// API callback
showrecentposts({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","feed":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$openSearch":"http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339"},"updated":{"$t":"2023-10-28T03:14:47.996-07:00"},"category":[{"term":"Sarbakaf 7"},{"term":"رد غیر مقلدیت"},{"term":"سربکف7"},{"term":"اظہار خیال"},{"term":"شعر و ادب"},{"term":"Sarbakaf 5"},{"term":"سربکف4"},{"term":"Sarbakaf 6"},{"term":"Sarbakaf 8"},{"term":"سربکف2"},{"term":"سربکف3"},{"term":"سربکف5"},{"term":"سربکف1"},{"term":"سربکف6"},{"term":"سربکف8"},{"term":"تصوف و سلوک"},{"term":"دعوت حق غیر مسلموں میں"},{"term":"Sarbakaf 9"},{"term":"خبرنامہ"},{"term":"رد بریلویت"},{"term":"Sarbakaf 4"},{"term":"رد قادیانیت"},{"term":"سربکف9"},{"term":"سربکف10"},{"term":"Sarbakaf Magazine"},{"term":"اداریہ"},{"term":"قرآنِ مقدس-تذکیر"},{"term":"Sarbakaf 10"},{"term":"حدیث شریف-تفہیم"},{"term":"رد رافضیت"},{"term":"Sarbakaf 1"},{"term":"Announcements"},{"term":"Sarbakaf 2"},{"term":"Sarbakaf 3"},{"term":"راہِ اعتدال"},{"term":"رد فتنہ انکار حدیث"}],"title":{"type":"text","$t":"سربکف مجلہ"},"subtitle":{"type":"html","$t":""},"link":[{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#feed","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/posts\/default"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/-\/%D8%B3%D8%B1%D8%A8%DA%A9%D9%8110?alt=json-in-script\u0026max-results=999\u0026orderby=published"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/search\/label\/%D8%B3%D8%B1%D8%A8%DA%A9%D9%8110"},{"rel":"hub","href":"http://pubsubhubbub.appspot.com/"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"generator":{"version":"7.00","uri":"http://www.blogger.com","$t":"Blogger"},"openSearch$totalResults":{"$t":"11"},"openSearch$startIndex":{"$t":"1"},"openSearch$itemsPerPage":{"$t":"999"},"entry":[{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-7620616612891597884"},"published":{"$t":"2021-10-28T23:29:00.004-07:00"},"updated":{"$t":"2021-10-29T02:23:06.597-07:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"دعوت حق غیر مسلموں میں"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"}],"title":{"type":"text","$t":"کیااللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتااورگمراہ کرتا ہے؟ - وقار اکبر چیمہ"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cp style=\"direction: ltr; text-align: left;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-family: times;\"\u003EDoes Allah leaves to stray and guides whoever He wills?\u003C\/span\u003E\u003C\/p\u003E\n\u003Cdiv class=\"postmeta\" style=\"margin-bottom: 10px; text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan class=\"author\"\u003E\nوقار اکبر چیمہ\n  \u003C\/span\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Ch2 dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eہدایت کا مطلب\u003C\/h2\u003E\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nہدایت کا مطلب ہوتا ہے رہنمائی، رہبری، راہ دکھانا، سیدھا راستہ، بتانا۔ قرآن مجید ہدایت کو تین درجات میں تقسیم کرتا ہے اور مخصوص قسم کی ہدایت کو مخصوص درجہ(Level) کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔\u003Cbr \/\u003E\nپہلے درجہ کی ہدایت عالمگیری ہے اور یہ ہر شے کے لیے ہے۔ ارشاد ربانی ہے:\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eقَالَ رَبُّـنَا الَّذِیۡۤ اَعْطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی\u003C\/div\u003E\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n  کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خلقت عطا کی ‘ پھر ہدایت دی۔(سورہ طہ 50)\u003Cbr \/\u003E\nاس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ہر شہ کو ایک مخصوص شکل بخشی اور پھر ان چیزوں کو ان کے کردار کے مطابق ہدایت بخشی گئی۔ ہدایت کی یہ قسم انسان، جِن، جانور، پودوں اور باقی سب تخلیقات کے لیے ہے۔\n\u003C\/div\u003E\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eدوسرے درجہ کی ہدایت انسانوں اور جنات کے لیے مخصوص ہے۔ اس قسم کی مدد سے لیے گئے کاموں کے وہ دونوں بروز قیامت جوابدہ ہوں گے۔ یہ ہدایت ہمیشہ سے موجود ہے اور جن و انس میں سے ہر کوئی آزاد ہے چاہے اسکو پہچان کر اس سے کام لے یا اس کو مسترد کر دے۔ ارشاد ربانی ہے:\u003C\/p\u003E\n  \u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nوَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا(7)فَاَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقْوٰىہَا(8) قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا(9) وَ قَدْ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا(10)\n\u003C\/div\u003E\n    \u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eقسم ہے نفس کی اور اسے درست کرنے کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نفس کو برائی سے بچنے اور پرہیز گاری اختیار کرنے کی سمجھ عطا فرمائی۔ پھر اس پر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری واضح کر دی۔ بے شک وہ کامیاب ہو گیا جس نے نفس کو پاکیزہ بنا لیا۔ اور نا مراد ہوا وہ جس نے اس کو آلودہ کیا۔(سورہ الشمس7-10)\u003C\/p\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eتیسری قسم کی ہدایت جن و انس میں سے ان کے لیے ہے جنہوں نے سچائی کے پیغام کو بغور سنا۔ یہ ہدایت انھیں سچائی کو پہچاننے میں مزید مدد کرتی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے :\u003C\/p\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nوالذین اھتدوا زادھم ھدی واتاھم تقوھم\n\u003C\/div\u003E\n  \u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eوہ لوگ جنھوں نے ہدایت قبول کی اس نے انھیں ہدایت میں بڑھا دیا اور انھیں ان کا تقویٰ عطا کر دیا (سورہ محمد:17)\u003C\/p\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eتو جب اللہ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت نہیں بخشتا تو اس سے مراد صرف یہ تیسری قسم کی ہدایت ہوتی ہے اور یہ اللہ صرف اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ لوگ ان شرائط پر عمل پیرا نہیں ہوتے یا اس کی خواہش نہیں رکھتے جو اس ہدایت کو پا لینے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔\u003C\/p\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\u003C\/p\u003E\u003Ch2 style=\"text-align: right;\"\u003E\u003Cstrong\u003Eجس کو اللہ چاہتا ہے اس کو اللہ ہدایت دیتا ہے کا مطلب\u003C\/strong\u003E\u003C\/h2\u003E\nایک چیز کو سمجھ لیا جائے کہ کوئی بھی قرآنی آیت قرآن کی باقی آیات اور احادیث کی روشنی میں ہی سمجھی جا سکتی ہے ۔ قرآن مجید میں کچھ آیات ہیں جن میں خدا کا فرمان ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو ہدایت بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ چھوڑ دیتا ہے، مثلاً\u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\n  \u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n…فَیُضِلُّ اللہُ مَنۡ یَّشَآءُ وَیَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَہُوَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ\n\u003C\/div\u003E\n \u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eپھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔(سورہ ابراہیم:4)\u003C\/p\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\u003C\/p\u003E\u003Ch2 style=\"text-align: right;\"\u003E\u003Cstrong\u003Eبندے کے پاس اختیار ہے\u003C\/strong\u003E\u003C\/h2\u003E\nقرآن مجید کی دوسری مختلف آیات اس بات کی تشریح کرتی ہیں کہ اللہ نے حق اور باطل میں ایک تفریق کر دی ہے اور حق و باطل کو بالکل نمایاں اور واضح کر دیا ہے۔ اب یہ بندے کی اپنی خواہش ہے وہ حق کو پسند کرتا ہے یا اس کو چھوڑ دیتا ہے ۔ جیسے پہلے بھی بیان ہوا:\u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nوَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا*فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا*\u003Cem\u003Eقَدْ أَفْلَحَ\u003C\/em\u003E مَنْ \u003Cem\u003Eزَكَّاهَا\u003C\/em\u003E*وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا(10)”\n\u003C\/div\u003E\n  \u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eقسم ہے نفس کی اور اسے درست کرنے کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نفس کو برائی سے بچنے اور پرہیز گاری اختیار کرنے کی سمجھ عطا فرمائی۔ پھر اس پر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری واضح کر دی۔ بے شک وہ کامیاب ہو گیا جس نے نفس کو پاکیزہ بنا لیا۔ اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو آلودہ کیا(الشمس7-10)\n    \u003C\/p\u003E\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n    وَقُلِ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمْ ۟ فَمَنۡ شَآءَ فَلْیُؤْمِنۡ وَّ مَنۡ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیۡنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِہِمْ سُرَادِقُہَا …(29)\n\u003C\/div\u003E\n   \u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E اور ان سے کہہ دو کہ حق تمہارے رب ہی کی طرف سے(آ چکا) ہے، سو جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کرے ہم نے یقیناً تیار کر رکھی ہے ظالموں کے لئے ایک ایسی ہولناک آگ، جس کی لپیٹوں نے ان کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔(الکھف18)\u003C\/p\u003E\n\u003Ch2 dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\u003Cstrong\u003Eوہ جنہیں اللہ ہدایت دیتا ہے\u003C\/strong\u003E\u003C\/h2\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cem\u003Eیھدی الیہ من اناب\u003C\/em\u003E\n\u003C\/div\u003E\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n(27)اور وہ جو اس کی طرف رجوع کریں انھیں(اللہ) ہدایت دہ دیتا ہے(الرعد:27)۔\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\u003Cem\u003Eوَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا\u003C\/em\u003E لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللهَ لَمَعَ المُحْسِنِينَ\n\u003C\/div\u003E\n \u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انھیں اپنے راستے دکھا دیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے(العنکبوت:69)\u003Cbr \/\u003E\n   \u003C\/p\u003E\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cem\u003Eاللَّهُ يَجْتَبي\u003C\/em\u003E إِلَيْهِ مَنْ يَشاءُ وَ يَهْدي إِلَيْهِ مَنْ يُنيبُ \n\u003C\/div\u003E\n   \u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eللہ جسے چاہتا ہے اپنے لئے چن لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے(ہدایت دے دیتا ہے)(الشورٰی:13)\u003C\/p\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\u003C\/p\u003E\u003Ch2 style=\"text-align: right;\"\u003E\u003Cstrong\u003Eوہ جنہیں خدا گمراہ کرتا ہے\u003C\/strong\u003E\u003C\/h2\u003E\nاسی طرح اللہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ کس کو گمراہ چھوڑتا ہے۔\u003Cbr \/\u003E\n  \u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nوَمَا یُضِلُّ بِہٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیۡنَ\n\u003C\/div\u003E\n  \u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eاور اس(سیدھے راستے سے اللہ) گمراہ نہیں کرتا سوائے نافرمانوں کے(البقرہ 26)\u003Cbr \/\u003E\nوَ یُضِلُّ اللہُ الظّٰلِمِیۡنَ ۟ۙ وَ یَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَآءُ(27)اور اللہ نافرمانوں (ظالموں)پر راہ گم کر دیتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے(ابراہیم:27)\u003C\/p\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\u003C\/p\u003E\u003Ch2 style=\"text-align: right;\"\u003E\u003Cstrong\u003Eاللہ گمراہ کیسے کرتا ہے؟\u003C\/strong\u003E\u003C\/h2\u003E\nاب سوال پیدا ہوتا ہے اللہ گمراہ کیسے کرتا ہے؟ اس کا جواب اللہ بہت کھول کر اور واضح طور پر بتاتا ہے:\u003Cbr \/\u003E\n  \u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nوَمَنۡ یُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الْمُؤْمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَسَآءَتْ مَصِیۡرًا(115)\u003C\/div\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nاور جو شخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے سوا اور(کسی دوسرے) راستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور قیامت کے دن جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے(النساء:115)\u003Cbr \/\u003E\nاللہ نے اپنے نشانوں سے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے وہ لوگ جو حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد حق کی طرف رجوع کریں گے ان کو اللہ ہدایت دے گا(تیسری قسم کی ہدایت) اور جو حق کے ظاہر ہو جانے کے باوجود باطل اور برائی کی طرف رجوع کریں گے اللہ ان کو ان کے پسندیدہ راستے کی طرف چھوڑ دیتا ہے(جو گمراہی کے راستے ہیں) تو ایسے لوگوں کو اللہ سزا دینے میں بھی حق بجانب ہے کیونکہ انہوں نے حق کے ان پر ظاہر ہو جانے کے بعد اس کو تسلیم نہ کیا۔\u003C\/p\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\u003C\/p\u003E\u003Ch2 style=\"text-align: right;\"\u003E\u003Cstrong\u003Eاللہ گمراہ کرتا ہے والی آیت کا مطلب(یُّغْوِیَکُمْ)\u0026nbsp;\u003C\/strong\u003E\u003C\/h2\u003E\nعیسائی مشنری اور ملحدین بعض اوقات سورہ ھود کو آیت نمبر 34 بھی پیش کرتے ہیں۔ یہ امت نوح علیہ السلام کے لوگوں کے متعلق ہے۔نوح ؑ اپنی قوم سے کہتے ہیں :\u003Cbr \/\u003E\n  \u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nوَلَا یَنۡفَعُکُمْ نُصْحِیۡۤ اِنْ اَرَدۡتُّ اَنْ اَنۡصَحَ لَکُمْ اِنۡ کَانَ اللہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یُّغْوِیَکُمْ ؕ ہُوَ رَبُّکُمْ ۟ وَ اِلَیۡہِ تُرْجَعُوۡنَ\n\u003C\/div\u003E\n    \u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003Eاور تمہیں میری نصیحت نفع نہ دے گی اگر میں تمہارا بھلا چاہوں جبکہ اللہ تمہاری گمراہی چاہے، وہ تمہارا رب ہے، اور اسی کی طرف پھرو گے(ھود34)\u003Cbr \/\u003E\nیہاں اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ نوح علیہ السلام یہ بات اس وقت کہہ رہے ہیں جب ان کی قوم ساری حدیں پار کر چکی تھی بلکہ اس عذاب کا مطالبہ کر رہی تھی جس سے ان کو پہلے ہی ڈرایا جا چکا تھا تو یہاں اللہ اپنا طریقہ اختیار کرتا ہے اور ایسے ظالموں کو ان کے ہی پسندیدہ راستوں پر مقرر کر دیتا ہے جو انہوں نے حق کو چھوڑ کر پسند کیے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا۔ اور عین ممکن ہے یہ بات اس وقت کہی جا رہی ہے جب قوم نوح سزا دیے جانے کے قریب تھی کیونکہ یہی لفظ سزا اور تباہی کے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہم پڑھتے ہیں \n      \u003C\/p\u003E\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n      فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا\n\u003C\/div\u003E\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E      پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو برباد کیا، اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلے سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی۔(مریم59)\u003Cbr \/\u003E\n  کچھ لوگ الاعراف16 اور الحجر39 کو بھی اس سلسلہ میں پیش کرتے ہیں\u003C\/p\u003E\n  \u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nقَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیۡتَنِیۡ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرٰطَکَ الْمُسْتَقِیۡمَ\n\u003C\/div\u003E\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n  (شیطان نے )کہا جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں بھی ضرور ان کی تاک میں تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا(الاعراف 16)۔\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nقَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیۡتَنِیۡ لَاُزَیِّنَنَّ لَہُمْ فِی الۡاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیۡنَ\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nاس(شیطان) نے کہا کہ پروردگار جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں ان بندوں کے لئے زمین میں ساز و سامان آراستہ کروں گا اور سب کو اکٹھا گمراہ کروں گا۔(الحجر39)\u003Cbr \/\u003E\nمگر ہر عاقل شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ الفاظ شیطان کے ہیں جو اپنے شیطانی عزائم کا اظہار کر رہا ہے ان آیات کو اپنے معنوں میں صرف شیطانی روحیں ہی استعمال کرنے کی کوشش کر سکتیں ہیں!\u003C\/p\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\u003C\/p\u003E\u003Ch2 style=\"text-align: right;\"\u003E\u003Cstrong\u003Eدلوں پر مہر کرنے کا مطلب\u003C\/strong\u003E\u003C\/h2\u003E\nکچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب اللہ خود کہتا ہے کہ وہ خود کافروں کے دلوں پر مہر لگادیتا ہے تو ان کافروں کو ان کے اعمال کا ذمہ دار کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے؟\u003Cbr \/\u003E\nیہ کہنے کی اصلی وجہ پورے معاملے کو نہ سمجھنا ہے۔ اللہ صرف ان کافروں کے دل مہر کرتا ہے جو انتہائی ضد و کینہ کے ساتھ حق کے پیغام کو مسترد کر دیتے ہیں اور ان کے جو ہدایت کی دوسری قسم (جو کہ ہر ایک کے لیے ہے اور جسے پانے کے لیے صرف اپنی خواہش درکار ہوتی ہے) کو مسترد کر دیتے ہیں۔ ہم قرآن میں جب دیکھتے کہ اللہ کسی کہ دلوں کو مہر کرنے کا کہتا ہے تو اس سے مراد صرف وہ کافر ہوتے ہیں جو انتہائی بیہودگی سے حق کو مسترد کیے دیتے ہیں اور بجانب حق کوئی رجوع، خواہش نہیں رکھتے۔ البقرہ آیت نمبر 7، النساء آیت نمبر 168 اور سورہ نحل آیت نمبر 106 و 109 اس کی واضح مثالیں ہیں۔\u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\n\u003Cp dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\u003C\/p\u003E\u003Ch2 style=\"text-align: right;\"\u003E\u003Cstrong\u003Eخلاصہ\u003C\/strong\u003E\u003C\/h2\u003E\nاس ساری بحث کا خلاصہ یہ کہ اللہ تعالی اپنی نشانیوں سے سب کو ہدایت دکھاتا ہے۔ وہ اپنے پیغمبر بھیجتا ہے جو خدا کا پیغام لے کر آتے ہیں اور وہ اس کے ذریعہ سے حق اور باطل کو بالکل واضح کر وا دیتا ہے۔ اس کے بعد جو شخص حق کو پہچاننے کی خواہش رکھتا ہے( ظاہر کرتا\/ کوشش کرتا ہے) تو اللہ اس پر ہدایت کھول دیتا ہے۔ اور جو اس کے برخلاف بالکل گمراہ کیے جاتے ہیں وہ وہ لوگ ہیں جو باطل کی طرف رجوع کرتے ہوے حق کو چھوڑ دیتے ہیں اور جو اس گمراہی پر بضد ہو جاتے ہیں اللہ ان کے دلوں کو مہر کر دیتا ہے۔\u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003E\u003C\/p\u003E"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/7620616612891597884\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2021\/10\/Does-Allah-leaves-to-stray-and-guides-whoever-He-wills.html#comment-form","title":"0 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/7620616612891597884"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/7620616612891597884"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2021\/10\/Does-Allah-leaves-to-stray-and-guides-whoever-He-wills.html","title":"کیااللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتااورگمراہ کرتا ہے؟ - وقار اکبر چیمہ"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}},{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-2105149292301008813"},"published":{"$t":"2021-10-28T22:59:00.006-07:00"},"updated":{"$t":"2021-10-28T23:15:56.407-07:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"دعوت حق غیر مسلموں میں"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"}],"title":{"type":"text","$t":"خدا اور بھاری پتھر - راحیل فاروق"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cp style=\"text-align: left;direction:ltr;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-family: times;\"\u003EGod and the heavy rock | Omnipotence paradox \u003C\/span\u003E\u003C\/p\u003E\n\u003Cdiv class=\"postmeta\" style=\"text-align: justify; margin-bottom:10px;\"\u003E\n\u003Cspan class=\"author\"\u003E\nراحیلؔ فاروق\u003C\/span\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cp\u003E\u0026nbsp;میں نے ایک گزشتہ مضمون میں اس طرف اشارہ کیا تھا کہ حقیقت کی جستجو میں جوابات ہی سے نہیں بلکہ خود سوالات سے بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مذہبی معاملات میں جس رویے کو ادب سے تعبیر کیا جاتا ہے اس کی بنیاد میں شاید یہی ادراک کارفرما ہے کہ جوابات کی طرح کچھ سوالات بھی بالکل غلط ہو سکتے ہیں۔ رومیؒ فرماتے ہیں:\u003C\/p\u003E\n\u003Ctable class='sher'\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd\u003Eبےادب تنہا نہ خود را داشت بد\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd\u003Eبلکہ آتش در ہمہ آفاق زد\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/table\u003E\n\u003Cp\u003Eیعنی بےادب نے محض اپنی جان ہی کو نقصان نہ پہنچایا بلکہ گویا تمام عالم میں آگ لگا دی۔ ظاہر ہے کہ یہ بےادبی کوئی ذاتی اور محدود چیز نہیں ہو سکتی بلکہ کسی ایسے عمومی رویے یا دعویٰ پر مشتمل ہونی چاہیے جو نہ صرف غلط بلکہ گمراہ کن بھی ہو۔ گو جاہ پرست اور دین فروش اکابرینِ مذہب اس کو بھی اپنے نفس کی تسکین کے لیے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے ہیں تاہم ادب اپنی حقیقت میں غالباً محض اس خبرداری، احتیاط اور عجز کا نام ہے کہ بشر ہونے کے ناتے خود آپ کا سوال بھی کسی اور کے جواب کی طرح غلط ہو سکتا ہے۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eاب ذرا مدعا کی طرف آ جائیے۔ پرانے وقتوں سے ایک بحث دہریوں اور ایمان والوں کے درمیان چلی آتی ہے جو ذاتِ باری تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ سے متعلق ہے۔ اغلب ہے کہ یہ سوال آپ کی نظروں سے بھی کبھی نہ کبھی گزرا ہو گا۔ اگر نہیں تو اب ملاحظہ فرما لیجیے۔ دہریے اور متشککین عموماً اسے اس صورت میں پیش کرتے ہیں کہ کیا خدا ایک ایسا بھاری پتھر تخلیق کر سکتا ہے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eپیچیدگی یہ ہے کہ یہ سوال خطرناک حد تک سادہ بھی ہے اور فتنہ انگیز بھی۔ یعنی غور کیجیے۔ اگر خدا قادرِ مطلق ہے تو یقیناً اس میں اتنی قوت ہونی چاہیے کہ وہ ایسا بڑا پتھر تخلیق فرما دے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکتا ہو۔ لیکن پھر اگر خدا اپنا بنایا ہوا پتھر ہی نہ اٹھا سکے تو اس کی خدائی طاقت کے اس سے زیادہ منافی کچھ نہیں ہو سکتا۔ اور اگر وہ ایسا پتھر بنا ہی نہیں سکتا تو یہ بھی ایک طرح سے اس کی قدرت کا نقص ہے۔ یعنی خدا میں ہر کام کرنے کی طاقت تو نہ ہوئی نہ پھر۔ آگے کنواں پیچھے کھائی!\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eیہاں ایک لمحہ ٹھہر کر یہ سمجھ لیجیے کہ اگر آپ یہ سوال کرتے ہیں تو یہ ہرگز ہرگز کوئی بےادبی نہیں ہے۔ ملا کی ذاتِ پاک کو اس سے کوئی ٹھیس پہنچے تو پہنچے، خدا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور ملا کی انانیت کا لحاظ کرنے کی آپ کو کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہاں، بےادبی یہ تب ہے کہ آپ اس سوال کی نسبت بالکل پریقین ہو جائیں کہ یہ ٹھیک ہے، اس کی بنیاد پرخود خدا بن کر فیصلے جاری کرنا شروع کریں اور تمام عالم میں وہ آگ لگا دیں جو ابھی تک محض آپ کے اندر لگی ہوئی ہے۔ کیونکہ اس سوال میں ایک بنیادی نقص موجود ہے۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eجی ہاں، اس سوال کے اندر ایک سوال موجود ہے جس کا فیصلہ کیے بغیر آپ اس کا جواب معلوم کرنا چاہ رہے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ مثلاً کچھ چیزوں کی خریداری پر آنے والے اخراجات کا حساب کر رہے ہوں اور ان میں سے ایک چیز کی قیمت آپ کو سرے سے معلوم ہی نہ ہو۔ فرض کیجیے کہ وہ چیز بھی ایسی ہو جس کی قیمت کا آپ تصور بھی نہ کر سکتے ہوں۔ اب آپ جتنا زور مار لیں یہ امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ آپ کل اخراجات کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کر سکیں گے۔ ہے نا؟\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eیہی معاملہ اس سوال کے ساتھ ہے۔ کرنے والے نے اس میں ایک جھول ایسا چھوڑا ہے کہ جب تک اس سے نہ نمٹا جائے حل نکالنے کی کوشش ہی بےسود ہے۔ اور جب اس سے دو دو ہاتھ کر لیے جائیں تو سوال کا پھن بھی خودبخود گر جاتا ہے۔ مغالطہ اسی کو کہتے ہیں۔ اور میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مغالطے (Fallacy) اور قولِ محال (Paradox) کا فرق مذہب فلسفے سے بہتر جانتا ہے۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eتو جھول یہ ہے کہ سوال کرنے والے نے قدرتِ کاملہ کو فرض تو کر لیا مگر یہ بات معلق رہنے دی کہ قدرتِ کاملہ کسے کہتے ہیں۔ اس سے بڑی گڑبڑ پیدا ہوئی۔ تاثر یہ قائم ہوا کہ قدرتِ کاملہ شاید اتنا بڑا پتھر بنا لینے کا نام ہے جو قادرِ مطلق خود بھی نہ اٹھا سکے۔ بلکہ نہیں۔ شاید اتنا بڑا پتھر نہ بنا سکنے کا نام ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں ممکنہ جوابات کو خود اس سوال نے قائم کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ دونوں کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔ گویا یہ سوال درحقیقت کوئی سوال نہیں ہے بلکہ ایک اسی قسم کی پھلجڑی ہے جیسے میں، گستاخی معاف، آپ سے پوچھوں کہ آپ بندر ہیں یا گدھے۔ ظاہر ہے کہ آپ دونوں نہیں ہیں لیکن اگر آپ کو انھی دونوں جوابات میں سے کوئی منتخب کرنے پر مجبور کر دیا جائے تو؟\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eیہی کھیل اس سوال میں کھیلا گیا ہے۔ بڑی چابکدستی اور ہوشیاری سے سوال کرنے والا آپ کو قدرتِ کاملہ کی نوعیت آزادانہ طور پر سمجھنے کی اجازت دینے کی بجائے خود دو راہیں دکھا کر ان میں سے کوئی ایک اختیار کرنے کا پابند کر دیتا ہے۔ بھاری پتھر بنانا یا نہ بنانا؟ بندر یا گدھا؟ اب آپ ان میں سے جو بھی راہ چلیں گے خفت ہی اٹھائیں گے نا۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eرہ گیا یہ سوال کہ قدرتِ کاملہ کیا ہے تو اس کا جواب ہر عاقل شخص کے فہم کی بنیاد میں موجود ہے۔ قدرتِ کاملہ کا جوہر یہی ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہو۔ یعنی ہم انسان جس چیز کا تصور بھی نہ کر سکیں وہ وہ بھی کر سکے۔ اجتماعِ ضدین یعنی دو متضاد چیزوں کا ایک جگہ جمع ہو جانا تو بہت چھوٹی چیز ہے۔ اگر آپ خود منطق کا سہارا لے کر بھی قدرتِ کاملہ کی تعریف کریں تو وہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ اسے منطق کا پابند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اور زیرِ بحث نقیضین یعنی اتنا بڑا پتھر بنا سکنا یا نہ بنا سکنا محض منطقی لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ قادرِ مطلق تو خود منطقی اعتبار سے بھی ہونا ہی وہی چاہیے جس کے لیے ان دونوں کو اکٹھا کرنا \u003Csup\u003E۱\u003C\/sup\u003E چنداں دشوار نہ ہو۔ ورنہ قادرِ مطلق کہاں کا؟ کیا خیال ہے؟\u003Csup\u003E۲\u003C\/sup\u003E\u003C\/p\u003E\n\u003Chr\u003E\n\u003Csup\u003E۱\u003C\/sup\u003E اجتماعِ نقیضین محال ہونے کا ضابطہ اہلِ علم کی مجالس میں اکثر زیر بحث آتا ہے، البتہ علماء کا موقف بھی اس سلسلے میں یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کو ضابطوں کا پابند ماننا  درست نہیں۔ نیز وہ اجتماعِ نقیضین پر بھی قادر ہے۔ یہ جواب کافی اور تسلی بخش ہے۔ (مدیر) \n\u003Cbr\u003E\n\u003Csup\u003E۲\u003C\/sup\u003Eبشکریہ اردو گاہ، 14 اکتوبر 2018"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/2105149292301008813\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2021\/10\/God-and-the-heavy-rock-omnipotence-paradox.html#comment-form","title":"0 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/2105149292301008813"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/2105149292301008813"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2021\/10\/God-and-the-heavy-rock-omnipotence-paradox.html","title":"خدا اور بھاری پتھر - راحیل فاروق"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}},{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-7635282772178590775"},"published":{"$t":"2021-10-28T22:36:00.003-07:00"},"updated":{"$t":"2021-10-28T22:40:45.749-07:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"دعوت حق غیر مسلموں میں"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"}],"title":{"type":"text","$t":"کیامسلمان ملحدین سےاپنی نبیؐ کےاحترام کامطالبہ کرتےہیں؟ - ذیشان وڑائچ"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cp style=\"text-align: left;direction:ltr;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-family: times;\"\u003EDo Muslims force atheists to respect their prophet?\u003C\/span\u003E\u003C\/p\u003E\n\u003Cdiv class=\"postmeta\" style=\"text-align: justify; margin-bottom:10px;\"\u003E\n\u003Cspan class=\"author\"\u003E\nذیشان وڑائچ\u003C\/span\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cp\u003E\u0026nbsp;توہین رسالت کے ضمن میں کچھ ملحدوں اور غیر مسلموں کا سٹیٹس نظر آیا جن کا خلاصہ یہ تھا کہ عزت زبردستی نہیں کروائی جاسکتی اور یہ کہ ان سے نبیؐ کے عزت کروانے کی کوشش عبث ہے۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eیہ پیغام خود ایک عبث پیغام ہے۔ ہم مسلمان ملحدوں اور غیر مسلموں سے قطعاً یہ مطالبہ نہیں کر رہے ہیں کہ وہ نبی اکرمؐ کی عزت کریں۔ اگر وہ عزت کریں تو یہ یقینا ان کی خود قسمتی ہوتی، لیکن ہمارا مطالبہ یہ ہے ہی نہیں۔ ہم اتنی سمجھ ضرور رکھتے ہیں کہ جو محمدؐ کے بارے میں یہ گمان رکھتا ہو انہوں نے اللہ سے منسوب کر کے جھوٹا پیغام دیا وہ ان کی عزت نہیں کرسکتا۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eچونکہ بحث کا تناظر توہین رسالت ہے اس لئے اس پیغام سے جو چیز واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ملحدوں اور ان گستاخ پرستوں کے نزدیک دو میں سے کسی ایک چیز کا ہی اختیار ہے۔ یا تو نبیؐ کی عزت و احترام کریں جیسا کہ عام طور پر مسلمان کرتے ہیں یا ان کے اندر سے کوئی شدید قسم کا دماغی داعیہ پیدا ہوتا ہے جس کے تتیجے میں یہ نبیؐ پر ققرے یا بھپتی کستے ہیں یا طعنے دیتے ہیں۔ حالانکہ جس کی دماغی کیفیت صحیح ہوتی ہے اس کے لئے ایک بہت ہی سادہ سا آپشن یہ بھی ہوتا ہے کہ خاموش رہے، یا پھر منطقی اور مہذب انداز میں اپنا نکتہ نظر پیش کرے۔ ہجو گوئی اور وہ بھی اس ذات کے بارے میں جن کا احترام دیڑھ ارب انسان کرتے ہیں ذہنی پستی کے علاوہ اور کس چیز کی علامت ہے؟\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eجو لوگ نبیؐ کو نبی نہیں مانتے منطقی اور علمی اعتبار سے ہمارا ان سے یہ مطالبہ ہے کہ۔۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eنبی یا اسلام کے کسی بھی شعائر سے متعلق بات کرتے ہوئے منطقی انداز میں توجیہات کے ساتھ بات کریں۔ توجیہات بتانے سے پہلے آپ پہلے ہی سے اپنا نتیجہ اخذ کرکے گالی سے بات کریں گے تو پھر یہاں پر آپ کی عقل شروع ہونے سے پہلے منطقی بحث کا امکان ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے پاس محمدؐ کی مخالفت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس گراؤنڈ موجود ہے تو پھر آپ کو اپنا نتیجہ بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپ کی توجیہات خود نتیجہ بیان کردے گی۔ ہاں اگر آپ خود اپنی توجیہات کے بارے میں متشکک ہیں تو پھر آپ کو اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لئے طعنے بازی، نیم کالنگ(Name calling)، بھپتیاں، فقرے بازی، ہجو گوئی جیسی گھٹیا اور غیر علمی حرکات کا اضافہ کرنا پڑے گا۔ ایسا کر کے آپ صرف اپنا مقدمہ کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔ اور اگر نبیؐ کے بارے میں ہی اپنی اس ذپنی پستی کا اظہار کرنے پر آپ کا اصرار ہے تو پھر آپ خود اپنے آپ کو انسانیت کے مقام سے نیچے گرا دیتے ہیں۔ جب آپ عقل کے بجائے اپنی ذہنی پستی یا گھٹیا پن کا اظہار کرنے پر ہی مصر ہیں تو پھر انسانی بنیاد پر مسلمان اجتماعیت سے اپنے کسی حق کا مطالبہ کرنے پر اصرار نری حماقت ہے۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eجب آپ بحث میں کسی مذہبی علامت یا شخصیت کے بارے میں توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں تو دراصل یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اس خاص معاملے میں آپ عقل اور Reasoning نام کی چیز سے کوسوں دور ہیں۔ آپ کے دماغ نے عقل کوreasoning کے لئے نہیں بلکہ بدزبانی اور مغلظات کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے انسان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے جذبات نام کی کسی چیز کو بھی کوئی قدر نہیں دیتے۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eبحث کے دوران گالی اور توہین آمیز انداز اختیار کرنا اپنی حقیقت کے اعتبار سے بحث کو عقل کے دائرے سے نکال سفلی جذبات، طعنے مارنا، شناعت بازی، کمینگی اور ذہنی پستی کے مقابلے میں میدان میں لے آتا ہے۔ جب آپ یہ رویہ اختیار کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ انسانی رفعت کو چھوڑ کر شعوری پستی میں مبتلا ہیں۔ یہاں پراگر ہم یا کوئی مسلمان آپ سے مقابلہ کرتا ہے تو پھر ہمیں اسی میدان کا کھلاڑی ہونا چاہئے۔ آپ کو سمجھنا چاہئے کہ یہ ہمارا میدان نہیں بلکہ شیاطین کا میدان ہے۔ یہاں پر ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم دلیل کا مقابلہ دلیل سے کرسکتے ہیں اور تلوار کا مقابلہ تلوار سے۔ لیکن اس ذہنی پستی اور کمینگی کا مقابلہ کرنے کے معاملے میں ہم تہی دامن ہیں اس لئے مشتعل ہوجانا ایک فطری مجبوری ہے۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eدوسری طرف انسانی شعور کی رفعت کا ایک اور مظہر عقل کے ساتھ ساتھ تعلقات، رشتوں کا احترام اورمحبت کے مراکز ہیں ۔ انسان اپنی معاشرت میں چاہے وہ قومیت ہو، مذہب ہو، خاندان ہو، اپنے کچھ تعلقات اور محبت کے مراکز رکھتا ہے اور اس کے بارے میں حساس ہوتا ہے۔ ایک فرد اپنے محبت کے مراکز کے بارے میں کوئی غلط بات یا گالی سننے کا روادار نہیں ہوتا۔ کسی کے مرکز محبت کی توہین کرنا یا اس کو گالی دینا اس فرد کے لئے ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eاگر آپ کو لگتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے لئے محبت کے غلط مراکز قائم کر لئے ہیں اور نبیؐ کے بارے میں ان کا یہ رویہ غیر عقلی ہے تو ایسے میں ایک عقل مند فرد کا طرز عمل یہ ہونا چاہئے کہ وہ توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کے بجائے اپنے مؤقف میں عقلی دلائل فراہم کرے اور واضح کرے کہ ہم نے اپنے لئے ایک غلط محبت کا مرکز چن لیا ہے۔ چونکہ یہ چیزیں انسانی شعور، نفسیات اور رویوں سے متعلق ہوتی ہیں اس لئے پوری طرح منطقی دائرے میں نہیں آتی۔ اس لئے یہاں اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے صحیح ہونے کے باوجود مسلمان آپ کی بات نہیں مان رہے ہیں تو اس بات کا پورا امکان موجود ہوتا ہے کہ آپ خود غلط ہوں۔ اگر آپ اس کو مسلمانوں کا نفسیاتی مسئلہ سمجھ رہے ہیں تو پھر اس بات کا پورا امکان موجود ہے کہ یہ خود آپ کا نفسیاتی مسئلہ ہو۔ اس لئے بدزبانی اور مغلظات کسی بھی صورت میں اس کا حل نہیں ہیں۔\u003C\/p\u003E\u003Cp\u003Eمسلمان نبیؐ سے بے انتہا محبت اور احترام کا تعلق رکھتے ہیں۔ اگر آپ مسلمانوں کے نبیؐ کے معاملے میں منطقی انداز اور باہمی انسانی مفاہمت کا معاملہ نہیں کرتے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ نبیﷺ کے بارے میں بات کرنے کے لئے آپ کے پاس طعنے، بھپتاں، فقرے بازی، بدزبانی اور مغلظات ہی ہیں تو پھر آپ مسلمانوں سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ منطق اور جذبات تو انسانی شعور کی رفعت کی ہم ترین علامت ہیں اور جب آپ بار بار اسی انسانی رفعت پر حملہ آور ہیں تو ہم آپ کو انسان تسلیم ہی کیوں کریں؟\u003C\/p\u003E\n\u003Chr \/\u003E\nبشکریہ الحاد ڈاٹ کام"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/7635282772178590775\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2021\/10\/do-muslims-force-atheists-to-respect-our-prophet.html#comment-form","title":"0 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/7635282772178590775"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/7635282772178590775"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2021\/10\/do-muslims-force-atheists-to-respect-our-prophet.html","title":"کیامسلمان ملحدین سےاپنی نبیؐ کےاحترام کامطالبہ کرتےہیں؟ - ذیشان وڑائچ"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}},{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-1138156871108798475"},"published":{"$t":"2019-03-25T00:54:00.004-07:00"},"updated":{"$t":"2019-03-25T01:04:09.772-07:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"Sarbakaf 10"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"رد قادیانیت"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"}],"title":{"type":"text","$t":" ردِّقادیانیت کورس (قسط۔۸)"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv class=\"postmeta\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\"\u003E\n\u003Cb\u003Eمنظور احمد چنیوٹی ﷫\u003C\/b\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cdiv class=\"separator\" style=\"clear: both; text-align: center;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Ctable align=\"center\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" class=\"tr-caption-container\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto; text-align: center;\"\u003E\u003Ctbody\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Ca href=\"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-BGJi38pms4U\/XJiIBsV-B4I\/AAAAAAAAAxU\/6zHusQQ9UugjkalSszJ-tbZoeNiQaEsSwCLcBGAs\/s1600\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Bradde%2Bqadianiat%2Bcourse%2B8.png\" imageanchor=\"1\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto;\"\u003E\u003Cimg border=\"0\" data-original-height=\"1200\" data-original-width=\"1600\" height=\"240\" src=\"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-BGJi38pms4U\/XJiIBsV-B4I\/AAAAAAAAAxU\/6zHusQQ9UugjkalSszJ-tbZoeNiQaEsSwCLcBGAs\/s320\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Bradde%2Bqadianiat%2Bcourse%2B8.png\" width=\"320\" \/\u003E\u003C\/a\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd class=\"tr-caption\" style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-family: Times, Times New Roman, serif;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-size: 12.8px;\"\u003EQadianiat\u003C\/span\u003E\u003Cspan style=\"font-size: 12.8px;\"\u003E\u0026nbsp;\u003C\/span\u003ERebuttal Course- Part 8\u003C\/span\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/tbody\u003E\u003C\/table\u003E\n\u003Cdiv class=\"separator\" style=\"clear: both; text-align: center;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Ch3\u003E\nخلاصۂ کلام :\u003C\/h3\u003E\nکلام سابق سے یہ بات روز روشن سے زیادہ واضح ہوگئی کہ اصل بحث رفع و نزل کی ہے نہ کہ موت وحیات کی جس کو مرزائیوں نے اپنی چالاکی اور عیاری سے موضوع بحث بنا رکھا ہے ۔\u003Cbr \/\u003E\n٭وجہ اول\u003Cbr \/\u003E\nاس لئے کہ موت حیات رفع و نزول کو لازم ہے نہ کہ رفع و نزول موت وحیات کو ، لہذا اگر بحث کی جائے تو اس وقت تک تمام نہیں ہوگی جب تک حیاۃ کے بعد رفع کو ثابت نہ کیا جائے اور موت کے بعد عدم رفع ثابت نہ کیاجائے تو معلوم ہوا کہ اصل بحث رفع و نزول کی ہے ۔\u003Cbr \/\u003E\n٭وجہ دوم\u003Cbr \/\u003E\nاس لئے کہ رفع ونزول عیسائیوں کا عقیدہ ہے اگر یہ بھی مثل دوسرے عقائد کے غلط ہے تو قرآن و حدیث کو اس کی تردید کرنی چاہیے تھی حالانکہ قرآن وحدیث نے اس کی تردید نہیں کہ بلکہ ان کے اس عقیدہ کی تائیداو رتصدیق کی ہے جسے ہم بعون اﷲ قرآن وحدیث واجماع امت اور اقوال مراز سے ثابت کریں گے اگر قرآن وحدیث اس عقیدے کی تائید میں کچھ بھی نہ کہے تو بھی مرزا کے مسلمہ اصول کے مطابق یہ عقیدہ صحیح ثابت ہوجا تا ہے ۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Ch2\u003E\nاثبات رفع و نزول باقوال مرزا از روئے قرآن مجید\u003C\/h2\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cul\u003E\n\u003Cli\u003Eحوالہ نمبر ۱\u003C\/li\u003E\n\u003C\/ul\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n’’ اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانے میں آنے کی قرآن شریف میں پیشین گوئی موجود ہے ۔‘‘\u003Cbr \/\u003E\n(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۷۵ روحانی خزائن ص۴۶۴ ج۳ )\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cul\u003E\n\u003Cli\u003Eحوالہ نمبر ۲\u003C\/li\u003E\n\u003C\/ul\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n’’ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق ‘‘\u003Cbr \/\u003E\n(اﷲ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت او ردین حق دے کر بھیجا)\u003Cbr \/\u003E\n﴿پارہ ۱۰ توبہ ع ۵ آیت ۳۲ ،پارہ ۲۶فتح ع۴ آیت ۲۸،پارہ ۲۸ صف ع۱ آیت ۹﴾\u003Cbr \/\u003E\nیہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طورپرحضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اورجب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا……حضرت مسیح کی پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم برحاشیہ طبع اول ص۴۹۸،۴۹۹ قدیم ، ص\u003Cbr \/\u003E\n۴۵۸ جدید ، روحانی خزائن ج۱ص ۵۹۳)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cul\u003E\n\u003Cli\u003Eحوالہ نمبر۳\u003C\/li\u003E\n\u003C\/ul\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n’’ عسی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا‘‘\u003Cbr \/\u003E\n﴿پ ۱۵ ع۱ آیت ۸﴾\u003Cbr \/\u003E\nیہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح علیہ السلام کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف اوراحسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا میں اتریں گے اور تمام راہوں اورسڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کردیں گے۔‘‘\u003Cbr \/\u003E\n(براہین احمدیہ حصہ ۴ ص۴۶۵ حاشیہ ص۴۵۹ روحانی خزائن ص۶۰۱،۶۰۲ ج۱)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Ch3\u003E\nمرزائی عذر\u003C\/h3\u003E\nہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا نے براہین احمدیہ کے ان حوالوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے عقید ہ کو صراحتاً تسلیم کیا ہے لیکن یہ محض رسمی طورپر لکھ دیا گیا ہے جیسا کہ مرزا نے اعجاز احمدی ص۷ ج ۱۹ ،پر اعتراف کیا ہے (روحانی خزائن ص۱۱۳ ج۹ )\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eجواب نمبر ۱\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\nیہ عقیدہ رسمی نہیں بن سکتا اس لئے کہ مرز ا نے اس کے ثابت کرنے میں آیات قرآنیہ پیش کی ہیں جن سے ثابت ہوتاہے کہ انہوں نے یہ عقیدہ رسمی طور پر نہیں لکھا بلکہ یہ قرآنی طور پر لکھا ہے ۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eجواب نمبر ۲\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\nمرزا قادیانی نے جس کتاب میں یہ عقیدہ لکھا ہے وہ بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کی گئی ہے مؤلف اس وقت خدائے تعالیٰ کی طرف سے ملہم اور مامور تھا اور اس کتاب پر دس ہزار کا اشتہار بھی دیا گیا ہے ۔(تبلیغ رسالت مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۸ روحانی خزائن ص۲۴ تا ۵۲ ج۱،ملحقہ براہین احمدیہ وملحقہ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن ص۶۵۷ج۵ وسرمہ چشم آریہ جدید ص۳۱۹ ج۲ )\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eمجدد کی تعریف :\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n’’ جولوگ خدا کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخواں فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں خدا تعالیٰ انہیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جونبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور ان کی باتیں از قبیل جوشیدن ہوتی ہیں نہ محض از قبیل\u003Cbr \/\u003E\nکوشیدن اور وہ حال سے بولتے ہیں نہ مجرد قال سے اور خداتعالیٰ کے الہام کی تجلی ان کے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کیوقت روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں اور ان کی گفتار وکردار میں دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی کیونکہ وہ کلی مصفی کیے گئے اور باتمام وکمال کھینچے گئے ہیں ۔‘‘\u003Cbr \/\u003E\n(فتح اسلام حاشیہ روحانی خزائن ص۷ ج۳)\u003Cbr \/\u003E\n’’وہ مجدد خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے گا یعنی علوم لدنیہ اور آیات سماویہ کے ساتھ ‘‘\u003Cbr \/\u003E\n(ازالہ اوہام ص۱۵۴ روحانی خزائن ج۳ص۱۷۹)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eجواب نمبر ۳\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\nیہ رسمی عقیدہ یا اجتہادی غلطی اس لئے بھی نہیں ہو سکتی کہ یہ کتاب بقول مرزا صاحب نبی اکرم ﷺ کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے اور اس کانام ’’ قطبی ‘‘ بتایا گیا ہے یعنی قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے ۔ (براہین احمدیہ قدیم ایڈیشن ص۲۴۸ ، ۲۴۹ روحانی خزائن ج۱ص۲۷۵) تو اگر اس کے اس عقیدہ کو رسمی عقیدہ یا اجتہادی غلطی کہہ کر غلط قرار دیا گیا تو یہ قطبی نہیں رہے گی اور اس کے دلائل مستحکم اور غیر متزلزل نہیں ہوں گے خصوصاً جب کہ نبی اکرم ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں آچکی او رآپ کی مبارک نظر سے گذرچکی تو آپ نے ایسی فاش غلطی جو مرزا صاحب کے نزدیک شرک عظیم ہے اس کو آپ نے کس طرح نظر انداز کر دیا۔\u003Cbr \/\u003E\nدیکھو مرزا کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ماننا شرک عظیم ہے :\u003Cbr \/\u003E\n’’ فمن سوء الا دب ان یقال ان عیسی مامات وان ھو الا شرک عظیم یاکل الحسنات ویخالف الحصات بل ھو توفی کمثل اخوانہ ومات کمثل اھل زمانہ وان عقیدۃ حیاتہ قد جاء ت فی المسلمین من الملۃ النصرانیہ۔‘‘\u003Cbr \/\u003E\n(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص۳۹ ، روحانی خزائن ص۶۶۰ ج ۲۲)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eجواب نمبر ۴\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\nیہ اجتہادی غلطی اس لیے بھی نہیں بن سکتی کہ مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے اس کتاب میں کوئی دعویٰ اور کوئی دلیل اپنے قیاس سے نہیں لکھی ۔\u003Cbr \/\u003E\n(براہین احمدیہ حصہ دوم ص۵۰،۵۱ ،روحانی خزائن ج۱ ص۸۸ حاشیہ والا۹۹)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Ch3\u003E\nاثبات رفع ونزول از روئے احادیث باقوال مرز ا\u003C\/h3\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cul\u003E\n\u003Cli\u003Eحوالہ نمبر ۱\u003C\/li\u003E\n\u003C\/ul\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n’’ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کیا ہے جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے ……الخ۔‘‘\u003Cbr \/\u003E\n(ازالہ اوھام ۵۵۷ روحانی خزائن ج ۳ ص۴۰۰)\u003Cbr \/\u003E\nتواتر کی تعریف بھی مرزا صاحب کے زبانی سن لیجئے : ’’ تواتر ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کی رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے ۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۵۶ روحانی خزائن ج۳ص۳۹۹)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cul\u003E\n\u003Cli\u003Eحوالہ نمبر ۲:\u003C\/li\u003E\n\u003C\/ul\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n’’ اب پہلے ہم صفائی بیان کیلئے یہ لکھناچاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اس وجود عنصری کیساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے دوسرا مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر کسی زمانہ میں زمین پراتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے انہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں ۔‘‘\u003Cbr \/\u003E\n(توضیح المرام ص۴ ،روحانی خزائن ج۳ ص۵۲ )\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cul\u003E\n\u003Cli\u003Eحوالہ نمبر ۳:\u003C\/li\u003E\n\u003C\/ul\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n’’ صحیح مسلم کی حدیث میں جویہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘\u003Cbr \/\u003E\n(ازالہ اوہام ص۳۶ روحانی خزائن ص۱۴۲ ج۳)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eنوٹ﴾\u003C\/b\u003E یہ حدیث صحیح مسلم میں نہیں بلکہ سنن ابی داؤد ج ۲ کتاب الملاحم باب خروج الدجال میں مذکور ہے۔ قادیانیوں کیلئے چونکہ مرزا قادیانی کی تحریرات حجت ہیں اس لئے الزامی طور پر مذکورہ حوالہ لکھا جاتا ہے ۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Ch3\u003E\nاثبات رفع و نزول مسیح از روئے اجماع امت\u003C\/h3\u003E\n(۱) حیاۃ المسیح بجسمہ الی الیوم ونزولہ من السماء بجسمہ العنصری مما اجمع علیہ الامۃ وتواتر بہ الا حادیث۔\u003Cbr \/\u003E\n(تفیسرالبحر المحیط ج۲ ص۲۷۳)\u003Cbr \/\u003E\n(۲) والاجماع علی انہ حی فی السماء ینزل ویقتل الدجال ویؤید الدین (تفیسر جامع البیان تحت آیت انی متوفیک)\u003Cbr \/\u003E\n(۳) الاجماع علی انہ رفع ببدنہ حیا قالہ الحافظ ابن حجر فی تلخیص الجبیر\u003Cbr \/\u003E\n(۴) فتح الباری میں بھی ذکر ادریس میں حضرت مسیح کے نزول پر اجماع منقول ہے ۔\u003Cbr \/\u003E\n(۵) تفسیر ابن کثیر میں تواتر نزول کی صراحت کی گئی ہے ۔\u003Cbr \/\u003E\nمرزائیوں کی شہادت کہ رفع و نزول عیسیٰ پر تمام مفسرین کا اجماع ہے حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب تلخیص الجبیر کے صفحہ ۳۱۹ ،۳۲۰ پر عام مفسرین کا اجماع نقل کیا ہے ۔ (عسل مصفیٰ ص ۱۶۴)\u003Cbr \/\u003E\nمرزائیوں کے نزدیک بھی حافظ ابن حجر عسقلانی آٹھویں صدی کے مجدد ہیں ، یہ مجددین کی اس فہرست میں داخل ہیں جوکہ عسل مصفی کے صفحہ ۱۶۲ ق،۱۱۷ سے شروع ہوتی ہے اور کتاب ہذا مرزا کی مصدقہ ہے ۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Ch3\u003E\n٭ایک اہم اصول\u003C\/h3\u003E\nمرزائیوں کے ساتھ بحث کرنے سے پہلے یہ طے کرلیناچاہیے کہ فریقین اگر آیات قرآنی کی تفسیر وتشریح اپنی مرضی ورائے سے کریں گے توبحث کا کوئی فائد ہ نہ ہوگا، تم اپنے معنی بیان کرو گے اور ہم اپنا حلفی بیان کریں گے اور بحث کا حاصل کچھ نہ نکلے گا ،\u003Cu\u003Eاسلئے مناسب ہے کہ تیرہ صدیوں میں سے چند ایسے مفسرین ومجددین کا انتخاب کرلیں جن کی بات ہر دو فریق تسلیم کریں ۔\u003C\/u\u003E\u003Cbr \/\u003E\nچودھویں صدی کے مفسرین ومجددین کی بات بے شک نہ مانو، تیرہ صدیوں میں سے ایک مفسر ومجدد کا انتخاب کرلو جس کا بیان کیاہوا معنی اور تفسیر معتبر اور قول آخر مانی جائے گی اور مجددین میں سے ان مجددین کا انتخاب کرتے ہیں جو فریقین کے نزدیک مسلم ہیں اور مرزائیوں کے مسلم مجددین کی فہرست کتاب’’ عسل مصفی‘‘ میں موجود ہے. واضح ہو کہ یہ کتاب عسل مصفی وہ کتاب ہے جومرزا صاحب کے ایک مرید مرزا خدا بخش نے لکھی او رہر روز جو لکھی جاتی وہ باقاعدہ مرز اصاحب کو سنائی جاتی اگر کبھی وہ اتفاقاً مرزا صاحب کو نہ سناتا تو مرزا صاحب بڑے اہتمام کے ساتھ اس کے متعلق استفسار کرتے کہ آج تم نے مجھے اس کتاب کا مسودہ کیوں نہیں سنایا غرضیکہ یہ پوری کتاب مرز اغلام احمد قادیانی نے پورے اہتمام کے ساتھ سنی گویا یہ مرزا صاحب کی مصدقہ کتاب ہے اور اس کے اندر جو مجددین کی فہرست ہے وہ مرزا غلام احمد کے نزدیک بھی مسلم مجددین ہیں اب ہم \u003Cb\u003Eکتاب عسل مصفی\u003C\/b\u003E سے وہ فہرست نقل کرتے ہیں ۔\u003Cbr \/\u003E\n( عسل مصفی مصنفہ مرزاخدا بخش ص۱۱۷ ج۱)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eپہلی صدی میں اصحاب ذیل مجدد تسلیم کئے گئے ہیں\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) عمر بن عبدالعزیز (۲) سالم (۳) قاسم (۴) مکحول\u003Cbr \/\u003E\nعلاوہ ان کے اور بھی اس صدی کے مجدد مانے گئے ہیں چونکہ جو مجدد جامع صفات حسنی ہوتا ہے وہ سب کا سردار اور فی الحقیقت وہی مجدد فی نفسہ ماناجاتا ہے اور باقی اس کی ذیل سمجھے جاتے ہیں جیسے انبیاء بنی اسرائیل میں ایک نبی بڑا ہوتا تھاتو دوسرے اس کے تابع ہو کر کاروائی کرتے تھے چنانچہ صدی اول کے مجدد متصف بجمیع صفات حسنی حضرت عمر بن عبدالعزیز تھے ۔(نجم الثاقب ج۲ ص۹ ،وقرۃ العیون ومجالس الابرار)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eدوسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) امام محمد ادریس ابو عبداﷲ شافعی (۲) احمد بن محمد بن حنبل شیبانی (۳) یحیٰ بن عون غطفانی (۴) اشہب بن عبدالعزیز بن داؤد قیس (۵) ابو عمرو مالکی مصری (۶) خلیفہ مامون رشید بن ہارون (۷) قاضی حسن بن زیاد حنفی (۸) جنیدبن محمد بغدادی صوفی (۹) سہل بن ابی سہل بن ریحلہ الشافعی (۱۰) بقول امام شعرانی حارث بن اسعد محاسبی ابو عبداﷲ صوفی بغدادی (۱۱) او ربقول قاضی القضاۃ علامہ عینی احمد بن خالد الخلال ابو جعفر حنبلی بغدادی ۔ (نجم الثاقب ج۲ ص۱۴ ،قرۃ العیون ومجالس الابرار)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eتیسری صدی کے مجددین\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) قاضی احمد بن شریح بغدادی شافعی (۲) ابو الحسن اشعری متکلم شافعی (۳) ابو جعفر طحاوی ازدی حنفی (۴) احمد بن شعیب(۵) ابو عبدالرحمن نسائی (۶)خلیفہ مقتدر باﷲ عباسی (۷) حضرت شبلی صوفی(۸) عبیداﷲ بن حسین (۹) ابو الحسن کرخی وصوفی حنفی\u003Cbr \/\u003E\n(۱۰) امام بقی بن مخلد قرطبی مجدد اندلس اہل حدیث ۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eچوتھی صدی کے مجددین\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) اما م ابوبکر باقلانی (۲) خلیفہ قادر باﷲ عباسی (۳) ابوحامداسفرانی (۴) حافظ ابو نعیم (۵) ابو بکر خوارزمی حنفی (۶) بقول شاہ ولی اﷲ ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ المعروف بالحاکم نیشاپوری (۷) اما م بیہقی (۸) حضرت ابو طالب ولی اﷲ صاحب قوت القلوب جوطبقہ صوفیاء سے ہیں (۹) حافظ احمد بن علی بن ثابت خطیب بغداد (۱۰) ابو اسحاق شیرازی (۱۱) ابراہیم بن علی بن یوسف فقیہ المحدث\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eپانچویں صدی کے مجدد اصحاب\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) محمد بن محمد ابو حامد امام غزالی (۲) بقول عینی و کرمانی حضرت راعونی حنفی (۳) خلیفہ مستظہر بالدین مقتدی باﷲ عباسی (۴) عبداﷲ محمد بن محمد انصاری ابو اسماعیل ہروی (۵) ابو طاہر سلفی (۶) محمدبن احمد ابوبکر شمس الدین سرخسی فقیہ حنفی\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eچھٹی صدی کے مجددین\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) محمد بن عبداﷲ فخرالدین رازی (۲) علی بن محمد (۳) عزالدین بن کثیر (۴) امام رافعی شافعی صاحب زبدہ شرح شفا(۵) یحیٰ بن حبش بن میرک حضرت شہاب الدین سہروردی شہید امام طریقت (۶) یحیٰ بن اشرف بن حسن محی الدین لوذی (۷) حافظ عبدالرحمن ابن جوزی\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eساتویں صدی کے مجدد اصحاب\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) احمد بن عبدالحلیم نقی الدین ابن تیمیہ حنبلی (۲) تقی الدین ابن دقیق العید (۳) شاہ شرف الدین مخدوم بہائی سندی (۴) حضرت معین الدین چشتی (۵) حافظ ابن القیم جوزی شمس الدین محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد بن القیم الجوزی ورعی دمشقی حنبلی (۶) عبداﷲ بن اسعد بن علی بن سلیمان بن خلاج ابو محمد عفیف الدین یافعی شافعی (۷) قاضی بدرالدین محمد بن عبداﷲ الشبلی حنفی دمشقی\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eآٹھویں صدی کے مجددین\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) حافظ علی بن حجر عسقلانی شافعی (۲) حافظ زین الدین عراقی شافعی (۳) صالح بن عمر بن ارسلان قاضی بلقینی (۴) علامہ ناصر الدین شازلی بن سنت میلی\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eنویں صدی کے مجدد اصحاب\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) عبدالرحمن کمال الدین شافعی معروف بہ امام جلال الدین سیوطی (۲) محمد بن عبدالرحمن سخاوی شافعی (۳) سید محمد جونپوری مہدی اور بقول بعض دسویں صدی کے مجدد ہیں ۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eدسویں صدی کے مجدد اصحاب یہ ہیں\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) ملا علی قاری (۲) محمد طاہر فتنی گجراتی ، محی الدین محی السنہ (۳) حضرت علی بن حسام الدین معروف بہ علی متقی ہندی مکی\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eگیارہویں صدی کے مجددین\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) عالم گیر بادشاہ غازی اورنگ زیب (۲) حضرت آدم بنوی صوفی (۳) شیخ احمد بن عبدالاحد بن زین العابدین فاروقی سرہندی معروف بامام ربانی مجدد الف ثانی\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eبارہویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان نجدی (۲) مرز امظہر جان جاناں دہلوی (۳) سید عبدالقادر بن احمد بن عبدالقادر حسنی کوکیانی (۴) حضرت احمد شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی (۵) اما م شوکانی (۶) علامہ سیدمحمد بن اسما عیل امیر یمن (۷) محمد حیات بن ملازیہ سندھی مدنی\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eتیرھویں صدی کے مجددین\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\n(۱) سید احمد بریلوی (۲) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (۳) مولوی محمد اسماعیل شہید دہلوی (۴) بعض کے نزدیک شاہ رفیع الدین صاحب بھی مجدد ہیں (۵) بعض نے شاہ عبدالقادر کو مجدد تسلیم کیا ہے ، ہم اس کا انکا ر نہیں کرسکتے کہ بعض ممالک میں بعض بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجدد مانا گیا ہو اور ہمیں اطلاع نہ ملی ہو۔\u003Cbr \/\u003E\nنوٹ﴾مرز اخدا بخش کی اس دی گئی فہرست میں تیرہ صدیوں کے مجددین کی تعداد اکیاسی بنتی ہے۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Ch3\u003E\nمرزائی سوال\u003C\/h3\u003E\nمرزائی عموماً سوال کرتے ہیں کہ چودہویں صدی کامجدد کون ہے واضح ہو کہ ان کے نزدیک آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی ہی چودہویں صدی کا مجدد ہے ۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cb\u003Eجواب:\u003C\/b\u003E\u003Cbr \/\u003E\nہم جواب میں چودھویں صدی کے مجددین کے ضمن میں یہ نام پیش کرتے ہیں :\u003Cbr \/\u003E\n(۱) حضرت مولا نا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند(۲) حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (۳) مفسر قرآن حضرت مولانا حسین علی (۴) شیخ العرب والعجم حضرت مولانا حسین احمد مدنی (۵) حضرت مولا نا محمد الیاس کاندھلوی بانی تبلیغ جماعت (۶) سید المحدثین حضرت مولانا سید علامہ انور شاہ کشمیری (۷) شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری (۸) حضرت شاہ عبدالقادر رائپوری (۹) حضرت خلیفہ غلام محمد، دین پورشریف\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n(جاری ہے...)\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n٭٭٭\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/1138156871108798475\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/radd-e-qadianiat-course-8.html#comment-form","title":"0 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/1138156871108798475"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/1138156871108798475"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/radd-e-qadianiat-course-8.html","title":" ردِّقادیانیت کورس (قسط۔۸)"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"media$thumbnail":{"xmlns$media":"http://search.yahoo.com/mrss/","url":"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-BGJi38pms4U\/XJiIBsV-B4I\/AAAAAAAAAxU\/6zHusQQ9UugjkalSszJ-tbZoeNiQaEsSwCLcBGAs\/s72-c\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Bradde%2Bqadianiat%2Bcourse%2B8.png","height":"72","width":"72"},"thr$total":{"$t":"0"}},{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-1057042296790038813"},"published":{"$t":"2019-03-19T10:18:00.003-07:00"},"updated":{"$t":"2019-03-19T10:26:52.200-07:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"Sarbakaf 10"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"رد قادیانیت"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"}],"title":{"type":"text","$t":"بے اعتبار مرزا قادیانی - احتشام انجم شامی"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv class=\"postmeta\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan class=\"author\"\u003E\nاحتشام انجم شامی\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ctable align=\"center\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" class=\"tr-caption-container\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto; text-align: center;\"\u003E\u003Ctbody\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Ca href=\"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-KlmwHBIHcgg\/XJEkMybkRLI\/AAAAAAAAAxI\/KPa79_sDkIofdCVRjlOoDLyciq7hQ65ZQCLcBGAs\/s1600\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Bbe%2Baetebar%2Bmirza%2Bqadiani%2Bby%2Behtisham%2Banjum.png\" imageanchor=\"1\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto;\"\u003E\u003Cimg border=\"0\" data-original-height=\"1200\" data-original-width=\"1600\" height=\"240\" src=\"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-KlmwHBIHcgg\/XJEkMybkRLI\/AAAAAAAAAxI\/KPa79_sDkIofdCVRjlOoDLyciq7hQ65ZQCLcBGAs\/s320\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Bbe%2Baetebar%2Bmirza%2Bqadiani%2Bby%2Behtisham%2Banjum.png\" width=\"320\" \/\u003E\u003C\/a\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd class=\"tr-caption\" style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-family: \u0026quot;times\u0026quot; , \u0026quot;times new roman\u0026quot; , serif;\"\u003EUnreliability of Mirza Qadiani\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/tbody\u003E\u003C\/table\u003E\n\u003Cdiv class=\"separator\" style=\"clear: both; text-align: center;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\nقارئین کرام ! مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت کی حقیقت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ تاہم پھر بھی ہم کچھ عرض کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی حیثیت ان کی اپنی تحریروں کی رو سے کیا ہے۔ٍ\u003C\/div\u003E\n\u003Ch3 dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nجھوٹے شخص پر مرزا قادیانی کے فتوے\u003C\/h3\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nمرزا صاحب لکھتے ہیں\u003C\/div\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۱:جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔\u003Cbr \/\u003E\n[روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۵۷]\u003Cbr \/\u003E\n۲:وہ کنجر اور ولد الزنا کہلاتے ہیں جوبھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003E\n[روحانی خزائن جلد ۲ ص ۳۸۶]\u003Cbr \/\u003E\n۳:جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔\u003Cbr \/\u003E\n[روحانی خزائن جلد۲۲ ص ۲۱۵]\u003C\/blockquote\u003E\n\u003Ch3 dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nجھوٹے کی بات کی حیثیت\u003C\/h3\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nمزید لکھتے ہیں:\u003C\/div\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nجب ایک بات میں کوئی جھوٹاثابت ہو جائے تو پھر دوسری بات میں اس پر اعتبار نہیں رہتا۔\u003Cbr \/\u003E\n[روحانی خزائن جلد ۲۳ ص ۲۳۱]\u003C\/blockquote\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاب آتے ہیں ان کے دجل کی طرف۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nمرزا قادیانی کا دعوی:\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n۱: وہ مسیح موعود جس کے آنے کا قران کریم میں وعدہ کیا گیا ہے وہ عاجز ہی ہے۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n[روحانی خزائن جلد ۳ ص ۴۶۸]\u003C\/div\u003E\n\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n۲:اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے\u003Cspan style=\"white-space: pre;\"\u003E \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"white-space: pre;\"\u003E[خزائن جلد ۱ ص ۵۹۴]\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cspan style=\"white-space: pre;\"\u003E\n\u003C\/span\u003E\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n۳: اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n[خزائن جلد ۱۹ ص ۳]\u003C\/div\u003E\n\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Ch3 dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nتبصرہ:\u003C\/h3\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp;مرزا قادیانی کا یہ دعوی کر نا کہ ان کو حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام سے معاذ اللہ ہر پہلو میں مشابہت حا صل ہے کو انہی کی تحریروں کی روشنی میں دیکھتے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cb\u003Eبغیر والد کے پیدا ہونا\u003C\/b\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۱: حضرت عیسی ابن مریم بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n[خزائن جلد ۳ ص ۶۱]\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nجبکہ مرزا صاحب، جنہیں ہر لحاظ سے ابن مریم سے مشابہت کا دعوی تھا وہ لکھتے ہیں\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\"\u003E\nمیں جس کا نام غلام احمداور باپ کا نام غلام مرتضی۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n[کشف الغطا ص ۲]\u003C\/div\u003E\n\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cb\u003Eاولاد میں مشابہت کی نفی\u003C\/b\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۱: حضرت عیسی علیہ السلام کی کوئی آل نہیں تھی۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n[خزائن جلد ۱۵ ص۳۶۳ حاشیہ]\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nجبکہ مرزا صاحب کی اولاد تھی جو بالکل واضح بات ہے۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cb\u003Eمسمریزم اور مرزا قادیانی\u0026nbsp;\u003C\/b\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nخزائن میں ایک جگہ درج ہے:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ جو میں نے مسمزیزی طریق کا عمل الترب نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے۔[خزائن جلد ۳ ص ۲۵۹]\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\"\u003E\nجبکہ مرزا صاحب اس عمل کو مکروہ\u0026nbsp; اور قابل نفرت سمجھتے تھے۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n[بحوالہ خزائن جلد ۳ ص ۲۵۸]\u003C\/div\u003E\n\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\nجب قابل نفرت سمجھتے تھے تو ظاہر ہے خود کیوں اس پر عمل کیا جائے گا؟\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cb\u003Eمذہب کے پھیلنے میں مماثلت کی نفی\u003C\/b\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nایک جگہ لکھتے ہیں:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nناکامی اور نا مرادی جو مذہب کے پھیلانے میں کسی کو ہو سکتی ہے۔عیسی علیہ السلام سب سے اول نمبر پر ہیں ۔\n[خزائن جلد ۲۱ ص ۵۸]\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nجبکہ اپنے بارے میں خود لکھتے ہیں\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\"\u003E\nلاکوں انسانوں نے مجھے قبول کر لیااور یہ ملک ہماری جماعت سے بھر گیا۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n[خزائن جلد۲۱ ص ۹۵،۹۶]\u003C\/div\u003E\n\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\nان سب حوالوں سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ مرزا صاحب کا یہ کہنا پرلے درجے کا جھوٹ ہے کہ انہیں حضرت عیسی علیہ السلام سے معاذاللہ کلی مشابہت حاصل تھی کیونکہ ہم نے چند حوالے انہی کی تحریروں سے دے دیے ہیں۔\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"white-space: pre;\"\u003E \u003C\/span\u003Eچونکہ مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا لہذا انہی کے فتوے کے مطابق ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں ہے ۔ اپنی ہی تحریروں کے آئینے میں:\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cul\u003E\n\u003Cli\u003Eان کے نسب میں شک ہے\u003C\/li\u003E\n\u003Cli\u003Eیہ ولد الزنا بھی ہوئے\u003C\/li\u003E\n\u003Cli\u003Eگوہ کھانے والے بھی ثابت ہوئے\u003C\/li\u003E\n\u003Cli\u003E\u0026nbsp;بلکہ مرتد بھی اپنے ہی تحریروں سے ثابت ہوئے۔\u003C\/li\u003E\n\u003C\/ul\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Ch3 dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nقادیانی جماعت کو پیغام:\u003C\/h3\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جو بندہ اپنے تحریروں کی رو سے ایسا مرتد ولد الزنا جھوٹا ثابت ہو اسے نبی مان کر اپنی آخرت برباد کرنے سے اچھا ہے کہ کلمہ پڑھیں اور حضور ﷺ کو آخری نبی مان کر مرزا قادیانی پر چار حرف بھیج کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں!\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n٭٭٭\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/1057042296790038813\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/be-aetebar-mirza-qadiani-by-Ehtisham-Anjum-Shami.html#comment-form","title":"0 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/1057042296790038813"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/1057042296790038813"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/be-aetebar-mirza-qadiani-by-Ehtisham-Anjum-Shami.html","title":"بے اعتبار مرزا قادیانی - احتشام انجم شامی"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"media$thumbnail":{"xmlns$media":"http://search.yahoo.com/mrss/","url":"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-KlmwHBIHcgg\/XJEkMybkRLI\/AAAAAAAAAxI\/KPa79_sDkIofdCVRjlOoDLyciq7hQ65ZQCLcBGAs\/s72-c\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Bbe%2Baetebar%2Bmirza%2Bqadiani%2Bby%2Behtisham%2Banjum.png","height":"72","width":"72"},"thr$total":{"$t":"0"}},{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-3701992167761206728"},"published":{"$t":"2019-03-19T03:52:00.001-07:00"},"updated":{"$t":"2019-03-19T04:45:33.053-07:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"Sarbakaf 10"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"دعوت حق غیر مسلموں میں"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"}],"title":{"type":"text","$t":"ملحد کی سائنس اور انسانیت سے بغاوت - سید عکاشہ"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv class=\"postmeta\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan class=\"author\"\u003E\n\u0026nbsp;سید عکاشہ\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Ctable align=\"center\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" class=\"tr-caption-container\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto; text-align: center;\"\u003E\u003Ctbody\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Ca href=\"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-pnjr0KHaV94\/XJDMV21VLPI\/AAAAAAAAAw0\/KE43phIU4UUPQzk_KO94fnaUCF0_XVsVQCLcBGAs\/s1600\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2BMulhid%2Bki%2Bscience%2Bse%2Bbaghawat%2Bsayyid%2Bukasha.png\" imageanchor=\"1\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto;\"\u003E\u003Cimg border=\"0\" data-original-height=\"1200\" data-original-width=\"1600\" height=\"240\" src=\"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-pnjr0KHaV94\/XJDMV21VLPI\/AAAAAAAAAw0\/KE43phIU4UUPQzk_KO94fnaUCF0_XVsVQCLcBGAs\/s320\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2BMulhid%2Bki%2Bscience%2Bse%2Bbaghawat%2Bsayyid%2Bukasha.png\" width=\"320\" \/\u003E\u003C\/a\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd class=\"tr-caption\" style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-family: \u0026quot;times\u0026quot; , \u0026quot;times new roman\u0026quot; , serif;\"\u003EWhen atheism goes against science and morality\u003C\/span\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/tbody\u003E\u003C\/table\u003E\n\u003Cdiv class=\"mudeer\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nالحاد کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہے کہ وہ کئی معاملات میں ایسی گلیوں میں جا نکلتا ہے جس کے آخر میں دیوار راستہ روکے کھڑی ہوتی ہے۔ ایک مختصر اور جامع تحریر جو ملحدین کی اس عادت کا منصفانہ جائزہ لیتی ہے۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"display: block; text-align: left;\"\u003E\n(مدیر)\u003C\/span\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\nالحاد دو\n\u003Csup\u003E۲\u003C\/sup\u003E \nامور کو اپنا بنیادی ہتھیار بناتا ہے اور ان دونوں کے سبب مذہب کی تنقیح کرتا ہے اور حامیانِ مذہب پر جرح کرتا ہے۔ ایک چیز تو سائنس ہے جبکہ دوسری چیز انسانیت ہے۔ اس تحریر میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان دونوں سے الحاد کا کوئی تعلق نہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\n\u0026nbsp;سائنس سے بغاوت\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nابتداء سائنس سے کرتے ہیں۔ ایک اصولی بات سمجھ لینا لازم ہے کہ ہر ترکیب اپنی ابتداء میں دو چیزوں کے مربوط ہوجانے کی محتاج ہے:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; \u0026nbsp; ۱۔ ایک سبب کا وجود رکھنا\n\u003Cbr \/\u003E\n\u0026nbsp; \u0026nbsp; ۲۔ اس سبب کا اپنی ترکیب سے تعلق بنانا\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاس کے بعد ہی ترکیب وجود میں آتی ہے۔ قدرت کا یہ بنیادی دستور ہے اور یہ ایک (self-evident)\u0026nbsp; سچ ہے جس کے انکار کی استطاعت کی جرأت وہ نہیں کرسکتا۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nمیں کمپیوٹر کے کی بورڈ کا استعمال کر رہا ہوں تب ہی وہ الفاظ میں منتقل ہو کر ٹائپ ہورہے ہیں، اس معاملہ میں بھی دو چیزیں ہیں:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; \u0026nbsp; ۱۔ ایک میرے ہاتھ کی فعلیت کا کی بورڈ پر وجود رکھنا\n\u003Cbr \/\u003E\n\u0026nbsp; \u0026nbsp; ۲۔ اس وجود کا اپنی ترکیب سے تعلق بنانا\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی چیز اس کے بغیر وجود رکھ لے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nریاضی میں کہا جاتا ہے کہ ایک سیب میں لوں اور کچھ دیر بعد اس میں ایک سیب کا اضافہ کردوں تو دو سیب بن جاتے ہیں۔ اس میں بھی اس قانون کی پاسداری ہے۔ ایک سیب میں ایک سیب جوڑ دینے سے چار یا پانچ سیب نہیں بنتے بلکہ دو ہی بنتے ہیں کیونکہ وہ ایک سیب کی انفرادیت (distinction) دوسرے سیب کی انفرادیت سے جب ربط بناتی ہے تو جو ترکیب وجود میں آتی ہے وہ دو سیب ہی بناتی ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nسائنس بھی اسی دستور کا پابند ہے۔ کسی دوائی سے بیمار کو شفا ملتی ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ شاید یہ سب خود بخود ہوجاتا ہو۔ بلکہ دوائی کے اجزاء کا انسانی جسم سے ربط بنانا لازم سمجھا جاتا ہے اور اس کی بنیاد یہی (self-evident) سچّائی ہے جو اشیاء کی ترکیب کو زیرِ بحث اس کے سبب سے ربط کی بنیاد پر تسلیم کرتی ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nکسی کے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ شاید دوائی اور شفاء کا کوئی تعلق نہ ہو کیونکہ وہ اس سچائی میں یقین رکھتے ہیں۔\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nخدا کا وجود ایک حقیقت ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ از خود (self-evident) سچّائی ہے اور ایک وجہ یہ کہ یہ قانونِ ربط اس کے وجود کو لازم کرتا ہے۔ جب ہر چیز کا ترکیب پانا، اس کے سبب کے وجود اور ربط کا پابند ہے، تو یہ کائنات جو اپنی تمام صفات کے لحاظ سے محدود ہے کیونکر اس اصول سے بغاوت کریگی؟\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nسائنس، ریاضی، فلسفہ، طب وغیرہ کی بنیاد جس اصول پر ہے، وہ اصول یہ لازم کرتا ہے کہ وجودِ خدا بھی ہونا چاہیئے۔ مگر یہاں آکر ملحد کی فکر متغیر ہوجاتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ نہیں! ایسا نہیں ہے، اس معاملہ میں ایسا نہیں ہوا۔ لارنس کراس جیسے کہتے ہیں کہ شاید یہ کائنات بغیر کسی شے کے یعنی nothing سے وجود میں آگئی ہو۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہمیشہ سے ہے۔ بعض کائنات اور خدا میں فرق سمجھے بغیر یہ منطق لڑاتے ہیں کہ جب خدا بغیر کسی کے بنائے بن سکتا ہے تو یہ کائنات کیوں نہیں؟ الغرض جس سائنس کا رونا وہ روتے ہیں، اسی سے بغاوت کرجاتے ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\n\u0026nbsp;انسانیت سے بغاوت\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاب انسانیت کے متعلق الحاد کے نظریہ کی وضاحت بھی ہم ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم اکثر کہتے ہیں:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\"\u003E\nاگر خدا نہیں ہے، تو ہمارے پاس بھلائی اور اچھائی کے جانب راغب ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ دلیل بہت سے لوگوں نے دی ہے اور اس پر ملحد یہ اعتراض کیا کرتے ہیں:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\"تم لوگ کتنے خود غرض ہو؟ صرف جزا و سزا کے لیے اچھے بنتے ہو؟ تم لوگوں میں انسانیت ہی نہیں ہے\"\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nدر اصل یہ سب انہوں نے اپنے بڑے مولوی صاحب رچارڈ ڈاکنز سے طریقہ اخذ کیا ہے اور وہی ہر مذہبی پر تھوپ دیتے ہیں۔\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nہم کب کہتے ہیں کہ جزا و سزا کے لیے ہی انسان اچھا بنتا ہے؟ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اگر خدا کا وجود نہیں تو بھلائی اور برائی جیسے نظریات کا کوئی حقیقی وجود بھی ثابت نہیں ہوسکتا۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nکیسے؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nکوئی بھی چیز کیوں بری ہے یا کیوں بھلی ہے؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس لیے بری ہے کہ انسانیت کے خلاف ہے وغیرہ وغیرہ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nمگر سوال پھر پیدا ہوتا ہے:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nہمیں انسانیت پر کیوں چلنا ہے؟\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nوہ کہے گا کہ قومیں ایسے ہی بن سکتی ہیں ورنہ انسان دنیا سے ختم ہوجائیں گے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nانسانوں کے دنیا سے ختم ہوجانے کی ہم کیوں فکر کریں؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nوہ اس مقام پر اگر ملحد ہے تو آ کر عام طور پر یہی کہہ دے گا کہ تم لوگ کتنے بیشرم بے حیاء ہو تم انسانوں کی فکر نہیں کرتے، انسانیت نہیں تم میں وغیرہ وغیرہ مگر منطقی لحاظ سے مزید کچھ ثابت نہیں کر پائے گا۔ سوالات کا سلسلہ تو کسی طور ختم نہیں ہوگا۔\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاس کا حل کیسے نکلے؟ ہم پر فرض ہے یعنی ہماری ڈیوٹی ہے کہ ہم اچھے بنیں (اس بات کو اخلاقیات کے حوالے سے کانٹ نے بھی ذکر کیا ہے)، مگر کیوں؟ ایک مذہبی کے پاس سادہ اور بہت ہی آسانی سے سمجھ میں آنے والا جواب ہے کہ خدا نے ہمیں اسی لیے پیدا کیا ہے۔ خدا کی خلقت اسی لیے ہوئی ہے اور ہمارا مقصد یہی ہے مگر اس موقع پر ایک ملحد کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nبعض ملحد فلسفیوں نے الجھا کر اس مسئلہ کو بھی ثابت کرنے کی کوشش کی مگر کئی فلسفی ملحدین مثلاََ جے-ایل میکی ( .L Mackie) نے تو اعتراف بھی کرلیا ہے کہ اخلاقیات کا کوئی فی نفسہ (objective) وجود نہیں۔ ایسے میں دنیا والوں کو کیسے قائل کیا جائے گا اور کیا مستقبل میں اخلاقی زوال پیدا ہونے کا امکان نہیں ہوگا؟ نہلسٹ (nihilists یعنی وہ جو اخلاقیات اور مذہب سب کے منکر ہیں) کو ہی دیکھ لیں۔ \u003Cu\u003Eوہ اخلاقیات کو نہیں مانتے\u003C\/u\u003E، جبکہ absurdists اپنی مرضی کے اخلاقیات بنانے کے قائل ہیں۔\nاب کیا کیا جائے گا؟\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n٭٭٭\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/3701992167761206728\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/mulhid-ki-science-aur-insaniyat-se-baghawat-by-Sayyid-Ukasha.html#comment-form","title":"0 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/3701992167761206728"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/3701992167761206728"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/mulhid-ki-science-aur-insaniyat-se-baghawat-by-Sayyid-Ukasha.html","title":"ملحد کی سائنس اور انسانیت سے بغاوت - سید عکاشہ"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"media$thumbnail":{"xmlns$media":"http://search.yahoo.com/mrss/","url":"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-pnjr0KHaV94\/XJDMV21VLPI\/AAAAAAAAAw0\/KE43phIU4UUPQzk_KO94fnaUCF0_XVsVQCLcBGAs\/s72-c\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2BMulhid%2Bki%2Bscience%2Bse%2Bbaghawat%2Bsayyid%2Bukasha.png","height":"72","width":"72"},"thr$total":{"$t":"0"}},{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-4805751649559740040"},"published":{"$t":"2019-03-19T00:30:00.003-07:00"},"updated":{"$t":"2019-03-19T00:32:43.857-07:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"Sarbakaf 10"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"دعوت حق غیر مسلموں میں"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"}],"title":{"type":"text","$t":"ڈیڑھ لاکھ افراد کو مسلمان کرنے  والے  نو مسلم کولن چیک سے  ایک گفتگو"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv class=\"postmeta\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan class=\"author\"\u003E\n\u0026nbsp;کولن چیک\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Ctable align=\"center\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" class=\"tr-caption-container\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto; text-align: center;\"\u003E\u003Ctbody\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Ca href=\"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-QqMx6GV8hmc\/XJCZeXd7FfI\/AAAAAAAAAwc\/rW9jwiEKuw8kjCOwEfw6CetVQx0MX6mZACLcBGAs\/s1600\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2BColin%2BCheck%2Bse%2Bguftgu.png\" imageanchor=\"1\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto;\"\u003E\u003Cimg border=\"0\" data-original-height=\"1200\" data-original-width=\"1600\" height=\"240\" src=\"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-QqMx6GV8hmc\/XJCZeXd7FfI\/AAAAAAAAAwc\/rW9jwiEKuw8kjCOwEfw6CetVQx0MX6mZACLcBGAs\/s320\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2BColin%2BCheck%2Bse%2Bguftgu.png\" width=\"320\" \/\u003E\u003C\/a\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd class=\"tr-caption\" style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-family: \u0026quot;times\u0026quot; , \u0026quot;times new roman\u0026quot; , serif;\"\u003EA conversation with the man behind 150000+ converts, Colin Check\u003C\/span\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/tbody\u003E\u003C\/table\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv class=\"mudeer\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nانٹرنیشنل چرچ کے\u0026nbsp; جنرل سکریٹری کا عالم اسلام کے\u0026nbsp; خلاف امریکہ و یورپ کی خوف ناک سازشوں کا انکشاف\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; \u0026nbsp;:افریقی ممالک میں خصوصاً اور اسلامی ممالک میں عموماً یوروپی این جی اوزکا کیا کر دار ہے ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :وہ سب این جی اوز حقیقت میں چرچ کے\u0026nbsp; زیر انتظام چلتی ہیں اور چرچ کے\u0026nbsp; مفاد میں انسانی خدمت کے\u0026nbsp; موٹو سے\u0026nbsp; کام کرتی ہیں اور ان کا اصل مقصد مسلمانوں کو عیسائی بنانا یا کم از کم ان کو دین سے\u0026nbsp; دور کرنا ہوتا ہے\u0026nbsp; اور ان مذموم مقاصد کے\u0026nbsp; حصول کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; ان کے\u0026nbsp; پاس لا محدود وسائل اور متعدد ذرائع ہوتے\u0026nbsp; ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"white-space: pre;\"\u003E \u003C\/span\u003Eانٹرنیشنل چرچ کی این جی اوز کا شمار کسی فرد واحد کے\u0026nbsp; بس کی بات نہیں لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عالمی سطح پر عیسائیت کے\u0026nbsp; مفاد کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; کام کرنے\u0026nbsp; والی ہزاروں این جی اوز ہیں، صرف سوڈان میں پانچ سو سے\u0026nbsp; زائد ایسی این جی اوز فعال ہیں جو مسلمانوں کو مرتد بنانے\u0026nbsp; میں سرگرم رہتی ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :مذکورہ عیسائی این جی اوز اپنے\u0026nbsp; مقاصد کیسے\u0026nbsp; حاصل کرتی ہیں ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :چرچ کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; کام کرنے\u0026nbsp; والی یا عیسائیت کے\u0026nbsp; نام پر مسلمانوں کو مرتد بنانے\u0026nbsp; اور ان کے\u0026nbsp; ایمان پر ڈاکہ ڈالنے\u0026nbsp; والی یورپی این جی اوز بلا سوچے\u0026nbsp; سمجھے\u0026nbsp; اور بغیر منصوبہ بندی کے\u0026nbsp; کوئی کام نہیں کر تیں، بلکہ وہ انتہائی باریک بینی سے\u0026nbsp; پایۂ تکمیل تک پہونچی ہوئی سروے\u0026nbsp; اور تحقیقی رپورٹوں کی روشنی میں پوری پلاننگ سے\u0026nbsp; کام کرتی ہیں وہ جس ملک میں کام کرنا چاہتی ہیں اس کے\u0026nbsp; متعلق ساری معلومات حاصل کرتی ہیں اس ملک کے\u0026nbsp; اندرونی اور بیرونی نقشہ جات اور سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور دیگر اہم جماعتوں کے\u0026nbsp; بارے\u0026nbsp; میں مکمل معلومات اور ان کی کمزوریوں اور دکھتی رگوں پر ماہرنبض شناس کی طرح ان کے\u0026nbsp; ہاتھ ہوتے\u0026nbsp; ہیں، وہ جب جہاں اور جیسے\u0026nbsp; چاہیں، اپنے\u0026nbsp; مقاصد حاصل کرتے\u0026nbsp; ہیں انہیں یہ معلومات بھی دی جاتی ہیں کہ ہدف ملک کو، اموال، اغذیہ، تعلیم اور صحت و کھیل وغیرہ میں کن اشیاء اور کتنی مقدار کی ضرورت ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"white-space: pre;\"\u003E \u003C\/span\u003Eہر شخص کو مرتد بنانے\u0026nbsp; کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے\u0026nbsp; مثلاً ایک لادینی شخص کو عیسائیت کے\u0026nbsp; نام پر حلقہ ارتداد میں انتہائی آسانی کے\u0026nbsp; ساتھ داخل کیا جاتا ہے\u0026nbsp; اس کی ترغیبات کے\u0026nbsp; مطابق اسے\u0026nbsp; شراب، شباب اور اموال مہیا کر دیئے\u0026nbsp; جاتے\u0026nbsp; ہیں جس سے\u0026nbsp; وہ ان کے\u0026nbsp; شکنجہ میں آتا جاتا ہے، بالآخر وہ اپنا شکنجۂ اسیری خوب کس دیتے\u0026nbsp; ہیں، البتہ ایک دیندار شخص کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; عیسائی مبلغین کے\u0026nbsp; سامنے\u0026nbsp; دوآپشن ہوتے\u0026nbsp; ہیں، وہ مرتد ہو جائے\u0026nbsp; یا اس کا ایمان کمزور ہو جائے\u0026nbsp; اور وہ زیادہ گناہوں میں مبتلا ہو جائے، نیز مسلمانوں کو گمراہ یا مرتد کرنے\u0026nbsp; کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; عیسائی مبلغین بتدریج ترغیب و تحریص سے\u0026nbsp; کام لیتے\u0026nbsp; ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :ایک مسلمان شخص کو آپ اس کے\u0026nbsp; دین سے\u0026nbsp; کیسے\u0026nbsp; دور کرتے\u0026nbsp; تھے ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :اگر ہمارا ٹارگیٹ ایک دیندار شخص ہوتا تو ہم اس کی خواہشات کی طرف دیکھتے، مثلاً شہرت، تعلیمی منصب، صنف نازک وغیرہ تو ہم میں سے\u0026nbsp; کوئی ایک مبلغ اس سے\u0026nbsp; اچانک ملاقات کرتا ہے\u0026nbsp; اور دوران گفتگو اس کے\u0026nbsp; میلان کی طرف توجہ کرتا ہے، پھر اس کی حسب خواہش مطلوبہ اشیاء و افر مقدار میں فراہم کرتا ہے\u0026nbsp; بلکہ ہمارا مبلغ اس پر حاوی ہو جاتا ہے\u0026nbsp; اور وہ اس پر بھروسہ کرنے\u0026nbsp; لگتا ہے\u0026nbsp; پھر بتدریج اسے\u0026nbsp; عیسائیت کی طرف مائل کر لیتا ہے\u0026nbsp; یا اسلام سے\u0026nbsp; اسے\u0026nbsp; دور کر دیتا ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :اگر آپ اپنے\u0026nbsp; مقاصد میں کامیاب نہیں ہوتے\u0026nbsp; تھے\u0026nbsp; تو پھر کیا کرتے\u0026nbsp; تھے\u0026nbsp; ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :جب ہمیں کسی ملک میں اپنے\u0026nbsp; مقاصد کے\u0026nbsp; حصول میں ناکامی ہوتی ہے\u0026nbsp; تو ہم اپنے\u0026nbsp; طریقے\u0026nbsp; تبدیل کر لیتے\u0026nbsp; ہیں مثلاً ہم وہاں کی حکومتوں پر اپنی حکومتوں کے\u0026nbsp; ذریعہ دباؤڈلواتے\u0026nbsp; ہیں کیونکہ ممالک یورپ اور چرچ کی تعلیمات کو رواج نہ دیتے\u0026nbsp; تھے، یا ہم وہاں کی عوام کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; پیش کردہ خدمات سے\u0026nbsp; ہاتھ کھینچ لیتے، چونکہ بیشتر مسلمان حکمراں ہماری امداد اور خدمات کے\u0026nbsp; بغیر جینا محال سمجھتے\u0026nbsp; ہیں، اس لئے\u0026nbsp; یہ آخری طریقہ آزمایا جاتا ہے\u0026nbsp; کہ مذکورہ ممالک پر سیاسی واقتصادی پابندی عائد کرواتے\u0026nbsp; ہیں، اور وہاں داخلی طور پر فتنہ و فساد اور تخریبی کا روائیاں شروع کر دیتے\u0026nbsp; ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :کیا آپ چرچ کے\u0026nbsp; ذرائع آمدنی کے\u0026nbsp; متعلق کچھ تفاصیل نذرقارئین کریں گے ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :یورپی ممالک میں ایک عام قانون ہے\u0026nbsp; کہ ہر ملازم کی تنخواہ سے\u0026nbsp; 5%فیصد چرچ فنڈ کے\u0026nbsp; نام پر لازمی طور پر کاٹ لیا جائے\u0026nbsp; گا۔نیز اکثر اسلامی اور افریقی ممالک میں یورپی سرمایہ کاری در اصل چرچ کی طرف سے\u0026nbsp; ہوتی ہے\u0026nbsp; اور ان سب کا منافع چرچ کے\u0026nbsp; مقاصد پر ہی خرچ ہوتا ہے۔اسی کے\u0026nbsp; بل بوتے\u0026nbsp; پر چرچ عیسائیت کی تبلیغ سرانجام دیتا ہے، مثلاً مصری چرچ دس ہزار سے\u0026nbsp; زائد جنوبی سوڈانی طلبہ کو اسکا لرشپ دیتا ہے\u0026nbsp; اور ان کی تعلیم و تربیت کی بھر پور نگہداشت کی جاتی ہے\u0026nbsp; تا کہ وہ تعلیم سے\u0026nbsp; فارغ ہو کر عیسائیت کے\u0026nbsp; مبلغ اور بائبل کے\u0026nbsp; علماء و فقہاء بن سکیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :آپ چرچ کی طرف سے\u0026nbsp; متعدد اہم عہدوں پر فائز رہے\u0026nbsp; تو آپ ان عہدوں کے\u0026nbsp; ساتھ کیا سلوک کرتے\u0026nbsp; تھے ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :یورپی چرچ کی تنظیمیں ان پر اموال کی بارش کرتیں اور بے\u0026nbsp; حد و حساب اموال مہیا کرتیں بلکہ ہمارے\u0026nbsp; عیش و آرام کا یہاں تک خیال رکھا جاتا کہ قیمتی گاڑیاں، خوبصورت عورتیں اور شراب وغیرہ بھی فراہم کی جاتی تا کہ ہم خود بھی مستفید ہوں اور ان لوگوں کو ان کے\u0026nbsp; ذریعہ ان کے\u0026nbsp; دین سے\u0026nbsp; برگشتہ بھی کریں ہمیں عمدہ اور مہنگی رہائشیں ملتیں اور تمام ممالک میں سفر کی سہولت مہیا کی جاتی تا ہم ان سب اشیاء نے\u0026nbsp; مجھے\u0026nbsp; کبھی بھی ذہنی سکون نہ پہونچایا، میں محسوس کرتا کہ ہمارے\u0026nbsp; کرتوت، میری فطرت اور مزاج کے\u0026nbsp; بالکل خلاف ہیں جس کے\u0026nbsp; نتیجہ میں میں نہایت رنج والم محسوس کرتا۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :آپ نے\u0026nbsp; عیش و عشرت کے\u0026nbsp; سائبان کیسے\u0026nbsp; ترک کرنا گوارا کئے\u0026nbsp; اور اسلام کیوں کر قبول کیا اور کیا آپ اس سے\u0026nbsp; مطمئن ہیں ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :الحمد للہ میں چرچ سے\u0026nbsp; ملنے\u0026nbsp; والی تمام مراعات چھوڑ چکا ہوں، میں ایسا محسوس کرتا ہوں گویا میں نئے\u0026nbsp; سرے\u0026nbsp; سے\u0026nbsp; پیدا ہوا ہوں نفسیاتی طور پر میں نہایت پر سکون ہوں\u0026nbsp; ۲۰۰۲ء میں میں نے\u0026nbsp; اسلام قبول کیا، اگر چہ میں اب تنگ دستی کا شکار ہوں، میں نے\u0026nbsp; ایم اے\u0026nbsp; کے\u0026nbsp; مرحلہ تعلیم میں تقابل ادیان کی تحقیق کر کے\u0026nbsp; اسلام قبول کیا اور درج ذیل نتائج حاصل کئے :\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۱)قرآن کے\u0026nbsp; شروع میں مولف کا نام نہیں ہے، جیسا کہ انا جیل اربعہ کا حال ہے\u0026nbsp; دلیل یہ ہے\u0026nbsp; کہ قرآن انسانی کا وش نہیں بلکہ الہامی کتاب ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۲) قرآن اللہ کا کلام اس لئے\u0026nbsp; بھی ہے\u0026nbsp; کہ آدم علیہ السلام سے\u0026nbsp; لے\u0026nbsp; کر محمد\u0026nbsp; ﷺ تک متعدد انبیائے\u0026nbsp; کرام کی سیرت و کر دار کو اس میں بیان کر دیا گیا ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۳)سیرت محمد ﷺ سے\u0026nbsp; تاکید اً یہ ثابت ہوتا ہے\u0026nbsp; اسلام ہی دین واحد اور عند اللہ مقبول ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۴)اسلامی تعلیمات کے\u0026nbsp; عین مطابق تمام انبیاء کرام کی دعوت فقط اسلام تھی، ہر نبی اور رسول کی نبوت و رسالت محدود مدت اور محدود اقوام کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; ہوتی تھی جب کہ محمد ﷺ کی دعوت و رسالت قیامت تک آنے\u0026nbsp; والے\u0026nbsp; سب انسانوں اور جنوں کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۵)سابقہ الہامی کتب میں کلام اللہ اور کلام الناس کے\u0026nbsp; درمیان کوئی حد فاصل نہیں، مثلاً اناجیل میں ہم سب یہی پڑھ سکتے\u0026nbsp; ہیں کہ یوحنانے\u0026nbsp; یوں کہا اور بترس نے\u0026nbsp; یوں کہا، یا فلاں نے\u0026nbsp; یوں کہا وغیرہ وغیرہ۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۶)اسلام میں کلام اللہ نہایت واضح ہے\u0026nbsp; اور رسول اللہ ﷺ کے\u0026nbsp; اقوال و افعال سنن بھی واضح ہیں، بلکہ (قرآن میں )سیرت محمد\u0026nbsp; ﷺ محدود مقدار میں ہے\u0026nbsp; یہ اس بات کی دلیل ہے\u0026nbsp; کہ اللہ نے\u0026nbsp; اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۷) اسلام عدل و انصاف اور سب لوگوں کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; مساوات کا دین ہے\u0026nbsp; اور اس میں اپنے\u0026nbsp; پیرو کا روں کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; تمام عقائد و نظریات نہایت واضح طور پر پیش کئے\u0026nbsp; گئے\u0026nbsp; ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n۸)اسلام کے\u0026nbsp; بر عکس عیسائیت میں ایسی متعدد اشیاء ہیں میں جن کی وجہ سے\u0026nbsp; وقتاً فو قتاً خجالت محسوس کرتا تھا کیوں کہ ان میں تعصب اور نسل پرستی نمایاں ہے\u0026nbsp; چوں کہ میں سیاہ فام ہوں اس لئے\u0026nbsp; مجھے\u0026nbsp; اکثر شرمندہ ہونا پڑتا تھا، کالے\u0026nbsp; عیسائیوں کی علیحدہ عبادت ہوتی ہے\u0026nbsp; اور گورے\u0026nbsp; عیسائی الگ عبادت کرتے\u0026nbsp; ہیں، امریکی چر چوں میں کسی کا لے\u0026nbsp; عیسائی کو جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ گوروں کے\u0026nbsp; چرچ میں پاؤں بھی دھر سکے\u0026nbsp; مثلاً امریکی وزیر خارجہ کولن پاول بھی ہر گز ہرگز یہ جرات نہیں کر سکتا کہ وہ گوروں کے\u0026nbsp; چرچ میں داخل ہو اور ان سے\u0026nbsp; ہم کلام ہو۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"white-space: pre;\"\u003E \u003C\/span\u003Eلیکن اسلام میں اس طرح کا کوئی امتیاز نہیں جب کوئی بھی مسلمان نماز کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; پہلی صف میں پہونچ جائے\u0026nbsp; وہ وہیں نماز پڑھ سکتا ہے\u0026nbsp; اور شاہ وگدا سب کے\u0026nbsp; سب اللہ کے\u0026nbsp; روبرو ہوتے\u0026nbsp; ہیں اسلام میں یہ بھی عین ممکن ہے\u0026nbsp; کہ سیاہ فام امام ہو اور گورے\u0026nbsp; اس کے\u0026nbsp; مقتدی ہوں یا گورا امام ہو اور دیگر سب لوگ اس کے\u0026nbsp; مقتدی ہوں اس میں قطعا ًکوئی فرق نہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :آپ کے\u0026nbsp; قبول اسلام کی خبر چرچ نے\u0026nbsp; کیسے\u0026nbsp; ہضم کی ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :چرچ میں بھونچال آ گیا انہوں نے\u0026nbsp; مجھے\u0026nbsp; مرتد کرنے\u0026nbsp; کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; تمام ہتھکنڈے\u0026nbsp; استعمال کئے\u0026nbsp; میرے\u0026nbsp; پاس کئی قسم کے\u0026nbsp; وفود آئے\u0026nbsp; اور سوڈان کے\u0026nbsp; اندر اور باہر سے\u0026nbsp; کبار مسیحی پادری میرے\u0026nbsp; پاس آتے\u0026nbsp; رہے\u0026nbsp; اور ترغیب و تحریص سے\u0026nbsp; لے\u0026nbsp; کر مکمل بائیکاٹ کی دھمکیاں بھی مجھے\u0026nbsp; دی جاتی رہیں اور بیحد و حساب لالچ، مکر و فریب دے\u0026nbsp; کر آزمایا جاتا رہا، تا ہم اسلام کو میں نے\u0026nbsp; پوری تحقیق کے\u0026nbsp; بعد گلے\u0026nbsp; لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے\u0026nbsp; جس کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; میرا سینہ منور کیا تھا میں اس اسلام پر مزید طاقت ور اور مضبوط ہوتا گیا اور مسیحی زعماء کی کوشش مجھے\u0026nbsp; راہ حق سے\u0026nbsp; ہٹا نے\u0026nbsp; میں ناکام ہو گئی۔جب چرچ مجھ سے\u0026nbsp; بالکل مایوس ہو گیا تو مجھے\u0026nbsp; جسمانی طور پر نقصان پہونچا نے\u0026nbsp; سے\u0026nbsp; ڈرایا گیا اور اپنے\u0026nbsp; بعض ایجنٹوں کے\u0026nbsp; ذریعہ مجھے\u0026nbsp; اغواکے\u0026nbsp; بعد قتل کرنے\u0026nbsp; کی کوشش کی گئی اگر چہ وہ کامیاب نہیں ہوئی تاہم میں اپنے\u0026nbsp; ساتھیوں کے\u0026nbsp; بغیر یورپی ممالک کا سفر نہیں کرتا علاوہ ازیں میرا چوں کہ ایک مقام ہے\u0026nbsp; اس وجہ سے\u0026nbsp; بھی میرے\u0026nbsp; مخالفین اپنے\u0026nbsp; ناپاک ارادوں میں ناکام رہتے\u0026nbsp; ہیں ایک بار مجھ پر قاتلانہ حملہ ہو ا لیکن میں اللہ کے\u0026nbsp; فضل سے\u0026nbsp; محفوظ رہا تب بھی قبیلہ والوں نے\u0026nbsp; میرا دفاع کیا۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"white-space: pre;\"\u003E \u003C\/span\u003Eجب سے\u0026nbsp; میں نے\u0026nbsp; اسلام قبول کیا میرا یقین ہے\u0026nbsp; کہ میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوں، نیز مجھے\u0026nbsp; اسلام لانے\u0026nbsp; کے\u0026nbsp; بعد یقین ہو گیا کہ موت عین حق ہے\u0026nbsp; لہٰذا اس سے\u0026nbsp; ڈرنے\u0026nbsp; کی قطعاً ضرورت نہیں، نیز مجھے\u0026nbsp; یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جو اسلام کا دفاع کرتے\u0026nbsp; ہوئے\u0026nbsp; مرجاتے\u0026nbsp; ہیں وہ شہید کہلاتے\u0026nbsp; ہیں اور اللہ کے\u0026nbsp; یہاں ان کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; اجر عظیم ہے، اس کے\u0026nbsp; برعکس یہودی اور عیسائی جینے\u0026nbsp; کے\u0026nbsp; شدید آرزومند ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :اسلام لانے\u0026nbsp; کے\u0026nbsp; بعد آپ نے\u0026nbsp; اپنے\u0026nbsp; مستقبل کے\u0026nbsp; بارے\u0026nbsp; میں کیا لائحہ عمل تیار کیا ہے\u0026nbsp; ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :میں نے\u0026nbsp; کچھ کتابیں لکھی ہیں، مثلاً میں کیوں مسلمان ہوا؟(۲)اسلام کی وسعت (۳)موجودہ عیسائی خرافات، میں نے\u0026nbsp; اپنے\u0026nbsp; آپ کو غیر مسلموں تک اسلام کی دعوت پہونچانے\u0026nbsp; کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; وقف کر دیا اور سوڈان میں جس تنظیم کا سربراہ ہوں یعنی سوڈان کی تعمیر و ترقی کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; اسلامی سرمایہ کاری کی تنظیم، اس میں پوری تند ہی و فعال کا رکن کی حیثیت سے\u0026nbsp; مگن ہوں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :آپ کی تصنیف ’میں کیوں مسلمان ہو ا ‘کا مرکزی تصور کیا ہے\u0026nbsp; ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :میں نے\u0026nbsp; اس میں اسلام اور دیگر مذاہب کا موازنہ پیش کیا ہے\u0026nbsp; اور اسلام کے\u0026nbsp; علاوہ دیگر ادیان میں موجود نقائص و عیوب واضح کئے\u0026nbsp; ہیں اور اسلام کے\u0026nbsp; مضبوط ثبوت جمع کر دئیے\u0026nbsp; ہیں در حقیقت اسلام میں تقسیم میراث کے\u0026nbsp; سسٹم نے\u0026nbsp; مجھے\u0026nbsp; مبہوت کر دیا ہے\u0026nbsp; چونکہ یہودیت میں بھی میراث کا تذکرہ ہے\u0026nbsp; لیکن لوگ اس پر راضی نہیں کیونکہ یہ طریقہ عادلانہ نہیں بلکہ ظالمانہ ہے\u0026nbsp; جبکہ عیسائیت میں نظام میراث کا وجود سرے\u0026nbsp; سے\u0026nbsp; ہی نہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"white-space: pre;\"\u003E \u003C\/span\u003Eاسلام نے\u0026nbsp; نظام میراث کو باریک بینی اور عدالت پر مبنی بنایا ہے\u0026nbsp; جس کی کوئی پہلے\u0026nbsp; نظیر نہیں ملتی، حتی کہ میں نے\u0026nbsp; اپنے\u0026nbsp; قبیلہ ’’دنکا‘‘میں اسلام کا نظام میراث نافذ کیا تو بیشتر جھگڑے\u0026nbsp; خود بخود ختم ہو گئے، حالانکہ بنیادی طور پر یہ قبیلہ مسیحی ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"white-space: pre;\"\u003E \u003C\/span\u003Eنیز میں نے\u0026nbsp; اپنی اس کتاب میں زندگی کے\u0026nbsp; تمام پہلووں پر اسلام کی مکمل رہنمائی کو بھی شامل کیا ہے۔میں نے\u0026nbsp; یہ واضح کیا ہے\u0026nbsp; کہ جو شخص اسلام قبول کر لیتا ہے\u0026nbsp; اور قولاً و فعلاً وہ اسلام پر کاربند ہو جاتا ہے\u0026nbsp; تو اسلام اسے\u0026nbsp; کس قدر نفسیاتی اور روحانی بلندی عطا فرماتا ہے\u0026nbsp; وہ اپنے\u0026nbsp; اسلام پر فخر محسوس کرتا ہے۔لیکن دیگر ادیان کی تعلیمات رسوم و رواج میں تضادات بے\u0026nbsp; شمار ہیں، یہ ادیان اس شخص کی ثقافت کو تبدیل نہیں کرتے\u0026nbsp; جو انہیں قبول کر لیتا ہے\u0026nbsp; پھر وہ یہ ادیان قبول کر کے\u0026nbsp; بھی اپنی ہوس گیری کو اسی طرح پوراکرتا ہے۔جس طرح وہ چاہتا ہے\u0026nbsp; ان لو گوں کے\u0026nbsp; کسی شخص کے\u0026nbsp; کر دار میں ناموں کے\u0026nbsp; علاوہ ادیان کا کوئی کر دار نہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :آپ کے\u0026nbsp; اسلام لانے\u0026nbsp; کے\u0026nbsp; بعد آپ کے\u0026nbsp; ہاتھ پر کتنے\u0026nbsp; لوگ مسلمان ہو چکے\u0026nbsp; ہیں ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :اللہ کے\u0026nbsp; فضل سے\u0026nbsp; اب تک میرے\u0026nbsp; ہاتھ ڈیڑھ لاکھ افراد مسلمان ہو چکے\u0026nbsp; ہیں اور الحمد للہ جنوبی سوڈان کے\u0026nbsp; چرچوں کے\u0026nbsp; ڈھائی ہزار اہم عہدہ دار بھی نو مسلموں میں شامل ہیں یہ لوگ کو ہ نوبہ اور صوبہ انجمنا سے\u0026nbsp; تعلق رکھتے\u0026nbsp; ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :اتنی بڑی تعداد کو آ پ نے\u0026nbsp; اسلام کی طرف کیسے\u0026nbsp; مائل کیا ؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp;جواب\u0026nbsp; :کسی غیر مسلم کو اسلام کا قائل کرنا نہایت آسان ہے\u0026nbsp; کیونکہ یہ لوگ خالی الذہن ہوتے\u0026nbsp; ہیں اسی حقیقت کو سامنے\u0026nbsp; رکھ کر میں نے\u0026nbsp; سب کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; واضح کر دیا کہ اسلام ہی ایک ایسا دین ہے\u0026nbsp; جس میں کسی قسم کا کوئی شرک نہیں اور اللہ کا پسندیدہ دین یہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے\u0026nbsp; فرمایا:’’بیشک اللہ کے\u0026nbsp; یہاں دین صرف اسلام ہے ‘‘(سورہ\u0026nbsp; آل عمران :۱۹)\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاسلام سب انسانیت سے\u0026nbsp; مخاطب ہوتا ہے\u0026nbsp; یہی ایک ایسا دین ہے\u0026nbsp; جو زندگی کے\u0026nbsp; تمام شعبہ جات کی ہر مشکل دور کرتا ہے\u0026nbsp; میں نے\u0026nbsp; ہر بڑے\u0026nbsp; نو مسلم مسیحی کی طرف خط بھی لکھا ہے\u0026nbsp; ا س میں خاص طور پر یہ واضح کیا ہے\u0026nbsp; کہ :\u0026nbsp; (۱)بے\u0026nbsp; شک اللہ تعالیٰ ایک ہے\u0026nbsp; اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تین کا ایک یا ایک میں تین نہیں۔\u0026nbsp; (۲) عیسیٰ ابن مریم دیگر انسانوں کی طرح انسان ہیں اور اللہ کے\u0026nbsp; رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے\u0026nbsp; ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا وہ نہ تو الہ ہیں اور نہ ہی اللہ کے\u0026nbsp; بیٹے\u0026nbsp; ہیں اور بے\u0026nbsp; شک عیسیٰ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے\u0026nbsp; اور آپ کی رسالت عام نہیں، اور عیسیٰ کو اللہ نے\u0026nbsp; لوگوں کے\u0026nbsp; کفارہ کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; نہیں بھیجا اور پھر عیسیٰ کو اس لئے\u0026nbsp; اللہ نے\u0026nbsp; نہیں بلایا کہ وہ اپنے\u0026nbsp; باپ کے\u0026nbsp; دائیں طرف بٹھائے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; سوال\u0026nbsp; :کیا آپ کو مسلمانوں کی موجودہ حالت زار نے\u0026nbsp; اسلام لانے\u0026nbsp; سے\u0026nbsp; روکا نہیں ؟\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; جواب\u0026nbsp; :جب میں نے\u0026nbsp; اسلام قبول کر لیا تو مسلمانوں کی حالتِ زار دیکھ کر انتہائی رنج و الم میں مبتلا ہو گیا کہ مسلمانوں کے\u0026nbsp; قبول و فعل میں تضاد ہے\u0026nbsp; اور مسلمان اسلام کو اپنے\u0026nbsp; اوپر لاگو نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ نے\u0026nbsp; قرآن مجید میں ذاتی و اجتماعی زندگی کے\u0026nbsp; لئے\u0026nbsp; دو رہنما اصول قرآن کریم اور حدیث نبوی مقرر کر دئے\u0026nbsp; ہیں لیکن کتنے\u0026nbsp; افسوس کی بات ہے\u0026nbsp; کہ مسلمان عملی طور پر دونوں رہنما ذرائع سے\u0026nbsp; فیصلے\u0026nbsp; نہیں کرپاتے\u0026nbsp; جب کہ اسلامی ممالک کے\u0026nbsp; حکمراں اسلامی نہج کو اہمیت نہیں دیتے، گویا مسلمانوں کی کمزوری کے\u0026nbsp; دو بنیادی سبب ہیں، ذاتی طور پر اپنے\u0026nbsp; دین سے\u0026nbsp; دوری اور حکومتی سطح پر دین کے\u0026nbsp; ساتھ بے\u0026nbsp; رغبتی۔اگر اسلامی ممالک کے\u0026nbsp; عوام اپنے\u0026nbsp; دین کی تعلیمات پر عمل کریں اور عملی طور پر اسے\u0026nbsp; اہمیت دیں اور حکمراں اپنی سیاست اور تمام شعبوں میں اسلام کو رہنمابنا لیں تو مسلمانوں کو ماضی کی کھو ئی عظمت اور شان و شوکت واپس مل سکتی ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n٭٭٭\u003C\/div\u003E\n\u003Chr \/\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/4805751649559740040\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/Colin-Check-se-guftgu.html#comment-form","title":"0 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/4805751649559740040"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/4805751649559740040"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/Colin-Check-se-guftgu.html","title":"ڈیڑھ لاکھ افراد کو مسلمان کرنے  والے  نو مسلم کولن چیک سے  ایک گفتگو"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"media$thumbnail":{"xmlns$media":"http://search.yahoo.com/mrss/","url":"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-QqMx6GV8hmc\/XJCZeXd7FfI\/AAAAAAAAAwc\/rW9jwiEKuw8kjCOwEfw6CetVQx0MX6mZACLcBGAs\/s72-c\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2BColin%2BCheck%2Bse%2Bguftgu.png","height":"72","width":"72"},"thr$total":{"$t":"0"}},{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-2007283156019449487"},"published":{"$t":"2019-03-17T06:20:00.000-07:00"},"updated":{"$t":"2019-03-17T08:03:14.422-07:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"Sarbakaf 10"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"راہِ اعتدال"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"}],"title":{"type":"text","$t":"مثبت تنقید اور امام ابو حنیفہؒ - شیخ سید احمد رضا بجنوری"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv class=\"postmeta\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ctable align=\"center\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" class=\"tr-caption-container\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto; text-align: center;\"\u003E\u003Ctbody\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Ca href=\"https:\/\/4.bp.blogspot.com\/-0Y9xSvCV8kE\/XI5hdP84RYI\/AAAAAAAAAwE\/CD62u2_GYFkmb0pyCliMDNbv13NzYEl9wCLcBGAs\/s1600\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Bmasbat%2Btanqeed%2Bahmad%2Braza%2Bbijnori.png\" imageanchor=\"1\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto;\"\u003E\u003Cimg border=\"0\" data-original-height=\"1200\" data-original-width=\"1600\" height=\"240\" src=\"https:\/\/4.bp.blogspot.com\/-0Y9xSvCV8kE\/XI5hdP84RYI\/AAAAAAAAAwE\/CD62u2_GYFkmb0pyCliMDNbv13NzYEl9wCLcBGAs\/s320\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Bmasbat%2Btanqeed%2Bahmad%2Braza%2Bbijnori.png\" width=\"320\" \/\u003E\u003C\/a\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd class=\"tr-caption\" style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Ctable align=\"center\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" class=\"tr-caption-container\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto; text-align: center;\"\u003E\u003Ctbody\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd class=\"tr-caption\" style=\"font-size: 12.8px;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-family: \u0026quot;times\u0026quot; , \u0026quot;times new roman\u0026quot; , serif;\"\u003EImam Abu Hanifa and Positive Criticism\u003C\/span\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/tbody\u003E\u003C\/table\u003E\n\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/tbody\u003E\u003C\/table\u003E\n\u003Cspan class=\"author\"\u003E\nشیخ سید احمد رضا بجنوری\u003C\/span\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"separator\" style=\"clear: both; text-align: center;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv class=\"mudeer\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nصحت مند مباحثوں کی بجائے دشنام طرازیوں اور ذاتی الزام تراشیوں کو علمی کارنامہ سمجھنے والوں کے لیے سر بکف کا نیا سلسلہ۔ امید ہے اس سے نتیجہ بخش مناظروں کو فروغ ملے گا۔ (مدیر)\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nتنقید کے متعلق اسلاف کا رویہ\u003C\/h3\u003E\nیہاں خاص طور سے یہ بات نوٹ کر کے آگے بڑھیے کہ حافظ ابن البر ، امت کے چند گنے چنے نہایت اونچے درجہ کے محققین میں سے ہیں اور ان کے قول کو اکثر حرفِ آخر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے مگر جب ایک بات کا خالص تحقیقی زاویۂ نگاہ سے بے لاگ فیصلہ کرنا ہوا تو اتنی عظیم القدر شخصیت بھی اس سے مانع نہیں ہو سکی ۔ حافظ نے جانب مخالف کو قوی کہا تو حا فظ عینی نے اور بھی تر یاد و صراحت کے ساتھ ان کے قول کو مخدوش ہی فرما دیا۔ یہ تھا قد یم اور صحیح\u0026nbsp; طرزِ تحقیق۔\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp;اور آج اگر کسی بڑے شخص کی کسی تحقیق کے بارے میں کوئی خامی بتلا دی جائے تو کہہ دیا جائے گا\u0026nbsp; کہہ یہ ان کی عظمت کا قائل نہیں۔\u0026nbsp; حالانکہ انبیاء علیہ السلام کے سوا کسی کے لیے عصمت نہیں اور سب سے غلطی ہوتی ہے بڑے بڑوں سے ہوئی ہے۔ ان کے دنیوی فضائل اور اخروی مراتب عالیہ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر ان کی تحقیق کوقرآن و سنت کی کسوٹی پر ضرور کسا جائے گا۔ اور اپنا ہو یا کسی لحاظ سے غیر، اس کی رائے کو تنقید سے بالاتر نہیں کہا جائے گا ۔\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nحضرت امام ابو حنیفہ کو خادمان علوم نبوت وقوانین شریعت میں سب سے اول،\u0026nbsp; اعلی اور اعظم مرتبہ مقام حاصل ہے۔ موجودہ حدیثی ذخیروں میں سب سے پہلا مدون مرتب احادیث احکام کا ذخیره ان ہی کی ذات اقدس سے منسوب ”مسانید الامامؒ“ کی صورت میں ہے جن کی اسانید تمام موجودہ کتب حد یث\u0026nbsp; کی اسانید سے زیاده عالی مرتبت ہیں اور ان کی مجلس تدوین فقہ کی بارہ لاکھ سے زیاد و مسائل اسی وقت سے اب تک (کہ بار وسوسال زیادہ گذر چکے ہیں) دائروسائر ہیں۔ بعد کے بڑےبڑے محدثین وفقہاء نے ان پر دل کھول کر تنقید یں بھی کیں اور اس سلسلہ میں جتنا کام حق و انصاف ، تحقیق واعتدال سے ہوا اس سے امت کو بڑے فوائد حاصل ہوئے۔\u0026nbsp; محققین علما ء حنفیہ نے ہمیشہ\u0026nbsp; تنقید پرٹھنڈے دل سے غور وفکر کیا اور آج بھی اسی فکر و ذہن سے سوچتےہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nاکابر دیوبند اور حضرت انور شاہ کشمیریؒ\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp;قریبی دور میں ہمارے اکابر دیوبند کا بھی یہی طریق رہا ہے اور خصوصیت سے ہمارے حضرت شاہ صاحب نے پورے تیسسال تک تمام فقہی و کلامی\u0026nbsp; ذخیروں پر گہری نظر فرما کر ہی معلوم کرنے کی سعی فرمائی کہ حنفی مسلک میں واقعی خامیاں اور کمزوریاں کیا کیا ہیں؟ اور آخر میں یہ فیصلہ علی وجہ\u0026nbsp; بصیرت فرما گئے کہ قرآن و حدیث اور آثارِ صحابہؓ و تابعینؒ\u0026nbsp; کی روشنی میں بجز ایک دو مسائل کے فقہِ حنفی کے تمام مسائل نہایت مضبوط و عام ہیں اور آپ کا یہ قطعی فیصلہ تھا کہ استنباطِ مسائل کے وقت حدیث سے فقہ کی جانب آنا چاہیے، فقہ سے حدیث کی طرف نہیں۔ یعنی\u0026nbsp; سب سے خالی الذہن ہوکر شارع علیہ السلام کی مراد تعین کی جائے اور اس کی رو سے فقہی احکام کی تشخیص عمل میں آ جائے ۔ یہ نہیں کہ پہلے اپنی فکر و ذہن کی قالب میں مسائل ڈھال کر ان ہی کو حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش ہو، اسی زریں اصول کے تحت آپ تمام اجتهادی مسائل کا جائزہ لیتے تھے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔\u003C\/div\u003E\n\u003Chr \/\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nماخوذ از: انوار الباری، شیخ سید احمد رضا بجنوری، مجموعۂ افادات:انور شاہ کشمیریؒ۔ جلد ۵، ص ۲۶۳۔ تاریخ اشاعت ربیع الثانی ۱۴۲۵ھ\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/2007283156019449487\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/masbat-tanqeed-aur-imam-abu-haneefa-by-ahmad-raza-bijnori.html#comment-form","title":"0 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/2007283156019449487"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/2007283156019449487"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/masbat-tanqeed-aur-imam-abu-haneefa-by-ahmad-raza-bijnori.html","title":"مثبت تنقید اور امام ابو حنیفہؒ - شیخ سید احمد رضا بجنوری"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"media$thumbnail":{"xmlns$media":"http://search.yahoo.com/mrss/","url":"https:\/\/4.bp.blogspot.com\/-0Y9xSvCV8kE\/XI5hdP84RYI\/AAAAAAAAAwE\/CD62u2_GYFkmb0pyCliMDNbv13NzYEl9wCLcBGAs\/s72-c\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Bmasbat%2Btanqeed%2Bahmad%2Braza%2Bbijnori.png","height":"72","width":"72"},"thr$total":{"$t":"0"}},{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-1829615233674713106"},"published":{"$t":"2019-03-17T02:18:00.004-07:00"},"updated":{"$t":"2019-03-17T02:21:25.646-07:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"Sarbakaf 10"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"حدیث شریف-تفہیم"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"}],"title":{"type":"text","$t":"الاحادیث المنتخبہ - 10"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv class=\"postmeta\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan class=\"author\"\u003E\nپیش کش: مدیر\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cdiv class=\"mudeer\"\u003E\n'سربکف' کے پہلے شمارے سے اس سلسلے کے تحت وہ احادیث لائی جارہی ہیں جو عموماً قارئین کو یاد ہوتی ہیں، نیز\u0026nbsp; وہ احادیث\u0026nbsp; بھی جو تبلیغی جماعت والے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے احادیث کی ترویج\u0026nbsp; \u0026nbsp; درست طریقے پر ہو گی، اور من گھڑت قصے کہانیوں کو بطور حدیث پیش کرنے کی فاش غلطی کا سدباب ہوگا انشاءاللہ۔ احادیث بمع حوالہ درج\u0026nbsp; کی جاتی ہیں،تاکہ بوقتِ ضرورت کام آسکیں۔(مدیر)\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Ch2 style=\"text-align: right;\"\u003E\nفعلیکم بسنتی -\u0026nbsp;\u0026nbsp;فتنوں کے دور میں سنت رسول ﷺ سے چمٹے رہنے ہی میں سلامتی ہے\u0026nbsp;\u003C\/h2\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\"\u003E\nفقال العرباض \" صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم ثم اقبل علينا فوعظنا موعظة بليغة ذرفت منها العيون ووجلت منها القلوب فقال قائل:‏‏‏‏ يا رسول الله كان هذه موعظة مودع فماذا تعهد إلينا؟ فقال:‏‏‏‏اوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن عبدا حبشيا فإنه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثات الامور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة \".\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n(سنن ابی داود ،حدیث نمبر: ۴۶۰۷ )\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\nجناب عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\nتخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی\/العلم ۱۶ (۲۶۷۶)، سنن ابن ماجہ\/المقدمة ۶ (۴۳، ۴۴)، (تحفة الأشراف: ۹۸۹۰)\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Ch2 style=\"text-align: justify;\"\u003E\nتشبہ بالکفار\u003C\/h2\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ \"‏ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ‏\"‏ ‏.\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u0026nbsp;”جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔“\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u0026nbsp;(سنن ابو داوٴد، کتاب اللباس، رقم الحدیث: ۴۰۳۱)\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/1829615233674713106\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/al-ahadith-ul-muntakhabah-10.html#comment-form","title":"0 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/1829615233674713106"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/1829615233674713106"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/al-ahadith-ul-muntakhabah-10.html","title":"الاحادیث المنتخبہ - 10"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}},{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-39292684159674384"},"published":{"$t":"2019-03-15T09:34:00.000-07:00"},"updated":{"$t":"2019-03-17T02:26:55.423-07:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"Sarbakaf 10"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"قرآنِ مقدس-تذکیر"}],"title":{"type":"text","$t":"اعجازِ قرآن - مفتی شفیع عثمانیؒ"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv class=\"postmeta\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan class=\"author\"\u003E\nمفتی شفیع عثمانیؒ\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ctable align=\"center\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" class=\"tr-caption-container\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto; text-align: center;\"\u003E\u003Ctbody\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Ca href=\"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-SWjCfXb1OM0\/XIvTuAYPu1I\/AAAAAAAAAvs\/cPK4NUQnAKAqDB0ovr90q9XMoQsqmNCQgCLcBGAs\/s1600\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Baijaz-e-quran%2Bshafi%2Busmani.png\" imageanchor=\"1\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto;\"\u003E\u003Cimg border=\"0\" data-original-height=\"1200\" data-original-width=\"1600\" height=\"240\" src=\"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-SWjCfXb1OM0\/XIvTuAYPu1I\/AAAAAAAAAvs\/cPK4NUQnAKAqDB0ovr90q9XMoQsqmNCQgCLcBGAs\/s320\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Baijaz-e-quran%2Bshafi%2Busmani.png\" width=\"320\" \/\u003E\u003C\/a\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd class=\"tr-caption\" style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-family: \u0026quot;times\u0026quot; , \u0026quot;times new roman\u0026quot; , serif;\"\u003EInimitability of the Qur'an\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"font-size: medium; text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/tbody\u003E\u003C\/table\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\nوَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ وَادۡعُوۡا شُهَدَآءَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﻿﻿ ﴿2:23﴾\u003Cbr \/\u003E\nفَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَلَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوۡا النَّارَ الَّتِىۡ وَقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ  ۖۚ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿2:24﴾\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\nاور اگر تم شک میں ہو اس کلام سے جو اتارا ہم نے اپنے بندے پر تو لے آؤ ایک سورت اس جیسی اور بلاؤ ان کو جو تمہارا مددگار ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔ اگر تم اس کی مثال نہ لاسکے اور ہرگز نہ لاسکو گے تو پھر اس جہنم کی آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو منکروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch2\u003E\nوجوہ اعجاز قرآنی :\u003C\/h2\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nپہلی بات کہ قرآن کو معجزہ کیوں کہا گیا ؟ اور وہ کیا وجوہ ہیں جن کے سبب ساری دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے اس پر قدیم وجدید علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں اور ہر مفسر نے اپنے اپنے طرز میں اس مضمون کو بیان کیا ہے میں اختصار کے ساتھ چند ضروری چیزیں عرض کرتا ہوں۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Ch3\u003E\nپہلی وجہ:\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاس جگہ سب سے پہلے غور کرنے کی چیز یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب کل علوم کی جامع کتاب، کس جگہ، کس ماحول میں، اور کس پر نازل ہوئی اور کیا وہاں کچھ ایسے علمی سامان موجود تھے جن کے ذریعہ دائرہ اسباب میں ایسی جامع بےنظیر کتاب تیار ہوسکے، جو علوم اوّلین و آخرین کی جامع اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کے متعلق بہترین ہدایت پیش کرسکے جس میں انسان کی جسمانی اور روحانی تربیت کا مکمل نظام ہو اور تدبیر منزل سے لے کر سیاست ممالک تک ہر نظام کے بہترین اصول ہوں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nجس سرزمین اور جس ذات پر یہ کتاب مقدس نازل ہوئی اس کی جغرافیائی کیفیت اور تاریخی حالت معلوم کرنے کے لئے آپ کو ایک ریگستانی خشک اور گرم علاقہ سے سابقہ پڑے گا جس کو بطحاء مکہ کہتے ہیں اور جو نہ زرعی ملک ہے نہ صنعتی نہ اس ملک کی آب وہوا ہی کچھ خوشگوار ہے جس کے لئے باہر کے آدمی وہاں پہنچنے کی رغبت کریں نہ راستے ہی کچھ ہموار ہیں جن سے وہاں تک پہنچنا آسان ہو اکثر دنیا سے کٹا ہوا ایک جزیرہ نما ہے جہاں خشک پہاڑوں اور گرم ریگ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور دور تک نہ کہیں بستی نظر آتی ہے نہ کوئی کھیت نہ درخت، اس پورے خطہ ملک میں کچھ بڑے شہر بھی نہیں چھوٹے چھوٹے گاؤں اور ان میں اونٹ بکریاں پال کر اپنی زندگی گذارنے والے انسان بستے ہیں اس کے چھوٹے دیہات کا تو دیکھنا کیا جو برائے نام چند شہر کہلاتے ہیں ان میں بھی کسی قسم کے علم وتعلیم کا کوئی چرچا نہیں نہ وہاں کوئی اسکول اور کالج ہے نہ کوئی بڑی یونیورسٹی یا دارالعلوم، وہاں کے باشندوں کو اللہ تعالیٰ نے محض قدرتی اور پیدائشی طور پر فصاحت و بلاغت کا ایک فن ضرور دے دیا ہے جس میں وہ ساری دنیا سے فائق اور ممتاز ہیں وہ نثر اور نظم میں ایسے قادر الکلام ہیں کہ جب بولتے ہیں تو رعد کی طرح کڑکتے اور بادل کی طرح برستے ہیں ان کی ادنٰی ادنٰی چھوکریاں ایسے فصیح وبلیغ شعر کہتی ہیں کہ دنیا کے ادیب حیران رہ جائیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nلیکن یہ سب کچھ ان کا فطری فن ہے جو کسی مکتب یا مدرسہ میں حاصل نہیں کیا جاتا، غرض نہ وہاں تعلیم و تعلم کا کوئی سامان ہے نہ وہاں کے رہنے والوں کو ان چیزوں سے کوئی لگاؤ یا دل بستگی ہے ان میں کچھ لوگ شہری زندگی بسر کرنے والے ہیں تو وہ تجارت پیشہ ہیں مختلف اجناس مال کی درآمد برآمد ان کا مشغلہ ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاس ملک کے قدیم شہر مکہ کے ایک شریف گھرانہ میں وہ ذات مقدّس پیدا ہوتی ہے جو مہبط وحی ہے جس پر قرآن اترا ہے اب اس ذات مقدّس کا حال سنئے :\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nولادت سے پہلے ہی والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا پیدا ہونے سے پہلے یتیم ہوگئے ابھی سات سال کی عمر بھی نہ تھی کہ والدہ کی بھی وفات ہوگئی آغوش مادر کا گہوارہ بھی نصیب نہ رہا شریف آباء و اجداد کی فیاضی اور بےمثل سخاوت نے اپنے گھر میں کوئی اندوختہ نہ چھوڑا تھا جس سے یتیم کی پرورش اور آئندہ زندگی کا سامان ہوسکے نہایت عسرت کی زندگی پھر ماں باپ کا سایہ سر پر نہیں، ان حالات میں آپ نے پرورش پائی اور عمر کا ابتدائی حصہ گذارا جو تعلیم و تعلم کا اصلی وقت ہے، اس وقت اگر مکہ میں کوئی دارالعلوم یا اسکول وکالج بھی ہوتا تو بھی آپ کے لئے اس سے استفادہ مشکل تھا مگر معلوم ہوچکا کہ وہاں سرے سے یہ علمی مشغلہ اور اس سے دلچسپی ہی کسی کو نہ تھی اسی لئے یہ پوری قوم عرب امیین کہلاتے تھے قرآن کریم نے بھی ان کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا تھا کہ آپ ہر قسم کی تعلیم و تعلم سے بیخبر رہے وہاں کوئی بڑا عالم بھی ایسا نہ تھا جس کی صحبت میں رہ کر یہ علوم حاصل کئے جاسکیں جن کا قرآن حامل ہے پھر قدرت کو تو ایک فوق العادۃ معجزہ دکھلانا تھا، آپ کے لئے خصوصی طور پر ایسے سامان ہوئے معمولی نوشت وخواند جو ہر جگہ کے لوگ کسی نہ کسی طرح سیکھ ہی لیتے ہیں آپ نے وہ بھی نہ سیکھی بالکل امی محض رہے کہ اپنا نام تک بھی نہ لکھ سکتے تھے عرب کا مخصوص فن شعر و سخن تھا جس کے لئے خاص خاص اجتماعات کئے جاتے اور مشاعرے منعقد ہوتے اور اس میں ہر شخص مسابقت کی کوشش کرتا تھا آپ کو حق تعالیٰ نے ایسی فطرت عطا فرمائی تھی کہ ان چیزوں سے بھی دلچسپی نہ لی نہ کبھی کوئی شعر یا قصیدہ لکھا نہ کسی ایسی مجلس میں شریک ہوئے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nہاں امی محض ہونے کہ ساتھ بچپن سے ہی آپ کی شرافت نفس، اخلاق فاضلہ، فہم، و فراست کے غیر معمولی آثار، دیانت و امانت کے اعلیٰ ترین شاہکار آپ کی ذات مقدس میں ہر وقت مشاہدہ کئے جاتے تھے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ عرب کے بڑے بڑے مغرور ومتکبّر سردار آپ کی تعظیم کرتے تھے اور سارے مکہ میں آپ کو امین کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ امی محض چالیس سال تک مکہ میں اپنی برادری کے سامنے رہتے ہیں کسی دوسرے ملک کا سفر بھی نہیں کرتے جس سے یہ خیال پیدا ہوسکے کہ وہاں جاکر علوم حاصل کئے ہوں گے صرف ملک شام کے دو تجارتی سفر ہوئے وہ بھی گنے چنے چند کے لئے جس میں اس کا امکان نہیں۔\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاس امی محض ذات مقدس کی زندگی کے چالیس سال مکہ میں اپنی برادری میں اس طرح گذرے کہ نہ کبھی کسی کتاب یا قلم کو ہاتھ لگایا نہ کسی مکتب میں گئے نہ کسی مجلس میں کوئی نظم وقصیدہ ہی پڑھا ٹھیک چالیس سال کے بعد ان کی زبان مبارک پر وہ کلام آنے لگا جس کا نام قرآن ہے جو اپنی لفظی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اور معنوی علوم وفنون کے لحاظ سے محیّر العقول کلام ہے اگر صرف اتنا ہی ہوتا تو بھی اس کے معجزہ ہونے میں کسی انصاف پسند کو کیا شبہ رہ سکتا ہے مگر یہاں یہی نہیں بلکہ اس نے ساری دنیا کو تحدد کی (چیلنج) دیا کہ کسی کو اس کے کلام الہی ہونے میں شبہ ہو تو اس کا مثل بنا لائے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاب ایک طرف قرآن کی یہ تحدی اور چیلنج اور دوسری طرف ساری دنیا کی مخالف طاقتیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کو شکست دینے کے لئے اپنی مال، جان، اولاد، آبرو، سب گنوانے کو تیار ہیں مگر اتنا کام کرنے کے لئے کوئی جرأت نہیں کرتا کہ قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت کی مثال بنا لائے فرض کرلیجئے کہ یہ کتاب بےمثال و بےنظیر بھی نہ ہوتی جب بھی ایک امیّ محض کی زبان سے اس کا ظہور اعجاز قرآن اور وجوہ اعجاز کی تفصیل میں جائے بغیر بھی قرآن کریم کے معجزہ ہونے کے لئے کم نہیں جس کو ہر عالم و جاہل سمجھ سکتا ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nاعجاز قرآن کی دوسری وجہ :\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاب اعجاز قرآن کی دوسری وجہ دیکھئے یہ آپ کو معلوم ہے کہ قرآن اور اس کے احکام دنیا کے لئے آئے لیکن اس کے بلا واسطہ اور پہلے مخاطب عرب تھے جن کو اور کوئی علم وفن آتا تھا یا نہیں مگر فصاحت و بلاغت ان کا فطری ہنر اور پیدائشی وصف تھا جس میں وہ اقوام دنیا سے ممتاز سمجھے جاتے تھے قرآن ان کو مخاطب کرکے چیلنج کرتا ہے کہ اگر تمہیں میرے کلام الہی ہونے میں کوئی شبہ ہے تو میرے ایک سورت کی مثال بنا کر دکھلا دو اگر قرآن کی یہ تحدی (چیلنج) صرف اپنے حسن معنوی یعنی حکیمانہ اصول اور علمی معارف و اسرار ہی کی حد تک ہوتی جو قوم امیین کے لئے اس کی نظیر پیش کرنے سے عذر معقول ہوتا لیکن قرآن نے صرف حسن معنوی ہی کے متعلق تحدی نہیں کی بلکہ لفظی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی پوری دنیا کو چیلنج دیا ہے اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے اقوام عالم میں سب سے زیادہ مستحق عرب ہی تھے اگر فی الواقع یہ کلام قدرت بشر سے باہر کسی مافوق قدرت کا کلام نہیں تھا تو بلغاء عرب کے لئے کیا مشکل تھا کہ ایک امی شخص کے کلام کی مثال بلکہ اس سے بہتر کلام فوراً پیش کردیتے اور ایک دو آدمی یہ کام نہ کرسکتے تو قرآن نے ان کو یہ سہولت بھی دی تھی کہ ساری قوم مل کر بنا لائے مگر قرآن کے اس بلند بانگ دعوے اور پھر طرح طرح سے غیرت دلانے پر بھی عرب کی غیّورقوم پوری کی پوری خاموش ہے چند سطریں بھی مقابلہ پر نہیں پیش کرتی۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nعرب کے سرداروں نے قرآن اور اسلام کے مٹانے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغلوب کرنے میں جس طرح اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا وہ کسی لکھے پڑھے آدمی سے مخفی نہیں شروع میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے گنے چنے رفقاء کو طرح طرح کی ایذائیں دے کر چاہا کہ وہ کلمہ اسلام کو چھوڑ دیں مگر جب دیکھا کہ یہاں وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے تو خوشامد کا پہلو اختیار کیا عرب کا سردار عتبہ ابن ربیعہ قوم کا نمائندہ بن کر آپ کے پاس حاضر ہوا اور عرب کی پوری دولت و حکومت اور بہت حسن و جمال کی لڑکیوں کی پیشکش اس کام کے لئے کی کہ آپ اسلام کی تبلیغ چھوڑ دیں آپ نے اس کے جواب میں قرآن کی چند آیتیں سنا دینے پر اکتفا فرمایا جب یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہوئی تو جنگ و مقابلہ کے لئے تیار ہو کر قبل از ہجرت اور بعد از ہجرت جو قریش عرب نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے مقابلہ میں سر دھڑ کی بازی لگائی جان مال اولاد سب کچھ اس مقابلہ میں خرچ کرنے کے لئے تیار ہوئے یہ سب کچھ کیا مگر یہ کسی سے نہ ہوسکا کہ قرآن کے چیلنج کو قبول کرتا اور چند سطریں مقابلہ پر پیش کردیتا کیا ان حالات میں سارے عرب کے مقابلہ سے سکوت اور عجز اس کی کھلی ہوئی شہادت نہیں کہ یہ انسان کا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کے کام یا کلام کی نظیر انسان کیا ساری مخلوق کی قدرت سے باہر ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nپھر صرف اتنا ہی نہیں کہ عرب نے اس کے مقابلہ سے سکوت کیا بلکہ اپنی خاص مجلسوں میں سب نے اس کے بےمثال ہونے کا اعتراف کیا اور جو ان میں سے منصف مزاج تھے انہوں نے اس بنی عبد مناف کی ضد کی وجہ سے اسلام قبول کرنے سے باوجود اعتراف کے محروم رہے قریش عرب کی تاریخ ان واقعات پر شاہد ہے میں اس میں سے چند واقعات اس جگہ بیان کرتا ہوں جس سے اندازہ ہوسکے کہ پورے عرب نے اس کلام کے بےمثل، بےنظیر ہونے کو تسلیم کیا اور اس کی مثال پیش کرنے کو اپنی رسوائی کے خیال سے چھوڑ دیا جس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کا چرچا مکہ سے باہر حجاز کے دوسرے مقامات میں ہونے لگا اور حج کا موسم آیا تو قریش مکہ کو اس کی فکر ہوئی کہ اب اطراف عرب سے حجاج آئیں گے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ کلام سنیں گے تو فریفتہ ہوجائیں گے اور غالب خیال یہ ہے کہ مسلمان ہوجائیں گے اس کے انسداد کی تدبیر سوچنے کے لئے قریش نے ایک اجلاس منعقد کیا اس اجلاس میں عرب کے بڑے بڑے سردار موجود تھے ان میں ولید بن مغیرہ عمر میں سب سے بڑے اور عقل میں ممتاز سمجھے جاتے تھے سب نے ولید بن مغیرہ کو یہ مشکل پیش کی کہ اب اطراف ملک سے لوگ آئیں گے اور ہم سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق پوچھیں گے تو ہم کیا کہیں ؟ ہمیں آپ کوئی ایسی بات بتلائیے کہ ہم سب وہ بات کہہ دیں ایسا نہ ہو کہ خود ہمارے بیانات میں اختلاف ہوجائے ولید بن مغیرہ نے کہا کہ تم ہی کہو کیا کہنا چاہئے؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nلوگوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں ہم سب یہ کہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاذ اللہ مجنون ہیں، ان کا کلام مجونانہ بڑ ہے، ولید بن مغیرہ نے کہا کہ تم ایسا ہرگز نہ کہنا کیونکہ یہ لوگ جب ان کے پاس جائیں گے اور ان سے ملاقات و گفتگو کریں گے، اور ان کو فصیح وبلیغ عاقل انسان پائیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ اچھا ہم ان کو یہ کہیں کہ وہ شاعر ہیں ولید نے اس سے بھی منع کیا اور کہا کہ جب لوگ ان کا کلام سنیں گے وہ تو شعر و شاعری کے ماہر ہیں انھیں پتا چل جائے گا کہ یہ شعر نہیں اور نہ آپ شاعر ہیں نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ سب لوگ تمہیں جھوٹا سمجھیں گے پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ تو پھر ہم ان کو کاہن قرار دیں، جو شیاطین وجنات سے سن کر غیب کی خبریں دیا کرتے ہیں ولید نے کہا یہ بھی غلط ہے کیونکہ جب لوگ ان کا کلام سنیں گے تو پتہ چل جائے گا کہ یہ کلام کسی کاہن کا نہیں ہے وہ پھر بھی تمہیں جھوٹا سمجھیں گے اس کے بعد قرآن کے بارے میں جو ولید بن مغیرہ کا اثرات تھے ان کو ان الفاظ میں بیان کیا:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nخدا کی قسم ! تم میں کوئی آدمی شعر و شاعری اور اشعار عرب سے میرے برابر واقف نہیں، خدا کی قسم ! اس کلام میں خاص حلاوت ہے، اور ایک خاص رونق ہے جو میں نے کسی شاعر یا فصیح وبلیغ کے کلام میں نہیں پاتا۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nپھر ان کی قوم نے دریافت کیا کہ آپ ہی بتلائیے پھر ہم کیا کریں ؟ اور ان کے بارے میں لوگوں سے کیا کہیں ؟ ولید نے کہا میں غور کرنے کے بعد کچھ جواب دوں گا پھر بہت سوچنے کے بعد کہا کہ اگر کچھ کہنا ہی ہے تو تم ان کو ساحر کہو کہ اپنے جادو سے باپ بیٹے اور میاں بیوی میں تفرقہ ڈال دیتے ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nقوم اس پر مطمئن اور متفق ہوگئی اور سب سے یہی کہنا شروع کیا مگر خدا کا چراغ کہیں پھونکوں سے بجُھنے والا تھا ؟ اطراف عرب کے لوگ آئے قرآن سنا اور بہت سے مسلمان ہوگئے اور اطراف عرب میں اسلام پھیل گیا، (خصائص کبٰری)\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاسی طرح ایک قرشی سردار نضر بن حارث نے ایک مرتبہ اپنی قوم کو خطاب کرکے کہا:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاے قوم قریش، آج تم ایک مصیبت میں گرفتار ہو کہ اس سے پہلے کبھی ایسی مصیبت سے سابقہ نہیں پڑا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری قوم کے ایک نوجوان تھے اور تم سب ان کے عادات و اخلاق کے گرویدہ اور اپنی قوم میں ان کو سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ امانت دار جانتے اور کہتے تھے اب جب کہ ان کے سر میں سفید بال آنے لگے اور انہوں نے ایک بےمثال کلام اللہ کی طرف سے پیش کیا تو تم ان کو جادوگر کہنے لگے خدا کی قسم وہ جادوگر نہیں ہم نے جادوگروں کو دیکھا اور برتا ہے ان کے کلام سنے ہیں اور طریقوں کو سمجھا ہے وہ بالکل اس سے مختلف ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاور کبھی تم ان کو کاہن کہنے لگے، خدا کی قسم ! وہ کاہن بھی نہیں ہم نے بہت سے کاہنوں کو دیکھا اور ان کے کلام سنے ہیں ان کو ان کے کلام سے کوئی مناسبت نہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاور کبھی تم ان کو شاعر کہنے لگے خدا کی قسم ! وہ شاعر بھی نہیں ہم نے خود شعر شاعری کے تمام فنون کو سیکھا سمجھا ہے اور بڑے بڑے شعراء کے کلام ہمیں یاد ہیں ان کے کلام سے اس کو کوئی مناسبت نہیں پھر کبھی تم ان کو مجنون بتاتے ہو خدا کی قسم ! وہ مجنون بھی نہیں، ہم نے بہت سے مجنونوں کو دیکھا بھالا ان کی بکواس سنی ہے ان کے مختلف اور مختلط کلام سنے ہیں یہاں یہ کچھ نہیں اے میری قوم تم انصاف کے ساتھ ان کے معاملہ میں غور کرو یہ سرسری ٹلا دینے کی چیز نہیں۔ (خصائص کبرٰی ص ١١٤: ج ١)\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nحضرت ابوذر صحابی فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کا رسول ہے، میں نے پوچھا کہ وہاں کے لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ؟ بھائی نے کہا کہ کوئی ان کو شاعر کہتا ہے کوئی کاہن بتلاتا ہے کوئی جادوگر کہتا ہے، میرا بھائی انیس خود بڑا شاعر اور کہانت وغیرہ سے واقف آدمی تھا اس نے مجھ سے کہا کہ جہاں تک میں نے غور کیا لوگوں کی یہ سب باتیں غلط ہیں ان کا کلام نہ شعر ہے نہ کہانت ہے نہ مجنونانہ کلمات ہیں بلکہ مجھے وہ کلام صادق نظر آتا ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nابوذر فرماتے ہیں کہ بھائی سے یہ کلمات سن کر میں نے مکہ کا سفر کیا اور مسجد حرام میں آکر پڑگیا تیس روز میں نے اس طرح گذارے کہ سوائے زمزم کے پانی کے میرے پیٹ میں کچھ نہیں گیا اس تمام عرصہ میں نہ مجھے بھوک کی تکلیف معلوم ہوئی نہ کوئی ضعف محسوس کیا۔ (خصائص کبرٰی ص ١١٦: ج ١)\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nواپس گئے تو لوگوں سے کہا کہ میں نے روم اور فارس کے فصحاء وبلغاء کے کلام بہت سنے ہیں، اور کاہنوں کے کلمات اور حمیر کے مقالات بہت سنے ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کی مثال میں نے آج تک نہیں سنی تم سب میری بات مانو۔ اور آپ کا اتباع کرو، چناچہ فتح مکہ کے سال میں ان کی پوری قوم کے تقریباً ایک ہزار آدمی مکہ پہنچ کر مسلمان ہوگئے۔ (خصائص کبرٰی ص ١١٦: ج ١)\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاسلام اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے دشمن ابوجہل اور اخنس بن شریق وغیرہ بھی لوگوں سے چھپ کر قرآن سنا کرتے اور اس کے عجیب و غریب بےمثل وبے نظیر اثرات سے متاثر ہوتے تھے مگر جب قوم کے کچھ لوگوں نے ان کو کہا کہ جب تم اس کلام کو ایسا بےنظیر پاتے ہو تو اس کو قبول کیوں نہیں کرتے ؟ تو ابوجہل کا جواب یہ تھا کہ تمہیں معلوم ہے کہ بنی عبد مناف میں اور ہمارے قبیلہ میں ہمیشہ سے رقابت اور معاصرانہ مقابہ چلتا رہتا ہے وہ جس کام میں آگے بڑہنا چاہتے ہیں ہم بھی اس کا جواب دیتے ہیں اب جبکہ ہم اور وہ دونوں برابر حیثیت کے مالک ہیں تو اب وہ یہ کہنے لگے کہ ہم میں ایک نبی پیدا ہوا ہے جس پر آسمان سے وحی آتی ہے اب ہم اس میں کیسے ان کا مقابلہ کریں میں تو کبھی اس کا اقرار نہ کروں گا (خصائص)\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nخلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کے اس دعوے اور چیلنج پر صرف یہی نہیں کہ پورے عرب نے ہار مان لی اور سکوت کیا بلکہ اس کی مثل وبے نظیر ہونے اور اپنے عجز کا کھلے طور پر اعتراف بھی کیا ہے اگر یہ کسی انسان کا کلام ہوتا تو اس کی کوئی وجہ نہ تھی کہ سارا عرب بلکہ ساری دنیا اس کا مثل لانے سے عاجز ہوجاتی۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nقرآن اور پیغمبر قرآن کے مقابلہ میں جان، ومال، اولاد وآبرو سب کچھ قربان کرنے کے لئے تو وہ تیار ہوگئے مگر اس کے لئے کوئی آگے نہ بڑھا کہ قرآن کے چیلنج کو قبول کر کے دو سطریں اس کے مقابلہ میں پیش کردیتا۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اپنے جاہلانہ اعمال و افعال کے باوجود منصف مزاج تھے جھوٹ کے پاس نہ جاتے تھے جب انہوں نے قرآن کو سن کر یہ سمجھ لیا کہ جب در حقیقت اس کلام کی مثل ہم نہیں لا سکتے تو محض دھاندلی اور کٹھ حجتی کے طور پر کوئی کلام پیش کرنا اپنے لئے عار سمجھا کیونکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ہم نے کوئی چیز پیش بھی کردی تو پورے عرب کے فصحاء وبلغاء اس امتحانی مقابلہ میں ہمیں فیل کردیں گے اور خواہ مخواہ رسوائی ہوگی اسی لئے پوری قوم نے سکونت اختیار کیا اور جو زیادہ منصف مزاج تھے انہوں نے صاف طور پر اقرار و تسلیم بھی کیا جاسکے کچھ وقائع پہلے بیان ہوچکے ہیں، اسی سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ عرب کے سردار اسعد بن زراہ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حضرت عباس کے سامنے اقرار کیا کہ :\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nہم نے خواہ مخواہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرکے اپنے رشتے ناتے توڑے اور تعلقات خراب کئے میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ وہ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ہرگز جھوٹے نہیں اور جو کلام وہ لائے ہیں بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔ (خصائص ص ١١٦ ج ١)\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nقبیلہ بنی سلیم کا ایک شخص مسمّٰی بن نسیبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے قرآن سنا اور چند سوالات کئے جن کا جواب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا فرمایا تو یہ اسی وقت مسلمان ہوگئے اور پھر اپنی قوم میں واپس گئے تو لوگوں سے کہا :\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nمیں نے روم وفارس فصحاء وبلغاء کے کلام سنے ہیں بہت سے کاہنوں کے کلمات سننے کا تجربہ ہوا ہے حمیر کے مقالات سنتا رہا ہوں مگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کی مثل میں نے آج تک کہیں نہیں سنا تم سب میری بات مانو اور ان کا اتباع کرو، انھیں کی تحریک و تلقین پر ان کی قوم کے ایک ہزار آدمی فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوگئے۔ (خصائص ص ١١٦ ج ١)\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ اقرار و تسلیم صرف ایسے ہی لوگوں سے منقول نہیں جو آپ کے معاملات سے یکسو اور غیرجانبدار تھے بلکہ وہ لوگ جو ہر وقت ہر طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں لگے ہوئے تھے قرآن کے متعلق ان کا بھی یہی حال تھا مگر اپنی ضد اور حسد کی وجہ سے اس کا اظہار لوگوں پر نہ کرتے تھے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nعلامہ سیوطی نے خصائص کبرٰی میں بحوالہ بیہقی نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل اور ابوسفیان اور اخنس بن شریق رات کو اپنے اپنے گھروں سے نکلے کہ چھپ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن سنیں ان میں ہر ایک علیحدہ علیحدہ نکلا ایک کی دوسرے کو خبر نہ تھی اور علیحدہ علیحدہ گوشوں میں چھپ کر قرآن سننے لگے تو اس میں ایسے محو ہوئے کہ ساری رات گذر گئی جب صبح ہوئی تو سب واپس ہوئے اتفاقا راستہ میں مل گئے اور ہر ایک نے دوسرے کا قصّہ سنا تو سب آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ تم نے یہ بری حرکت کی اور کسی نے یہ بھی کہا کہ آئندہ کوئی ایسا نہ کرے کیونکہ اگر عرب کے عوام کو اس کی خبر ہوگی تو وہ سب مسلمان ہوجائیں گے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ کہہ سن کر سب اپنے اپنے گھر چلے گئے اگلی رات آئی تو پھر ان میں سے ہر ایک کے دل میں یہی ٹیس اٹھی کہ قرآن سنیں اور پھر اسی طرح چھپ چھپ کر ہر ایک نے قرآن سنا یہاں تک کہ رات گذر گئی اور صبح ہوتے ہی یہ لوگ واپس ہوئے تو پھر آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور اس کے ترک پر سب نے اتفاق کیا مگر تیسری رات آئی تو پھر قرآن کی لذت وحلاوت نے انھیں چلنے اور سننے پر مجبور کردیا پھر پہنچنے اور رات بھر قرآن سن کر لوٹنے لگے تو پھر راستہ میں اجتماع ہوگیا تو اب سب نے کہا کہ آؤ آپس میں معاہدہ کرلیں کہ آئندہ ہم ہرگز ایسا نہ کریں گے، چناچہ اس معاہدہ کی تکمیل کی گئی اور سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے صبح کو اخنس بن شریق نے اپنی لاٹھی اٹھائی اور پہلے ابوسفیان کے پاس پہنچا کہ بتلاؤ اس کلام کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس نے دبے دبے لفظوں میں قرآن کی حقانیت کا اعتراف کیا تو اخنس نے کہا کہ بخدا میری بھی یہی رائے ہے اس کے بعد وہ ابوجہل کے پاس پہنچا اور اس سے بھی یہی سوال کیا کہ تم نے محمد کے کلام کو کیسا پایا؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nابوجہل نے کہا کہ صاف بات یہ ہے کہ ہمارے خاندان اور بنو عبد مناف کے خاندان میں ہمیشہ سے چشمک چلی آتی ہے قوم کی سیادت و قیادت میں وہ جس محاذ پر آگے بڑہنا چاہتے ہیں ہم ان کا مقابلہ کرتے ہیں انہوں نے سخاوت و بخشش کے ذریعہ قوم پر اپنا اثر جمانا چاہا تو ہم نے ان سے بڑھ کر یہ کام کر دکھایا انہوں نے لوگوں کی ذمہ داریاں اپنے سر لے لیں تو ہم اس میدان میں بھی ان سے پیچھے نہیں رہے یہاں تک کہ پورا عرب جانتا ہے کہ ہم دونوں خاندان برابر حیثیت کے مالک ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nان حالات میں ان کے خاندان سے یہ آواز اٹھی کہ ہمارے میں ایک نبی پیدا ہوا ہے جس پر آسمان سے وحی آتی ہے اب ظاہر ہے کہ اس کا مقابلہ ہم کیسے کریں اس لئے ہم نے تو یہ طے کرلیا ہے کہ ہم زور اور طاقت سے ان کا مقابلہ کریں گے اور ہرگز ان پر ایمان نہ لائیں گے۔ (خصائص ص ١١٥ ج ١)\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ ہے قرآن کا وہ کھلا ہوا معجزہ جس کا دشمنوں کو بھی اعتراف کرنا پڑا ہے یہ تمام واقعات علامہ جلال الدین سیوطی نے (خصائص کبرٰی) میں نقل کئے ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nتیسری وجہ :\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nتیسری وجہ اعجاز قرآنی کی یہ کہ اس میں غیب کی اور آئندہ پیش آنے والے واقعات کی بہت سی خبریں ہیں جو قرآن نے دیں اور ہوبہو اسی طرح واقعات پیش آئے جس طرح قرآن نے خبر دی تھی مثلا قرآن نے خبر دی کہ روم وفارس کے مقابلہ میں ابتداءً اہل فارس غالب آئیں گے اور رومی مغلوب ہوں گے لیکن ساتھ ہی یہ خبر دی کہ دس سال گذرنے نہ پائیں گے کہ پھر رومی اہل فارس پر غالب آجائیں گے۔ مکہ کے سرداروں نے قرآن کی اس خبر پر حضرت صدیق اکبر سے ہار جیت کی شرط کرلی اور پھر ٹھیک قرآن کی خبر کے مطابق رومی غالب آگئے تو سب کو اپنی ہار ماننا پڑی اور ہارنے والے پر جو مال دینے کی شرط کی تھی وہ مال ان کو دینا پڑا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مال کو قبول نہیں فرمایا کیونکہ وہ ایک قسم کا جوا تھا اسی طرح اور بہت سے واقعات اور خبریں ہیں جو امور غیبیہ کے متعلق قرآن میں دی گئیں اور ان کی سچائی بالکل روز روشن کی طرح واضح ہوگئی۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nچوتھی وجہ :\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nچوتھی وجہ اعجاز قرآنی کی یہ ہے کہ اس میں پچھلی امتوں اور ان کی شرائع اور تاریخی حالات کا ایسا صاف تذکرہ ہے کہ اس زمانہ کے بڑے بڑے علماء یہود ونصارٰی جو پچھلی کتابوں کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان میں بھی اتنی معلومات نہ تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو کبھی نہ کسی مکتب میں قدم رکھا نہ کسی عالم کی صحبت اٹھائی نہ کسی کتاب کو ہاتھی لگایا پھر یہ ابتداء دنیا سے آپ کے زمانہ تک تمام اقوام عالم کے تاریخی حالات اور نہایت صحیح اور سچے سوانح اور ان کی شریعتوں کی تفصیلات کا بیان ظاہر ہے کہ بجز اس کے نہیں ہوسکتا کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ ہی کا ہو اور اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کو یہ خبریں دی ہوں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nپانچویں وجہ :\u0026nbsp;\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ ہے کہ اس کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے کسی بشر سے عادۃً ممکن نہیں مثلا ارشاد قرآنی ہے :\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\"\u003E\nجب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں۔(١٢٢: ٣)\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاور یہ ارشاد کہ :\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nيَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\"\u003E\nوہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔(٥٨: ٨)\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ سب باتیں ایسی ہیں جن کو انہوں نے کسی سے ظاہر نہیں کیا قرآن کریم نے ہی ان کا انکشاف کیا ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nچھٹی وجہ :\u0026nbsp;\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nچھٹی وجہ اعجاز قرانی کی وہ آیات ہیں جن میں قرآن نے کسی قوم یا فرد کے متعلق یہ پیشنگوئی کی کہ وہ فلاں کام نہ کرسکیں گے اور پھر وہ لوگ باوجود ظاہری قدرت کے اس کام کو نہ کرسکے جیسے یہود کے متعلق قرآن نے اعلان کیا کہ اگر وہ فی الواقع اپنے آپ کو اللہ کے دوست اور ولی سمجھتے ہیں توا نھیں اللہ کے پاس جانے سے محبت ہونا چاہئے وہ ذرا موت کی تمنا کرکے دکھائیں اور پھر ارشاد فرمایا :\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nوَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\"\u003E\nوہ ہرگز موت کی تمنا نہ کرسکیں گے۔(٩٥: ٢)\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nموت کی تمنا کرنا کسی کے لئے مشکل نہ تھا خصوصا ان لوگوں کے لئے جو قرآن کو جھٹلاتے تھے، قرآن کے ارشاد کی وجہ سے ان کی تمنائے موت میں خوف وہراس کی کوئی وجہ نہ تھی یہود کے لئے تو مسلمانوں کو شکست دینے کا یہ موقع بڑا غنیمت تھا کہ فوراً تمنائے موت کا ہر مجلس ومحفل میں اعلان کرتے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nمگر یہود ہوں یا مشرکین زبان سے کتنا ہی قرآن کو جھٹلائیں ان کے دل جانتے تھے کہ قرآن سچا ہے اس کی کوئی بات غلط نہیں ہوسکتی اگر موت کی تمنا ہم اس وقت کریں گے تو فوراً مرجائیں گے، اس لئے قرآن کے اس کھلے ہوئے چیلنج کے باوجود کسی یہودی کی ہمت نہ ہوئی کہ ایک مرتبہ زبان سے تمنائے موت کا اظہار کردے،\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nساتویں وجہ :\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nوہ خاص کیفیت ہے جو قرآن کے سننے سے ہر خاص وعام اور مومن و کافر پر طاری ہوتی ہے جیسے حضرت جبیر بن مطعم (رض) کو اسلام لانے سے پہلے پیش آیا کہ اتفاقا انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز مغرب میں سورة طور پڑہتے ہوئے سنا جب آپ آخری آیات پر پہنچنے تو جبیر کہتے ہیں کہ میرا دل گویا اڑنے لگا اور یہ سب سے پہلا دن تھا کہ میرے دل میں اسلام نے اثر کیا وہ آیات یہ ہیں:\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\"\u003E\nکیا وہ بن گئے ہیں آپ ہی آپ یا وہی ہیں بنانے والے یا انہوں نے بنائے ہیں آسمان اور زمین کوئی نہیں پر یقین نہیں کرتے کیا ان کے پاس خزانے تیرے رب کے یا وہی داروغہ ہیں۔(٣٧: ٣٥: ٥٢:)\u0026nbsp;\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nآٹھویں وجہ :\u0026nbsp;\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ ہے کہ اس کو بار بار پڑھنے اور سننے سے کوئی اُکتاتا نہیں بلکہ جتنا زیادہ پڑھا جاتا ہے اس کا شوق اور بڑہتا ہے دنیا کی کوئی بہتر سے بہتر اور مرغوب کتاب لے لیجئے اس کو دو چار مرتبہ پڑھا جائے تو انسان کی طیبعت اکتا جاتی ہے پھر نہ پڑھنے کو جی چاہتا ہے نہ سننے کو یہ صرف قرآن کا خاصہ ہے کہ جتنا کوئی اس کو زیادہ پڑہتا ہے اتنا ہی اس کو شوق ورغبت بڑہتا جاتا ہے یہ بھی قرآن کے کلام الہی ہونے کا ہی اثر ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nنویں وجہ :\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ ہے کہ قرآن نے اعلان کیا ہے کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے وہ قیامت تک بغیر کسی ادنیٰ تغیر و ترمیم کے باقی رہے گا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کو اس طرح پورا فرمایا کہ جب سے قرآن کریم نازل ہوا ہے چودہ سو برس کے قریب ہونے کو آئے ہیں ہر قرن ہر زمانے میں لاکھوں انسان ایسے رہے ہیں اور رہیں گے جن کے سینوں میں پورا قرآن اس طرح محفوظ رہا کہ ایک زیر وزبر کی غلطی کا امکان نہیں ہر زمانے میں مرد، عورت، بچے، بوڑھے اس کے حافظ ملتے ہیں بڑے سے بڑا عالم اگر کہیں ایک زیر وزبر کی غلطی کرجائے تو ذرا ذرا سے بچے وہیں غلطی پکڑ لیں گے، دنیا کا کوئی مذہب اپنی کتاب کے متعلق اس کی مثال تو کیا اس کا دسواں حصہ بھی پیش نہیں کرسکتا بہت سے مذاہب کی کتابوں میں تو آج پتہ چلانا بھی مشکل ہوگیا ہے کہ اس کی اصل کس زبان میں آئی تھی اور اس کے کتنے اجزاء تھے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nکتاب کی صورت میں بھی ہر قرن ہر زمانے میں جتنی اشاعت قرآن کی ہوئی شاید دنیا کی کسی کتاب کو یہ بات نصیب نہیں حالانکہ تاریخ شاید ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کی تعداد دنیا میں بہ نسبت منکرین اور کافروں کے بہت کم رہی اور ذرائع نشر و اشاعت بھی جتنے غیر مسلموں کو حاصل رہے ہیں مسلمانوں کو اس کا کوئی معتدبہ نصیب نہ تھا مگر ان باتوں کے باوجود کسی قوم کسی مذہب کی کوئی کتاب دنیا میں اتنی شائع نہیں ہوئی جتنا قرآن شائع ہوا۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nپھر قرآن کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے صرف کتابوں اور صحیفوں پر موقوف نہیں رکھا جن کے جل جانے اور محو ہوجانے کا امکان ہو بلکہ اپنے بندوں کے سینوں میں بھی محفوظ کردیا اگر آج ساری دنیا کے قرآن (معاذ اللہ) نابود کردئیے جائیں تو اللہ کی یہ کتاب پھر بھی اسی طرح محفوظ رہے گی چند حافظ مل کر بیٹھ جائیں تو چند گھنٹوں میں پھر ساری کی ساری لکھی جاسکتی ہے یہ بےنظیر حفاظت بھی صرف قرآن ہی کا خاصہ اور اس کے کلام الہی ہونے کا نمایاں ثبوت ہے کہ جس طرح اللہ کی ذات ہمیشہ باقی رہنے والی ہے اس پر کسی مخلوق کا تصرف نہیں چل سکتا اسی طرح اس کا کلام بھی ہمیشہ تمام مخلوقات کی دستبردار اور تصرفات سے بالاتر ہو کر ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گا قرآن کی یہ پیشینگوئی چودہ سو برس تک مشاہدہ میں آچکی ہے اور تاقیامت انشاء اللہ تعالیٰ آتی رہے گی اس کھلے معجزے کے بعد قرآن کے کلام الہی ہونے میں کیا کسی کو شک وشبہ کی گنجائش رہ سکتی ہے،\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ch3\u003E\nدسویں وجہ :\u003C\/h3\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nوہ علوم و معارف ہیں جن کا احاطہ نہ آج تک کسی کتاب نے کیا ہے نہ آئندہ امکان ہی کہ اتنے مختصر حجم اور محدود کلمات میں اتنے علوم وفنون جمع کئے جاسکیں جو تمام کائنات کی دائمی ضروریات کو حاوی اور انسان کی زندگی کے ہر شعبہ اور ہر حال سے متعلق پورا مرتب اور بہت رین نظام پیش کرسکے شخصی پھر عائلی زندگی سے لے کر قبائلی اور شہری زندگی تک اور پھر عمرانیات واجتماعیات اور سیاست ممالک کے ہر پہلو پر حاوی نظام پیش کردے.\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nپھر صرف نظری اور علمی طور پر نظام پیش کرنا ہی نہیں عملی طور پر اس کا رواج پانا اور تمام نظامہائے دنیا پر غالب آکر قوموں کے مزاج، اخلاق، اعمال، معاشرت اور تمدن میں وہ انقلاب عظیم پیدا کرنا جس کی نظیر نہ قرون اولیٰ میں مل سکتی ہے نہ قرون مابعد میں یہ حیرت انگیز انقلاب کیا کسی انسان کی قدرت اس کی حکمت عملی کا نتیجہ ہوسکتا ہے ؟ خصوصاً جبکہ وہ انسان بھی امی اور اس کی قوم بھی امی ہو۔\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"sher\"\u003E\n\u003Ctable align=\"center;\"\u003E\n\u003Ctbody\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd\u003Eمخدرات سرا پر دہائے قرآنی \u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd\u003Eچہ دلبرند کہ دل می برند پنہانی\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/tbody\u003E\u003C\/table\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\nیہی وہ محیر العقول تاثیرات ہیں کہ جن کی وجہ سے قرآن کو کلام الہی ماننے پر ہر وہ شخص مجبور ہے جس کی عقل و بصیرت کو تعصب وعناد نے بالکل ہی برباد نہ کردیا ہو۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n٭٭٭\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/39292684159674384\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/aijaaz-e-quran-by-mufti-shafi-usmani.html#comment-form","title":"0 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/39292684159674384"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/39292684159674384"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/aijaaz-e-quran-by-mufti-shafi-usmani.html","title":"اعجازِ قرآن - مفتی شفیع عثمانیؒ"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"media$thumbnail":{"xmlns$media":"http://search.yahoo.com/mrss/","url":"https:\/\/1.bp.blogspot.com\/-SWjCfXb1OM0\/XIvTuAYPu1I\/AAAAAAAAAvs\/cPK4NUQnAKAqDB0ovr90q9XMoQsqmNCQgCLcBGAs\/s72-c\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Baijaz-e-quran%2Bshafi%2Busmani.png","height":"72","width":"72"},"thr$total":{"$t":"0"}},{"id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-3854913904789287339.post-7151946896862073795"},"published":{"$t":"2019-03-14T09:47:00.003-07:00"},"updated":{"$t":"2021-11-29T22:25:40.623-08:00"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"Sarbakaf 10"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"اداریہ"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف10"}],"title":{"type":"text","$t":"اسلام پھیل رہا ہے - شکیبؔ احمد"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Ctable align=\"center\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" class=\"tr-caption-container\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto; text-align: center;\"\u003E\u003Ctbody\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Ca href=\"https:\/\/4.bp.blogspot.com\/-hfRp3oq9LdE\/XIqGMDmC4QI\/AAAAAAAAAvU\/Hd5yhIGo9lck9BTRnesI8EIfJndfMCXgQCLcBGAs\/s1600\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Beditorial.png\" style=\"margin-left: auto; margin-right: auto;\"\u003E\u003Cimg border=\"0\" data-original-height=\"1200\" data-original-width=\"1600\" height=\"240\" src=\"https:\/\/4.bp.blogspot.com\/-hfRp3oq9LdE\/XIqGMDmC4QI\/AAAAAAAAAvU\/Hd5yhIGo9lck9BTRnesI8EIfJndfMCXgQCLcBGAs\/s320\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Beditorial.png\" width=\"320\" \/\u003E\u003C\/a\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd class=\"tr-caption\" style=\"text-align: center;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-family: Times, Times New Roman, serif;\"\u003ESpread of Islam\u0026nbsp;- A reality check for Muslims\u003C\/span\u003E\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/tbody\u003E\u003C\/table\u003E\n\nکبھی آپ نے گوگل کیا ہے کہ سب سے تیز رفتاری سے کون سا مذہب پھیل رہا ہے؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاسلام!\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nکوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ عیسائی اپنے مذہب کی تبلیغ میں لالچ دینے کو کوئی برا نہیں سمجھتے، یہی وجہ ہے کہ عیسائیت بھی کافی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ لا تعداد لٹریچرکی تقسیم، مشنریوں کے ذریعے انتھک محنتیں، جھوٹ، لالچ، پروپگینڈہ، کیا نہ کر ڈالا!\u0026nbsp; بے چارے سروے کر کر کے تھک گئے، لیکن سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہی رہا۔ پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ اسلام محض لگے بندھے اصولوں کو آنکھ بند کر کے ماننے پر زور نہیں دیتا، بلکہ عقلی استدلال Reasoning کی بھی بات کرتا ہے۔\u0026nbsp; یونہی تو ساری دنیا اسلام کی آغوش میں نہیں آ رہی، ہماری کمزوریوں اور\u0026nbsp; نالائقی کے باوجود!\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاب پوچھیے کہ نالائقی کیسی؟ ہم مسلمانوں کی ایک بڑی گندی عادت ہے کہ بات بے بات پدرم سلطان بود کہہ کر وجد میں آ جاتے ہیں۔ مجھے بتائیں، اگر چار مشینوں میں سے ایک مشین ٹھیک ٹھاک چل رہی ہو تو کیا آپ اس پر خوش ہوں گے یا بقیہ تین کی درستگی کی فکر کریں گے؟ ایک طرف دنیا اسلام کو جائے پناہ کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس پر ہم فخر کرتے ہوئے مسکرائے جا رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف الحاد کی لہر نے نئی نسل کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کالجوں میں پڑھنے والے لا مذہبیت سے کتنا قریب ہیں،\u0026nbsp; ان کے ذہنوں میں دیکھیے تو پتہ چلے گا۔ کیا کالج پڑھنے والے اور مغربیت سے متاثر اکثر نوجوان ہم جنس پرستی Gay Sex کے حامی نہیں ہو چکے؟\u0026nbsp; کیا انہیں پردہ قید نہیں لگ رہا؟ کیا وہ بھی اسلام کے نظامِ وراثت کے متعلق شبہات کا شکار نہیں ہیں کہ لڑکی کو آدھا حصہ کیوں ملے گا؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nسب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والا مذہب کون سا ہے؟ ارے ابھی تو بتایا تھا – اسلام! درست۔ لیکن اس ”اسلام“ میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والا فرقہ قادیانیت ہے۔\u0026nbsp; جو سروے ہم اخباروں میں پڑھتے ہیں اور دھڑادھڑ شیئر کرتے ہیں کہ اسلام پھیل رہا ہے، وہ اخبار والے قادیانیت کو اسلام ہی میں شامل کرتے ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nآپ کو وہ کارگزاری یاد ہوگی جس میں ہندو بھائی اسلام قبول کرنے کو کہتا ہے لیکن اسے\u0026nbsp; کلمہ نہیں پڑھایا جاتا۔ ہم نے ”دعوتِ حق غیر مسلموں میں“ کا سلسلہ اسی وجہ سے شروع کیا تھا کہ کسی کے قبولِ اسلام پر ”الحمد للہ“ کہنے کے ساتھ ساتھ ہمیں کچھ اپنا چہرہ بھی نظر آئے۔\u0026nbsp; ملاحظہ ہو:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nانھوں نے کہا پہلے آپ دونوں مسلمان ہو کرمسلمان ہو نے کا بیان حلفی سرکاری وکیل سے بنوا کر لاؤ، میرے شوہر نے کہا آپ ہمیں مسلمان بنا لو، انھوں نے مسلمان کرنے سے انکار کر دیا۔\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n(سر بکف ۹، ص ۱۸)\u003C\/div\u003E\n\u003C\/blockquote\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاتنے میں ایک ساتھی مجھ سے بولا، تم لوگ صرف پیسے کے لئے مسلمان ہونے کا ناٹک کرتے ہو، اب کسی کو مت بول کہ تو نو مسلم ہے، ورنہ دھکے مار کر نکلوا دوں گا۔\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n(سر بکف ۷، ص ۲۵)\u003C\/div\u003E\n\u003C\/blockquote\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیہ کوئی ایک بار نہیں، سینکڑوں بار ہو چکا ہے اور اب بھی ہوتا ہے۔ مسلمان ہونا کیا ہے؟ دل سے\u0026nbsp; چند الفاظ کہنے ہوتے ہیں، اس کی وجہ سے کوئی ہمیشہ کی آگ سے بچ جاتا ہے۔ ہمیشہ، اس لفظ پر ذرا غور کیجیے گا۔ ٹھیک ہے جہنم میں ایک سیکنڈ کا تصور بھی نہایت کربناک ہے، لیکن\u0026nbsp; گناہگار کبھی تو\u0026nbsp; باہر نکل آئیں گے۔ ان کا کیا جو کبھی باہر نہیں آئیں گے؟\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nامت کا درد ہم میں کب جاگے گا؟اپنی تعریف کی رو میں ہم ارتداد، بڑھتے ہوئے الحاد اور سوچوں کے بدلاؤ کو نظر انداز کیے کب تک بیٹھے رہیں گے؟\u0026nbsp; لیکن ہم تو فقط ”اسلام پھیل رہا ہے“ کا شور مچا کر پھول کر کپا ہوئے جاتے ہیں۔\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nچلیے ایک بار اور گوگل کیجیے: اگر اسلام سب سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے تو مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ نہیں کے برابر کیوں ہے؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nکیونکہ تقریباً اسی تیزی کے ساتھ مسلمان مرتد بھی ہو رہے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ یہی بات جب داعیِ اسلام کلیم صدیقی دامت برکاتہم کے بیانات میں سنتا تھا تو یقین نہیں ہوتا تھا۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاس ارتداد کی وجہ؟ کچھ چھوٹی موٹی غلط فہمیاں-\u0026nbsp; اور وہ اسے رفع کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ شبہات\u0026nbsp; شاید میرے اور آپ کے ذہن میں بھی ہیں، آپ کے اسکول کالج جاتے بچے کے ذہن میں بھی ہیں، لیکن ان سے نمٹنے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nپچھلے کچھ سالوں میں انٹرنیٹ کی دنیا پر بے شمار ملحدوں سے واسطہ پڑا ہے اور ایک بات اکثریت میں دیکھی ہے، ضد اور ہٹ دھرمی۔ اس سے\u0026nbsp; نمٹنے کا طریقہ ضد ہرگز نہیں ہے۔ اگر آپ نے بحث میں ضد پکڑ لی تو سمجھ لیں آپ انصاف نہیں کر رہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nجائیے، فیس بک پر Atheism (الحاد\/دہریت) کے کسی بھی گروپ میں شامل ہو جائیے اور ان کے اعتراضات کا جائزہ لیجیے: کافروں کو قتل کرنے کا حکم ہے، قرآن صرف مار کاٹ کا حکم دیتا ہے، غلام اور باندیوں کے کلچر کو فروغ دیا جاتا ہے، کوئی اسلام سے پھر جائے تو اسے قتل کردیا جاتا ہے، ہم جنس پرستی ممنوع کر رکھی ہے، عورتوں کو قید کر رکھا ہے وغیرہ۔ مرتد کی سزا تو آپ سے\u0026nbsp; ہر دوسری پوسٹ میں پوچھی جائے گی۔ گنتی کے کچھ\u0026nbsp; اعتراضات، جن کے جوابات پتہ نہیں کب سے دیے جا چکے ہیں جن سے عقل مطمئن ہو جاتی ہے۔\u0026nbsp; لیکن نہیں، وہ اعتراضات اب بھی ہیں۔\u0026nbsp; وجہ یہ ہے کہ انہیں صرف تماشہ دیکھنا ہے۔ جسے جواب ڈھونڈنا ہوتا ہے وہ ”اپنے عقیدے“ یا ”اپنے نظریے“ کے خلاف بھی دلائل دیکھتا ہے، محض اپنا جھنجھنا نہیں بجایا کرتا۔\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاب آپ اپنا جائزہ لیں۔ کیا آپ بھی ایسے ہی ہیں؟\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nایمانداری سے بتائیے گا، آپ نے اسلام کے خلاف کتب پڑھی ہیں؟ کبھی عیسائیت کے اسلام سے شکوے پڑھے؟ کبھی اسلام سے پھر جانے والوں کے واقعات کا مطالعہ کیا؟اگر اہلِ حدیث ہیں تو تقلید پر مقلدین کا نظریہ پڑھا ہے؟ مقلد ہیں تو تقلید کے رد پر کتب پڑھی ہیں؟بریلوی ہیں تو دیوبند کے نظریات جاننے کی کوشش کی ہے؟ دیوبندی ہیں تو بریلویت کا مطالعہ محض کیڑے نکالنے سے ہٹ کر سنجیدگی سے کیا ہے؟ کبھی ”اعلیٰ حضرت پر اعتراضات کے جوابات“ تلاش کیے ہیں؟\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nنہیں۔ کیونکہ یہاں سب کو اپنی دہی میٹھی بتانی ہوتی ہے۔ آپ جانتے ہیں اس کا نقصان؟ جی مطمئن نہیں ہوتا۔ ایک موضوع پر دونوں طرف کا مطالعہ کریں، آپ کا دل گواہی دے گا کہ حق کیا ہے۔\u0026nbsp; دل کے فتوے سچے ہوتے ہیں۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nبے شک\u0026nbsp; آپ شروع ”اپنی“ کتب سے کریں۔ اپنے دلائل پڑھیں، فلاں کے اعتراضات کے جوابات، فلاں کی غلط فہمیوں کا ازالہ، پھر تعصب کا چشمہ اتاریں اور\u0026nbsp; اپنے نظریات پر ”اعتراضات“ کی کتب پڑھیں۔ ہو گیا؟ اب دل سے پوچھیں کس کی بات دل کو لگتی ہے؟ آسان ترین کام۔ اب ذہن میں تجزیہ کریں ، ہم کتنی جگہ غلط تھے، وہ کتنی جگہ غلط تھے۔صدقِ دل سے\u0026nbsp; غلطیوں کو تسلیم کریں۔ کچھ نہیں ہوتا بھائی کچھ نہیں ہوتا۔ غلطیوں کو سمجھنے اور تسلیم کرنے سے آسمان بھی وہیں\u0026nbsp; قائم رہتا ہے اور زمین بھی پیروں کے نیچے ویسے ہی موجود ہوتی ہے۔\u0026nbsp; ہم خدا نہیں ہیں کہ غلطیوں سے معصوم ہوں۔\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاگر آپ نے یہ کیا ہے تو اب آپ متشدد نہیں، ایک معتدل انسان ہیں۔ مبارک باد کے مستحق ہیں، کیونکہ یہی اسلام چاہتا ہے۔ اور اب ایک خوش خبری بھی سنیے، آپ دنیا کی سب سے بڑی جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔ وہ جماعت\u0026nbsp; جو معتدل مزاج ہے۔ حیرت کی کوئی بات نہیں، یہ جو دھماچوکڑی آپ اخباروں، نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر\u0026nbsp; دیکھتے ہیں اس کی وجہ سے لگتا یوں ہے کہ سارے متعصب، متشدد اور کٹر قسم کے لوگوں نے دنیا بھر رکھی ہے، لیکن در اصل یہ معقولیت پسند اور معتدل مزاج لوگ تعداد میں زیادہ ہیں۔ ان کی طرف دھیان اس لیے نہیں جاتا کیونکہ خاموشی سنائی نہیں دیتی۔ تجربے کے طور پر کوئی بھی دس عام لوگ پکڑ لیں، ان سے مسلکی تعصب اور منافرت کے متعلق ”باریکی“ میں اگلوائیں اور نتائج دیکھیں۔ نفرت کسی کو پسند نہیں، ایک دوسرے کے خلاف نعرے کسی کو پسند نہیں۔ سب محبت سے رہنا چاہتے ہیں۔ بس ایک ذہنیت آڑے آ جاتی ہے جو شر کی پرچارک ہے۔ جو اندھی تقلید کی داعی ہے۔ جو آنکھوں پر پٹی باندھ کر محض اعتراضات کے ڈونگرے برسانے کو نصب العین بنائے ہوئے ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے اور اگر آپ اس کام کے لیے پر عزم ہیں تو دیر مت کیجیے۔\u0026nbsp; تشدد اور تعصب سے پاک ذہنیت پیدا کرنے کی لڑائی میں کود پڑیے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nکچھ اسٹیپس کے ذریعے اسے آسان کرتا ہوں۔ مثال کے طور پر آپ کا واسطہ کسی لا مذہب سے پڑا۔ اس نے رٹائے ہوئے کچھ اعتراضات کیے۔\u0026nbsp; اب لائحۂ عمل دیکھیے:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Col\u003E\n\u003Cli\u003Eاس کے سوالات کی تعداد میں یا کہنے کے ڈھنگ میں خود کو بہنے مت دیجیے۔ آپ کے پاس وقت ہے، کہیں کہ” ہم یہ بحث سالوں جاری رکھ سکتے ہیں چنانچہ ایک ایک کر کے مسائل پر بات کرتے ہیں۔ “\u003C\/li\u003E\n\u003Cli\u003E\u0026nbsp;اسے احساس دلائیے کہ نہ آپ متعصب ہیں اور نہ اسے تعصب سے کام لینے دیں گے۔\u003C\/li\u003E\n\u003Cli\u003Eفرض کیجیے اس کا پہلا اعتراض ہے\u0026nbsp; اسلام میںApostasy\u0026nbsp; یعنی ارتداد(کی سزا قتل کیوں)\u003C\/li\u003E\n\u003Cli\u003Eسوال کیجیے، ”کیا آپ نے اس ”اعتراض“ کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے؟“ زیادہ امکان ہے کہ وہ یہ جتلانے کے لیے کہ اس نے بہت کچھ پڑھ رکھا ہے، جواب اثبات میں دے گا۔ اب ایک آخری\u0026nbsp; آسان مرحلہ آپ کو انجام دینا ہے۔\u003C\/li\u003E\n\u003Cli\u003Eکہیے، ”فرض کریں کہ آپ کے اعتراض کا جواب مجھے نہیں معلوم تھا اور واقعی یہ بات مجھے بھی کچھ ٹھیک نہیں لگی، چنانچہ میں نے اسے تلاش کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں کئی جوابات مجھے ملے ہیں جنہوں نے مجھے مطمئن کر دیا ہے۔“ پھر وہ نکات اس سے شیئر کریں جنہوں نے آپ کو مطمئن کیا ہے (کیوں سارے مضمون میں کوئی ایک دو نکتہ ہی ایسا ہوتا ہے جو کلک کر جاتا ہے اور ہمارا شرحِ صدر ہو جاتا ہے)\u003C\/li\u003E\n\u003C\/ol\u003E\n\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاب قوی امکان ہے کہ وہ اس بات کو نہیں مانے گا، یا الزامی جواب دے گا یا بہانے تراشے گا۔۔۔ لیکن آپ نے اپنے حصے کا\u0026nbsp; کام کر دیا ہے۔ وہ نہ سہی، دیکھنے والوں میں کوئی تو ہوگا جسے آپ کا جواب مطمئن کر پایا ہوگا، اور اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ اکثریت معتدل افراد کی ہوتی ہے۔\u0026nbsp; اگر آپ خود دیوتائی رویے کو سائڈ میں رکھ کر نرمی سے اور سمجھنے سمجھانے کی غرض سے بات کریں، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کریں تو کچھ بعید نہیں کہ بات اثر کرے گی۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nیاد پڑتا ہے کچھ مہینے قبل ایک خاتون سے اس سلسلے میں کسی گروپ میں ٹاکرا ہوا۔ محترمہ کو اسلام میں خواتین کے حقوق پر اعتراض تھا کیونکہ ان کی بہن کے ساتھ ایک مسلمان نے بد سلوکی کی تھی جس سے اس کے بازو پر بہت سنگین نوعیت کا زخم ہو گیا تھا۔ میں نے نرمی سے تعزیت کی اور کہا :\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n”یہ ضرور ہے کہ ایک انسان سے اسلام کی نمائندگی نہیں ہوتی، لیکن وہ شخص بھی مسلمانوں ہی کا حصہ ہے چنانچہ میں اس بات کے لیے معافی چاہتا ہوں اور ایسے رویے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔“\u003C\/blockquote\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp; اور واقعی دل سے افسوس کرنے کی بات بھی ہے۔ کون احمق ہے جو ایسی بات پر افسوس نہیں کرے گا۔ بس! اتنا کافی تھا۔ محترمہ کا لہجہ ہی بدل گیا۔ کیوں نہ بدلتا؟ جس گروپ میں سارے مل کر ثبوت اور دلائل کی بجائے ایک دوسرے کے مذاہب اور عقائد کا مذاق اڑانے میں مصروف ہوں، وہاں ایسی بات کرنے والا کوئی آئے گا تو فرق تو پڑے گا۔\u0026nbsp;\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nآخر کچھ سوچ کر ہی سر بکف کے ہر شمارے میں زمرہ ” رد فرق باطلہ“\u0026nbsp; کی پیشانی پر یہ آیت لکھی جاتی رہی ہے:\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv class=\"arabic\" dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\nاُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cblockquote class=\"tr_bq\"\u003E\nاپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو ۔\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n(سورہ ۱۶،النحل:۱۲۵)\u003C\/div\u003E\n\u003C\/blockquote\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp;اگر آپ کا دل اسلام کے کسی حکم پر، کسی کانسیپٹ پر مطمئن نہیں ہے تو سوال کرنے سے اسلام منع نہیں کرتا۔ خدارا،\u0026nbsp; سوال کرنے کو گستاخی نہ سمجھیے۔ اگر اسلام کا کوئی بھی اصول، کوئی بھی حکم عقل کے خلاف لگ رہا ہے تو اس بے چینی کو\u0026nbsp; خود میں دفن مت کیجیے۔ وہ آپ کے لاشعور میں موجود رہے گی، جو خدا نہ کرے آپ کو الحاد کی طرف گھسیٹ سکتی ہے۔\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u0026nbsp;جوابات موجود ہیں، سوال کرنے والے لوگ موجود نہیں۔ انہیں منقول کے ٹھپوں کے ساتھ پوسٹس کو فارورڈ کرنے سے فرصت جو نہیں ملتی!\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003Ctable\u003E\n\u003Ctbody\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd\u003E\u003Csub\u003Eفقیر \u003C\/sub\u003Eشکیبؔ احمد\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003Ctr\u003E\u003Ctd\u003E14 مارچ، 2019ءبروز جمعرات، 5:50 بجے شام\u003C\/td\u003E\u003C\/tr\u003E\n\u003C\/tbody\u003E\u003C\/table\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/feeds\/7151946896862073795\/comments\/default","title":"تبصرے شائع کریں"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/islam-phail-raha-hai-sarbakaf-10-editorial-by-shakeeb-ahmad.html#comment-form","title":"3 تبصرے"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/7151946896862073795"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/3854913904789287339\/posts\/default\/7151946896862073795"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/mag.sarbakaf.com\/2019\/03\/islam-phail-raha-hai-sarbakaf-10-editorial-by-shakeeb-ahmad.html","title":"اسلام پھیل رہا ہے - شکیبؔ احمد"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"media$thumbnail":{"xmlns$media":"http://search.yahoo.com/mrss/","url":"https:\/\/4.bp.blogspot.com\/-hfRp3oq9LdE\/XIqGMDmC4QI\/AAAAAAAAAvU\/Hd5yhIGo9lck9BTRnesI8EIfJndfMCXgQCLcBGAs\/s72-c\/Excerpt%2B-%2BSarbakaf%2B10%2Beditorial.png","height":"72","width":"72"},"thr$total":{"$t":"3"}}]}});