پیر، 11 مارچ، 2019

جانور پسند

مدیر

عالمی حالات کے پیشِ نظر اتحادِ امت انتہائی ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ہمارے مسلکی اختلافات اور آپسی جھگڑوں کا ہماری موجودہ پستی میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔ہندوستان میں کامن سول کوڈ اور طلاق کے مسئلے پر عدالتی دخل اندازی سے ملک بھر میں مسلمان پریشان ہو گئے۔ اور درست تو یہ ہے کہ قوم کو پریشان ہونے کی بھی فرصت نہیں تھی۔ علماء ہی نے انہیں توجہ دلائی کی اللہ کے بندو تمہیں پریشان ہونا چاہیے، کہ بات پریشانی کی ہے۔ 

جمعیۃ علماء ہند کے تحت تمام مسلک کے علماءکے مشورے سے دستخطی مہم  چلائی گئی اور بڑے پیمانے پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔یہ حالات صرف ایک ملک کے نہیں، اکثر ممالک میں مسلمان ہی ستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے علماءِ کرام زور دے کر کہہ رہے ہیں کہ مسلکی اختلافات کو بھلا کر  ایک ہونے کی بات کی جائے، کہ آئندہ آنے والے چند سال امتِ مسلمہ کے لیے انتہائی پریشان کن ہو سکتے ہیں۔ ذیل کی تحریر اسی نسبت سے لکھی گئی ہے، نیز اس شمارے میں ”رد فرقِ ضالہ“ کے تحت محض ”جاری“ سلسلوں کو ختم کیا گیا ہے، کوئی نئی تحریر نہیں لی گئی، یہی وجہ ہے کہ یہ شمارہ کچھ مختصر ہے۔ اگلے شمارے سے ان شاء اللہ یہ زمرہ ہٹا دیا جائے گا۔
(مدیر)


کتے اور بلی، یہ دونوں جانور ہیں۔ میں نے ان جانوروں کو اعلیٰ قسم کی لگزری گاڑیوں میں دیکھا ہے۔کتے کی رال ٹپک رہی ہوتی ہے اور لگزری کار کی سیٹ تباہ کر رہی ہوتی ہے۔ لیکن ان ”جانور پسندوں“ کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی۔  ان کی نجاست پر وہ کہتے ہیں۔

”اوہ! کتنا شرارتی ہے نا!“

ان جانوروں کو غسل دینے کے لیے قیمتی صابن اور شیمپو  استعمال کیے جاتے ہیں۔  انہیں بیش قیمت پرفیومزلگائے جاتے ہیں۔ گلے میں عمدہ اور مہنگا ”پٹہ“ ڈالا جاتا ہے اور اس میں ایک نفیس اور گراں قیمت زنجیر ڈالی جاتی ہے جس کی قیمت سے ایک غریب خاندان کا ایک دن کا راشن آسکتا ہے۔ 

یہ کتوں اور بلیوں کو چمکارنے والی قومیں،جانوروں کے قتل کو گناہ سمجھتی ہیں اور انہیں مارنے والوں کو  وحشی گردانا جاتا ہے۔حتی کہ شیر اور چیتے جیسے درندے بھی ان کے نزدیک قابلِ رحم ہیں۔ چنانچہ انہیں مارنا بھی ان کے نزدیک قانوناً جرم ہے۔  

لیکن یہی قومیں خود وحشی بن کر  حلب کا ستیاناس کر کے رکھ دیتی ہیں۔ یہی ”رحم دل“ افراد لاکھوں کو گھر سے بے گھر کر دیتے ہیں۔ بستیاں اجاڑ دیتے ہیں۔ عبادت گاہوں کو کھنڈر بنا دیتے ہیں۔ عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
اور جب گلیوں میں خون بہتا ہے  تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ زخمیوں کی چیخیں اور سسکیاں سن کر یہ قہقہے لگاتے ہیں۔ تباہی اور بربادی کا کھیل کھیل کر یہ جشن مناتے ہیں۔

اور پھر۔۔۔

لمبی لمبی لگزری گاڑیوں میں بیٹھتے ہیں۔۔۔بازو کی سیٹ پر کتے کو بٹھا کر چمکارتے اور اس کا بوسہ لیتے ہوئے کہتے ہیں۔
”ٹام! تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں؟“

یہ کون سی قومیں ہیں جنہیں مسلمانوں کا خون جانوروں سے بھی ارزاں نظر آتا ہے؟    جو آپس میں کٹّر دشمن ہونے کے باوجود مسلمانوں کی تباہی کے لیے متحد ہو کر شانہ بشانہ دکھائی دیتے ہیں۔

ادھر یہ خون بہہ رہا ہوتا ہے، زخمی گر رہے ہوتے ہیں، لاشیں تڑپ رہی ہوتی ہیں، آہ و بکاء اور سسکیاں بلند ہو رہی ہوتی ہیں۔۔۔اور دوسری طرف انہیں کے مسلمان بھائی ایک عجیب بحث لیے، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کر  ثواب کما رہے ہوتے ہیں۔۔۔

آمین تیز کہنا چاہیے یا آہستہ؟
ہاتھ سینے پر باندھنے چاہئیں یا زیرِ ناف؟
سورہ فاتحہ کے بغیر نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
تین طلاق تین ہے یا نہیں؟
اقامت کھڑے ہو کر سننا چاہیے یا بیٹھ کر؟
تو جاہل۔۔۔تو بے وقوف۔۔۔ تیرا مناظر ڈرپوک۔۔۔ تیرا عالم ایسا۔۔۔تیرا مفتی ویسا۔۔۔

صاحبو! مدت ہو گئی ان پر جھگڑتے جھگڑتے۔ جتنے مناظرے ہونے تھے ہو چکے، جتنی تقاریر ہونی تھیں ہو چکیں۔ کتنی ہی کتب لکھی جا چکیں۔ نتیجہ کیا نکلا؟ تمہارے تین طلاق کے جھگڑے سے ان روتے بلکتے بچوں کو ان کے ماں باپ تو واپس نہیں ملے۔ ان کی فکر کون کرے گا؟

یقین کیجیے کہ اختلافات ہر زمانے میں رہے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ  ان فروعی  اختلافات  کو تاریخ میں کبھی اتنا موضوعِ بحث نہیں بنایا گیا جتنا دورِ حاضر میں بنایا گیا ہے۔ ایک فرق دونوں زمانوں میں بہت بڑا ہے۔ پہلے اختلافات کے ساتھ محبت قائم تھی، اب اختلافات کے ساتھ گالی گلوچ ہے، مار دھاڑ ہے، کینہ اور بغض ہے۔ 

ڈاکٹر ذاکر نائک پر آنے والی مصیبتوں پر کتنے ہی لوگوں کو ہم نے خود بغلیں بجاتے دیکھا۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا۔ یہ قوم عجیب ہے۔ بہت ہی عجیب۔ یہ اپنے بھائی پر آنے والی آفت پر خوشیاں مناتی ہے۔  صرف اس بناء پر کہ وہ ”دوسرے مسلک“ کا ہے۔

آج کا یہ نقشہ دیکھ کر مجھے ایک اور نقشہ یاد آتا ہے۔ 

احناف کے مدرسے میں کچھ شافعی علماء تشریف لانے والے تھے۔ آنے سے قبل ان لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا، کہ ہم احناف کے مدرسے میں جا رہے ہیں۔ وہ لوگ تو رفع یدین نہیں کرتے اور نہ ہی آمین اونچی آواز سے کہتے ہیں۔ہمارے آمین کہنے اور رفع یدین کرنے سے ان کے خشوع میں خلل ہوگا۔ کیوں نہ  ہم ان کے احترام میں احناف ہی کے طرز پر نماز ادا کریں، کہ محض افضل و غیر افضل ہی کا تو مسئلہ ہے۔

چنانچہ شافعی علماء نے طے کیا کہ وہ وہاں پہنچ کر احناف کے طرز پر نماز ادا کریں گے۔

ادھر مدرسے میں حنفی علماء نے طے کیا کہ یہ شافعی علماء آ رہے ہیں، تو ان مہمانانِ رسول ﷺ کے احترام میں ہم رفع یدین اور آمین بالجہر کے ساتھ نماز ادا کریں گے تاکہ انہیں awkward نہ محسوس ہو۔ اساتذہ نے تمام طلباء کو سمجھا دیا کہ ہمیں نماز کس طرح پڑھنی ہے۔

چنانچہ نماز کا وقت ہوا اور ایک عجیب منظر دیکھنے میں آیا۔ امام کی فاتحہ ختم ہونے پرتمام مسجد احناف کی ”آمین“ سے گونج اٹھی، جبکہ  شوافع خاموش کھڑے تھے ۔

دہشت گردی مخالف کانفرنس، ۲۰۰۸ء میں دیوبند میں ہوئی تھی۔ اس میں تمام مسالک سے علماء جمع ہوئے تھے۔ وہاں کا پیغام بہت واضح تھا۔ بہت کچھ Between the lines٭تھا، لیکن پیغام بالکل صاف تھا۔” کون کہتا ہے کہ آپ دیوبندی ہو تو بریلوی ہو جاؤ؟ اہلِ حدیث ہو تو جماعتِ اسلامی میں شامل ہو جاؤ ۔شوق سے اپنے مسلک پر جمے رہو۔ تحقیق کر کے  پورے شرحِ صدر کے ساتھ اپنے مسلک پر قائم رہو کہ یہ حق ہے۔ لیکن خدارا! جب بات کفار و مشرکین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی آئے، اور ان کی سازشوں کو بے نقاب کرنے کی نوبت آئے، تب سارے کے سارے بنیان مرصوص بن کر طاغوتی قوتوں کو چیلنج دو۔۔۔کہ ہمارے جھگڑے اپنی جگہ، لیکن اگر تم نے اسلام کی پیاری تعلیمات کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی تو ہم آپسی اختلافات کو دفن کرکے، پہلے تمہیں دفن کر دیں گے۔“

[٭ بین السطور، وہ بات جو الفاظ میں  غیر مبہم طریقے سے explicitly نہ کہی جائے۔]

 مولانا انظر شاہ قاسمی کی گرفتاری کے بعد علماءِ اہلِ حدیث نے باقاعدہ مل کر ان کی گرفتاری کی مذمت کی تھی۔ اور یہ جملہ کہا تھا۔

”ہمارے مسلکی اختلافات ایک طرف۔ یہ  اختلاف ہمارے گھر کی بات ہے۔“

دیکھو میرے پیارو!سالہاسال سے یہ جھگڑے چل رہے ہیں، ختم نہیں ہوئے۔ ان سے اپنی توجہ ہٹاؤ۔  پھر کبھی فرصت ملی تو جھگڑ لینا۔ لیکن ابھی حالات کا تقاضا ہے کہ۔۔۔

ایک ہو جاؤ تو بن سکتے ہو خورشیدِ مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے
متحد ہو تو بدل ڈالو زمانے کا نظام
منتشر ہو تو مرو! شور مچاتے کیوں ہو

فقیرشکیبؔ احمدعفی عنہٗ
بروز جمعہ، ۹:۱۷ بجے رات
٭٭٭

     

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں