مضمون ہے ’’ لیسوا سوآء ، من اھل الکتاب امۃ قآئمۃ یتلون ایات اللہ انآء الیل وھم ویسجدون ‘‘۔ میں گزر چکا ان کلمات سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ قنوت کا مفہوم صرف قیام نہیں بلکہ اس کے معنی خشوع کے زیادہ راجح معلوم ہوتے ہیں۔ سفیان ثوری ﷫بروایت مسروق ﷫عبداللہ بن مسعود  سے نقل کرتے ہیں کہ قانت بمعنی مطیع ہے یعنی اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی اطاعت کرتا ہو۔

’’ انآء الیل ‘‘۔ رات کے ٹکڑوں کو کہا جاتا ہے رات کی تاریکی میں عبادت باعث سکون وفرحت بھی اور موجب قرب خداوندی بھی قیام لیل اور تہجد خدا کی بارگاہ میں اس قدر محبوب عمل ہے کہ فرشتے اس عمل کو بارگاہ خداوندی میں پیش کرنے کے لئے باہم خصومت کرتے ہیں ہر ایک فرشتہ کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس عمل کو لے کر وہی سب سے پہلے بارگاہ رب العزت میں پہنچے جیسے کہ حدیث اختصام ملاء اعلی میں ذکر فرمایا گیا ۔

      شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی ﷫اپنے فوائد میں تحریر فرماتے ہیں یعنی جو بندہ رات کی نیند اور آرام چھوڑ کر اللہ کی عبادت میں لگا کبھی اس کے سامنے دست بستہ کھڑا رہا کبھی سجدہ میں گزرا ایک طرف آخرت کا خوف اس کے دل کو بےقرار کیے ہوئے ہے اور دوسری طرف اللہ کی رحمت نے ڈھارس بندھا رکھی ہے تو کیا یہ سعید بندہ اور وہ بدبخت انسان جس کا ذکر اوپر ہوا کہ مصیبت کے وقت خدا کو پکارتا ہے اور جہاں مصیبت کی گھڑی نکلی خدا کو چھوڑ بیٹھا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ہرگز نہیں! ایسا ہو تو یوں کہو کہ ایک عالم اور جاہل یاسمجھ دار اور بیوقوف میں کچھ فرق نہ رہا مگر ظاہر ہے کہ اس بات کو وہی سوچتے اور سمجھتے ہیں جن کو اللہ نے عقل دی ہے ۔
انتہی کلامہ ، ایمان کی حقیقت اور اصل روح چونکہ خوف ورجأ ہے اس وجہ سے یہاں اہل ایمان وطاعت کی یہ خصوصی صفت بیان کی گئی’’ یحذرالاخرۃ ویرجوا رحمۃ ربہ ‘‘۔ یعنی آخرت کا ڈر اور اپنے رب کی رحمت کی امید حالت عبادت میں قائم کیے ہوتے ہو کیونکہ جس طرح یہ صفت ایمان کا کمال ہے اسی طرح یہ وصف عبادت کا بھی کمال ہے۔ خوف ورجا،یہ دونوں کیفیتیں ایمان کی روح اور عبادت کے جو ہر ہیں مگر ان میں سے ایک کیفیت خوف زندگی میں غالب چاہئے اور جب انسان دنیا سے رحلت کررہا ہو تو پھر رجاء کا پلہ بھاری ہونا چاہئے کیونکہ اب وقت رجاء اور امید رحمت کا ہے اور خوف جو اصلاح عمل کے لیے ضروری تھا اب یہ انسان دارالعمل سے روانہ ہونے کی وجہ سے اس مرحلہ سے گزر چکا ہے عمل کے میدان کو عبور کرے دار الجزاء کے دروازے پر کھڑا ہے تو یہ وقت رجاء کے غلبہ کا ہے ۔

      عبد بن حمید ﷫نے باسناد انس بن مالک  یہ حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے جب کہ وہ مرض الموت کی حالت میں تھے آپ ﷺ نے اس شخص سے دریافت فرمایا بتاؤ تم اس وقت اپنے آپ کو کیسی حالت میں پارہے ہو جواب دیا :

انی ارجوا للہ واخاف ذنوبی

 کہ میں اللہ کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈر بھی رہا ہوں آنحضرت (ﷺ) نے یہ سن کر فرمایا کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ دو صفتیں کسی مومن بندہ کے قلب میں جمع ہوں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز عطا نہ فرمائے جس کی اسے امید ہے اور اس چیز سے اس کو مامون ومحفوظ نہ فرما دے جس سے وہ ڈر رہا ہے۔ (جامع ترمذی ۔ سنن نسائی )

      ابن ابی حاتم ﷫بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ البکاء ﷫نے ایک دفعہ ابن عمر ) کو .......یہ’’ امن ھو قانت انآ ء الیل ساجدا وقآئما یحذر الاخرۃ ویرجو ا رحمۃ ربہ ‘‘پڑھتے ہوئے سنا تو سن کر فرمایا یہ شخص جس کا ذکر قرآن کریم نے ان کلمات میں کیا وہ تو عثمان بن عفان  ہیں کیونکہ ان کی یہی شان تھی کہ پوری رات تہجد اور تلاوت میں گذر جاتی تھی اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہی رکعت میں پورا قرآن کریم پڑھ لیتے۔

’’ ارض اللہ واسعۃ ‘‘کے ترجمہ میں اضافہ کردہ کلمات سے یہ ظاہر کیا گیا کہ انسان اگر اپنے وطن میں عبادت نہیں کرسکتا تو پھر اس کو چاہئے کہ اس سرزمین سے ہجرت کرکے ایسی جگہ جائے جہاں اپنے رب کی اطاعت کرسکے اس تفسیر پر ماقبل سے ربط بخوبی واضح ہورہا ہے کہ اس دنیا میں نیکی کرنیو الوں کی نیکی کا بدلہ ضرور ان کو ملے گا رہا یہ کہ اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ میں تو ایسی جگہ محصور ہوں اور کفار کا غلبہ وتسلط ہے کہ اور عبادت کر ہی نہیں سکتا تو اس کو فرمایا جارہا ہے اگر یہ زمین تیرے واسطے تنگ ہے تو کیا ہوا کہیں اور چلا جا’’ ارض اللہ واسعۃ ‘‘اللہ کی زمین تو بہت وسیع ہے۔ چنانچہ مجاہد ﷫ اسکی تفسیر میں فرمایا کرتے تھے فتھاجروا فیھا وجاھدوا واعتزلوا الاوثان ، مجاہد ﷫کے اس کلمہ نے ایک لطیف اشارہ بھی کردیا مسلمانوں پر اگر کافروں کے غلبہ اور تسلط سے کوئی جگہ نیکی اور عبادت کے لئے تنگ ہے تو ہجرت کے ساتھ جہاد بھی کرو تاکہ جہاد کے ذریعہ اللہ کی وسیع زمین فتح کر و اور وہاں اللہ کا دین قائم کرو ۔

      عطاء ﷫کا قول ہے کہ جب تم کو کسی معصیت کی طرف بلایا جائے تو تم اس جگہ سے راہ فرار اختیار کرو’’ الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا ‘‘۔ اسی معنی اور حکم کو ثابت کرنے کے لئے امام بخاری ﷫نے کتاب الایمان میں ایک باب ’’ من الدین الفرار من الفتن ‘‘۔ قائم کیا ہے کہ دین کے شعبوں میں سے ایک شعبہ یہ ہے کہ فتنوں کی سرزمین سے انسان راہ فرار اختیار کرے ۔٭
٭٭٭

     

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں