جمعرات، 14 فروری، 2019

فضائلِ اعمال پر اعتراضات کا جواب فضائلِ اعمال سے

”سربکف “مجلہ۶(مئی، جون ۲۰۱۶)
عبد الرحمٰن بجرائی شافعی ﷾

بسم اللہ الرحمن الرحیم
فضائلِ اعمال حضرت شیخ الحدیث کی لکھی ہوئی مختلف کتابوں کا مجموعہ ہے، جن میں حضرت شیخ الحدیثؒ کی تحقیق اور قرآن کریم کی آیات کی تفسیر و احادیثِ شریفہ کی شرح موجود ہے۔ فضائلِ اعمال پر بعض احباب تنقید کرتے ہیں اور اس پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں جن کے جوابات بھی بہت سے دئے گئے ہیں۔ خود شیخ الحدیثؒ نے بھی بعض اعتراضات کے جوابات دئے ہیں جو کتابی شکل میں موجود ہے، نیز دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ تخصص فی الحدیث کے استاذ حضرت مولانا مفتی عبد اللہ معروفی صاحب دامت برکاتہم نے بھی ایک عمدہ کتاب ”فضائلِ اعمال پر اعتراضات کا اصولی جائزہ“ تحریر فرمائی۔ نیز اس سلسلہ کی سب سے اہم کاوش ”تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل اعمال“ جو عربی میں ہے اس کا اردو ترجمہ ”تصحیح الخیال“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اعتراضات کے جوابات کی سب سے اہم کڑی اور سب سے اہم کام حضرت مولانا الیاس گھمن صاحب دامت برکاتہم عالیہ نے ویڈیو کی شکل میں دیا جس سے بہت سے اعتراضات کی ہوا نکل گئی۔
ایک قاعدہ یاد رکھنا چاہئے کہ نفسِ اعتراض بذاتِ خود بری شے نہیں ہے بلکہ اعتراض کا حق تو سب کو حاصل ہے لیکن اعتراض حسد اور تنقیص پر مبنی نہ ہو، بلکہ جب اعتراض کا جواب مل جائے تو اسے قبول کر لینا چاہئے نہ کہ اسی پر اصرار کرنا چاہئے۔
خیر! ہم ہمارے اس مضمون میں ان شاء اللہ فضائلِ اعمال پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کا جواب فضائلِ اعمال سے ہی دیں گے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ غور سے تعصب کا چشمہ اتار کر اسے پڑھئے ان شاء اللہ اعتراضات دفع ہو جائیں گے۔
بنیادی طور پر فضائلِ اعمال پر جتنے اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کو ہم دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں
۱۔ ضعیف و من گھڑت روایات
۲۔قصے کہانیاں
۱۔ ضعیف و من گھڑت روایات:- جہاں تک ضعیف اور من گھڑت روایات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں قاری کو چاہئے کہ کوئی بھی اصول حدیث کی کتاب پہلے پڑھ کر سمجھ لے کہ ضعیف حدیث کیا ہوتی ہے اور من گھڑت(موضوع) حدیث کیا ہوتی ہے۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق آپ کو ملے گا۔
فضائلِ اعمال میں احادیثِ صحیحہ کے ساتھ ساتھ احادیث ضعیفہ بھی ان کے ضعف کی وضاحت کے ساتھ موجود ہیں۔ سند پر تفصیلی کلام حضرت شیخ الحدیثؒ نے عربی میں کیا ہے جیسا کہ حضرتؒ نے خود اس کی وضاحت فرمائی ہے۔
فضائلِ نماز کے مقدمہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ تحریر فرماتے ہیں:
”چونکہ نماز کی تبلیغ کرنے والے اکثر اہلِ علم بھی ہوتے ہیں اس لئے حدیث کا حوالہ اور اس کے متعلق جو مضامین اہلِ علم سے تعلق رکھتے تھے وہ عربی میں لکھ دئے گئے ہیں کہ عوام کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور تبلیغ کرنے والے حضرات کو بسا اوقات ضرورت پڑ جاتی ہے اور ترجمہ و فوائد وغیرہ اردو میں لکھ دئے گئے ہیں۔“
] فضائل نماز مقدمہ ص 5[
ایک جگہ چالیس احادیث کے جمع کرنے کی فضیلت پر کلام کرتے ہوئے فضائلِ قرآن مجید کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں:
”مناوی کہتے ہیں میری امت پر محفوظ کرلینے سے مراد ان کی طرف نقل کرنا ہے۔ سند کے حوالے کے ساتھ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ مسلمانوں تک پہنچانا ہے اگرچہ وہ برزبان یاد نہ ہوں نہ ان کے معنی معلوم ہوں، اسی طرح چالیس حدیثیں بھی عام ہیں کہ سب صحیح ہوں یا حَسن یا معمولی درجہ کی ضعیف جن پر فضائل میں عمل جائز ہو۔ “
] فضائلِ قرآن مجید، مقدمہ ص 4[
فضائلِ نماز کے بالکل اختتام پر حضرت شیخ الحدیثؒ متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اخیر میں اس امر پر تنبیہ بھی ضروری ہے کہ حضراتِ محدثین رضی اللہ عنہم اجمعین کے نزدیک فضائل کی روایات میں توسّع ہے ا ور معمولی ضعف قابلِ تسامح (ہے)...... “
] فضائلِ نماز،  آخری صفحہ [
ایک جگہ حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”محدثین کو اس کے بعض رواۃ میں کلام ہے لیکن اول تو فضائل میں اس قدر کلام قابل تحمل ہے۔ دوسرے اس کے اکثر مضامین کی دوسری روایات مؤید ہیں۔“
] فضائل رمضان فصل اول حدیث نمبر ۱ فائدہ ص 5[
اسی طرح اکثر جگہ آپ ضعیف حدیث کے متعلق فضائلِ اعمال میں محدثین کے ان اصول کی وضاحت پائیں گے اور جو حدیث صحیحین یعنی بخاری و مسلم کے علاوہ ہو اکثر جگہ حضرت شیخ الحدیثؒ کا اس پر آپ کو عربی میں کلام ملے گا جیسا کہ حضرت نے وضاحت فرما دی تھی۔
اب ان تصریحات کے بعد یہ اعتراض بالکل رفع ہو جاتا ہے کہ فضائلِ اعمال میں ضعیف و من گھڑت روایات موجود ہیں۔ کیوں کہ حضرت نے ضعیف احادیث فضائل میں لینے کے متعلق محدثین کی تصریحات بیان فرما دیں، اور من گھڑت روایات ہمارے علم میں تو فضائلِ اعمال میں نہیں ہے اگر کوئی اس کے من گھڑت ہونے کا دعویٰ کرے تو وہیں اس کا عربی متن دیکھ لیں ان شاء اللہ وضاحت مل جائے گی۔
۲۔ قصے کہانیاں:- اب دوسرا اعتراض یہ رہ جاتا ہے کہ اس میں قصے کہانیاں ہیں اور یہ کامک بک (Comic Book) ہے، اس میں ایسے واقعات ہیں جو ہماری عقل میں نہیں آتے، کیلکولیٹر(Calculator) کام کرنا بند کر دیتے ہیں، بعض جگہ طنز کرتے ہوئے یہ کہنا کہ یہ تو ورلڈ ریکارڈ ہے وغیرہ وغیرہ۔
یہ انداز دنیا داروں کا تو ہو سکتا ہے مگر اہلِ علم یا دینداروں کا نہیں ہو سکتا۔ آئیے اس سلسلہ میں بھی فضائلِ اعمال سے ہی ان واقعات کے متعلق چند تصریحات ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
حضرت شیخ الحدیثؒ نے واقعات کا ذکر فضائلِ اعمال میں کیوں کیا اس کی وضاحت کرتے ہوئے فضائلِ درود میں فرماتے ہیں:
”درود شریف کے بارے میں اللہ تعالیٰ شانہ کے حکم اور حضور اقدس ﷺ کے پاک ارشادات کے بعد حکایات کی کچھ زیادہ اہمیت نہیں رہتی۔ لیکن لوگوں کی عادت کچھ ایسی ہے کہ بزرگوں کے حالات سے ترغیب زیادہ ہوتی ہے، اسی لئے اکابر کا دستور اس ذیل میں کچھ حکایات لکھنے کا بھی چلا آ رہا ہے۔“
] فضائلِ درود پانچویں فصل ص 82 [
صوفیائے کرام رحمہم اللہ کے واقعات کی حقیقت و درجہ بتاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
"اخیر میں اس امر پر تنبیہ بھی ضروری ہے کہ حضراتِ محدثین رضی اللہ عنہم اجمعین کے نزدیک فضائل کی روایات میں توسّع ہے ا ور معمولی ضعف قابلِ تسامح… باقی صوفیائے کرام رحمہم اللہ کے واقعات تو تاریخی حیثیت رکھتے ہی ہیں اور ظاہر ہے کہ تاریخ کا درجہ حدیث کے درجہ سے کہیں کم ہے۔ "
] فضائلِ نماز ص 88 [
اسی طرح صوفیائے کرام رحمہم اللہ کے واقعات و کرامات پر جو عقل میں نہیں آتے کہا جاتا ہے اس کے متعلق بڑی ہی اہم بات حضرت شیخ الحدیثؒ نے تحریر فرمائی ہے:
”ساری رات کو بے چینی اور اضطراب یا شوق و اشتیاق میں جاگ کر گزار دینے کے واقعات کثرت سے ہیں کہ ان کا احاطہ ممکن نہیں۔ ہم اس لذّت سے اتنے دُور ہو گئے ہیں کہ ہم کو ان واقعات کی صحت میں بھی تردد ہونے لگا ، لیکن اوّل تو جس کثرت اور تواتر سے یہ واقعات نقل کئے گئے ہیں ان کی تردید میں ساری ہی تواریخ سے اعتماد اٹھتا ہے کہ واقعات کی صحت کثرتِ نقل ہی سے ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے ہم لوگ اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کو آئے دن دیکھتے ہیں جو سینما اور تھیٹر میں ساری رات کھڑے کھڑے گزار دیتے ہیں کہ نہ ان کو تعب ہوتا ہے ، نہ نیند ستاتی ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ایسے معاصی کی لذّتوں کا یقین کرنے کے باوجود ان طاعات کی لذّتوں کا انکار کریں، حالانکہ طاعات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے قوت بھی عطا ہوتی ہے۔ ہمارے اس تردّد کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہم ان لذّتوں سے ناآشنا ہیں اور نابالغ بلوغ کی لذّتوں سے ناواقف ہوتا ہی ہے۔ حق تعالیٰ شانہ اس لذّت تک پہنچا دیں تو زہے نصیب۔“
] فضائلِ نماز ص 87 [
حضرت شیخ الحدیثؒ کی ان تصریحات سے تمام اعتراضات رفع ہو جاتے ہیں کہ ان واقعات کی حقیقت و حیثیت تاریخی ہے اور وہ حدیث سے بہت زیادہ کم درجہ رکھتی ہے اور جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ عقل میں بات نہیں آتی وہ دنیا دار سینیما ، فون اور رات میں گپ شپ کرنے والوں کو دیکھ لیں کہ وہ نافرمانی کے کاموں میں بشاشت کے ساتھ راتیں گذار دیتے ہیں تو کیا اللہ کی اطاعت میں کوئی ایسا نہیں کر سکتا ؟
ایسی تصریحات کو فضائلِ اعمال میں بہت سی جگہ ملے گی۔
اب ہمارے اس مضمون کو حضرت شیخ الحدیثؒ کی ہی تصریحات میں سے چند جو فضائلِ حج کے آخر میں مذکور ہیں سے ختم کرتے ہیں:
”عشاق اور مخلصین کے واقعات کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا، پورے چودہ سو سال میں سے ہر سال میں کتنے عُشاق اور مخلصین ایسے ہوں گے جن کے عجیب واقعات گذرے، کوئی لکھے تو کہا تک لکھے، ستر(70) کا عدد احادیث میں بھی کثرت پر دلالت کرتا ہے، اس لئے اسی عدد پر اس سلسلہ کو ختم کرتا ہوں البتہ ان واقعات میں تین امر قابلِ لحاظ ہیں:-
(۱)اول یہ کہ یہ احوال اور واقعات جو گذرے ہیں وہ عشق اور محبت پر مبنی ہیں اور عشق کے قوانین عام قوانین سے بالاتر ہیں......“
] فضائل حج ص 287 [
کچھ آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں...
”لہذا ان واقعات کو اسی عینک سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس رنگ میں رنگے جانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ لیکن جب تک عشق پیدا نہ ہو اس وقت تک نہ تو ان واقعات سے استدلال کرنا چاہئے اور نہ ان پر اعتراض کرنا چاہئے، اس لئے کہ وہ عشق کے غلبہ میں صادر ہوتے ہیں، امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص محبت کا پیالہ پی لیتا ہے وہ مخمور ہو جاتا ہے اور جو مخمور ہوتا ہے اس کے کلام میں بھی وسعت آ جاتی ہے، اگر اس کا وہ نشہ زائل ہو جائے تو وہ دیکھے کہ جو کچھ اس نے غلبہ میں کہا ہے وہ ایک حال ہے حقیقت نہیں اور عُشّاق کے کلام سے لذت تو حاصل کی جاتی ہے اس پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔(احیاء 3)
(۲) دوسرا یہ ہے کہ ان قِصّوں میں اکثر مواقع میں توکل کی وہ مثالیں گذری ہیں جو ہم جیسے نا اہلوں کے عمل تو درکنار ذہنوں سے بھی بالاتر ہیں، ا ن کے متعلق یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ توکل کا مُنتہا یہی ہے جو ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ پسندیدہ بھی ہے اور اس کے کمال پر پہنچنے کی سعی اور کم سے کم تمنا تو ہونا ہی چاہئے لیکن جب تک یہ درجہ حاصل نہ ہو اس وقت تک ترکِ اسباب نہ کرنا چاہئے۔“
پھر اس کی تشریح احادیث و علماء کے کلام سے فرمائی اور مثالوں کا ذکر فرمایا اور ان پر جو اعتراضات ہوتے ہیں ان کو رفع کیا اور پھر ص 293 میں تیسری بات ذکر کی...
”(۳) تیسری بات جو ان واقعات میں قابلِ لحاظ ہے اور وہ بھی حقیقت میں پہلے ہی بات پر مُتَفرّع ہے، وہ یہ ہے کہ بعض واقعات میں ایسی شِدّت ملتی ہے جو سرسری نظر میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور بظاہر یہ ناجائز معلوم ہوتا ہے، اس کے متعلق یہ بات ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ یہ واقعات بمنزلہ دوا کے ہیں اور دوا میں طبیب حاذق(ماہر ڈاکٹر) بعض اوقات سنکھیا بھی استعمال کرایا کرتا ہے، لیکن اس کا استعمال طبیب کی رائے کے موافق ہو تو مناسب ہے، بلکہ بسا اوقات ضروری لیکن بدون اس کے مشورے کے ناجائز، اور مُوجبِ ہلاکت، اسی طرح ان واقعات میں جن حاذِق طبیبوں نے ان دواؤں کا استعمال کیا ہے ان پر اعتراض اپنی نادانی اور فن سے ناواقفیت پر مبنی ہے، لیکن جو خود طبیب نہ ہو اور کسی طبیب کا اس کو مشورہ حاصل نہ ہو اس کو ایسے امور جو شریعتِ مطہر ہ کے خلاف معلوم ہوتے ہوں اختیار کرنا جائز نہیں ہیں، البتہ فن کے ائمہ پر قواعد سے واقف لوگوں پر اعتراض میں جلدی کرنا بالخصوص ایسے لوگوں کی طرف سے جو خود واقفیت نہ رکھتے ہوں غلط چیز ہے، اور ہلاکت میں اپنے آپ کو ڈالنا ہر حال میں ناجائز نہیں ہے، ا گر دینی مصلحت اس کی متقاضی ہو تو پھر مباح سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔“
] فضائل حج باب ان واقعات کے متعلق ضروری تنبیہات 287 تا 294آخر [
پھر حضرت شیخ الحدیثؒ نے وہیں پر احادیث پیش کر کے اپنے اوپر کے کئے گئے بیان کی وضاحت کی ہے، صفحہ 287 سے آخر تک آپ غور سے پڑھ لیں گے تو بہت سی باتیں سمجھ میں آ جائیں گی۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دین کی صحیح فکر و سمجھ عطا فرمائے اور ہمارا ایمان پر خاتمہ فرمائے اور حضرت شیخ الحدیثؒ کے درجات کو بلند فرمائے اور قبر کو نور سے منور فرمائے۔
آمین!
٭٭٭


     

ردِّقادیانیت کورس ( قسط۔۴).

”سربکف “مجلہ۶(مئی، جون ۲۰۱۶)
 منظور احمد چنیوٹی ﷫


اب ہم مرزا کے چند ایک جھوٹ پیش کرتے ہیں اس کے کذبات کا کما حقہ احاطہ کرنا کارے دارد ہے ۔ ہم نمونے کے طور پر چند اکاذیب مرزا بیان کریں گے۔
٭جھوٹ نمبر ۱
’’ اولیا ء گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی ہے کہ وہ (مسیح موعود۔ ناقل) چودہویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔‘‘
(اربعین نمبر ۲ص۲۳ طبع چناب نگر(ربوہ) ، روحانی خزائن ج۱۷ ص۳۷۱)
﴿مطبع قادیان میں انبیاء کا لفظ ہے بعد کے ایک ایڈیشن میں یہ وضاحت کی گئی کہ یہ لفظ غلطی سے لکھا گیا اور اب نئے ایڈیشن میں یہ وضاحت بھی حذف کر دی گئی ہے ﴾
اولیا ء جمع کثرت ہے او ر جمع کثرت دس سے اوپر ہوتی ہے اس لئے کم از کم دس معتمد اولیاء کے نام پیش کرو جنہوں نے بذریعہ کشف مہر لگائی ہو اور ولی ایسا ہو جس کو دونوں فریق صحیح ولی مانیں ۔ ہم کہتے ہیں کہ مرزا کا یہ سفید جھوٹ ہے کسی مسلمہ ولی نے اس بات کی تصریح نہیں کی کہ مہدی چودہویں صدی میں ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا ۔ یہ تمام اولیاء کرام پر جھوٹ ہے ۔
٭جھوٹ نمبر ۲
’’ اے عزیزو تم نے وہ وقت پا یا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کیلئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی ۔‘‘ 
(اربعین نمبر ۴ ص ۱۳،روحانی خزائن ص۴۴۲ ج۱۷)
یہ بھی بالکل صاف جھوٹ ہے کسی ایک پیغمبر سے یہ خواہش کرنا ثابت نہیں ہے ۔
ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین ۔
٭جھوٹ نمبر ۳
’’ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توراۃ کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی بلکہ مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے ۔‘‘
 (کشتی نوح ص ۵، روحانی خزائن ص۵ ج۱۹)
اسی عبارت کے متعلق اسی صفحہ پر حاشیہ لکھا :
’’ مسیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کی کتابوں میں موجود ہے :زکریا باب ۱۴ آیت ۱۲بائبل ۸۹۱، انجیل متی باب ۲۴ آیت ۸، مکاشفات باب ۲۲ آیت ۸،عہد نامہ جدید ص۲۵۹۔‘‘
اس عبارت میں ایک جھوٹ نہیں بلکہ خدا تعالی کی چار آسمانی کتابوں پر چار عدد جھوٹ ہیں ۔ مذکورہ کتب کے مذکورہ صفحات پر ہر گز مسیح موعود کے وقت طاعون کے پڑنے کا ذکر نہیں ہے ۔
مرزا ئی عذر:
جب مرزائیوں سے سوا ل کیا جا تا ہے کہ قرآن مجید میں مسیح موعود کے وقت طاعون پڑنے کا ذکر کہاں ہے تو مرزا ئی جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید کی اس آیت میں مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑنے کا ذکر ہے اور یہ آیت پڑھتے ہیں :
’’ وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَاۗبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ……الخ‘‘ (پ۲۰ ، سورۃ النمل آیت ۸۲)
اور کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب نزول مسیح ص۳۸،۳۹،۴۰ ، روحانی خزائن ص۴۱۶تا ۴۱۸ ج ۱۸ میں اس ’’دابۃ الارض ‘‘ سے مراد طاعون لیا ہے اور مرزائی اس آیت کو طاعون پر اس طرح چسپاں کرتے ہیں کہ دابۃ الارض سے مراد چوہا ہے جو زمین سے نکلے گا اور تُكَلِّمُهُمْ کا مطلب ہے کہ ان کو کاٹے گا۔
جواب اول:
کسی مفسر ، کسی محدث،کسی مجدد نے یہاں دابۃ سے مراد طاعون اور طاعون کا چوہا نہیں لیا ، یہ مرزا کا اپنا افترا ء ہے ہم بلا خوف تردید قادیانی امت کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ تیرہ صدیوں کے کسی مجدد کا نام پیش کریں جس نے اس آیت میں دابۃ الارض سے مراد طاعون لیا ہو ۔
جواب ثانی :
اگر بالفرض تمہاری یہ من گھڑت تفسیر مان بھی لی جائے تو اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ طاعون مسیح موعود کے وقت میں پڑے گا؟ تقریب تام نہیں ہے ۔
جواب ثالث:
خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اس آیت کی متعدد تفسیریں بیان کی ہیں۔ اپنی کتاب ازالہ اوہام ج۲ ص۲۰۹ ، روحانی خزائن ص۳۷۰ ج۳ پر لکھتا ہے :
’’ وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَاۗبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ ……الخ‘‘
﴿ سورہ ۲۷ ، اَلنمل: ۸۲﴾
یعنی جب ایسے دن آئیں گے جب کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقرر قریب آ جائے تو ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی وہ علما ء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اور فلسفہ میں ید طولیٰ ہوگا۔‘‘
اس عبارت میں خود مرزا نے دابۃ الارض سے مراد متکلمین و علماء ظاہر لئے ہیں ۔ معلوم ہوا دابۃ الارض سے مراد طاعون و طاعون کا چوہا نہیں ہے ۔
اسی طرح اپنی کتاب’ حمامۃ البشریٰ ‘ میں دابۃ الارض سے مراد علماء سوء لیا ہے :
’’ ان المراد من دابۃ الارض علماء سوء الذین یشھدون باقوالھم ان الرسول حق والقرآن حق ثم یعملون الخبائث ویخدمون الدجال کان وجودھم من الجزئین جزء مع الاسلام وجزء مع الکفر اقوالھم کاقوال المومنین وافعالھم کافعال الکافرین فاخبر رسول اﷲ ﷺ عن ان ھم یکثرون فی آخر الزمان وسموا دابۃ الارض لانہم اخلدو الی الارص وما ارادوان یرفعوا الی السماء ……الخ ‘‘ 
(حمامۃ البشریٰ ص۸۶، روحانی خزائن ص۳۰۸ج۷ )
یہاں مرز ا صاحب نے دابۃ الارض سے مراد علماء سوء یعنی منافقین کو لیا ہے پھر اس سے مراد طاعون کا چوہا کیسے ہو گیا ، کہاں علماء سوء کہاں علماء متکلمین اور کہاں طاعون کا چوہا، اور یہ تین اقوال آپس میں متضاد ہیں ۔ ایک ہی آیت کی تین تفسیریں مرز ا صاحب کے کذاب اور منافق ہونے کی واضح دلیل ہیں اور مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ جاہل ، پاگل ، مجنون منافق کے کلام میں تضاد ہوتا ہے ۔( ست بچن ص۳۱، روحانی خزائن ص ۱۴۳ج۱۰) معلوم ہوا کہ خود مرزا صاحب جاہل ، پاگل ، مجنون اور منافق ہیں۔
مذکورۃ الصدر حمامۃ البشریٰ کی عبارت میں ایک او ر جھوٹ بھی ہے کہ یہ ’’فاخبر رسول اﷲ ﷺ ‘‘ سے شروع ہوتا ہے ہم پوچھتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہ کس حدیث میں خبر دی ہے وہ حدیث پیش کریں ۔ یہ حضور ﷺ پر صریح افتراء اور بہتان ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا :
’’ من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعد ہ من النار ‘‘
’’ یعنی جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا پس وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے ‘‘
لہذا یہ جھوٹ بول کر بھی مرزا جہنمی ہوا۔
٭جھوٹ نمبر ۴:
’’ ہمارے نبی اکرم ﷺ نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا مگر عیسی علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توراۃ پڑھی تھی ……۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن و حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا سو میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن و حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہویا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہو۔‘‘
(ایام صلح ص۱۴۷، روحانی خزائن ص۳۹۴ ج ۱۴)
یہ صریح جھوٹ ہے ۔ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام نے کون سے مکتبوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کی ؟ یہ ان انبیا ء پر صریح الزام ہے ، قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت کرو کہ حضرت عیسیٰ نے کون سے یہودی عالم سے توراۃ پڑھی تھی ۔ حالانکہ قرآن پاک میں ہے ’’ ویعلمہم الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ‘‘ یعنی میں خود ان کو تعلیم دوں گا اسی طرح قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے:
’’ واذاعلمتک الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ‘‘
 اور جب میں نے کتاب اور حکمت توراۃ و انجیل سکھائی۔ (پ۷ سورۃ المائدۃ آیت ۱۱۰ رکوع ۱۰)
اس میں بھی تعلیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے آگے جو اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میرا یہی حال ہے ……الخ ۔یہ بھی صاف جھوٹ ہے ہم ثابت کرتے ہیں کہ مرزا کے متعدد اساتذہ تھے۔ کتاب البریۃ ص۱۶۱ تا ۱۶۳،روحانی خزائن ص۱۸۰ ۔ ۱۸۱ ج۱۳ کے حاشیہ پر اس کے اپنے ہاتھوں سے اس کی تعلیم کا حال موجود ہے جیسا کہ شروع میں گذر چکا ہے۔٭
مرزائی عذر :
مرزائی ان ہر دو حوالوں میں تاویل کر کے تطبیق کرتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ نہیں ہے جو پڑھا ہے اس سے مراد قرآن کے ظاہری الفاظ ہیں اور جہاں لکھا کہ نہیں پڑھا اس سے مراد معارف و معانی ہیں۔
جواب
یہ تاویل درج ذیل متعدد وجوہ سے غلط ہے :
وجہ اول:
مرزا غلام احمد نے اپنے حال کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حال سے تشبیہ دی ہے کیا حضور ﷺ نے بھی ظاہری الفاظ کسی استاد سے پڑھے تھے؟ یہ اس کا تشبیہ دینا بتا رہا ہے کہ وہ خود یہاں ظاہری الفاظ و معانی وغیرہ کا فرق مراد نہیں لے رہا ۔
وجہ ثانی :
اس سے معارف و معانی مراد لینا غلط ہے کیونکہ اس نے خود تین چیزیں بیان کیں :
 ۱) قرآن ۲) حدیث ۳) تفیسر 
معارف و معانی تو تفسیر میں ہوتے ہیں یہ اس کا علیحدہ علیحدہ بیان کرنا یعنی ایک جگہ قرآن بولنا اور آگے تفسیر بولنا اس پر دال ہے کہ وہ ظاہری الفاظ و معارف دونوں کی نفی کر رہا ہے کہ دونوں میں میرا استاد کوئی نہیں ۔
وجہ ثالث:
اس عبارت میں یہ تاویل کرنا کہ اس سے مراد معارف و معانی ہیں ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس میں اس نے قسم اٹھائی ہے ’’ سو میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں ……الخ‘‘ او ر قسم میں ظاہر معنی مراد ہوتا ہے وہاں تاویل استثناء وغیرہ نہیں چل سکتے مرزا صاحب نے خود قسم کے متعلق اصول بیان کیا ہے ،یہ بڑا اہم اصول ہے جو ہمیں نزول مسیح کی احادیث میں بھی کام دے گا ۔ جہاں نبی کریم ﷺ نے قسم اٹھا کر ایک مضمون بیان فرما یا ہے اسی طرح یہاں بھی یہ اصول کام دے گا اور ایک جگہ مرزا کا ایک مرید مرزا کی صفت میں یہ شعر کہتا ہے :
 خدا سے تو خدا تجھ سے ہے واﷲ
ترا رتبہ نہیں آتا بیاں میں
مرزائی اس کی تاویل کرتے ہیں مگر چونکہ یہاں اس نے واﷲ کے لفظ سے قسم اٹھا دی اس لے تاویل نہیں چل سکے گی اس طرح یہ اصول بیشمار مواقع میں کام دے گا اصول یہ ہے :
’’ والقسم یدل علی ان الخبر محمول علی الظاھر لاتاویل فیہ ولا استثناء والا فای فائدۃ کانت فی ذکر القسم ‘‘
(حمامۃ البشریٰ ص۲۶ حاشیہ روحانی خزائن ص۱۹۲ج۷)
علاوہ ازیں خود مرزا صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ تمام انبیا ء کا کوئی استاد اور اتالیق نہیں ہوتا :
 ’’اور تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا۔‘‘
( دیباچہ براہین احمدیہ ص ۷ روحانی خزائن ج۱ ص۱۶)٭
(جاری ہے...) 
٭٭٭

     

رفض و شیعت کا موجد ابن سبا ایک یہودی (تیسری اور آخری قسط).

”سربکف “مجلہ۶(مئی، جون ۲۰۱۶)
سرونٹ آف صحابہ

حصہ سوم
شیعہ اعتراض ابن سبا کا وجود ہے لیکن شیعت کا بانی یہ نہیں ہے
جو شیعہ یہ بات مانتے ہیں کہ ابن سبا کا وجود ہے تووہ یہ نہیں مانتے کہ شیعت کا موجد یہ ہے ہم سنی جب یہ کہتے ہیں کہ ابن شیعت کا بانی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ایسی جماعت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو کہ اہل بیت سے محبت کرتی ہے بلکہ ہم اس کی نشاندہی کر رہے ہیں جو رافضی ہیں اور منافقانہ عقائد رکہتے ہیں یعنی ابو بکر و عمر رضوان اللہ کو کافر کہنا ، قیامت سے پہلے امام کا واپس آنا اور ولایت تقوینیہ پر ایمان رکھنا وغیرہ۔ 
شیعوں کا یہ ٹولہ کم سے کم اس حد تک اپنے بڑوں کی عزت کرتا ہے کہ وہ اپنی کتب میں موجود ابن سبا یہودی کا انکارنہیں کرتا پر وہ اس بات کو رد کرتے ہیں کہ شیعت کا ابن سبا یا سبائی گروہ سے کوئی تعلق ہے وہ اس کے ثبوت میں آپ کو محمد بن حسن طوسی (رافضیوں کا مشہور عالم متوفی 460) کا حوالہ دیتے ہیں کہ وہ خود ابن سبا یہودی کو کافر مانتے ہیں۔ 
رجال طوسی ص 75 نمبر 718
طوسی کہتا ہے ابن سبا کافر ہوگیا تھا اور وہ غلت میں پڑ گیا تھا۔ 
یہ رافضی الکاشی کی صحیح روایات بھی پیش کرتے ہیں حوالہ کے طور پر جس میں اماموں نے ابن سبا یہودی پر لعنت کی ہے وہ اسی بنا پر ہی مانتے ہیں کہ ابن سبا یہودی کا وجود تھا لیکن شیعہ مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ابن سبا یہودی ایسا آدمی ہے جس کو لعنت کی گئی ہے اماموں کی طرف سے کیونکہ اس نے امیر المومنین علی   کی امامت کے بجائے ان کے رب ہونے کی پرچار شروع کردی۔

یہ لوگ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ حقیقت کو مسخ کیا جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ شیعہ علماء اس بات کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں کہ ابن سبا نے علی   کے رب ہونے کا پرچار کیا اس کے ساتھ یہ پہلا شخص ہے جس نے شیعوں کے دو بنیادی عقائد کی پرچار بھی کی جو کہ صرف شیعوں کے ٹولہ میں پائی جاتی ہیں۔ 
1۔ ابن سبا یہودی وہ پہلا شخص ہے جس نے اعلانیہ ابو بکر و عمر ، عثمان اور صحابہ رضوان اللہ اجمعین پر کھلا تبرا کیا بلکہ ان سے بیزاری کا اعلان کیا اور یہ بکواس بھی کی اسے ایسا کرنے کو علی   نے کہا ہے (جیسے آجکے رافضی دعوی کرتے ہیں) علی   اسے قتل کرنے والے تھے لیکن لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے اسے جلاوطن کردیا اس بات کو نوبختی ، الکشی ، سعد بن عبداللہ القمی نے قبول کیا ہے۔
2۔ ابن سبا وہ پہلا شخص ہے جس نے شہادت دی کہ امامت علی کا ماننا فرض ہے اوراس نے اعلانیہ ان کے دشمنوں سے بیزاری کی اور انہیں کافر قرار دیا (جو آج کے رافضیوں کے ایمان کا حصہ ہے) یہ شیعہ علماء کی طرف سے ایک اور اقرار ہے جسے آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔
اسی کی بنیاد ہر جس نے شیعوں کی مخالت کی تو بلاجھجک کہا کہ رفض کی بنیاد یہود کے عقائد پر ہے اور یہی بات جو کہ جس کو مسلمان مانتے ہیں اور اہل سنت کہتے ہیں شیعہ عقائد کی بنیاد ابن سبا یہودی کے عقائد پرہے اور پھر رافضیوں کے بے تکے سوالوں کے جواب میں یہی کہتے ہیں مثال کے طور پر رافضی کہتے ہیں: 
٭شیعہ کا کون اصول ابن سبا سے لیا گیا ہے ، شیعہ کے کس فقہی مسئلے کو لیا گیا ہے ،کیا ہمارے امام ابن سبا کی تعریف کرتے تھے ، ہم نے ابن سبا سے کتنے احادیث لیں ہیں؟
٭کیا شیعہ پاگل یا جاہل ہیں کہ 1400 سالوں میں یہ نہیں جان سکے کہ ان کے عقائد کی بنیاد جھوٹی روایات پر ہے جو عبداللہ بن سبا کی طرف سے آئیں ہیں؟
٭اگر ابن سبا یہودی شیعوں کے لئے اتنا اہم ہے تو شیعوں نے اماموں کی طرح اس کی روایات کو کیون نہیں نقل کیا؟ یقیناً اگر ابن سبا ان کا آقا ہوتا تو وہ ضرور اس کی روایات نقل کرتے اور اس پر فخر کرتے ۔ 
اس قسم کے سوالات کرنے والے العسکری ، یاسر الخبیث ،عمار نخوانی ، الوائیلی وغیرہ ہیں اور ان کا سادہ سا جواب یہ ہے:
کسی بھی مسلم سنی عالم نے کبھی بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ ابن سبا کی تقلید کے لائق ہےیا اس کی تقلید رافضیوں کے لئے ضروری ہے وہ صرف یہ لکھتے آئے ہیں کہ رافضی صرف اس کے یہودی خیالات کی پیروی کر رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر آج کے عیسائی کبھی یہ نہیں مانتے کہ وہ ان کی مذہب بنیاد سیدنا مسیح علیہ السلام کی عقائد پر نہیں ہے بلکہ پال جاہل کے عقائد پر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے شیعہ (پیروکار) ہیں۔ اسی طرح شیعت ایک ایسی جماعت ہے جس کی بنیاد رکہنے والا ایک یہودی ہے خاص طور ہر صحابہ کی تکفیر اور امامت علی کا فرض ہونے کے عقائد اہل بیت کے نہیں ہیں بلکہ یہ عقائد ابن سبا یہودی کے ہیں جس نے ان عقائد کی بنیاد رکھی اور وہی بقول شیعہ علماء کے پہلا شخص ہے جس ان عقائد کی لوگوں میں پرچار اسی لئے کہا جاتا ہے اور تا قیامت کہا جائے گا۔
ابن سبا رافضیوں کا روحانی باپ ہے اور ایسی عقائد کی بنیاد رکھنے ولا ہے جو کسی بھی فرقے میں نہیں ملتے سواء رافضیوں کے (خاص اثنا عشریوں میں)
جو بھی کہتے ہیں کہ ابن سبا نے شیعت کی بنیاد رکھی اس کی وجہ اس کے عقائد ہیں خاص کر صحابہ کی تکفیر ، رجا،علی   کے بارے میں غلط اور وہ ان عقائد کی وجہ سے ہی مشہور ہے شاید کوئی کوشش کرے کہ ایسے عقائد ابن سبا سے پہلے بھی تھے لیکن وہ اس کے لئے کوئی بھی چیز نہیں ڈھونڈ سکتا ۔ اگر کوئی کہے کہ ابن سبا نے شیعت کی بنیاد رکھی جس مین شیعت کے سب کے سب عقائد بشمول امامت کے آتے ہیں تو اس بات کسی نے بھی دعوی نہیں کیا اور نہ ہی ایسی چیز لکھی ہے مقصد کی بات یہ ہے ابن سبا یہودی نے رفض کی بنیاد رکھی جو کہ اہل بیت کے نام پر کی گئی اور آج تک اثنا عشری فرقہ اس کی تقلید میں صحابہ خاص کر ابو بکر و عمر کی تکفیر کرتا آرہا ہے ۔
نتیجہ
مسلم علماء اور شیعہ علماء حقیقت میں اس بات کے قائل ہیں کہ ابن سبا یہودی کے ہی خیالات ہیں جو شیعت کی بنیاد کے ذمہ دار ہیں پر یہ مکمل شیعت کا بانی نہیں ہے کیوں کہ رافضیت صدیوں کی ارتقا سے گزری ہے ۔ آپ تاریخ دمشق میں دیکھیں کہ وہان کچھ روایات ہیں ابن سبا کے بارے میں جو علی   کو خالق کائنات کہہ رہا ہے ۔ الجوزنجانی متوفی 259 ہجری اپنی کتاب رجال میں ابن سبا کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابن سبا نے کہا کہ ہمارے پاس صرف 9/1 قرآن باقی ہے، پورا قرآن علی کے پاس ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس بات نے یہ عقیدہ بنا لیا ہوگا کہ قرآن تحریف شدہ ہے ۔

 آخری بات یہ کہ ابن سبا نے اہل بیت کے نام پر اپنے یہودی عقائد کی پرچار کی اور آج کی شیعہ بھی اہل بیت کے نام پر غلیظ شیعت کی پرچار کرتے ہیں۔٭
٭٭٭

     

بھائی وسیم احمد سےایک ملاقات

”سربکف “مجلہ۶(مئی، جون ۲۰۱۶)
وسیم احمد/انل ٹھکّر

احمد اوّاہ :السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
وسیم احمد :وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
سوال :وسیم صاحب !آپ کہاں رہ رہے ہیں ؟اور اس وقت کہاں سے آئے ہیں ؟
جواب :اس وقت میں دہلی تبلیغی اجتماع سے آ رہا ہوں، میں پرسوں آیا تھا، حضرت سے فون پر کنٹیکٹ ہوا تھا، تو حضرت نے بتایا کہ میں احمد آباد آ گیا ہوں، اب اچھا موقع ہے دہلی کا اجتماع ہو رہا ہے، آپ دو روز کے لئے وہاں چلے جائیں، آج دوپہر دعا ہوئی، تو واپس آیا، اس سے پہلے ایک بار بھوپال کے اجتماع میں گیا تھا، اس کے بعد کسی اجتماع میں جانے کا موقع نہیں ملا تھا، بہت ہی اچھا لگا۔ 
س:آپ آج کل کہاں رہ رہے ہیں ؟
ج:میں آج کل رائے پور چھتیس گڑھ میں رہ رہا ہوں۔ ویسے میرا گھر بلاس پور میں ہے، اور ہمارا پورا پریوار(خاندان) بلاس پور میں ہی رہتا ہے میں اپنے بچوں کے ساتھ رائے پور رہ رہا ہوں، وہیں میرا کاروبار ہے۔ 
س:وہاں کیا کاروبار ہے ؟
ج:اصل میں میں آئی ٹی انجینئر ہوں، اور میں نے ایک آئی ٹی کمپنی بنائی ہے، اس کا ایک آفس میں نے پونہ میں، ایک بنگلور میں، اور تین مہینہ پہلے ایک آفس دبئی میں بھی کھولا ہے، اور انشاءاللہ اس سال ہم کولالمپور ملیشیا میں بھی اس کی ایک برانچ کھولنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ 
س:یہ کمپنی آپ نے کب بنائی ؟ماشاءاللہ اس کی بہت سی برانچیں ہو گئی ہیں ؟
ج:ابھی آٹھ سال ہوئے ہیں، میرے اللہ کا کرم ہے بہت جلدی ہمارا کام سیٹ ہو گیا، اور بہت سے لوگوں کو میرے ساتھ روزگار ملا ہوا ہے، ایک سو چھپن لوگ ہماری کمپنی میں ملازم ہیں، زیادہ تر آئی ٹی کے لوگ ہیں، ایک آدمی کے ذریعہ اگر اتنے خاندانوں کا روزگار مل جائے تو یہ انسانیت اور ملک کی بڑی خدمت ہے۔ 
س:آپ کے ساتھ آپ کی اہلیہ ہیں ؟وہ کہاں کی ہیں ؟وہ بھی ابھی مسلمان ہوئی ہیں کیا؟
ج:میری اہلیہ خاندانی مسلمان ہیں، اور وہ ناگپور کی رہنے وا الی ہیں، ان کے والد صاحب بلاس پور میں سروس کرتے تھے، ریلوے میں ملازم تھے، ریٹائرڈ ہو گئے ہیں، وہ اصل میں بریلوی طبقہ سے جڑے ہوئے ہیں، اور ہماری سسرال والے لوگوں میں درگاہوں وغیرہ پر جانے اور تعزیہ نکالنے کوہی زیادہ دین سمجھا جاتا ہے، اب اللہ کا شکر ہے میرے ذریعہ ان کے یہاں اصل دین کو سمجھنے اور ماننے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ 
س:حیرت کی بات ہے، ظاہر ہے آپ اپنی اہلیہ کی وجہ سے ہی مسلمان ہوئے ہوں گے، تو پھر آپ کو ان ہی کے طریقہ کا مسلمان بننا چاہئے تھا، آپ کہہ رہے ہیں، آپ کے ذریعہ ان کے یہاں سے خرافات کم ہو رہی ہیں، ذرا بتائیے کیسے ؟ اور اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بھی بتائیے ؟
ج:اصل میں ہمارا پریوار بلاس پور کا راجپوت، زمین دار خاندان ہے، اور ہمارے دادا اس علاقہ کے راجہ کہلاتے تھے، میں نے بارہویں کلاس کے بعد آئی۔ اے۔ ایس کے مقابلہ میں شریک ہونے کا پروگرام بنایا، مگر اچانک میری صحت بگڑ گئی، میرا ٹائیفائڈ بگڑ گیا، اس کی وجہ سے میرا یہ خواب پورا نہ ہو سکا، اور میں نے ایک انجینئرنگ کالج ہی میں بی ٹیک میں داخلہ لیا، بی ٹیک اور ایم ٹیک کرنے کے بعد، ہماری بوا کے لڑکے جو امریکہ میں رہتے ہیں وہ ہندوستان آئے، انہوں نے مجھے اپنی آئی ٹی کمپنی کھول کر بزنس کا مشورہ دیا، میرے پتاجی جو خود ایک اسکول بھی چلاتے تھے ان کو یہ بات پسند آ گئی تومیں نے ناگ پور میں ایک جگہ کرایہ پرلے کر آئی ٹی کمپنی شروع کی، ایک لڑکی جو اَب میری بیوی ہے، رضوانہ نام کی، میرے کالج میں میرے ساتھ ملاسپور میں میری جونیئر تھی، جس نے بلاس پور سے ہی بی ٹیک کیا تھا، میں نے اس کو اور دو لڑکوں کو اپنی کمپنی میں ملازم رکھا، صفائی اور چائے وغیرہ کے لئے ایک مسلمان لڑکے کو جس کا نام بدر الدین تھا، لوگ اسے ندو کہتے تھے، آفس بوائے رکھا، رضوانہ بہت خوبصورت ایک بے حد ایکٹیو (Active) لڑکی تھی، ہر وقت ساتھ رہتے رہتے ہم ایک دوسرے کے قریب ہو گئے، ہمارے رشتوں کی لمبی داستان ہے، وہ آپ کے مطلب اور کام کی نہیں، اس لئے اسے چھوڑتا ہوں، وہ اب میرے لئے بھی ذرا ناپسند ہے، میں نے رضوانہ سے کہا تم اپنے گھر والوں کو شادی کے لئے تیار کر لو اس نے کوشش کی، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکی، بات بہت آگے بڑھ گئی تھی، ہم لوگوں کے لئے ایک دوسرے کے بنا رہنا مشکل تھا، اس لئے اب میں نے اپنے گھر والوں پر کوشش شروع کی، بہت زیادہ گھر میں اس پر دھمال مچا اور جب میں نے آخری بات کے طور پر گھر والوں سے کہہ دیا، کہ اگر اس لڑکی سے میری شادی نہ ہوئی تومیں ریل سے کٹ کر خودکشی کر لوں گا، تو میرے گھر والے کیوں کہ میں ان کا اکلوتا تھا، اس شرط پر تیار ہو گئے، کہ پہلے کورٹ میریج ہو، اور پھر وہ ہندو بن کر ہندوانی رواج کے مطابق شادی کر لے، رضوانہ کچھ زیادہ دین دار نہ تھی، بلکہ دین کیا ہے، اسے کچھ زیادہ نہیں پتہ تھا، وہ تو بس کیا بتلاؤں، مزاروں پر جانا اور تعزیہ، بس اس کو دین سمجھتی تھی، وہ اس کے لئے تیار ہو گئی۔ ہم لوگوں نے پہلے کورٹ میریج کی اور پھر میں نے ناگپور سے کمپنی بلاسپور شفٹ کرنے کا پروگرام بنایا، کمپنی ناگپور سے بند کی، اور ایک روز رضوانہ کولے کر بلاس پور آ گیا۔ ان کے گھر والوں نے میرے خلاف پولیس میں ایف آئی آر، مقدمہ وغیرہ کیا، مگر ہم نے ہائی کورٹ سے قانونی کارروائی پوری کرالی تھی، کچھ نہ ہو سکا، بلاس پور میں میری شادی باقاعدہ ہمارے ہندو راجپوت رواج کے مطابق ہو گئی۔ 
س:آپ پھر کیسے مسلمان ہوئے ؟
:ہاں میں بتا رہا ہوں، ناگپور میں جو آفس بوائے ندو تھا، اس کے والد کا انتقال ہو گیا تھا، اس کی پانچ بہنیں تھیں اور ماں کا وہ اکیلا بیٹا تھا، اور مجبوراً وہ پڑھائی بند کر کے میرے یہاں نوکری کرنے لگا تھا اور پرائیویٹ امتحان دے رہا تھا، ان کی ماں ایک ولی صفت عورت ہیں، انہوں نے اس لڑکے کو شروع سے دین پر چلایا۔ وہ بہت پکا نمازی اور بارہ سال سے تہجد گذار تھا، ، ہماری کمپنی کا آفس ناگپور میں جہاں پرتھا، پاس میں کوئی مسجد نہ تھی، اس نے ملازمت طے کرتے وقت یہ بات مجھ سے کھل کر طے کی تھی کہ ڈیوٹی کے درمیان میں دوپہر اور شام کو دو وقت کی نماز پڑھوں گا، اس میں پندرہ منٹ اور دس منٹ مجھے لگا کریں گے، اور آفس میں ایک کونے میں نماز پڑھنے کی اجازت آپ کو چاہے کچن میں ہی ہو، دینی پڑے گی۔ وہ بہت ہی ایمان دار اور محنتی لڑکا تھا، اس نے میری کمپنی میں دو اور انجینئر لڑکوں فیروز اور شاہنواز دونوں کو نماز پڑھانا شروع کر دی، اور وہ تینوں بہت پابندی سے جماعت سے نماز پڑھتے تھے، کئی بار میں نے آخری درجہ میں غربت اور پریشان حالی کے باوجود اس کی ایمان داری دیکھی تھی، اور اس میں خدمت کا بھی بڑا جذبہ تھا، اس لئے مجھے اس لڑکے سے بہت ہی محبت ہو گئی تھی، اور رضوانہ سے تعلق کی وجہ سے بھی اب مجھے مسلمانوں سے دوری ختم ہو کر کچھ تعلق سا لگنے لگا تھا، ندو کو جب معلوم ہوا کہ میں کمپنی بند کرنے جا رہا ہوں تو وہ بہت اداس ہو گیا، اور ایک بار آفس میں آ کراس نے مجھ سے بہت ضد کی کہ آپ کمپنی بند مت کرو، آپ کے بعد ہمیں ایسی نوکری نہیں ملے گی، میری ماں اور بہنوں کی پرورش کا سوال ہے، میں نے اس سے کہا کہ میں رائے پور تمہیں لے جاؤں گا، اس نے اپنی ماں سے مشورہ کیا، انہوں نے اجازت دے دی، میں نے رائے پور آفس میں اس کو رکھ لیا، اور وہ ہمارے گھر پرہی ایک سرونٹ روم میں رہنے لگا، وہ جب نماز پڑھتا تو بڑا ڈوب کر پڑھتا تھا، میں اس کی نماز سے بہت امپریس (متأثر)تھا، نماز میں کھڑے ہو کراس کے چہرہ سے لگتا تھا کہ ایک غلام اپنے بڑے آقا کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہے، اور رکوع میں جاتا تو ایسے لگتا جیسے اس نے واقعی اپنے وجود کو جھکا دیا ہے، اور جب وہ سجدہ میں جاتا تو جیسے اس نے اپنی پوری ہستی کو اللہ کے سامنے رکھ دیا ہو، اور رکوع اور سجدہ میں جاتے وقت میرے اندر یہ لگتا تھا جیسے جیسے وہ نیچے کوہو رہا ہے، تو اس کا سر اور جسم نیچے کو جا رہا ہے، مگر مجھے لگتا کہ اس کی ہستی، اس کی آتما(روح )اوپر اٹھتی جا رہی ہے۔ مجھے اس کی نماز کا انتظار رہتا، کبھی کبھی مجھے اس کی نماز کو دیکھنے کی ایسی بے چینی ہوتی، کہ میں اس سے پوچھتا ’’ندو! نماز کتنی دیر میں پڑھو گے ‘‘نماز کے طریقے اور اس کے صرف ظاہری ڈھنگ نے مجھے اسلام کی طرف کھینچ لیا، رضوانہ کے ساتھ جس کا نام ہمارے خاندان والوں نے رجنی ٹھکّر رکھ دیا تھا۔ 
س:یہ ٹھکّر کیا ہے ؟
ج: یہ اصل میں خاندان کاسرنیم (Sir Name) ہے۔ میرا نام انل ٹھکّر تھا، تو اس کا نام پتاجی نے رجنی رکھ دیا تھا، اور کورٹ میریج میں بھی یہی نام لکھوایا گیا تھا۔ 
س:جی !تو آگے بتائیے ؟
ج:میری ماں کی خواہش تھی کہ میں رجنی کولے کر ویشنو دیوی جاؤں یا تروپتی مندر جاؤں، شادی کے بعد کسی تیرتھ یاترا کو جانا ہمارے خاندان میں بہت ضروری سمجھا جاتا تھا، ہم لوگوں نے اس خیال سے کہ ویشنو دیوی ہل اسٹیشن بھی ہے، ، پکنک بھی ہو جائے گی، اور ماتا پتا(ماں باپ )کی خواہش بھی پوری ہو جائے گی، ویشنو دیوی جانا طے کیا، وہاں کے پورے سسٹم کو دیکھ کر میرا من ہندو مذہب سے چڑھ سا گیا، لیپ ٹاپ ساتھ تھامیں نے اپنی تسلی کے لئے ’’او مائی گاڈ‘‘مووی دیکھی، ماں سے بات ہوئی تو وہ پورنیما پر برت رکھنے کی ضد کرتی رہی، اور بار بار تقاضا کرتی رہی کہ میری طرف سے دیوی جی کو پرشاد چڑھانا۔ وہاں جانا اور پرشاد چڑھانے کی کٹھن پوجا میرے من اور بدھی کوکسی طرح نہ بھائی۔ ماں کا آرڈر سمجھ کر ہم دونوں نے برت رکھا، اور ہم کسی طرح کچھ پیدل اور جب تھک گئے تو گھوڑے پر سوار ہو کر پرشاد لے کر پوجا اور ماں کی طرف سے چڑھاوا چڑھانے کے لئے وہاں پہنچے، میں نے دیکھا ایک بالکل مریل بیمار کتا جس کے پورے شریر(جسم )پر کھجلی ہو رہی تھی بھیڑ میں اندر آیا اور لوگوں کے سامنے اس نے سارے پرشاد پر موت دیا(پیشاب کر دیا)، میں پرشاد پھینک کر واپس آیا اور برت توڑ دیا، رجنی نے مجھے سمجھایا کہ ایسے اَنادر سے ماں کی آستھا کو چوٹ لگے گی۔ مگر میرا من نہیں مانا اور میں نے ہوٹل جا کر لیپ ٹاپ نکالا اور رجنی سے کہا یار ایک بار اور ’’او مائی گاڈ‘‘مووی دیکھیں، اس مووی نے مجھے ہندو دھرم سے بالکل الرجک کر دیا، میں نے رجنی سے کہا جب ہم دونوں شادی کی بات کر رہے تھے توتو نے ایک بار بھی مجھے مسلمان ہونے کے لئے نہیں کہا، حالانکہ ہر آدمی دوسرے کو اپنی طرف جھکانے کی کوشش کرتا ہے، تمھارے دھرم میں تو یہ کچھ بھی نہیں ہے، ندو مسجد نہ ملے تو آفس میں بالکل آسانی سے نماز پڑھتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اوپر والا اس کی نماز قبول کرنے کے لئے اس کے سامنے اتر آیا ہو، اس نے کہا اصل میں مجھے تم سے اتنا پیار تھا کہ میں تمھیں کھونا نہیں چاہتی تھی، تمھارے بغیر میرا رہنا ممکن نہیں تھا، مجھے ڈر لگا کہ اگر میں نے تم سے مسلمان ہونے کا مطالبہ رکھا تو تمھارے گھر والے قبول نہیں کریں گے اور پھر تم بھی گھر والوں کی مرضی کے خلاف نہیں کر سکتے میں نے کہا اگر تمھیں مجھ سے سچ مچ میں پیار تھا، تو اور بھی مجھے مجبور کرنا چاہئے تھا، اس لئے کہ ہر آدمی اپنے دھرم کو سپیریر (Superior)سمجھتا ہے، تو جس سے محبت ہو اس کو سپیریر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے، میں نے معلوم کیا کہ کیا تم اپنے دھرم اسلام کو ہندو دھرم سے اچھا نہیں سمجھتیں، اس نے کہا کہ سپیریر اور اچھا ہی نہیں بلکہ دھرم سے زیادہ تعلق نہ ہونے کے باوجود ہمارے گھر کا بچہ بھی صرف اسلام کو دھرم اور دین سمجھتا ہے، باقی دھرموں کو ہم لوگ دھرم ہی نہیں سمجھتے، آپ کے ساتھ ہندو بن گئی ہوں مگر میں ہندو دھرم یا اسلام کے علاوہ عیسائی، بدھ، سکھ ازم کو دھرم ہی نہیں سمجھتی بلکہ وہ تو دھرم سے وچلت بگڑے طریقے ہیں، میں نے کہا اصل میں رجنی مجھے مسلمانوں میں جو۲۴ نمبر وہابی لوگ ہوتے ہیں، ان کا دھرم جنیون(Genuine، اصلی)  اور پرچلت سا لگتا ہے، شیعوں اور بریلی والوں نے تو اصل میں ہندو دھرم سے دھرم کو پروفیشن بنایا اور اس کا کمرشیلائیزیشن کر کے چوں چوں کا مربہ بنا دیا ہے، رجنی اس پر ذرا چڑ گئی۔
 ہم لوگ واپس بلاس پور پہنچے، میں نے جا کر گھر والوں سے بحث کرنا شروع کر دی میرے تاؤ بہت دھارمک تھے، ان سے بھی مورتی پوجا اور دھرم کے نام پر دھندا کرنے کے لئے خوب بحث کی انھوں نے کہا نہیں، ہندو دھرم ایک سمندر ہے جس میں ہزاروں ندیاں ملتی ہیں، جس کامن جس ندی سے ملے وہ وہاں کا پانی پئے، تمھارا من مورتی پوجا سے نہیں ملتا تو آریہ سماج میں جاملو، اور انھوں نے اپنے ایک دوست سے میری بات کرائی، جو آریہ سماج مندر کے سنچالک تھے، میں ان کے یہاں گیا، چار پانچ مہینے انھوں نے مجھے آریہ سماج کا لٹریچر پڑھوایا، مگر مجھے ایسا لگا کہ ہندو دھرم سے بھاگنے والوں کے لئے بس ایک جال بنایا گیا ہے، اور میرے من کو ایسا لگا کہ یہ لوگ خود سیٹسفائی (Satisfy، مطمئن )نہیں ہیں۔
ان سے بھی مورتی پوجا اور دھرم کے نام پر دھندا کرنے کے لئے خوب بحث کی انھوں نے کہا نہیں، ہندو دھرم ایک سمندر ہے جس میں ہزاروں ندیاں ملتی ہیں، جس کامن جس ندی سے ملے وہ وہاں کا پانی پئے، تمھارا من مورتی پوجا سے نہیں ملتا تو آریہ سماج میں جاملو، اور انھوں نے اپنے ایک دوست سے میری بات کرائی، جو آریہ سماج مندر کے سنچالک تھے، میں ان کے یہاں گیا، چار پانچ مہینے انھوں نے مجھے آریہ سماج کا لٹریچر پڑھوایا، مگر مجھے ایسا لگا کہ ہندو دھرم سے بھاگنے والوں کے لئے بس ایک جال بنایا گیا ہے۔
 اس بیچ میں نے بدو سے اسلام پر لٹریچر لانے کو کہا، وہ ناگ پور سے مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب کی کچھ پستکیں(کتابیں) لے کر آیا اور اس نے مجھے نیٹ پر سرچ کرنے کو کہا، یہ بات میری بھی سمجھ میں آئی، میں نے مولانا طارق جمیل صاحب کی تقریریں سنیں، اس کے بعد پیس ٹی وی دیکھنا شروع کیا، اس بیچ میں نے بنگلور میں اپنی کمپنی کی ایک برانچ کھولی، ہمارے ایک کسٹمر حاجی رفیق صاحب نے اپنے داماد سے ملوایا، جو آئی ٹی انجینئر ہیں، اور ایک اور کمپنی کے بڑے افسر ہیں، وہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے پہلی میٹنگ میں مجھ سے کہا ”ریلیجن (Religion، مذہب )کے بارے میں آپ کا یہ حال کہہ رہا ہے کہ اوپر والا آپ کو حق کی طرف بلا رہا ہے، اور جب وہ خود بلا رہا ہے تو پھر اِدھر اُدھر بھاگنے سے کیا فائدہ ؟“
انھوں نے اپنے محلّہ سے فون کر کے ایک آٹو رکشہ والے سلیم میاں کو بلایا، سلیم نے مجھے سیدھے اسلام کی دعوت دی، اور آپ کے ابی کی کتاب ’’آپ کی امانت آپ کی سیوا میں ‘‘، نراشنس اور انتم رشی، اور کے ایس راما راؤ کی کتاب اسلام کے پیغمبر محمد صاحب ﷺ تین پمفلٹ دئیے، میں نے کہا یہ لٹریچر پڑھ لوں، پھر کل بات کرتے ہیں، سلیم میاں مجھے فورس کرتے رہے، کہ کل سے پہلے ہم دونوں مر گئے تو کیا ہو گا، میں نے کہا اگر مر گئے تو اوپر والا جانتا ہے کہ ہم کھوج تو کر رہے ہیں، ان پمفلٹ کو پڑھ کر میرا ذہن بالکل صاف ہو گیا، کہ اصل دین اسلام ہے، اور یہ سب دھرم کے نام پر دکانیں چلانے والوں کی بگڑی شکلیں ہیں، اگلے روز دس بجے سلیم میاں آٹو لے کر آ گئے، اور بولے میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں نے آپ کو کلمہ پڑھا دیا ہے، اور آپ کا نام میں نے وسیم رکھا ہے، اور اپنے حضرت مولانا محمد کلیم صاحب سے ملوایا ہے وہ جو آپ کی امانت کے رائٹر ہیں۔ خواب دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کے کلمہ پڑھنے کا وقت آ گیا ہے، اس کے بعد سلیم میاں نے مجھے کلمہ پڑھوایا اور رات کو مرکز ہفتہ واری اجتماع میں جانے کا مشورہ دیا، مرکز میں انھوں نے مجھے اپنے بڑے ابا ڈاکٹر شکیل صاحب سے ملوایا جو پرانے جماعت کے لوگوں میں ہیں، انھوں نے بڑی محبت سے مجھے گلے لگایا، الگ کمرہ میں بٹھا کر چائے پلائی اور مجھے چار مہینے جماعت میں جانے کا مشورہ دیا، اور میری فوراً چالیس دن کی تشکیل کر لی، اگلے اتوار سے جماعت نکل رہی تھی، میں جماعت میں چلا گیا، جماعت علی گڑھ شہر میں گئی۔ علی گڑھ جماعت میں میرا وقت بہت اچھا لگا اور وہاں کے جماعت کے ذمہ داروں سے میری ملاقات ہوئی، جس سے اسلام میرے لئے بالکل پیدائشی مذہب بن گیا، جماعت سے واپس آ کر میں ایک مولانا عقیل صاحب کو جو آئی ٹی میں بی ٹیک بھی تھے، اسلام پڑھنے کے لئے بنگلور آفس سے رائے پور لے آیا، ان سے اردو عربی پڑھنا شروع کی، پہلے انھوں نے مجھے قرآن شریف پڑھایا۔ 
س:آپ کی بیوی کا کیا ہوا؟
ج:کلمہ پڑھ کر میں نے رضوانہ سے مسلمان ہونے کو کہا۔ ان کے لئے اس سے بہتر کیا تھا، میں نے مسجد سے امام صاحب کو بلا کران کو کلمہ پڑھوایا، اور انھوں نے ہمارا نکاح بھی کرایا، اب ہم رضوانہ کی اپنی ماں سے فون پر کبھی کبھی بات کرنے لگے، اور وہ اپنے بیٹے کولے کر رائے پور ہمارے گھر آئیں، ہم لوگوں نے ان کو بہت اچھی طرح رکھا، اور ان کی بہت خاطر کی، وہ میرے اخلاق سے بہت متأثر ہوئیں، سسرال والوں سے تعلق شروع ہو گئے، اور الحمدللہ میں نے پہلے اپنے چھوٹے سالے، شفیق میاں کی اور پھر بڑے سالے انیس بھائی کی چلہ کے لئے تشکیل کر لی، بعد میں ان کے والد نے پہلے تین دن لگائے، پھر چار مہینے لگائے، اور اللہ کا شکر ہے کہ ساری خرافات سے انھوں نے توبہ کی۔ 
س:آپ کے گھر والوں کی طرف سے مخالفت نہیں ہوئی ؟
ج: اللہ کا عجیب کرم ہوا، رائے پور کا ایک خاندان اپنی گاڑی سے دہلی مولانا سے ملنے ان کے گلوبل پیس سنٹر دہلی آیا، کسی مہاراشٹر کے مولانا نے ان کو ”یا ہادی یا رحیم“ ٹرین میں پڑھنے کے لئے بتایا تھا، یہ لوگ کافی دنوں سے وہ پڑھ رہے تھے، ان کی کتنی ہی مشکلیں اللہ نے حل کر دی تھیں، ان میں سے ایک صاحب ہمارے پتاجی کے کارخانہ میں منیم تھے، یہ سب لوگ یہاں سے کلمہ پڑھ کر گئے، اور ہمارے پتاجی سے وہاں کی بڑی تعریف کی، ہمارے پتاجی نے ایک کے بعد ایک، چھ کارخانے لگائے، مگر ذرا کام چلتا اچانک کوئی ایکسیڈنٹ ہو جاتا، اور ایسا بڑا کوئی حادثہ ہوتا کہ کارخانہ بند کرنا پڑتا، ہمارے تاؤ جی نے ایک سیانے کو بلایا تو اس نے بتایا کہ کسی نے کاروبار پر کرنی کرا رکھی ہے، اس کے لئے ہمارے منیم جی جے پرکاش مشرا جن کا پہلا نام تھا، اب ان کا نام حضرت نے عبداللہ رکھا تھا، انھیں دہلی گلوبل پیس سنٹر جا کر مولانا صاحب سے ملنے کا مشورہ دیا، پتاجی نے پروگرام بنایا، وہاں پر مولانا دلشاد اور پادری بلال سے ان کی ملاقات ہوئی، ایک رات وہ وہاں رہے، اور صبح کو میرے اللہ کا کرم ہے انھوں نے کلمہ پڑھ لیا، حضرت سے ان کی ملاقات دوسرے روز تھوڑی دیر ہو سکی، کہ حضرت کو ایک سفر سے آ کر دوسرے سفر پر جانا تھا، حضرت نے میرے والد کو جماعت میں جانے کا مشورہ دیا، وہ بلاس پور پہنچے، میں ان سے ملنے گیا، تو یہ معلوم ہو کر میرے سرپرائز کا کچھ ٹھکانہ نہ رہا کہ میرا سب سے اہم کام ہو گیا تھا، اگلے مہینہ بھوپال کا اجتماع تھا، رائے پور سے ایک جماعت اجتماع میں شرکت کے لئے جا رہی تھی، میں نے پتاجی کو بلایا، اور ان کو اجتماع میں لے گیا، وہاں سے چالیس دن کی جماعت میں وہ چلے گئے، مگر جماعت یوپی میں آگرہ گئی، جہاں کی سردی میں ان کا حال خراب ہو گیا اور وہ سخت بیمار ہو گئے، اور دس دن میں واپس آ گئے، بعد میں ان کوکسی نے مشورہ دیا کہ جماعت سے درمیان سے آنے والوں کو زندگی بھر مشکل سہنی پڑتی ہے٭ اس لئے وہ دوبارہ مارچ میں جماعت میں گئے، الحمدللہ۔ اس کے بعد میری چھوٹی بہن اور ماں بھی مسلمان ہو گئیں ۔ 
س:ان لوگوں نے اپنا اسلام ظاہر کر دیا؟
ج:میرے والد بہت بہادر اور نڈر آدمی ہیں۔ انھوں نے دہلی سے آتے ہی اعلان کر دیا، ہمارے علاقہ میں دور دور تک کوئی مسلمان نہیں ہے، مگر وہ ذرا نہیں ڈرے، بلکہ انھوں نے اپنے گھرکے ایک ہال کمرہ کو خاص کر کے اس میں اذان اور نماز شروع کر دی، اور گوالیر سے ایک حافظ صاحب کو بلاکر امام بھی رکھ لیا، بعد میں، میں نے نسیم ہدایت کے جھونکے کتاب سنی، تو ان کو ہندی میں لا کر دی، اس کے بعد ان کو دعوت کی دھن لگ گئی، ڈیڑھ سال میں ان کی کوشش سے ۳۶ ؍لوگ مسلمان ہوئے، ان کو شوگر اور بلڈ پریشر۱۵ ؍سال سے تھا، اچانک ایک دن ان کے سر میں درد ہوا، اور وہ بے ہوش ہو کر کوما میں چلے گئے، بلاس پور کے بڑے اسپتال میں ان کو دکھایا گیا، بعد میں رائے پور ریفر کیا گیا، مگر سرکی جانچ وغیرہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کی دماغ کی نس پھٹ گئی ہے، اور فوراً علاج نہ ہونے کی وجہ سے دماغ کا ایک حصہ خراب ہو گیا ہے، ایک ہفتہ اسپتال رہ کران کا انتقال ہو گیا۔ 
س:ان کی تدفین اسلامی طریقہ پر ہوئی ؟
ج:خاندان کے کچھ لوگوں نے چاہا کہ ان کو جلایا جائے، مگر میری ممی نے ایس پی کو فون کر دیا اور کہا کہ میرے پتی مسلمان ہو کر مرے ہیں، اگر ان کو جلایا گیا تومیں جل کر مر جاؤں گی ایس پی صاحب نے فورا ایکشن لیا اور ان کی گاؤں میں ہی نماز اور تدفین ہوئی، الحمدللہ ۔
س:آپ کے بچے نہیں ہوئے ؟
ج:ہاں ہیں، دو بچے مریم اور عیسیٰ دونوں رضوانہ کے ساتھ اندر آپ کے گھر میں ہیں۔ 
س:ارمغان کے قارئین کو آپ کوئی پیغام دیں گے ؟
ج:آج کی دنیا میں عقل اور علم کا زمانہ ہے، سائنس کا دور ہے، سائنٹفک ذہن رکھنے والی انسانیت کو اسلام ہی بھا سکتا ہے، بس ہمیں دھرم کے نام پر ادھرم کے ظلم میں دبے، اور مذہبی کاروبار میں قید انسانوں کو اسلام کا آئینہ دکھانا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کا اسلام ہو، اور توحید و سنت اس کی بنیاد ہو، ایسا ہو نہیں سکتا کہ آدمی اسلام کے سایہ میں نہ آئے، مگر ہم اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے ہیں ا ور دور دور سے ڈر رہے ہیں۔ 
س:بلاشبہ !آپ بالکل سچ کہتے ہیں، جرم ہمارا ہی ہے، بہت بہت شکریہ، جزاک اللہ، السلام علیکم!
ج: وعلیکم السلام، شکریہ تو آپ کا آپ نے مجھے اپنی مبارک کڑی میں جوڑ لیا۔ ٭
٭٭٭

     

الاحادیث المنتخبہ 6 روزہ دار کے منہ کی بو

 پیش کش: مدیر 

”سربکف “مجلہ۶(مئی، جون ۲۰۱۶)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ وَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَی مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ يَتْرُکُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا
 (صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر ۱۸۲۰، حدیث مرفوع)
مکررات:٭صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1830 ، جلد سوم:حدیث نمبر 888 ، 2385 ، 2432 ٭صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 210، 212 – 214٭ سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 122 - 126 ، 129 ٭سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1639 ٭موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 563 ٭سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1704 ٭مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 2296 ، جلد چہارم:حدیث نمبر 56، 76، 468، 547، 653، 819، 1394، 1928، 2086، 2133، 2174، 2516، 2687، 2711، 2940، 2966، 3006، 3080، 3280، 3315، 3452، 3643
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ  سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے، اس لئے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں، دوبار کہہ دے۔ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو روزوں کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور نیکی دس گنا ملتی ہے اور (اللہ تعالی کا قول) میں اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ 
ماہِ رمضان میں شیطان قید کر دیے جاتے ہیں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ مَوْلَی التَّيْمِيِّينَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَائِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ
(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1825 حدیث مرفوع )
مکررات:٭ سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 14
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، ابن ابی انس تیمیوں کے غلام، ابی انس، حضرت ابوہریرہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔
٭٭٭

     

رمضان المبارک کی قدر دانی

”سربکف “مجلہ۶(مئی، جون ۲۰۱۶)
حضرت مولانا کلیم صدیقی دامت برکاتہم

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۭ
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے سراپا ہدایت، اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دکھاتی اور حق و باطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردیتی ہیں، لہذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے وہ اس میں ضرور روزہ رکھے ۔
(آسان ترجمہ قرآن- سورہ ۲،البقرہ: ۱۸۵)
ہر انسان کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ اللہ کی جو نعمتیں اس کو میسر ہیں ان میں برکت اور اضافہ ہوتا رہے اور وہ نعمت اس سے چھین نہ لی جائے۔ نعمت میں اضافہ اور برکت کے لئے اور نعمت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے منعم حقیقی اور رب کائنات نے یہ ضابطہ ارشاد فرمایا ہے :
اور جب تمہارے رب نے اعلان کر دیا کہ اگر تم شکرو گے تومیں اور بڑھا دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک ہیں ا عذاب سخت ہے۔
شکر نعمت پر نعمت میں اضافہ اور کفران نعمت پر اللہ کی پکڑ سخت ہونے کا اعلان بالکل فطری اور ضابطہ کے مطابق ہے، ناشکری پر اللہ کے غصہ اور پکڑ کے تین درجے ہیں :
پہلا درجہ یہ ہے کہ کفران نعمت کے وبال میں نعمت چھین لی جائے۔
 دوسرا درجہ نعمت کے چھین لینے سے زیادہ ہے کہ نعمت موجود ہے مگر نعمت کا فائدہ اٹھانے کی توفیق نہیں رہتی۔
 اور تیسرا سب سے زیادہ سخت ہے کہ نعمت کا فائدہ ہونے کے بجائے ناقدری کی وجہ سے نعمت کا نقصان ہو جاتا ہے اور گویا نعمت، زحمت بن جاتی ہے۔
 نعمت کے شکر کا ایک درجہ یہ ہے کہ بندہ زبان سے اللہ کا شکر اور حمد کرے۔ ہر نعمت کے ملنے کے احسان میں الحمدللہ کہے۔ اس کے آگے دوسرا درجہ یہ ہے کہ منعم کی احسان مندی اور آخری درجہ میں شکر کی کیفیت اس قدر پیدا ہو جائے جو بندے کو نافرمانی سے روک دے۔ اور شکر کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ دی ہوئی نعمت کو اللہ کی مرضی کے مطابق قدردانی کے ساتھ استعمال کرے۔ بنانے والے اور دینے والے کی مرضی کے مطابق نعمت کا استعمال اس کی حقیقی قدردانی ہے، اللہ تعالیٰ اس کائنات کے خالق ہیں اور بندوں کی ہر چیز ان کی عطا ہے۔ دنیا کی تمام مخلوقات اور نعمتوں کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے بنایا ہے لیکن ان چیزوں کے نفع اور نقصان کا دار و مدار انسان کے اپنے استعمال کے انداز پر ہے۔
 یہ عام ضابطہ ہے کہ ہر بنانے والا کسی چیز کو جس مقصد کے لئے بناتا ہے وہ مقصد اور نفع حاصل کرنے کے لئے اس کے استعمال کا قاعدہ اور ضابطہ بھی متعین کرتا ہے اور اسی ضابطہ پر اس کے نفع کا انحصار ہوتا ہے، اس ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے سے فائدہ کے بجائے نقصان ہونے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر مختلف فیکٹریاں گاڑیاں اور کاریں بناتی ہیں، جن کے ذریعہ انسان بڑی عافیت کے ساتھ لمبے سفر کی مسافت جلدی طے کر لیتا ہے۔ اللہ کی اس نعمت میں بنانے والوں نے ایک ضابطہ مقرر کر دیا ہے کہ یہاں ڈرائیور بیٹھے گا یہاں سواریاں بیٹھیں گی، یہاں پٹرول اور یہاں پانی ڈالا جائے گا، اگر سامنے راستہ صاف ہو تو ایکسی لیٹر دبا کر گاڑی کی رفتار بڑھائی جائے گی اور اگر سامنے سے کوئی دوسری گاڑی آ رہی ہو یا کوئی اور رکاوٹ ہو تو بریک لگائے جائیں گے اور ضرورت کے مطابق گاڑی کو روکا یا سست رفتار کیا جائے گا، ان ضوابط کی جب بھی خلاف ورزی کی جائے گی نقصان یقینی ہو گا، مثال کے طور پر کہیں بھیڑ ہے اور ٹریفک زیادہ ہے اور ضابطہ کے اعتبار سے آپ کو گاڑی روکنی ہے، لیکن آپ نے ایکسی لیٹر پر پاؤں دبا کر ریس مزید بڑھا دی تو ایسا خطرناک ایکسیڈنٹ ہونے کا اندیشہ ہے جس سے آپ کا زندگی کا سفر ختم ہو جائے گا۔ لہٰذا وہی گاڑی جو ایک نعمت تھی، ضابطہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے ذریعہ ہلاکت بن گئی۔
 اسی طرح ساری بندوقیں اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ آدمی اپنی جان کے دشمنوں سے اپنی حفاظت کرے، بنانے والوں نے اس کے لئے یہ ضابطہ بنایا ہے کہ آپ کو دشمن سے خطرہ ہو تو بندوق میں گولی ڈالئے اور نال کو دشمن کی طرف کر کے فائر کیجئے، آپ کا دشمن وہیں ڈھیر ہو جائے گا اور آپ کی جان محفوظ رہے گی۔ لیکن اگر کوئی شخص اس ضابطہ کی خلاف ورزی کر کے فائر کر دے۔ تو وہی بندوق جو جان کی حفاظت کے لئے خریدی گئی تھی خود اسی کی ہلاکت کا ذریعہ بن جائے گی۔ اس لئے کہ اس میں اس کے ضابطہ استعمال کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
 جس طرح دنیا کی چیزوں میں ضابطہ اور قاعدہ جاری ہے اسی طرح خالق کائنات اور منعم حقیقی نے دنیا کی تمام مخلوق اور اشیاء میں جو انسانوں کو بطور نعمت عطا کی گئی ہیں ان کے استعمال کا ایک قاعدہ مقرر کیا ہے۔ اگر ان ضوابط کی رعایت رکھی جائے گی تو اس نعمت کا فائدہ ہو گا اور اس میں برکت ہو گی اور یہ نعمت کا شکر بھی ہو گا اور اگر ضابطوں کے مطابق انسان نعمتوں کو استعمال نہیں کرے گا تو یہ کفران نعمت بھی ہو گا اور یہ نعمت انسان کے لئے زحمت بھی بن جائے گی۔
آنکھ اللہ کی ایک نعمت ہے ایک معمولی درجہ کے غریب انسان سے اگر کہا جائے کہ آپ کے پاس دو آنکھیں ہیں آپ کا کام ایک آنکھ سے بھی چل سکتا ہے اس لئے آپ دو کرو ڑ روپئے لے کر ایک آنکھ مجھے دیدیں تو کوئی صاحب عقل انسان اس کے لئے تیار نہ ہو گا۔ اتنی قیمتی آنکھ اللہ نے بلا طلب ہمیں عطا فرمائی ہے، اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ضابطہ اور قاعدہ مقرر کر دیا ہے اسی کے مطابق آنکھ کا استعمال کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر حدیث میں آیا ہے کہ ایک مطیع بیٹے کی اپنے والد کی طرف محبت کی ایک نگاہ مقبول حج کا ثواب رکھتی ہے کسی صحابی نے عرض کیا، یا رسول اللہ !اگر کوئی روزانہ سو بار دیکھے ؟آپ نے فرمایا: اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں سو مقبول حج کا ثواب ملے گا۔ اس کے برخلاف نامحرم کو یا کسی کا ستر دیکھنے سے منع فرمایا ہے، اور اس کے لئے آنکھ کو گرم سلاخوں سے داغ دئیے جانے کی وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔ باپ کو دیکھنے پر مقبول حج کا ثواب اس لئے ہے کہ آنکھ کا استعمال بنانے والے کے ضابطہ کے مطابق کیا گیا ہے اور نامحرم کو دیکھنے پر سزا اس لئے ہے کہ اس کا استعمال بنائے گئے ضابطے کے خلاف کیا گیا ہے، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نعمت کے نفع اور برکت کا دار و مدار یا اس نعمت کے نقصان کا دار و مدار اس نعمت کو اللہ کی مرضی کے مطابق یا اس کے خلاف استعمال کرنے پر ہے۔ ایمان بھی درحقیقت اس عہد کا نام ہے کہ کلمہ پڑھ کر آدمی اس کا عہد کرے کہ ہر نعمت کا استعمال اللہ کی مرضی کے مطابق اس طرح کرو ں گا جس طرح اللہ نے اپنے رسول کے واسطے سے اس کے استعمال کا طریقہ بتایا ہے۔ اللہ کی طرف سے بندوں پر جو انعامات مسلسل بارش کی طرح برستے ہیں اور جن کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہے: و ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا(اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنے لگو تو ان کو شمار نہیں کر سکتے )
ان تمام انعامات میں سب سے بڑی نعمت قرآن کریم ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ جہاں اللہ نے سورۂ رحمٰن میں اپنی خاص نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے وہاں ہر نعمت کے ذکر کے ساتھ فبای آلاء ربکما تکذبان (تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے )فرمایا گیا ہے، یعنی ہم نے تم کو یہ ساری نعمتیں جو عطا فرمائی ہیں ان میں سے کون کون سی نعمت کا انکا ر کرو گے ؟اس ضمن میں اپنی صفتِ رحمٰن کی دلیل اور ثبوت کے طور پر جو نعمتیں شمار کرائی گئی ہیں ان میں سب سے پہلے اور بطور عنوان جس نعمت کا تذکرہ ہے وہ علم قرآن کی نعمت ہے۔ ارشاد ہے : 
الرحمٰن علم القرآن(سورہ ۵۵، الرحمٰن: ۱-۲)(وہ رحمٰن ہے، اس نے قرآن سکھایا)
اس نعمتِ قرآن کی شان دیکھئے کہ جس رات میں قرآن نازل ہوا، اس رات کو لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات ) قرار دیا اور اس رات کے ایک ہزار ماہ سے افضل ہونے کا شاہی اعلان کر دیا گیا۔ اور جس مہینے میں قرآن نازل ہوا اس پورے مہینے کو عطائے شاہی کے جشن کا مہینہ قرار دیا اور پوری دنیا کی سردار امت کو اسے احکم الحاکمین کے دستور کے شاہی جشن کے طور پر منانے کا حکم دیا، کسی بھی ملک کے دستور اور آئین کے نفاذ کے دن کو وہاں کا قومی دن شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ضابطہ اور آئین و اصول انسان کے لئے ذریعہ عافیت و سکون ہوتے ہیں، حضرت مولانا محمد احمد پر تاب گڈھی کے بقول :
اگر آزاد ہم ہوتے نہ جانے ہم کہاں ہوتے
 مبارک عاشقوں کے واسطے دستور ہو جانا
قرآن حکیم کی نعمت عظمیٰ کے اعزاز میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے پورے ماہ مبارک کو اپنی رحمت کا عظیم ان جشن اور اپنی عطا و بخشش کا مہینہ قرار دے کر، امت کے گنہ گاروں اور ہر خاص و عام کے لئے اپنی رحمت کے دہانے کھول دئیے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کا کس شان کے ساتھ ذکر فرمایا ہے :
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۭ
(گویا اللہ تعالیٰ یوں فرما رہے ہیں، واہ واہ !ہمارا رمضان کا مہینہ بھی کیا مہینہ ہے، جس میں ہم نے اپنی سب سے بڑی نعمت قرآن نازل فرمائی جو انسان کے لئے ہدایت ہے )
ایک سچے مسلمان اور اللہ کے فرماں بردار غلام پر فرض ہے کہ وہ بندگی کا حق ادا کرے اور بندگی کے حق کے طور پر اس ماہِ مبارک کی قدردانی کا حق یہ ہے کہ اس ماہ مبارک کو رب کریم کی عظیم نعمت سمجھ کر دل سے احسان مند ہو، اور اس کی مرضی کے مطابق اس نعمت کا استعمال کرے اور پورے ماہ مبارک کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے انداز میں گذار کر قدردانی کا ثبوت پیش کرے، ایسا نہ ہو کہ اس عظیم ان نعمت کی ناقدری سے ہم فائدہ اٹھانے اور اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے بجائے، اپنے لئے حرمان اور کم نصیبی کا سامان پیدا کر لیں۔
 ماہ مبارک ہمارے اوپر اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے والا ہے، ضروری ہے کہ اس کے اہتمام کے لئے چھوٹے چھوٹے چند امور پر توجہ کر لی جائے :
اول :ہر مسلمان اپنے کو غلام سمجھ کر ایک ضرورت مند اور محتاج غلام کی طرح اس جشن شاہی کا انتظار کرے، اور اپنے گھر، اپنے محلّہ اور اپنے دوستوں کی مجلسوں میں خوشی خوشی اس کا ذکر شروع کر دے۔ یہ ذکر اس طرح ہو کہ اس سے ماہ مبارک کی آمد پر خوشی کا اظہار ہوتا ہو، مثلاً ماشاءاللہ رمضان آ رہا ہے، ان شاء اللہ وہ بہت سے خیر کے حاصل ہونے کا ذریعہ بن جائے گا۔ رمضان سے پہلے اس کی آمد کا ذکر اور اس کے فضائل و اعمال کا ذکر کرنا خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا تاکہ پہلے ہی دن سے اس مبارک ماہ کی قد رکی جا سکے۔
 دوم :رمضان کے اعمال، تلاوت اور اذکار وغیرہ کے لئے وقت کو فارغ کرنے کی سعی کرے بہت سے ایسے کام جو ماہ مبارک سے پہلے پورے کئے جا سکتے ہیں ان کو مکمل کر لے، تاکہ کچھ وقت نوافل ذکرو تلاوت کے لئے فارغ کیا جا سکے۔
 سوم :بہت احتیاط کے ساتھ کم از کم ماہ مبارک کے لیے حلال روزی کا انتظام کرے، اگر خدانخواستہ ہم کسی ایسے روزگار سے متعلق ہیں جو شرعی اعتبار سے غلط یا مشتبہ ہے اور کوئی دوسرا روزگار نہیں مل رہا ہے تو ماہ مبارک کے لئے کم از کم حلال قرض لے لیں۔
 چہارم :ماہ مبارک کے لئے ہم اپنی سہولت کے لئے پہلے سے نظام الاوقات طے کر لیں مثلاً تلاوت کے لئے ایک مقدار طے کر لیں کہ مجھے اتنی تلاوت ضرور کرنی ہے، اتنا کلمہ طیبہ ضرور پڑھنا ہے، اتنا استغفار روزانہ کرنا ہے، اتنا وقت دعا کے لئے خاص کرنا ہے، یہ مہینہ اللہ کے یہاں قبولیت کا ہے، جب ہمارے سارے کا م بننے کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے تو پھر منظوری کے جشن کا یہ زمانہ ہاتھ سے جانے دینا بڑی محرومی کی بات ہے۔ دعا میں دل لگنے اور باب دعا کے کھلنے کے لئے وقت متعین کر کے بہ تکلف کچھ دیر تک دعا کا معمول بنانا بہت مفید ہے، اس طرح جب آدمی تکلف کے ساتھ دعا کرتا رہتا ہے تو کریم آقا اسے مانگنا بھی سکھا دیتے ہیں خصوصاً تہجد اور سحر گاہی کو تو مزے کی چیز سمجھنا چاہئے۔ 
پنجم :اس کا ارادہ کریں کہ اس مبارک مہینہ میں مجھے اپنی زندگی میں کچھ تبدیلی لانے کی کوشش کرنی ہے، کچھ خاص برائیاں اور منکرات جو زندگی میں داخل ہیں ان کو چھوڑنے کی، اور کچھ اچھائیاں جو چھوٹ رہی ہیں ان کی پابندی کی کوشش کرنی چاہئے۔
 اس کی کوشش کریں کہ جن لوگوں کے حقوق العباد معاف کرو ا سکتے ہیں تو ان کے حقوق معاف کرو ا لیں اور جن کے حقوق ادا کرنے ضروری ہیں ماہ مبارک سے ان کی شروعات کریں، اگر صاحب نصاب ہیں تو باقاعدہ حساب لگا کر زکوٰۃ ادا کریں۔ اگر آپ صاحب نصاب نہیں ہیں، تو بھی راہ خدا میں جو کچھ خرچ کرنا ممکن ہو اس کو خرچ کرنے کی نیت کریں۔ اور اگر بالفرض آپ کسی کی مالی خدمت سے معذور ہیں تو کچھ جانی خدمت کا ہی ارادہ کریں، اگر ممکن ہو تو عشرۂ آخر میں اعتکاف کوبڑی خیر اور نعمت سمجھیں، کم از کم آخری عشرہ کی راتوں میں اعتکاف کا اہتمام کر لیں۔ اگر اس مبارک ماہ میں کسی اللہ والے کے پاس کچھ وقت گذارنا نصیب ہو جائے، یا جماعت میں جانے کا موقع مل جائے تو یہ ماہ مبارک کی قدردانی کا بہترین طریقہ ہے، جن خوش قسمت لوگوں کو والدین کا سایہ میسر ہے وہ لوگ اس موقع پر ان کو خوش کرنے اور ان کی خدمت کو خاص وظیفہ سمجھ کراس نعمت کی قدر دانی کریں۔ غرض ابھی سے ہمارے اندرون اور ہمارے حال سے یہ واضح ہو کہ ہم جشن شاہی کی اس نعمت پر شاداں و فرحاں ہیں اور اس کی سچی قدردانی کرنے والے ہیں۔ یہ ماہ مبارک اور لیلۃ القدر جس نعمت کے نازل ہونے کے اعزاز میں قیامت تک کے لئے رحمت اور برکت کا ذریعہ بنی وہ قرآن حکیم ہے، اس سے اپنے کو وابستہ کرنا اس ماہ کی اصل قدردانی ہے، خوب تلاوت ہو، قرآن میں غور و فکر ہو، تفسیر کے حلقے ہوں، حق تو یہ ہے کہ قرآن کریم کی قدردانی کے بغیر اس مبارک ماہ کا شکر اور اس کی قدر ممکن نہیں۔ اس لئے اس ماہ میں قرآن حکیم کی قدردانی کا بہت اہتمام کرنا چاہئے، قرآن حکیم کی قدردانی، اس پر ایمان، اس کی شکر گذاری اور رب کریم کی ہدایت کے مطابق اس کا استعمال اس مقصد کی تکمیل کی کوشش پر منحصر ہے، جس کے لیے اسے نازل کیا گیا ہے، وہ مقصد پوری دنیا کی ہدایت، اور پوری انسانیت کو کفر و شرک کی ظلمات سے نکال کر ایمان کے نور میں لانے کی کوشش کرنا ہے اس لئے کہ لوگوں کی ہدایت کی فکر اور ان کی ایمانی دعوت کے لئے قرآن کریم میں چھ ہزار آیات نازل ہوئیں اور انسانوں کی اصلاح و تزکیہ کے لئے احکام کے بارے میں باقی پانچ سو سے زائد آیات ہیں۔
 خود قرآن کریم میں جا بجا اس کے مقصد نزول کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے، مثلاً یہ آیات :
نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ Ǽ۝ۙ مِنْ قَبْلُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ڛ (سورۃ ۳، آل عمران: ۳۔ ۴ )
اے نبی !اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی جو حق لے کر آئی ہے اور ان کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں، اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لئے تورات اور انجیل نازل کر چکا ہے اور اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے جو حق و باطل کا فرق دکھانے والی ہے۔
الۗرٰ  ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ  Ǻ۝ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا (سورۃ ۱۰، یونس :۱۔ ۲ )
الر، یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہیں۔ کیا لوگوں کے لئے یہ عجیب بات ہو گی کہ ہم نے خود انہیں میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکا دے، اور جو مان لیں ان کو خوش خبری دے۔
الۗرٰ  ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ     Ǻ۝ۙ (سورہ ۱۱، ہود :۱۔ ۳ )
یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں، صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو ۔ میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں۔
الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ   Ǻ۝ۙ (سورہ ۱۴، ابراہیم :۱ )
یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل فرمایا تاکہ آپ ان لوگوں کو ان کے پرورد گار کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف یعنی خدائے غالب و حمید کی راہ کی طرف لاویں ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا  Ǻ۝ڸ قَـيِّمًا لِّيُنْذِرَ بَاْسًا شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَـنًا Ą۝ۙ (سورہ ۱۸، کہف :۱۔ ۲ )
تمام خوبیاں اللہ کے لئے ثابت ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں ذرا بھی کجی نہیں رکھی، بالکل استقامت کے ساتھ موصوف بنایا تاکہ وہ ایک عذاب سے جو کہ منجانب اللہ ہو ڈرائے، اور ان اہل ایمان کو جو نیک کا م کرتے ہیں یہ خوش خبری دے کہ ان کے لئے بہترین اجر ہے۔
طٰهٰ Ǻ۝ۚ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي Ą۝ۙاِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى Ǽ۝ۙ (سورہ ۲۰، طہ :۱۔ ۳ )
طہ، ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ آپ تکلیف اٹھائیں بلکہ ایسے شخص کی نصیحت کے لئے ہے جوا للہ سے ڈرتا ہو۔
تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا Ǻ۝ۙ (سورہ ۲۵، الفرقان :۱ )
بڑی عالی شان ذات ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب اپنے بندۂ خاص (محمدﷺ)پر نازل فرمائی، تاکہ وہ تمام دنیا جہاں والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔
الۗمّۗ Ǻ۝ۚ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ Ą۝ۭ اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۚ بَلْ هُوَ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ Ǽ۝ (سورہ ۳۲، السجدہ :۱۔ ۳ )
یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے، اس میں کچھ شبہ نہیں، یہ رب العالمین کی طرف سے ہے، کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ اپنے دل سے بنا لیا ہے بلکہ یہ سچی کتاب ہے آپ کے رب کی طرف سے، تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ لوگ راہ پر آ جائیں۔
يٰسۗ Ǻ۝ۚوَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ Ą۝ۙاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ Ǽ۝ۙعَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ Ć۝ۭتَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمĈ۝ۙ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Č ۝ (سورہ۳۶، یٰسین :۱۔ ۶ )
قسم ہے اس قرآن با حکمت کی، بے شک آپ پیغمبروں میں سے ہیں، سیدھے راستہ پر ہیں، یہ قرآن خدائے زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادا ڈرائے نہیں گئے تھے، سویہ اس سے بے خبر ہیں۔
اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ  69؀ۙلِّيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَّيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ 70 ؀
 (سورہ۳۶، یٰسین:۶۹۔ ۷۰ )
وہ تو صرف ذکر ہے اور قرآن مبین ہے، تاکہ وہ زندوں کو ڈرائے اور کافروں پر اپنی بات ثابت کرے۔
صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ Ǻ۝ۭ (سورہ۳۸، ص :۱ )
ص، قسم ہے نصیحت والے قرآن کی۔ 
حٰـمۗ  Ǻ۝ۚ تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ  Ą۝ۚ كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ  Ǽ۝ۙ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ۚ (سورہ۴۱، حم سجدہ/فصلت :۱۔ ۴ )
یہ کتاب ہے جس کی آیات صاف صاف بیان کی گئی ہیں۔ یہ ایسا قرآن ہے جو عربی میں ہے، ایسے لوگوں کے لئے نافع ہے جو دانش مند ہیں۔ بشارت دینے والا ہے اور ڈرانے والا ہے۔
 غرض قرآن حکیم میں جا بجا اس کے نزول کا مقصد، انسانیت کی ہدایت، انسانوں کو ایمان و اعمال اختیار کرنے پر جنت کی بشارت اور کفر و شرک اور گناہوں پر دوزخ سے ڈرانا یعنی دعوت الی اللہ کا مبارک کا م قرار دیا گیا ہے۔
 حامل قرآن یہ امت اور کوئی مرد مومن، تمام نعمتوں میں افضل نعمت قرآن حکیم کی قدردانی اور اس پر ایمان کا حق اس وقت تک ادا نہیں کر سکتا جب تک وہ خود کو مجسم قرآن نہ بنا لے اور مجسم قرآن صرف وہی مسلمان کہلائے جانے کا ہے جو مجسم دعوت بن جائے، جس کی زندگی کا مقصد اللہ کے بندوں کو دوزخ سے بچانے کی فکر میں قرآن کریم کے مقصد نزول سے ہم آہنگ ہو جائے، علامہ اقبال نے کہا ہے :
یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
 قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
 ماہ مبارک کی قدردانی اور اس کی برکا ت کے حصول کا انحصار قرآن حکیم کی قدردانی پر ، اور اپنے آپ کو قرآن حکیم سے وابستہ کر دینے بلکہ مجسم قرآن بن جانے پر ہے اور یہ بات دعوت دین کے غم اور سوز کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی، اس لئے ہر مسلمان کو اس ماہ مبارک میں اپنے کو مجسم قرآن یعنی مجسم دعوت بننے کو، اس کا ر دعوت کے لئے قبولیت، اس کا حوصلہ اور اہلیت کی عطا کو، اور نشانہ بنا کر لوگوں کے لئے ہدایت کی دعا، اور پوری دنیا کے لئے ہدایت کی دعوت کو اس ماہ مبارک کا مبارک ترین وظیفہ سمجھنا چاہئے، اور اس مبارک کا م کے لیے، کچھ نشانے متعین کر کے کچھ عزم بھی کرنا چاہئے، اس طرح یہ ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے حقیقی معنوں میں قرآن حکیم کی قدردانی ہو گی۔٭
٭ بشکریہ ماہنامہ ارمغان، جولائی ۲۰۱۴ ص ۸-۱۳
     

دو رنگی چھوڑ دے... (تیسری اور آخری قسط).

”سربکف “مجلہ۶(مئی، جون ۲۰۱۶)
مدیر


۴۔  احسان والی زندگی
ان لوگوں کے لیے نیکیاں کرنا آسان ہو جاتا ہے، گناہ سے بچنا آسان ہو جاتا ہے، کیسا ہی  مخالف ماحول ہو جہاں صرف غیروں کی تہذیب کا سکہ چلتا ہو، یہ بطور ”مسلمان“ جاتے ہیں۔ کوئی بزم ہو، یہ سنتِ نبویﷺ پر عمل کرتے ہوئے شرماتے نہیں۔ نبی پاک ﷺ کی لائی ہوئی تہذیب کے سوا ہر تہذیب کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ سنتِ نبوی ﷺ کے علاوہ ہر طریقے کو حماقت گردانتے ہیں۔
آپ حیران ہوں گے کہ یہ کس عمل کی برکت ہے؟ کون سے تعویذ کا اثر ہے؟ یا کس بزرگ کی دعاؤں کا ثمرہ ہے کہ ان کے لیے وصول الی اللہ کی راہ اس قدر سہل ہو جاتی ہے؟
یہ ساری آشفتہ سری ہے ”عشق“ کی! عشق و محبت وہ تعویذ ہے جس کے اثر کو دنیا کی کوئی قوت چیلنج نہیں کر سکتی۔ عشق وہ لازوال جذبہ ہے جس کے سامنے باطل سر نگوں ہونے پر مجبور ہے۔ پھر لاکھ گناہوں کے پھندے تیار کر دیے جائیں اور کتنی ہی للچانے والی لذات سامنے کر دی جائیں...عاشق کی نظر صرف پیارے اللہ پر ہوتی ہے... اس کا ٹکٹکی باندھے دیکھنا ختم ہو تو کسی اور جانب توجہ دے۔ 
محبت کے ان پروں سے جب انسان وصول الی اللہ کی راہوں پر چل پڑتا ہے تو اس کے لیے تہجد میں اٹھنا بھی آسان، اللہ کا ذکر  کرنا بھی آسان، قرآن کی تلاوت بھی آسان، ہر موقع پر بلا خوف و خطر، سر بکف ہو کر حق کی بات کرنا بھی آسان!
ایک ہماری نماز ہے، ڈیلی روٹین(Daily Routine) والی...ریا والی...بے سوز...بے لذت...
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں
اور ایک ان عاشقوں کی نماز ہے جو نماز سے پہلے نماز کے منتظر ہیں... شدّت سے رب دو جہاں کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے کے منتظرہیں۔ پھر نماز بھی ایسی...   جس میں  یہ رب کو دیکھتے ہیں... اور رب... ان کو دیکھتا ہے...
أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ
تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو ۔
] صحیح مسلم،جلد اول: حدیث نمبر ۹۶[
کتنا پیارا  جواب ہے پیارے آقا ﷺ کا ! جبرئیل علیہ السلام کا سوال تھا، ”احسان کیا ہے؟“
آپ نے معیار متعین کر دیا
”کَاَنَّکَ تَرَاہُ“
گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔
ان لوگوں کی نماز احسان کے درجہ کی ہوتی ہے۔ ان کے دل اللہ کی محبت میں دھڑکتے ہیں۔ ان کی سانسیں اللہ اللہ پکارتی ہیں۔ ان کے اعمال و افعال سے...حتیٰ کہ فقط دیدار سے...اللہ یاد آتا ہے۔ ان کی پیشانی کا نور چھپائے نہیں چھپتا۔ چھپے بھی کیسے؟ یہ مردِ حق کی پیشانی کا نور ہوتا ہے۔
مردِ حقانی کی پیشانی کا نور
کب چھپا رہتا ہے پیشِ ذی شعور
ان کا رونا بڑا عجیب ہوتا ہے۔ کم از کم ہم گناہگاروں کے لیے تو بے حد عجیب۔
ایک  اللہ والے سے  کسی نے کہا کہ جنت اعمال کے بدلے کی جگہ ہے، وہاں اعمال نہیں کرنے ہوں گے... سن کر رونے لگے کہ جنت میں نماز نہ ہوگی۔ 
ہاں! یہ جنت میں نماز پڑھنے کے لیے روتے ہیں...یہ تکبیرِ اولیٰ فوت ہونے پر روتے ہیں...یہ تہجد چھوٹ جانے پر روتے ہیں... اور ایسا روتے ہیں کہ شیطان نما ز کے لیے اٹھا دیتا ہے۔ 
اس مقام پر پہنچنا بھی چنداں مشکل نہیں۔ پیارے آقا مدنی ﷺ نے دین کو آسان بتایا ہے، اور مقامِ احسان کوئی دین سے باہر کی چیز تو ہے نہیں کہ اس تک رسائی مشکل ہو۔ 
ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ جنت دو قدم ہے۔ کسی نے پوچھا اس کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا ”اے دوست! تو اپنا پہلا قدم نفس پر رکھ لے، تیرا دوسرا قدم جنت میں پہنچ جائے گا۔“
یہ کوئی نیا اور خود سے گھڑا ہوا  ضابطہ نہیں، اللہ کا بنایا ہوا ضابطہ ہے۔
وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى  40؀ۙفَاِنَّ الْجَنَّةَ ھِيَ الْمَاْوٰى   41؀ۭ
لیکن وہ جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا تھا اور اپنے نفس کو بری خواہشات سے روکتا تھا۔تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔
] سورہ ۷۹، النازعات: ۴۰-۴۱[
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ   46۝ۚ
اور جو شخص (دنیا میں) اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا تھا، اس کے لیے دو  جنتیں/ باغ ہوں گے۔
] سورہ ۵۵، الرحمٰن: ۴۶[
احسان والی زندگی تک پہنچنے کے لیے بھی صرف نفس پر ایک قدم درکار ہے۔ نفسِ امارہ کو مار دیں، حتیٰ کہ  آپ کی پسندیدہ چیزیں وہی بن جائیں جنہیں شریعت نے پسند کیا ہے۔
اس کا حصول کثرتِ ذکرِ الٰہی۱ اور صحبتِ اولیاء اللہ۲ سے ہوگا۔
پہلی۱۝چیز ذکرِ الٰہی کی کثرت ہے جو نفس کو کچلنا آسان بناتی ہے۔ ظاہر ہے،  آپ جس کا ذکر کریں، وہ چیز اچھی لگنے لگتی ہے۔ تجربہ کر کے دیکھ لیں! تکرار اچھی چیز کی ہو یا بری چیز کی، اپنا اثر ضرور چھوڑتی ہے۔ ایک پانی کا قطرہ تسلسل سے پتھر پر گرتا رہے تو پتھر میں سوراخ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث شریف میں آقا ﷺ نے فرمایا کہ گناہ کرنے سے انسان کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے...اگر توبہ کر لے تو وہ نقطہ مٹ جاتا ہے ورنہ پھر گناہ کرنے سے پھر ایک نقطہ لگ جاتا ہے...حتیٰ کہ اس تکرار کے سبب اس کا پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے...پھر بھلی بات اس کے دل پر اثر نہیں کرتی۔ یہ تکرار ہی کا تو اثر ہے۔
جس طرح کثرت سے گناہ کرنے سے آدمی گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا، درست و نادرست کی تمیز کھو بیٹھتا ہے، بالکل اسی طرح اگر تکرار اللہ کے پاک نام کی ہو تو دل اجلا ہونے لگتا ہے...نیکی کی سمت دل راغب ہوتا ہے اور نفس کا کچلنا آسان معلوم ہوتا ہے۔
دوسری۲۝ چیز، جو نفس کو کچلنے اور مقامِ احسان پر پہنچنے میں معاون ہے وہ اللہ والوں کی صحبت ہے۔ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم فرماتے ہیں۔
”میرے پیر و مرشد فرمایا کرتے تھے کہ سبزی ملتی ہے سبزی والوں کے پاس، کپڑا  ملتا ہے کپڑے والوں کے پاس، لوہا ملتا ہے لوہے والوں کے پاس، اسی طرح اللہ ملتا ہے اللہ والوں کے پاس۔“
صحبتِ اولیاء سے ہی محبتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے اور جھوٹی، دکھاوے اور نمود کی  عبادتوں میں اخلاص کی چاشنی گھلتی ہے،  دو رنگی اترتی ہے اور ایک خالص رنگ چڑھتا ہے۔ وہ رنگ جسے اللہ نے سب سے بہتر رنگ بتایا ہے...
صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً
(کہہ دو کہ ہم نے) اللہ  کا رنگ (اختیار کرلیا ہے) اور اللہ  سے بہتر رنگ کس کا ہوسکتا ہے؟
] سورہ ۲، البقرہ: ۱۳۸[
فقیر ہی کا  ایک شعر ہے...
سب سے بڑھ کر رنگ ہے اللہ کا
اور اس میں رنگنا آسان ہے
صبغۃ اللہ میں رنگے ہوئے  ان عاشقوں  کی دیوانگی کے کیا کہنے! ان کا رونا ہنسنا عجیب... چال ڈھال عجیب... اور دعائیں...سبحان اللہ!  عجیب و غریب دعائیں...اللہ ہمیں بھی توفیق دے کہ  ہم بھی دعا کو ہاتھ اٹھائیں...اشکِ محبت سے آنکھیں تر ہوں...عشقِ حقیقی سے دل پگھل رہا ہو...دنیا و ما فیہا کو بھول کر... یوں محبت میں ڈوبی  دعائیں مانگیں...
ربا!
ترے عشق کی انتہاء چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی ”لَنْ تَرَانِی“ سنا چاہتا ہوں
بلا شبہ یہ وہ ہیں جو عاشق ہیں... اور ... یہ وہ ہیں جو کامیاب ہیں...اللہ ہمیں بھی  اپنے عشاق میں شامل فرمائے۔
فقیر شکیبؔ احمد عفی عنہٗ
بروز پیر، ۱۱:۱۰ بجے صبح
٭٭٭