منگل، 12 فروری، 2019

پیرس حملوں نے شامی صدر پر مغرب کا نظریہ تبدیل کردیا، پیوٹن

مدیر کے قلم سے

منیلا/ماسکو(جنگ نیوز)روس صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ پیرس حملوں نے شامی صدر کے معاملے پر مغرب کا نظریہ تبدیل کردیاجبکہ امریکی صدر بارک اوباما کا کہنا ہے کہ شام میں امن کے قیام کے لیے داعش اور اسد کا خاتمہ ضروری ہے۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ماسکو اب بھی اپنے موقف پر قائم ہے۔

 شامی صدر بشارالاسدکے بناء شام میں ا من ممکن نہیں اور اس کے علاوہ تنازع کے حل کا کوئی دوسرا راستہ نہیں، دوسری جانب امریکی صدر بارک اوباما نے منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس داعش کے ایک بڑاخطرہ تسلیم کرچکے ہیں لیکن شام میں روسی سرگرمیاں اسد کو مزید مضبوط بنانے کے مترادف ہیں، شا م میں باغیوں اور فوج کے مابین روزہ جنگ بندی کے لیے دمشق کے نزدیک مذاکرات کیے گئے ہیں،تفصیلات کے مطابق روس صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ پیرس حملوں نے شامی صدر کے معاملے پر مغرب کا نظریہ تبدیل کردیا،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ماسکو اب بھی اپنے موقف پر قائم ہے ، شامی صدر بشارالاسدکے بناء شام میں ا من ممکن نہیں اور اس کے علاوہ تنازع کے حل کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

 دوسری جانب امریکی صدر بارک اوباما نے منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس داعش کے ایک بڑاخطرہ تسلیم کرچکے ہیں لیکن شام میں روسی سرگرمیاں اسد کو مزید مضبوط بنانے کے مترادف ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پیرس حملوں کے بعد گونتامابے کو بند کرنے کے حوالے سے پارلیمنٹ کے دبائو کا سامنا ہے ، انہوں نے یہ اپنے دورہ ملائیشیا کے دوران کولالمپور میں جمہوریت کے فروغ پر زور دیا۔

 ادھرشا م میں باغیوں اور فوج کے مابین روزہ جنگ بندی کے لیے دمشق کے نزدیک مذاکرات کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں کینیڈا کے نئے وزیراعظم جسٹن ٹرُوڈو نے کہا ہے کہ ہم عراق اور شام میں داعش کے خلاف جاری مہم کا اہم حصہ ہیں۔

تبصرہ نگار: فرانس کے حملوں کے بعد ساری دنیا کے مسلمانوں کو ایک نئی دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

صحافت کے میدان میں باقاعدہ سروے شروع ہیں کہ آیا یہ حملوں کو مسلمانوں کے لیے ایک اور نائن ایلیون  ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں۔ جنگ رپورٹر سید شہزاد عالم کا کہنا ہے پیرس حملوں کا ملبہ جلد یا بدیر مشرق وسطیٰ اور یورپ کے مسلمانوں پر ہی گرے گا جو یورپ اور امریکہ میں مسلمان ہونے کے باعث پہلے ہی مختلف مسائل کا شکار ہیں اور اب ان حملوں کے بہانے مزید پابندیوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔
     

دبئی میں اس سال تقریباً ڈیڑھ ہزار کا قبول اسلام

مدیر کے قلم سے

دبئی(ایجنسی، ماہنامہ اللہ کی پکار) متحدہ عرب امارات میں امسال اسلام قبول کرنے والوں کی مجموعی تعداد 1460 رہی۔ 

اسلام قبول کرنے والے افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔ دبئی کی حکومت کے ذریعے چلائی جانے والی دارالبر سوسائٹی کے اسلامی معلومات مرکزنے اس سلسلے میں جان کاری فراہم کی ہے۔  اطلاع کے مطابق رمظان کے مقدس مہینے میں اسلامی مرکزکے ذریعے سینکڑوں مختلف مقامات پر اجتماعی افطار و عشائیہ کا نظم کیا گیا، جب کہ اس سے متعلق 17 تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور غیر مسلموں میں ہزاروں کتابچے تقسیم کیے گئے۔ اس کا نتیجہ تھا کہ غیر مسلموں نے اس سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا۔ اسلامی مرکز نے اسلام قبول کرنے والوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئی بتایا کہ اس سال 1460 افراد مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اسلامی مرکز کے منیجر راشد جنینی نے کہا کہ سوسائٹی نے کامیابی کے ساتھ سیکڑوں لیکچروں کے ذرییعے غیر مسلموں میں اسلام کی صحیح تعلیمات پیش کرنے کی سعی کی، جب کہ حق کے متلاشی سیکڑوں افراد یومیہ کی بنیاد پر اسلامی مرکز کا دورہ کرتے رہے۔ سیکڑوں نومسلموں کا تبدیلی مذہب کا سرٹی فیکٹ بھی جاری کیا گیا ہے جبکہ مرکز ایسے افراد کی شادی کا بھی انتظام کررہا ہے جو کسی مسلم یا مسلمہ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے متمنی ہیں۔ 

دبئی میں دار البر کے نام سے 20 سال قبل سوسائٹی قائم کی گئی تھی جس کی کوششوں سے اب تک 20 ہزار سے زائد افراد مشرف بہ اسلام ہوچکے ہیں۔ سوسائٹی کے مطابق 2013ء میں 2115 افراد نے اسلام قبول کیا تھا۔

تبصرہ نگار: آج کل ہر ایک تنظیم کا دعویٰ ہے کہ وہ صحیح کام کر رہی ہے، جبکہ کون کیا کر رہا ہےاور صحیح کر رہا ہے یا غلط، اس کا فیصلہ اللہ عنقریب ہوجائے گا۔ .

"پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔"(سورہ 31، لقمان: 15)

     

فکریے - ابن غوری



ابنِ غوری، حیدر آباد، ہند

جنوں...خرد:

مولوی رام ولاس پاس وان، مولوی رام کرشنا بیگڑے، مولوی اندر کمار گجرال... واہ واہ!

مسٹر……الدین۔ مسٹر……شریف۔ مسٹر……خان……آہ!

٭سمجھے نا آپ!.........وہ تو باریش اور یہ بے ریش۔

دو نعمتیں:

اللہ نے ہوا کی نعمت کو اتنا عام کیا ہے کہ کوئی اس سے بچنا چاہے تو بچ نہیں سکتا۔

٭خیر امت کو، دعوت کی محنت اتنی عام کرنا چاہیے کہ کوئی اس سے بچنا چاہے تو نہ بچ سکے۔

منہ کی کھائیں گے:

مکان کی تعمیر میں /بیٹے کی تعلیم میں/بیٹی کی شادی میں/……رکاوٹ معلوم ہوتی ہے……آپ دور کردیتے ہیں، ما شاء اللہ!

٭دین پر چلنے میں رکاوٹ معلوم ہوتی ہے……آپ خاموش رہتے ہیں……انا للہ……



کوالٹی:

ماہر ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا آپ نے استعمال کی لیکن صحت نہیں ہوئی۔ پتا چلا کہ دوا کی کوالٹی ٹھیک نہیں ہے۔

٭آپ عرصۂ دراز سے نمازی اور روزے دار ہیں لیکن آپ میں تقوی پیدا نہیں ہوا! ذرا دیکھیں کہیں آپ کی عبادت کی کوالٹی تو خراب نہیں ہے؟

ندامت بھی نادم:

بم باری جاری تھی کہ اذان ہوگئی۔ مقامی لوگ مسجد کو جانے لگے لیکن بعض لوگ چائے اور سگریٹ نوشی میں مست تھے حالاں کہ وہ پناہ گزیں تھے، اور اور خشوع خضوع سے منتظر تھے اللہ کی مدد کے!
ع
اس بے حسی پہ کون نہ چلائے اے خدا!

Cell: 9392460130

     

عالمی تبلیغی مرکز نظام الدین کی حاضری - مزمل اختر

مزمل اختر حفظہ اللہ، کامٹی

اللہ کی قدرت : 

جس کے ناموں کی نہیں ہے انتہا
ابتدا کرتا ہوں    اسکے   نام  سے 

                       بڑی مشکل سےمجھے اللہ نے چلہ کے لیے قبول کیا،بات تو یہی ہے کہ اصل اللہ ہی قبول کرتا ہے ورنہ ہماری کیا بساط کہ ہم اسکے راستے میں نکلیں۔ وہ جسے چا تا ہے بلاتا ہے، (13/04/12 ) بروز جمعہ مسجد وارث پورہ میں بعد نماز مغرب بیان کے   بعد تشکیل ہوئی تب عاجز (مزمل اختر غفرلہُ)کو معلوم ہوا ضمیر بھائی (اللہ آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائیں اور آپ کو جزائےخیر  عطا فرمائیں کہ آپ ہی عاجز کے نظام الدین جانے کا ذریعہ بنے ) چلہ کے لیے جارہے ہیں ہم نے تب نام نہ لکھایا دوسرے دن (13/04/13) بروز سنیچر کو ہمارا سعید نگر مسجد میں گشت ہوتا ہے تو بی بی کالونی کے کچھ حضرات آتے ہیں ان میں عمران بھائی (پولس والے ) بھی تھے انھوں نے عاجز کی تشکیل کی اور ہمت افزائی کی عاجز تیار ہو گیا اور (13/04/16) بروز منگل عاجز اور ضمیر بھائی صبح 07:15 بجے کی ٹرین سے کامٹی اسٹیشن سے چھتیس گڑھ (میندرگڑھ) کے لیے روانہ ہوئے.اللہ کے فضل سے پورا چلہ عافیت سےلگایا-( بحمدللہ) 

                چلہ میں تقریباً 15 دن بعد سے نظام الدین کا معاملہ شروع ہوا وہاں ایک حضرت تھے عبدالحق صاحب (انکی طبیعت تھوڑی  خراب رہتی ہےان کے لیے بھی دعاء کریں بہت اللہ ان سے بھی بہت کام لے رہا ہے اللہ آگے بھی لے ) انھیں کی وجہ سے عاجز کا آدھا کام آسان ہوگیا۔ کامٹی کے شوریٰ حضرات سے انہیں نے شفارش کی تھی، کہا عاجز کو اپنی خدمت کے لیے لے جا رہے ہیں (مگر اس نالائق نے انکی ذرا بھی خدمت نہ کی بلکہ نظام الدین کے نورانی ماحول میں کھو گیا )
عاجز کی گزارش ہے اس کام کو سمجھنے کے لیے نظام الدین کا سفر ضرور کریں اور اپنی فکروں میں اضافہ کریں سچ کہتا ہوں وہ منظر وہ کیفیت کیسے بیان کروں یہ تو وہی سمجھ سکتا ہے جو وہاں ہو یا وہاں گیا ہو۔ جب ضمیر بھائی نے بتایا حضرت جی مولانا یوسف صاحب ﷫حیاۃ الصحابہ یہاں بیٹھ کر لکھا کر تے تھے یہاں اس حجرے میں جو کہ پہلے الیاس صاحب اور بعد میں یوسف صاحب  رحمہما اللہ کا حجرہ تھا یہاں پر   مشورہ ہوتا ہے اور پہلے یہاں ہوتا تھا واہ کیا منظر تھا عاجز وہیں کھڑا تھا ۔وہ کیفیت وہ سکون اسے لکھا  نہیں جا سکتا اسے وہاں جا کر صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔

                زیرِ نظر تحریر میں وہاں کی کچھ عجیب باتیں جو فقیر نے محسوس کیں، کچھ  اکابرین کے ملفوظات اور  کئی اور چیزیں قارئین کے فائدے کے تحت لکھنے کا ارادہ ہے۔ جن حضرات کا فائدہ ہو خصوصی و عمومی دعاؤں میں عاجز (مزمل اختر غفرلہُ )اور ( ضمیر بھائی، عبدالحق صاحب،عمران بھائی،ہمارے حضرت جی مرشدی مولانا صلاح الدین سیفی صاحب دامت برکاتہم ) ان تمام حضرات کے لیے خوب دعا ئیں کریں اور خاص دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مزید کی توفیق دیں اور اس مبارک کام کے لیے قبول فرمائیں۔

اور ایک خاص بات جو عاجز نے محسوس کی ہمارے کام کرنے والے حضرات اکابرین کے نام لیتے ہیں تو کچھ ادھورا ادھورا سا لگتا ہے  دیکھیے اکابر علماء دیوبند کا ایک مقام ہے بس ہم چاہتے ہیں وہ مقام باقی رہے۔ ہمارے علماءحضرات  کو دیکھیے انھیں حضرات کے نام کتنے پیار سے لیتے ہیں  ہمارے اکابرین نے اس دین کے لیے کیا کچھ نہیں کیا،کیا ہم ان کا صحیح طریقے سے  پوراپورا نام بھی نہیں لے سکتے؟ ہمارے ساتھی کہتے ہیں :

” مولانا سعد صاحب فرماتے ہیں۔۔۔ “

 اسی کو اس طرح کہا جائے تو کیاہی اچھا ہو:

”حضرت مولانا سعد صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ ۔۔۔“

 آپ کہہ کر دیکھیں، آپ کو خود اپنی بات(مذاکرہ ) میں فرق نظر آئے گا ۔  دلیل کے لیے، کچھ ہفتے پہلے اسلم صاحب کے فرزند مولوی عبدللہ صاحب دامت برکاتہم نے مرکز وارث پورہ کامٹی میں بیان کیا تھا انہوں نے ہر مرتبہ ایسے ہی ہر اکابر حضرات کا  نام لیا  تووہ کہتے تھے  :

”حضرت شیخ مولوی محمد یوسف صاحب ﷫فرمایا کرتے تھے ۔۔۔“

اسی طرح عاجز نے بارہا حضرت مفتی اسحاق صاحب دامت برکاتہم سے اکابرین کے نام اس طریقے سے لیتے ہوئے سنا ہے۔ دیکھیے یہ دین علماء حضرات سے ہم تک آیا ہے ،یہ لوگ حضور ﷺ کے وارث ہیں، ہمارا فرض ہے ہم انھیں سے ہر چیزیں سیکھیں اور انکی بہت عزت کریں۔ جزاک اللہ ۔

دعا جو ودعا گو

مزمل اختر غفرلہُ

پہلی نشست (25/05/13) بروز سنیچر

حضرت مولانا یعقوب صاحب دامت برکاتہم (بعد نماز مغرب)

وقت:-08:03 pm سے  08:57 pm

        1)آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب تمھیں تکلیفیں دی جائیں تو میری تکلیفوں اور مصیبتوں کو یاد کرنا تم اپنی تکلیفوں کو بھول جاؤ گے ۔
      2) دیکھو دین اجتماع   سے نہیں پھیلے گا - اجتماع کے تین بڑے نقصان ہوتے ہیں ۔
الف) نقد جماعتیں ادھار ہو جاتی ہیں  
ب) خرچ زیادہ ہوتا ہے ( عوام کی نظریں اللہ کی بجائے مالداروں کے جیب پر آجاتی ہے ) 
ت)جماعتوں کو امیر نہیں ملتے (زیادہ جماعتوں کے بننے کی وجہ سے ہر جماعت کو مناسب امیر ملنا آج کے دور میں تھوڑا مشکل ہے) 
3) حضرت نے تین سے چار مرتبہ کہا ہر  ایک کو اپنا سمجھیں۔  پہلے عداوت آئے گی پھر دوستی ہوجائے گی ۔
4) ہم اسلئے یہاں آتے ہیں تاکہ ہماری فکریں ایک ہو جائیں۔

نشست دوم (2013/05/26) اتوار

حضرت مولانا ابراہیم دولا صاحب دامت برکاتہم (بعد نماز فجر)

وقت: - pm05:23  سے 06:50 pm

         1) کام کی حفاظت کریں۔  اس کام کی  حفاظت کریں گے تو اسکا اثر نظر آئے گا ۔
               (بقول موجودہ حضرت جی کہ یہ کام  تعارف کی سطح سے ا وپر چلا گیا ہے ہر کوئی جانتا ہے کام کیا ہے تم لاکھ اس کام کے خلاف پرچے چھاپ لو قسم خداکی اس کام کو ذرہ برابر نقصان نہیں پہچا سکتے اب کام کو نقصان غیر وں سے نہیں بلکہ کام کو نقصان کام  کے کرنے والوں سے ہے ) اس لیے حضرت کہہ رہے اس کام کی حفاظت کام کرنے والے کریں ۔
2)ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے آپ کو کام کے تابع کریں، نہ کہ کام کو اپنے تابع کریں ۔
ورنہ پھر اس کام کے کرنے کا دل چاہے گا کریں گے نہ چاہے گا تو نہ کریں گے۔
                                 جو شخص اپنے آپ کو نماز کا پابند کرے گا تو نماز کااثر ہوگا، وہ برائی سے رکے گا یہ نہیں کہ نماز کو اپنا پابند کرلیا کہ دل چاہا پڑھ لی نا ہوانہ پڑھی - اپنی نماز کو مؤمن والی نماز بناؤ نماز کے پابند  ہو جاؤ  گے۔٭
3)دین کا کام ہماری ذمہ  داری ہے ترقی اسی کو ہوگی جو  ذمہ داری پوری کرے گا۔
4)اس کام کی برکت سے اللہ کا  تعلق پیدا ہوگا۔ اس لیے اس کام سے لگے رہیں۔
مولانا یوسف صاحب ﷫ فرمایا کرتے تھے (اس کام سے لگے رہو ) اخلاص آئے گا ۔
5) حق کی ابتدا دشواریوں سے ہوتی ہے اور اسکی انتہاء کامیابیوں سے ہوتی ہے ۔
6) اپنے آپ کو ہم کام سے گزاریں، اپنے آپ سے کام کو لیں۔
7) اپنے کاموں کی فہرست میں دین کی بھی  محنت کو لاؤ۔
8) ااپنے دین کا بھلا چاہو اور دین والوں کا بھلا چاہو دوسروں کا بھلا چاہنا یہ دین کا ایک اہم جز ہے ۔
9) دین کی محنت میں اخلاق کا ظہور ہوتا ہے ۔
10) اس محنت کا اثر یہ ہے  کہ تمہارے دشمن تمہارے ساتھ ہوجائے گا ۔
(ہمارے ایک ساتھی کہہ رہے تھے یہ کام ایسا ہے اگر ہم استقبال میں کھڑے ہوں اور  ہمارا کوئ دشمن  بھی آئے تو اسے بھی گلے لگانے کو کہتا ہے ) 
 11 )کوئی غلطی بتائے تو تبلیغ کا مخالف....؟؟نہیں بلکہ وہ توہمارا خیر خواہ ہے۔ جیسے نماز میں کوئی لقمہ دے تو نماز کا مخالف نہیں ۔ اس نے تو ہماری نماز صحیح کی ہے اس لیے اس کا احسان مانیں، تسلیم اور تصحیح ہر عمل میں شامل ہے۔
12) تجارت ایسے کرو  کہ جو اپنے سے اوپر ہے اس سے دین لو اور جو اپنے سے نیچے ہےاسے دین دو۔
13) نیچے جاؤ تو راستے کھلتے ہیں ۔آپ ﷺ اوپر سے بہت ساری چیزیں لاتے اور پھر نیچے گئے چھوٹوں کے ساتھ (غریبوں کے ساتھ) رہے  ۔
14) سرمہ پتھر تھا اسکی پٹائی ہوئی، پسائی ہوئی، تو کیا مقام ملا....!!!!!  آنکھوں تک پہنچ گیا۔ ہم  بھی اپنی پٹائی  اور پسائی کروائیں۔
15) انصار کے اندر یہ خوبی تھی کہ مشکل کام اپنے ذمہ لیتے تھے ۔
16) ایسے عمل کرو جس میں اللہ کے لیے اخلاص ہو اور مخلوق کے لیے اخلاق ہو۔

تیسری نشست(13/05/26) بروز اتوار

حضرت مولانا سعد صاحب دامت برکاتہم

وقت: -  10:10 سے 12:19 تک

ہمار ے یہاں کے بڑے ذمہ داروں میں ایک اہم شخصیت ہے جنہیں عموما لوگ اسلم صاحب کے نام سے جانتے ہیں۔ کافی کم عمر سے حضرت کام سے لگے اور اللہ نے ان سے بہت کام لیااور ابھی بھی لے رہے ہیں۔ حضرت اس زمانے کے ہیں آپ لوگ خود  ہی سوچ سکتے ہیں کتنی مشقتیں اٹھائی ہوں گی۔ اس پر بھی ایک مرتبہ حضرت فرمارہے تھے جو کہ ہم نے کسی معتبر شخص سے سنا،حضرت کہہ رہے تھے:

 " جب پہلی مرتبہ حضرت مولانا سعد صاحب دامت برکاتہم (  اسلم صاحب کا پتہ نہیں، مگر  ہم سے جنھوں نے کہا انھوں نے دامت برکاتہم نہیں کہا تھا ۔۔۔ اللہ توفیق دیں ) سو جب انھوں نے پرانوں  کے مجمع میں بات کی تو مجھے ایسا لگا کہ ہم نے اب تک کوئی کام ہی نہیں کیا  ۔"

1) کارگزاری کمیت کی نہیں ہے کہ اتنے اتنے نکلے، بلکہ کارگزاری تو کیفیت کی ہے ۔
2) حضرت نے فرمایا مفتی زین العابدین صاحب جب بھی یہاں (مطلب نظام الدین) آتے تو تمام چیزیں لکھ کر لے جاتے اور دوسروں کو دکھاتے۔
3) سمجھ میں آئے نہ آئے کرنا وہ ہے جو ہم کہہ رہے ہیں ۔
4) جتنی ترقی ہمار ی صحابہ پر نظر رکھنے سے ہوگی اتنی کہیں نہیں ہو سکتی ، اپنے کاموں کو سنتوں پر لائیں، دعوت کا کوئ ایک  جز ایسا نہیں ہے جس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ ہو اور صحابہ سے عملی طور پر کروایا نہ ہو۔
5) متحرک وہ ہے جن کے سالانہ چلہ لگ رہے ہوں۔
6) اپنے مجمع کو شروع سے اللہ کے راستے کےخروج کی اہمیت بتائیں ۔
7) مجمع کیوں نکلے یہ بات سامنے آنی چاہیے ۔صحابہ سے ایک سال کا خروج چھوٹنے کی وجہ سے اللہ اور نبیﷺ کی ناراضگی کے واقعات پیش کریں ۔
8) جب تک اللہ کے راستے کے خروج کو نہ بتائیں گے تب تک مجمع متحرک نہ ہوگا ۔
9) حضرت فرماتے تھے، ہمارے مجمع کا جمع ہونا بکھیرنے کے لیے ہے۔٭
10) لوگوں سے کہیں کہ 5 اعمال آپ عملی طور پر کر کے دکھلادیں تب عام مجمع اس کام پر آئے گا۔
11) جماعتوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے ہی علاقوں میں چلاؤ نئے لوگوں کو مسجد وار جماعت سے جوڑو تاکہ ان کے اندر فکر آئے اور پرانوں کو شب گزاری سے جوڑو۔
12) جماعت کو لمبے خروج کے لیے تیار کرو صحابہ کی قربانیوں کے ذریعہ سمجھاؤ(نکلنا کیوں ضروری ہے نہ نکلنے کا کیا نقصان ہے)
13)(اپنے علاقوں میں گھروں کی تعلیم کو خوب عام کریں اور اس کو خوب مضبوط کریں ہماری بستی میں کوئی ایسا گھر نہ بچے جہاں تعلیم نہ ہوتی ہو ) حضرت نے فرمایا حضرت ( حضرت شیخ مولوی محمد یوسف صاحب ﷫) نے مسجد میں حیاۃ الصحابہ کی تعلیم کی ۔ پھر گھر گئے حالت کافی خراب تھی تعلیم شروع کی تو گھر والوں نے کہا آپ کی حالت ٹھیک نہیں ہے آپ نے مسجد میں تعلیم کی ہم نے سن لی (کیونکہ آپ کا حجرہ مسجد سے متصل تھا ) آپ نے کہا تم لوگوں نے سنا ہوگا لیکن وہ میری مسجد کی تعلیم تھی یہ میرے گھر کی تعلیم ہے ۔
14) 6 نمبر کے مذاکرے کا مقصد یہ ہے کہ گھروں میں مستورات کے اندر فکر آئے۔
15) طلبہ بھی مسجد کی جماعت کے ساتھی ہیں، اگر ان کا مشورہ الگ ہوگا تو وہ اپنے آپ کو الگ سمجھیں گے۔ مشورہ سے یہ محسوس نہ ہو کہ یہ عمل اس طبقہ کا ہے ۔
16) روزآنہ کی فکروں میں طلبہ نہیں رہیں گے تو طلبہ بے فکر ہو جائیں گے ۔
17) ہم تو چاہتے ہیں کہ طلبہ میں پورے عالم کی فکر ہو اسلئے ہر عمل میں طلبہ کو بھی شریک کریں ۔
18) منتخب احادیث کی تعلیم کو عام کرو تاکہ عام سے عام آدمی کو حدیث کی روشنی میں چھ نمبر بولناآجاٰئے   ۔
19) اس کام کی وجہ بصیرت اور استقامت آئے گی ۔
20) جب وہ دیکھتا ہے میری نماز ٹھیک ہو گئی، دین ٹھیک ہو گیا تو اب میں کیوں نکلوں؟ اسلئے لوگوں کے سامنے خروج کی اہمیت بتائیں اور تشکیل کریں۔

چوتھی نشست(26/05/13)بروز اتوار

پروفیسر عبدالعلیم صاحب (بعد نماز مغرب)

وقت: -08:05 سے 09:03

1) دیکھو دو رخ ہیں اس کام کے (الف) نقل و حرکت. (ب) مقام پر  رہ کر کام کرنا 
2) خروج کا بدل اور کوئی عمل نہیں ہے۔ مقامی کام اسکی بھٹکنے  سے حفاظت کرتا ہے ۔
جتنا مقامی کام مضبوط ہوگا اتنی ہی نقل وحرکت مضبوط ہوگی ۔نفس پر سب سے بھاری مقامی کام ہوتا ہے۔
3) مقامی کام کے لیے مسجد ہونا شرط نہیں ہے۔ فرانس میں درخت کے نیچے کام کیا او ر چار ماہ کی جماعت نکالی ۔
4) عمومی گشت ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ بہت سی روحانی بیماریوں کا علاج ہی عمومی گشت ہے ۔
5) اگر کوئی عالم کمزوری بتائے تو اسے فوراً قبول کریں دلیل پیش نہ کرے نہ ہی صفائی پیش کریں ۔
6) ایک مرتبہ کسی نے کہہ دیا دوبارہ میرے پاس نہ آنا تو پھر اس کے پاس جانا(اور بار بار جانا) اور  اس کے پاس جانا نہ چھوڑنا یہ سوچیں کہ وہ آپ ﷺ کا امتی ہے ،اس وجہ سے اس کے پاس جانا ۔دل تو اللہ کے قبضہ میں ہے جب چاہے بدل دے ۔ 
7) 70 برس کی دادی اماں ہے اس سے بھی مذاکرہ کرائیں تاکہ وہ بھی اللہ سے ہونے کے بول کو بولتے ہوئے اللہ کے پاس جائے  
8) شیر خوار بچہ بھی ہے تو ماں اسکو ساتھ لے کر بیٹھے حالاں کہ وہ سمجھ نہیں رہا ہے مگر تعلیم کا نور اسکے اندر داخل ہوتا ہے ۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اذان دی جاتی ہے نا ؟ وہ سمجھ نہیں رہا ہوتا ہے مگر اذان دی جاتی ہے۔

پانچویں نشست (26/05/13)بروز اتوار

حضرت مولانا سعد صاحب دامت برکاتہم (عشاء بعد حیات الصحابہ)

وقت: -11:10 سے 11:26

( حضرت عشاء پڑھاکر اپنے حجرے میں چلے جاتے ہیں جس کا دروازہ مسجد کی تقریباً چوتھی صف میں ہے۔پھر نمازوں سے فارغ ہوکر آتےہیں۔ ان کے پیچھے ان کے تینوں بیٹے فرمانبردار بیٹوں کی طرح نہایت ہی  ادب سے  حضرت کے پیچھے چلتے ہیں اور حضرت کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں اور آپ  بیٹےبھی وہی  آس پاس بیٹھ جاتے ہیں۔ ان میں ہر ایک کے پاس کتاب ہوتی ہے ۔مولوی سعد صاحب دامت برکاتہم کتاب پڑھتے ہیں اور دونوں بیٹے کتاب کھول کر سنتے ہیں اور پورا مجمع اس منظر کو خوشدلی کے ساتھ دیکھتا ہے اور اور تعلیم سنتا ہے تعلیم سے پہلے حضرت کچھ اہم بات کرتے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں )

1) اس راستے میں آنے والی مشکلوں کو صحابہ کی زندگی میں تلاش کرو  ۔ جو یہ نہ کرے اس کے اندر استقامت نہیں ہوگی ۔
2) لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کام استقبال سے شروع ہوں ۔جو لوگ کام کرنے کے لیے حالات کے بدلنے کا انتظار کریں گے تو حالات ان کے لیے کبھی نہیں بدلیں گے ۔
(اس کے بعد حضرت نے کتاب پڑھنی شروع کی  )

(جاری ہے……)


تبصرے و حاشیے (مدیر کے قلم سے)

٭ غالباً مضمون نگار سے یہاں "بکھرنے" کی جگہ "بکھیرنے" تحریر ہوگیا ہے۔ بکھیرنے کا لفظ بھی معنی کے عین مطابق ہے البتہ زیادہ قرینِ قیاس 'بکھرنے' ہے، کیونکہ کام کے لیے سب سے پہلے خود کو پیش کیا جاتا ہے۔(مدیر)
     

سوشل نیٹ ورک کی عفریت - فیضان الحق معراجی

فیضان الحق معراجی حفظہ اللہ

ہم تفریح طبع کے لئے سوشل نیٹ ورک پر کیسے کیسےمباحث میں مصروف رہتے ہیں کہیں اسلامی مسئلہ ،کہیں مسلکی مسئلہ،کہیں سیاسی تو کہیں نظریاتی الغرض ہم میں سے ہر ایک خواہ وہ عقل پر لٹھ کے بجائے سینک لے کر گھوم رہا ہو مگر اختلافی موضوعات میں نوے فی صد حصہ لے رہا ہے اس بات سے قطع نظر کہ وہ اختلافی موضوعات کس قسم کے ہیں۔

مگر سوشل نیٹ ورک(عفریت) کے صارفین ان چھوٹی چھوٹی تفریحوں کے فوائد و نقصانات کا اندازہ جب لگتا ہے جب ہم ان کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں چنانچہ ہم میں سے کوئی بھی جب اپنا اکاؤنٹ بناتاہے اس وقت مالکان سوشل نٹورک ہم سے کچھ ایسے معاہدے کرواتے ہیں کہ اگر ہم ان کو بغور پڑھیں اور ان کی گہرائی کو سمجھیں تو شاید کسی سائٹ پر اکاؤنٹ بناتے ہوئے ہم سب کا کلیجہ منہ سے باہر گر جائے۔

وہاں ان کے معاہدے کچھ اس طرح ہوتے ہیں کہ آپ کی محفوظ کردہ دستاویز کو مالکان کسی بھی صورت استعمال کرنے کا جواز رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اب اس ضمن میں دیکھا جائے تو ابھی کچھ ہی روز کا معائینہ تھا کہ خود ہمارے ملک "ہندوستان" میں کسی خبر سے بدامنی پھیلانے کے لئے صرف "دس منٹ" کا وقت صرف ہونا ہے ۔

اسی طرح ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپنی کالا بازاری اور پروجکٹ کی کامیابی کے لئے کون سا علاقہ زیادہ موزوں ہے اس کے لئے وہ سب سے پہلے سوشل نٹورک مالکان سے رابطہ کرتے ہیں کہ ان کا یہ پروجکٹ کس علاقہ میں کس حد تک نفع کما سکتا ہے ؟ اور چونکہ ہم اس معاہدے کے تحت ہیں اس لئے مالکان سوشل نٹورک ہماری رائے ان کو بلا جھجھک فروخت کرتے ہیں اور اس طرح وہ ہماری اس چیز کو جو ہم صرف تفریح طبع کے لئے استعمال کررہے ہیں اس کو وہ اپنےمفاد کے لئے بلا عوض استعمال کررہے ہیں ۔اور یہیں پر بس نہیں بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی مذہبی،مسلکی،سیاسی نظریات میں کون کون کس کس طرح کے رویہ کا خوگر ہے اور کس علاقہ کے سرکردہ اور غیر سرکردہ لوگ اس مسئلہ میں کس نظریہ کے حامی ہیں ان تمام باتوں کو باقاعدہ طور سے سوشل نٹورک سے حاصل کیا جاتا ہے اور یہ بیش قیمت معلومات دینے کے لئے ہم بھولی عوام جانتے بوجھتے ہوئے خود کا نظریہ بلا عوض ان تک پہونچاتے ہی نہیں بلکہ اس پر خود کے قیمتی اوقات کے ساتھ اپنی خطیر رقم بھی اس پر شوق سے گنوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور وہ اسی کو بڑی بڑی رقم میں دوسروں کو فروخت کرتے ہیں۔

بات صرف فروختگی تک محدود ہو تو تسکین خاطر ہوجائے اور صبر کرلیا جائے تاہم یہاں بات صرف فروختگی کی نہیں ہے۔۔۔

بلکہ بات یہاں ان دشمنان انسانیت کی ہے جن کو صرف اپنی بالا دستی اور لیڈر شپ کے لئے رذیل سے رذیل پروپگنڈوں کو انسانیت کے انہدام کے لئے استعمال کرنے کی ہے اور خود کی حکمرانی اور تانا شاہی کی برقراری کی ہے لہذا ضروری ہے کہ ہم سے ہر ایک ایسے مباحث میں بہت محتاط انداز سے محض اصلاحی فکر کا جذبہ کار فرما رکھ کر اس سوشل نٹورک کا استعمال کرے ۔

اور جہاں جہاں برساتی مینڈھک بیٹھے بیٹھے ٹرٹر کررہے ہیں ان کو بہت ہی خوش اسلوبی سے سمجھائے اگر وہ وار کرتے ہیں تو اس انداز سے دفاع ہو کہ وہاں ہم سب کا نظریہ ہار اور جیت بالکل نہ ہو بلکہ ہمارا نظریہ سمجھنا اور سمجھانے کے ساتھ متلاشی حق اور اصلاحی ہو اس طرح اس سوشل نٹورک سے نفع اٹھا کر ہم ہی پر وار کرنے والوں کے منحوس اذہان کو شکست اور ان کے ناپاک پروپگنڈوں کا قلع قمع بھی کیا جا سکتا ہے اور ساتھ میں بے جا الزامات اور کذب بیانی کرنے والوں کے گلے میں پھندا بھی ڈالا جا سکتا ہے۔

٭٭٭

     

قرآنِ پاک کی ترتیب و تفہیم - نور سعدیہ شیخ

نور سعدیہ شیخ حفظہا اللہ

انسانی احساسات جُوں جُوں پروان چڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے زندگی میں آنے والے نشیب و فراز سوالات کی پٹاری کھولے زندگی کو سوالیہ نشان بنا دیتے ہیں ۔یہ سوال ہماری زندگی کا مقصد متعین کرتے ہیں کہ ان جوابات کی روشنی میں زندگی گزارنا ہی بطریقِ احسن ہے ۔

لفظ میرا سرمایہ ہے ۔مجھے جینے کا طریقہ لفظوں نے سکھایا ہے ۔ میری زندگی میں پہلا لفظ اس ہستی کے لیے نکلا ، جس نے مجھے تخلیق کیا۔  احساس نے مجھے ''ماں'' اور ''اللہ '' دو الفاظ سکھائے اور میری جستجوِ لفظ نے سوالات کا انبار میرے سامنے رکھ دیا ہے ۔ زندگی میں انسان خود سے بہت زیادہ سولات کرتا ہے۔ جب سوالات کا جواب تشفی بخش نہیں ملتا تو تلاش میں نکل پڑتا ہے ۔میں نے ایک حدیث کی تحقیق کے لیے اصحاب و تابعین کو ایک بر اعظم کونے سے دوسرے کونے میں سفر کرتے ہوئے پڑھا تو حیرت نہیں ہوئی کہ اسلام کا حکم یہی کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے ۔ . لفظ میرا سرمایہ ہیں… کبھی کبھی دل کرتا ہے ان لفظوں کو چوموں جو حقِ باری تعالی کا کلام ہیں… نوری کلام جو انسان کے قلم کی پیداوار نہیں ہے ۔

مجھ تک قرانِ پاک الفاظ سے پہنچا ۔ میں جب بھی یہ الفاظ سنتی تھی مجھ پر سحر طاری ہوجاتا اور ہر دفعہ میں سوچا کرتی تھی کہ میں نے اس کو سمجھ کر پڑھا نہیں ہے مگر اس کے اندر پھر بھی اتنی تاثیر ہے ۔اس احساس نے مجھے قرانِ پاک کا ترجمہ پڑھنے پر مجبور کردیا ۔ ٭ جب ترجمہ پڑھا تو مجھ پر انکشافات ہوئے ، سوالات کے جوابات کو پا کر مزید خود کو تشنہ پایا کہ قرانِ پاک ایسی کتاب ہے کہ اس کے ہر ہر لفظ کے گیارہ گیارہ پرتیں ہیں ، جانے کب یہ اسرار کھلے ، جانے کب میں اس کلام پر عبور حاصل کر پاؤں ۔ مجھے یہ احساس ، یہ احساس رُلاتا ہے کہ میں نے عمر گنوادی مگر نوری کلام دل میں سما نہ پایا۔ خود پر بہت ملامت محسوس ہوئی ۔ اس ملامت کے نتیجے میں میں جو لکھ رہی ہوں ۔ وہ آپ کے سامنے ہے ۔ میرے لفظ ، میرے احساس سے اور میرا احساس سوالات کی مرہون منت ہے ۔ زندگی میں سوال کے جواب پانا مرا مقصدِ حیات ہے۔

قرانِ پاک میں اخفاء کیا ہے ؟ اور کیا ظاہر ہے ؟ اس کا اسرار بے چین رکھتا ہے اور میری جستجو ساری عمر جاری رہے گی جب تک کہ اسرار سے پردہ اٹھا کر جان نہ لوں ۔قران پاک کی کتابت اور تدوین جناب سیدنا حضرت عثمان   کے دور میں ہوئی اور احادیث کی تدوین جناب حضرت عمر بن عبد العزیز ﷫کے دور میں ہوئی ۔مزید کچھ لکھنے سے پہلے کچھ نقاط ذہن میں ہیں ۔ اسلامی قوانین کے بنیادی ماخذ درج ذیل ہیں ۔قوانین کو دو پرائمری اور سیکنڈری ماخد میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

بنیادی ماخذ

1:قرانِ پاک 

کلامِ الہی ہے ۔ اس میں کمی و بیشی کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ چودہ سو سال سے آج تک یہ جُوں کا تُوں ہے ۔

2: سنت

کلامِ الہی کے ہر حکم پر عمل پیرا ہو کے ایک ہستی چلتا پھرتا قران بن گئی جن کو دنیا پیارے پیارے محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کے نام سے جانتی ہے ۔

 حدیث اور سنت ،  دونوں ماخذ حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے منسلک ہیں ۔ سنت وہ ہے جس کی حضور پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے عمل کی ذریعے ترغیب دی جبکہ حدیث وہ الفاظ ہیں جو حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اقوال یا حرکات و سکنات مراد لی جاتی ہیں ۔

ثانوی ماخذ

1۔ رواج: 

عربوں میں کچھ رواج جو حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جاری رکھے اوور کچھ کے احکامات بطور ممانعت نازل ہوئے۔ مثال کے طور پر شراب جائز سمجھی جاتی جب تک کہ شراب سے متعلق احکامات جاری نہ ہوگئے ۔ اسی طرح خواتین کا پردہ اسلام کے پھیل جانے کے بعد بطور رواج روایت میں شامل نہیں تھا جب تک کہ اسکے احکامات نازل نہ ہوگئے ۔ان معاملات پر حضرت عمر رض کی رائے بطور سند لی گئ کہ ان کی رائے اللہ تعالیٰ کو پسند آیا کرتی تھی ۔ اسی وجہ سے ان کو صاحب الرائے کہا جاتا ہے ۔

2۔اجماع (consensus of opinion):

قران ِ پاک اور احادیث کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسلامی قانون سازی کی گئی ۔ اسلام قانون سازی کا سب سے بڑا ماخذ قرانِ پاک اور پھر حضور پاک صلی علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس ہے ۔ ''اجماع'' کو ''قیاس'' بھی کہا جاتا ہے ۔١٭ عہد ِ وقت کے تمام علماء کا اسلام کے قانون کے ماخذ میں سے ایک پر اکتفا کرتے ہوئے رضامند ہوجانا ایک نیا قانون سامنے لے کر آتا تھا۔ یہ قانون اس وقت تک جاری رہتا تھا جب تک علماء حیات ہوتے تھے ، اس کے بعد نئے آنے والے علماء اجماع کے ذریعے نیا قانون بناتے تھے ۔ اجماع کی بنیاد سب سے پہلے جناب امام ابو حنفیہ ﷫نے رکھی اور اس کے بعد امام مالک ﷫،امام شافعی ، امام احمد حنبل اور اصولی مسلک سے تعلق رکھنے والوں اس کو نہ صرف اپنایا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قوانین کو شدت سے عملی جامہ بھی پہنایا گیا ۔٢٭

کچھ ماخذ پر اختلافات کی وجہ سے صرف نام لکھنے پر ہی اکتفا کروں گی ۔ ان میں قیاس ، فقہی صوابدید یا استحصان ،استدلال وغیرہ شامل ہیں ۔ بعض کی نسبت بعض نے ان پر شدت سے اکتفاء کیا۔

قرانِ پاک ہم عجمیوں کی زبان نہیں ہے اس لیے ا سمیں چھپپے اسرار اور مخفی علوم کو ہم حاصل کرنے سے قاصر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے برصغیر میں جس ہستی نے کام کیا وہ حضرت شاہ ولی اللہ ﷫ ہیں ۔ جنہوں نے ایک بڑے پیمانے پر ایک مدرسہ قائم کرنے کے بعد قرانِ پاک کا فارسی میں ترجمہ کیا ۔ جبکہ ان بیٹے شاہ عبد القادر نے قرانِ پاک کا اُردومیں ترجمہ کرکے قرانی تعلیمات کو عام کیا۔ اس طرح قرانِ پاک عربی سے لشکری زبان اور فارسی زبان میں پھیلتا چلا گیا۔ اس کے پھیلنے کے بعد ، ترجمہ پڑھ لینے کے بعد ہمارے اعمال ، احکام کے مطابق نہ ہوپائیں تو سمجھ لیں کہ ہم نے قرانِ پاک کو ٹھیک سے پڑھا ہی نہیں ۔

قرانِ پاک کی ترتیب 

قرانِ پاک کی ترتیب کے دو طرز ہیں ۔

1۔ ترتیبِ نزولی
2۔ کتابی ترتیب

قرانِ پاک کی کتابت کا کام حضڑت عثمان   نے کیا تھا۔ اس پیاری کتاب کے احکامات کو سمجھنے کے لیے نزولی ترتیب کو سمجھا جاتا ہے۔ قران ِ پاک کے احکامات ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد نازل ہوئے ۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کے پھیلنے کا دور اور اسلامی ریاست کا دور ۔۔ قیامِ مکہ کا عرصہ وہ دور تھا جس میں عزت مآب حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسلام کو پھیلانے کے تمام کوششیں بروئے کار لائیں ۔ ہجرت کے بعد وہ آیات یا نشانیاں نازل ہوئیں جن کے براہِ راست احکام انسانی زندگی ، معاشرت ، نظامِ حکومت اور سیاست سے متعلق تھے ۔ اس لیے اس کے نزولی ترتیب اس کے احکامات کی سمجھنے میں درست سمت عطا کرتے ہوئے کلام الہی کو سمجھنے میں مدد دے گی ۔ اکثر ایک حکم کی کئی نشانیاں موجود ہیں ۔ اگر ان نشانیوں یا آیات کو اکٹھا کیا جائے تو مزید احکامات سے پردہ اٹھایا جاسکتاہے ۔ یہی قرانِ پاک کو درست سمجھنے کا طریقہ ہے ۔ اس سے ہی ہماری زندگیاں سنور سکتی ہیں کہ انسان دنیا میں آیا ہی ایک امتحان دینے ہے ۔ اس(امتحان) کو پاس ہم ان احکامات کی روشنی میں کرسکتے ہیں۔

قرانِ پاک کی تعلیمات کے علاوہ اس کی ایک اور بڑی خوبی اس کی ترتیل ہے ، قران پاک کے ابتدائی احکامات میں اس کے پڑھنے پر زور دیا گیا ہے اور اس کے لیے سورۃ مزمل میں لفظ ترتیل استعمال کیا گیا جس سے مراد ہے کہ اس کو اس انداز سے پڑھا جائے جس سے آواز میں موسیقیت پیدا ہوجائے ۔١٭ قرانِ پاک کے لفظ ایک خاص قسم کے پچ اور حیطہ رکھتے ہیں اور یہ پچ اور حیطہ تقریبا پورے قرانِ پاک میں ایک جیسا ہے ، اس لیے جب یہ کلام نازل ہوا تو عرب، جو کہ خود کو فصاحت میں ید طولیٰ رکھتے تھے، کہہ دیا کہ انسانی کلام ایسا نہیں ہو سکتا ۔ قرانِ پاک میں احکامات کے ساتھ دو باتوں پر خاص طور پر زور دیا گیا ۔ایک زُبان ، اس زبان میں نازل ہو جو زبان عربیوں کی ہے اور دوسرا عربوں میں فصیح و بلیغ وہی کہلاتا تھا جس کا کلام بہترین شاعری کی صورت لیے ہوئے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے احکامات کے ساتھ عربیوں کو مانوس رکھنے کے لئے قران پاک کو بصورت شاعری ٢٭اتارا کہ لوگ اس حکمت بھری کتاب میں شاعری کے اسرار و رموز سمجھتے ہوئے اس کو ترتیل سے پڑھیں ۔ اس کو ترتیل سےپڑھنے سے تلاوت دلوں پر اثر کرتی ہے کہ جس طرح موسیقی کا اثر دلوں پر ہوتا ہے ۔٭ اس لیے ہم جو قرانِ پاک کا علم نہیں رکھتے جب یہ کلام سنتے ہیں تو دل مسحور ہوجاتے ہیں ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہے جو کہ انسانی کمالات کی حد سے پرے ہے ۔

ترتیب نزولی کے لحاظ سے پہلی قرانِ پاک کی سورۃ :العلق

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (3) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (5) كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى (6) أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى (7) إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى(8) أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى (9) عَبْدًا إِذَا صَلَّى (10) أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى (11) أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى (12) أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى (13) أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى (14) كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (15) نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ (16) فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ (17) سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ (18) كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (19(

ترجمہ

پڑھو! اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو !تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ انسان کو وہ(علم)سکھایا جو نہ جانتا تھا۔ ہاں ہاں بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے ۔ اس پر کہ اپنے آپ کو غنی (بے نیاز) سمجھ لیا، بیشک تمہارے رب ہی کی طرف پھرنا یا لوٹنا ہے۔ تم نے دیکھا اُس شخص کو جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھتا ہو ؟ بھلا دیکھو تو اگر وہ (بندہ) راہِ راست پر ہو یا پرہیزگاری کی تلقین کرتا ہو ؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو ) جھٹلاتا ہو اور منہ موڑتا ہو ؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ؟ ہر گز نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اُس کی پیشانی کے بال پکڑ کو اُس کو کھینچیں گے ،اس پیشانی کو جو سخت جھوٹی اور خطا کار ہے۔

میں نے قران پاک کی پہلی نشانی اُٹھائی اور لفظ ''اقراء'' پر غور کرنا شروع کیا۔ زندگی میں پہلی دفعہ میرا دماغ مفلوج ہوگیا ۔ تین دن میرا ذہن لفظ ''اقراء'' میں پھنسا رہا ہے۔ اس بات نے مجھے بے قرار رکھا کہ میں اکثر ایک دو نظر سبق پڑھ کر اپنے آپ کو پاس کروالیتی ہوں ۔زندگی کا ایک بڑا امتحان میرے سامنے ہے ۔میں پہلے لفظ میں کھوئی ہوئی ہوں ۔ میری رفتار کیا ہے ؟ میں بہت کُند ذہن ہوں ۔ میں نے اللہ کے سامنے اپنی کم علمی کا اعتراف کیا کہ مالک میرا سجدہ قبول فرما لے ، میری گریہ قبول فرمالے ۔میرا لیے یہ زندگی کا سب سے بڑا مشکل امتحان ہے کہ جس میں قدم قدم پر آزمائش شرط ہے ۔ جہاں جستجو ہو ، وہاں دُعا رائیگاں نہیں جاتی ۔ چار دن بعد میری نظر لفظ ''اقراء'' سے ہوتی ہوئی ''العلق'' پر گئی ہے ۔ اقراء کا مطلب ''پڑھ '' ہے مگر اس کا عنوان ''العلق '' ہے ۔ اس کشمکش نے مجھے بہت رُلایا ہے ۔ بہت غور و فکر کے بعد میں اک نتیجے پر پہنچی ہوں۔۔ اس سورۃ نے کائنات کی تفسیر بیان کردی ہے ۔ اگر یہ کائنات کی تفسیر ہے تو پورا قرانِ پاک کیا ہوگا۔۔۔ہائے ! میرا احساس ندامت !!! احساس! میری غفلت کا ہے ، میری سرکشی کا ہے ، میری نافرمانی کا ہے ۔

''العلق'' کیا ہے ؟ کیا ایک انسان ہے ؟ ایک انسان کے دو حصے ہیں ؟ حیوانات کے دو حصے ہیں ؟ نباتات کے دو حصے ہیں؟ آخر کیا ہے ؟ حیوانات و نباتات کی ابتدا ''جوڑوں '' کی بصورت مذکر و مونث سے ہوئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر ہر شے جو تخلیق کی صلاحیت رکھتی ہے اس کے جوڑے مختص کر دیے ہیں ۔ العلق کا لفظ جاندار نوع کی ابتدا کی تفسیر ہے ۔ بالخصوص اس سورۃ میں انسان کی بات کی گئی ہے ۔ انسان کی ابتدا کیسے ہوئی ہے ۔ انسان بڑا کثیف ہے ۔ ہائے! اس کی کثافت اس کو گُناہ کی طرف لے جاتی ہے ۔ یہ کثافت لطافت میں کیسے بدلی جائے ؟ انسان کی نجات کیا ہے ؟ میں ! میری ابتدا کہاں سے ہوئی ہے مجھے بتا دیا گیا ہے مگر انتہا کیا ہے ؟

اس بات سے پہلی دفعہ میرے دل میں سچا خوف پیدا ہوا ہے ۔ اس سے پہلے میں سوچا کرتی تھی کہ میں اللہ سے محبت کروں گی کہ خوف نہ کھاؤں گی ۔مجھے جنت اور دوذخ نہیں چاہیے ۔ خیر ! یہ تو بچپن کی سوچ ہے اور بچپن تو ہوتا ہے معصوم ہے ۔ جہاں میں سوچا کرتی تھی کہ میں نے ایک گناہ کیا ہے اور معافی مانگ لی ہے اور میں پاک ہوگئی ہوں ۔ مجھے کیا پتا تھا میں جب بڑی ہوجاؤں گی مجھے خود کو کتنی دفعہ ''سفل '' کہنا ہوگا کہ میں نے اکثر ایسا کہا ہے ۔۔اس میں دُکھ تھا کہ میری روح بڑی ناپاک ہے اور روح ناپاک ہے کہ میں جھوٹ بولوں ، میں منافق بن جاؤں ، میں دھوکا دوں ، میں اللہ کا خیال نماز میں نہ لاؤں اور ٹکر مارتی جاؤں ۔ بہت سے ایسے گناہوں جن کو میں کبیرہ اور صغیرہ کہتی ہوں میں نے اپنی زندگی میں کیے ہیں ۔۔۔ ان گُناہوں نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں لکھوں کہ شاید ہدایت پاجاؤں ۔ شاید میرا نامہ اعمال کی سیاہ کاریاں کم ہو جائیں ۔۔ !!!

اب کہ ''العلق'' سے خیال میرا براہِ راست "اقراء' کی طرف آیا ۔۔ اس میں تو '' پڑھ '' کا لفظ لکھا ہوا تھا۔ میں نے آج تک بہت کتابیں پڑھ ڈالیں مگر مجھے کچھ حاصل نہ ہوا۔ میرا من خالی ہے ِ؟ جانے یہ دل میخانہ کیوں نہ بنا ؟ جانے یہ دل کب میخانہ بنے گا؟ یہ سوال تو بڑا تڑپاتا ہے !!! میں جب پہلی دفعہ اسکول میں داخل ہوئی تو اس میں سب سے پہلے مجھے حروفِ تہجی سکھائی گئی اور پھر مجھے لکھنا سکھایا گیا جب میں نے لکھنا سیکھ لیا تو میرا امتحان لیا گیا ۔ میرا امتحان مجھے اگلے درجے میں پہنچا گیا ۔ اس کا ادراک مجھے پہلی دفعہ یہ سورۃ پڑھتے ہوئے کہ اس سورۃ کی تفسیر تو میری زندگی کی تعمیر و تخریب کی کہانی سناتی ہے کہ میں جو چاہوں راستہ اختیار کرلوں ۔میں نے قران پاک پڑھا۔۔ ارے ! میں پڑھ رہی ہوں مگر مجھے دو لفظوں کی مار نے ایسا رُلایا کہ میں اتنا کبھی نہیں روئی ۔ میں اس بے قراری کو کیا کہوں ۔۔۔؟ اگر اس طرح میں نے پورا قران پاک پڑھا تو کیا میں میرا عمل خالی رہ جائے گا؟

بات سمجھ کی آگئی ۔۔۔ میں نے پڑھا اور اس کو سمجھا !! اس کے بعد میں نے عمل کو لکھا ۔ کیسے ! اس سوچ میں ہوں کہ ایک لکھنا تو وہ ہے کہ مجھے بات سمجھ آگئی اور میں نے جو سمجھا لکھا ؟ سب سے پہلے اس کو دماغ کی سلیٹ پر لکھا ہے ۔ اس کے بعد اس سلیٹ سے میں نے کاغذ پر لکھنا شروع کردیا۔ اب جو میں نے لکھا ہے اس کو میں نے اچھا جانا ہے تو میں عمل اچھا کروں گی اور اگر اس کو سمجھ کر بھی میں اس پر عمل نہ کرسکی تو؟ اس سوالیہ کے نشان پر مجھے ناکامی کا احساس یاد آیا ہے کہ زندگی میں خواب ٹوٹ جائیں تو ناکامی بڑا ستاتی ہے ۔ ناکامی نہ جینے دیتی ہے اور نہ مرنے نہ دیتی ہے ۔۔ ہائے ناکامی ۔۔ وائے کامیابی ۔۔۔ وائے کامیابی ۔۔ کیسے اس کامیابی کو حاصل کیا جائے ؟ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی ۔میں نے محنت شروع کرکے اعمال سنوارنے کی کوشش کی ؟ یا میں نے پیغام سمجھ لینے کے بعد اَن سُنی کردی ۔
کچھ طالب علم ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے اندرونی انتشار کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کرسکتے اور بعض اوقات وہ ناکام ہوجاتے ہیں۔یہ تو زندگی کے امتحان ہوتے ہیں ، اس اندرونی انتشار کا سامنا ہم کو آخری امتحان روزِ محشر نہ ہو ۔ ورنہ میں اور آپ تو بڑے پھنس جائیں گے ۔ناکام کی کی جگہ اس دنیا میں کم ہوتی ہے دنیا کامیابی کے پیچھے بھاگتی ہے . اس طرح آخرت کی طرف دوڑنے والے کامیاب ہوجائیں گے . سب سے بڑا استاد خالق ہے اور اس کے شاگرد اس کو چیلنج کریں تو کیا اس کی غیرت یہ گنوارا کرے گی ؟ وہ بہت رحیم و رحمان ہے . فضل و کرم ان پر کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کو سزا دیتا ہے جن کے دل قفل لگ جانے کی وجہ سے گرد سے اٹ جاتے ہیں . گرد تالے کے اوپر جمع ہوجاتی ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ تالا یا قفل زنگ آلود ہوجاتا ہے ، پرانے تالوں پر چابیاں کام کرنا چھوڑ جاتی ہے . اللہ تعالیٰ کا کلام چابی ہے . یہ کلام ہر روح پر کارگر ہے ، ہر روح پر اسرار اس کلام کے ذریعے کھلتے ہیں . مگر جن کی عقل کام کرنا چھوڑ دے ، جن کا دل و نگاہیں بصیرت و بصارت کھودیں ، جن کے آنکھیں حقائق کو دیکھ کر ماننے سے انکار کردیں ان کے دل پر تالے ہیں. ان کے تالے کیسے کھلیں کہ عرصہ گزر جانے کے بعد رحمانی کلام کی چابی سے دل کے قفل نہیں کھولے گئے . کہاں جائیں گے وہ لوگ؟ کہاں جائیں گے َ ؟ ان کا ٹھکانہ کیا ہوگاَ؟ ان کے حصے میں ناکامی ہے ؟ ان کا ٹھکانہ کیا ہوگا؟

اس بات سے مجھے اللہ تعالیٰ کا فرمان یاد آگیا . جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ تارخ کے لے دُعا کی . بعض مورخین کے نزدیک ان کے والد کا نام آذر تھا جبکہ ان کے چاچا کا نام تارخ تھا . آپ نے اللہ سے ان کی مغفرت کی دعا مانگی . ایک شخص جس کی ساری زندگی انکار میں گزری ہو اور وہ روح پر قفل لگائے جہاں فانی سے کوچ کر جائے تو اس کا کیا ٹھکانہ ہوسکتا ہے ؟ اس کا ٹھکانہ اللہ تعالیٰ نے خود بتادیا . ایک پیغمبر جو خلیل اللہ تھے ان کی بات قبول نہ کی . اس بات سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ محشر میں قرابت و رشتہ داری کام نہ آئے گا .اگر کام آئے گا تو ایک سچا رشتہ جو مجھے اللہ سے جوڑے اور خالق سے نکلے جتنے رشتے...ان رشتوں سے اگر میں محبت کر سکی تو .. میں اس قابل ہو جاؤں گی اپنی پناہ کی التجا کر سکوں . ورنہ مجھےڈر ہے .. مجھے اپنی آخرت کا ڈر ہے .. مجھے روزِ محشر سے ڈر لگتا ہے ، مجھے عالم برزخ سے ڈر لگتا ہے جس کا دروازہ مجھ پر کھلے تو وہ جنت کی ٹھنڈی چھاؤں بھی ہوسکتا  ہےاور دوذخ کی گرم ہوا بھی ... اور مجھے سچ میں بہت ڈر لگا ... یوں لگا میرے آگے اندھیرا چھا گیا ہے .. اس سے آگے کا تصور میں کر نہیں سکی ... کیا کروں ... ڈر لگتا ہے ... بہت ڈر لگتا ہے ... مجھے اس کا نافرمان نہیں بننا .... مجھے کوشش کرنی ہے کہ میں اللہ کے راستے پر چل سکوں ۔

اس خیال کے آتے ہیں مجھے خیال آیا کہ اس صورت کے بھی چار حصے ہیں ....

.1. انسان کی مادی تخلیق و ارتقاء
.2. انسان کی روحانی تخلیق و ارتقاء
.3. جبرو قدر کا فلسفہ ...اختیار و مرضی کا تعلق 
.4. برائی کا انجام ...جہنم

بسم الله الرحمن الرحيم
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔۔اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۔۔الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔۔ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۔

یہ انسان کی روحانی تربیت کے بارے میں بتاتا ہے ۔ انسان کی روحانی تربیت پڑھنے سے شروع ہوتی ہے ۔ اور پڑھنے کے بعد اس کی سمجھ نمو پاتی ہے اس کے ساتھ ہی دوسری آیت میں انسان کی ابتدا کے بارے میں بتایا گیا ۔ انسان کی ابتدا کثافت سے ہوئی مگر اس کی کثافت ، روح کی لطافت بڑھانے سے کم ہوسکتی ہے ۔ روح کو لطافت پڑھنے سے ملتی ہے ۔ جو جتنا پڑھتا جائے گا اس کی لطافت کثافت کو ختم کرتی جائے گی ۔ پیغمبروں کو اس لیے معصوم کہا جاتا ہے کہ ان میں لطافت لطافت ہی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ جناب حضرت محمد ﷺ لطافت طائف کے سفر میں لہولہان ہوجانے کے باوجود بد دعا کے لئے ہاتھ اٹھا نہ سکے مگر وہ پیارے ہاتھ دعا کے لیے اٹھ گئے ۔ اس روحانی تربیت کی مثال کہاں ملے گی کہ اپنی شان میں گستاخی کرنے والوں کو دعا دیے جارہے تھے ۔ ہم پیارے نبیﷺ کی پیروی کرتے ہوئے گناہوں سے پا ک ہو کر روح کو بلند مقام کی طرف لے جاسکتے ہیں ۔مگر اس کے لیے ہمیں پڑھنا اور سمجھنا ہی نہیں ہے ، ان اعمال کو لکھنا ہے ، عمل کرنا ہے ، اچھائی کی طرف جانا ہے ، قلم ہمارا متحرک رہے ، ہمارا دماغ اچھے کو قبول کرکے اچھے کی طرف آمادہ کرے ۔۔۔ یہاں دو طرح کا لکھنا ہے ایک وہ قلم جس سے کاغذ پر لکھا جاتا ہے اور ایک وہ قلم ہے جس کو دماغ لکھتا ہے ، اس قلم سے عمل بنتا ہے ۔ قلم جب چلتی ہے ، دماغ جب چلتا ہے تو انسان وہ علم سیکھتا ہے جن علوم کو وہ جانتا ہی نہیں ۔ اب ہم کس حد تک اس قلم یعنی دماغ کو چلا کے روح کی تربیت کرکے مرشد کامل کے راستے پر چلتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔

كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى Aya-6 أَنْ رَآَهُ اسْتَغْنَى Aya-7. إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى Aya-8. أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى Aya-9. عَبْدًا ِذَا صَلَّى Aya-10.

جبرو قدر کا فلسفہ سورۃ کے اس حصے میں بیان کیا گیا ہے ۔ انسان کی سرشت میں سرکشی ہے اور اپنے آپ کو روحانی تربیت سے بے نیاز کرکے حق کی طرف رجعت سے انکار کردیتا ہے ۔ دنیا تو عارضی ٹھکانہ ہے ۔ اس عارضی ٹھکانے میں کب تک رہے گا؟ آخر کو اس دنیا سے کوچ کرکے موت کی طرف جائے گا ۔ اس بات کا بالخصوص ذکر سورۃ ''ق' ' میں ذکر ہے ۔ انسان کی ہڈیاں کھا لی جائیں گی ۔ اس کے اعضاء ریشہ ریشہ ہوجائیں گے مگر اللہ تعالیٰ اس بکھرے ہوئے حصوں کو مجتمع کر لیں گے ۔ اور اس میں روح ڈال کر اس سے حساب لیں گے ۔ اس کے بعد اس کی سرکشی کس کام کی َ ؟ کہ دنیا تو عارضی ٹھکانہ ہے ۔ ۔۔''اریت'' کے معنی دیکھنا ۔۔'' ینہی'' بمعنی منع کرنا۔۔۔ کسی چیز سے منع کرنا ۔۔ "عبد'' ۔۔ بندے کو ۔''۔ صلیََ ''۔۔۔ نماز و عبادت کرے ۔۔ وہ بندہ جو سرکش ہے ۔ تاریخی حوالہ تو جناب پیارے حضور پاکﷺ اور ابو جہل سے متعلق ہے ۔ مگر یہاں یہ ہر اس انسان پر لاگو ہے جو حق راہ پر چلنے والوں کا راستہ روکے اور عبادت مٰیں رخنہ ڈالیں ۔۔ ان کا ٹھکانہ کیا ہوگا۔۔۔ جو اللہ کے آگے جھک جاتے ہیں وہ اس کے بندے ہوتے ہیں اور جو اس کے محبوب بندوں کو تنگ کریں وہ کس راہ پر ہوں گے ؟ سوچیے نا! وہ جو اس محبوب بندوں کو ایک سیدھی راہ پرچلنے دیں کہ ان کے دل تاکے کھاچکے ہیں مگر اپنے ساتھ نقصان تو یہ لوگ کرتے ہی ہیں ، ساتھ ساتھ اللہ کے نیک بندوں کے درمیاں رخنہ ڈال دیتے ہیں تاکہ عبادت میں رکاوٹ پیدا ہوجائے ۔ ایسے بندوں کے لیے سخت وعید ہے ۔

أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى Aya-11.أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى Aya-12. أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى Aya-13.أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى Aya-14. كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعَنْ بِالنَّاصِيَةِ Aya-15. نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ Aya-16.فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ Aya-17. سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ Aya-18. كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ Aya-19.

''ارایت'' بمعنی دیکھنے کے ۔۔'' کان ''بے شک ۔۔ ''علی'' ۔۔اوپر یا کی جانب ۔۔ کیا ہدایت پاجانے والے بندے کو نہیں دیکھا ۔۔ بے شک حضرت محمدﷺ کی طرف اشارہ ہے اور ساتھ ساتھ ہر اس شخص کے لیے اشارہ ہے ، جو نبیﷺ کا پیرو کار ہے کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔۔ امر ۔۔ بمعنی حکم کے ۔۔ پیرہیزگاری کے حکم کو اپنائے ہوئے ہے یا اس کو تقوی پر استوار کردیا گیا ہے ۔ اس شخص کو جو اللہ تعالیٰ کی راہ ہر ہے اس کو اگر اس کو فتنہ ساز تنگ کرے گا تو کیا ہوگا؟ کذب۔۔ جھوٹا اور ''تولی'' ۔۔۔ بمعنی حق سے رو گردانی کرنا ہے۔۔۔  کہ یہ فتنہ ساز جھوٹے اور حق سے روگرادنی کرنے والے ہیں ۔۔۔"الم ''۔۔۔ کیا نہیں ، ''یعلم'' ۔۔ جانتا ۔۔'' یری ''۔۔ دیکھنے کے روپ میں ۔۔۔اللہ تعالیٰ کیا نہیں دیکھ رہا کہ جو یہ لوگ کر رہے ہیں ۔ اور جب اللہ جانے تو اس کا کیا سلوک ہوگا ۔ بے شک یہ ایک وعید ہے ، ایک تنبیہ ہے ۔کہ ان کو پیشانیوں کے بل کھینچا جائے گا۔۔۔ پیشانی وہ جگہ جو دماغ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دماغ جب اندھا ہوجائے تو اس کو اس کی پیشانی سے پکڑ کر جہنم واصل کیا جائے اور تب اس کے ساتھی اس کے کام نہیں آنے والے ۔۔ اور جو لوگ پرہیز گار ہیں ۔۔۔ جو عبادت کرتے ہیں ۔۔۔ اس کو سنا دیا گیا کہ ان سے ڈرو مت ۔۔۔ تم حق پر ڈٹے رہو۔۔ ۔تاکہ۔۔۔ اللہ کا قرب حاصل ہو۔


تبصرے و حاشیے (مدیر کے قلم سے)
٭ ظاہر ہے کلام کا اصل مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ اسے سمجھا جائے، اگر یہ احساس ہم تمام کو قرآن پاک سمجھ کر پڑھنے پر مجبور کردے تو کیا ہی بات ہے!(مدیر)

١٭ اجماع و قیاس دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔ نبیﷺ کی وفات کے بعد مجتہدین کا کسی حکمِ شرعی کے متعلق اتفاق کرلینا اجماع کہلاتا ہے، جبکہ علت کے مشترک ہونے کی بناء پر غیر منصوص(جو صراحتاً قرآن و سنت میں مذکور نہیں) یعنی فرع میں اصل کا حکم لگانے کو قیاس کہتے ہیں۔بحوالہ آسان اصولِ فقہ-خالد سیف اللہ رحمانی(مدیر)
٢٭ اجماع کی بنیاد ابو حنیفہ ﷫ نے نہیں خود حق تعالیٰ نے رکھی ہے۔ مضمون نگار صاحبہ غالباً یہ کہنا چاہ رہی ہیں کہ اَوَّلَ مَنْ دَوَّنَ دِیْنَ مُحَمَّدﷺ ھُوَ اَبِی حَنِیْفَۃ دینِ محمدی ﷺ کی سب سے پہلے تدوین کرنے والے امام ابو حنیفہ ﷫ ہیں۔(مدیر)


١٭ قرآن کے پڑھنے کا اصل لہجہ لحنِ عرب ہے، موسیقیت مناسب لفظ نہیں(مدیر)
٢٭ قرآن کو بصورتِ شاعری نہیں اُتارا گیا، بلکہ فصاحت و بلاغت سے بھرپور اُتارا گیا۔ غالباً ہم قافیہ الفاظ کو محترمہ نے شاعری سے تعبیر کیا ہے، جبکہ ظاہر ہے، صرف ہم قافیہ الفاظ  شاعری نہیں کہلاتے۔(محترمہ یہ بات بخوبی جانتی ہیں) قرآن بھلے ہی شاعری نہیں، لیکن تمام شعراء کے دواوین  پر بھاری ہے ۔(مدیر)
٭ حدیث کی طرزپر یوں کہی جاتی تو بہتر ہوتا" اس کی ترتیل سے تلاوت دلوں کے لیے  ایسی ہی پُر اثر ہے جیسا کہ کھیتوں کے لیے پانی ۔" (مدیر)


     

حُسنِ ادب اور اُس کی اہمیت (قسط 1) - مولانا حبیب الرحمن اعظمی

 حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ

علماء، مشائخ اور بزرگوں کی عزت و تکریم معمولی عمل نہیں ہے۔ آج کل عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس نے دو لفظ پڑھ لیےوہ گویا 'میں ' ہوکر رہ گیا۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ قرآن کی جو تشریح میں کرسکتا ہوں، وہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔ (اور درست بھی ہے، جو تشریح ١٤٠٠ سال میں کسی صحابی اورتابعی، کسی ولی اور بزرگ نے نہیں کی…وہ تشریح صرف یہی لوگ کرسکتے ہیں، اور کوئی نہیں کرسکتا)

دلوں کو شفقت بھرے انداز میں جھنجھوڑتی تحریر ، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ

ع
ادب پہلا قرینہ ہے عبادت کے قرینوں میں  
(مدیر)


بڑوں کا ادب واحترام ، اساتذہ وشیوخ کا اکرام وخدمت گزاری اوراُن کا پاس ولحاظ ہمیشہ سے اکابر دین علماء سلف کا امتیازی وصف رہا ہے مگر آج آزادی کے غلط تصور اور مغرب زدگی کے اثر سے یہ چیزیں رفتہ رفتہ ختم ہورہی ہیں ۔ آج سے پچیس تیس سال پہلے ہمارے دینی مدارس کے طلبہ میں جو شائستگی وتہذیب جو متانت وسنجیدگی اور جو ادب واحترام پایا جاتا تھا آج اُس کی جھلک بھی کہیں مشکل ہی سے نظر آتی ہے ،یہ کمی بڑی افسوسناک کمی ہے۔ علومِ دینیہ کے حاملین کو اسلامی تہذیب ،اسلامی آداب ، اور اسلامی اخلاق کا حامل ہونا چاہیے۔ ہمارے لیے ہمارے اکابر واسلاف کی روش قابل تقلید ہے اسی میں ہماری عزت وسربلندی ہے اور اسلاف کی مستحسن روش ہی پر چل کر ہم اسلام کے تقاضے کو پورا کرسکتے ہیں۔ ہمارے مذہب نے جس طرح عقائد وعبادات اورمعاملات واخلاق کے سبق ہم کو بتائے ہیں اسی طرح اُس نے ہم کو آداب بھی سکھائے ہیں ،نیک روش ،اچھے چال چلن اور عمدہ طور طریق کی تعلیم بھی دی ہے اوردوسرے امور دین کے ساتھ ساتھ ادب ووقار سیکھنے اورسکھانے کی تاکید بھی کی ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا:

 ان الھدی الصالح والسمت الصالح والاقتصاد جزء من خمسة وعشرین جزء من النبوة ۔رواہ احمد ۔

(عمدہ روش ،اچھے انداز اورمیانہ روی نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے یعنی یہ چیزیں انبیاء علیھم السلام کے عادات وفضائل میں سے ہیں ) اسی لیے علماء نے فرمایا :یسن ان یتعلم الادب والسمت والفضل والحیاء وحسن السیرة شرعا و عرفا (الآداب الشرعیہ ١/٤٧٢)یعنی ادب ووقار، فضل وحیا اورحسن سیرت سیکھنا شرعاً وعرفاً مسنون ہے ۔

نیز حدیث نبوی میں وارد ہے: لان یؤدب الرجل ولدہ خیرلہ من ان یتصدق بصاع ۔ (ترمذی ) آدمی اپنی اولادکو ادب سکھائے تو یہ ایک صاع خیرات کرنے سے بہتر ہے اور فرمایا :مانحل والد ولدا من نحلة افضل من ادب حسن ۔ کسی باپ نے اپنی اولاد کو عمدہ ادب سے بہتر کوئی عطیہ نہیں دیا، اور ا رشاد ہے کہ بیٹے کا ایک حق باپ پر یہ بھی ہے کہ اس کو اچھا ادب سکھائے (عوارف)۔ ایک اورحدیث میں ہے: تعلموا العلم ، وتعلموا للعلم السکینة والو قار وتواضعوا لمن تعلمون منہ ۔ (طبرانی ) علم سیکھو اور علم کے لیے سکون وقار سیکھو، اورجس سے استفادہ کرواس کے لیے تواضع کرو۔ اس مضمون کا ایک اثر بھی حضرت عمر سے مروی ہے۔(الآداب الشرعیة ٢/٥١ و ١/٢٥٤)۔حضرت عمر سے یہ بھی مروی ہے تأدبوا ثم تعلموا (الآداب الشرعیہ ٥٥٧٣) ادب سیکھو پھر علم سیکھو۔ ابو عبداللہ بلخی نے فرمایا ادب العلم اکثر من العلم علم کاادب علم سے زیادہ ہے۔ امام ابن المبارک نے فرمایا کہ آدمی کسی قسم کے علم سے باعظمت نہیں ہو سکتا جب تک اپنے علم کو ادب سے مزین نہ کرے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ آیت کریمہ : قوا انفسکم واھلیکم ناراً کی تفسیر ادبوھم وعلموھم سے فرماتے تھے یعنی اپنے اہل واولاد کو آگ سے بچانے کا مطلب یہ بیان فرماتے تھے کہ ان کو ادب سکھاؤ اورتعلیم دو۔ عبداللہ ابن المبارک فرماتے ہیں کہ مجھ سے مخلدبن الحسین نے فرمایا کہ ہم بہت ساری حدیثوں کے سننے اور پڑھنے سے زیادہ محتاج ادب سیکھنے کے ہیں۔  (الآداب شرعیة ٣/٥٥٨)

حضرت حبیب ابن الشہید (جوامام ابن سیرین کے شاگردہیں ) اپنے لڑکے سے کہا کرتے تھے کہ بیٹے ! فقہاء وعلماء کی مجلسوں میں بیٹھ کر ان سے ادب سیکھو یہ چیزمیرے نزدیک بہت ساری حدیثوں کے جاننے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض نے بعض طلبہ حدیث کی کچھ خفیف حرکتیں دیکھیں تو فرمایا کہ اے وارثان ِانبیاء ! تم ایسے رہوگے ؟ حضرت وکیع نے بعض طلّاب کی کچھ نازیبا باتیں اور حرکتیں سنیں اور دیکھیں تو فرمایا کہ کیا حرکت ہے ، تم پروقار لازم ہے۔ (آداب شرعیة ١/٢٤٣) ایک بار عبداللہ بن المبارک سفر کررہے تھے لوگوں نے پوچھا کہاںکا ارادہ ہے ؟ فرمایا بصرہ جا رہا ہوں ، لوگوں نے کہا ، اب وہاں کون رہ گیاہے جس سے آپ حدیث نہ سن چکے ہوں ،فرمایا ابن عون کی خدمت میں حاضری کا ارادہ ہے،ان کے اخلاق اوران کے آداب سیکھوں گا۔ عبدالرحمن بن مہدی فرماتے ہیں کہ ہم بعض علماء کی خدمت میں علم حاصل کرنے نہیں جاتے تھے بلکہ صرف اس مقصد سے حاضری دیتے تھے کہ ان کی نیک روش ان کا طرز وانداز سیکھیں گے ۔ علی ابن المدینی وغیرہ متعددائمہ حدیث یحیٰ ابن سعید قطان کے پاس بعض اوقات صرف اس لیے حاضر ہوتے تھے کہ ان کی روش وانداز دیکھیں ۔ اعمش کہتے ہیں کہ طالبین علم فقیہ ( استاذ) سے ہرچیز سیکھتے تھے حتی کہ اُسی کی سی پوشاک اورجوتے پہننا سیکھتے تھے (آداب)۔حضرت امام احمد کی مجلس میں پانچ ہزار سے زائد آدمی شریک ہوتے تھے جن میں سے صرف پانچ سو کے قریب آدمی تواُن سے حدیثیں سن کر لکھتے تھے اورباقی سب لوگ ان سے حسن ادب اور وقار ومتانت سیکھتے تھے۔ (آداب ٢/١٣)

ادب سیکھنے اور سکھانے کی اس اہمیت کو واضح کرنے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عالم کا حق ،اور ان کے اجلال واحترام کے احکام بھی ذکر کردئیے جائیں۔

اُستاذ کامرتبہ :

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی بتادیا میں اُس کا غلام ہوں، وہ چاہے مجھے بیچے یا آزاد کردے یا غلام بنائے رکھے ۔امام زرنوجی نے اس کو ذکرکرنے کے بعد خود فرمایا ہے :

رأیت احق الحق حق المعلم
و اوجبہ حفظا علی کل مسلم

سب سے زیادہ واجب الرعایة اورضروری حق ہر مسلمان کے ذمہ معلم (اُستاذ) کا حق میں نے پایا

لقد حق ان یھدی الیہ کرامة
لتعلیم حرف واحد الف درھم

وہ اس لائق ہے کہ ایک حرف بتانے کی قدر دانی میں اس کوا یک ہزار درہم ہدیہ پیش کیاجائے

''شرح الطریقة المحمدیة '' میں ایک حدیث بھی بایں الفاظ مذکور ہے: من علم عبد اآیة من کتاب اللّٰہ فھو مولاہ ، لاینبغی ان یخذ لہ ولا یستأثر علیہ احدا یعنی کسی قرآن پاک کی ایک آیت سکھا دے وہ اس کا آقا ہے اس کو کبھی اس کی مدد نہ چھوڑنی چاہیے ،نہ اس پر کسی کو ترجیح دینی چاہیے ۔ ناچیز کہتا ہے کہ اس حدیث کی اسنادعوارف المعارف میں یوں مذکور ہے :

اخبرنا الشیخ الثقة ابوالفتح محمد بن سلیمان قال اما ابو الفضل حمید قال انا الحافظ ابو نعیم قال ثناسلیمان بن احمد قال ثنا انس بن اسلم قال ثنا عتبة بن رزین عن ابی امامة الباھلی عن رسول اللّٰہﷺ۔ (عوارف علی ھامش الاحیاء ٧٤/١)

اورمجمع الزوائد میں ہے کہ اس حدیث کو طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا ہے ۔ (١/١٢٨)

شرح الطریقة المحمدیة میں یہ بھی مذکور ہے کہ استاذ کا حق ادا کرنے کو ماں باپ کا حق ادا کرنے پر مقدم جانے ، اس کے بعد یہ واقعہ لکھا ہے کہ جس وقت امام حلوانی بخارا چھوڑ کر دوسری جگہ چلے گئے تو امام زرنجری کے علاوہ ان کے سب شاگرد سفر کرکے ان کی زیارت کو گئے،امام زرنجری ماں کی خدمت میں مشغول رہنے کی وجہ سے نہ جاسکے ،مدت کے بعد جب ملاقات ہوئی توانھوں نے غیر حاضری پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے یہی معذرت پیش کی ، امام حلوانی نے فرمایا کہ خیر تم کو عمر تو ضرور نصیب ہو گی مگر درس نصیب نہ ہوگا یعنی درس میں برکت اور بکثرت لوگوں کا ان کے درس سے فائد ہ اُٹھانا نصیب نہ ہو گاچنانچہ ایساہی ہوا اوران کا حلقۂ درس کبھی نہ جما ۔ الآداب الشرعیہ میں ہے :وذ کر بعض الشافعیة فی کتابہ فاتحة العلم ان حقہ آکد من حق الوالد (ا/٤٩٦) یعنی بعض شوافع نے اپنی کتاب فاتحة العلم  میں لکھا ہے کہ معلم کا حق باپ کے حق سے زیادہ مؤکد ہے ۔

اُستاذ اور ہر عالم کے حقوق : 

امام خیر اخری نے فرمایا کہ عالم کا حق جاہل پر اور اُستاذ کا حق شاگرد کے ذمہ یکساں ہی ہے اور وہ یہ ہے (١) بے علم یا شاگرد عالم یااستاذ سے پہلے بات شروع نہ کرے (٢) اس کی جگہ پر نہ بیٹھے (٣) اس کی بات غلط بھی ہوتو رد نہ کرے٭ (٤)اس کے آگے نہ چلے۔

تعلیم المتعلم میں ہے کہ اُستاذ کی تعلیم وتوقیر میں یہ بھی داخل ہے کہ (١) اُس کے پاس مباح گفتگو بھی زیادہ نہ کرے (٢) جس وقت وہ تھکا ماندہ ہواُس وقت اُس سے کوئی سوال نہ کرے(٣) لوگوں کو مسائل بتانے یا تعلیم دینے کا کوئی وقت اُس کے یہاں مقرر ہے تو اُس وقت کا انتظار کرے (٤) اس کے دروازے پر جا کر دردازے نہ کھٹکھٹائے بلکہ صبروسکون کے ساتھ اُس کے ازخود برآمد ہونے کا انتظارکرے۔

شرح الطریقة المحمدیہ میں بھی منقول ہے کہ استاد کا ہاتھ چومنا بھی داخل تعظیم ہے اور ابن الجوزی نے مناقب اصحاب الحدیث میں لکھاہے :   ینبغی للطالب ان یبالغ فی التواضع للعالم ویذل نفسہ لہ ومن التواضع للعالم تقبیل یدہ ۔یعنی طالب علم کے لیے زیبا ہے کہ عالم کے لیے تواضع میں مبالغہ کرے اوراپنے نفس کو اس کے لیے ذلیل کردے اور عالم کے لیے تواضع کی ایک صورت اس کا ہاتھ چومنا بھی ہے ۔(آداب شرعیہ ٢/٢٧٢)

استاذ کی تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ اس کے آنے جانے کے وقت شاگرد کھڑا ہوجائے1٭ ۔استاد عالم کے لیے قیام کا جواز بلکہ استحباب آداب شرعیہ میں بھی مذکور ہے اور اس باب میں امام نووی کا ایک مستقل رسالہ ہے۔ شرح الطریقة میں یہ بھی ہے کہ استاد کی کوئی رائے یا تحقیق شاگرد کو غلط معلوم ہوتی ہو2٭ تو بھی اس کی پیروی کرے جیسا کہ حضرت موسیٰ وخضر علیہما السلام کے قصہ سے ثابت ہے۔ استاذ کی تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ اس کے سامنے تواضع سے پیش آئے ، چاپلوسی کرے، اس کی خدمت کرے، اس کی مددکرے اور علانیہ وخفیہ اس کے لیے دعاء کرتا رہے۔(شرح الطریقہ)

امام غزالی نے احیاء العلوم میں یہ فرمایا ہے :ینبغی ان یتواضع للمعلم ویطلب الثواب والشرف بخدمتہ (١/٣٨) چاہیے کہ معلم کے لیے تواضع کرے اور اس کی خدمت کرکے شرف وثواب کمائے،اس کے بعد ایک حدیث نقل کی ہے ۔لیس من اخلاق المومن التملق الا فی طلب العلم یعنی مؤمن کے اخلاق میں تملق (چاپلوسی ) کی کوئی جگہ نہیں ہے مگر طلب علم کی راہ میں(رواہ ابن عدی من حدیث معاذ وابی امامة باسنادین ضعفین)۔

تعلیم المتعلم (ص٧) میں ہے کہ استاذ کی تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ اس کی اولاد اور متعلقین کی توقیر کرے ترغیب وترہیب منذری میں حدیث مرفوع ہے تواضعوا لمن تعلمون منہ یعنی جس سے علم حاصل کرو اس کے لیے تواضع کرو ۔ فردوس دیلمی کے حوالہ سے ایک حدیث نبوی منقول ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا: بڑوں کے آگے چلنا کبائر میں سے ہے ، بڑوں کے آگے کوئی ملعون ہی چل سکتا ہے ، پوچھا گیا یارسول اللہ! بڑوں سے کون مراد ہیں ، فرمایا علماء اورصلحاء۔ مراد یہ ہے کہ ان کی عظمت ومنزلت کا لحاظ نہ کرکے استخفافاًآگے چلنامذموم وقابلِ نکیر ہے۔ شرح الطریقة المحمدیہ میں ہے کہ علم زوال کا ایک سبب معلم کے حقوق کی رعایت نہ کرنا بھی ہے اور فرمایا کہ استادکو جس شاگرد سے تکلیف پہنچے گی وہ علم کی برکت سے محروم رہ جائے گا۔

کسی اور عالم کا قول ہے کہ جو شاگرد اپنے استاذ کو نا مشروع امر کا ارتکاب کرتے دیکھ کر اگر اعتراض وبے ادبی سے کیوں کہدے گا وہ فلاح نہ پائے گا ، یعنی نامشروع پر ٹوکنے کے لیے بے ادبی مباح نہیں ہے ۔دوسرے سے تنبیہ کرائے یا خود ادب واحترام کے ساتھ استفسار کی صورت میں کہے یا اس طرح کہے کہ نصیحة مسلم معلوم ہو۔

اجلال علم وعلماء :

ابوداؤد میں مروی ہے آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ بوڑھے مسلمان اورعالم وحافظ قرآن اور بادشاہ عادل کی عزت کرنا خدا کی تعظیم میں داخل ہے۔ الآداب الشرعیہ میں بروایت ابی امامہ یہ حدیث مرفوع منقول ہے کہ تین باتیں خدا کی تعظیم کی فرع ہیں اسلام میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے والے کی توقیر اور کتاب اللہ کے حامل کا احترام اور صاحب علم کا اکرام خواہ چھوٹاہویابڑا(١/٢٥٦)۔اسی کتاب میں حضرت طاؤس سے مروی ہے من السنة ان یوقر اربعة العالم وذوالشیبة والسلطان والوالد یعنی عالم اوربوڑھے اوربادشاہ اورباپ کی توقیر سنت ہے ۔ایک اورحدیث مرفوع میں اہل علم کے استخفاف کومنافق کا کام بتایا گیا ہے ۔ (مجمع الزوائد ١/١٤٧)

ایک اور حدیث میں ہے کہ جوہم میں کے بڑے کی عزت نہ کرے اورچھوٹے پر رحم نہ کھائے اورعالم کا حق نہ پہچانے وہ میری اُمت سے نہیں ہے۔ ابن حزم نے لکھا ہے (اتفقوا علی ایجاب توقیر اھل القرآن والاسلام والنبیﷺ وکذلک الخلیفة والفاضل والعالم ) یعنی حاملین قرآن واسلام اور نبی ﷺاسی طرح خلیفۂ وقت اور فاضل ،عالم کی توقیر کو واجب قرار دینے پر اجماع ہے۔ (الآداب الشرعیہ ١/٤٩٥)

امام مالک فرماتے ہیں کہ ہارون رشید نے میرے پاس آدمی بھیج کر سماعِ حدیث کی خواہش ظاہر کی میں نے کہلا بھیجا کہ علم لوگوں کے پاس نہیں جایا کرتا ۔رشید یہ جواب پاکر خود آئے اور آکر میرے پاس دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے میں نے کہا : یا امیر المومنین ! ان من اجلال اللّٰہ اجلال ذی الشیبة المسلم یعنی خدا کی تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کا احترام کیاجائے ۔ ہارون کھڑے ہوگئے پھر میرے سامنے شاگردانہ انداز سے بیٹھے ایک مدت کے بعدپھر ملاقات ہوئی تو کہا یا اباعبداللّٰہ تواضعنا لعلمک فانتفعنا بہ ہم نے آپ کے علم کے لیے تواضع کیا تو ہم نے اس سے نفع اُٹھایا۔ (آداب شرعیہ ٢/٥٥)
امام بیہقی نے روایت کی ہے کہ خلیفہ مہدی جب مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور امام مالک ان کے سلام کو گئے تومہدی نے اپنے دونوں لڑکوں ہادی اوررشید کو امام مالک سے حدیث سننے کا حکم دیا ،جب شہزادوں نے امام مالک کو طلب کیا توانھوں نے آنے سے انکار کردیا۔ مہدی کواس کی خبر ہوئی اور اس نے ناراضی ظاہر کی تو ا مام نے فرمایا کہ العلم اھل ان یوقرویؤتی اھلہ یعنی علم اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی توقیر کی جائے اور اس کے اہل کے پاس آیاجائے۔ اب مہدی نے خود لڑکوں کو امام صاحب کے پاس بھیجا ،جب وہ وہاں پہنچے تو شہزادوں کے اتالیق نے امام سے خواہش ظاہر کی کہ آپ خود پڑھ کرسنادیں ، امام نے فرمایا کہ جس طرح بچے پڑھتے ہیں اور معلم سنتا ہے اسی طرح اس شہر کے لوگ محدث کے پاس حدیثیں پڑھتے ہیں جہاں خطا ہوتی ہے محدث ٹوک دیتا ہے ۔ مہدی کو اس کی خبر پہنچائی گئی اوراس نے اس پربھی اظہار عتاب کیا، توامام مالک نے مدینہ کے ائمہ سبعہ کانام لے کر فرمایا کہ ان تمام حضرات کے یہاں یہی معمول تھا کہ شاگرد پڑھتے تھے اور وہ حضرات سنتے تھے ۔یہ سن کر مہدی نے کہا کہ تو انہیں کی اقتداء ہونی چاہیے اور لڑکوں کو حکم دیا کہ جاؤ تم خود پڑھو،لڑکوں نے ایسا ہی کیا۔ (آداب شرعیہ ٢/٥٥) ایک مرتبہ امام احمد کسی مرض کی وجہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اثنائے گفتگو میں ابراہیم بن طہمان کا ذکر نکل آیا انکا نام سنتے ہی امام احمد سیدھے بیٹھ گئے اورفرمایا کہ یہ ناز یبا بات ہوگی کہ نیک لوگوں کا ذکر ہو اور ہم ٹیک لگائے رہیں۔ (آداب شرعیہ ٢/٢٦)

اُستاذ کا لحاظ پہلے لوگوں میں : 

امام شعبی کا بیان ہے کہ حضرت زید بن ثابت سوار ہونے لگتے تو حضرت ابن عباس رکاب تھام لیتے تھے اور کہتے تھے کہ علماء کے ساتھ ایسا ہی کرنا چاہیے اسی طرح حضرت ابن عمر (صحابی ) نے مجاہد( تابعی) کی رکاب تھامی ۔امام لیث بن سعد امام زہری کی رکاب تھامتے تھے ۔مغیرہ کہتے ہیں کہ ابراہیم نخعی کی ہیبت ہم پر ایسی تھی جیسی بادشاہ کی ہوتی ہے اور یہی حال امام مالک کے شاگردوں کا امام مالک کے ساتھ تھا۔ ربیع کہتے ہیں کہ امام شافعی کی نظر کے سامنے ان کی ہیبت کی وجہ سے مجھے کبھی پانی پینے کی جرأت نہیں ہوئی ۔ (الآدب الشرعیہ ١/٢٥٦)

(٢) ثابت بنانی حضرت انس کے شاگرد اورتابعی ہیں یہ جب حضرت انس کی خدمت میں جاتے تو ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے اس لیے حضرت انس اپنی لونڈی سے کہا کرتے تھے کہ ذرا میرے ہاتھوں میں خوشبو لگا دے وہ آئے گا توبے ہاتھ چومے نہ مانے گا ۔ (مجمع الزوائد ١/١٣٠)٭
 (جاری ہے )