بدھ، 13 ستمبر، 2017

عقیدہ وحدت الوجود

جاوید خان صافی ﷾
   
  اہل حدث عرف وکٹورین علماء دیوبند پر بھتان لگاتے ہیں کہ علماء دیوبند وحدتُ الوجود کا عقیدہ رکھتے ہیں جوکہ ایک کفریہ شرکیہ عقیدہ ہے ۰ یہ بہتان فرقہ جدید اہل حدیث میں شامل چند جہلاء نے پھیلایا ہوا ہے اور اپنی طرف سے عوام کواس مطلب بتلاتے ہیں پھران سے کہتے ہیں یہ علماء دیوبند کا عقیدہ ہے ، اس باب میں ایک مختصر مگرجامع مضمون لکھنا چاہتا ہوں ۔
     1 ۔علماء حق علماء دیوبند پر ایک بہتان چند جہلاء ونام نہاد اہل حدیث کی طرف سے یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالی کے لئے حُلول واتحاد کا عقیدہ رکھتے ہیں جس کو ” وحدتُ الوجود “ کہا جاتا ہے اور اس کا مطلب ومفہوم یہ لوگ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ( معاذاللہ ) اللہ تعالی تمام کائنات کے اجزا مثلا حیوانات جمادات نباتات وغیرہ ہر چیز میں حلول کیا ہوا ہے یعنی مخلوق بعینہ خالق بن گیا اور جتنی بھی مشاہدات ومحسوسات ہیں وہ بعینہ اللہ تعالی کی ذات ہے ۔)معاذاللہ ثم معاذاللہ وتعالی اللہ عن ذالک علوا کبیرا (
     ناحق بہتان والزام لگانے والے جہال ومتعصبین کا منہ کوئی بند نہیں کرسکتا اور نہ کوئی مقرب جماعت علماء اس سے محفوظ رہ سکتی ہے اور ہرزمانے میں کمینے اور جاہل لوگوں نے علماء ربانیین کی مخالفت وعداوت کی ہے ،لہذا جولوگ اپنی طرف سے ” وحدتُ الوجود ” کا یہ معنی کرکے اس کو علماء دیوبند کی طرف منسوب کرتے ہیں اور عوام الناس کو گمراہ کرتے ہیں یقینا ایسے لوگ اللہ تعالی کے پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے علماء دیوبند اور دیگر صوفیہ کرام ” وحدتُ الوجود “ کے اس کفریہ معنی ومفہوم سے بری ہیں ۔ واضح رہے کہ کچھ بدبخت لوگ اس بیان وتصریح کے بعد بھی یہ بہتان لگاتے رہیں گے کیونکہ ان کا مقصد حق بات کو قبول کرنا اور اس پرعمل کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد وحید توابلیس کی پیروی کرتے ہوئے علماء حق علماء دیوبند کی مخالفت وعداوت ہی ہے چاہے علماء دیوبند ہزار باریہ کہیں کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے ہماری نصیحت تو ایسے عام ناواقف لوگوں کے لئے ہے جوایسے جھوٹے اورجاہل لوگوں کی سنی سنائی باتوں کی اندھی تقلید کرکے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔ اور اس بارے میں امام شعرانی شافعی رحمہ اللہ کے یہ نصیحت آمیز کلمات ذہن میں رکھیں قسم اٹھاکرفرماتے ہیں کہ:
     جب بتوں کے پجاریوں کو یہ جراءت نہیں ہوئی کہ اپنے معبودان باطلہ کو عین اللہ تعالی کی ذات تصور کریں بلکہ انہوں نے بھی یہ کہا جیسا کہ قرآن میں ہے
    مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ ( سورہ  ٣٩،الزمر: 3 )
     یعنی ہم ان بتوں کی عبادت اس لئے کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں تو اولیاء اللہ کے متعلق یہ بہتان لگانا کہ وہ ، حلول واتحاد ، کا عقیدہ رکھتے تھے سراسر بہتان اور جھوٹ ہے اور ان کے حق میں ایک محال وناممکن دعوی ہے جس کو جاہل واحمق ہی قبول کریگا۔
     2 ۔جن صوفیہ کرام اور بزرگان دین کے کلام میں ” وحدتُ الوجود “ کا کلمہ موجود ہے اور ایسے لوگوں کی فضل وعلم تقوی و ورع کی شہادت کے ساتھ ان کی پوری زندگی اتباع شرع میں گذری ہے تو اس حالت میں ان کے اس کلام کی اچھی تاویل کی جائے گی جیسا کہ علماء محققین کا طریقہ ہے اس قسم کے امور میں ۔اور وہ تاویل اس طرح کہ ایسے حضرات کی مراد ” وحدتُ الوجود ” سے وہ نہیں ہے جو ملحد و زندیق لوگوں نے مراد لیا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے ۔ اس کلمہ اور اس طرح کے دیگر کلمات جو صوفیہ کرام کی کتب میں وارد ہوئے ہیں جو بظا ہر خلاف شرع معلوم ہوتے ہیں ان کی مثال اس اعرابی کی طرح ہے جس کی دفاع خود آپ ﷺ نے کی ہے صحیح بخاری ومسلم کی روایت ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جنگل بیابان میں اپنی سواری پر سفر کر رہا تھا اس پر اس کا کھانا پینا بھی تھا لہذا وہ تھکاوٹ کی وجہ سے آرام کے کے لئے ایک درخت کے سایہ میں لیٹ گیا جب اٹھا تو دیکھا کہ سواری سامان سمیت غائب ہے وہ اس کو تلاش کرنے کے لئے گیا لیکن اس کو نہیں ملا لہذا پھر اس درخت کے نیچے مایوس ہو کرلوٹ آیا اور موت کے انتظار میں سو گیا پھر جب اس کی آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری بھی موجود ہے اور کھانا پینا بھی وہ اتنا خوش ہوا بلکہ خوشی وفرحت کے اس انتہا پہنچا کہ اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے
ﺍﻟﻠﻬﻢ ﺍﻧﺖَ ﻋﺒﺪﯼ ﻭﺍﻧﺎ ﺭﺑُﮏ 
یعنی اے اللہ تو میرا بندہ میں تیرا رب ، اسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی بندہ کی توبہ سے اِس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں ۔
جاء فی الحدیث الذی رواہ الإمام مسلم للہ أشد فرحاً بتوبة عبدہ حین یتوب إلیہ من أحدکم کان على راحلتہ بأرض فلاة فانفلتت منہ وعلیھا طعامہ وشرابہ فأیس منھا فأتى شجرة فاضطجع فی ظلھا وقد أیس من راحلتہ فبینما ھو کذلک إذ ھو بھا قائمة عندہ بخطامھا ، ثم قال من شدة الفرح : اللھم أنت عبدی وأنا ربک ! أخطأ من شدة الفرح 
 اوکما قال النبی ﷺ 
اب اس حدیث میں اس آدمی کا قول اے اللہ تو میرابندہ میں تیرا رب کیا ان ظاہری الفاظ کو دیکھ کر نام نہاد اہل حدیث وہی حکم لگا ئیں گے جو دیگر اولیاء وعلماء کے ظاہری الفاظ کو لے کر اپنی طرف سے معنی کرکے حکم لگاتے ہیں ؟ یا حدیث کے ان ظاہری الفاظ کی تاویل کریں گے ؟خوب یاد رکھیں کہ ” وحدتُ الوجود “ کا مسئلہ نہ ہمارے عقائد میں سے ہے نہ ضروریات دین میں سے ہے، نہ ضروریات اہل سنت میں سے، نہ احکام کا مسئلہ ہے کہ فرض واجب سنت مستحب مباح کہا جائے بلکہ صوفیہ کرام کے یہاں یہ ایک اصطلاحی لفظ ہے اور یہ صوفیہ کرام کے یہاں محض احوال کا مسئلہ ہے فقط اور اس سے وہ صحیح معنی ومفہوم مراد لیتے ہیں ۔
٭٭٭
     

عقائد علماء اہلحدیث...تیسری اور آخری قسط

عباس خان ﷾

عقیدہ نمبر 31
اگر امام کی نماز فاسد ہو جائے تو فقط امام نماز لوٹائے مقتدی نہیں۔
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب فرماتے ہیں:
امام حالت جنابت یا بغیر وضو کے نماز پڑھا دے یا کسی وجہ سے اس کی نماز فاسد ہو جائے تو فقط امام اپنی نماز لوٹائے مقتدیوں کو لوٹانے کی ضرورت نہیں اور نہ  ہی امام کا ذمہ ہے کہ وہ مقتدیوں کو یہ بتائے کہ  میں نے اس حالت میں نماز پڑھا دی ہے۔ (نزل الابرار ج 1 ص 101)
جبکہ  نبی کریمﷺ نے امام کو ضامن قرار دیا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ اگر اسکی نماز صحیح ہو گی تو مقتدیوں کی بھی صحیح ہو گی اور اگر اس کی نماز فاسد ہو گی تو مقتدیوں کی بھی فاسد ہو گی۔
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار ہوتا ہے ۔
(مسند احمد ج 9 ح 4341)

عقیدہ نمبر 32
نا پاک اور پلید کپڑوں میں نماز بلکل صحیح ہے۔
نواب نور الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
ناپاک کپڑوں (جن پر پیشاب ، پاخانہ  وغیرہ گند لگا ہو) میں نماز صحیح ہے۔(عرف الجادی ص 21)
نواب صدیق حسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
”نمازی کے جسم پر نجاست (پیشاب، پاخانہ) لگا ہوا ہوا ہو تو بھی نماز باطل نہیں“۔ (بدور الاہلہ ص 38)

عقیدہ نمبر 33
گدھی کتیا  سورنی سب کا دودھ اہلحدیث کے ہاں پاک ہے۔
مجدد اہلحدیث نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں
” گدھی کتیا ، سورنی سب کا دودھ پاک ہے“۔ (بدور الاہلہ ص 18)
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
”کتے اور خنزیر کا جھوٹا پانی ، دودھ وغیرہ بھی پاک ہے“۔ (نزل الابرار فقہ نبی المختار ج 1 ص 30)


عقیدہ نمبر 34
توسل شرک  اور ناجائز ہے۔
مولوی محمد احمد  غیرمقلد صاحب لکھتے ہیں:
وسیلہ کا یہی وہ غیر مشروط طریقہ ہے جو انسان کو شرک میں مبتلا کر دیتا ہے۔(فتاویٰ صراط مستقیم ص 75)
طالب الرحمٰن زیدی صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
کسی فوت شدہ نبی یا وی کا وسیلہ دینا جائز نہیں۔ (آئیے عقیدہ سیکھئے ص 159)
جبکہ حدیث  میں ہے کہ
حضرت انس  ؓ فرماتے ہیں  کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں قحط پڑتا تو حضرت عمرؓ حضرت عباسؓ کے وسیلے سے اس طرح دعا کرتے 
«اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» (بخاری ج1 ص 137)
ایک اور حدیث میں  ہے
حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسَ المُقْرِي الْمِصْرِيُّ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ ” أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ , فَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ , وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حَنِيفٍ , فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حَنِيفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ , ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ , إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي , وَتَذْكُرُ حَاجَتَكَ , وَرُحْ إِلَيَّ حَتَّى أَرُوحَ مَعَكَ , فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ , فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ عُثْمَانُ , ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ , فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ , فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ , وَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ , فَقَضَاهَا لَهُ , ثُمَّ قَالَ لَهُ: مَا ذَكَرْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَتْ هَذِهِ السَّاعَةُ , وَقَالَ: مَا كَانَتْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ , فَأْتِنَا , ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ , فَقَالَ: لَهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا , مَا كَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي , وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتَهُ
حضرت عثمانؓ بن حنیفؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عثمانؓ کے پاس ضرورت کیلئے آیا جایا کرتا تھا اور حضرت عثمان (غالباً  مصروفیت کی وجہ سے) اس کی طرف توجہ نہ فرماتے وہ شخص حضرت عثمان بن حنیفؓ سے ملا اور اس کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا کہ وضو  کرکے مسجد میں جا کر  دو رکعات نماز پڑھو اور پھر کہو اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپکی طرف متوجہ ہوتا ہوں ہمارے پیارے نبیﷺ کے وسیلے سے۔
(معجم الصغير ج 1 ص 183-184  صحیح )

عقیدہ نمبر 35
عیسائیوں کا قبضہ بھی دارلاسلام ہوتا ہے۔
وکیل اہلحدیث محمد حسین بٹالوی صاحب لکھتے ہیں:
ہندوستان باوجود  یہ کہ عیسائی سلطنت کے قبضہ میں ہے دارالاسلام ہے۔٭(الاقتصاد فی مسائل اجہاد ص 25)

عقیدہ نمبر 36
حضرت عیسیٰؑ کے والد کا اثبات۔ العیاذ باللہ
مشہور غیرمقلد عالم عنایت اللہ اثری صاحب لکھتے ہیں:
عیسی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ تو اپنا شوہر اور اس کا باپ بتا رہی ہے اور باپ بیٹا بھی دونوں اسے تسلیم فرما رہے ہیں مگر صدیوں بعد لوگوں نے انہیں بے پدر بتایا اور آپ کی والدہ کو بے شوہر بتایا کیا خوب ہے۔(عیون زمزم ص 40)
نوٹ:
اس عقیدہ میں حضرت عیسیؑ کے لئے والد ثابت کیا گیا ہے حالانکہ حضرت عیسیٰؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے قرآن یہی بتاتا ہے۔

عقیدہ نمبر 37
مرزئیوں کے پیچھے نماز پڑھنا
مولوی عبد العزیز صاحب سیکرٹری جمعیہ مرکزیہ اہلحدیث ہند لاہور صاحب ،غیرمقلد ثناء اللہ امرتسری صاحب (جو کہ فرقہ اہلحدیث کے  ہاں شیخ الاسلام ہیں )کے بارے میں لکھتے ہیں۔
”آپ (ثناء اللہ امرتسری صاحب) نے لاہوری مرزئیوں کے پیچھے نماز پڑھی“۔
”آپ نے فتویٰ دیا کہ مرزئیوں کے پیچھے نماز جائز ہے“
”آپ نے مرزئیوں کو عدالت میں مرزئی وکیل کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مرزئیوں کو مسلمان مانا“۔
العیاذ باللہ
(فیصلہ مکہ ص 36)


عقیدہ نمبر 38
جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں۔
چنانچہ نواب نور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
ذبح کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی تو خیر ہے کھاتے وقت پڑھ لے۔(عرف الجادی 239)

عقیدہ نمبر 39
کپڑوں پر اگر حلال جانوروں کا پیشاب پاخانہ لگا ہوا ہو تو اس میں پڑھنی درست ہے۔
چنانچہ فرقہ اہلحدیث کے  ایک بڑے عالم لکھتے ہیں:
”اور جس کپڑے پر وہ (حلال جانوروں کا پیشاب پاخانہ) لگا ہوا ہو اس میں نماز پڑھنی درست ہے“۔٭
(فتاویٰ ستاریہ ج 1  ص 105)

عقیدہ نمبر 40
نماز کی طرف دعوت دینا درست نہیں۔
فرقہ اہلحدیث کے بڑے عالم طالب الرحمن صاحب کی ایک بڑی حماقت  لکھتے ہیں:
”کیا لوگوں کو نماز کی دعوت دینا اسوۂ رسولﷺ ہے ۔ اگر نہیں تو پھر نبیﷺ کے طریقے کو کیوں نہیں اپنایا جاتا“۔ (یعنی نماز کی دعوت نہ دی جائے)٭
(تبلیغی جماعت عقائد و نظریات ص 10)

عقیدہ نمبر 41
کتا پاک ہے اور اس کا پاخانہ بھی نجس نہیں۔
فرقہ اہلحدیث کے ایک بڑے  عالم جنہیں فرقہ اہلحدیث امام شوکانی کے نام سے جانتی ہے لکھتے ہیں:
حدیث کی وجہ سے صرف کتے کا لعاب نجس ہے علاوہ ازیں اس کی بقیہ مکمل ذات یعنی گوشت ، ہڈیاں ، خون بال وغیرہ پاک ہے کیونکہ اصل طہات  ہے اور اس کی ذات کی نجاست کے متعلق کوئی دلیل  موجود نہیں“۔
(فقہ الحدیث ص 147)
کتے کا پاخانہ بھی پاک ہے۔
چنانچہ امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
اور لوگوں (غیرمقلدین) کا  اس میں بھی اختلاف ہے کہ کتے کا پاخانہ  نجس ہے یا نہیں لیکن حق بات یہ ہے کہ اس کے نجس ہونے کی کوئی دلیل نہیں“۔(نزل الابرار ص 50)
نواب نور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
کتے اور خنزیر کے پلید ہونے کا دعویٰ ٹھیک نہیں۔(عرف الجادی ص 10)
عقیدہ نمبر 42
صحابہ کرامؓ میں سے بعض لوگ فاسق تھے العیاذ باللہ
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں سے جو فاسق تھے جیسے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہایے ہی   معاویہ رضی اللہ عنہ، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ، مغیر بن شیبہ رضی اللہ عنہاور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہکے متعلق۔
(نزل الابرار ج 3 ص 94)
نعوذ باللہ من ذالک

عقیدہ نمبر 43
رام چندر اور لکشمن نبی ہیں اور انہیں نبی ماننا واجب ہے۔
فرقہ اہلحدیث کے امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں۔
ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم دیگر انبیاء کی نبوت کا انکار کریں جن کا ذکر اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں نہیں کیا اور کافروں میں تواتر کے ساتھ وہ معروف ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ نیک انبیاء  تھے جیسے رام چندر لچھمن کرشن جی جو ہندؤں میں ہے اور زراتشت جو فارسیوں میں ہیں اور کنفیوس اور مہاتما بدھ جو چین اور جاپان میں ہے اور سقراط  جو یو نان میں ہیں ہم پر واجب ہے کہ ہم یوں کہیں ہم ان تمام انبیاء پر ایمان لائے اور ان میں  کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے  اور ہم سب کے فرمان بردار ہیں۔(ہدایۃ المہدی ص 85)
حافظ عبد القادر صاحب روپڑی غیرمقلد اس کا دفاع کرتے ہوئے فرماتےہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں بعض انبیاء کا ذکر آیا ہے اور بعض کا نہیں آیا۔۔۔۔ آگے فرماتے ہیں۔۔۔ اللہ تعالٰی نے عرب کے سوا اور نبیوں کا ذکر نہیں کیا جیسے ہندوستان ، چین ، یونان ، فارس ، یورپ  افریقہ ، امریکہ جاپان اور برما وغیرہ ۔۔۔۔  اس لئے  ان نبیوں کی نبوت سے انکار کرنا جائز نہیں۔۔۔۔ (آگے امام اہلحدیث وحید الزمان صاحب کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں۔) پس ہم پر واجب ہے کہ ہم کل انبیاء  پر ایمان لاویں اور ان میں سکی میں تفریق نہ کریں۔٭
(فتوحات اہلحدیث ص 148)
اگر قران پاک میں سب انبیاء کا ذکر نہیں آیا تو اس کا کیا مطلب ہے کہ کہیں سے بھی پکڑ پکڑ کے انبیاءٰ کی تعداد کو پورا کیا جائے؟ اور انہیں نبی ماننے کو واجب قرار دے دیا جائے؟ اور واجب کا انکاری گنہگار ہوتا ہے لیکن غیرمقلدین کے ہاں واجب اور فرض ایک ہی ہیں  لہذا   ان کے عقیدے کے مطابق رام چندر وغیرہ کو نبی نہ ماننے والا کافر ہوا؟

عقیدہ نمبر 44
نبی کریمﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں۔
مشہور  اہلحدیث نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:
”چنانچہ حضور اکرمﷺ نماز پڑھنے والوں کی ذات میں موجود اور حاضر ہوتے ہیں اسلئے نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ اس بات کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھے اور آپﷺ کی اس حاضری سے غافل نہ ہو“۔
(مسک الختام فی شرح بلوغ المرام ص 259-260)

عقیدہ نمبر 45
غیر اللہ سے مدد 
غیرمقلد عالم غلام رسول صاحب نبیﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
رحم یا نبی اللہ ترحم
یعنی  رحم کر اے اللہ کے نبی رحم کر
چونکہ جاہل غیرمقلدین کے ہاں کفر و شرک کے کوئی اصول متعین نہیں اسلئے ان کا جہاں جی چاہتا ہے کفر کفر کے فتوے لگاتے ہیں۔
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب  فرماتے ہیں:
قبلۂ دیں مددی، کعبۂ ایماں مددی 
ابن قیم مددی قاضئ شوکاں مددی
ترجمہ:
اے میرے دین کے قبلہ مدد کر اے میرے ایمان کے کعبہ مدد کر اے ابن قیم مدد کر اے قاضی شوکانی مدد کر۔
(ہدیۃ المہدی صفحہ 23)
نواب صدیق حسن خان صاحب فرماتے ہیں :
یا سیدی یا عروتی و وسیلتی
و یا عدتی فی شدۃ ورخائی 
قد جئت بابک ضارعا متضرعا 
متاوھا بتفنس الصد بتنفس الصعداء
مالکی ورائک مستغاث فارحمن 
یا رحمۃ للعالمین بکائی
ترجمہ:
اے میرے آقا اے میرے سہارے اور اے میرے وسیلے اور اے خوشحالی و بدحالی میں میری متاع میں روتا گڑ گڑاتا اور ٹھنڈی آہیں بھرتا ۔ آپ کے درپہ آیا ہوں آپ کے علاوہ میرا کوئی فریاد رس نہیں  ۔ سو اے رحمۃ للعالمین میری گریہ وزاری پر رحم فرما۔(ماثر صدیقی  ج 2 ص 30- 31)
غیرمقلدین سے سوال ہے کہ کیا ان کے یہ علماء مشرک ہوئے یا نہیں؟
 چونکہ غیرمقلدین کے ہاں کسی  پر کوئی فتوی دینا یا اس کی تکفیر کرنے کوئی احتیاط نہیں اسلئے غیرمقلدین کے ان علماء کا مشرک ہونا لازم آتا ہے۔

عقیدہ نمبر 46
زیادہ بھوک لگتی ہو تو روزہ معاف
نوب نور الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
روزہ رکھنے کیلئے استطاعت شرط ہے اس لئے جس کو بہت بھوک پیاس لگتی ہو یا جس کو بہت بھوک لگتی ہو اس کو روزہ رکھنا واجب نہیں۔
(عرف الجادی ص 80)

عقیدہ نمبر 47
عام عورتوں کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
عورتوں کو جائز ہے کہ غیر مردوں کو دیکھیں البتہ ازواج مطہرات کو یہ منع تھا۔(نزل الابرار ج 3 ص 74)
مجدد اہلحدیث نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:
پردہ کی آیات خاص ازواج مطہرات ہی کے بارے میں وارد ہوئی ہیں امت کی عورتوں کے واسطے نہیں ہیں۔
(البیان المرصوص ص 168)
نور الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
وہ آیت جن میں  پردہ کرنے کا حکم ہے وہ صرف رسول خداﷺ کی بیویوں کے ساتھ مختص ہے۔
(عرف الجادی ص 52)

عقیدہ نمبر 48
ماں بہن بیٹی وغیرہ  کی قبل و دبر کے سوا پورا بدن دیکھنا جائز ہے۔
نور الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
ماں بہن بیٹی وغیر ہ کی قبل و دبر (یعنی اگلی پچھلی شرمگاہ) کے سوا پورا بدن دیکھنا جائز ہے۔(عرف الجادی ص 52)

عقیدہ نمبر 49
کافر کے پیچھے نماز جائز 
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
ولو اخبر بعد الصلوۃ بانه کافر فلا يعيدون
نماز پڑھانے کے بعد کافر نے  بتلایا کہ وہ کافر ہے تو بھی مقتدی اپنی نماز  کو نہیں دہرائیں گے۔(کنز الحقائق ص 24)
غیرمقلدین کا اس پر عمل:
خود غیرمقلدین کے شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب مرزئیوں کے پیچھے نماز پڑھتے تھے(فیصلہ مکہ ص 36)

عقیدہ نمبر 50
قضا نمازیں معاف
نور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں
اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ  جو نماز بلا عذر شرعی چھوڑ دی گئی ہو اس کی قضا واجب ہے۔(عرف الجاد ی ص 35)

علماء اہل حدیث اور ان کی تربیت کردہ  انکی نجس عوام کے چند عقائد و نظریات  جو ان میں پائے جاتے ہیں اور کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔
1۔کرامت صاحب کرامت کے اختیار میں ہوتی ہے اللہ کے نہیں۔ 
2۔فقہاء سب گمراہ تھے۔
3۔نماز میں  آہستہ آمین کہنے والا یہودی ہے۔
جبکہ  خود یہ لوگ صرف فرض نماز میں دو جگہ اونچی آمین کہتے ہیں اور بقیہ 22 جگہ پر یہودیوں کی طرح کھڑے رہتے ہیں اور عورتین تو ان کی ہر وقت ہی یہودیوں کی طرح  نماز پڑھتی ہیں۔ 
4۔اجماعی  اور غیر اجتہادی مسائل میں اجتہاد کا کرنا
5۔قرآنی تعویذ لٹکنا بھی شرک ہے۔
6۔جہاں اللہ اب موجود ہے وہاں مخولوقات کو پیدا کرنے سے پہلے موجود نہ تھا
7۔قبر میں جسم عذاب و ثواب سے بری ہوتا ہے۔ 
8۔تین طلاق تین نہیں۔
9۔ قبر میں روح کے لوٹنے کا انکار 
جبکہ قبر میں روح کا لوٹنا صحیح صریح حدیث سے  بھی ثابت ہے۔
” حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ کیلئے نکلے  اور قبرستان میں پہنچے لیکن ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی آپﷺ بھی وہاں جلوہ افروز ہوئے اور ہم بھی آپﷺ کے پاس ہی بیٹھ گئے آپ نے (ایک طویل حدیث میں)  مومن اور کافر کی وفات کا تذکرہ فرمایا اس میں مومن کے بارے میں یہ ارشاد  مذکور ہے کہ :
 ”مومن کی روح کو پھر (مرنے کے بعد) ساتوں آسمان پر پہنچا دیا جاتا ہے اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ میرے بندے کا نام علیین میں درج کر دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ میں نے ان کو زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی میں ان کو لوٹاؤنگا اور اسی سے دوسری مرتبہ نکالوں گا پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں ”من ربك“ تمہارا رب کون ہے۔۔۔ الخ“
اور اسی حدیث میں کافر کے بارے میں یہ الفاظ مذکور ہیں کہ 
”آسمانوں کے دروازے اس کیلئے نہیں کھلتے اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ اس کی کارگذاری اور نام وغیرہ سجین میں لکھ دو جو ساتویں زمین میں ہے پھر اسکی روح وہاں سے پھینکی جاتی ہے پھر آپؐ نے ارشاد خدا وندی پڑھا کہ جو شخص اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرتا ہے پس گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اس کو پرندے اچک کر لے گئے یا ہوا نے  گہرے گڑھے میں ڈال دیا۔ اور پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں ”من ربك“ تیرا رب کون ہے ۔۔۔ الخ“
امام حاکمؒ اس روایت کی متعدد اسانید نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
«هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِالْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو وَزَاذَانَ أَبِي عُمَرَ الْكِنْدِيِّ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ فَوَائِدُ كَثِيرَةٌ لِأَهْلِ السُّنَّةِ وَقَمْعٌ لِلْمُبْتَدِعَةِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِطُولِهِ، وَلَهُ شَوَاهِدُ عَلَى شَرْطِهِمَا يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى صِحَّتِهِ» .
”یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔(اگے فرماتے ہیں) اس حدیث میں اہل سنت کے لئے کئی فوائد اور اہل بدعت کے عقائد کے قلع قمع کا خاصا ثبوت موجود ہے“۔ 
[المستدرك على الصحيحين : کتاب الإيمان :أَمَا حَدِيثُ مَعْمَر]
10۔اللہ کی صفت حاضر ناظر کا انکار
11۔ بدعی طلاق کو واقع نہ کرنے فتویٰ دینا
12۔ سلف احناف پر لعن طعن کرنا۔
13۔بزرگ گان دین کے اشعار  اور  صوفیا کی عبارات میں سے من پسند عقیدہ اخذ کرکے اس کی تکفیر کر لینا۔
14۔ اولی الامر سے فقیہ مراد لینے کو غلط کہنا
حضرت جابر بن عبداللہ  ؓ” اس آیت  (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں  ہیں کہ أُولِي الْفِقْهِ وَالْخَيْر”اولی الامر سے مراد  فقہ  والے ہیں“ یعنی کہ فقہاء کرام  ہیں۔امام حاکمؒ  اس کو حدیث کونقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ”یہ حدیث صحیح ہے“۔(مستدرک علي الصحیحین جلد۱ص۲۱۱:صحیح)
محدثین کے قاعدے کے مطابق صحابی کی تفسیر مسند اور مرفوع ہوتی ہے  یعنی آنحضرتﷺ کا فرمان ہوتی ہے اور اس کی طرح حجت ہوتی ہے۔
★امام حاکم ؒ فرماتے ہیں:
” تَفْسِيرَ الصَّحَابِيِّ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ“ ۔(المستدرك على الصحيحين ج۱ صفحہ ۷۲۶)
”صحابی کی تفسیر مسند ہوتی ہے“۔(یعنی آنحضرتﷺ کا فرمان ہوتی ہے)
15۔ائمہ اربعہؒ کے اجتہادی اختلافات کو قرآن سنت کی طرح لوٹانے کا دعویٰ کرکے خود عقائد میں بھی ایک دوسرے سے اختلاف کر لینا۔
16۔ ائمہ کے اجتہادی اختلافات کو گمراہی قرار دینا اور اپنے فروعی و اصولی دونوں اختلافات کو حق قرار دینا۔
17۔فقہ کے متعلق بدگمانیاں پھیلانا۔
18۔فقیہ کے کسی  غیر شرعی فعل  پر  کوئی شرعی حکم بتانے کو غلط کہنا۔
19۔ قرآن و سنت سے مسائل اخذ کرنے کا دعویٰ کرنا اور گند اور کچرہ جمع کرنا۔
20۔اپنے آپ کو فقہاء سے زیادہ حدیث کے سمجھنے والا کہنا۔
21۔ قرآن و حدیث کے ظاہری معنی پر اکتفاء کرلینا اور تفقہ حاصل نہ کرنا۔
22۔سماع موتیٰ کو شرک قرار دینا
جبکہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ»[ المستدرك على الصحيحين (ج/1ص/536)  سندہ صحیح]
”  اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ (مردہ) اسوقت جوتیوں کی کھٹکھٹاہٹ سنتا ہے جب لوگ اس سے واپس ہوتے ہیں“۔
 امام حاکمؒ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ یعنی یہ حدیث صحیح ہے مسلم کی شرط پر۔
اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ مردہ دفن کے بعد قبر میں قبر سے واپس ہونے والے لوگوں کی جوتیوں کی کھٹکھٹاہٹ  اور آواز سنتا ہے اور جب یہ سنتا ہے تو انسانوں کی آواز بطریق اولٰی سنتا ہے۔ لیکن اس کے سننے سے یہ  بات نہیں کہ وہ سن کر  کسی کی کوئی مدد بھی کر سکتا ہے جیسا آج کل جاہل مشرکین کا خیال ہوتا  ہے اور یہ بھی نہیں کہ ان مشرکین کے ڈر سے بندہ نبیﷺ کی حدیث کا ہی انکار کر  دے۔
23۔غیر مدخولہ کو ایک لفظ سے تین طلاق دینے کو واقع نہ سمجھنا۔
24۔علماء سلف کی عبارات کو توڑ موڑ کر پیش کرنا اور ان کی طرف جھوٹ منسوب کر دینا۔ 
25۔فقہاء کرام پر کافروں والی آیات فٹ کرنا۔
26۔حدیث کے معنی میں صحابی کو بھی چھوڑنا تابعی کو بھی چھوڑنا اور ان کے خلاف اپنا من گھڑت معنی بیان کرنا۔
27۔اللہ کی ذات جہاں  مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے تھی اب وہاں نہیں ہے۔ 
28۔عرش اور اللہ  کی ذات کے درمیان بھی  ایک  فاصلہ غیر اللہ یعنی مخلوق ہے۔
29۔تین طلاق کو تین ماننا گمراہی ہے۔ 
30۔حدیث اور سنت میں کوئی فرق نہیں۔
31۔عورتیں بھی مردوں کی طرح ٹانگیں چوڑی کرکے نماز پڑھیں
32۔جماعت اہلسنت حنفی شافعی مالکی حنبلی کے مقابلے میں شیعوں اور مرزئیوں کے عقائد و مسائل کو ترجیح دینا
33۔ فاتحہ کے قرات ہونے کا انکار
34۔تواتر کا انکار
35۔قرآن حدیث کو جان چھڑانے کا ذریعہ بنانا۔
36۔ضعیف اور موضوع حدیث میں کوئی فرق نہ کرنا۔
37۔اپنی ذاتی تحقیق سے فقہ لکھ کر اسے نبیﷺمعصوم  کی طرف منسوب کر دینا۔
38۔نبیﷺ کی قبر اطہر کے پاس یہ عقیدہ رکھ کر صلاۃ سلام پیش کرنا ہے کہ نبیﷺ یہ نہیں سن رہے
39۔ اپنی ہر  غلطی کو اجتہادی خطا کا نام دے دینا
40۔اللہ کی صفات متاشابہات کو لغت سے سمجھنا۔
41۔امام ابو حنیفہؒ پر لعن طعن کرنا۔
42۔ بلا دلیل بات کی پیروی کو اتباع کہنا غلط ہے۔
43۔طلاق کی دل میں نیت سے بھی نکاح نہیں ہو گا بلکہ زنا ہوگا
44۔حد نہیں کا مطلب جائز ہونا ہوتا ہے۔ 
غیرمقلدین کے کئی جاہل علماء نے فقہ کے خلاف اپنی کتب اور تقاریر میں ایسا کہا ہے اور کہتے ہیں اور انکی عوام بھی یہی کہتی ہے۔ 
اب  ذرہ یہ لوگ ایک سوال کا جواب دیں کہ 
پیشاب پینے پر کتنی حد ہے؟
اگر  حد ہے تو حد دکھائیں  اگر نہیں ہے تو پی کر دکھائیں۔ 
٭٭٭

     

جھوٹے اہل حدیث۔۔۔تیسری اور آخری قسط

مفتی آرزومند سعد ﷾


جھوٹ نمبر ٨:
ابو اقبال سلفی اپنی کتاب مذہب حنفی کا دین اسلام سے اختلاف نامی کتاب میں لکھتا ہے۔
حنفیہ سفر کے رخصت والی آیات کو نہیں مانتے۔ص ۲۳۔
الجواب:یہ بھی اسکا صریح جھوٹ ہے۔فقہ حنفی کے تمام کتابوں میں یہ مسئلہ درج ہے کہ مسافر کے لئے نماز قصر ہے اور روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے۔فقہ حنفی کے ہر کتاب میں اس کے لئے الگ باب قائم ہے۔مثلا کنز الحقائق کی شرح البحر الرائق میں ہے۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ـ مشكول - (5 / 82)
بَابُ الْمُسَافِرِ ) أَيْ بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِ ۔
اس طرح ہر کتاب میں یہ باب قائم ہے۔لیکن تعصب اور ضد میں آکر اس غیر مقلد نے احناف پر اتنا بڑا جھوٹ بول دیا کہ ایک عام آدمی بھی اسکے جھوٹ کو جان سکتا ہے۔
جھوٹ نمبر ٩:
ص ۳۶ پر ایک اور جھوٹ لکھا ہے کہ رفع الیدین کو نقل کرنے والے پچاس صحابہ ؓ ہیں۔
الجواب: یہ بھی صریح جھوٹ ہے جو انکے بڑوں سے متواتر چلا آرہا ہے۔غیر مقلدین کے لئے ہمارا کھلا چیلنج ہے کہ آپ پچاس کے بجائے صرف پچیس صحابہ کرام ؓ سے اپنی رفع یدین ثابت کردیں ۔یعنی چار رکعت والی نماز میں دس جگہ ہمیشہ کرنے اور نہ اٹھارہ جگہ نہ کرنے کی ۔ہم ان کو فی  صحیح روایت انعام دینے کو تیار ہیں ۔
جھوٹ نمبر ١٠:
ص ۳۷ پر لکھا ہے کہ احناف آمین کی احادیث کونہیں مانتے ۔
الجواب: یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔احناف کے اردو ،عربی ،فارسی بلکہ ہر زبان کی نماز سے متعلق کتاب اٹھا کر دیکھا جا سکتاہے کہ احناف کے نزدیک آمین کی کیا حیثیت ہے ۔ایک ان پڑھ شخص بھی دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ یہ اللہ کا بندہ کتنا جھوٹ بولتا ہے ۔(فلعنۃ اللہ علی الکاذبین)
اسی صفحہ پر لکھا ہے کہ صحیح احادیث سے آمین کا بالجہر کہنا ثابت ہے ۔حالانکہ صفت صلوۃ النبی ﷺ میں غیر مقلدین کے شیخ البانی نے لکھا ہے کہ مقتدی کے اونچی آواز میں آمین کہنے پر کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔
جھوٹ نمبر ١١:
ص ۴۴ پر تو حد کردی ۔کہتا ہے کہ صبح کی نماز کے قائم ہونے کے بعد والی احادیث کو نہ ماننے والا کب مسلمان رہ سکتا ہے ۔لیکن اسلام کے علاوہ ایک حنفی مذہب ہے جو اسکی اجازت دیتا ہے۔
الجواب: قارئین کرام اس جھوٹ پر تبصرہ کرنے کے بجائے آپ ان احادیث کا مشاہدہ کریں جن میں صحابہ کرام ؓ سے نماز صبح کے قائم ہوتے ہوئے صبح کی سنتیں پڑھنا منقول ہیں۔
٭حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے صبح کی جماعت کھڑی ہونے کے بعد دورکعت سنت پڑھی(مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۲ ص ۲۵۱)
٭طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن ابی موسی ؒ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ امام صبح کی نماز پڑھا رہے تھے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ستونے کے پاس کھڑے ہوکر اس کو ادا کیا۔
٭حضرت ابو درداء ؓ کا عمل منقول ہے کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے  دیکھا کہ لوگو نما ز صبح باجماعت ادا ء کر رہے ہیں پھر بھی آپ نے صبح کی سنتیں پڑھ کر جماعت میں شرکت کی ۔
٭حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم عمر بن الخطاب ؓ کے پاس آتے اس حال میں کہ ہم نے صبح کی سنتیں اداء نہ کی ہوتی تو ہم مسجد کے آخر میں سنتیں پڑھ کر جماعت میں شریک ہوجاتے ۔طحاوی جلد ۱ ص ۲۵۲۔
الغرض ابو اقبال صاحب کا یہ کہنا کہ صرف احناف ہی اس کے قائل ہیں یہ نرا جھوٹ ہے اور اس نے اس فتوی کے ذریعہ جن صحابہ کرام ﷢کو دین اسلام سے خارج کردیا ہے اس کا حساب اللہ تعالی خود لے گا۔
ص ۴۹ پر لکھا ہے کہ احناف جمع بین الصلوتین کی احادیث کو نہیں مانتے ۔٭
الجواب:یہ بھی اس کا جھوٹ ہے احناف کے ہاں جس سفر یا کسی سخت مجبوری کی وجہ سے جمع صوری کی احادیث پر عمل کرنا جائز ہے۔جسکا طریقہ احادیث کیا کتابوں میں اس طرح منقول ہے کہ ظہر کو موخر کرکے اخیر وقت میں اداء کیا جائے اور عصر کو مقدم کرکے ابتدائے وقت میں ادا کیا جائے اس طرح مغرب کی نماز کو موخر کرکے اخیر وقت میں ادا کیا جائے اور عشاء کی نماز کو مقدم کرکے اول وقت میں پڑھا جائے ۔اس کو جمع صوری کہا جاتا ہے اور اسکا انکار کسی حنفی نے نہیں کیا ۔چنانچہ فقہ حنفی کے معتبر کتاب تبیین الحقائق میں ہے۔
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق - (1 / 423)
احْتَرَزَ بِقَوْلِهِ فِي وَقْتٍ عَنْ الْجَمْعِ بَيْنَهُمَا فِعْلًا بِأَنْ صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا فِي وَقْتِهَا بِأَنْ يُصَلِّيَ الْأُولَى فِي آخِرِ وَقْتِهَا وَالثَّانِيَةَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا فَإِنَّهُ جَمْعٌ فِي حَقِّ الْفِعْلِ
اس طرح فتاوی شامی میں ہے۔
حاشية رد المختار على الدر المختار - (1 / 382)
 ما رواه مما يدل على التأخير محمول على الجمع فعلا لا وقتا أي فعل الأولى في آخر وقتها والثانية في أول وقته
ناظرین احناف کا مسئلہ بالکل وہی ہے جو حدیث میں ہے ۔اس لئے یہ صاف جھوٹ ہے کہ احناف ان احادیث کو نہیں مانتے ،البتہ آج کل کے غیر مقلدین جو جمع حقیقی کرتے ہیں کہ ظہر کے وقت میں عصر اور ظہر دونوں پڑھ لیتے ہیں اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھ لیتے ہیں یہ شیعہ کا مسلک ہے ۔اہل سنت میں سے کوئی بھی اسکا قائل نہیں ہے۔
ص ۵۱ پر لکھا ہے کہ احناف سبحان اللہ والی احادیث کو نہیں مانتے ۔٭
الجواب :احناف کے فقہ کے معتبر کتابوں میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ جب امام سے کوئی غلطی ہوجائے تو مقتدی سبحان اللہ کہہ کر امام کو لقمہ دے سکتا ہے۔مثلا عنایہ ،مبسوط اور بدائع یہ مسئلہ اس طرح ہے۔
العناية شرح الهداية - (2 / 142)
إذَا نَابَتْ أَحَدَكُمْ نَائِبَةٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّ التَّسْبِيحَ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقَ لِلنِّسَاءِ 
المبسوط للسرخسي ـ مشكول - (2 / 74)
وَإِذَا مَرَّتْ الْخَادِمُ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ أَوْمَأَ بِيَدِهِ لِيَصْرِفَهَا لَمْ تُقْطَعْ صَلَاتُهُ ) لِمَا رَوَيْنَا { أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَارَ عَلَى زَيْنَبَ فَلَمْ تَقِفْ وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذَا نَابَتْ أَحَدَكُمْ نَائِبَةٌ فَلْيُسَبِّحْ ، فَإِنَّ التَّسْبِيحَ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقَ لِلنِّسَاءِ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (2 / 445)
وَلَوْ دَفَعَ الْمَارَّ بِالتَّسْبِيحِ أَوْ بِالْإِشَارَةِ أَوْ أَخَذَ طَرَفَ ثَوْبِهِ مِنْ غَيْرِ مَشْيٍ وَلَا عِلَاجٍ لَا تَفْسُدُ صَلَاتُهُ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { فَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ } ، وَقَوْلِهِ { إذَا نَابَتْ أَحَدَكُمْ نَائِبَةٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّ التَّسْبِيحَ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقَ لِلنِّسَاءِ }
 ناظریں کرام یہ فقہ حنفی کا مسئلہ بالکل واضح ہے او ر احادیث کے مطابق ہے لیکن کیا کیا جائے تعصب کا کہ ابو الاقبال سلفی صاحب اس جھوٹ کو احناف کے ماتھے تھوپ کر لعنت کے مستحق بن گئے۔
ابو اقبال صاحب اور کے ہمنوا جماعت کا یہ شیوہ رہا ہے کہ جھوٹ بول کر اپنے مسلک کو فروغ دینا چاہتے ہیں ہم عوام سے یہی عرض کرتے ہیں کہ جو شخص ۱۰۰ صفحات کے ایک رسالہ میں اتنے جھوٹ بولتا ہے اس پر دین کے بارے میں اعتماد کرنا نادانی ہے ۔اللہ تعالی امت کو اس فتنہ کے شرور سے محفوظ کرے ۔آمین۔
٭٭٭
     

ردِّقادیانیت کورس...قسط 1

 "سربکف" میگزین 3-نومبر، دسمبر 2015
 منظور احمد چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمدﷲ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ، 
اما بعد:
دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ سے فراغت کے بعد ملتان میں امیر شریعت سید عطااﷲ شاہ صاحب بخاری ؒ کے قائم کردہ ختم نبوت مدرسہ میں رد قادیانیت کی تربیت حاصل کرنے کیلئے 1951ء میں بندہ ناچیز داخل ہوا ، فاتح قادیان استاذ محترم حضرت مولانا محمد حیات صاحب ؒ سے تربیت حاصل کی ، ہم کل چار ؍پانچ ساتھی تھے ۔ 1952 کے اوائل میں فارغ ہوا اور اس کے بعد مدرسہ دارالہدی ٰ چوکیرہ ضلع سرگودہا میں تدریس کی خدمت پر مامور ہوگیا ، درسی کتب پڑھانے کے ساتھ ساتھ طلبا ء کو رد قادیانیت کی تربیت دینا بھی شروع کردی ، وہاں سے 1954ء میں اپنے آبائی شہر چنیوٹ آکر جامعہ عربیہ کی بنیاد رکھی ،اورحسب معمول طلباء کی تربیت جاری رہی ، پھر میرے مربی اور شفیق استاد حضرت علامہ مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے حکم پر شعبان کی تعطیلات میں کراچی میں ان کے جامعہ علوم الاسلامیہ میں مدت تک یہی خدمت سرانجام دینے کی سعادت حاصل کرتا رہا ، اسی طرح تنظیم اہل سنت کے زیر اہتمام ملتان میں بھی حضرت علامہ دوست محمد قریشی ؒ اور حضرت علامہ عبدالستار تونسوی مدظلہ کے حکم پر دس ؍پندرہ روزہ تربیتی کورس کراتا رہا ۔ اپنی کاپی جو راقم نے اپنے استاد مرحوم فاتح قادیان سے دوران تربیت لکھی تھی اس سے ضروری حوالہ جات طلبا ء کو 
لکھواتا تھا اور بندہ نے اپنے تجربہ کی روشنی میں ایک نئی ترتیب دیدی جس میں استاد محترم کی تربیت کے برعکس پہلا موضوع بجائے’’حیات عیسی علیہ السلام‘‘ کے ’’ مرزا قادیانی کے صدق وکذب ‘‘ کواصل موضوع قرار دیا اور قادیانیوں سے موضوع گفتگو طے کرنے کیلئے عقلی اور نقلی دلائل سے ثابت کیا کہ اصل موضوع مدعی نبوت کی ذات اور کردار ہے ۔اگر وہ ایک سچا اور شریف النفس انسان بھی ثابت ہوجائے تو ہمیں دوسری بحثوں ’’حیات مسیح علیہ السلام ‘‘ او ر’’ختم نبوت‘‘ کے موضوعات پرگفتگو کرنے اور فریقین کا وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ،ہم بغیر کسی قسم کی بحث کئے اسے اپنے تمام دعاوی میں سچا مان لیں گے او ر اگر وہ اپنی تحریرات سے شریف اور سچا انسان ہی ثابت نہ ہو بلکہ پرلے درجہ کا کذاب ،بدزبان،بدکردار،بداخلاق،شرابی اور زانی ، انگریز کا ٹاؤٹ ثابت ہورہا ہو تو پھر دوسری بحثوں میں پڑنا فریقین کا وقت ضائع کرنا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی اور اسکے دونوں جانشینوں نے خود اس بات کا فیصلہ دے دیا ہے اس لئے میری ترتیب میں پہلا عنوان ’’تعین موضوع‘‘ ہے اور یہی اصل موضوع ہے جس پر راقم نے عقلی ،نقلی دلائل پیش کئے ہیں اس موضوع کو طے کرلینے کے بعدحدیث رسول کریم ﷺ کی مطابق قادیانی کے کذاب ودجال ہونے پر چند دلائل دیے گئے ہیں اس کے بعد ’’ حیات مسیح‘‘ پھر ’’ ختم نبوت‘‘کا موضوع پیش کیا گیا ہے ۔
     جامعہ علوم اسلامیہ اور دفتر تنظیم اہلسنت میں تیاری کراتے ہوئے شریک درس طلباء سے نوٹس تیار کرنے کیلئے کہا ،ان نوٹس کی جانچ پڑتال کرکے ایک کاپی تیار کی ۔آئندہ ہرسال اسی کاپی کی فوٹو سٹیٹ اپنے طلبہ میں تقسیم کردی جاتی ۔اس طرح ان نوٹس سے طلبا ء کا وقت بھی بچا اور دوران تحریروہ عجیب غریب غلطیوں ے بھی بچ گئے۔ دوران کورس قادیانی کتب سے حوالہ جات دکھا دیے جاتے تاکہ انہیں عین الیقین ہوجائے اور حوالہ جات کی مزید تشریح زبانی کردی جاتی ۔ 
     اسی کاپی کی مدد سے مسجد نبوی شریف میں کئی سال مغرب اور عشاء کے درمیان یونیورسٹی کے طلبہ کوعربی میں پڑھاتا رہا ۔ ۱۹۸۵ء میں مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر نے شاہ فہد کی خصوصی اجازت سے سرکاری طور پر اس حقیر کو دعو ت دی توبندہ یونیورسٹی میں طلبا ء کو عصر سے مغرب تک اسی کاپی کی مدد سے تیاری کراتارہا ۔ ایشیاکی عظیم اسلامی یونیورسٹی او رہماری مادر علمی دارلعلوم دیوبند کے منتظمین نے 1990ء میں دارالعلوم میں ایک تربیتی کیمپ کا انتظام کیا ، پورے ہندوستان سے منتخب علما ء کو جمع کیا گیا اور دارالعلوم سے فارغ ہونے والے طلبا ء کی ایک کثیر تعداد اس کے علاوہ تھی ۔
     بندہ نے ان نوٹس کی ایک کاپی وہاں ارسال کی کہ اس کی فوٹو سٹیٹ کروالیں تاکہ حاضرین کورس میں تقسیم کی جاسکے ۔ چونکہ حاضرین کی تعداد زیادہ تھی اسلئے انہوں نے دو ہزار کے قریب اسی کاپی کو چھپوا لیا ۔
     چونکہ قلمی کاپی کی نسبت پرنٹ کاپی کے صفحات کی تعداد کم تھی نیز اکابرین علماء دیوبند کی خواہش تھی کہ اس کاپی کو کتابی شکل میں بھی شائع کیا جائے ،اگرچہ راقم اس رائے سے کچھ زیادہ متفق نہیں تھا کیونکہ اس کا کامل فائدہ باضابطہ پڑھنے سے ہی ہوتا ہے ، لیکن اکابر کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے بندہ ناچیز نے اس کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ میرے مشورہ اور رائے سے اس میں چند مفید اضافے کرکے اور کچھ ترتیب درست کرکے عزیز محترم مولانا سلمان منصور پوری اطال اﷲ عمرہ نائب مفتی واستاذ جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد، نواسہ حضرت شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ نے اسے کتابی شکل میں ترتیب دیدیا۔میری نظر ثانی اور چند ضروری اضافہ جات کے بعد اب یہی کتاب ’’ رد مرزائیت کے سنہری اصول‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں تقریباً اڑھائی سو صفحات پر مشتمل کتاب دارالعلوم دیوبند کی کل ہندمجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھپ چکی ہے اور وہاں سے دستیاب ہوسکتی ہے ۔
     اس تمام وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ یہ واضح ہوجائے کہ یہ کوئی باضابطہ تصنیف نہیں ہے بلکہ میرے ضروری نوٹس ہیں ۔اگرچہ ہر اردو پڑھا لکھا عالم ،غیر عالم اپنی استعداد کے مطابق اس سے استفادہ کرسکتا ہے مگر اس سے مکمل استفادہ وہی کرسکتا ہے جو شریک دورہ ہو کر باضابطہ طور پر پڑھے اور سمجھے کیونکہ دوران تدریس ان حوالہ جات کی تشریح میں اور کئی مفید با تیں بھی آجاتی ہیں جو اس پندرہ روزہ کورس میں درج نہیں یا جو صرف دوران سبق ہی بتائی او رسمجھائی جاسکتی ہیں ۔
اﷲتعالیٰ راقم موصوف کی اس کاوش اور محنت کو قبول فرمائیں اور گم گشتہ راہ قادیانیوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائیں ۔ 
بندہ نے اس میں مزید اضافہ کرکے اسے ایک مستقل کتاب ’’ردّمرزائیت کے زرّیں اصول ‘‘ کے عنوان سے ترتیب دے دیا ہے۔جو کہ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ سے دستیاب ہے ۔ 
تمام حضرات سے درخواست ہے دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ میری اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشیں ۔ آمین 
احقر
منظور احمد چنیوٹی عفااﷲ عنہ
﴿باب اول ﴾
مرزا غلام احمد قادیانی کا مختصر تعارف
خاندانی پس منظر:
’’ میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ (برطانیہ) کا پکا خیر خواہ ہے ۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفاداراور خیر خواہ آدمی تھا جن کودربارگورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھکر سرکار انگریزی کومدد دی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچاکر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریز ی کی امداد میں دیے تھے ان خدمات کی وجہ سے جو چھٹیات خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں مگر تین چھٹیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تیموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا ۔ پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں ۔‘‘
(کتاب البریہ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۳ ص۴ تا ۶(

نام و نسب:
’’اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد کا نام غلام مرتضی اور دادا صاحب کا نام عطاء محمد اور میرے پرداد اصاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اَب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمر قند سے آئے تھے ۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۴۴ بر حاشیہ روحانی خزائن ص ۱۶۲،۶۳ ج ۱۳،مثلہ سیرۃ المہدی حصہ اول ج۱ ص۱۱۶(

تاریخ ومقام پیدائش:
مرزا غلام احمد قادیانی بھارت کے مشرقی پنجاب ضلع گورداسپور تحصیل بٹالہ قصبہ قادیان میں پیدا ہوا ۔ اپنی تاریخ پیدائش کے بارے میں اس نے یہ وضاحت کی ہے :
’’ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔‘‘
 (کتاب البریہ ص۱۵۹ حاشیہ روحانی خزائن ص۱۷۷ ج۱۳(

ابتدائی تعلیم :
مرزا قادیانی نے قادیان ہی میں رہ کر متعدد اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جس کی تفصیل خوداس کی زبانی حسب ذیل ہے :
’’ بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا ۔اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کیلئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدائے تعالی کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ’ فضل‘ ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرَف کی بعض کتابیں او رکچھ قواعد نحو اِن سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ان کا نا م گل علی شاہ تھا ان کو بھی میرے والد نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کیلئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالی نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے ۔‘‘ 
(کتاب البریہ بر حاشیہ۶۱ ۱تا۱۶۳۔روحانی خزائن ج ۱۳ ص ۱۷۹ تا ۱۸۱(

جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتا ہے کہ 
’’ تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد یا اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیم کا نشان ظاہر فرمایا۔‘‘
 (دیباچہ براھین احمدیہ ص ۷، روحانی خزائن ص۱۶ج۱(

ملازمت:
مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا لکھتا ہے :
’’ بیان کیامجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا جب آپ نے پنشن وصول کرلی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان آنے کے باہر لے گیا اور ادھر اؑدھر پھراتا رہا پھر اتارہاپھر جب آپ نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا ۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہوجائیں اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے ۔ ‘ ‘ 
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۴۳ روایت نمبر ۴۹ ،مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی )
 واضح رہے کہ پنشن کی یہ رقم سات صد روپیہ تھی۔ 
(سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۱۳۱ روایت نمبر ۱۲۲(

منکوحات مرزا :
مرزا غلام احمد قادیانی کی تین بیویاں تھیں ، پہلی بیوی جس کو ’ پھجے کی ماں‘ کہا جاتاہے اور اس کا نام حرمت بی بی تھا اس سے ۱۸۵۲ء یا ۱۸۵۳ ء میں شادی ہوئی ۔
دوسری بیوی جس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے اس سے نکاح ۱۸۸۴ء میں ہوا ۔ اس کی ایک او ربیوی بھی تھی جس کے ساتھ بقول اسکے اس کا نکاح آسمانوں پر ہوا تھا،جس کا نام محمدی بیگم تھامگر اس کے ساتھ اس کی شادی ساری زندگی نہ ہوسکی اس کا مفصل تذکرہ آئندہ پیش گوئی نمبر۶ کے ذیل میں آئے گا۔

اولاد :
۱۔ مرزا سلطان احمد
 ۲۔مرزا فضل احمد 
یہ دونوں مرزا پر ایمان نہ لائے تھے میرزا فضل احمد مرزا قادیانی کی زندگی میں مر گیا لیکن مرزا نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔
( روزنامہ الفضل قادیان ۷ جولائی۱۹۴۳ء ص ۳ )
 جبکہ مرزا سلطان احمدکو مرزا نے عاق کردیاتھا ۔
مرزا کی دوسری بیوی سے درج ذیل اولاد ہوئی :
لڑکے﴾مرزا محمود احمد ۔مرزا شوکت احمد۔ مرزا بشیر احمداول ۔ مرز اشریف احمد۔ مبارک احمد ۔بشیر احمد ایم اے۔
لڑکیاں﴾مبارکہ بیگم ۔ امۃالنصیر ۔ امۃ الحفیظ بیگم ۔عصمت
ان میں سے فضل احمد ، بشیر اول، شوکت احمد ،مبارک احمد ،عصمت اور امۃ النصیرکا مرزا کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا جبکہ باقی اولاد( سلطان احمد ،محمود احمد ، بشیر احمد ،شریف احمد ،مبارک بیگم ،امۃ الحفیظ بیگم ) مرزا قادیانی کی موت کے بعد بھی زندہ رہی ۔ 
(دیکھئے نسب نامہ مرزا ،سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۱۱۶ روایت ۱۱۶(
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرزا کے ہاں دونوں بیویوں سے آٹھ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئی تھیں ۔چارلڑکے اور دو لڑکیاں مرزا کی زندگی میں انتقال کر گئیں جبکہ چار لڑکے اور دو لڑکیاں زندہ رہیں ۔٭
(جاری ہے...)
     

کیا سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو شیطان اغوا کر لیتا تھا؟

 "سربکف" میگزین 3-نومبر، دسمبر 2015
محسن اقبال ﷾

ایک شیعہ نے تاریخ طبری سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے  سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا ہے کہ سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کو بعض اوقات شیطان اغواء کر لیتا تھا۔
تاریخ طبری کی یہ روایت سخت ضعیف ہے۔اس کی مکمل سند درج ذیل ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمِّي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، وَحَدَّثَنِي السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَيْفِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ،
اس روایت کا ایک راوی سیف بن عمر سخت ضعیف ہے۔اس کی تحقیق درج ذیل ہے۔
أهل السنة والجماعة:
1۔إمام أهل الجرح يحيى بن معين المتوفى (232 أو 233 هـ ) . قال عن سيف : ( فَلْس خير منه ) .لكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي ج4 ص507 رقم 851 ، تهذيب الكمال ج10 ص326 .)
2۔محمد بن عبدالله بن نُمَيْر الهمْداني المتوفى (234 هـ): سيف الضبي تميمي ، وكان جُمَيْع يقول : حدثني رجل من بني تميم ، وكان سيف يضع الحديث ، وكان قد اتهم بالزندقة ). المجروحين لابن حبان ج1 ص345 – 346 ، الميزان للذهبي ج3 ص353 رقم 3642 )
3۔أبو زرعة الرازي المتوفى (246هـ) قال : ( ضعيف الحديث ).تهذيب الكمال ج12 ص327
4۔قال أبو داوود المتوفى (246هـ) صاحب السنن في سيف : ( ليس بشيء ).سؤالات الآجري لأبي داود ج1 ص214 رقم 216)
5۔أبو حاتم الرازي المتوفى (277هـ) قال عنه : ( متروك الحديث ).الجرح والتعديل ج4 ص278 رقم 1189)
6۔أورد النسائي المتوفى (303هـ) صاحب السنن في كتابه ( الضعفاء والمتروكين ) وقال عنه : ( سيف بن عمر الضبي : ضعيف ).الضعفاء والمتروكين للنسائي رقم 256)
7۔الإمام عبدالرحمن بن أبي حاتم الرازي المتوفى (327هـ) صاحب كتاب الجرح والتعديل قال في سيف : ( وسيف متروك الحديث ).الجرح والتعديل ج7 ص136 رقم762)
8-وقال ابن حبان المتوفى (354 هـ) ذكر سيف بن عمر في المجروحين فقال : ( يروي الموضوعات عن الاثبات ، وقالوا : سيف يضع الحديث وكان قد اتهم بالزندقة ).كتاب المجروحين لابن حبان ج1 ص 345 – 346
9-الحاكم النيسابوري المتوفى (405 هـ) صاحب المستدرك قال في سيف : ( اتهم بالزندقة وهو في الرواية ساقط )تهذيب التهذيب ج4 ص296
10۔وذكره ابن الجوزي المتوفى (571 هـ) في الضعفاء ، وقال أيضاً : ( وهذا حديث موضوع بلا إشكال وفيه جماعة مجروحين ، وأشدهم في ذلك سيف وسعد ،وكلاهما متهم بوضع الحديث ).الموضوعات لابن الجوزي ج1 ص362 رقم 444 ۔
11۔الذهبي المتوفى (847 هـ ) قال عن سيف : ( متروك باتفاق ) .المغني ج1 ص460 رقم 2716)
 12۔جلال الدين السيوطي المتوفى (911 هـ) قال عن سيف : بعد أن عقب على حديث هو في سنده فقال : ( موضوع ، فيه ضعفاء أشدهم سيف ). اللئالي المصنوعة للسيوطي ج1 ص392۔
13۔وقال علي بن أبي بكر الهيثمي المتوفى (807 هـ) في حديث ضعفه لأجل سيف قال : ( وفيه سيف بن عمر متروك ) فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي ج1 ص460 ۔
14۔محمد بن علي الشوكاني المتوفى (1250 هـ) قال عن سيف : في سند هو فيه : ( وفي إسناده سيف بن عمر ، وهو وضاع ). الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة ص 491 
15۔قال الشيخ المحدث محمد العربي التباني توفي نحو (1390 هـ ) في كتابه القيم ( تحذير العبقري من محاضرات الخضري ) . (1/275) ( سيف بن عمر الوضاع المتهم بالزندقة المتفق على أنه لا يروي إلا عن المجهولين )
الشيعة:
۔1،قال الخوئي المتوفى ( 1413هـ) : ( سيف بن عمر الوضاع الكذاب ).معجم رجال الحديث ج11 ص 207)
۔2۔قال الأميني المتوفى (1390 هـ) عن سيف :" راوي الموضوعات ، المتروك ، الساقط ، المتسالم على ضعفه ، المتهم بالزندقة" .ونقل العلامة الأميني أقوال أهل الجرح والتعديل فيه. (الغدير ج8 ص 84 – 85 و 140 – 141 و 327 و 351)
سیف بن عمر کو شیعہ علماء نے بھی ضعیف اور متروک کہا ہے۔
شیعہ عالم الامینی کا یہ قول ایران سے  شیعہ عالم سیستانی کے مکتب سے شایع کی گئی کتاب السلف الصالح میں بھی پیش کیا گیا ہے کہ سیف بن عمر متروک اور ضعیف ہے۔
    اس کے علاوہ شیعہ کا اصل اعتراض اس روایت کے لفظ اغوینّھم پہ تھا اور شیعہ کا استدلال تھا کہ
قرآن کی آیت یہ ہے :  قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٣٩﴾ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿٤٠﴾
اس نے کہا کہ پروردگار جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں ان بندوں کے لئے زمین میں ساز و سامان آراستہ کروں گا اور سب کو اکٹھا گمراہ کروں گا,علاوہ تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص بنا لیا ہے۔
یہاں پر اغوینّھم کا لفظ ہے ، یعنی میں انہیں اغوا کروں گا۔
ابوبکر کہتا ہے کہ مجھے کبھی کبھا شیطان اغوا کر لیتا ہے جبکہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ شیطان اللہ تعالی کے خالص بندوں‌ کو اغوا نہیں‌ کر پائیگا۔ تو ابوبکر کیسے خلیفہ تھے جو کہتے ہیں کہ مجھے شیطان اغوا کر لیتا ہے۔ ماننا پڑیگا کہ ابوبکر مومن نہیں تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام زین العابدین ؒ نے بھی اپنے لئے انہی الفاظ کا استعمال کیا ہے جس کا ذکر شیعہ کتب میں موجود ہے۔
روایت یہ ہے
يقول الإمام زين العابدين في مناجاته : «إلهي إليك أشكو نفسا بالسوء أمارة، وإلى الخطيئة مبادرة، وبمعاصيك مولعة، ولسخطك متعرضة، تسلك بي مسالك المهالك، وتجعلني عندك أهون هالك، كثيرة العلل، طويلة الامل، إن مسها الشر تجزع، وإن مسها الخير تمنع، ميالة إلى اللعب واللهو، مملوء‌ة بالغفلة والسهو، تسرع بي إلى الحوبة وتسوفني بالتوبة. إلهي أشكو إليك عدوا يضلني، وشيطانا يغويني، قد ملأ بالوسواس صدري، وأحاطت هواجسه بقلبي، يعاضد لي الهوى، ويزين لي حب الدنيا، ويحول بيني وبين الطاعة والزلفى. إلهي إليك أشكو قلبا قاسيا، مع الوسواس متقلبا، وبالرين والطبع متلبسا، وعينا عن البكاء من خوفك جامدة، وإلى ما يسرها طامحة. إلهي لا حول ولا قوة إلا بقدرتك، ولا نجاة لي من مكاره الدنيا إلا بعصمتك. فأسألك ببلاغة حكمتك، ونفاذ مشيتك، أن لا تجعلني لغير جودك متعرضا، ولا تصيرني للفتن غرضا، وكن لي على الأعداء ناصرا، وعلى المخازي والعيوب ساترا، ومن البلايا واقيا، وعن المعاصي عاصما، برأفتك ورحمتك يا أرحم الراحمين.
(الصحيفة السجادية ص 236.)
اب شیعہ کو چائیے کہ یہ لفظ بیان کرنے پہ جو فتوی وہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پہ لگاتے ہیں وہی فتوی امام زین العابدین پہ لگائیں کہ کیا امام زین العابدینؒ کو بھی شیطان نے اغوا کر لیا تھا؟؟؟
اگر ان کے نزدیک یہ لفظ بیان کرنے سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مومن نہیں ہیں تو پھر یہی لفظ بیان کرنے سے امام زین العابدینؒ بھی مومن نہیں ہو سکتے۔
غلامِ خاتم النبیینﷺ
محسن اقبال
٭٭٭
     

بھائی شمیم احمد سےایک ملاقات

"سربکف" میگزین 3-نومبر، دسمبر 2015
شمیم احمد / سنیل کمار

احمد اوّاہ:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
شمیم احمد:وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
س:شمیم بھائی آپ دہلی کب اورکہاں سےآئےہیں ؟
ج:میں دہلی پرسوں آیاتھا،میں اصل میں جماعت میں چارمہینےلگاکرلوٹاہوں ،ہماری جماعت نےبہارمونگیرضلع میں چارمہینےلگائےہیں ،حضرت سےفون پرپہلےبات ہوگئی تھی کہ ۱۳ ؍تاریخ کی شام کودہلی میں ملاقات ہوجائےگی ،اس لئےمرکزمیں رک گیاتھا،آج گھرجانےکاارادہ ہے۔
س:جماعت کہاں کی تھی اورامیرصاحب کہاں کےتھے؟
ج:جماعت میں الگ الگ جگہ سےلوگ تھے،پانچ لوگ میرٹھ کےتھے،دوپانی پت ہریانہ کے،امیرصاحب غازی پورکےایک قاری صاحب تھےجومرکزکےایک مدرسہ میں پڑھاتےہیں ،دوہم ،میں اورمیرےچھوٹےبھائی نسیم احمد،جماعت میں سبھی ساتھی بہت اچھےتھےبس میرٹھ کےایک بڑےمیاں بہت ہی گرم مزاج کےتھے،مگرامیرصاحب بہت ہی نرم سوبھاؤکےتھے،ذراسی دیرمیں منالیتےتھے۔
س:جماعت کی کچھ خاص باتیں بتائیے؟
ج:ہم گاؤں کےلوگ وہ بھی ہریانہ کے،خاص بات کیابتائیں ؟بس ایک بات چارمہینےتک دل ودماغ پرچھائی رہی ،مرکزنظام الدین میں حضرت مولاناابراہیم دیولاصاحب کےبیان میں آخرت اورجنت ودوزخ کاذکرسناتھا،اس طرح انھوں نےبیان کیاجس طرح دیکھنےوالاکمنٹری بیان کرتاہے،رات کوسویاتوخواب میں دیکھاکہ حشر کےمیدان میں ہوں اورحساب کتاب ہورہاہے،ایساہولناک منظرہےکہ بس تصوربھی نہیں کیاجاسکتا،گناہ گاروں کاحال ایسابراہےکہ بس اللہ بچائے،دوزخ بھی سامنےدکھائی دےرہی تھی ،اورجنت بھی ،میراحال ڈھل مل ہےکبھی لگتاہےجہنم میں ڈالاجائےگاکبھی ہوتاہےکہ نہیں جان بچ گئی ،آنکھ کھلی تومجھ پراس قدرخوف طاری ہواکہ نینداڑگئی ،اگلےروزسفرتھا،ٹرین میں بھی نیندنہ آئی ،رات میں فضائل اعمال کی تعلیم ہوئی تواوربھی نقشہ سامنےآگیا،ایک ہفتہ تک مجھےایک منٹ کونیندنہیں آئی ،کئی ڈاکٹروں کودکھایا،امیرصاحب نےسرکی مالش کرائی ساتھیوں نےپاؤں بھی دبائے،ساتھیوں کامشورہ ہواکہ اس کوواپس گھربھیج دیاجائے،مگرمیں نےصاف منع کردیاکہ اللہ کےراستہ میں موت آجائےگی توآجائے،چارمہینےسےایک دن پہلےمیری میت بھی نہ لےجائی جائے۔
     امیرصاحب بہت پریشان تھےمگران کی عادت تھی کہ ہرمشکل میں دورکعت صلوٰ ۃالحاجۃ پڑھ کراللہ سےفریادکرتےتھے،ایک رات انھوں نےساتھیوں کومیری مالش اورخدمت وغیرہ کےلئےلگایااورخودمسجدکےایک کونےمیں 
جاکردعاشروع کی ،الحمدللہ مجھےنیندآگئی ،میں نےسوتےمیں خواب دیکھا،میں محشرکےمیدان میں ہوں اوربہت ڈررہاہوں ،کہ میراحساب کس طرح ہوگا؟
     میں نےدیکھاکہ لوگوں میں شورہونےلگا،ہمارےنبی ﷺتشریف لارہےہیں ،میں شورکی طرف کوبڑھاتواللہ کےرسول ﷺایک خوب صورت چادراوڑھےہوئےہیں ،اورآپ نےدورسےاتنی بھیڑمیں مجھےآوازلگائی ،میں جلدی جھپٹا،بھیڑکوادھرادھرکرتےہوئےآپ کےپاس پہنچا،آپ نےاپنی چادرکاایک حصہ میرےسرپرڈال دیا،اورمجھےایسالگاجیسےمیں کسی رحمت کےسایہ میں آگیاہوں ،اس کےبعدمیری آنکھ کھل گئی ،نیندنہ آنےکی شکایت تودورہوگئی مگردل ودماغ پرہروقت آخرت کامنظراورجنت ودوزخ جیسےبالکل ہی آنکھوں کےسامنےہوں ،میراحال جماعت میں یہ رہاکہ امیرصاحب اکثرمجھ سےہی بات کرواتےتھے،اورمیراحال یہ تھاکہ مجھےبس موت کےبعدکی زندگی دنیامیں ہی دکھائی دیتی تھی ،اس لئےبس موت کےبعد،میدان حشر،جنت ودوزخ کی باتیں کرتاتھا،میرےساتھی کہنےلگےکہ تم توجنت ودوزخ کاذکرایسےکرتےہوجیسےسامنےہو،امیرصاحب کہنےلگےکہ تمھارےساتھ وقت لگاکرپوری جماعت کاایمان ،ایمان ہوگیاہے۔
س:ماشاءاللہ بہت قابل رشک حال ہے،یہ حال توصحابہ کاہوتاتھا،کہ وہ کہتےتھےاگرہم جنت اورجہنم کودیکھ لیں توہمارےایمان میں کوئی اضافہ نہ ہو!
ج:صحابہ کےایمان کی توکیابات ہے،میراحال توبس مولاناابراہیم صاحب کےبیان کی برکت سے،اس کاایک قطرہ اس گندہ کومیرےاللہ نےدکھادیا،میرےلئےیہ بھی بڑی نعمت ہےکہ اللہ تعالی بس اس کوباقی رکھیں اورموت کےوقت کام آجائے،مگریہ بات ضرورہےکہ موت کےبعدکی زندگی کایہ خیال انسان کی زندگی کوبدل دیتاہے،اتنی احتیاط جیون میں آجاتی ہے،اصل یہ ہےکہ اس حقیقت کےسامنےآنےکےبعدزندگی ہی الگ ہے،انسان بالکل انسان بن جاتاہے،ایک بارمیں دہلی میں حضرت کی گاڑی میں سونی پت گیاتوحضرت کےایک خادم حافظ شہاب الدین ساتھ تھے،حضرت پنجاب جارہےتھے،گاڑی میں جگہ تھی ،حضرت نےکہاکہ سونی پت تک ساتھ چلو،بات بھی ہوجائےگی اورتم وہاں سےنکل جانا،راستہ بھرحافظ شہاب الدین حضرت سےبس جنت کی بات کرتےرہے،کبھی کہتےحضرت جنت میں توجب آپ کاقافلہ چلاکرےگاتوپوری دنیاکےاتنےسارےلوگ ہوں گے،وہاں توجام نہیں ملےگا؟کبھی کہتےوہاں ٹریفک پولیس کی ضرورت تونہیں ہوگی ،کبھی کہتےحضرت وہاں آپ کےساتھ ذکرکی مجلس بھی ہوگی ؟کبھی کہتےحضرت جنت میں خودآپ کےساتھ دنیاجڑجائےگی ،ایسانہ ہوکہ ہم دیہاتیوں کوآپ سےملنےبھی نہ دیاجائے،حضرت بھی ان کی اس طرح کی دیوانگی کی باتوں سےبہت خوش ہورہےتھےاورمزےلےرہےتھے،میں یہ سوچ رہاتھاکہ یہ حافظ جی کیسی نشہ والوں کی طرح دیوانگی کی باتیں کررہےہیں ،اورحضرت بھی ان کی ہربات کاجواب دےرہےہیں ،اس بارجماعت میں میرےاللہ نےبس ایک خواب دکھادیاتوآنکھیں کھل گئیں ،ایسالگاجیسےکسی سوتےکوخواب دیکھتےہوئےکوئی جگادے،پہلےمجھےحافظ جی کی بات خواب اورنشہ دکھائی دےرہی تھی مگراب لگتاہےکہ میں خواب اورنشہ میں تھااب جاگاہوں،اورجھوٹ کانشہ اتراہے،اورسچ میرےاللہ نےمجھےدکھادیاہے،بس میرےاللہ میرےاس حال کوباقی رکھے، میرےنبیﷺنےکتنی سچی بات فرمائی کہ ہوشیاروہ ہےجوآخرت کی حقیقی اورہمیشہ کی زندگی کویادرکھےاورفانی دنیاکی طرف نظرنہ لگائے۔
س:آپ نےواقعی بڑےپتہ کی بات کہی ،آپ اپناخاندانی تعارف کرائیں ؟
ج:میں ہریانہ کےضلع بھوانی کےایک لالہ خاندان میں ۲ ؍اپریل ۱۹۶۹ ءمیں پیداہوا،میرےپتاجی نےمیرانام سنیل کماررکھا،میرےایک بڑےبھائی اورتین بہنیں تھیں ،دومجھ سےبڑی اورایک چھوٹی تھیں ،میرےپتاجی گاؤں میں مٹھائی کی دوکان کرتےتھے،سنہ ۱۹۴۷ ءمیں دیش کےبٹوارہ کےوقت مین روڈپرایک چھوٹی سی مسجدمیں ،جومسلمانوں کےمارےجانےاورپاکستان جانےکی وجہ سےویران ہوگئی تھی ،اس کی ایک دوکان اورایک مکان مسجدسےلگاہواتھاجوامام کےلئےبنایاگیاتھا،پتاجی نےاس دوکان میں اپنی دوکان کرلی تھی ،وہاں جاتےاورمٹھائی سموسےوغیرہ بناکربیچتےتھے،وہ اچھی چلی اوربعدمیں انھوں نےوہاں ریسٹورینٹ کرلیاتھا۔
س:مسجدکی جگہ میں ریسٹورنٹ بنالیاتھا؟
ج:نہیں ،پتاجی جب تک زندہ رہےوہ مسجدکابہت ادب کرتےتھےصبح اندھیرےاندھیرےمسجدمیں جھاڑوخودلگاتےتھے۔اوروہاں منبرپرایک قرآن شریف رکھاتھااس کولوبان اوردھوپ بتی کی دھونی دیتے،اوراس کاسنسکارکرتے،بہت لوگوں نےچاہاکہ مسجدمیں مورتی رکھ کراسےمندربنالیاجائےمگرپتاجی نےکبھی ایسانہ کرنےدیااسی کی وجہ سےکئی بارپتاجی کوماربھی کھانی پڑی ،وہ کہتےتھےکہ جب تم لوگ شیومندرمیں شیوجی کوہٹاکرہنومان کونہیں رکھتےتواللہ کےمندرمیں دوسروں کوکیسےرکھنےکوکہتےہو،۲۰۰۷ ءمیں میرےپتاجی کادیہانت (انتقال )ہوگیا،میں اورمیرےبڑےبھائی دونوں ریسٹورنٹ کرتےتھے،اورسب سےبڑےبھائی گاؤں کی دوکان میں کرانہ کی دوکان کرتےتھے،اب میں نےریسٹورنٹ چھوڑدیاہےاورایک دوکان روہتک میں بہت اچھی جگہ لےلی ہے،مگراب جماعت کےبعدمیں نےارادہ کیاہےکہ بس اب تواصل کاروبارآخرت کاکرناہے،ابھی ارمغان ملا،اس پرماجددیوبندی کاشعرپڑھنےکوملا:
کاروبارِ دعوتِ اسلام بڑھتا ہے سدا
کیا خبر اس کو کہ جس نے یہ تجارت کی نہیں 
یہ پوری دنیااچھےسےاوراچھےکی طرف بڑھ رہی ہےکوئی گاؤں میں کام کرتاہے،اسےشہرمیں کوئی اچھی دوکان مل جائےتوایک آن میں سب کچھ چھوڑکرگھرباربیچ کرشہرمیں آجاتاہے،سناہےایک ہزارخاندان روزانہ دہلی آکربس جاتےہیں ،اس لئےکہ انھیں وہاں اپنےگاؤں اورشہروں سےزیادہ اچھاکاروباراوررہناسہنادکھائی دےرہاہے،جس کاروبارمیں انسان کومعلوم ہوجائےکہ نفع زیادہ ہورہاہےتوآدمی ساری پونجی بیچ کراپناسب کچھ کاروبارمیں لگادیتاہے،بلکہ قرض تک لےکرلگادیتاہے،اگردنیاوی زندگی دھوکہ ہےاورفانی ہےاوراس میں کیاشک ہےجب دنیابنانےوالےرب نےہی اسےمتاع الغروربتایاہےاورآخرت ہمیشہ کےلئےہے،وہاں کانفع اصل نفع اوروہاں کاگھاٹااصل گھاٹاہے،توآخرت کی تجارت کےلحاظ سےدعوت سےبڑاکوئی دھندہ نہیں ،اس لئےبھائی اگراس سےزیادہ نفع کاکوئی دھندہ اوربزنس ہوتاتواس دنیاکےسب سےہوشیارلوگ نبی اوررسول وہی کام کرتے۔
     ہمارےحضرت خوب پتہ کی بات کہتےہیں ،اس دھندہ میں محنت بھی کم اورپونجی بھی کم لگتی ہے،لوگ کمائیں اورہمارےکھاتےمیں جمع کرتےجائیں ،ایک آدمی ایمان میں آگیااس کےقبول ایمان کااورزندگی بھرجونیکیاں نماز،روزہ ،ذکروتلاوت ،صدقہ اوردعوت جوبھی وہ نیک کام کرےگااس کےتمام اعمال کامقبول اجرایمان کی دعوت دینےوالےکوملتارہےگا،اوراس کی نسلوں میں قیامت تک جتنےلوگ ایمان میں آئیں گے،ان کےایمان اوراعمال کااجرذریعہ بننےوالےکےکھاتہ میں جمع ہوتارہےگا،گویایہ دھندہ ایساہےکہ دعوت کےتاجرکاہرگاہک اس کارٹیلراورتجارتی نمائندہ بھی بنتاجاتاہے،اس لئےماجدصاحب کایہ شعربالکل سچالگاکہ یہ تجارت مسلسل بڑھتی ہی رہتی ہے،اس میں خسارہ کاسوال ہی نہیں ۔تومیں نےاپنےوقت اورصلاحیت کوجومیری سچی پونجی ہےروہتک کی دوکان چھوڑکراس بڑےبزنس میں لگادینےکاارادہ کرلیاہے۔
س:پھرآپ نےروزگارکےلئےکیاسوچا؟
ج:مولانااحمد!آپ اپنےماتحتوں کوکچھ بانٹ رہےہوں اورایک آدمی اس وقت آپ کےکسی کام میں مشغول ہوتوکیاآپ اس کونہیں دیں گے؟آپ یقیناًاس کاحصہ اوروں سےزیادہ محفوظ کریں گے،یہ توہمارادھوکہ ہےکہ ہم کماتےہیں ،رزّ اق تواللہ کی ذات ہےاگراس کےدین کےلئےاپنےکووقف کردیں گےتووہ دوسروں سےاچھاکھلائیں پلائیں گے،میراتوپکایقین ہے۔
س:اپنےقبول اسلام کےبارےمیں بتائیں ؟
ج:پتاجی کےدیہانت کےبعدتین سال تک میں اورمیرےبڑےبھائی مسجدکی صفائی کرتےاورصبح وشام قرآن مجیدکودھوپ بتی کی دھونی دیتےاوردن چھپتےہی مسجدمیں چراغ جلاتےکام ٹھیک چل رہاتھا،میرےمالک کواپنےگھرکی خدمت کابدلہ مجھےدیناتھااس لئےمیرےگھرایک شیطان کوبھیجا،میرےبھتیجےکی شادی ہوئی ،پھرتےپھرتےجس پنڈت جی کوبلایاوہ ہمارےریسٹورنٹ کےپاس والےگاؤں کےتھے،انھوں نےشادی کےبعدمجھےگھرآکرملنےکےلئےکہااوربتایاکہ میں نےپترےمیں تمھارےبھوشیہ 
(مستقبل )کےبارےمیں ایک بات دیکھی ہے،وہ بتانی ہے،بات کچھ اس طرح کہی کہ میں بےچین ہوگیا،اورشادی کےتیسرےدن پنڈت جی کےگھرپہنچا،پنڈت جی نےپہلےتواپنےجیوتش وگیان کامجھ پررعب جمایا،فلاں منتری کومیں نےاتنےدن پہلےبتادیاتھاوہ ہارگیا،فلاں جیت گیا،اس نےبتانےسےفیکٹری کھولی کروڑپتی بن گیا،پھرمجھ سےکہامجھےشیوجی کی طرف سےآدیش ہواہےکہ تمھارےپتاجی بڑےبھگت تھےاس لئےمیں تمھارےریسٹورنٹ پرکچھ دن تک آکرجاپ کروں اورآرتی اتاروں ،ورنہ آپ کےکاروباراورجان پرشنی کاسایہ پڑجائےگا،میں آپ سےاس کےلئےکوئی خرچ بھی نہ لوں گابس کوئی جگہ مجھےتنہائی میں جاپ کرنےکی چاہئے،میں نےبھائی سےمشورہ کیاتوانھوں نےاجازت دےدی ،مسجدکےصحن میں ایک جگہ ان کودےدی گئی ،جہاں انھوں نےآرتی کرتےکرتےمورتی رکھ لی ،وہ روڈپرجگہ تھی وہاں ان کی خوب دوکان جم گئی ،وہ مجھےاورمیرےبھائی کوسمجھاتےرہےاورہمیں تیارکرکےقرآن مجیدوہاں سےاٹھواکرمحراب میں مورتی رکھوادی ،وہ توکہہ رہےتھےکہ اس قرآن کوباندھ کرکسی کنویں میں ڈال دیں ،مگرہم نےپتاجی کی یادگارسمجھ کرگھرمیں لاکررکھ لیا،جس روزمورتی رکھی گئی ،ریسٹورنٹ میں گیس سلنڈرمیں آگ لگ گئی ،جس سےہم لوگ کسی طرح بچ گئے،تین دن کےبعدمیرےبڑےبھائی موٹرسائیکل سےگرےاوران کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ،ہم نےماں سےمشورہ کیا،ماں نےکہاوہ پنڈت جی تمھارےساتھ راکشش (شیطان )لگ گیا،سارےجیون سےمالک کےگھرکاسنسکارکرتےتھےچین سےجی رہےتھے،اب اس کےچکرمیں پڑکرتم دکھی ہوگئےہو،ہم دونوں بھائیوں نےپنڈت جی کووہاں سےچلتاکرنےکی سوچی ،مگرایک سال میں ان کابہت میدان بن گیاتھا،ایک دن ایسےہی میں نےپنڈت جی سےکہاآپ نےمالک کےمندرمیں شیوجی کی مورتی رکھ دی ہےاس سےاوپروالامالک بہت ناراض ہے،آپ سےہم سےبھی زیادہ ناراض ہےاگرآپ یہاں سےجگہ چھوڑکرنہ گئے،توایک ہفتہ میں آپ کی پتنی یابچےمرجائیں گے،مجھےپتاجی نےسپنےمیں بتایاہے۔
س:آپ کوایساسپنادکھائی دیاتھاکیا؟
ج:نہیں ،میں نےایسےہی ڈرانےکےلئےکہاتھا،کہ زبردستی اس سےکرنامشکل تھی ،سوچاتھاشایدڈرجائےاورہماراکام بن جائے۔
س:توپھرکیاہوا؟
ج:پنڈت جی کواپنےدھندےکےلئےایسی مین روڈکی جگہ کہاں ملتی ،وہ جگہ چھوڑنےکوتیارنہ ہوئے،مالک کاکرناایک رات پنڈت جی اپنی بیوی کےساتھ سوئے،بیوی پہلےاٹھتی تھی ،مگرصبح کوپنڈت جی اٹھےتوپتنی کوسوتےہوئےپایا،اٹھایاتومعلوم ہواکہ ہمیشہ کےلئےسوچکی ہے،پنڈت جی کاحال خراب ہوگیا،مجھےمعلوم ہواتومجھےدکھ بھی ہواکہ بیچارےکےساتھ حادثہ ہوا،مگرخوشی زیادہ ہوئی کہ میراتیراندھیرےمیں لگ گیا،تین دن کےبعدمیں نےبات ذرااورپکی کی ،کہ پنڈت جی میں نےایک سپنااوردیکھاہےکہ کل تک پنڈت جی یہ مورتی یہاں سےہٹاکرنہ جائیں گےتوان کےتینوں بچےمرجائیں گے،پنڈت جی ڈرےہوئےتھےانھوں نےوہ مورتی وہاں سےاٹھائی اوراپنابستربھی وہاں سےہٹالیا،میں نےقرآن شریف لاکروہیں رکھ دیا،جب سےہم نےمورتی وہاں رکھی تھی ہمارےریسٹورنٹ کوبھی جیسےکسی نےباندھ دیاہو،جیسےہی قرآن وہاں واپس رکھا،دوبارہ کاروباراچھی طرح چلنےلگا،ایک روزظفرنام کےایک ڈاڑھی والےصاحب میرےپاس آئےاوربولےمیں پہلےہندوتھااب مسلمان ہوگیاہوں ،میں یہاں فیکٹری میں کام کرتاہوں یہاں کئی مسلمان رہتےہیں، ان کونمازکی بہت پریشانی ہے،آپ مالک کےگھرکوصاف کرتےہیں، یہاں پرچراغ جلاتےہیں مالک کی پوجاکےلئےیہ مسجدکسی نےبنائی ہوگی ،آپ یہ مسجدمسلمانوں کےسپردکردو،اورہم تمھیں اس کےبدلہ میں پیسےبھی دےدیں گے،دوتین بعدوہ دولوگوں کولےکرآئے،اورڈھائی لاکھ ان سےلےکران کوسُپردکرنےکی بات ہوگئی ،مگران پیسوں کےآنےسےمیرےبیوپارکی برکت ہی اڑگئی ،اورریسٹورنٹ بالکل ٹھنڈاپڑاگیا،مسجدبہت موقع کی تھی نمازی بڑھتےگئے،جمعہ کےدن دورسڑک تک صفیں بن جاتیں ،ایک روزظفرصاحب ممبئی کےایک حاجی صاحب کولےکرمیرےپاس آئےاوربولےکہ آپ اس ریسٹورنٹ اورگھرکومسجدکوبڑھانےکےلئےدےدیں اورآپ روہتک میں کوئی جگہ لےکروہاں دوکان کرلیں ،آپ کاریسٹورنٹ یہاں چل بھی نہیں رہاہے،ہم نےماں سےمشورہ کیا،ماں نےکہاٹھیک ہےکرلو،ساڑھےسات لاکھ روپئےمیں بات طےہوگئی ،چارمہینوں کاوقت پیسوں کےلئےطےہوا،چارمہینوں میں پیسوں کاانتظام نہ ہوسکاتوظفرصاحب کوکسی نےمولانامحمدکلیم صاحب کاپتہ اورفون نمبردیا،وہ دہلی گئے،حضرت سےملے،حضرت نےمجھ سےفون پربات کی اوردومہینےاوربڑھانےکوکہا،میں نےدودن بعددومہینےوقت اوربڑھادیا،ظفرصاحب نےڈیڑھ مہینہ میں پیسےلاکرمجھےدےدئیے،میں نےایفی یوڈبناکردےدیا،اوراپناسامان اٹھالیا،اس کےبعداگلےجمعہ کوظفرصاحب نےحضرت کووہاں آکرجمعہ پڑھانےکوکہا،حضرت نےوقت دےدیا،ظفرصاحب نےکہابڑےمولاناصاحب ہمارےدھرم گروآرہےہیں آپ دونوں بھائی ان سےضرورمل کران سےدعااورآشیروادلےلیں ،جمعہ سےپہلی رات میں نےخواب دیکھاکہ دس بڑےسانپ ہیں ،وہ مسجدسےنکلےاورہمارےگھرکی طرف دوڑرہےہیں ،لوگ کہہ رہےہیں کہ یہ دسوں تمھارےگھروالوں اورتمھارےکاروبارکوکھالیں گے،میری آنکھ کھلی تومیں بہت ڈراہواتھا،ڈرکی وجہ سےمیں صبح دس بجےمسجدپہنچ گیا،میرےبڑےبھائی ساتھ تھے،حضرت ۱۲ ؍کےبعدآئے،ہم نےان کےساتھ ناشتہ کیااورحضرت سےمیں نےاپنےخواب کےبارےمیں بتایا،کہ ڈھائی لاکھ مسجدکےاورساڑھےسات لاکھ گھراورریسٹورنٹ کےہوئے،دس لاکھ روپئےاس مسجدکےمیں نےلئےہیں ،حضرت نےکہایہ مالک کاگھرہے،اورہم سب مالک کےبندےہیں ،فرمانبردارغلام اوربندےبن کرہمیں خودمسجدمیں پیسہ لگانااوراپنےاکیلےمالک کی عبادت کرنی چاہئے،آپ نےپیسےلےکریہ مسجدخالی کی ہےیہ آپ کےلئےحلال نہیں ،اورہمارےنبی ﷺنےبتایاہےکہ حرام مال کوگنجےسانپ کی شکل میں دوزخ میں لایاجائےگاتوحرام کھانےوالےکوڈسےگا،حضرت کےساتھ حاجی شکیل صاحب بھی تھے،حضرت نےمجھےاورمیرےبھائی کوالگ مولاناکےحجرہ میں بات کرنےکےلئےبھیج دیا،حاجی صاحب نےہمیں بہت محبت سےسمجھایااوراسلام کی دعوت دی ،زندگی کےحالات میں خودہم لوگ اندرسےاسلام کےقریب تھے،رات کےخواب کااثرتازہ تھا،ہم دونوں نےکلمہ پڑھ لیا،حضرت نےکلمہ پڑھوایا،حضرت نےمیرےبھائی کانام محمدشکیل اورمیرانام محمدشمیم رکھا،ہمیں وضوکرائی اورہم نےحضرت کےساتھ پہلی جمعہ کی نمازپڑھی نمازکےبعدہم نےحضرت سےوعدہ کیاکہ دس لاکھ روپئےہم دونوں بھائی جلدی یاتوروہتک کی دوکان بیچ کریاکسی طرح انتظام کرکےلوٹادیں گے،حضرت نےکہاٹھیک ہے،آپ نیت پکی رکھواللہ تعالی سہولت سےجب انتظام کرادیں لوٹادینا،اس سےاس مسجدکی دوبارہ بڑی عمارت بناناشروع کریں گے،بھائی ظفرستمبرمیں جماعت میں چلّے کوجارہےتھے،انھوں نےحضرت سےفون پربات کرائی ،حضرت نےہمیں مشورہ دیاکہ آپ دونوں بھائی جماعت میں چالیس روزضرورلگالیں ،پہلےایک بھائی چلےجائیں اس کےبعددوسرےبھائی چلےجائیں ،ماں سےمشورہ کیا،کون پہلےجائے،ماں نےکہادھرم کےکام میں دیرنہیں کرنی چاہئےتم دونوں ساتھ چلےجاؤ،ظفربھائی کےساتھ ہم نےپہلاچلہ ستمبر۲۰۱۱ ءمیں لگایا،واپس آکرہم نےپہلےماں کوآکرپوری جماعت کی کارگذاری سنائی ،وہ الحمدللہ بہت آسانی سےاسلام قبول کرنےکوتیارہوگئیں ،اس کےبعدہمارےبچےاورگھروالیاں بھی تھوڑی تھوڑی کوشش سےایمان میں آگئیں ۔
س:مسجدکےوہ دس لاکھ روپئےواپس ہوگئے؟
ج:اللہ نےنیت کی برکت سےبالکل آسانی سےکام کرادیاہم لوگوں نےایک نئی آبادی میں ایک پلاٹ ابھی کچھ روزپہلےدولاکھ روپئےکاخریداتھا،اچانک اس علاقہ کےپاس ایک ہائی وےروڈنکل گیا،مٹی ڈالتےہی زمین کےبھاؤدس گنےبڑھ گئے،یہ پلاٹ بیس لاکھ روپئےکابک گیا،ہم نےدس لاکھ روپئےظفربھائی کودئیے،دونوں بھائیوں کی طرف سےپچاس پچاس ہزارروپئےمزیدمسجدبنوانےکےلئےاپنی طرف سےدئیے،اورنولاکھ روپئےکی ایک دوکان روہتک میں خریدلی ،بیس فددوکان ہے۔الحمدللہ ریسٹورنٹ کےلئےبہت اچھی جگہ پرہے،بڑےبھائی اس میں بیٹھ رہےہیں ۔
س:آپ نےاپنےگھروالوں کےدین سیکھنےکاکچھ انتظام کیا؟
ج:ہمارےیہاں ایک قاری صاحب ہیں جوہانسوٹ گجرات میں پڑھےمیران سےہم سب گھروالےقرآن شریف اردواوردینیات پڑھ رہےہیں ۔
س:دعوت کےلئےکیاکررہےہیں آپ ؟
ج:الحمدللہ علاقہ کےجماعت کےکام میں جڑتےہیں ۔۱۲ء میں اور۱۳ء میں چلہ لگایا،اس سال چارمہینےبھی اللہ نےلگوادئیے،اورالحمدللہ نےوہ پنڈت جی جنھوں نےمسجدمیں مورتی رکھی تھی وہ بھی ایمان میں آگئےہیں ،کچھ لوگ توشوق سےمانتےہیں ،کچھ لوگوں کوخوف سےمانناپڑتاہے،پنڈت جی ایک کےبعدایک حادثہ سےڈرکراسلام میں آئےہیں ۔
س:ان کےبارےمیں بتائیے؟
ج:اب مجھےجاناہے،ہماری گاڑی کاوقت ہے،میں ان کولےکرآؤں گا،ان کی کہانی ان سےہی سنوادوں گا۔
س:ارمغان پڑھنےوالوں کوکچھ پیغام دیجئے؟
ج:دنیاکےکسی افسرمنتری کےگھریااس کی پارٹی کاکچھ کام کوئی کردے،تووہ اس کوضرورنوازتاہے،سارےحاکموں کےحاکم ،کن کےاشارےسےساری کائنات کوبنانےوالےکےگھرمسجدمیں اس کےدین کی ذراخدمت کرکےتودیکھےکیسےنوازتے ہیں میرےمالک! میرےپتاجی نےذراسی جھاڑواس کےگھرمیں لگائی ،اس کےکلام کاسنسکارکیا،ہمارےپورےخاندان کودین سےاجڑےدیارہریانہ میں اوراس کےبھی بھوانی کےویران ترین علاقہ میں کس طرح ہدایت سےنوازا،ہرایک اس کاتجربہ کرکےدیکھ لے۔
س:واقعی بہت کام کی بات آپ نےکہی ۔جزاکم اللہ ۔فی امان اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ 
ج:وعلیکم السلام دعاؤں میں ضروریادرکھیں ۔٭

     

ہفتہ، 17 دسمبر، 2016

"سربکف" میگزین 9- نومبر، دسمبر2016

Sarbakaf 9- Sarbakaf Magazine's Ninth Issue
 السلام علیکم۔
سر بکف کا نواں شمارہ حاضر ہے۔شمارہ مذکورہ سے سر بکف میں زمرہ 'رد فرق ضالہ' کے متعلق اداریہ ضرور دیکھیے۔ اب یہ شمارہ پڑھیں اور  رنگا رنگ تحاریر سے لطف اندوز ہوں۔ اپنی آراء سے ضرور نوازیں۔
آپ کا اپنا
شکیب احمد

بارے اس شمارے کے

سر بکف9(جلد ۲، شمارہ 6)
اسمِ مجلہ:سربکف
سنِ آغاز: ۲۰۱۵(جولائی)
حالیہ شمارہ: نومبر، دسمبر۲۰۱۶
مدتِ اشاعت: دو ماہی (Two Monthly)
زمرہ: اسلامی
مدیر: شکیب ؔاحمد

مجلسِ مشاورت

مفتی آرزومند سعد ﷾
مولانا ساجد خان نقشبندی﷾
عبد الرشید قاسمی  سدھارتھ نگری ﷾
مفتی محمد آصف﷾
عباس خان﷾
جاوید خان صافی﷾
جواد خان﷾
  سربکف کو کسی کو تحفتآ دیجیے ، یقینا وہ اس خوبصورت تحفہ سے خوش ہوگا، اور آپ کے لیے صدقہء جاریہ ہوگا۔
ڈاؤنلوڈ لنک: یہ کتاب اور دیگر کتابچے، سر بکف میگزین کے تمام شمارے اور مفید ٹولز اور سافٹ ویئرز ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے بلاگ کے ڈاؤنلوڈ صفحے پر جائیے۔
ویب : sarbakaf.blogspot.com
مزید پوسٹس سے باخبر رہنے کے لیے ہمارا فیس بک پیج وزٹ کریں:
facebook.com/SarbakafMagazine

فہرستِ مضامین