بدھ، 13 ستمبر، 2017

ردِّقادیانیت کورس...قسط 1

 "سربکف" میگزین 3-نومبر، دسمبر 2015
 منظور احمد چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمدﷲ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ، 
اما بعد:
دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ سے فراغت کے بعد ملتان میں امیر شریعت سید عطااﷲ شاہ صاحب بخاری ؒ کے قائم کردہ ختم نبوت مدرسہ میں رد قادیانیت کی تربیت حاصل کرنے کیلئے 1951ء میں بندہ ناچیز داخل ہوا ، فاتح قادیان استاذ محترم حضرت مولانا محمد حیات صاحب ؒ سے تربیت حاصل کی ، ہم کل چار ؍پانچ ساتھی تھے ۔ 1952 کے اوائل میں فارغ ہوا اور اس کے بعد مدرسہ دارالہدی ٰ چوکیرہ ضلع سرگودہا میں تدریس کی خدمت پر مامور ہوگیا ، درسی کتب پڑھانے کے ساتھ ساتھ طلبا ء کو رد قادیانیت کی تربیت دینا بھی شروع کردی ، وہاں سے 1954ء میں اپنے آبائی شہر چنیوٹ آکر جامعہ عربیہ کی بنیاد رکھی ،اورحسب معمول طلباء کی تربیت جاری رہی ، پھر میرے مربی اور شفیق استاد حضرت علامہ مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے حکم پر شعبان کی تعطیلات میں کراچی میں ان کے جامعہ علوم الاسلامیہ میں مدت تک یہی خدمت سرانجام دینے کی سعادت حاصل کرتا رہا ، اسی طرح تنظیم اہل سنت کے زیر اہتمام ملتان میں بھی حضرت علامہ دوست محمد قریشی ؒ اور حضرت علامہ عبدالستار تونسوی مدظلہ کے حکم پر دس ؍پندرہ روزہ تربیتی کورس کراتا رہا ۔ اپنی کاپی جو راقم نے اپنے استاد مرحوم فاتح قادیان سے دوران تربیت لکھی تھی اس سے ضروری حوالہ جات طلبا ء کو 
لکھواتا تھا اور بندہ نے اپنے تجربہ کی روشنی میں ایک نئی ترتیب دیدی جس میں استاد محترم کی تربیت کے برعکس پہلا موضوع بجائے’’حیات عیسی علیہ السلام‘‘ کے ’’ مرزا قادیانی کے صدق وکذب ‘‘ کواصل موضوع قرار دیا اور قادیانیوں سے موضوع گفتگو طے کرنے کیلئے عقلی اور نقلی دلائل سے ثابت کیا کہ اصل موضوع مدعی نبوت کی ذات اور کردار ہے ۔اگر وہ ایک سچا اور شریف النفس انسان بھی ثابت ہوجائے تو ہمیں دوسری بحثوں ’’حیات مسیح علیہ السلام ‘‘ او ر’’ختم نبوت‘‘ کے موضوعات پرگفتگو کرنے اور فریقین کا وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ،ہم بغیر کسی قسم کی بحث کئے اسے اپنے تمام دعاوی میں سچا مان لیں گے او ر اگر وہ اپنی تحریرات سے شریف اور سچا انسان ہی ثابت نہ ہو بلکہ پرلے درجہ کا کذاب ،بدزبان،بدکردار،بداخلاق،شرابی اور زانی ، انگریز کا ٹاؤٹ ثابت ہورہا ہو تو پھر دوسری بحثوں میں پڑنا فریقین کا وقت ضائع کرنا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی اور اسکے دونوں جانشینوں نے خود اس بات کا فیصلہ دے دیا ہے اس لئے میری ترتیب میں پہلا عنوان ’’تعین موضوع‘‘ ہے اور یہی اصل موضوع ہے جس پر راقم نے عقلی ،نقلی دلائل پیش کئے ہیں اس موضوع کو طے کرلینے کے بعدحدیث رسول کریم ﷺ کی مطابق قادیانی کے کذاب ودجال ہونے پر چند دلائل دیے گئے ہیں اس کے بعد ’’ حیات مسیح‘‘ پھر ’’ ختم نبوت‘‘کا موضوع پیش کیا گیا ہے ۔
     جامعہ علوم اسلامیہ اور دفتر تنظیم اہلسنت میں تیاری کراتے ہوئے شریک درس طلباء سے نوٹس تیار کرنے کیلئے کہا ،ان نوٹس کی جانچ پڑتال کرکے ایک کاپی تیار کی ۔آئندہ ہرسال اسی کاپی کی فوٹو سٹیٹ اپنے طلبہ میں تقسیم کردی جاتی ۔اس طرح ان نوٹس سے طلبا ء کا وقت بھی بچا اور دوران تحریروہ عجیب غریب غلطیوں ے بھی بچ گئے۔ دوران کورس قادیانی کتب سے حوالہ جات دکھا دیے جاتے تاکہ انہیں عین الیقین ہوجائے اور حوالہ جات کی مزید تشریح زبانی کردی جاتی ۔ 
     اسی کاپی کی مدد سے مسجد نبوی شریف میں کئی سال مغرب اور عشاء کے درمیان یونیورسٹی کے طلبہ کوعربی میں پڑھاتا رہا ۔ ۱۹۸۵ء میں مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر نے شاہ فہد کی خصوصی اجازت سے سرکاری طور پر اس حقیر کو دعو ت دی توبندہ یونیورسٹی میں طلبا ء کو عصر سے مغرب تک اسی کاپی کی مدد سے تیاری کراتارہا ۔ ایشیاکی عظیم اسلامی یونیورسٹی او رہماری مادر علمی دارلعلوم دیوبند کے منتظمین نے 1990ء میں دارالعلوم میں ایک تربیتی کیمپ کا انتظام کیا ، پورے ہندوستان سے منتخب علما ء کو جمع کیا گیا اور دارالعلوم سے فارغ ہونے والے طلبا ء کی ایک کثیر تعداد اس کے علاوہ تھی ۔
     بندہ نے ان نوٹس کی ایک کاپی وہاں ارسال کی کہ اس کی فوٹو سٹیٹ کروالیں تاکہ حاضرین کورس میں تقسیم کی جاسکے ۔ چونکہ حاضرین کی تعداد زیادہ تھی اسلئے انہوں نے دو ہزار کے قریب اسی کاپی کو چھپوا لیا ۔
     چونکہ قلمی کاپی کی نسبت پرنٹ کاپی کے صفحات کی تعداد کم تھی نیز اکابرین علماء دیوبند کی خواہش تھی کہ اس کاپی کو کتابی شکل میں بھی شائع کیا جائے ،اگرچہ راقم اس رائے سے کچھ زیادہ متفق نہیں تھا کیونکہ اس کا کامل فائدہ باضابطہ پڑھنے سے ہی ہوتا ہے ، لیکن اکابر کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے بندہ ناچیز نے اس کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ میرے مشورہ اور رائے سے اس میں چند مفید اضافے کرکے اور کچھ ترتیب درست کرکے عزیز محترم مولانا سلمان منصور پوری اطال اﷲ عمرہ نائب مفتی واستاذ جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد، نواسہ حضرت شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ نے اسے کتابی شکل میں ترتیب دیدیا۔میری نظر ثانی اور چند ضروری اضافہ جات کے بعد اب یہی کتاب ’’ رد مرزائیت کے سنہری اصول‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں تقریباً اڑھائی سو صفحات پر مشتمل کتاب دارالعلوم دیوبند کی کل ہندمجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھپ چکی ہے اور وہاں سے دستیاب ہوسکتی ہے ۔
     اس تمام وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ یہ واضح ہوجائے کہ یہ کوئی باضابطہ تصنیف نہیں ہے بلکہ میرے ضروری نوٹس ہیں ۔اگرچہ ہر اردو پڑھا لکھا عالم ،غیر عالم اپنی استعداد کے مطابق اس سے استفادہ کرسکتا ہے مگر اس سے مکمل استفادہ وہی کرسکتا ہے جو شریک دورہ ہو کر باضابطہ طور پر پڑھے اور سمجھے کیونکہ دوران تدریس ان حوالہ جات کی تشریح میں اور کئی مفید با تیں بھی آجاتی ہیں جو اس پندرہ روزہ کورس میں درج نہیں یا جو صرف دوران سبق ہی بتائی او رسمجھائی جاسکتی ہیں ۔
اﷲتعالیٰ راقم موصوف کی اس کاوش اور محنت کو قبول فرمائیں اور گم گشتہ راہ قادیانیوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائیں ۔ 
بندہ نے اس میں مزید اضافہ کرکے اسے ایک مستقل کتاب ’’ردّمرزائیت کے زرّیں اصول ‘‘ کے عنوان سے ترتیب دے دیا ہے۔جو کہ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ سے دستیاب ہے ۔ 
تمام حضرات سے درخواست ہے دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ میری اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشیں ۔ آمین 
احقر
منظور احمد چنیوٹی عفااﷲ عنہ
﴿باب اول ﴾
مرزا غلام احمد قادیانی کا مختصر تعارف
خاندانی پس منظر:
’’ میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ (برطانیہ) کا پکا خیر خواہ ہے ۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفاداراور خیر خواہ آدمی تھا جن کودربارگورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھکر سرکار انگریزی کومدد دی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچاکر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریز ی کی امداد میں دیے تھے ان خدمات کی وجہ سے جو چھٹیات خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں مگر تین چھٹیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تیموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا ۔ پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں ۔‘‘
(کتاب البریہ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۳ ص۴ تا ۶(

نام و نسب:
’’اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد کا نام غلام مرتضی اور دادا صاحب کا نام عطاء محمد اور میرے پرداد اصاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اَب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمر قند سے آئے تھے ۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۴۴ بر حاشیہ روحانی خزائن ص ۱۶۲،۶۳ ج ۱۳،مثلہ سیرۃ المہدی حصہ اول ج۱ ص۱۱۶(

تاریخ ومقام پیدائش:
مرزا غلام احمد قادیانی بھارت کے مشرقی پنجاب ضلع گورداسپور تحصیل بٹالہ قصبہ قادیان میں پیدا ہوا ۔ اپنی تاریخ پیدائش کے بارے میں اس نے یہ وضاحت کی ہے :
’’ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔‘‘
 (کتاب البریہ ص۱۵۹ حاشیہ روحانی خزائن ص۱۷۷ ج۱۳(

ابتدائی تعلیم :
مرزا قادیانی نے قادیان ہی میں رہ کر متعدد اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جس کی تفصیل خوداس کی زبانی حسب ذیل ہے :
’’ بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا ۔اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کیلئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدائے تعالی کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ’ فضل‘ ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرَف کی بعض کتابیں او رکچھ قواعد نحو اِن سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ان کا نا م گل علی شاہ تھا ان کو بھی میرے والد نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کیلئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالی نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے ۔‘‘ 
(کتاب البریہ بر حاشیہ۶۱ ۱تا۱۶۳۔روحانی خزائن ج ۱۳ ص ۱۷۹ تا ۱۸۱(

جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتا ہے کہ 
’’ تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد یا اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیم کا نشان ظاہر فرمایا۔‘‘
 (دیباچہ براھین احمدیہ ص ۷، روحانی خزائن ص۱۶ج۱(

ملازمت:
مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا لکھتا ہے :
’’ بیان کیامجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا جب آپ نے پنشن وصول کرلی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان آنے کے باہر لے گیا اور ادھر اؑدھر پھراتا رہا پھر اتارہاپھر جب آپ نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا ۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہوجائیں اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے ۔ ‘ ‘ 
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۴۳ روایت نمبر ۴۹ ،مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی )
 واضح رہے کہ پنشن کی یہ رقم سات صد روپیہ تھی۔ 
(سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۱۳۱ روایت نمبر ۱۲۲(

منکوحات مرزا :
مرزا غلام احمد قادیانی کی تین بیویاں تھیں ، پہلی بیوی جس کو ’ پھجے کی ماں‘ کہا جاتاہے اور اس کا نام حرمت بی بی تھا اس سے ۱۸۵۲ء یا ۱۸۵۳ ء میں شادی ہوئی ۔
دوسری بیوی جس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے اس سے نکاح ۱۸۸۴ء میں ہوا ۔ اس کی ایک او ربیوی بھی تھی جس کے ساتھ بقول اسکے اس کا نکاح آسمانوں پر ہوا تھا،جس کا نام محمدی بیگم تھامگر اس کے ساتھ اس کی شادی ساری زندگی نہ ہوسکی اس کا مفصل تذکرہ آئندہ پیش گوئی نمبر۶ کے ذیل میں آئے گا۔

اولاد :
۱۔ مرزا سلطان احمد
 ۲۔مرزا فضل احمد 
یہ دونوں مرزا پر ایمان نہ لائے تھے میرزا فضل احمد مرزا قادیانی کی زندگی میں مر گیا لیکن مرزا نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔
( روزنامہ الفضل قادیان ۷ جولائی۱۹۴۳ء ص ۳ )
 جبکہ مرزا سلطان احمدکو مرزا نے عاق کردیاتھا ۔
مرزا کی دوسری بیوی سے درج ذیل اولاد ہوئی :
لڑکے﴾مرزا محمود احمد ۔مرزا شوکت احمد۔ مرزا بشیر احمداول ۔ مرز اشریف احمد۔ مبارک احمد ۔بشیر احمد ایم اے۔
لڑکیاں﴾مبارکہ بیگم ۔ امۃالنصیر ۔ امۃ الحفیظ بیگم ۔عصمت
ان میں سے فضل احمد ، بشیر اول، شوکت احمد ،مبارک احمد ،عصمت اور امۃ النصیرکا مرزا کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا جبکہ باقی اولاد( سلطان احمد ،محمود احمد ، بشیر احمد ،شریف احمد ،مبارک بیگم ،امۃ الحفیظ بیگم ) مرزا قادیانی کی موت کے بعد بھی زندہ رہی ۔ 
(دیکھئے نسب نامہ مرزا ،سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۱۱۶ روایت ۱۱۶(
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرزا کے ہاں دونوں بیویوں سے آٹھ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئی تھیں ۔چارلڑکے اور دو لڑکیاں مرزا کی زندگی میں انتقال کر گئیں جبکہ چار لڑکے اور دو لڑکیاں زندہ رہیں ۔٭
(جاری ہے...)
     

کیا سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو شیطان اغوا کر لیتا تھا؟

 "سربکف" میگزین 3-نومبر، دسمبر 2015
محسن اقبال ﷾

ایک شیعہ نے تاریخ طبری سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے  سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا ہے کہ سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کو بعض اوقات شیطان اغواء کر لیتا تھا۔
تاریخ طبری کی یہ روایت سخت ضعیف ہے۔اس کی مکمل سند درج ذیل ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمِّي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، وَحَدَّثَنِي السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَيْفِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ،
اس روایت کا ایک راوی سیف بن عمر سخت ضعیف ہے۔اس کی تحقیق درج ذیل ہے۔
أهل السنة والجماعة:
1۔إمام أهل الجرح يحيى بن معين المتوفى (232 أو 233 هـ ) . قال عن سيف : ( فَلْس خير منه ) .لكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي ج4 ص507 رقم 851 ، تهذيب الكمال ج10 ص326 .)
2۔محمد بن عبدالله بن نُمَيْر الهمْداني المتوفى (234 هـ): سيف الضبي تميمي ، وكان جُمَيْع يقول : حدثني رجل من بني تميم ، وكان سيف يضع الحديث ، وكان قد اتهم بالزندقة ). المجروحين لابن حبان ج1 ص345 – 346 ، الميزان للذهبي ج3 ص353 رقم 3642 )
3۔أبو زرعة الرازي المتوفى (246هـ) قال : ( ضعيف الحديث ).تهذيب الكمال ج12 ص327
4۔قال أبو داوود المتوفى (246هـ) صاحب السنن في سيف : ( ليس بشيء ).سؤالات الآجري لأبي داود ج1 ص214 رقم 216)
5۔أبو حاتم الرازي المتوفى (277هـ) قال عنه : ( متروك الحديث ).الجرح والتعديل ج4 ص278 رقم 1189)
6۔أورد النسائي المتوفى (303هـ) صاحب السنن في كتابه ( الضعفاء والمتروكين ) وقال عنه : ( سيف بن عمر الضبي : ضعيف ).الضعفاء والمتروكين للنسائي رقم 256)
7۔الإمام عبدالرحمن بن أبي حاتم الرازي المتوفى (327هـ) صاحب كتاب الجرح والتعديل قال في سيف : ( وسيف متروك الحديث ).الجرح والتعديل ج7 ص136 رقم762)
8-وقال ابن حبان المتوفى (354 هـ) ذكر سيف بن عمر في المجروحين فقال : ( يروي الموضوعات عن الاثبات ، وقالوا : سيف يضع الحديث وكان قد اتهم بالزندقة ).كتاب المجروحين لابن حبان ج1 ص 345 – 346
9-الحاكم النيسابوري المتوفى (405 هـ) صاحب المستدرك قال في سيف : ( اتهم بالزندقة وهو في الرواية ساقط )تهذيب التهذيب ج4 ص296
10۔وذكره ابن الجوزي المتوفى (571 هـ) في الضعفاء ، وقال أيضاً : ( وهذا حديث موضوع بلا إشكال وفيه جماعة مجروحين ، وأشدهم في ذلك سيف وسعد ،وكلاهما متهم بوضع الحديث ).الموضوعات لابن الجوزي ج1 ص362 رقم 444 ۔
11۔الذهبي المتوفى (847 هـ ) قال عن سيف : ( متروك باتفاق ) .المغني ج1 ص460 رقم 2716)
 12۔جلال الدين السيوطي المتوفى (911 هـ) قال عن سيف : بعد أن عقب على حديث هو في سنده فقال : ( موضوع ، فيه ضعفاء أشدهم سيف ). اللئالي المصنوعة للسيوطي ج1 ص392۔
13۔وقال علي بن أبي بكر الهيثمي المتوفى (807 هـ) في حديث ضعفه لأجل سيف قال : ( وفيه سيف بن عمر متروك ) فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي ج1 ص460 ۔
14۔محمد بن علي الشوكاني المتوفى (1250 هـ) قال عن سيف : في سند هو فيه : ( وفي إسناده سيف بن عمر ، وهو وضاع ). الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة ص 491 
15۔قال الشيخ المحدث محمد العربي التباني توفي نحو (1390 هـ ) في كتابه القيم ( تحذير العبقري من محاضرات الخضري ) . (1/275) ( سيف بن عمر الوضاع المتهم بالزندقة المتفق على أنه لا يروي إلا عن المجهولين )
الشيعة:
۔1،قال الخوئي المتوفى ( 1413هـ) : ( سيف بن عمر الوضاع الكذاب ).معجم رجال الحديث ج11 ص 207)
۔2۔قال الأميني المتوفى (1390 هـ) عن سيف :" راوي الموضوعات ، المتروك ، الساقط ، المتسالم على ضعفه ، المتهم بالزندقة" .ونقل العلامة الأميني أقوال أهل الجرح والتعديل فيه. (الغدير ج8 ص 84 – 85 و 140 – 141 و 327 و 351)
سیف بن عمر کو شیعہ علماء نے بھی ضعیف اور متروک کہا ہے۔
شیعہ عالم الامینی کا یہ قول ایران سے  شیعہ عالم سیستانی کے مکتب سے شایع کی گئی کتاب السلف الصالح میں بھی پیش کیا گیا ہے کہ سیف بن عمر متروک اور ضعیف ہے۔
    اس کے علاوہ شیعہ کا اصل اعتراض اس روایت کے لفظ اغوینّھم پہ تھا اور شیعہ کا استدلال تھا کہ
قرآن کی آیت یہ ہے :  قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٣٩﴾ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿٤٠﴾
اس نے کہا کہ پروردگار جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں ان بندوں کے لئے زمین میں ساز و سامان آراستہ کروں گا اور سب کو اکٹھا گمراہ کروں گا,علاوہ تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص بنا لیا ہے۔
یہاں پر اغوینّھم کا لفظ ہے ، یعنی میں انہیں اغوا کروں گا۔
ابوبکر کہتا ہے کہ مجھے کبھی کبھا شیطان اغوا کر لیتا ہے جبکہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ شیطان اللہ تعالی کے خالص بندوں‌ کو اغوا نہیں‌ کر پائیگا۔ تو ابوبکر کیسے خلیفہ تھے جو کہتے ہیں کہ مجھے شیطان اغوا کر لیتا ہے۔ ماننا پڑیگا کہ ابوبکر مومن نہیں تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام زین العابدین ؒ نے بھی اپنے لئے انہی الفاظ کا استعمال کیا ہے جس کا ذکر شیعہ کتب میں موجود ہے۔
روایت یہ ہے
يقول الإمام زين العابدين في مناجاته : «إلهي إليك أشكو نفسا بالسوء أمارة، وإلى الخطيئة مبادرة، وبمعاصيك مولعة، ولسخطك متعرضة، تسلك بي مسالك المهالك، وتجعلني عندك أهون هالك، كثيرة العلل، طويلة الامل، إن مسها الشر تجزع، وإن مسها الخير تمنع، ميالة إلى اللعب واللهو، مملوء‌ة بالغفلة والسهو، تسرع بي إلى الحوبة وتسوفني بالتوبة. إلهي أشكو إليك عدوا يضلني، وشيطانا يغويني، قد ملأ بالوسواس صدري، وأحاطت هواجسه بقلبي، يعاضد لي الهوى، ويزين لي حب الدنيا، ويحول بيني وبين الطاعة والزلفى. إلهي إليك أشكو قلبا قاسيا، مع الوسواس متقلبا، وبالرين والطبع متلبسا، وعينا عن البكاء من خوفك جامدة، وإلى ما يسرها طامحة. إلهي لا حول ولا قوة إلا بقدرتك، ولا نجاة لي من مكاره الدنيا إلا بعصمتك. فأسألك ببلاغة حكمتك، ونفاذ مشيتك، أن لا تجعلني لغير جودك متعرضا، ولا تصيرني للفتن غرضا، وكن لي على الأعداء ناصرا، وعلى المخازي والعيوب ساترا، ومن البلايا واقيا، وعن المعاصي عاصما، برأفتك ورحمتك يا أرحم الراحمين.
(الصحيفة السجادية ص 236.)
اب شیعہ کو چائیے کہ یہ لفظ بیان کرنے پہ جو فتوی وہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پہ لگاتے ہیں وہی فتوی امام زین العابدین پہ لگائیں کہ کیا امام زین العابدینؒ کو بھی شیطان نے اغوا کر لیا تھا؟؟؟
اگر ان کے نزدیک یہ لفظ بیان کرنے سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مومن نہیں ہیں تو پھر یہی لفظ بیان کرنے سے امام زین العابدینؒ بھی مومن نہیں ہو سکتے۔
غلامِ خاتم النبیینﷺ
محسن اقبال
٭٭٭
     

بھائی شمیم احمد سےایک ملاقات

"سربکف" میگزین 3-نومبر، دسمبر 2015
شمیم احمد / سنیل کمار

احمد اوّاہ:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
شمیم احمد:وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
س:شمیم بھائی آپ دہلی کب اورکہاں سےآئےہیں ؟
ج:میں دہلی پرسوں آیاتھا،میں اصل میں جماعت میں چارمہینےلگاکرلوٹاہوں ،ہماری جماعت نےبہارمونگیرضلع میں چارمہینےلگائےہیں ،حضرت سےفون پرپہلےبات ہوگئی تھی کہ ۱۳ ؍تاریخ کی شام کودہلی میں ملاقات ہوجائےگی ،اس لئےمرکزمیں رک گیاتھا،آج گھرجانےکاارادہ ہے۔
س:جماعت کہاں کی تھی اورامیرصاحب کہاں کےتھے؟
ج:جماعت میں الگ الگ جگہ سےلوگ تھے،پانچ لوگ میرٹھ کےتھے،دوپانی پت ہریانہ کے،امیرصاحب غازی پورکےایک قاری صاحب تھےجومرکزکےایک مدرسہ میں پڑھاتےہیں ،دوہم ،میں اورمیرےچھوٹےبھائی نسیم احمد،جماعت میں سبھی ساتھی بہت اچھےتھےبس میرٹھ کےایک بڑےمیاں بہت ہی گرم مزاج کےتھے،مگرامیرصاحب بہت ہی نرم سوبھاؤکےتھے،ذراسی دیرمیں منالیتےتھے۔
س:جماعت کی کچھ خاص باتیں بتائیے؟
ج:ہم گاؤں کےلوگ وہ بھی ہریانہ کے،خاص بات کیابتائیں ؟بس ایک بات چارمہینےتک دل ودماغ پرچھائی رہی ،مرکزنظام الدین میں حضرت مولاناابراہیم دیولاصاحب کےبیان میں آخرت اورجنت ودوزخ کاذکرسناتھا،اس طرح انھوں نےبیان کیاجس طرح دیکھنےوالاکمنٹری بیان کرتاہے،رات کوسویاتوخواب میں دیکھاکہ حشر کےمیدان میں ہوں اورحساب کتاب ہورہاہے،ایساہولناک منظرہےکہ بس تصوربھی نہیں کیاجاسکتا،گناہ گاروں کاحال ایسابراہےکہ بس اللہ بچائے،دوزخ بھی سامنےدکھائی دےرہی تھی ،اورجنت بھی ،میراحال ڈھل مل ہےکبھی لگتاہےجہنم میں ڈالاجائےگاکبھی ہوتاہےکہ نہیں جان بچ گئی ،آنکھ کھلی تومجھ پراس قدرخوف طاری ہواکہ نینداڑگئی ،اگلےروزسفرتھا،ٹرین میں بھی نیندنہ آئی ،رات میں فضائل اعمال کی تعلیم ہوئی تواوربھی نقشہ سامنےآگیا،ایک ہفتہ تک مجھےایک منٹ کونیندنہیں آئی ،کئی ڈاکٹروں کودکھایا،امیرصاحب نےسرکی مالش کرائی ساتھیوں نےپاؤں بھی دبائے،ساتھیوں کامشورہ ہواکہ اس کوواپس گھربھیج دیاجائے،مگرمیں نےصاف منع کردیاکہ اللہ کےراستہ میں موت آجائےگی توآجائے،چارمہینےسےایک دن پہلےمیری میت بھی نہ لےجائی جائے۔
     امیرصاحب بہت پریشان تھےمگران کی عادت تھی کہ ہرمشکل میں دورکعت صلوٰ ۃالحاجۃ پڑھ کراللہ سےفریادکرتےتھے،ایک رات انھوں نےساتھیوں کومیری مالش اورخدمت وغیرہ کےلئےلگایااورخودمسجدکےایک کونےمیں 
جاکردعاشروع کی ،الحمدللہ مجھےنیندآگئی ،میں نےسوتےمیں خواب دیکھا،میں محشرکےمیدان میں ہوں اوربہت ڈررہاہوں ،کہ میراحساب کس طرح ہوگا؟
     میں نےدیکھاکہ لوگوں میں شورہونےلگا،ہمارےنبی ﷺتشریف لارہےہیں ،میں شورکی طرف کوبڑھاتواللہ کےرسول ﷺایک خوب صورت چادراوڑھےہوئےہیں ،اورآپ نےدورسےاتنی بھیڑمیں مجھےآوازلگائی ،میں جلدی جھپٹا،بھیڑکوادھرادھرکرتےہوئےآپ کےپاس پہنچا،آپ نےاپنی چادرکاایک حصہ میرےسرپرڈال دیا،اورمجھےایسالگاجیسےمیں کسی رحمت کےسایہ میں آگیاہوں ،اس کےبعدمیری آنکھ کھل گئی ،نیندنہ آنےکی شکایت تودورہوگئی مگردل ودماغ پرہروقت آخرت کامنظراورجنت ودوزخ جیسےبالکل ہی آنکھوں کےسامنےہوں ،میراحال جماعت میں یہ رہاکہ امیرصاحب اکثرمجھ سےہی بات کرواتےتھے،اورمیراحال یہ تھاکہ مجھےبس موت کےبعدکی زندگی دنیامیں ہی دکھائی دیتی تھی ،اس لئےبس موت کےبعد،میدان حشر،جنت ودوزخ کی باتیں کرتاتھا،میرےساتھی کہنےلگےکہ تم توجنت ودوزخ کاذکرایسےکرتےہوجیسےسامنےہو،امیرصاحب کہنےلگےکہ تمھارےساتھ وقت لگاکرپوری جماعت کاایمان ،ایمان ہوگیاہے۔
س:ماشاءاللہ بہت قابل رشک حال ہے،یہ حال توصحابہ کاہوتاتھا،کہ وہ کہتےتھےاگرہم جنت اورجہنم کودیکھ لیں توہمارےایمان میں کوئی اضافہ نہ ہو!
ج:صحابہ کےایمان کی توکیابات ہے،میراحال توبس مولاناابراہیم صاحب کےبیان کی برکت سے،اس کاایک قطرہ اس گندہ کومیرےاللہ نےدکھادیا،میرےلئےیہ بھی بڑی نعمت ہےکہ اللہ تعالی بس اس کوباقی رکھیں اورموت کےوقت کام آجائے،مگریہ بات ضرورہےکہ موت کےبعدکی زندگی کایہ خیال انسان کی زندگی کوبدل دیتاہے،اتنی احتیاط جیون میں آجاتی ہے،اصل یہ ہےکہ اس حقیقت کےسامنےآنےکےبعدزندگی ہی الگ ہے،انسان بالکل انسان بن جاتاہے،ایک بارمیں دہلی میں حضرت کی گاڑی میں سونی پت گیاتوحضرت کےایک خادم حافظ شہاب الدین ساتھ تھے،حضرت پنجاب جارہےتھے،گاڑی میں جگہ تھی ،حضرت نےکہاکہ سونی پت تک ساتھ چلو،بات بھی ہوجائےگی اورتم وہاں سےنکل جانا،راستہ بھرحافظ شہاب الدین حضرت سےبس جنت کی بات کرتےرہے،کبھی کہتےحضرت جنت میں توجب آپ کاقافلہ چلاکرےگاتوپوری دنیاکےاتنےسارےلوگ ہوں گے،وہاں توجام نہیں ملےگا؟کبھی کہتےوہاں ٹریفک پولیس کی ضرورت تونہیں ہوگی ،کبھی کہتےحضرت وہاں آپ کےساتھ ذکرکی مجلس بھی ہوگی ؟کبھی کہتےحضرت جنت میں خودآپ کےساتھ دنیاجڑجائےگی ،ایسانہ ہوکہ ہم دیہاتیوں کوآپ سےملنےبھی نہ دیاجائے،حضرت بھی ان کی اس طرح کی دیوانگی کی باتوں سےبہت خوش ہورہےتھےاورمزےلےرہےتھے،میں یہ سوچ رہاتھاکہ یہ حافظ جی کیسی نشہ والوں کی طرح دیوانگی کی باتیں کررہےہیں ،اورحضرت بھی ان کی ہربات کاجواب دےرہےہیں ،اس بارجماعت میں میرےاللہ نےبس ایک خواب دکھادیاتوآنکھیں کھل گئیں ،ایسالگاجیسےکسی سوتےکوخواب دیکھتےہوئےکوئی جگادے،پہلےمجھےحافظ جی کی بات خواب اورنشہ دکھائی دےرہی تھی مگراب لگتاہےکہ میں خواب اورنشہ میں تھااب جاگاہوں،اورجھوٹ کانشہ اتراہے،اورسچ میرےاللہ نےمجھےدکھادیاہے،بس میرےاللہ میرےاس حال کوباقی رکھے، میرےنبیﷺنےکتنی سچی بات فرمائی کہ ہوشیاروہ ہےجوآخرت کی حقیقی اورہمیشہ کی زندگی کویادرکھےاورفانی دنیاکی طرف نظرنہ لگائے۔
س:آپ نےواقعی بڑےپتہ کی بات کہی ،آپ اپناخاندانی تعارف کرائیں ؟
ج:میں ہریانہ کےضلع بھوانی کےایک لالہ خاندان میں ۲ ؍اپریل ۱۹۶۹ ءمیں پیداہوا،میرےپتاجی نےمیرانام سنیل کماررکھا،میرےایک بڑےبھائی اورتین بہنیں تھیں ،دومجھ سےبڑی اورایک چھوٹی تھیں ،میرےپتاجی گاؤں میں مٹھائی کی دوکان کرتےتھے،سنہ ۱۹۴۷ ءمیں دیش کےبٹوارہ کےوقت مین روڈپرایک چھوٹی سی مسجدمیں ،جومسلمانوں کےمارےجانےاورپاکستان جانےکی وجہ سےویران ہوگئی تھی ،اس کی ایک دوکان اورایک مکان مسجدسےلگاہواتھاجوامام کےلئےبنایاگیاتھا،پتاجی نےاس دوکان میں اپنی دوکان کرلی تھی ،وہاں جاتےاورمٹھائی سموسےوغیرہ بناکربیچتےتھے،وہ اچھی چلی اوربعدمیں انھوں نےوہاں ریسٹورینٹ کرلیاتھا۔
س:مسجدکی جگہ میں ریسٹورنٹ بنالیاتھا؟
ج:نہیں ،پتاجی جب تک زندہ رہےوہ مسجدکابہت ادب کرتےتھےصبح اندھیرےاندھیرےمسجدمیں جھاڑوخودلگاتےتھے۔اوروہاں منبرپرایک قرآن شریف رکھاتھااس کولوبان اوردھوپ بتی کی دھونی دیتے،اوراس کاسنسکارکرتے،بہت لوگوں نےچاہاکہ مسجدمیں مورتی رکھ کراسےمندربنالیاجائےمگرپتاجی نےکبھی ایسانہ کرنےدیااسی کی وجہ سےکئی بارپتاجی کوماربھی کھانی پڑی ،وہ کہتےتھےکہ جب تم لوگ شیومندرمیں شیوجی کوہٹاکرہنومان کونہیں رکھتےتواللہ کےمندرمیں دوسروں کوکیسےرکھنےکوکہتےہو،۲۰۰۷ ءمیں میرےپتاجی کادیہانت (انتقال )ہوگیا،میں اورمیرےبڑےبھائی دونوں ریسٹورنٹ کرتےتھے،اورسب سےبڑےبھائی گاؤں کی دوکان میں کرانہ کی دوکان کرتےتھے،اب میں نےریسٹورنٹ چھوڑدیاہےاورایک دوکان روہتک میں بہت اچھی جگہ لےلی ہے،مگراب جماعت کےبعدمیں نےارادہ کیاہےکہ بس اب تواصل کاروبارآخرت کاکرناہے،ابھی ارمغان ملا،اس پرماجددیوبندی کاشعرپڑھنےکوملا:
کاروبارِ دعوتِ اسلام بڑھتا ہے سدا
کیا خبر اس کو کہ جس نے یہ تجارت کی نہیں 
یہ پوری دنیااچھےسےاوراچھےکی طرف بڑھ رہی ہےکوئی گاؤں میں کام کرتاہے،اسےشہرمیں کوئی اچھی دوکان مل جائےتوایک آن میں سب کچھ چھوڑکرگھرباربیچ کرشہرمیں آجاتاہے،سناہےایک ہزارخاندان روزانہ دہلی آکربس جاتےہیں ،اس لئےکہ انھیں وہاں اپنےگاؤں اورشہروں سےزیادہ اچھاکاروباراوررہناسہنادکھائی دےرہاہے،جس کاروبارمیں انسان کومعلوم ہوجائےکہ نفع زیادہ ہورہاہےتوآدمی ساری پونجی بیچ کراپناسب کچھ کاروبارمیں لگادیتاہے،بلکہ قرض تک لےکرلگادیتاہے،اگردنیاوی زندگی دھوکہ ہےاورفانی ہےاوراس میں کیاشک ہےجب دنیابنانےوالےرب نےہی اسےمتاع الغروربتایاہےاورآخرت ہمیشہ کےلئےہے،وہاں کانفع اصل نفع اوروہاں کاگھاٹااصل گھاٹاہے،توآخرت کی تجارت کےلحاظ سےدعوت سےبڑاکوئی دھندہ نہیں ،اس لئےبھائی اگراس سےزیادہ نفع کاکوئی دھندہ اوربزنس ہوتاتواس دنیاکےسب سےہوشیارلوگ نبی اوررسول وہی کام کرتے۔
     ہمارےحضرت خوب پتہ کی بات کہتےہیں ،اس دھندہ میں محنت بھی کم اورپونجی بھی کم لگتی ہے،لوگ کمائیں اورہمارےکھاتےمیں جمع کرتےجائیں ،ایک آدمی ایمان میں آگیااس کےقبول ایمان کااورزندگی بھرجونیکیاں نماز،روزہ ،ذکروتلاوت ،صدقہ اوردعوت جوبھی وہ نیک کام کرےگااس کےتمام اعمال کامقبول اجرایمان کی دعوت دینےوالےکوملتارہےگا،اوراس کی نسلوں میں قیامت تک جتنےلوگ ایمان میں آئیں گے،ان کےایمان اوراعمال کااجرذریعہ بننےوالےکےکھاتہ میں جمع ہوتارہےگا،گویایہ دھندہ ایساہےکہ دعوت کےتاجرکاہرگاہک اس کارٹیلراورتجارتی نمائندہ بھی بنتاجاتاہے،اس لئےماجدصاحب کایہ شعربالکل سچالگاکہ یہ تجارت مسلسل بڑھتی ہی رہتی ہے،اس میں خسارہ کاسوال ہی نہیں ۔تومیں نےاپنےوقت اورصلاحیت کوجومیری سچی پونجی ہےروہتک کی دوکان چھوڑکراس بڑےبزنس میں لگادینےکاارادہ کرلیاہے۔
س:پھرآپ نےروزگارکےلئےکیاسوچا؟
ج:مولانااحمد!آپ اپنےماتحتوں کوکچھ بانٹ رہےہوں اورایک آدمی اس وقت آپ کےکسی کام میں مشغول ہوتوکیاآپ اس کونہیں دیں گے؟آپ یقیناًاس کاحصہ اوروں سےزیادہ محفوظ کریں گے،یہ توہمارادھوکہ ہےکہ ہم کماتےہیں ،رزّ اق تواللہ کی ذات ہےاگراس کےدین کےلئےاپنےکووقف کردیں گےتووہ دوسروں سےاچھاکھلائیں پلائیں گے،میراتوپکایقین ہے۔
س:اپنےقبول اسلام کےبارےمیں بتائیں ؟
ج:پتاجی کےدیہانت کےبعدتین سال تک میں اورمیرےبڑےبھائی مسجدکی صفائی کرتےاورصبح وشام قرآن مجیدکودھوپ بتی کی دھونی دیتےاوردن چھپتےہی مسجدمیں چراغ جلاتےکام ٹھیک چل رہاتھا،میرےمالک کواپنےگھرکی خدمت کابدلہ مجھےدیناتھااس لئےمیرےگھرایک شیطان کوبھیجا،میرےبھتیجےکی شادی ہوئی ،پھرتےپھرتےجس پنڈت جی کوبلایاوہ ہمارےریسٹورنٹ کےپاس والےگاؤں کےتھے،انھوں نےشادی کےبعدمجھےگھرآکرملنےکےلئےکہااوربتایاکہ میں نےپترےمیں تمھارےبھوشیہ 
(مستقبل )کےبارےمیں ایک بات دیکھی ہے،وہ بتانی ہے،بات کچھ اس طرح کہی کہ میں بےچین ہوگیا،اورشادی کےتیسرےدن پنڈت جی کےگھرپہنچا،پنڈت جی نےپہلےتواپنےجیوتش وگیان کامجھ پررعب جمایا،فلاں منتری کومیں نےاتنےدن پہلےبتادیاتھاوہ ہارگیا،فلاں جیت گیا،اس نےبتانےسےفیکٹری کھولی کروڑپتی بن گیا،پھرمجھ سےکہامجھےشیوجی کی طرف سےآدیش ہواہےکہ تمھارےپتاجی بڑےبھگت تھےاس لئےمیں تمھارےریسٹورنٹ پرکچھ دن تک آکرجاپ کروں اورآرتی اتاروں ،ورنہ آپ کےکاروباراورجان پرشنی کاسایہ پڑجائےگا،میں آپ سےاس کےلئےکوئی خرچ بھی نہ لوں گابس کوئی جگہ مجھےتنہائی میں جاپ کرنےکی چاہئے،میں نےبھائی سےمشورہ کیاتوانھوں نےاجازت دےدی ،مسجدکےصحن میں ایک جگہ ان کودےدی گئی ،جہاں انھوں نےآرتی کرتےکرتےمورتی رکھ لی ،وہ روڈپرجگہ تھی وہاں ان کی خوب دوکان جم گئی ،وہ مجھےاورمیرےبھائی کوسمجھاتےرہےاورہمیں تیارکرکےقرآن مجیدوہاں سےاٹھواکرمحراب میں مورتی رکھوادی ،وہ توکہہ رہےتھےکہ اس قرآن کوباندھ کرکسی کنویں میں ڈال دیں ،مگرہم نےپتاجی کی یادگارسمجھ کرگھرمیں لاکررکھ لیا،جس روزمورتی رکھی گئی ،ریسٹورنٹ میں گیس سلنڈرمیں آگ لگ گئی ،جس سےہم لوگ کسی طرح بچ گئے،تین دن کےبعدمیرےبڑےبھائی موٹرسائیکل سےگرےاوران کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ،ہم نےماں سےمشورہ کیا،ماں نےکہاوہ پنڈت جی تمھارےساتھ راکشش (شیطان )لگ گیا،سارےجیون سےمالک کےگھرکاسنسکارکرتےتھےچین سےجی رہےتھے،اب اس کےچکرمیں پڑکرتم دکھی ہوگئےہو،ہم دونوں بھائیوں نےپنڈت جی کووہاں سےچلتاکرنےکی سوچی ،مگرایک سال میں ان کابہت میدان بن گیاتھا،ایک دن ایسےہی میں نےپنڈت جی سےکہاآپ نےمالک کےمندرمیں شیوجی کی مورتی رکھ دی ہےاس سےاوپروالامالک بہت ناراض ہے،آپ سےہم سےبھی زیادہ ناراض ہےاگرآپ یہاں سےجگہ چھوڑکرنہ گئے،توایک ہفتہ میں آپ کی پتنی یابچےمرجائیں گے،مجھےپتاجی نےسپنےمیں بتایاہے۔
س:آپ کوایساسپنادکھائی دیاتھاکیا؟
ج:نہیں ،میں نےایسےہی ڈرانےکےلئےکہاتھا،کہ زبردستی اس سےکرنامشکل تھی ،سوچاتھاشایدڈرجائےاورہماراکام بن جائے۔
س:توپھرکیاہوا؟
ج:پنڈت جی کواپنےدھندےکےلئےایسی مین روڈکی جگہ کہاں ملتی ،وہ جگہ چھوڑنےکوتیارنہ ہوئے،مالک کاکرناایک رات پنڈت جی اپنی بیوی کےساتھ سوئے،بیوی پہلےاٹھتی تھی ،مگرصبح کوپنڈت جی اٹھےتوپتنی کوسوتےہوئےپایا،اٹھایاتومعلوم ہواکہ ہمیشہ کےلئےسوچکی ہے،پنڈت جی کاحال خراب ہوگیا،مجھےمعلوم ہواتومجھےدکھ بھی ہواکہ بیچارےکےساتھ حادثہ ہوا،مگرخوشی زیادہ ہوئی کہ میراتیراندھیرےمیں لگ گیا،تین دن کےبعدمیں نےبات ذرااورپکی کی ،کہ پنڈت جی میں نےایک سپنااوردیکھاہےکہ کل تک پنڈت جی یہ مورتی یہاں سےہٹاکرنہ جائیں گےتوان کےتینوں بچےمرجائیں گے،پنڈت جی ڈرےہوئےتھےانھوں نےوہ مورتی وہاں سےاٹھائی اوراپنابستربھی وہاں سےہٹالیا،میں نےقرآن شریف لاکروہیں رکھ دیا،جب سےہم نےمورتی وہاں رکھی تھی ہمارےریسٹورنٹ کوبھی جیسےکسی نےباندھ دیاہو،جیسےہی قرآن وہاں واپس رکھا،دوبارہ کاروباراچھی طرح چلنےلگا،ایک روزظفرنام کےایک ڈاڑھی والےصاحب میرےپاس آئےاوربولےمیں پہلےہندوتھااب مسلمان ہوگیاہوں ،میں یہاں فیکٹری میں کام کرتاہوں یہاں کئی مسلمان رہتےہیں، ان کونمازکی بہت پریشانی ہے،آپ مالک کےگھرکوصاف کرتےہیں، یہاں پرچراغ جلاتےہیں مالک کی پوجاکےلئےیہ مسجدکسی نےبنائی ہوگی ،آپ یہ مسجدمسلمانوں کےسپردکردو،اورہم تمھیں اس کےبدلہ میں پیسےبھی دےدیں گے،دوتین بعدوہ دولوگوں کولےکرآئے،اورڈھائی لاکھ ان سےلےکران کوسُپردکرنےکی بات ہوگئی ،مگران پیسوں کےآنےسےمیرےبیوپارکی برکت ہی اڑگئی ،اورریسٹورنٹ بالکل ٹھنڈاپڑاگیا،مسجدبہت موقع کی تھی نمازی بڑھتےگئے،جمعہ کےدن دورسڑک تک صفیں بن جاتیں ،ایک روزظفرصاحب ممبئی کےایک حاجی صاحب کولےکرمیرےپاس آئےاوربولےکہ آپ اس ریسٹورنٹ اورگھرکومسجدکوبڑھانےکےلئےدےدیں اورآپ روہتک میں کوئی جگہ لےکروہاں دوکان کرلیں ،آپ کاریسٹورنٹ یہاں چل بھی نہیں رہاہے،ہم نےماں سےمشورہ کیا،ماں نےکہاٹھیک ہےکرلو،ساڑھےسات لاکھ روپئےمیں بات طےہوگئی ،چارمہینوں کاوقت پیسوں کےلئےطےہوا،چارمہینوں میں پیسوں کاانتظام نہ ہوسکاتوظفرصاحب کوکسی نےمولانامحمدکلیم صاحب کاپتہ اورفون نمبردیا،وہ دہلی گئے،حضرت سےملے،حضرت نےمجھ سےفون پربات کی اوردومہینےاوربڑھانےکوکہا،میں نےدودن بعددومہینےوقت اوربڑھادیا،ظفرصاحب نےڈیڑھ مہینہ میں پیسےلاکرمجھےدےدئیے،میں نےایفی یوڈبناکردےدیا،اوراپناسامان اٹھالیا،اس کےبعداگلےجمعہ کوظفرصاحب نےحضرت کووہاں آکرجمعہ پڑھانےکوکہا،حضرت نےوقت دےدیا،ظفرصاحب نےکہابڑےمولاناصاحب ہمارےدھرم گروآرہےہیں آپ دونوں بھائی ان سےضرورمل کران سےدعااورآشیروادلےلیں ،جمعہ سےپہلی رات میں نےخواب دیکھاکہ دس بڑےسانپ ہیں ،وہ مسجدسےنکلےاورہمارےگھرکی طرف دوڑرہےہیں ،لوگ کہہ رہےہیں کہ یہ دسوں تمھارےگھروالوں اورتمھارےکاروبارکوکھالیں گے،میری آنکھ کھلی تومیں بہت ڈراہواتھا،ڈرکی وجہ سےمیں صبح دس بجےمسجدپہنچ گیا،میرےبڑےبھائی ساتھ تھے،حضرت ۱۲ ؍کےبعدآئے،ہم نےان کےساتھ ناشتہ کیااورحضرت سےمیں نےاپنےخواب کےبارےمیں بتایا،کہ ڈھائی لاکھ مسجدکےاورساڑھےسات لاکھ گھراورریسٹورنٹ کےہوئے،دس لاکھ روپئےاس مسجدکےمیں نےلئےہیں ،حضرت نےکہایہ مالک کاگھرہے،اورہم سب مالک کےبندےہیں ،فرمانبردارغلام اوربندےبن کرہمیں خودمسجدمیں پیسہ لگانااوراپنےاکیلےمالک کی عبادت کرنی چاہئے،آپ نےپیسےلےکریہ مسجدخالی کی ہےیہ آپ کےلئےحلال نہیں ،اورہمارےنبی ﷺنےبتایاہےکہ حرام مال کوگنجےسانپ کی شکل میں دوزخ میں لایاجائےگاتوحرام کھانےوالےکوڈسےگا،حضرت کےساتھ حاجی شکیل صاحب بھی تھے،حضرت نےمجھےاورمیرےبھائی کوالگ مولاناکےحجرہ میں بات کرنےکےلئےبھیج دیا،حاجی صاحب نےہمیں بہت محبت سےسمجھایااوراسلام کی دعوت دی ،زندگی کےحالات میں خودہم لوگ اندرسےاسلام کےقریب تھے،رات کےخواب کااثرتازہ تھا،ہم دونوں نےکلمہ پڑھ لیا،حضرت نےکلمہ پڑھوایا،حضرت نےمیرےبھائی کانام محمدشکیل اورمیرانام محمدشمیم رکھا،ہمیں وضوکرائی اورہم نےحضرت کےساتھ پہلی جمعہ کی نمازپڑھی نمازکےبعدہم نےحضرت سےوعدہ کیاکہ دس لاکھ روپئےہم دونوں بھائی جلدی یاتوروہتک کی دوکان بیچ کریاکسی طرح انتظام کرکےلوٹادیں گے،حضرت نےکہاٹھیک ہے،آپ نیت پکی رکھواللہ تعالی سہولت سےجب انتظام کرادیں لوٹادینا،اس سےاس مسجدکی دوبارہ بڑی عمارت بناناشروع کریں گے،بھائی ظفرستمبرمیں جماعت میں چلّے کوجارہےتھے،انھوں نےحضرت سےفون پربات کرائی ،حضرت نےہمیں مشورہ دیاکہ آپ دونوں بھائی جماعت میں چالیس روزضرورلگالیں ،پہلےایک بھائی چلےجائیں اس کےبعددوسرےبھائی چلےجائیں ،ماں سےمشورہ کیا،کون پہلےجائے،ماں نےکہادھرم کےکام میں دیرنہیں کرنی چاہئےتم دونوں ساتھ چلےجاؤ،ظفربھائی کےساتھ ہم نےپہلاچلہ ستمبر۲۰۱۱ ءمیں لگایا،واپس آکرہم نےپہلےماں کوآکرپوری جماعت کی کارگذاری سنائی ،وہ الحمدللہ بہت آسانی سےاسلام قبول کرنےکوتیارہوگئیں ،اس کےبعدہمارےبچےاورگھروالیاں بھی تھوڑی تھوڑی کوشش سےایمان میں آگئیں ۔
س:مسجدکےوہ دس لاکھ روپئےواپس ہوگئے؟
ج:اللہ نےنیت کی برکت سےبالکل آسانی سےکام کرادیاہم لوگوں نےایک نئی آبادی میں ایک پلاٹ ابھی کچھ روزپہلےدولاکھ روپئےکاخریداتھا،اچانک اس علاقہ کےپاس ایک ہائی وےروڈنکل گیا،مٹی ڈالتےہی زمین کےبھاؤدس گنےبڑھ گئے،یہ پلاٹ بیس لاکھ روپئےکابک گیا،ہم نےدس لاکھ روپئےظفربھائی کودئیے،دونوں بھائیوں کی طرف سےپچاس پچاس ہزارروپئےمزیدمسجدبنوانےکےلئےاپنی طرف سےدئیے،اورنولاکھ روپئےکی ایک دوکان روہتک میں خریدلی ،بیس فددوکان ہے۔الحمدللہ ریسٹورنٹ کےلئےبہت اچھی جگہ پرہے،بڑےبھائی اس میں بیٹھ رہےہیں ۔
س:آپ نےاپنےگھروالوں کےدین سیکھنےکاکچھ انتظام کیا؟
ج:ہمارےیہاں ایک قاری صاحب ہیں جوہانسوٹ گجرات میں پڑھےمیران سےہم سب گھروالےقرآن شریف اردواوردینیات پڑھ رہےہیں ۔
س:دعوت کےلئےکیاکررہےہیں آپ ؟
ج:الحمدللہ علاقہ کےجماعت کےکام میں جڑتےہیں ۔۱۲ء میں اور۱۳ء میں چلہ لگایا،اس سال چارمہینےبھی اللہ نےلگوادئیے،اورالحمدللہ نےوہ پنڈت جی جنھوں نےمسجدمیں مورتی رکھی تھی وہ بھی ایمان میں آگئےہیں ،کچھ لوگ توشوق سےمانتےہیں ،کچھ لوگوں کوخوف سےمانناپڑتاہے،پنڈت جی ایک کےبعدایک حادثہ سےڈرکراسلام میں آئےہیں ۔
س:ان کےبارےمیں بتائیے؟
ج:اب مجھےجاناہے،ہماری گاڑی کاوقت ہے،میں ان کولےکرآؤں گا،ان کی کہانی ان سےہی سنوادوں گا۔
س:ارمغان پڑھنےوالوں کوکچھ پیغام دیجئے؟
ج:دنیاکےکسی افسرمنتری کےگھریااس کی پارٹی کاکچھ کام کوئی کردے،تووہ اس کوضرورنوازتاہے،سارےحاکموں کےحاکم ،کن کےاشارےسےساری کائنات کوبنانےوالےکےگھرمسجدمیں اس کےدین کی ذراخدمت کرکےتودیکھےکیسےنوازتے ہیں میرےمالک! میرےپتاجی نےذراسی جھاڑواس کےگھرمیں لگائی ،اس کےکلام کاسنسکارکیا،ہمارےپورےخاندان کودین سےاجڑےدیارہریانہ میں اوراس کےبھی بھوانی کےویران ترین علاقہ میں کس طرح ہدایت سےنوازا،ہرایک اس کاتجربہ کرکےدیکھ لے۔
س:واقعی بہت کام کی بات آپ نےکہی ۔جزاکم اللہ ۔فی امان اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ 
ج:وعلیکم السلام دعاؤں میں ضروریادرکھیں ۔٭

     

ہفتہ، 17 دسمبر، 2016

"سربکف" میگزین 9- نومبر، دسمبر2016

Sarbakaf 9- Sarbakaf Magazine's Ninth Issue
 السلام علیکم۔
سر بکف کا نواں شمارہ حاضر ہے۔شمارہ مذکورہ سے سر بکف میں زمرہ 'رد فرق ضالہ' کے متعلق اداریہ ضرور دیکھیے۔ اب یہ شمارہ پڑھیں اور  رنگا رنگ تحاریر سے لطف اندوز ہوں۔ اپنی آراء سے ضرور نوازیں۔
آپ کا اپنا
شکیب احمد

بارے اس شمارے کے

سر بکف9(جلد ۲، شمارہ 6)
اسمِ مجلہ:سربکف
سنِ آغاز: ۲۰۱۵(جولائی)
حالیہ شمارہ: نومبر، دسمبر۲۰۱۶
مدتِ اشاعت: دو ماہی (Two Monthly)
زمرہ: اسلامی
مدیر: شکیب ؔاحمد

مجلسِ مشاورت

مفتی آرزومند سعد ﷾
مولانا ساجد خان نقشبندی﷾
عبد الرشید قاسمی  سدھارتھ نگری ﷾
مفتی محمد آصف﷾
عباس خان﷾
جاوید خان صافی﷾
جواد خان﷾
  سربکف کو کسی کو تحفتآ دیجیے ، یقینا وہ اس خوبصورت تحفہ سے خوش ہوگا، اور آپ کے لیے صدقہء جاریہ ہوگا۔
ڈاؤنلوڈ لنک: یہ کتاب اور دیگر کتابچے، سر بکف میگزین کے تمام شمارے اور مفید ٹولز اور سافٹ ویئرز ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے بلاگ کے ڈاؤنلوڈ صفحے پر جائیے۔
ویب : sarbakaf.blogspot.com
مزید پوسٹس سے باخبر رہنے کے لیے ہمارا فیس بک پیج وزٹ کریں:
facebook.com/SarbakafMagazine

فہرستِ مضامین

     

پیر، 10 اکتوبر، 2016

"سربکف" میگزین 8- ستمبر، اکتوبر2016

Sarbakaf 8 - Sarbakaf Magazine's Eighth Issue

السلام علیکم!
پیارے قارئین کرام۔ سر بکف کا آٹھواں شمارہ حاضر ہے۔ عاجز نے حالیہ شمارے میں کرننگ شامل کی ہے جس سے شمارہ اور زیادہ خوبصورت ہو گیا ہے۔ نیز مختلف رنگوں کے استعمال کو ہٹا کر صرف بلیک اینڈ وھائٹ کا استعمال کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ جو احباب پرنٹ کر کے استفادہ کرتے ہیں ان کے لیے آسانی ہو جائے۔ اس وجہ سے مجلہ کو جو پروفیشنل ٹچ ملا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ امید ہے آپ کو یہ کاوش پسند آئے گی۔
 اب یہ شمارہ پڑھیں اور  رنگا رنگ تحاریر سے لطف اندوز ہوں۔ اپنی آراء سے ضرور نوازیں۔
آپ کا اپنا
شکیب احمد

بارے اس شمارے کے

سر بکف8(جلد ۲، شمارہ 5)
اسمِ مجلہ:سربکف
سنِ آغاز: ۲۰۱۵(جولائی)
حالیہ شمارہ: ستمبر اکتوبر۲۰۱۶
مدتِ اشاعت: دو ماہی (Two Monthly)
اوسط تعداد: لا تعداد
زمرہ: اسلامی
مدیر: شکیب ؔاحمد

مجلسِ مشاورت

مفتی آرزومند سعد ﷾
مولانا ساجد خان نقشبندی﷾
عبد الرشید قاسمی  سدھارتھ نگری ﷾
مفتی محمد آصف﷾
عباس خان﷾
جاوید خان صافی﷾
جواد خان﷾
  سربکف کو کسی کو تحفتآ دیجیے ، یقینا وہ اس خوبصورت تحفہ سے خوش ہوگا، اور آپ کے لیے صدقہء جاریہ ہوگا۔
ڈاؤنلوڈ لنک: یہ کتاب اور دیگر کتابچے، سر بکف میگزین کے تمام شمارے اور مفید ٹولز اور سافٹ ویئرز ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے بلاگ کے ڈاؤنلوڈ صفحے پر جائیے۔
ویب : sarbakaf.com
مزید پوسٹس سے باخبر رہنے کے لیے ہمارا فیس بک پیج وزٹ کریں: facebook.com/SarbakafGroup

فہرستِ مضامین

     

اتوار، 7 اگست، 2016

"سربکف" میگزین 7- جولائی، اگست2016

Sarbakaf 7

سر بکف کا سال نمبر حاضر ہے۔ رنگا رنگ تحاریر سے لطف اندوز ہوں۔ اور اپنی آراء سے ضرور نوازیں۔

بارے اس شمارے کے

سر بکف۷(جلد ۲، شمارہ ۴)
تاریخ اشاعت: ۶ اگست، ۲۰۱۶
اسمِ مجلہ:سربکف
سنِ آغاز: ۲۰۱۵(جولائی)
حالیہ شمارہ: جولائی، اگست۲۰۱۶
مدتِ اشاعت: دو ماہی (Two Monthly)
اوسط تعداد: لا تعداد
میدانِ اشاعت: آن لائن(برقی مجلہ) E-publish, Online
زمرہ: اسلامی
مدیر: شکیب ؔاحمد

مجلسِ مشاورت

مفتی آرزومند سعد ﷾
مولانا ساجد خان نقشبندی﷾
عبد الرشید قاسمی  سدھارتھ نگری ﷾
مفتی محمد آصف﷾
عباس خان﷾
جاوید خان صافی﷾
جواد خان﷾
  سربکف کو کسی کو تحفتآ دیجیے ، یقینا وہ اس خوبصورت تحفہ سے خوش ہوگا، اور آپ کے لیے صدقہء جاریہ ہوگا۔

Brought to you by: Sarbakaf.blogspot.com
Published by: Sarbakaf Publications
Visit our FB page: Facebook.com/SarbakafMagazine

ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اگر لنک کام نہ کر رہی ہو تواوپر دائیں طرف موجود پیجز میں سے "ڈاؤنلوڈ" کے صفحے پر جائیں۔

فہرست

     

پیر، 6 جون، 2016

"سربکف" میگزین 6- مئی، جون 2016

 
Sarbakaf 6

السلام علیکم
رمضان المبارک
سر بکف ۶(جلد ۲، شمارہ ۳)
تاریخ اشاعت: ۶ جون، ۲۰۱۶
اسمِ مجلہ:سربکف
سنِ آغاز: ۲۰۱۵(جولائی)
حالیہ شمارہ: مئی، جون ۲۰۱۶
مدتِ اشاعت: دو ماہی (Two Monthly)
اوسط تعداد: لا تعداد
میدانِ اشاعت: آن لائن(برقی مجلہ) E-publish, Online
زمرہ: اسلامی
مدیر: شکیب ؔاحمد
مجلسِ مشاورتمفتی آرزومند سعد ﷾
مولانا ساجد خان نقشبندی﷾
عبد الرشید قاسمی سدھارتھ نگری ﷾
مفتی محمد آصف﷾
عباس خان﷾
جاوید خان صافی﷾
جواد خان﷾



ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اگر لنک کام نہ کر رہی ہو تواوپر دائیں طرف موجود پیجز میں سے "ڈاؤنلوڈ" کے صفحے پر جائیں۔

فہرست مضامین