پیر، 11 مارچ، 2019

مولانا عبید اللہ سندھی اور عقیدہ حیات مسیح ایک تعارف

مفتی ارشاد احمد حقانی ﷾ (راجن پور، پنجاب، پاکستان)

 مولانا سندھیؒ  کی داستان زندگی کسی الف لیلیٰ سے کم نہیں ہے ۔ انکے کمالات بے شمار ہیں اور انکی شخصیت طلسماتی۔  ۲۸ ؍ مارچ ۱۸۷۲ کو ایک سکھ گھرانے میں جنم لیا لیکن ہدایت آپ کے نصیب میں رب کائنات نے لکھ رکھی تھی اور ایک سکھ بچے سے دین اسلام کی ایک بڑی خدمت کا لیا جانا مقدر ہو چکا تھا۔  مڈل کی تعلیم کے دوران مولانا عبید اللہ پائلی کی کتاب " تحفتہ الہند " پڑھی اور انکے کے قلب میں ایمان کی شمع روشن ہوئی۔  رہی سہی کسر شاہ اسمعیل شہید ؒ   کی ”تقویت الایمان “ نے پوری کر دی۔ 
 آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام اس کتاب کے مولف کے نام پر رکھنا مناسب سمجھا کہ جن کی کتاب پڑھ کر آپ کے دل میں ایمان نے گھر کیا تھا۔ مولانا سندھی کی تحریکی زندگی کا اصل رخ اس وقت سے شروع ہوتا ہے کہ جب دیوبند میں آپ کو شیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ کی صحبت حاصل ہوئی۔  مولانا سندھی کا شمار تحریک ریشمی رو مال کے مجاہدین اول میں سے ہوتا ہے۔  آپ کے ذمے شیخ الہند ؒ  کی جانب سے محاذِ افغانستان لگایا گیا تھا۔ ۱۹۱۵ ء میں آپ شیخ الہند ؒ  کے کہنے پر ہجرت کر کے افغانستان چلے گئے۔  امیر امان اللہ خان کو انگریزوں کے خلاف جہاد کے لیے تیار کرنے کا سہرا مولانا سندھی ؒ کے سر ہے۔ افغانستان سے آپ نے روس نقل مکانی کی اور پھر وہاں سے ترکی کی جانب مسافرت اختیار کی۔
 مولانا سندھی ؒ کی عظیم ترین خدمات میں...
 ۱۔ جہاد افغانستان کی آبیاری
 ۲۔ جمیعت الانصار کا قیام
 ۳۔ علوم قرآنی کی ترویج
 ۴۔ فکر ولی اللہی کا احیاء
 شامل ہیں ۔ 
 مولانا سندھی کے تلامذہ میں موسیٰ جار اللہ اور مولانا احمد علی لاہوری ؒ جیسی عظیم شخصیات کا نام شامل ہے۔ ۲۲ ؍اگست ۱۹۴۴ ء کو آپ نے دین پور میں رحلت فرمائی اور آپ کا جسد خاکی وہیں مدفون ہے۔  
( حوالہ : اکابر علماء دیوبند﷭، ۱۲۷ /۱۲۶، ادارہ اسلامیات لاہور، حافظ محمد اکبر شاہ بخاری۔)
 مولانا کی تفسیر " الہام الرحمان " کا منہج ِ اصلی: -
 مولانا سندھی ؒ فرماتے ہیں :
”قرآنی معارف و مطالب میں مجھے شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کے علاوہ کسی اور حکیم کے افکار سے مدد لینے کی ضرورت نہیں پڑی...
 میں نے قرآن سے جو کچھ اخذ کیا ہے اور جو بھی معانی مضامین قرآن سے مستنبط کیے ہیں مجھے انکی تعین اور تائید کے لیے شاہ صاحب کی حکمت سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ “
( شاہ ولی اللہ اور ان کا فلسفہ، مولانا سندھیؒ، ۲۲ )
 گو کہ مولانا سندھی ؒ کی " الہام الرحمان " مکمل تفسیر نہیں اور یہ سورہ فاتحہ سے سورہ بقرہ تک کل ۳۲۰ صفحات پر محیط ہے لیکن اس کے کمالات بے شمار ہیں۔ 
 ۱۔ تفسیر کا اسلوب اہل علم کے معیار کے مطابق ہے۔
 ۲۔ تصوف کا رنگ واضح دکھائی دیتا ہے۔
 ۳۔ ربطِ آیات کا خاص خیال رکھا گیا ہے ۔
 ۴۔ تقابل ادیان کے حوالے سے کچھ مباحث ملتے ہیں ۔
 ۵۔ اصول ولی اللہی اپنی پوری شان کے ساتھ نمایاں ہے۔ 
 مولانا سندھی ؒ کی تفسیر پر تنقید: -
 حیات مسیح علیہ السلام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے اور یہ قرآن و سنت کی براہِ راست تعلیمات سے مستنبط ہے لیکن مولانا سندھی ؒ کی اس تفسیر میں اس حوالے سے مختلف نکات ملتے ہیں کہ جن کی وجہ سے ان پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے اور " احمدی " گروہ اس سے اپنے موقف کی تائید میں استدلال کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ 
 مولانا سندھی اور نزول مسیح کے حوالے سے ایک تحقیق: -
 حضرت صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ لکھتے ہیں کہ :
 ” مولانا عبید اللہ سندھی کی طرف منسوب اکثر تحریریں وہ ہیں وہ ہیں جو املائی شکل میں ان کے تلامذہ نے جمع کی ہیں۔ مولانا کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی تحریرات اور بعض کتب نہایت دقیق و عمیق اور فکر انگیز ہیں اور وہ مستند بھی ہیں۔ لیکن املائی تحریروں پر پورا اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اور بعض باتیں ان میں غلط بھی ہیں جن کو ہم املا کرنے والوں کی غلطی پر محمول کرتے ہیں مولانا کی طرف ان کی نسبت درست نہ ہو گی۔“ 
 ( مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے علوم و افکار :ص ۷۸ )
 حضرت سواتیؒ مزید لکھتے ہیں کہ :
 ’’ پوری کتاب من و عن مولانا سندھیؒ کی طرف منسوب کرنا بڑی زیادتی ہو گی۔ اور اس کو اگر علمی خیانت کہا جائے تو بجا ہو گا کچھ باتیں اس کی مشتبہ اور غلط بھی ہیں جن کے مولانا سندھیؒ قائل نہیں تھے۔ اور نہ وہ باتیں فلسفہ ولی اللہی سے مطابقت رکھتی ہیں ‘‘۔
 ( عبید اللہ سندھیؒ کے علوم و افکار : ص۶۸ )
حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
 ’’ حیات مسیح کے بارے میں مولانا عبید اللہ سندھی وہی عقیدہ رکھتے تھے جو دوسرے علماء دیوبند کا ہے۔ مگر افسوس کہ موسی جار اللہ اپنی بات مولانا سندھی کے نام سے کہہ کر لوگوں کو مغالطہ دے رہا ہے۔ مولانا سندھی کے نظریات و عقائد وہی ہیں جو میں نے حاشیہ قرآن میں لکھ دئے ہیں ‘‘۔ 
 ( خدام الدین کا احمد علی لاہوریؒ نمبر :ص ۲- ۶ )
اس حاشیہ تفسیر کا کیا مقام ہے علامہ خالد محمود صاحب کی زبانی سنئے :
” مولانا احمد علی صاحبؒ نے حضرت شاہ ولی اللہ اور مولانا عبید اللہ سندھی کی تعلیمات کی روشنی میں قرآن پاک کا ایک مختصر اور جامع حاشیہ تحریر فرمایا۔  آپ نے اس میں سورت سورت اور رکوع رکوع کے عنوان خلاصے اور مقاصد نہایت ایجاز اور سادہ زبان میں ترتیب دئے۔ جہاں جہاں مضمون ایک موضوع پر جمع دکھائی دئے ان کو موضوع دار اور طویل اور مفصل فہرست اپنے حاشیہ قرآن سے بطور مقدمہ شامل فرمائی ۔ عصری تقاضہ تھا کہ اختلاف سے ہر ممکن پرہیز کیا جائے اس لئے آپ نے ترجمہ قرآن پر ہر مسلک کے علماء کی تائید حاصل کی آپ کی پوری کوشش تھی کہ قرآن پاک کا ایک مجموعہ حاصل قوم کے سامنے رکھ سکیں۔ آپ جب یہ مسودے تیار کر چکے تو انہیں لے کر دیوبند پہنچے۔ دیوبند میں ان دنوں محدث کبیر حضرت مولانا سید انور شاہ،  شیخ التفسیر حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کا دور دورہ تھا۔ آپ نے یہ سب مسودات ان حضرات کے سامنے رکھ دئے اور بتایا کہ انہوں نے یہ قرآنی محنت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی تعلیمات کی روشنی میں سر انجام دی ہے مولانا سندھیؒ پر چونکہ سیاسی افکار غالب تھے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ خالص دینی نقطہ نظر سے بھی اس قرآنی خدمت کا جائزہ لیا جائے اگر اکابر دیوبند اس کی تصدیق فرما دیں تو وہ اسے شائع کر دیں گے وگرنہ وہ یہ مسودات یہی چھوڑ جائیں گے پھر ان کی انہیں کوئی حاجت نہیں ہو گی۔ 
 اکابر نے ان کی تصدیق کی اور حضرت شیخ التفسیر مرکز دیوبند سے تصدیق لے کر لاہور واپس ہوئے اس ترجمے اور تحشئے کی نہ صرف اشاعت کی بلکہ درس و تدریس میں بھی قرآن کریم کا ذوق ہزاروں مسلمانوں کے دل و دماغ میں اتار دیا ۔“
 ( خدام الدین کاشیخ التفسیر امام احمد علی لاہوری نمبر :ص ۲- ۶ )
 حیات عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت سندھیؒ کی اپنی تصریح :-
 ’’ فائدہ دوم ! امام ولی اللہ دہلویؒ ’’ تفہیمات الٰہیہ ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالی نے بذریعہ الہام سمجھایا ہے کہ تجھ پر دو جامع اسموں کا نور منعکس ہوا ہے۔ اسم مصطفوی اور اسم عیسوی علیہما الصلوٰت و التسلیمات تو عنقریب کمال کے افق کا سردا ربن جائے گا اور قربِ الٰہی کی اقلیم پر حاوی ہو جائے گا۔ تیرے بعد کوئی مقرب الٰہی ایسا نہیں ہو سکتا جس کی ظاہری و باطنی تربیت میں تیرا ہاتھ نہ ہو۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں ‘‘۔ 
 ( رسالہ عبیدیہ اردو ترجمہ محمودیہ : ص۲۷ )
 یہاں حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے واضح طور پر نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ لکھا۔ یہ تالیف ان کے آخری ایام ۱۳۳۹ھ کی ہے لہٰذا ان کی اپنی اس تحریر کے ہوتے ہوئے کسی غیر معتبر املائی تفسیر کی کوئی حیثیت نہیں۔ 

     

ردِّقادیانیت کورس ( قسط۔۵)

منظور احمد چنیوٹی ﷫

٭جھوٹ نمبر ۵:
’’ احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور چودہویں صدی کا مجدد ہوگا۔‘‘
 (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۸،روحانی خزائن ج۲۱ ص ۳۵۹)
جبکہ کتاب البریہ ص ۱۸۷۔۱۸۸ بر حاشیہ روحانی خزائن ج۱۳ ص۲۰۵۔۲۰۶ کی عبارت یہ ہے:
’’ بہت سے اہل کشف نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودہویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا اور یہ پیش گوئی اگرچہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طور پر پائی جاتی ہے مگر احادیث کی رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عندالعقل ممتنع ہے ۔‘‘
احادیث جمع کثرت ہے اس لئے کم از کم دس احادیث صحیحہ متواترہ دکھاؤ جن میں مسیح موعود کے چودھویں صدی کے سر پر آنے کے الفاظ وغیرہ موجود ہوں مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزائی امت تا قیامت کوئی ایک بھی صحیح حدیث نہیں دکھا سکتی ۔
٭جھوٹ نمبر ۶:
’’ اگر احادیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کیلئے آواز آئے گی کہ:
’’ ھذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘
اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے ۔‘‘ 
(شہادۃ القرآ ن ص ۴۱،روحانی خزائن ص۳۳۷ج۶)
جھوٹ بالکل جھوٹ ! بخاری شریف میں اس قسم کی کوئی حدیث نہیں ۔ ھاتوا برہانکم ان کنتم صادقین ۔
قادیانی عذر:
۱) ا سکے متعلق قادیانی جواب دیتے ہیں کہ یہ حدیث کنزالعمال میں موجود ہے مگر ہمارا سوال یہ ہے کہ بخاری شریف سے دکھاؤ۔ کیونکہ مرزا نے بخاری شریف کا حوالہ دیا ہے۔
۲) بعض دفعہ وہ ہمارے بعض علماء کے اس قسم کے حوالہ جات پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی غلط حوالہ دیا ۔ جواب یہ ہے کہ کیا  ان کے غلط حوالہ دینے سے مرزا کی بات سچی بن جائیگی ؟ہر گز نہیں ۔
۳)ہمارے کسی عالم نے بطور استدلال اتنے زور سے غلط حوالہ نہیں دیا، عام حوالہ کا غلط ہو جانا اور بات ہے مگر اتنی تحدی اور زور شور سے حوالہ دینا اور پھر غلط دینا یہ دھوکہ اور فریب ہے ۔
۴) اگر وہ کہیں کہ نسیاناً لکھا گیا تو پھر اس کی معذرت ہونی چاہیے ۔ مرزا صاحب سے اس کی معذرت دکھاؤ اور کوئی سچا نبی نسیان پر قائم رہ نہیں سکتا۔ نسیان کا وقوع اور چیز ہے اس پر استقلال اور چیز ہے ۔
۵) اگر وہ چالاکی سے کہیں کہ مرزا صاحب کی غلطی نہیں بلکہ کاتب کی غلطی ہے تو جواب یہ کہ آگے آئے الفاظ ’’ اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ‘‘ وغیرہ اس کی تردید کرتے ہیں ۔
٭جھوٹ نمبر ۷:
’’ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے ۔ مکہ ، مدینہ اور قادیان ۔‘‘ 
(ازالہ اوہام بر حاشیہ ص۳۴، روحانی خزائن ص ۱۴۰ ج۳)
٭جھوٹ نمبر ۸:
’’ وقد سبونی بکل سب فمارددت علیہم جوابہم ‘‘
ترجمہ: مجھ کو گالی دی گئی میں نے جواب نہیں دیا۔
(مواہب الرحمن ص۱۸ طبع اول ص۲۰ طبع دوم۔ روحانی خزائن ص۲۳۶ ج۱۹)
یہ بالکل جھوٹ ہے کہ میں نے لوگوں کی گالیوں کا جواب نہیں دیا بلکہ خود مرزا صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں ابتدا سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے ۔
(کتاب البریۃ دیباچہ ص۱۰، روحانی خزائن ص ۱۱ ج۱۳)
مرزا صاحب کی گالیوں کے چند نمونے
یعنی مرزا کی تہذیب و شرافت
مرزا کی گالیوں کے مطالعہ سے پہلے گالیوں سے متعلق اس کے اپنے چند فتاویٰ لکھے جاتے ہیں جن میں اس نے گالی دینے کی سخت مذمت کی ہے :
۱) ’’ اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔ ‘‘ (کشتی نوح ج۱۹ ص ۱۱)
۲) ’’ خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسو ل کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘ 
(اربعین ۳ص۳۶ ،روحانی خزائن ج۱۷ص۴۲۶)
۳) ’’ گالیاں اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے ۔‘‘
(اربعین ۴ص۵،روحانی خزائن ج۱۷ص۴۷۱)
۴) ؎
’’ گالیاں سن کر دعا دو ، پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو ،تم دکھاؤ انکسار ‘‘
(براہین احمدیہ ج۵ص۱۱۴، روحانی خزائن ج۲۱ص۱۴۴)
اب مرزا  صاحب کی گالیوں کے چند نمونے ملاحظہ فرما لیں ۔
۱) ’’ تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ ویتنفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا الذین ختم اﷲعلی قلوبہم فہم لا یقبلون ۔ ‘‘
ترجمہ: میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے علوم سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے مگر کنجریوں کی اولاد ،جن کے دلوں پر اﷲ نے مہر لگا دی ہے پس وہ قبول نہیں کرتے ۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷، ۵۴۸،روحانی خزائن ج۵ص۵۴۷،۵۴۸)
۲) مولوی سعد  اﷲ لدھیانوی کے متعلق چند اشعار ملاحظہ فرمائیں
ومن اللئام اری رجیلا فاسقا
 غولا لعینا نطفۃ السفھاء
ترجمہ: اور لئیموں میں سے ایک فاسق معمولی آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے ، سفیہوں کا نطفہ ہے ۔
شکس خبیث مفسد و مزور
نحس یسمی السعد فی الجہلاء
ترجمہ : یہ بد گو اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اﷲ رکھا ہے ۔
آذیتنی خبثا فلست بصادق 
ان لم تمت بالخزی یا ابن بغاء
ترجمہ : تو نے اپنی خباثت سے مجھے د کھ دیا ہے پس میں سچا نہیں ہوں گا اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو اے نسل بد کاراں ۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۴،۱۵، روحانی خزائن ص۴۴۵،۴۴۶ج۲۲۔
انجام آتھم ص۲۸۱،۲۸۲ روحانی خزائن ص۲۸۱،۲۸۲ ج ۱۱)
نوٹ: بغایا ،بغیہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے بدکار عورت جیسا کہ قرآن کریم میں ہے :
’ ’وماکانت امک بغیا‘‘ او رباغی جس کا معنی سرکش ہے اس کی جمع بغاۃ ہے ۔
فائدہ: ذریۃ البغایا کا ترجمہ خود مرزا نے خراب عورتوں کی نسل ، بازاری عورتیں اور کنجریوں کا بیٹا کیا ہے ۔ 
( نور الحق حصہ اول ص۱۲۲، روحانی خزائن ص ۱۶۳ ج ۸، انجام آتھم ج۱۱ ۲۸۲روحانی خزائن ص۲۸۲ ج۱۱ ، خطبہ الہامیہ ص ۱۶ روحانی خزائن ص۴۹ ج۱۶)
۳) ’’ اے بد ذات فرقۂ مولویان تم کب تک حق چھپاؤ گے ، کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت چھوڑ و گے اے ظالم مولویو تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔‘‘
(انجام آتھم ص۱۹ برحاشیہ روحانی خزائن حاشیہ ص۲۱ ج۱۱)
۴) ’’ مگر کیا یہ لوگ قسم کھا لیں گے ہر گز نہیں کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں ۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۰ ۲۵ ، روحانی خزائن ص۳۰۹ج۱۱)
۵) ’’ بعض جاہل اور فقیری سجادہ نشین اور مولویت کے شتر مرغ‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۱۸۰، روحانی خزائن ص۳۰۲ج۱۱)
۶) ؎
ان العدا صاروا خنازیر الفلا
ونسائھم من دونھن الا کلب
ترجمہ : دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔
(نجم الہدیٰ ص ۵۳، روحانی خزائن ج ۱۴ ص۵۳) 
یعنی میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں ۔
٭ تنبیہ ٭
مرزائی اگر مرزا قادیانی کے جھوٹوں کے جواب میں یہ کہیں کہ العیاذباﷲ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی تین جھوٹ بولے تھے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے تو مرزا صاحب کے جھوٹ بھی اسی طرح کے ہیں تو اس کے دو جواب ہیں :
۱)جو جھوٹ ہم نے مرزا قادیانی کے پیش کئے ہیں وہ واقعتاً جھوٹ ہیں جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کلام تو توریہ اور تعریض کے طور پر ہے وہ حقیقت میں جھوٹ ہےہی نہیں، سمجھنے والوں کی غلطی ہے۔  ورنہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو کلام کیا ہے وہ مبنی بر حقیقت ہے جیسا کہ شراح حدیث نے اسکی وضاحت کر دی ۔
۲)مرزا قادیانی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نسبت اس روایت کی رو سے جھوٹ کا الزام لگانے والوں کو خبیث شیطان پلید مادہ والا کہا ہے اس نے لکھا :
’’ حضرت ابراہیم کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر ان پر بد گمانی ہے اس کی وجہ ان کی دروغ گوئی ہے تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس کا پلید مادہ اور خمیر ہے ۔‘‘
( مرزا کی کتاب آئینہ کمالات اسلام ص۵۹۸روحانی خزائن ج۵ص۵۹۸)
(دوسری دلیل )
جھوٹی پیش گوئیاں
اس بحث سے قبل خود مرزا صاحب ہی کے قلم سے لکھے ہوئی چند ایک اصول ملاحظہ فرمائیں :
اصول نمبر ۱:
’’ بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق و کذب جانچنے کیلئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محکم امتحان نہیں ۔ ‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۸۸ ،روحانی خزائن ص ۲۸۸ ج۵)
اصول نمبر ۲:
علاوہ اس کے جن پیش گوئیوں کو مخالف کے سامنے دعویٰ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ ایک خاص طور کی روشنی اور ہدایت اپنے اندر رکھتی ہیں اور ملہم لوگ حضرت احدیت میں خاص طور پر توجہ کر کے ان کا زیادہ تر انکشاف کرا لیتے ہیں ۔
(ازالہ اوہام ص۴۰۴،روحانی خزائن ص۳۰۹ ج۳)
ان دو اصولو ں کے بعد ہم کہتے ہیں کہ کوئی ایک پیش گوئی مرزا صاحب کی پیش کرو جس کو دشمن کے سامنے بطور دعویٰ پیش کیا ہو اور پھر وہ پوری ہوئی ہو۔
ہمارا دعویٰ ہے کہ وہ ایک دعویٰ میں بھی سچا نہ ہوا اور بقول اپنے رسوا اور ذلیل ہوا چنانچہ تریاق القلوب ص۲۵۴ روحانی خزائن ص۳۸۲ ج۱۵ پر لکھا ہے :
’’ اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے ۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ اس کی رسوائی کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ کسی ایک پیش گوئی میں جھوٹا ثابت ہو جائے بفرض محال اس کی کچھ پیش گوئیاں سچی بھی نکلیں تو وہ اس کے دعویٰ کی صداقت کی دلیل نہیں بن سکتیں ایسے تو بہت سے مُنَجِّموں کی پیش گوئیاں بھی سچی نکلتی رہتی ہیں ہاں کسی ایک پیش گوئی کا جھوٹا نکلنا اس کے کاذب ہونے کی صریح دلیل ہے ۔
(نوٹ) مرزا صاحب کی جھوٹی پیش گوئیاں بیان کرنے سے قبل قرآن مجید کی یہ آیت بار بار پڑھنی چاہیے :
’’ فلا تحسبن اﷲ مخلف وعدہ رسلہ ان اﷲ عزیز ذوانتقام‘‘
یعنی خدا تعالیٰ کو اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ خلافی کرنے والا گمان نہ کر ، اﷲ غالب اور انتقام لینے والا ہے ۔
پہلی جھوٹی پیش گوئی عبداﷲ آتھم کے متعلق:
’’ اور آج رات مجھ پر کھلا ہے وہ یہ کہ جب میں نے بہت تضرع سے جناب الٰہی میں دعا کی تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک ماہ سے لیکر پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جو پیش گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سجا کھے کیے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے اس طرح اﷲ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا ہے سو الحمد ﷲ والمنہ کہ اگر یہ پیش گوئی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نہ فرمائی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے۔
میں اس وقت اقرار کرتا ہوں اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کیلئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیا جائے ، روسیاہ کیا جائے ، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے مجھ کو پھانسی دی جائے ہر ایک بات کیلئے تیار ہوں اور میں اﷲ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا ضرور کرے گا زمین و آسمان ٹل جائیں ، پر اس کی باتیں نہ ٹلیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں ، بدکاروں او ر لعینوں سے مجھے زیادہ لعنتی قرار دو۔‘‘
 (جنگ مقدس ص۲۰۹تا ۲۱۱ ، روحانی خزائن ص۲۹۱ تا ۲۹۳ ج۶)
مرزا صاحب کی یہ پیش گوئی عبد اﷲ آتھم پادری کے متعلق ہے ۔ مرزا نے اس سے ۱۸۹۳ء میں مناظرہ کیا ۔پندرہ دن برابر مناظرہ ہوتا رہا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا شکست کھا گیا پھر گھر آ کر بتاریخ ۵ جون ۱۸۹۳ء اس کے متعلق یہ پیش گوئی گھڑ دی کہ وہ جتنے دن مناظرہ ہوتا رہا اتنے ماہ کے اندر اندر ہلاک ہوگا اگر ہلاک نہ ہوا تو میں جھوٹا ہوں گا ۔اس نے پندرہ ماہ خوب احتیاط سے گذارے اپنا کھانا وغیرہ خود پکاتا تھا ،آخر کار پندرہ ماہ ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کو مکمل ہوئے مگر آتھم پادری نہ مرا۔
اس کے بعد عیسائیوں نے بٹالہ کے مقام پر عبد اﷲ آتھم  کو ہاتھی پر سوار کر کے ایک عظیم الشان جلوس نکالا ۔مرزا غلام احمد قادیانی کا پتلا بنا کر اس کا منہ کالا کر کے اس کے گلے میں رسہ ڈال کر اس کو پھانسی دی پھر جلا کر دفن کیا۔
اب ہم مرزا ئیوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور پندرہ ماہ کے اندر عبد اﷲ آتھم ہلاک ہوا ؟؟؟ ہر گز ایسا نہیں ہوا، اور مرزا اپنی اس پیش گوئی میں دوسری پیش گوئیوں کی طرح ذلیل و رسوا ہوئے ۔ واضح رہے کہ عبد اﷲ آتھم کا انتقال ۲۷ مئی۱۸۹۶ء کو ہوا جبکہ مرزا کی پیش گوئی کی مدت گذر چکی تھی ۔
(نزول المسیح ص۱۶۸،روحانی خزائن ج۱۸ص۵۴۶)
مرزائی عذر:
’’عبد اﷲ آتھم نے اس مجلس میں ساٹھ ستر آدمیوں کے سامنے جناب نبی اکرم ﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کر لیا تھا۔‘‘
(خلاصہ عبارت حاشیہ حقیقت الوحی ص۲۰۷،روحانی خزائن ص ۲۱۶ج۲۲)
جواب نمبر۱:
اگر اسی وقت اس نے رجوع کر لیا تھا تو مرزا کو اسی وقت اسی مجلس میں اعلان کرنا چاہیے تھا کہ چونکہ اس نے رجوع کر لیا ہے لہذا میری پیش گوئی میں کوئی حرج نہیں آئے گا بلکہ میری پیش گوئی پوری ہو گئی حالانکہ مرزا صاحب کو بعد میں بھی یقین نہیں تھا کہ یہ پیش گوئی پوری ہو گئی یا نہیں ۔ اسی لئے تو مرزا صاحب نے اسکی ہلاکت کیلئے وظائف و دعائیں کیں اور واویلا کیا وغیرذلک ۔چنانچہ دیکھئے سیرۃ المہدی حصہ اول ص۱۷۸ و حصہ دوم ص ۱۲۱ حدیث نمبر ۱۶۰:
’’ بسم اﷲ الرحمن الرحیم بیان کیا مجھ سے میاں عبد اﷲ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح علیہ السلام نے مجھے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (تعداد یا د نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے) لے لو اور ان پر فلاں سورت کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی )میاں عبد اﷲ بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورت یاد نہیں مگر مجھے اتنا یاد ہے کہ کوئی چھوٹی سی سورت تھی جیسے الم تر کیف ……الخ ۔ اور ہم نے یہ وظیفہ تقریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا۔‘‘
جواب نمبر۲:
مرزا بشیر الدین محمود اس اعتراض کے جواب میں کہ تیری دعائیں قبول نہیں ہوئیں لکھتا ہے کہ حضرت صاحب کی بھی قبول نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ دیکھئے الفضل ۲۰ جولائی ۱۹۰۴ء :
’’ آتھم کے متعلق پیش گوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں ۔ میں اس وقت چھوٹا سا بچہ تھا اور میری عمر کوئی ساڑھے پانچ برس کی تھی مگر وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب و اضطرار سے دعائیں کی گئیں میں نے محرم کا ماتم بھی اتنا سخت نہیں دیکھا ، حضرت مسیح موعود ایک طرف دعا میں مشغول تھے……الخ۔‘‘
مرزائی عذر نمبر۲:
فریق سے مراد صرف عبدا ﷲ آتھم نہیں بلکہ تمام عیسائی ہیں جیسا کہ مرزا نے انوار الاسلام ص ۲ روحانی خزائن ص۲ ج۹ میں لکھا ہے ۔
جواب:
مرزا صاحب نے خود مقدمہ میں تسلیم کیا ہے کہ فریق سے مراد صرف عبد اﷲ آتھم ہے ، دیکھئے کتاب البریہ ص۱۷۳ روحانی خزائن ص۲۰۶ ج۱۳ :
’’ عبد اﷲ آتھم کے متعلق ہم نے شرطیہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر رجوع بحق نہ کرے گا تو مر جائے گا۔‘‘ (عبد اﷲ آتھم کی درخواست پر پیش گوئی صرف اس کے واسطے کی تھی کل متعلقین مباحثہ کی بابت بحث نہ تھی)
مرزائی عذر نمبر ۳:
’’عبد اﷲ آتھم اس لئے نہیں مرا کہ وہ اندر سے مسلمان ہو گیا ……اگر وہ خوف زدہ نہیں ہوا اور رجوع بحق نہیں ہوا تھا تو مباہلہ کرے اور قسم اٹھائے ‘‘ (روحانی خزائن ج۱۳ ص ۱۹۶)
الجواب:
اگر عبد اﷲ آتھم نے رجوع کر لیا تھا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ رجوع پندرہ ماہ کے اندر کیا تھا یا بعد میں ؟؟ اگر مدت کے اندر کیا تھا تو مرزا صاحب نے اعلان کیوں نہیں کیا تھا اگر پندرہ ماہ کے بعد رجوع کیا تھا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اسے تو پندرہ ماہ کے اندر مرنا تھا ۔ نیز اگر رجوع کر لیا تھا تو چنے کے دانے کیوں پڑھائے ، دعائیں کیوں کیں ، اور عیسائیوں نے فتح کا اتنا بھرپو ر جشن کیوں منایا تھا۔ رہی بات قسم کا نہ اٹھانا تو وہ اس لئے قسم نہیں اٹھا سکتا تھا کیونکہ عیسائی مذہب میں ہر قسم کی قَسم ناجائز ہے دیکھئے انجیل متی باب ۵ص۸،آیت نمبر ۳۴،۳۵ :
’’ پھر تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ تم جھوٹی قسمیں نہ کھانا بلکہ اپنی قسمیں خداوند کیلئے پور ی کرنا لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ بالکل قسم نہ کھانا نہ تو آسمان کی کیونکہ وہ خدا کا تخت ہے ، نہ زمین کی کیونکہ وہ اس کے پاؤں کی چوکی ہے نہ یروشلم کی کیونکہ وہ بزرگ بادشاہ کا شہر ہے نہ اپنے سر کی قسم کھانا کیونکہ تو ایک بال کو بھی سفید یا کالا نہیں کر سکتا بلکہ تمہارا بھرم ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو کیونکہ جو اس سے زیادہ ہے وہ بدی ہے ۔‘‘
علاوہ ازیں خود مرزا صاحب کو بھی اس حقیقت سے مفر نہیں کہ مذہب عیسائیت میں ہر قِسم کی قسم کی ممانعت ہے چنانچہ خود مرزا صاحب ا س حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ قرآن تمہیں انجیل کی طرح نہیں کہتا کہ ہر گز قسم نہ کھاؤ بلکہ بے ہودہ قسموں سے تمہیں روکتا ہے ۔‘‘ (کشتی نوح ص۲۷ روحانی خزائن ص۲۹ ج ۱۹) معلوم ہوا عبد اﷲ آتھم کا قسم سے انکار اپنے مذہب کی بنا پر تھا ۔جیسا کہ مرزا کا سؤر خوری سے انکار اپنے مذہب کی بنا پر تھا۔ (کتاب البریہ ص۱۶۳ ، روحانی خزائن ج۱۳ ص۱۹۶)
مرزا نے اشتہار جاری کئے کہ اگر وہ خوف زدہ نہیں ہوا اور رجوع بحق نہیں ہوا تو مباہلہ کرے اور قسم اٹھائے عبد اﷲ آتھم نے قسم اٹھانے سے انکار کیا کہ مسیحی مذہب میں قسم کھانا منع ہے تب ہم نے اس اشتہار حرف ’ Q‘جاری کیا تھا کہ مرز اخو ک (خنزیر)کا گوشت کھا کر ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے کیونکہ اور مسلمان اس کو مسلمان نہیں مانتے تب عبد اﷲ آتھم کو یہ کہنا اس کے برابر ہوگا۔
 (جاری ہے...) 

     

یکجہتی

حافظ مہر محمد میانوالی

سوال: آپ کے مذہب کی بنیاد اقوالِ اصحابؓ ہیں جو مختلف الاجتہاد الرائے تھے تو یکجیتی کی ضمانت کیا ہے جب صراطِ مستقیم صرف ایک راستہ ہےَ آپ کے مذہب کے اصولِ دین کا حقیقی معیار کیا ہےَ؟

الجواب:-

ہمارے مذہب کی اصل بنیاد اور حقیقی معیار تین چیزیں قرآن مجید ، سنت ِ نبویؒ، اجماع امت جس میں صحابہ کرامؓ کا اجماع بھی آجاتا ہے ،  ایک ظنی اصول قیاس شرعی بھی ہے یعنی جس نئے مسئلے میں قرآن و حدیث خاموش ہوں ، اجماع امت بھی نہ ملے تو اہل اجتہاد و علماء اس جیسا مسئلہ قرآن و سنے اور اجماع میں تلاش کریں اگر مل جائے تو اسے اصل (مقیس علیہ) بنا کر نئے مسئلے پر بھی وہی حکم لگا دیں۔ حضرات صحابہ کرامؓ اور ائمہ اجتہادیہ کام کرتے آئے ہیں اور قیاس کا یہ مختلف النوع لچک آمیز اصول قانونِ اسلام کی وسعت، دیگر مذاہب پر اس کی برتری اور جدید سائنسی دور میں ترقی کا ضامن ہے۔ تعجب ہے کہ شیعہ اس قیاس شرعی ۔ مبنی قرآن و سنت کے تو منکت ہیں مگر بہت سے مسائل محض عقل کے بل بوتے پر طے کرتے ہیں۔ خواہ صراحتہً وہ قرآن و سنت کے خلاف ہوں، جیسے رسومِ عزاداری ، مذمت صحابہ کرامؓ اور ایجاد امامت و غیرہ ۔ مذہبی یک جہتی کی ضمانت یہ  ہے کہ قرآن و سنت اور اجماعت امت میں تو سب متفق ہیں ان سے ہم کسی کو اختلاف کا حق نہیں دیتے ۔ اجتہادی مسائل میں ایک مجتہد کی رائے دوسرے مجتہد سے مختلف ہو سکتی ہے مگر عامی شخص کو یہ حق ہے کہ جس مجتہد کو اپنے عقیدہ و امانت کی رُو سے قرآن و حدیث اور اجماعی مسائل کے زیادہ قریب سمجھے اس کی تقلید کرے ،  باقی ائمی مجتہدین کا احترام کرے ۔ ایک امام کا مقلد دوسرے کے پیچھے اقتداء کر سکتا ہے اوریوں یہ امت ایک ہی صراطِ مستقیل  پر گامزن ہے۔ تعجب ہے کہ زندہ اماموں کا سلسلہ ماننے کے باوجود  شیعہ تقلید مجتہدین کے قائل ہیں  پھر مجتہد کے مرنے پر اس کا فتویٰ مر جاتا ہے۔ نیا مجتہد تلاش کر کے پہلے فتویٰ کے برعکس اس کی تقلید لازم سمجھی جاتی ہے اور وہ دوسرے کے مقلد کے پیچھے نماز پڑھنے کا مجاز نہیں یہ تو ایک امامیہ کا حال ہے کہ صرف پاکستان میں ۹ مختلف فقہوں والی شریعت مداروں اور مجتہدوں کے مقلد شیعہ ۹ فرقے موجود ہیں۔ باقی آغا خآنی ، زیدی ، تفضیلی شیعوں کو دیکھا جائے تو سب ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں ، ہر ایک کے امام جدا جدا بنے ہوئے ہیں  تو شیعہ بے چاروں کو صراطِ مستقیم کی سمت کا بھی پتہ نہیں ہے کیونکہ صراطِ مستقیم منعم علیھم چار گروہوں کے راستے کا نام ہے۔ انبیاء ؔ، صدیقینؔ، شہداؔ ، صالحینؔ ان چاروں  میں ائمہ نہیں ہیں بلکہ شیعہ تو ائمہ کو انبیاء سے افضل مانتے ہیں تو امامیہ صراط مستقیم کیسے پائیں ؟ اور مذہبی یکجیتی کیسے حاصل ہو؟َ٭

٭ ماخوذ از ”شیعہ کے ۱۰۰۰ سوال کے جوابات“ –حافظ مہر محمد میانوالی
     

داعی محمد عمر سے ایک ملاقات

احمد اوّاہ: السلام علیکم و رحمۃ اللہ

داعی محمد عمر: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

س:محمد عمر صاحب سب سے پہلے آپ اپنا تعارف کرائیے آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں ؟

ج:میری پیدائش ۶ ؍دسمبر۱۹۹۲ء کو احمد آباد کے ایک برہمن پنڈت خاندان میں ہوئی، میرے ڈیڈ(والد)ایک مندر کے ٹرسٹی ہیں، مجھ سے بڑے دو بھائی  اور دو بہنیں ہیں، ماں، والد اور چچا سب ایک ساتھ رہتے ہیں، میں گھر میں سب سے چھوٹا اور سب کا لاڈلا تھا، میری پیدائش احمد آباد میں ہوئی ہے، میرے والد مجھ سے بہت پیار کرتے تھے، اور بچپن سے ہی میں پڑھائی میں بہت اچھا تھا، دسویں تک میں نے ایکلویہ  (Eklavya)اسکول میں پڑھا۔ گیارہویں میں میں نے سائنس لیا اور اپنی تعلیم مکمل کی۔

 میں بہت دھارمک(مذہبی )گھرانہ میں پلا بڑھا، میری ہر ضد میرے  گھر والے پوری کرتے تھے، بارہویں کلاس میں سائنس سائڈ میں میرے پرسنٹیج بہت اچھے 82% آئے تھے  تو گھر والے بہت خوش ہوئے، میرے والد  اکشردھام مندر کے ٹرسٹی ہیں اور بڑے بھائی ہائی کورٹ میں وکیل ہیں، میرا فرینڈ سرکل (حلقۂ احباب )بہت چھوٹا تھا، اور وہ سب پڑھائی میں اچھے تھے، آگے کی تعلیم کے لئے وہ سب کے سب باہر پڑھنے کے لئے جانے والے تھے، میرے لئے میرے بڑے بھائی ہمیشہ کہتے تھے کہ تجھے میں پڑھنے کے لئے باہر آسٹریلیا بھیجوں گا، جب کہ میں گجرات سے باہر نکلنا چاہتا تھا، اور پڑھائی کے لئے دہلی جانا چاہتا تھا، والد صاحب نے مجھ سے پوچھا: اب آگے کس ڈگری میں جانا ہے ؟میں نے کہا مجھےB.S.C کرنی ہے دہلی سے۔ تو گھر والوں نے اور والد صاحب نے دہلی کے لئے منع کر دیا کہ تجھے گجرات کے باہر نہیں جانا ہے اور دہلی تو بالکل نہیں، لیکن مجھے تو باہر جانا تھامیں ضد پر اڑ گیا، گھر والے بھی ضد پر اڑ گئے کہ گجرات کے باہر نہیں جانے دیں گے۔ میں نے سب سے بات چیت بند کر دی، اور ایڈمیشن فارم بھی نہیں بھرا، میری پوری فیملی تعلیم یافتہ ہے، جب لاسٹ ڈیٹ چلی گئی تو ان سب کو فکر ہوئی کہ میرا مستقبل خراب ہو جائے گا، میرے والد اور بڑے بھائی نے اگلے دن مجھے ایڈمیشن کے لئے کہہ دیا کہ دہلی میں ہی کروا لو، میں بہت خوش ہوا کہ میں جو چاہتا تھا وہ ہو گیا، میں نے دہلی میں ایڈمیشن لے لیا اور رہنے کے لیے میرے ایک انکل تھے، ان کے گھر رہنے لگا، وہاں سے نوئیڈا MIT Universityجاتا تھا، میرے انکل کے دو لڑکے تھے، کچھ مہینوں کے بعد ان کی شادی ہو گئی، تومیں بہت کنجسٹڈ لگنے لگا، تومیں نے والد صاحب سے بات کی کہ اب مجھے ہوسٹل لینا پڑے گا، یہاں گھر میں رہ کر پڑھائی نہیں ہو پا رہی ہے، کچھ دنوں کے بعد میں نے ہوسٹل لے لیا اور وہاں شفٹ ہو گیا، ہوسٹل میں میرے کمرہ کے ساتھی ڈرنک  اور نشہ کرتے تھے، اور میں پہلے سے نشہ اور شراب سے دور رہتا تھا، کچھ دنوں تک ایسا ہی چلا، پھر میں نے اپنا کمرہ بدل لیا، اور جس نئے روم میں گیا، وہاں دو مسلمان طلباء بڑی بڑی ڈاڑھی والے تھے، مجھے بہت غصہ آیا کہ اب مسلمانوں کے ساتھ رہنا پڑے گا، اور مجھ سے ان کے لئے گالی بھی نکلی، اللہ معاف کرے۔

س:آپ نے اس ماحول میں اسلام کیسے قبول کیا؟

ج:نیا ہوسٹل کالج سے نزدیک تھا، میں شام کو ٹیوشن چلا جاتا تھا اور رات  کو نو بجے آتا تھا، جب میں واپس آتا تھا تو دیکھتا تھا کہ تقریباً دس مسلمان میرے کمرہ سے روزانہ نکلتے تھے، مجھے تھوڑا شک ہوا کہ یہ لوگ روزانہ یہاں کرتے کیا ہیں ؟کہیں یہ لوگ ٹیررسٹ  تو نہیں، میں نے اپنا ٹیوشن ٹائم چینج کروایا اور شام کوپانچ بجے کمرہ میں آ گیا، جب شام کو آٹھ بج گئے تو یہ سب مسلمان میرے کمرہ میں آئے اور جو ہمارے روم کے لڑکے تھے وہ بھی نیچے بیٹھ گئے اور ایک گھنٹہ تک کوئی کتاب پڑھتے رہے، مجھے اس وقت اردو نہیں آتی تھی، تو جس لفظ پر مجھے کچھ شک ہوتا، میں اس کو فوراً گوگل ڈکشنری میں دیکھتا، دھیرے دھیرے ان لوگوں سے جان پہچان ہو گئی، ان میں سے ایک کا نام وسیم تھا اور دوسرے کا ذکی۔ وسیم بنگلور کا رہنے والا تھا اور ذکی کرناٹک کا۔ لیکن میں ان سے دور دور رہتا تھا اور ان کو طعنے مارتا تھا کہ تم سب مسلمان لوگ آ تنک وادی ہو اور بے گناہوں کو مارتے ہو، وہ مجھے سمجھاتے، ایسا نہیں ہے، مسلمان اصل میں ایک مکھی بھی نہیں مار سکتا، اسلام اور ایمان تو عمل اور سکون کا نام ہے۔

 جب وہ روزانہ کتاب پڑھتے تومیں نئے نئے الفاظ کو گوگل پر سرچ کرتا اور اس کا مطلب پتہ کرتا، میں روزانہ ان سے بحث کرتا اور وہ دلائل کے ساتھ مجھے سمجھاتے، تو آہستہ آہستہ دوستی ہونے لگی، اس کے بعد یہ ہوا کہ میں چھٹیوں میں گھر جاتا تو مجھے پتھروں کے سامنے جھکنا اچھا نہیں لگتا تھا، ایک عجیب سی گھٹن ہوتی تھی، اور ان کے ساتھ رہتے ہوئے میں سنتوں پر کب عمل کرنے لگا مجھے خود پتہ نہیں لگا، ہلکا سا چہرہ رکھا، اور ٹخنوں سے اوپر جینس پہنتا تھا، چوتھے سمسٹر میں میں نے ایک کتاب پڑھی، جس کا نام تھاReturning your trust… (”آپ کی امانت“ کا انگریزی ترجمہ )اسے پڑھ کر ایک عجیب سا تصور میرے اندر پیدا ہو گیا تھا، مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میں جو چاہتا تھا وہ مل گیا ہے، مولانا طارق جمیل صاحب کے بیان، حضرت کی کتاب جیسے نسیم ہدایت کے جھونکے وغیرہ پڑھ کر بہت اچھا لگا، اب میں سوچنے لگا کہ کیاں کروں، میں کیسے کلمہ پڑھوں اگر مسلمان ہو گیا تو گھر والے ناراض ہو جائیں گے، اگر کلمہ نہیں پڑھا تو اللہ ناراض ہو جائے گا، اس دوران وسیم نے بہت بار مجھ سے کہا کلمہ پڑھ لو، لیکن میں والد صاحب سے ڈرتا تھا، میں ان کو تکلیف بھی دینا نہیں چاہتا تھا، کچھ دنوں کے بعد، وسیم کا سعودی عرب کے لئے ویزہ آ گیا اور وہ وہاں چلا گیا، لیکن وہاں سے وہ مجھ سے بات کرتا رہتا تھا اور سمجھاتا تھا، میں نے ایک دن مولانا طارق جمیل کا بیان سنا، بیان تھا کہ ایک کافر عتبہ تھا جس نے میرے نبی کو جنگ میں پتھر مارا تھا، پھر بھی آپ نے اس کے لئے بد دعا نہیں کی، اس واقعہ کو سن کر مجھے بہت رونا آیا  اور میں کمرے سے اٹھا اور سیدھا نظام الدین مرکز گیا اور وہاں کے خدمت والوں سے کہا کہ مجھے کلمہ پڑھنا ہے، مجھے ایسا لگا جیسے وہ ڈر رہے تھے، ڈرتے، ڈرتے مجھے اوپر لے گئے، اور ایک آدمی کو بلایا جس کی بہت خوب صورت ڈاڑھی تھی، انھوں نے مجھے کلمہ پڑھوایا، میں مولانا سعد صاحب سے بھی ملا، تو انھوں نے مجھ سے ابھی اپنے اسلام کو چھپانے کے لئے کہا، اور یہ کہا کہ جلدی سے اپنے کاغذ بناؤ، اور جماعت میں وقت لگاؤ۔

س:اس بات کا آپ کے گھر والوں کو پتہ نہیں چلا؟

ج:چوتھے سمسٹر کے بعد میں ایک مہینہ کی چھٹی گذارنے کے لئے گھر گیا، جب میں گھر گیا تو مجھے اسلام کو چھپانا تھا اور ڈائرکٹلی  گھر والوں کو اسلام کی دعوت دینی تھی، اس زمانے میں بھی میں رات کو چپکے سے بیان سنتا، اور نیٹ پر نماز سیکھتا، ایک دن ہمارے گھر سے دور ایک مسجد ہے، وہاں سے گذر رہا تھا، عصر کی نماز ہو رہی تھی، مجھے نماز پڑھنی تو آتی نہیں تھی، مگر چلا گیا، جیسے دوسرے کر رہے تھے، ویسا ہی میں نے کیا، اور اللہ سے دعا کی  کہ اے اللہ میرے گھر والوں کوا سلام میں داخل کر دے، دعا کر کے باہر نکلا اور دوستوں سے ملنے ریور فرنٹ جا رہا تھا، اسی درمیان والد صاحب کا فون آ گیا کہ جلدی گھر آ جاؤ، میں گھر پہنچا تو دونوں بھائی تین چاچا اور پورا خاندان بیٹھا تھا، والد صاحب نے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو؟ میں نے کہا ریور فرنٹ جا رہا تھا، والد صاحب نے کہا نہیں اس سے پہلے ؟میں سمجھ گیا کہ ان کو پتہ چل گیا ہے، میں چپ ہو گیا، لیکن ڈر بالکل نہیں تھا، والد صاحب بولے کیا تو مسلمان ہو گیا ہے ؟مسلمان تو ایسے ہوتے ہیں، ویسے ہوتے ہیں، میں نے کہا: والد صاحب مسلمان ایسے نہیں ہوتے، اتنا کہنا تھا کہ چاچا اٹھے اور مارنا شروع کر دیا، میں والد صاحب کا لاڈلا تھا، تو انھوں نے مجھے ایک کمرہ میں بند کر دیا، کھانا کھانے کے وقت مجھے باہر نکالتے، اس کے بعد نہیں، بعد میں مجھے والدہ سے پتہ چلا تھا کہ اس دن والد صاحب کو ان کے ایک دوست نے میرے بارے میں بتایا تھا کہ میں مسجد گیا تھا، میرے والد کے وہ دوست مجھے دیکھ گئے تھے مسجد سے باہر نکلتے وقت، میں ۱۵ ؍دن اسی حال میں بند رہا، ایک دن اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کیا اور اللہ سے دعا کی یا اللہ مجھے اس گھٹن سے نکال دے اور بہت رویا، اسی رات کو میری آنکھ کھلی تورات کو تین بجے تھے، دیکھا تو کمرہ کھلا ہوا تھا، میں نے اپنا بیگ تیار کیا اور جب ATM  لیا اور گھر سے بھاگ گیا ۔ ریلوے اسٹیشن پہنچا تو دہلی کے لئے کوئی گاڑی نہیں تھی، ممبئی کی گاڑی میں بیٹھ گیا، اور سیدھا چونا بھٹی مرکز پہنچا، وہاں پر ایک ساتھی سے کہا کہ مجھے جماعت میں جانا ہے، انھوں نے مجھے رکنے کو کہا کہ یہیں رکو، پہلے کاغذ بنو الو، ابھی تین دن ہیں، لیکن وہاں کاغذ نہیں بن پائے، اس کے بعد ریزرویشن کروایا اور دہلی سیدھا نظام الدین مرکز گیا، وہاں پرازہر بھائی سے ملا تو انھوں نے بھی کہا کہ پہلے اپنے کاغذ بنوا لو، میں بہت پھرا، تو بھی کنورژن  سرٹیفیکیٹ نہیں ہوا، اسے بنانے کے لئے ایک مہینہ گھوما، بھوکا بھی رہا لیکن ہمیشہ اللہ سے دعا کرتا رہا، اور اللہ پرمیرا ایمان پکا بنا رہا، پھر سورت میں میرے کاغذات بنے، کاغذ بنانے کے بعد میں نظام الدین گیا، اور میرا پہلا چلہ گجرات میں میوات کی ایک جماعت کے ساتھ لگا، جماعت میں ۲۹ ؍دن کے بعد ایک مسجد میں لوگوں کو پتہ چل گیا کہ یہ نومسلم ہیں، تو انھوں نے کارگذاری سنانے کو کہا، مغرب کے بعد کارگذاری ہوئی، کچھ لوگوں نے ریکارڈنگ کر لی، اور واٹس  ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے کو بھیجنے کی وجہ سے گھر والوں کو پتہ چل گیا، اللہ نے میرے دل میں بات ڈالی اور خواب میں بھی آیا کہ میں وہاں سے نکل جاؤں، اس لئے صبح کو میں ممبئی نکل گیا، اور باقی  کا وقت ممبئی میں لگایا، اور اس کے بعد مجھے گزٹ میں اپنا اندراج کروانا تھا، تومیں سورت آیا، اور گزٹ میں اندراج کروایا، اگلے دن میرے گھر والوں کو پتہ چل گیا تو انھوں نے مجھے پکڑ لیا، اور سیدھا وہاں سے احمد آباد لے کر چلے گئے، انھوں نے مجھے بہت مارا، لیکن الحمدللہ ایمان اتنا پکا تھا کہ میں نہیں پھرا، گھر والوں نے مجھے جیل میں ڈلوا دیا، کہ یہ دہشت گردی میں شامل ہے، اور مجھے پولس والوں نے بہت مارا، مجھ سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا، اور سر میں آنکھ کے نیچے بہت زخم ہوا، لیکن اللہ کی اور میرے نبیﷺ کی محبت اس درد سے زیادہ تھی، مجھے سابرمتی جیل بھیج دیا گیا، کچھ دن وہاں رہا، وہاں پر ایک حافظ صاحب تھے جنھوں نے مجھے قاعدہ پڑھنا سکھایا، اور جیل میں مجھے تین مرتبہ اللہ کے نبیﷺ کی زیارت ہوئی، الحمدللہ۔

س:اس کے بعد کیا ہوا؟

ج:اس کے بعد کیس کمزور ہونے کی وجہ سے مجھے چھوڑ دیا گیا، اور میں وہاں سے دہلی آیا، میں نے اپنی باقی پڑھائی پوری کی، اپنا آخری سمسٹر پورا کیا، اور وہاں سے اورنگ آباد آیا، اور اسی سال میں نے ایک اور چلہ لگایا، حضرت سے ملاقات کے لئے میں بہت دنوں سے تڑپ رہا تھا، اور ابھی بھی تڑپ رہا ہوں، اللہ کرے ملاقات ہو جائے، ایک دن میں اورنگ آباد کے مرکز میں تھا، وہ جمعہ کا دن تھا، اور میری ختنہ ہوئی تھی، الحمدللہ اسی دن شام کو میوات کی ایک جماعت آئی تھی، اس کے امیر صاحب گجرات کے تھے، جب مجھے پتہ چلا کہ جماعت گجرات کی ہے تو مجھے  بہت خوشی ہوئی، میں ان سے ملا اور وہ لوگ مجھ سے مل کر بہت  خوش ہوئے، شام کو عصر کے بعد مرکز کے ایک ذمہ دار آئے اور ساری جماعت سے بات کی، میں بھی وہیں تھا، بات ہونے کے بعد وہ جماعت کے امیر اور میں بات کر رہے تھے، اتنے میں مسجد وار جماعت کا ایک ساتھی مجھ سے بولا، تم لوگ صرف پیسے کے لئے مسلمان ہونے کا ناٹک کرتے ہو، اب کسی کو مت بول کہ تونو مسلم ہے، ورنہ مرکز سے دھکے مار کر نکلوا دوں گا،٭ مجھے بہت برا لگا، اور میں روتا ہوا اور ختنہ کے درد کی وجہ سے وہاں سے چلا آیا، وہاں سے جاوید بھائی (حضرت کے ایک داعی )ان کے پاس پہنچا اور وہ مجھے مولانا علیم صاحب کے گھر لے گئے، میں اب وہیں رہ رہا ہوں، اور میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں، حضرت کے داعی عارف خاں بھائی نے مجھے اپنا بھائی مانا اور انھوں نے مجھے دس دن بہت پیار سے اپنے گھر پر رکھا، اور میرے ایمان کو بڑھانے میں عارف بھائی کی بہت کوشش ہے، اگر آج بھی مجھے مشورہ کی ضرورت پڑتی ہے تومیں سب سے پہلے اپنے بھائی داعی عارف کو فون کرتا ہوں، وہ میرے دلی خیرخواہ ہیں اللہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔

س:فی الحال آپ کیا کر رہے ہیں ؟

ج:میں نے فی الحال انٹیریر ڈیزائن کی آفس شروع کی ہے، الحمدللہ کام بھی اچھا چل رہا ہے، او ر گھر والوں سے بات چیت بھی ہو رہی ہے، والدہ نے کلمہ پڑھ لیا ہے، ابھی بڑے بھائی پر محنت چل رہی ہے، اللہ کی ذات سے امید ہے کہ جلد ہی وہ لوگ اسلام  میں آ جائیں گے، اس درمیان اور بھی حالات آئے، لیکن اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت اس حالت سے زیادہ ہے، الحمدللہ میرا رشتہ بھی ہو گیا ہے، پیدائشی مسلم فیملی میں یہ رشتہ ہوا ہے، سب کا رشتہ لوگ طے کرتے ہیں، میرا رشتہ اللہ اور اس کے رسول نے کیا ہے، لڑکی کو خواب میں اللہ کے نبی کی زیارت ہوئی تھی، اور مجھے  بھی اللہ کے رسولﷺ نے خواب میں آ کر رشتہ کے لئے کہا، اور لڑکی عالمہ ہے، میں بھی اس رشتہ سے خوش ہوں، انشاءاللہ بقر عید کے بعد حضرت آ کر نکاح پڑھوائیں گے۔

س:مسلمانوں کے لئے کوئی پیغام دیں گے ؟

ج:دعوت دینے کے لئے اللہ نے ہمیں بھیجا ہے، کالج کے ماحول میں جس طرح میرے دوست میرے بھائی وسیم نے مجھے دعوت دی، لاکھوں بچے اسکول کالج میں پڑھتے ہیں جو ہمارے دوست ہوتے ہیں، ساتھ کھاتے پیتے ہیں، ساتھ رہتے ہیں، لیکن ہم انھیں ہمیشہ ہمیش کی آگ سے نہیں بچاتے، میں سب سے یہ گذارش کروں گا کہ آپ اگر دعوت نہیں دیں گے تو وہ لوگ اپنے مذہب کی دعوت دیں گے، اور اللہ اوروں سے کام لے گا، اور بجائے اس کے کہ ہم ان بیچاروں کو آگ سے بچائیں، وہ خود نہ جاننے کی وجہ سے دوسرے خاندانی مسلمان نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں، اگر ان کو دعوت دے کران کا حق ادا کیا جائے، تو خود جو مسلمان نوجوان اسکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں، ان کا ایمان زد پر آنے سے بچ جائے گا۔

س:بہت اچھا پیغام دیا آپ نے، بہت بہت شکریہ ؟

ج:آپ کا شکریہ آپ نے مجھے اس محفل میں شریک کیا۔ ٭
٭٭٭

٭ بشکریہ ماہنامہ ارمغان، اکتوبر    ۲۰۱۵، ص۲۱-۲۴
     

الاحادیث المنتخبہ 7

مدیر کے قلم سے

نبوت کا  تاج پہنتے ہوئے

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ قَالَ  أَخْبَرَ نَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ  رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ فَکَانَ لَا يَرَی رُؤْيَا إِلَّا جَائَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَائُ وَکَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَائٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَی أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِکَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَی خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّی جَائَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَائٍ فَجَائَهُ الْمَلَکُ فَقَالَ اقْرَأْ فَقَالَ  فَقُلْتُ  مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّی بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّی بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ  قَالَ  فَأَخَذَنِي  فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَدَخَلَ عَلَی خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّی ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَی نَفْسِي فَقَالَتْ خَدِيجَةُ کَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيکَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّی أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی ابْنَ عَمِّ خَدِيجَةَ وَکَانَ امْرَأً  تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَکَانَ يَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعِبْرَانِيَّ فَيَکْتُبُ مِنْ الْإِنْجِيلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَکْتُبَ وَکَانَ شَيْخًا کَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَی فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَی فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ عَلَی مُوسَی يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَکُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُکَ قَوْمُکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ قَالَ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِکْنِي يَوْمُکَ أَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَائِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِي جَائَنِي بِحِرَائٍ جَالِسٌ عَلَی کُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ فَرُعِبْتُ مِنْهُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّر  وَثِيَا بَکَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو صَالِحٍ وَتَابَعَهُ هِلَالُ بْنُ رَدَّادٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ بَوَادِرُهُ

(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 3 حدیث مرفوع)

یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ بن زبیر ام المومنین حضرت عائشہ  سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلی وحی جو رسول اللہ ﷺ پر اترنی شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے، جو بحالت نیند آپ ﷺ دیکھتے تھے، چنانچہ جب بھی آپ ﷺ خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوجاتا، پھر تنہائی سے آپ ﷺ کو محبت ہونے لگی اور غار حرا میں تنہا رہنے لگے اور قبل اس کے کہ گھر والوں کے پاس آنے کا شوق ہو وہاں تحنث کیا کرتے، تحنث سے مراد کئی راتیں عبادت کرنا ہے اور اس کے لئے توشہ ساتھ لے جاتے پھر حضرت خدیجہ  کے پاس واپس آتے اور اسی طرح توشہ لے جاتے، یہاں تک کہ جب وہ غار حرا میں تھے، حق آیا، چنانچہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور کہا پڑھ، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ ﷺ بیان کرتے ہیں کہ مجھے فرشتے نے پکڑ کر زور سے دبایا، یہاں تک کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، پھر دوسری بار مجھے پکڑا اور زور سے دبایا، یہاں تک کہ میری طاقت جواب دینے لگی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ تیسری بار پکڑ کر مجھے زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب سب سے بزرگ ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے دہرایا اس حال میں کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا چنانچہ آپ حضرت خدیجہ بنت خویلد کے پاس آئے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو، تو لوگوں نے کمبل اڑھا دیا، یہاں تک کہ آپ کا ڈر جاتا رہا، حضرت خدیجہ  سے سارا واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، حضرت خدیجہ  نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، آپ ﷺ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، محتاجوں کے لئے کماتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبتیں اٹھاتے ہیں، پھر حضرت خدیجہ  آپ ﷺ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسید بن عبدالعزی کے پاس گئیں جو حضرت خدیجہ  کے چچا زاد بھائی تھے، زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگئے تھے اور عبرانی کتاب لکھا کرتے تھے۔ چنانچہ انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، جس قدر اللہ چاہتا، نابینا اور بوڑھے ہوگئے تھے، ان سے حضرت خدیجہ  نے کہا اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات سنو آپ سے ورقہ نے کہا اے میرے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ تو جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تھا، بیان کردیا، ورقہ نے آپ سے کہا کہ یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں! جو چیز تو لے کر آیا ہے اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا، پھر زیادہ زمانہ نہیں گذرا کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا اور وحی کا آنا کچھ دنوں کے لئے بند ہوگیا، ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ انصاری وحی کے رکنے کی حدیث بیان کر رہے تھے، تو اس حدیث میں بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ بیان فرما رہے تھے کہ ایک بار میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی، نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ تھا، جو میرے پاس حرا میں آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور واپس لوٹ کر میں نے کہا مجھے کمبل اڑھا دو مجھے کمبل اڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (يٰا اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ۔ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ۔ ) اے کمبل اوڑھنے والے اٹھ اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ اور ناپاکی کو چھوڑ دے، پھر وحی کا سلسلہ گرم ہوگیا اور لگاتار آنے لگی۔ عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے اس کے متابع حدیث بیان کی ہے اور ہلال بن رواد نے زہری سے متابعت کی ہے، یونس اور معمر نے فوادہ کی جگہ بوادرہ بیان کیا۔

مکررات: صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 653 ،  2137 ، 2138 ، 2139 ، 2140 ، 2141 ، 2181 ، 2182 ، 2183، 2184 ، صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1908 ، 403 ، 404 ، 405 ، 406، 407 ، 409 

مسجد میں شعر کہنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ مَرَّ عُمَرُ فِي الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ فَقَالَ کُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْکَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ نَعَمْ
(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 472 حدیث مرفوع)

علی بن عبداللہ، سفیان، زہری، سعید بن مسیب  سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر  کا گذر مسجد میں ہوا تو حضرت حسان  شعر پڑھ رہے تھے (حضرت عمر  نے روکا) تو انہوں نے کہا کہ میں مسجد میں ایسے شخص کے سامنے جو تم سے بہتر تھا (یعنی رسول اللہ ﷺ شعر پڑھا کرتے تھے (آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا) پھر حضرت حسان  ابوہریرہ  کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں تم کو قسم دیتا ہوں کیا تم نے آنحضرت ﷺ سے سنا کہ ”میری طرف سے جواب دو اور اے اللہ ان کی تائید روح القدس سے فرما “تو انہوں نے کہا، ہاں!

مکررات: صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 445 ، صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1883 ، صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1884 ، سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1605 ، سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1606 ، سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 720
 ٭٭٭

     

تحدیثِ نعمت

علامہ جلال الدین سیوطی 


وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
اور جو تمہارے پروردگار کی نعمت ہے اس کا تذکرہ کرتے رہنا۔ 
(آسان ترجمہ قرآن- سورہ ۹۳،الضحٰی: ۱۱)

- سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ آیت واما بنعمۃ ربک فحدث اور ہرحال میں اپنے رب کا احسان کا ذکر کیا کرو۔ یعنی آپ کے رب نے جو نبوت کی صورت میں آپ کو نعمت عطا کی ہے اس کا ذکر کرتے رہیے۔
- عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ آیت واما بنعمۃ ربک فحدث میں نعمت سے مراد ہے قرآن ۔

بوقت ملاقات مصافحہ کرنا

- ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے مقسم رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ میں نے حسن بن علی بن ابی طالب  سے ملاقات کی اور ان سے مصافحہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونا مومن کا مصافحہ ہے میں نے عرض کیا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واما بنعمۃ ربک فحدث کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا کہ مومن آدمی نیک عمل کرتا ہے اور اپنے گھروالوں کو بتاتا ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کون سی مدت پوری کی پہلی یا دوسری؟ فرمایا دوسری مدت۔ 
- ابن ابی حاتم نے دوسری سند سے حسن بن علی   سے آیت واما بنعمۃ ربک فحدث کے بارے میں روایت کیا کہ جب تو کسی خیر کو پہنچے یعنی کوئی نیک عمل کرے تو اپنے بھائیوں کو بیان کر۔ 
- ابن جریر نے ابو نضرہ رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ مسلمان یہ جانتے ہیں کہ نعمت کا شکر یہ ہے کہ اس کو بیان کیا جائے۔ 
- عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں وبیہقی نے شعب الایمان میں ضعیف سند کے ساتھ انس بن بشیر   سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر فرمایا جو تھوڑا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ اور اللہ کی نعمت کا بیان کرناشکر ہے اور اس کو چھوڑدینا ناشکری ہے اور جماعت رحمت ہے۔ 
- د نے جابر بن عبداللہ   سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص جس نے کپڑا پہن کر بوسیدہ کردیا پھر اس کا ذکر کیا لوگوں کے سامنے تو اس نے یقینی طور پر اس کا شکر ادا کیا۔ اور جس نے اس کو چھپایا تو یقینی طور پر اس نے اس کی ناشکری کی۔ اور جس شخص نے ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو آراستہ کیا جو اسے عطا نہیں کی گئیں تو بے شک وہ جھوٹ کے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔ 
- احمد وابو داوٗ دنے جابر بن عبداللہ   سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو کوئی چیز عطا کی گئی اور اس نے اس چیز کو پالیا تو اس کو چاہیے کہ اس کے بارے میں آگاہ کرے یعنی لوگوں کو بتادے اور اگر وہ اس چیز کو نہیں پائے تو اس کو چاہیے اس کی تعریف کرے اور جس نے اس کی تعریف کی۔ تو تحقیق اس نے اس کا شکر ادا کیا اور جس نے اس کو چھپایا تو تحقیق نے اس کی ناشکی کی۔ 

شکریہ ادا کرنے کا ایک طریقہ 

- احمد والطبرانی فی الاوسط اور بیہقی نے عائشہ   سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے ساتھ نیکی کی جائے یعنی جس پر احسان کی جائے تو اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو چاہیے کہ اس کا ذکر کرے بے شک جس نے اس کا ذکر کیا تو یقیناً اس نے اس کا شکر ادا کیا۔ 
- بیہقی نے ابوہریرہ   سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس کے ساتھ نیکی کی جائے۔ یعنی جس پر احسان کیا جائے تو اس کو چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کو چاہیے کہ اس کا ذکر کرے بے شک جس نے اس کا ذکر کیا تو یقینی طور پر اس نے شکر ادا کیا۔ 
- سعید بن منصور نے عمر بن العزیز رحمہ اللہ سے روایت کیا بے شک نعمت کا ذکر کرنا شکر ہے۔ 
- بیہقی نے حسن رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ اس کی نعمت کا کثرت سے ذکر کرو کیونکہ اس کا ذکر کرنا شکر ہے۔ 
- بیہقی نے جریر رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ نعمتوں کا شمار کرنا بھی شکر میں سے ہے۔ 
- بیہقی نے یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ نعمتوں کا شمار کرنا شکر میں سے ہے۔ 
- عبدالرزاق والبیہقی نے قتادہ رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ نعمت کے شکر میں سے اس کا افشاء کرنا بھی ہے۔ 
- بیہقی نے فضیل بن عباس رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے نعمت کے شکر میں سے یہ ہے کہ اس کا تذکرہ کیا جائے۔ 
- بیہقی نے ابن ابی الحواری رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ فضیل بن عیاض اور سفیان بن عیینہ رحمہما اللہ ایک رات صبح تک بیٹھے رہے اور آپ میں نعمتوں کا تذکرہ کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ نعمتیں بھی فرمائیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ نعمتیں بھی فرمائیں ہیں۔ 
- طبرانی نے ابوالاسود الدؤلی اور زادان الکندی رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ ہم نے علی   سے کہا کہ ہم کو اپنے اصحاب کے بارے میں بتائیے تو آپ نے ان کے مناقب بیان کیے۔ ہم نے عرض کیا ہم کو اپنے بارے میں بھی کچھ بیان کیجیے تو آپ نے فرمایا کہ رک جاؤ اللہ تعالیٰ نے اپنا تزکیہ یعنی اپنی پاکیزگی بیان کرنے سے منع فرمایا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت وامابنعمۃ ربک فحدث تو فرمایا بے شک میں اپنے رب کی نعمت کو بیان کروں گا۔ اللہ کی قسم جب بھی میں سوال کرتا تھا تو مجھے دے دیا جاتا ہے اور جب میں خاموش ہوجاتا ہوں تو مجھے پہلے ہی دے دیا جاتا ہے۔٭


٭ ماخوذ از تفسیر در منثور، علامہ جلال الدین سیوطی ﷫، سورہ ۹۳ ،الضحیٰ:۱۱، تاریخِ اشاعت غیر مذکور
     

سر بکف کے ایک سال (روداد)

مدیر

یہ ۲۱ ؍رمضان،  ۲۰۱۵ء کی بات ہے۔ سحری کے بعد کا وقت تھا۔  ہم تلاوتِ قرآن کے بعد لیپ ٹاپ پر کوئی تحریر کمپوز کر رہے تھے کہ یکایک ایک خیال آیا۔ خیال اتنا اچھا تھا کہ جیسے جیسے اس پر سوچتے گئے، ہماری دلچسپی بڑھتی گئی۔ اور خیال تو پھر خیال ہے، اس خدشے سے کہ مبادا بھول نہ جائیں، ہم نے اس آئیڈیے کو حسبِ عادت نوٹ کر لیا ۔

فورا ً ہی فیس بک پر عباس خان صاحب سے مکالمے میں گفتگو شروع ہوئی۔ ہم نے کہا کہ فیس بک پر مختلف حلقوں میں احباب کی تحقیقات سامنے آتی رہتی ہیں، کیوں نہ ان تحاریر کو شامل کر کے ایک مجلہ کا آغاز کیا جائے! دورانِ گفتگو پتہ چلا کہ ”اہلِ حق“ پلیٹ فارم سے بھی پہلے ایسی تجاویز سامنے آئی تھیں لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا تھا۔

اور دیکھیں صاحب! کسی بھی تجویز پر عمل درآمد نہ ہو سکنے کا بنیادی سبب یہی ہوتا ہی کہ اسے ٹال دیا جاتا ہے۔ بس، پھر کیا تھا۔ فقیر نے اسی وقت مضمون لکھنا شروع کر دیا، کہ نہ ٹال مٹول ہو گی اور نہ تجویز پر عمل نہ  ہونے کا امکان پیدا ہوگا۔

مجلہ کے نام کا انتخاب بھی بڑا دلچسپ رہا۔ اقبالؔ کی ”بالِ جبریل“ کھولی اور اشعار میں سے الفاظ چن چن کر ڈھیر لگاتے رہے۔ پھر ان ناموں میں سے خود ہی بقیہ کو چھانٹا تو فقط تین یا چار باقی رہ گئے۔ ایک بار پھر ”عوام“ سے مشورہ کرتے ہوئے یہ کچھ نام پیش کر دیے کہ اور مزید کسی نام کی تجویز دینے کے لیے کہا۔ یاد پڑتا ہے کہ ”شمشیر“ اور ”قلم تلوار“ وغیرہ کی طرز کے نام تھے۔ ان ناموں میں سے فقیر پر تقصیر  اور  عباس خان صاحب دونوں کو مشترکہ طور پر وہی نام پسند آیا جسے ہم عموماً سر دھنتے ہوئے ادا کرتے ہیں، یعنی ”سر بکف“۔

ابتدائی خاکے کے طور پر ہم نے ماہنامہ اللہ کی پکار کو سامنے رکھا اور اس کی خاص باتیں نوٹ کیں۔ اسی کی طرز پر زمرہ جات کے ساتھ آیات یا احادیث مع حوالہ درج کیں۔ پہلے شمارے کے لیے مضامین کے حصول کی خاطر باقاعدہ پوسٹ بنائی گئی، جس میں زیادہ تر تبصرے اس متعلق وضاحت کرتے لکھنے پڑے کہ یہ مجلہ کیا ہوگا۔(یقین کریں کئی نے تو ”مجلہ“ اور ”برقی“  کا بھی معنی دریافت کیے اور کئی کئی بار دریافت کیے۔ ہم بھی بتایا کیے کہ صاحب مجلہ ”میگزین“ کو کہتے ہیں اور برقی سے مراد ”آن لائن“ ہے۔)  اور کوئی تعجب کی بات نہیں کہ بہت کم لوگوں نے تحاریر بھیجیں۔ ہم بھی دھن کے پکے تھے، اللہ کا نام لے کر کام شروع کر دیا۔ یوں سر بکف کا آغاز ہوا۔ ہم نے  یہ بھی سوچ رکھا تھا کہ ان شاء اللہ ہر شمارے کے سر ورق پر ایک شعر ایسا شامل کریں گے جس میں ”سر بکف“ آتا ہو۔ اور الحمد للہ اب تک یہ سلسلہ جاری ہے، بلکہ چند اعلانات کے بعد  اب تو شعراء کرام نے سر ورق کے لیے اپنے اشعار بھی پیش کرنا شروع کر دیے ہیں۔

یہاں ایک بات اور بتاتا چلوں۔ پہلا شمارہ شائع ہونے کے کافی بعد ہمیں یہ خیال آیا کہ دو ماہی مجلہ کے مطابق سر بکف ”دسمبر“ کے مہینے ہی میں ختم ہو گا یا نہیں؟ یعنی یہ تو نہیں کہ شمارے ”نومبر، دسمبر کا شمارہ“ کی بجائے  ”دسمبر، جنوری کا شمارہ“ کے نام سے نکلیں۔ یہاں اللہ نے لاج رکھی کہ پہلا شمارہ ”جولائی، اگست“ رہا جو صد فیصد غیر شعوری طور پر ہوا تھا اور یوں یہ مسئلہ نہ ہوا۔

پہلا شمارہ شائع ہوتے ہی سب سے پہلے ہم نے ”سر بکف ۱ “کی فائل بزمِ اردو لائبریری میں شامل کرنے کے لیے مشفق چچا جان اور شاعری میں عاجز کے استاد محترم اعجاز عبید صاحب(حیدر آباد)  طول اللہ عمرہٗ کو ارسال کر دی۔  بزمِ اردو لائبریری اردو یونیکوڈ کتابوں کا وہ ذریعہ ہے جس پر اپنے شماروں کو شامل ہوتا دیکھ کر عاجز کو  بجا طور پر فخر ہے۔ اور صحیح بات تو یہ ہے کہ چچا جان کی جانب سے ملنے والا حوصلہ ہی عاجز کا قیمتی ترین اثاثہ تھا۔ چچا جان وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مجلہ کو پذیرائی بخشی تھی۔

ایک دن پروجیکٹ یورز ویپ کے فاؤنڈر جناب عاقب انجم عثمانی صاحب نے فون کیا اور ان سے سر بکف کے متعلق گفتگو ہوئی، انہوں نے بخوشی اپنی سائٹ پر سر بکف کے لیے ایک سیکشن مخصوص کر دیا۔ کچھ ہی عرصہ میں دعوت الی اللہ (DawatIlallah.com) کے فاؤنڈر جناب حافظ اویس شیخ صاحب کا گجرات سے فون آیا جس میں انہوں نے اپنی سائٹ کے مختلف مسائل ڈسکس کرنے کے ساتھ ساتھ   از خود سر بکف  کو بہت اشتیاق سے اپنی سائٹ پر شامل کرنے کے بارے میں کہا۔ اندھا کیا چاہے،  دو آنکھیں!

سر بکف کے تیسرے شمارے سے کثیر تعداد میں تحاریر موصول ہونے لگیں۔ یہ اور بات ہے کہ ساری تحاریر شامل نہیں کرتے تھے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم ”معیار“ پر سمجھوتا نہیں کر سکتے۔ آپ مجلہ میں کیا شامل کرتے ہیں، وہی اس مجلہ کی پہچان بنتا ہے۔  وہ ”سر بکف ۳ “ہی کی اشاعت تھی جب بفضل تعالیٰ سر بکف مقبولیت کو گویا پر لگ گئے۔ شمارہ ۳ کی اشاعت کے کچھ دنوں بعد ہم نے ”امام گوگل“ سے SarBakafکے بارے میں استفسار کیا۔ واضح رہے کہ  بالکل شروع کے دنوں میں ہم پہلے بھی یہ سوال پوچھ چکے تھے اور اس وقت جواب میں صرف سر بکف  کا فیس بک صفحہ نظر آتا تھا، وہ بھی کوئی چوتھے پانچویں نمبر پر۔ لیکن اس مرتبہ جب گوگل نے جواب دیا تو ہم مارے حیرت کے کرسی پر پہلو بدلنے لگے۔ صفحات پلٹتے گئے اور تقریباً تمام نتائج پر سر بکف کا ”سایہ“ دیکھ کر بے ساختہ زبان سے الحمد للہ نکلا۔ کسی نے اپنی ویب سائٹ پر، کسی نے بلاگ پر، کسی نے ٹوئٹر کے ذریعے، کسی نے فیس بک کے توسط سے، غرض یوں لگ رہا تھا کہ سب ہاتھ بٹا رہے ہوں۔ پتہ نہیں کون اللہ کے بندے تھے جو مجلہ کو دھڑادھڑ پھیلائے جا رہے تھے۔ بلاگ وزٹر  کاؤنٹر کا گراف دیکھا تو اوپر ہی اوپر اٹھتا جا رہا تھا، بلاگ پر ٹریفک ایک ہی دن میں قابلِ دید تھی۔ ہمیں بے ساختہ اپنے اللہ پر پیار آیا کہ جس نے ہماری ٹوٹی پھوٹی محنت کی تشہیر کے لیے یہ غیبی مدد فرمائی تھی۔

اس کے علاوہ بھی کئی پی ڈی ایف ہوسٹنگ  ویب سائٹس پر شمارے ڈالنے کی کوشش کرتے رہے، کہ اصل کام بلاگ ٹریفک بڑھانا نہیں بلکہ مجلہ کا لوگوں تک پہنچانا تھا۔ ویب سائٹ  کے اونر کو بذریعۂ فون  ورنہ بذریعۂ ای میل ان سے مجلہ کو شامل کرنے کی درخواست کرتے رہے جسے تقریباً تمام جگہوں سے شکریہ کے ساتھ قبول کر لیا گیا۔ 
    کئی سائٹس  اور دیگر اداروں سے یہ دوستانہ ”ڈیل“ طے ہو گئی کہ آپ مجلہ میں ہماری سائٹ کا اشتہار دیں اور ہم سر بکف کو اپنی سائٹ پر شامل کریں گے۔ اور ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اللہ کے یہ مخلص بندے اشتہار کے لیے ہر گز یہ کام نہیں کر رہے۔ ان کے کام کا اجر نہ ہمارے مجلہ میں شامل اشتہارات ہیں اور نہ ہی ہماری تعریف و ستائش! اجر اس ہستی کے ہاتھ میں ہے جس نے بہت کم مقدار پر بھی بہت زیادہ اجر و ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے، اور وہی بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔

ایک اور دلچسپ واقعہ بتاتا چلوں۔ آپ کو علم ہوگا کہ کوئی بھی پروڈکٹ اپنی فزیکل شکل پاتے ہی کاپی رائٹڈ ہو جاتا ہے۔ آج کل کاپی رائٹ کی خلاف ورزی بڑی عام سی بات ہو گئی ہے اور حد تو یہ ہے کہ بڑے دھڑلے سے ہو رہی ہے۔  اللہ جانے کہ اس ”گروہ“ کو دوسروں کے کام اپنے نام کرنے کا چسکا کیوں لگا ہوا ہے۔ ادبی تحاریر میں خیانت تو ایک طرف، یہ لوگ دینی مواد کو بھی نہیں چھوڑتے۔ بقیہ کا تو علم نہیں، لیکن دینی تحاریر میں خیانت تو یہ ”مقدس“ گروہ شاید ثواب سمجھ کر کرتا ہوگا۔

خیر! سر بکف کے بلاگ پر ہم نے مجلہ کا متن بھی زمروں کے مطابق ڈال دیا تھا۔ ایک دن یوں ہی بیٹھے بیٹھے محض یہ جانچنے کے لیے کہ کہیں کوئی اور تو بغیر اجازت متن کا استعمال نہیں کر رہا...ہم نے گوگل میں کسی تحریر کا ایک فقرہ(اردو) تلاش کیا۔ سرچ رزلٹ میں فقط ۲ نتائج متوقع تھے۔ ایک تو سر بکف کا آفیشیل بلاگ، اور دوسرا بزمِ اردو لائبریری۔ لیکن تلاش کے نتائج میں موجود تیسرا رزلٹ ہمیں چونکا گیا۔ وزٹ کرنے پر پتہ چلا کہ بالکل ہمارا ہی مجلہ ہے اور اللہ کا شکر کہ تمام تحاریر اصل مصنفین کے نام کے ساتھ ہی درج تھیں۔ اوپر میں ”مدیر“ کے ساتھ ما بدولت کا نام  جگمگا رہا تھا۔ 

ہمیں غصہ بھی آیا کہ اللہ کے بندے اگر شامل کرنے سے قبل ہمیں بھی بتا دیتے تو ہم کون سا انکار کرنے والے تھے، بلکہ خوشی ہی ہوتی۔ چونکہ ہم نے فائل سوائے استاد محترم اعجاز عبید کے کسی کو نہ دی تھی، اس لیے ان سے پوچھا تو انہوں نے سائٹ اونر کا ای میل دے دیا۔   ای میل پر غالباً رابطہ نہ ہو سکا تو بذریعہ ٹوئٹر رابطہ کر کے انہیں ”تنگ“ کیا۔ کچھ دنوں میں مذکورہ سائٹ(Punjund.com) کے  فاؤنڈر جناب وقاص   صاحب کی  ای میل موصول ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ اعجاز صاحب نے انہیں اپنی لائبریری سے کتب لینے کی اجازت دی ہوئی ہے، جس میں کوئی تبدیلی نہیں کرتے اور نہ ہی مجلہ کی اصل فائل کسی کو دیتے ہیں۔  اس کے ساتھ ہی انہوں نے ”آفر“ پیش کر دی کہ آپ پسند فرمائیں  تو براہِ راست یہ فائل ہماری ویب سائٹ ”پنجند“ کے لیے دے سکتے ہیں۔ واہ صاحب!   ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا،  بخوشی منظور کر لیا۔
یہ تو ہوئیں اچھی اچھی باتیں!  کچھ دل جلوں کا بھی احوال سن لیجیے۔ مختلف  فورمز وغیرہ پر جب ”سر بکف“ کو پیش کیا تو  جہاں پذیرائی ملی، وہیں کچھ رقیبانِ روسیاہ نے جل کر جوابی نعرہ لگایا، ”سر بریدہ“…بے ساختہ لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔ کیا کریں صاحب! امت کا مسئلہ ہی یہی ہے کہ جو کچھ اچھا  کرے اسے کرتے نہیں دیکھ سکتی۔ ہم نے بھی جواباً بڑے ادب سے عرض کیا۔ ”بہت شکریہ۔ کیا یہ آپ کی جانب سے مجلہ کے نام کی تجویز تھی؟ اگر ہاں تو معذرت خواہ ہوں۔ مجلہ کا نام پہلے ہی طے کیا جا چکا ہے۔“ 

پھر کیا ہونا تھا، موصوف نے کوئی جواب نہیں دیا۔

دو مرتبہ اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش کی بھی  گئی۔  یاد پڑتا ہے کہ ”ممبئی“ سے اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش کی گئی تھی اور چونکہ ہم ناگپور(کامٹی) میں ہوتے ہیں تو گوگل نے  بر وقت ہوشیار کر تے ہوئے سرخ رنگ کی روشنائی میں پوچھا کہ صاحب کیا آپ ممبئی میں پہنچ گئے ہیں؟  ہم نے انکار کیا تو کہنے لگے کہ ممبئی سے آپ کے اکاؤنٹ پر ”حملہ شریف“ ہوا ہے اس لیے بہتر ہو گا کہ پاس ورڈ بدل دیں، چنانچہ  ہم نے  پاس ورڈ بدل دیا۔

سر بکف کے اس ایک سالہ سفر میں اگلا اہم سنگِ میل ”سر بکف پبلیکیشنز“ کے زیرِ اہتمام مفت کتابیں ای  پبلش کرانے کا رہا،  جس کے اعلان کے  بعد کئی احباب نے اپنی تصانیف بھیجیں۔ بد قسمتی سے ابھی ان کتابوں پر کام کرنے کے لیے رضا کار آگے نہیں بڑھے ہیں، لیکن جلد یا بدیر اللہ کی ذات سے امید ہے کہ صدقۂ جاریہ سمجھتے ہوئے اس میں بھی احباب اسی طرح تعاون فرمائیں گے جس طرح اب تک فرماتے رہے ہیں۔ رضا کار نہ ہونے کے سبب ”غیر مقلدین کا فرار“ نامی ۵۰ صفحات پر مشتمل  مولانا عبد الرشید صاحب قاسمی سدھارتھ نگری کا رسالہ، سر بکف ۶ کے ساتھ فقیر نے خود ہی تھوڑی کوشش کے ساتھ مکمل کر کے شائع کر دیا۔ یہاں میں مولانا  عبد الرشید صاحب کا (جو مجلسِ مشاورت کے رکن بھی ہیں) بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے تشہیر کا سارا بار خود اٹھایا اور ما شاء اللہ رسالے کو خوب پھیلایا۔   ردِّ غیر مقلدیت  ہی کے زمرے میں آپ کی ایک اور کتاب” انوار الحجۃ“ پر فی الوقت کام شروع ہے۔

آخر میں یہ عاجز بے انتہا ممنون ہے مفتی آرزومند سعد صاحب اور مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی حفظہما اللہ کا کہ جنہوں نے ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی۔ پہلے ہی شمارے سے  مفتی صاحب کی  ایک تحریر” جھوٹے اہلِ حدیث“  قسط وار شائع ہوئی تھی جسے بعد میں مفتی صاحب نے مزید اضافہ کر کے ”سر بکف پبلیکیشنز“ کے تحت شائع کرنے کے لیے ارسال فرمایا ہے۔ مشفقی مولانا ساجد خان صاحب چونکہ رسالہ ”نورِ سنت“ (جو  ردِّ بریلویت پر کراچی سے شائع ہوتا ہے) سے بھی متصل ہیں، اس لیے بہت مفید ٹپس بتائیں کہ کس طرح مجلہ کو مزید مزین کیا جا سکتا ہے۔ وقتاً فوقتاً ان سے عاجز مشورہ لیتا رہتا ہے اور شفقت اور حوصلہ افزائی پر بے اختیار ان دونوں محترم شخصیات کے لیے دعا گو رہتا ہے۔

ایک اور مخلص ساتھی ہیں  جناب عطاء رفیع صاحب(Founder: typo.pk)  ان کا کام بھی  پبلشنگ وغیرہ کا ہی ہے۔ چنانچہ جب بھی ہم نے کسی  ٹیکنیکل مسئلہ کا ذکر کیا ، آپ بہت ہی محبت بھرے انداز میں ہمیشہ تعاون کرتے رہتے ہیں اور  مجلہ کی آرائش کے متعلق مختلف کار آمد مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں۔

؏
  کس کس کا نام لوں کہ سبھی بے مثال ہیں

فقط تحدیثِ نعمت کے طور پر یہ چند باتیں اور حالات ذکر کیے ہیں۔ ورنہ ہم کیا ہیں اور ہمارا کام کیا ہے،  یہ ہم بھی جانتے ہیں اور ہمارا رب بھی جانتا ہے۔ کیا خبر ہمارے قلم بہک بھی جائیں  اور ہمیں خبر تک نہ ہو... ہم خود کو علامۂ زمان ہی سمجھتے رہ جائیں!  کیا خبر ہمارا کون سا قدم ربِّ ذوالجلال کو ناراض کر دے جسے ہم قربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھتے رہ جائیں۔

اَللّٰہُمَّ احْفَظْنَا مِنْ کُلِّ فِتَنْ۔ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَ مَا بَطَنْ۔

پیارے اللہ! تمام شرور و فتن سے ہماری حفاظت فرما۔  جونہی ہمارا قلم بہکے تو ہمارا قلم خشک کر دے، قدم راہِ اصلی سے منحرف ہوں تو قدم یوں منجمد کر دے کہ وہ اٹھنے سے انکاری ہو جائیں، زبان سے حق کے سوا کوئی بات نکلنے سے پہلے تو  اسے مقفل کر دے۔

ربا! یہ سر بکف یونہی  دمکتا رہے، چمکتا رہے۔

گناہوں کی نحوست سے دل سیاہ ہو چلے ہیں... ایسی رحمت برسا کہ  ہمارے قلوب بھی چمک جائیں... 

تو ہمیں پیارا ہو جائے، ہم تیرے پیارے بن جائیں...

ایسا کر دے مرے مالک کہ وفادار رہوں
میں سدا تیری محبت میں گرفتار رہوں

فقیر شکیبؔ احمد عفی عنہٗ
بروز اتوار، ۱۰:۴۵ بجے صبح