منگل، 8 جنوری، 2019

یہ دنیا اہلِ دنیا کو بسی معلوم ہوتی ہے

خواجہ مجذوبؒ یہ دنیا اہلِ دنیا کو بسی معلوم ہوتی ہے نظر والوں کو یہ اجڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے یہ کس نے کردیا سب دوستوں سے مجھ کو بیگانہ مجھے اب دوستی بھی دشمنی معلوم ہوتی ہے طلب کرتے ہو دادِ حسن تم، پھر وہ بھی غیروں سے! مجھے تو سن کے بھی اک عار سی معلوم ہوتی ہے میں رونا اپنا روتا ہوں تو وہ ہنس ہنس کے...